Ayahs 68:1–2خلاصہ تفسیر
ن (اس کے معنے اللہ ہی کو معلوم ہیں) قسم ہے قلم کی (جس سے مقادیر خلق لوح محفوظ پر لکھے گئے) اور (قسم ہے) ان (فرشتوں) کے لکھنے کی (جو کہ کاتب اعمال ہیں۔ حضرت ابن عباس نے قلم اور مایسطرون کی یہی تفسیر فرمائی ہے (در منشور) آگے جواب قسم ہے) کہ آپ اپنے رب کے فضل سے مجنون نہیں ہیں صجیسا منکرین نبوت کہتے ہیں (کذافی الدرعن ابن جریج فی سببب النزول) مطلب یہ کہ آپ بنی برحق ہیں اور یہ قسمیں اس مدعا کے نہایت مناسب ہی کیونکہ منجملہ مقادیر کے نزول قرآن بھی ہے پس اس آیت میں اشارہ ہے کہ نبوت آپ کی علم الٰہی میں پہلے ہی سے محقق و موکد ہے پس ثبوت اس کا متیقن ہوا اور اعمال لکھنے والے فرشتے مصدقین و منکرین کے اعمال کو لکھ رہے غ ہیں پس انکار نبوت پر سزا ہوگی اس سے ڈر کر ایمان لانا واجب ہے اور بیشک آپ کے لئے (اس تبلیغ احکام پر) ایسا اجر (ملنے والا) ہے جو (کبھی) ختم ہونے اولا نہیں (اس میں بھی تقریر ہے نبوت کی جو مستلزم ہے نفی مطاعن کو اور تقریر نبوت کے ساتھ متضمن ہے تسلی کو بھی کہ آپ چند روز برداشت کرلیجئے کہا نجام اس کا اجر عظیم ہے) اور بیشک آپ اخلاق (حسنہ) کے اعلیٰ پیمانے پر ہیں (کہ ہر فعل آپ کا موصوف باعتدال اور قرین رضائے ایزدمتعال ہے اور مجنون میں اخلاق کا کمال کہاں ہوتا ہے یہ بھی جواب ہے طعن مذکور کا آگے تسلیہ ہے یعنی یہ جو ایسے مہملات بکتے ہیں) سو (اس کا غم نہ کیجئے کیونکہ) عنقریب آپ بھی دیکھ لیں گے اور یہ لوگ بھی دیکھ لیں گے کہ تم میں کس کو جنون (حقیقی) تھا (یعنی جنون کی حقیقت ہے زوال عقل اور عقل کی غایت ہے ادراک نفع و ضرر اور ضر رمعتدبہ وہ ہے جو ابدی ہو، پس قیامت میں ان کو بھی معلوم ہوجائے گا کہ عاقل اہل حق تھے جنہوں نے اس نفع کو حاصل کیا اور مجنون یہ خود تھے جو اس نفع سے محروم رہ کر ضرر ابدی میں مبتلا ہوئے اور چونکہ) آپ کا پروردگار اس شخص کو بھی خوب جانتا ہے جو اس کی راہ سے بھٹکا ہوا ہے اور وہ راہ (راست) پر چنلے والوں کو بھی خوب جانتا ہے (اس لئے ہر ایک کو اس کے مناسب جزا و سزا دے گا اور اس جزا و سزا کے مناسب ہونے کو یہ منکرین بھی اس وقت سمجھ لیں گے جب حقیقت منکشف ہوجائے گی کہ عاقل کون تھا مجنون کون، آگے ذم منکرین اک مضمون ہے غ کہ جب آپ حق پر ہیں اور یہ لوگ باطل پر ہیں) تو آپ ان تکذیب کرنے والوں کا کہنا نہ مانئے (جیسا کہ اب تک نہیں منا، اور وہ کہنا وہ ہے جو آگے مفہوم ہوتا ہے یعنی) یہ لوگ یہ چاہتے ہیں کہ آپ (نعوذ باللہ اپنے منصبی کام میں کہ تبلیغ ہے ذرا) ڈھیلے ہوجاویں تو یہ بھی ڈھیلے ہوجائیں (آپ کا ڈھیلا ہونا یہ کہ بت پرستی کی مذمت نہ کریں اور ان کا ڈھیلا ہونا یہ کہ آپ کی مخالفتن نہ کریں۔ سورة کافرون کی تفسیر میں ابن عباس نے ڈھیلے ہونے کا یہی مطلب بیان فرمایا ہے۔ درمنثور) اور آپ (بالخصوص) کسی ایسے شخص کا کہنا نہ مانیں جو بہت قسمیں کھانے والا ہو (مراد جھوٹی قسم کھانے والا ہے۔ عادة اکثر جھوٹے آدمی قسمیں بہت کھایا کرتے ہیں اور جو اپنی حرکات شنیعہ کی وجہ سے عنداللہ و عندالخلق) بےوقعت ہو (دل دکھانے کے لئے) طعنہ دینے والا ہو چغلیاں لگاتا پھرتا ہو نیک اکم سے روکنے والا ہو حد (اعتدال) سے گزرنے والا ہو گناہوں کا (ارتکاب) کرنے والا ہو، سخت مزاج ہو (اور) اس (سب) کے علاوہ بدنام (بھی) ہو (مراد ولد الزنا اور مطلب یہ ہے کہ اور اخلاق و افعال بھی اس کے خبیث ہوں چونکہ غالباً ولدالزنا کے اخلاق و افعال اچھے نہیں ہوتے اس لئے مجازاً اس سے یہ مراد لیا گیا، خلاصہ یہ کہ اول تو مطلقاً مکذبین کا پھر خصوص جبکہ وہ مکذبین ان ذمائم کے ساتھ بھی متصف ہوں جیسا کہ آپ کے مکذبین میں سے بعض بڑے بڑے ایسے ہی تھے اور اس درخواست میں شریک بلکہ اس کے بانی تھے غرض آپ ایسے شخص کا کہنا نہ مانیئے اور وہ بھی محض) اس سبب سے کہ وہ مال اور اولاد والا ہو۔ (یعنی دنیا کی وجوہات رکھتا ہو اور ایسے شخص کی اطاعت سے اس لئے منع کیا جاتا ہے کہ اس سخص کی یہ عادت ہے کہ) جب ہماری آیتیں اس کے سامنے پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو وہ کہتا ہے یہ بےسند باتیں ہیں جو اگلوں سے منقول چلی آتی ہیں صمطلب یہ کہ آیات کی تکذیب کرتا ہے۔ خلاصہ یہ کہ ان کی اطاعت سے منع کرنے کی اصل علت ان کی تکذیب ہے اور اسی بناء پر اول فَلَا تُطِعِ الْمُكَذِّبِيْن فرمایا گیا پھر بطور تخصیص بعد تعمیم کے ان مکذبین میں سے ایسے لوگوں کی اطاعت سے ممانعت کی گئی جو علاوہ تکذیب کے اور بری عادتیں بھی رکھتے ہوں ایسوں کی اطاعت سے ممانعت مطلق مکذبین کی اطاعت کی ممانعت سے اور زیادہ اشد ہوگی لیکن اصل علت وہی تکذیب رہے گی آگے ایسے شخص کی سزا کا بیان ہے کہ) ہم عنقریب اس کی ناک پر داغ لگا دیں گے۔ (یعنی قیامت میں اس کے چہرے اور ناک پر اس کے کفر کی وجہ سے کوئی علامت ذلت اور پہچان کی لگا دیں گے جس سے وہ خوب رسوا ہو۔ حدیث مرفوع میں ایسا ہی وارد ہے کما فی الدرالمنشور آگے اہل مکہ کو ایک قصہ سنا کر ان کو وبال سے ڈرایا گیا ہے) ہم نے (جوان اہل مکہ کو سامان عیش دے رکھا ہے جس پر یہ مغرور ہو رہے ہیں تو ہم نے) ان کی آزمائش کر رکھی ہے (کہ دیکھیں یہ نعمتوں کے شکر میں ایمان لاتے ہیں یا ناشکری و بیقدری کر کے کفر کرتے ہیں) جیسا (ان سے پہلے نعمتیں دے کر) ہم نے باغ والوں کی آزمائش کی تھی (یہ باغ بقول ابن عباس ملک حبشہ میں تھا اور بقول سعید بن جبیر یمن میں، کذا فی الدا المنشور اور یہ قصہ اہل مکہ میں مشہور معروف تھا اور جن باغ والوں کا یہ قصہ ہے ان کے باپ کا اپنے وقت میں معمول تھا کہ ایک بڑا حصہ اس باغ کے پھل کا مساکین میں صرف کیا کرتا تھا جب وہ مر گیا تو ان لوگوں نے کہا کہ ہمارا باپ احمق تھا کہ اس قادر آمدین مسکینوں کو دے دیتا تھا اگر یہ سب آوے کس قدر فراغت ہو چناچہ ان آیتوں میں ان کا بقیہ قصہ مذکور ہے یعنی یہ واقعہ آئنذدہ اس وقت ہوا) جبکہ ان لوگوں نے (یعنی اکثر یا بعض نے لقولہ تعالیٰ قال اوسطھم باہم) قسم کھائی کہ اس (باغ) کا پھل ضرور صبح چل کر توڑ لیں گے اور (ایسا وثوق ہوا کہ) انہوں نے انشاء اللہ بھی نہیں کہا سو اس باغ پر آپ کے رب کی طرف سے ایک پھرنے والا (عذاب) پھر گیا (اور وہ ایک آگ تھی۔ کذا فی الدرعن ابن جریج، خواہ خالص آگ ہو یا ہوا میں ملی ہوئی ہو جیسے لو) اور وہ سو رہے تھے پھر صبح کو وہ باغ ایسا رہ گیا جیسے کٹا ہوا کھیت (کہ خالی زمین رہ جاتی ہے اور بعض جگہ کاٹ کر جلا بھی دیا جاتا ہے مگر ان کو اس کی کچھ خبر نہیں تھی) سو صبح کے قوت (سو کر جو اٹھے تو) ایک دوسرے کو پکارنے لگے کہ اپنے کھیت پر سویرے چلو اگر تم کو پھل توڑنا ہے (کھیت یا تو مجازاً کہہ دیا ہو یا اس میں ایسی چیزیں بھی ہوں جو تنہ دار نہیں ہوتیں جیسے انگور وغیرہ یا کہ اس باغ کے متعلق کھیت بھی ہو) پھر وہ لوگ آپس میں چپکے چپکے باتیں کرتے چلے کہ آج تم تک کوئی محتاج نہ آنے پاوے اور (بزعم خود) اپنے کو اس کے نہ دینے پر قادر سمجھ کر چلے (کہ سب پھل گھر لے آویں گے اور کسی کو نہ دیں گے، کجذا فی الدرعن ابن عباس) پھر جب (وہاں پہنچے اور) اس باغ کو (اس حالت میں) دیکھا تو کہنے لگے کہ بیشک ہم رستہ بھول گئے (اور کہیں نکل آئے کیونکہ یہاں تو باغ داغ کچھ بھی نہیں پھر جب موقع پر حدود کو دیکھ کر یقین کیا کہ وہی جگہ ہے تو اس وقت کہنے لگے کہ بھولے نہیں) بلکہ جگہ تو وہی ہے لیکن) ہماری قسمت ہی پھٹو گئی (کہ باغ کا یہ حال ہوگیا) ان میں جو (کسی قدر) وہ کہنے لگا کیوں میں نے تم کو کہا نہ تھا (کہ ایسی نیت مت کرو، مساکین کے دینے سے برکت ہوتی ہے اسی لئے اس شخص کو اللہ تعالیٰ نے اچھا کہا مگر عملاً یہ شخص بھی باوجود کراہت قلب کے سب کے ساتھ شریک ہوگیا تھا اس لئے احقر نے لفظ کسی قدر بڑھا دیا لان الاوسط مراضافی پھر پہلی بات کو یاد دلا کر اس سخص نے کہا کہ اپنی شامت اعمال تو بھگت لی مگر) اب (توبہ اور) تسبیح (و تقدیس) کیوں نہیں کرتے (تاکہ وہ گناہ معاف ہو اور اس سے زیادہ وبال نہ آ جاوے) سب (توبہ کے طور پر) کہنے لگے کہ ہمارا پروردگار پاک ہے (یہ تیز یہ ہے جو استغفار کی تمہید ہے) بیشک ہم قصور وار ہیں (یہ استغفار ہے) پھر ایک دوسرے کو مخاطب بناکر باہم الزام دینے لگے (جیسا کام بگڑنے کے وقت اکثر لوگوں کی عادت ہوتی ہے کہ ہر شخص دوسرے کو رائے فاسدہ کا ذمہ دار بتلایا کرتا ہے پھر سب متفق ہو کر) کہنے لگے کہ بیشک ہم (سب ہی) حد سے نکلنے والے تھے (کسی) ایک کی خطا نہ تھی ایک دوسرے پر الزام بیکار ہے سب ملکر توبہ کرلو) شاید (توبہ کی برکت سے) ہمارا پروردگار ہم کو اس سے ا چھا باغ بدلے میں دیدے (اب) ہم اپنے رب کی طرف رجوع ہوتے ہیں (یعنی توبہ کرتے ہیں اور بدلنا عام ہے خواہ دنیا میں نعم البدل ملجاوے خواہ آخرت میں اور ظاہراً معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ مومن تھے مرتکب معصیت ہوئے تھے اور یہ بات کہیں سند کے ساتھ نظر سے نہیں گزری کہ آیا اس باغ کے عوض ان کو دنیا میں کوئی باغ ملایا نہیں، البتہ بلا سند روح المعانی میں انب مسعود کا قول لکھا ہے کہ اس سے ا چھا باغ ان کو عطا کیا گیا واللہ اعلم۔ آگے قصہ کی غرض یعنی تحذیر کی تصریح ہے کہ خلاف حکم کرنے پر) اسی طرح عذاب ہوا کرتا ہے (جب ہوا کرتا ہے یعنی اے اہل مکہ تم بھی ایسے عذاب کے مستحق ہو بلکہ اس سے بھی زیادہ کے کیونکہ عذاب مذکور تو محض معصیت پر تھا اور تم تو کفر کرتے ہو) اور آخرت کا عذاب اس (عذاب دنیوی) سے بھی بڑھ کر ہے کیا خوب ہوتا کہ یہ لوگ (اس بات کو) جان لیتے (تاکہ ایمان لے آتے۔ آگے ان سزاؤں کی تحقیق کے لئے کفار کے خیال باطل کا ابطال فرماتے ہیں کہ وہ کہتے تھے (آیت) لئن رجعت الی ربی ان لی عندہ للحسنی یعنی) بیشک پرہیزگاروں کے لئے ان کے رب کے نزدیک آسائش کی جنتیں ہیں (یعنی سبب دخول جنت کا تقویٰ ہے اور اس سے کافر عاری ہیں تو ان کو جنت کیسے مل جاوے گی) کیا ہم فرمانبرداروں کو نافرمانبرداروں کے برابر کردیں گے (یعنی اگر کافروں کو نجات ہو تو فرمانبرداروں اور نافرمانوں میں کیا فرق و امتیاز رہ جاوے گا جس سے فرمانبرداروں کی فضیلت ثابت ہو۔ کقولہ تعالیٰ فی (آیت) ص ام نجعل الذین امنوا و عملوا الصلحت کالمفسدین الخ) تم کو کیا ہوا تم کیسا فیصلہ کرتے ہو کیا تمہارے پاس کوئی (آسمانی) کتاب ہے جس میں پڑھتے ہو کہ اس میں تمہارے لئے وہ چیز (لکھی) ہو جو تم پسند کرتے ہو (یعنی اس میں لکھا ہو کہ تم کو آخرت میں حسنی یعنی نعمت ملے گی) کیا ہمارے ذمہ کچھ قسمیں چڑھی ہوئی ہیں جو تمہارے لئے کھائی گئی ہوں اور وہ قسمیں قیامت تک باقی رہنے اولی ہوں (جن کا یہ مضمون ہو) کہ تم کو وہ چیزیں ملیں گی جو تم فیصلہ کر رہے ہو (یعنی ثواب اور جنت) ان سے پوچھئے ان میں اس کا کون ذمہ دار ہے کیا ان کے ٹھہرائے ہوئے کچھ شریک (خدائی) ہیں (کہ انہوں نے ان کو ثواب دینے کا ذمہ لیا ہے) سو ان کو چاہئے کہ یہ اپنے ان شریکوں کو پیش کریں گے یہ سچے ہیں غرض جب یہ مضمون کسی آسمانی کتاب میں نہیں ویسے بلاکتاب دوسرے طریق وحی سے ہمارا وعدہ نہیں جو مثل قسم کے ہوتا ہے پھر ایسی حالت میں کون شخص ان میں سے یا ان کے شرکاء میں سے ذمہ داری کرسکتا ہے ہرگز نہیں پھر دعویٰ کس بناء پر ہے۔ آگے ان لوگوں کی قیامت کی سروائی کا ذکر ہے وہ دن یاد کرنے کے قابل ہے) جس دن کہ سباق کی تجلی فرمائی جاوے گی اور سجدہ کی طرف لوگوں کو بلایا جاوے گا (اس کا قصہ حدیث شیخین میں مفروعاً اس طرح آیا ہے کہ حق تعالیٰ قیامت کے میدان میں اپنی ساق ظاہر فرما دے گا۔ ساق کہتے ہیں پنڈلی کو، اور یہ کوئی خاص صفت ہے جس کو کسی مناسبت سے ساق فرمای جیسا قرآن میں ہاتھ آیا ہے اور ایسے مفہومات متشابہات کہلاتے ہیں اور اسی حدیث میں ہے کہ اس تجلی کو دیکھ کر تمام مؤمنین مومنات سجدے میں گر پڑیں گے مگر جو شخص ریا سے سجدہ کرتا تھا اس کی کمر تختہ کی طرح رہ جاویگی سجدہ نہ کرسکے گا۔ اور سجدے کی طرف بلائے جانے سے یہ شبھہ نہ کیا جاوے کہ وہ دارالتکلیف نہیں ہے کیونکہ بلائے جانے سے مراد امر بالسجود نہیں ہے بلکہ اس تجلی میں یہ اثر ہوگا کہ سب ابالضطرار سجدہ کرنا چاہیں گے جن میں مومن اس بات پر قادر ہوجائیں گے اور اہل ریا و نفاق قادر نہ ہوں گے اور کفار کا قادر نہ ہونا اس سے بدرجہ اولی ٰمفہوم ہوتا ہے جسکا آگے ذکر ہے یعنی کفار بھی سجدہ کرنا چاہیں گے) سو یہ (کافر) لوگ سجدہ نہ کرسکیں گے (اور) ان کی آنکھیں (ماے ر شرمندگی کے) جھکی ہوں گی (اور) ان پر ذلت چھائی ہوگی اور (وجہ اس کی یہ کہ) یہ لوگ (دنیا میں) سجدہ کی طرف بلائے جایا کرتے تھے (اس طرح کہ ایمان لا کر عبادت کریں) اور وہ صحیح سالمت ہے (یعنی سجدہ پر قادر بھی تھے چناچہ ظاہر ہے کہ ایمان و عبادت فعل اختیایر ہے بس دنیا میں امتثال امر نہ کرنے سے آج ان کو یہ رسوائی ذلت ہوئی اور دوسری آیت میں جو نگاہ کا اوپر اٹھا رہنا ایٓا ہے وہ اس کے معارض نہیں کیونکہ گاہے غلبہ حیرت سے ایسا ہوگا اور گاہے غلبہ ندامت سے ایسا ہوگا، آگے کفار کے اس خیال کا رد ہے کہ عذاب میں دیر ہونے کو اپنے مقبول ہونے کی دلیل سمجھتے تھے اور اس کے ضمن میں آپ کی تسلی بھی ہے، یعنی جب ان کا مستحق عذاب ہونا اوپر کی آیتوں سے معلمو ہوچکا) تو مجھ کو اور جو اس کلام کو جھٹلاتے ہیں ان کو (اس حال موجودہ پر) رہنے دیجئے (یعنی عذاب میں دیر ہونے سے رنج نہ کیجئے) ہم ان کو بتدریج (جہنم کی طرف) لی جا رہی ہیں اس طور پر کہ ان کو خبر بھی نہیں اور (دنیا میں ان پر عذاب نہ ڈالنے سے) ان کو مہلت دیتا ہوں بیشک میری تدبیر بڑی مضبوط ہے (آگے ان کے انکار نبوت پر تعجب ہے) کیا آپ ان سے کچھ معاوضہ مانگتے ہیں کہ وہ اس تاوان سے دبے جاتے ہیں (اس لئے آپ کی اطاعت سے نفرت ہے وہذا کقولہ تعالیٰ ام تسلھم خرجا) یا ان کے پاس غیب (کا عمل) ہے کہ یہ (اس کو محفوظ رکھنے کے واسطے) لکھ لیا کرتے ہیں (یعنی کیا ان کو احکام خداوندی خود کسی طریقے سے معلمو ہوجاتے ہیں جس کی وجہ سے وہ صحاب وحی کے اتباع سے مستغنی ہیں اور ظاہ ہے کہ دونوں امر نہیں ہیں پھر انکار نبوت عجیب ہے آگے آپ کا تسلیہ ہے جب ان کا استحقاق عذاب اور کفر جو موجب استحقاق ہے معلوم ہوگ یا اور یہ کہ ان کی مہلت استدراج یعنی ایک قسم کی ڈھیل ہے اور وقت موعود پر عذاب ہوگا) تو آپ اپنے رب کی (اس) تجویز پر صبر سے بیٹھے رہئے اور (تنگدلی میں) مچھلی (کے پیٹ میں جانے) والے (پیغمبر یونس علیہ السلام) کی طرح نہ ہوجائے (کہ وہ عذاب نازل نہ ہونے سے تنگدل ہوئے اور کہیں چلے گئے جسکا قصہ کئی جگہ تھوڑا تھوڑا آ چکا ہے مضمون مقصود تشبیہ کا تو ختم ہوچکا، آگے بطور تمتیم قصد کے ارشاد ہے کہ وہ وقت بھی یاد کیجئے) جبکہ یونس ؑ نے (اپنے رب سے) دعا کی اور وہ غم سے گھٹ رہے تھے (یہ غم مجموعہ تھا کئی غموں کا ایک قوم کے ایمان نہ لانے کا ایک عذاب کے ٹل جانے کا ایک بلا اذن صریح حق تعالیٰ کے وہاں سے چلے آنے کا۔ ایک مچھلی کے پیٹ میں محبوس ہونیکا اور وہ دعا یہ ہے (آیت) لا الہ الا انت سبحنک انی کنت من الظلمین جس سے مقصود معانی اور طلب نجات عن الحبس ہے چناچہ اس پر اللہ تعالیٰ کا فضل ہوا اور مچھلی کے پیٹ سے نجات ہوئی اسی کی نسبت ارشاد ہے کہ) اگر خدا وندی احسان ان کی دستگیری نہ کرتا تو وہ (جس میدان میں مچھلی کے پیٹ سے نکال کر ڈال دیئے گئے تھے اس) میدان میں بدحالی کے ساتھ ڈالے جاتے (دستگیری سے مراد قبول تو بہ ہے اور بدحالی سے مراد یہ کہ ان کی اجتہادی غلطی پر منجانب اللہ ان کو ملامت ہوئی حاصل اسکا اور آیت سورة صافات کا یہ ہے کہ اگر یہ توبہ و استغفار نہ کرتے تب تو شکم ماہی سے نجات ہی نہ ہوتی کما قال (آیت) فلوہ انہ کان الخ
اور اگر توبہ و استغفار کرتے مگر اللہ تعالیٰ قبول نہ فرماتا تو اس توبہ و استغفار کی اسقدر دنیوی برکت تو ہوتی کہ شکم ماہی سے نجات ہوجاتی اور میدان میں جس طرح اب ڈالے گئے اسی طرح ڈالے جاتے لیکن اس وقت وہ ڈالا جانا مذموم ہوتا اور اب کا ڈالا جانا مذموم ہونے کی حالت میں نہیں ہوا کیونکہ قبول توبہ کے بعد خطا پر مذمت و ملامت نہیں ہوا کرتی) پھر ان کے رب نے ان کو (اور زیادہ) برگزیدہ کرلیا اور ان کو (زیادہ رتبہ کے) صالحین میں سے کردیا (شاید اس تمتیم قصہ سے یہ بھی مقصود ہو کہ اپنے اجتہاد پر عمل کرنا ان کو کیسا مضر ہوا اور توکل کیسا نافع ہوا اسی طرح عذاب کے بارے میں آپ بھی اپنی رائے سے جلدی نہ کیجئے بلکہ اللہ تعالیٰ پر توکل کیجئے کہ انجام بہتر ہوگا) اور (آگے آپ کی شان میں کفار کے مجنون کہنے کا ایک دوسرے انداز زمین ابطال ہے شروع سورت میں انداز سے اس کو باطل کیا گیا تھا یعنی) یہ کافر جب قرآن سنتے ہیں تو (شدت عداوت سے) ایسے معلوم ہوتے ہیں کہ گویا آپ کو اپنی نگاہوں سے پھسلا کر گرا دیں گے (یہ ایک محاورہ ہے جیسے بولتے ہیں کہ فلاں شخص اس طحر دیکھتا ہے جیسے کھا جائے گا کما فی روح المعانی نظر الی نظر ایکاد یصدعنی او یکاد یا کلنی، مطلب یہ کہ شدت عداوت سے آپ کو بری بری نگاہوں سے دیکھتے ہیں) اور (اسی عداوت سے آپ کی نسبت) کہتے ہیں کہ (نعوذ باللہ) پہ مجنون ہیں حالانکہ یہ قرآن (جس کے ساتھ آپ تکلم فرماتے ہیں) تمام جہان کے واسطے نصیحت ہے (اور مجنون آدمی کے متعلق ایسی اصلاح عام نہیں ہو سکتی اس میں تو جواب طعن جنون ظاہر ہے اور بیان عداوت سے بھی اس طعن کا ضعیف ہونا ثابت ہوگیا کیونکہ جس قول کا منشاء شدت عداوت ہو وہ قابل اتفات نہیں)
معارف و مسائل
سورة ملک میں اللہ تعالیٰ کے وجود اور توحید اور علم وقدرت کے دلائل مشاہدہ کائنات سے بیان ہوئے ہیں اور کفار و منکرین پر عذاب شدید کا ذکر ہے۔ سورة نون میں کفار کے ان مطاعن کا جواب ہے وہ وہ رسول اللہ ﷺ پر کیا کرتے تھے۔ سب سے پہلا ان کا طعنہ یہ تھا کہ اللہ کے بھیجے ہوئے کامل العقل کامل اعلم جامع الفضائل رسول کو معاذ اللہ مجنون کہتے تھے یا اسوجہ سے کہ رسول اللہ ﷺ پر جو وحی فرشتہ کے ذریعہ نازل ہوتی تھی بوقت وحی اس کے آثار آپ کے جسم مبارک پر دیکھے جاتے تھے، پھر آپ وحی سے حاصل شدہ آیات پڑھ کر سناتے تھے یہ معاملہ کفار کے فہم و ادراک سے باہر تھا اس لئے اس کو جنون قرار دے دیا اور یا اسوجہ سے کہ آپ نے اپنی قوم اور پوری دنیا کے عائد موجودہ کے خلاف یہ دعویٰ کیا کہ عابدتک کے قابل اللہ کے سوا کوئی نہیں جن خود تراشیدہ بتوں کو وہ خدا سمجھتے تھے ان کا بےعلم و شعور ناقابل نفع و ضرر ہونا بیان کیا، آپ کے اس عقیدہ کا کوئی ساتھی نہ تھا آپ اکیلے یہ دعویٰ لے کر بغیر کسی ظاہری سازو سامان کے ساری دنیا کے مقابلہ میں کھڑے ہوگئے۔ ظاہر بیں نظروں میں اس کی کامیابی کا کوئی امکان نہیں تھا ایسے دعوے کو لے کر کھڑا ہونا جنون سمجھاگ یا اور بغیر کسی سبب کے بھی بعض طعن برائے طعن ہو سکتا ہے کہ مجنون کہتے ہوں، سورة نون کی ابتدائی آیتوں میں ان کے اس خیال باطل کی تردید قسم کے ساتھ مؤ کد کر کے بیان فرمائی ہے۔
نۗ وَالْقَلَمِ وَمَا يَسْطُرُوْن ،ۙمَآ اَنْتَ بِنِعْمَةِ رَبِّكَ بِمَجْنُوْن حرف نون حروف مقطعہ میں سے ہے جو قرآن کریم کی بہت سی سورتوں کو امت کو اس کی تحقیق میں پڑنے سے روک دیا گیا ہے۔
قلم سے کیا مراد ہے اور قلم کی فضیلت والقلم میں واؤ حرف قسم ہے اور قلم سے مراد عام قلم بھی ہوسکتا ہے جس میں قلم تقدیر اور فرشتوں اور انسانوں کے سب قلم جن سے کچھ لکھا جاتا ہے سب داخل ہیں (کما ہو قول ابی حاتم البستی) اور خاص قلم تقدیر بھی مراد ہو سکتا ہے ہیں (کما ہو قول ابن عباس) اور اس قلم تقدیر کے متعلق حضرت عبادہ بن الصامت کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ سب سے پہلے اللہ تعالیٰ نے قلم پیدا کیا اور اس کو حکم دیا کہ لکھ، قلم نے عرض کیا، کیا لکھوں تو حکم دیا کہ تقدیر الٰہی کو قلم نے (حکم کے مطابق) ابد تک ہونے والے تمام واقعات اور حالات کو لکھ دیا۔ (رواہ الترمذی و قال ہذا حدیث غریب) اور صحیح مسلم میں حضرت عبداللہ بن عمر کی حدیث ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ”اللہ تعالیٰ نے تمام مخلوقات کی تقدیر کو آسمان و زمین کی تخلیق سے پچاس ہزار سال پہلے لکھ دیا تھا۔
اور حضرت قتادہ نے فرمایا کہ قلم اللہ تعالیٰ کی ایک بڑی نعمت ہے جو اس نے اپے ن بندوں کو عطا فرمائی ہے اور بعض حضرات نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے پہلے ایک قلم، قلم تقدیر پیدا فرمایا جسنے تمام کائنات و مخلوقات کی تقدیریں لکھ دیں پھر دوسرا فرمایا جس سے زمین پر بسنے والے لکھتے ہیں اور لکھیں گے اس دوسرے قلم کا ذکر سورة اقرار میں آیا ہے (آیت) علم بالقلم۔ واللہ اعلم
آیت میں اگر قلم سے مراد قلم تقدیر لیا جائے جو سب سے پہلی مخلوق ہے تو اس کی عظمت اور تمام چیزوں پر ایک برتری ظاہر ہے اس لئے اس کی قسم کھانا مناسب ہوا اور اگر قلم سے مراد عام قلم لئے جاویں جس میں قلم تقدیر اور فرشتوں کے اقلام کے علاوہ انسانوں کے قلم بھی داخل ہیں تو اس کی قسم اسلئے کھائی گئی کہ دنیا میں بڑے بڑے کام سب قلم ہی سے ہوتے ہیں۔ ملکوں کی فتوحات میں تلوار سے زیادہ قلم کا مؤثر ہونا منقول و معروف ہے ابوحاتم بستی نے اسی مضمون کو دو شعروں میں فرمایا ہے۔
اذا اقسم الابطال یوما بسیفھم جب کہ قسم کھائیں بہادر لوگ کسی دن اپنی تلوار کی، کفی قلم الکتاب عزا ورفعة، تو کافی ہے لکھنے والوں کا قلم ان کی عزت و برتری کے لئے
وعدہ وہ ممایکسب المجد والکرم، اور اس کو شمار کریں ان چیزوں میں جو انسان کو عزت و شرف بخشتی ہیں مدی الدھر ان اللہ اقسم بالقلم ہمیشہ ہمیشہ کے واسطے کیونکہ اللہ نے قسم کھائی ہے قلم کی۔
بہرحال اس آیت میں قلم تقدیر یا عام قلم خلائق کی اور پھر لفظ مایسطرون میں جو کچھ ان قلموں سے لکھا گیا یا لکھا جائے گا اس کی قسم کھا کر حق تعالیٰ نے کفار کے اس طعنہ باطلہ کا رد فرمایا کہ آپ مجنون ہیں ارشاد ہوا ۙمَآ اَنْتَ بِنِعْمَةِ رَبِّكَ بِمَجْنُوْن یعنی آپ اپنے رب کی نعمت و فضل کی وجہ سے ہرگز مجنون نہیں اس میں بنعمتہ ربک بڑھا کر دعویٰ کی دلیل بھی دے دی کہ جس شخص پر اللہ تعالیٰ کی نعمت و رحمت مکمل ہو وہ کیسے مجنون ہوسکتا ہے اس کو مجنون کہنے والا خود مجنوں ہے۔
فائدہ۔ علماء نے فرمایا ہے کہ قرآن کریم میں حق تعالیٰ جس چیز کی قسم کھاتے ہیں وہ مضمون قسم پر ایک شہادت ہوتی ہے یہاں ما یسطرون کے لفظ سے دنیا کی تاریخ میں جو کچھ لکھا گیا اور لکھا جا رہا ہے اس کو بطور شہادت پیش کیا ہے کہ دنیا کی تاریخ کو دیکھو، ایسے اعلیٰ اخلاق و اعمال والے کہیں مجنون ہوتے ہیں وہ تو دوسروں کی عقل درست کرنے والے ہوتے ہیں۔
Ayah 68:3آگے مضمون مذکور کی مزید تائید کے لئے فرمایا،
(آیت) وَاِنَّ لَكَ لَاَجْرًا غَيْرَ مَمْنُوْنٍ (اور بیشک آپ کے لئے اجر عظیم ہے جو کبھی منقطع ہونے والا نہیں) مطلب یہ ہے کہ آپ کے جس کام کو یہ دیوانی جنون کہہ رہے ہیں وہ تو اللہ کے نزدیک سب سے بڑا مقبول عمل ہے اس پر آپ کو اجر عظیم ملنے والا ہے اور اجر بھی ایسا جو دائمی ہے کبھی منقطع نہیں ہوگا۔ کہیں کسی مجنون کے عمل پر بھی مجنون کو اجر ملا کرتا ہے۔ آگے اسی مضمون کی مزید تائید و تاکید سا جملے سے فرما دی۔
Ayah 68:4(آیت) وَاِنَّكَ لَعَلٰى خُلُقٍ عَظِيْمٍ ، اس میں رسول اللہ میں جو انسان کو عزت و شرف بخشتی ہیں مدی الدھر ان اللہ اقسم بالقلم کے اخلاق فاضلہ کاملہ میں غور کرنے کی ہدایت فرمائی گئی ہے کہ دیوانو ذرا تو دیکھو کہیں مجنونوں دیوانوں کے ایسے اخلاق و اعمال ہوا کرتے ہیں۔
رسول اللہ ﷺ کا خلق عظیم۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ خلق عظیم سے مراد دین عظیم ہے کہ اللہ کے نزدیک اس دین اسلام سے زیادہ کوئی محبوب دین نہیں۔ حضرت عائشہ نے فرمایا کہ آپ کا خلق خود قرآن ہی یعنی قرآن کریم جن اعلیٰ اعمال و اخلاق کی تعلیم دیتا ہے آپ ان سب کا عملی نمونہ ہیں۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے فرمایا کہ خلق عظیم سے مراد آداب القرآن ہیں یعنی وہ آداب جو قرآن نے سکھائے ہیں۔ حاصل سب کا تقریباً ایک ہی ہے۔ رسول کریم ﷺ کے وجود باجود میں حق تعالیٰ نے تمام ہی اخلاق فاضلہ بدرجہ کمال جمع فرما دیئے تھے خود آنحضرت ﷺ نے فرمایا بعثت لاتمم مکارم الاخلاق یعنی مجھے اس کام کے لئے بھیجا گیا ہے کہ میں اعلیٰ اخلاق کی تکمیل کروں (ابو حیان)
حضرت انس فرماتے ہیں کہ میں نے دس سال رسول اللہ ﷺ کی خدمت کی اس پوری مدت میں جو کام میں نے کیا آپ نے کبھی یہ نہیں فرمایا کہ ایسا کیوں کیا اور جو کام نہیں کیا اس پر کبھی یہ نہیں فرمایا کہ یہ کام کیوں نہیں کیا (حالانکہ یہ ظاہر ہے کہ دس سال کی مدت میں خدمت کرنے والے کے بہت سے کام خلاف طبع ہوئے ہوں گے) (بخاری و مسلم)
اور حضرت انس فرماتے ہیں کہ آپ کے مکارم اخلاق کا یہ حالت ھا کہ مدینہ کی کوئی لونڈی باندی بھی آپ کا ہاتھ پکڑ کر جہاں لیجانا چاہے لیجا سکتی تھی (رواہ البخاری)
حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے کبھی اپنے ہاتھ سے کسیک و نہیں مارا بجز جہاد فی سبیل اللہ کے کہ اس میں کفار کو مارنا اور قتل کرنا ثابت ہے ورنہ آپ نے نہ کسی خادم کو نہ کسی عورت کو کبھی مارا، ان میں سے کسی سے خطا و لغزش بھی ہوئی تو اس کا انتقام نہیں لیا بجز اس کے کہ اللہ کے حکم کی خلاف ورزی کی ہوت و اس پر شرعی سزا جاری فرمائی (رواہ مسلم)
حضرت جابر فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے کبھی کسی چیز کا سوال نہیں کیا گیا جس کے جواب میں آپ نے نہیں فرمایا ہوصبخاری و مسلم)
اور حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فحش گو تھے نہ فحش کے پاس جاتے تھے نہ بازاروں میں شور و شغب کرتے تھے برائی کا بدلہ کبھی برائی سے نہیں دیتے تھے بلکہ معافی اور درگزر کا معاملہ فرماتے تھے اور حضرت ابوالدردا فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میزان عمل میں خلق حسن کی برابر کسی عمل کا وزن نہیں ہوگا، اور اللہ تعالیٰ گالی گلوچ کرنے والے بدزبان سے بغض رکھتے ہیں (رواہ الترمذی وقال حیدث حسن صحیح)
اور ضحرت عائشہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ مسلمان اپنے حس خلق کی بدولت اس شخص کا درجہ حاصل کرلیتا ہے جو ہمیشہ رات کو عبادت میں جاگتا اور دن بھر روزہ رکھتا ہو (رواہ ابوداؤد)
اور حضرت معاذ نے فرمایا کہ مجھے یمن کا عامل مقرر کر کے بھیجنے کے وقت) آخری وصیت جو آپ نے مجھے اس وقت فرمائی جبکہ میں اپنا ایک پاؤں رکاب میں رکھ چکا تھا وہ یہ تھی یامعاذ احسن خلقک للناس۔ اے معاذ لوگوں سے حسن خلق کا برتاؤ کرو۔ رواہ مالک) یہ سب روایات حدیث تفسیر مظہری سے نقل کی گئی ہیں۔
Ayahs 68:5–7فَسَتُبْصِرُ وَيُبْصِرُوْنَ (عنقریب آپ بھی دیکھ لیں گے اور یہ کفار بھی دیکھ لیں گے تم میں کون مجنون ہے) مفتون اس جگہ بمعنے مجنون ہے۔ پچھلی آیات میں آپ کو مجنون کہنے والوں کے طعنہ کو دلائل سے رد کیا گیا تھا اس آیت نے پیش گوئی کے طور پر یہ بتلایا کہ یہ بات یوں ہی ڈھکی چھپی رہنے والی نہیں ہے قریب آنے والے وقت میں سب آنکھوں سے دیکھ لیں گے کہ معاذ اللہ آپ مجنون تھے یا آپ کو مجنون کہنے والے پاگل دیوانے تھے چناچہ تھوڑے ہی عرصہ میں یہ بات کھل کر دنیا کے سامنے آگئی اور انہیں مجنون کہنے والوں میں سے ہزاروں حلقہ بگوش اسلام ہو کر آپ کے اتباع و محبت کو سرمایہ سعادت سمجھنے لگے اور بہت سے اشقیاء جن کو توفیق نہیں ہوئی وہ دنیا میں بھی ذلیل و خوار ہوئے۔
Ayahs 68:8–9فَلَا تُطِعِ الْمُكَذِّبِيْنَ ، وَدُّوْا لَوْ تُدْهِنُ فَيُدْهِنُوْنَ یعنی آپ ان جھٹلانے والوں کی بات نہ مانیں یہ تو یوں چاہتے ہیں کہ آپ کچھ تبلیغ احکام میں نرم پڑجائیں اور شرک و بت پرستی سے ان کو روکنا چھوڑ دیں تو یہ بھی نرم پڑجائیں کہ آپ پر طعن تشنیع اور آپ کی ایذا رسانی چھوڑ دیں (قالہ ابن عباس، قرطبی)
مسئلہ۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ کفار و فجار کے ساتھ یہ سودا کرلینا کہ ہم تمہیں کچھ نہیں کہتے تم ہمیں کچھ نہ کہو۔ یہ مداہنت فی الدین اور حرام ہے (مظہری) یعنی بلا کسی اضطرار و مجبوری کے ایسا معاہدہ جائز انہیں۔
Ayahs 68:10–16وَلَا تُطِعْ كُلَّ حَلَّافٍ مَّهِيْنٍ 10 ۙهَمَّازٍ مَّشَّاۗءٍۢ بِنَمِيْمٍ 11 ۙمَّنَّاعٍ لِّلْخَيْرِ مُعْتَدٍ اَثِيْمٍ 12 ۙعُتُلٍّۢ بَعْدَ ذٰلِكَ زَنِيْم (آپ بات نہ مانیں ہر ایسے شخص کی جو بہت قسمیں کھانے والا ہو ذلیل ہو اور لوگوں پر عیب لگانے والا ہو غیبت کرنے والا ہو چغلخوری کرنے والا ہو، نیک کاموں سے لوگوں کو روکنے والا ظلم وجور میں حد سے بڑھنے والا ہو بکثرت گناہ کرنے والا اور بہت قسمیں کھانے والا کج خلق بخیل ہو اور ان سب صفات رذیلہ کے ساتھ وہ زنیم بھی ہو۔ زنیم کے معنے وہ شخص جس کا نسب کسی باپ سے ثابت نہ ہو۔ جس شخص کے یہ اوصاف بیان کئے گئے ہیں وہ ایسا ہی غیر ثابت النسب تھا۔
پہلی آیت میں عام کفار کی بات نہ ماننے اور دین کے معاملے میں ان کی وجہ سے کوئی مداہنت نہ کرنے کا حکم تھا اس آیت میں ایک خاص شریر کافر ولید بن مغیرہ کی صفات رذیلہ بیان کر کے اس سے اعراض کرنے اور اس کی بات نہ ماننے کا خصوصی حکم دیا گیا ہے (کما رواہ ابن جریر عن ابن عباس) آگے بھی کئی آیتوں میں اس شخص کی بد اخلاقی اور سرکشی کا ذکر فرمانے کے بعد فرمایا سَنَسِمُهٗ عَلَي الْخُرْطُوْم یعنی ہم قیامت کے روز اس کی ناک پر داغ لگا دیں گے جس سے اولین و آخرین میں اس کی رسوائی ظاہر ہو جائیگی اس کی ناک کو بغرض تقبیح خرطوم سے تعبیر کیا گیا ہے جو ہاتھی یا خنزیر کی ناک کے لئے مخصوص ہے۔
Ayah 68:17اِنَّا بَلَوْنٰهُمْ كَمَا بَلَوْنَآ اَصْحٰبَ الْجَنَّةِ (یعنی ہم نے آزمائش میں ڈالا ان (اہل مکہ) کو جس طرح آزمائش میں ڈالا تھا باغ والوں کو) سابقہ آیات میں کفار اہل مکہ کی نبی کریم ﷺ پر طعن وتشنیع کا جواب تھا۔ ان آیات میں حق تعالیٰ نے پچھلے زمانے کا ایک قصہ ذکر کر کے اہل مکہ کو تنبیہ فرمائی اور عذاب سے ڈرایا۔ اہل مکہ کو آزمائش میں ڈالنے سے یہ مراد بھی ہو سکتی کہ جس طرح آئندہ آنے والے قصہ میں باغ والوں کو اللہ تعالیٰ نے اپنی نعمتوں سے سرفراز فرمایا انہوں نے ناشکری کی جس کے نتیجہ میں عذاب آ گیا اور ان کی نعمت سلب ہوگئی، حق تعالیٰ نے اہل مکہ پر اپنا سب سے بڑا انعام تو یہ فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ کو ان کے اندر پیدا فرمایا اس کے علاوہ ان کی تجارتوں میں برکت عطا فرمائی اور ان کو خوشحال بنادیا، یہ ان کی آزمائش ہے کہا للہت عالیٰ کی ان نعمتوں کے شکر گزار ہوتے ہیں اور اللہ و رسول پر ایمان لاتے ہیں یا اپنے کفر وعناد پر جمے رہتے ہیں۔ دوسری صورت میں ان کو باغ والوں کے قصہ سے عبرت حاصل کرنا چاہئے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ کفر ان نعمت سے ان پر بھی ایسا ہی عذاب نہ آجائے۔ یہ تفسیر اس صورت میں بھی صادق ہے جبکہ ان آیات کو بھی مثل اکثر سورت کے مکی قرار دیا جائے لیکن بہت سے حضرات مفسرین نے ان آیات کو مدنی قرار دیا ہے اور جس آزمائش کا یہاں ذکر ہے اس سے مراد وہ قحط کا عذاب ہے جو رسول ﷺ کی بد دعا سے ان لوگوں پر مسلط ہوا تھا جس میں وہ بھوک سے مرنے لگے اور مردار جانور اور درختوں کے پتے کھانے پر مجبور ہوگئے تھے۔ یہ واقعہ ہجرت کے بعد کا ہے۔
باغ والوں کا قصہ۔ یہ باغ بعض سلف جیسے حضرت ابن عباس وغیرہ کے قول پر یمن میں تھا اور حضرت سعید بن جبیر کی ایک روایت یہ ہے کہ صنعاء جو یمن کا مشہور شہر اور دارالسلطنت ہے اس سے چھ میل کے فاصلے پر تھا اور بعض حضرات نے اس کا محل وقوع حبشہ کو بتلایا ہے (ابن کثیر) یہ لوگ اہل کتاب میں سے تھے اور یہ واقعہ رفع عیسیٰ ؑ کے کھچ عرص ہبع کا ہے (قرطبی)
آیت مذکورہ میں ان کو اصحاب الجنتہ یعنی باغ والوں کے نام سے تعبیر کیا ہے مگر مضمون آیات سے معلوم ہوتا ہے کہا ان کے پاس صرف باغ ہی نہیں بلکہ کاشت کی زمینیں بھی تھیں۔ ہوسکتا ہے کہ باغ کے ساتھ ہی مزروعہ زمین بھی ہو مگر باغوں کی ہشرت کے سبب باغ والے کہہ دیا گیا۔ واقعہان کا بروایت محمد بن مروان حضرت عبداللہ ابن عباس سے اس طحر منقول ہے۔ صنعا یمن سے دو فرسخ کے فاصلے پر ایک باغ تھا جس کو صروان کہا جاتا تھا۔ یہ باغ ایک صالح اور نیک بندے نے لگایات ھا اس کا عمل یہ تھا کہ جب کھیتی کاٹتا تو جو درخت دراتنی سے باقی رہ جاتے تھے ان کو فقراء و مساکین کے لئے چھوڑ دیتا تھا یہ لوگ اس سے غلہ حاصل کر کے اپنا گزارہ کرتے تھے۔ اسی طرح جب کھیتی کو گاہ کو غلہ نکالتا تو جو دانہ بھوسے کیساتھ اڑ کر الگ ہوجاتا، اس دانے کو بھی فقراء و مساکین کے لئے چھوڑ دیتا تھا، اسی طرح جب باغ کے درختوں سے پھل توڑتا تو توڑنے کے وقت جو پھل نیچے گر جاتا وہ بھی فقراء کے لئے چھوڑ دیتا تھا (یہی وجہ تھی کہ جب اس کی کھیتی کٹنے یا پھل توڑنے کا وقت آتا تو بہت سے فقراء و مساکین جمع ہوجاتے تھے) اس مرد مصالح کا انتقال ہوگیا اس کے کتنی بیٹے باغ اور زمین کے وارث ہوئے، انہوں نے آپس میں گفتگو کی کہ اب ہمارا عیال بڑھ گیا ہے اور پیداوار ان کی ضرورت سے کم ہے اس لئے اب ان فقراء کے لئے ا تنا غلہ اور پھل چھوڑ دینا ہمارے بس کی بات نہیں اور بعض روایات میں ہے کہ ان لڑکوں نے آزاد نوجوانوں کی طرح یہ کہا کہ ہمارا باپ تو بیوقوف تھا اتنی بڑی مقدار غلہ اور پھل کی لوگوں کو لٹا دیتا تھا۔ ہمیں یہ طریقہ بند کرنا چاہئے، آگے ان کا قصہ خود قرآن کریم کے الفاظ میں حسب ذیل ہے۔
اِذْ اَقْسَمُوْا لَيَصْرِمُنَّهَا مُصْبِحِيْنَ وَلَا يَسْتَثْنُوْن یعنی انہوں نے آپس میں حلف قسم کر کے یہ عہد کیا کہا اب کی مرتبہ ہم صبح سویرے ہی جا کر کھیتی کاٹ لیں گے تاکہ مساکین و فقراء کو خبر نہ ہو اور وہ ساتھ نہ لگ لیں اور اپنے اس منصوبے پر ان کو اتنا یقین تھا کہ انشاء اللہ کہنے کی بھی توفیق نہ ہوئی جیسا کہ سنت ہے کہ کل جو کام کرنا ہے جب اس کا ذکر کرے تو یوں کہے کہ ہم انشاء اللہ کل یہ کام کریں گے۔
Ayah 68:18وَلَا يَسْتَثْنُوْنَ کے معین استثناء نہ کرنے کے ہیں اور مراد اس استثناء سے انشاء اللہ کہنا ہے اور بعض حضرات مفسرین نے استثناء سے مراد یہ لیا ہے کہ ہم پورا پورا غلہ اور پھل لے آویں گے فقراء کا حصہ مستثنی نہ کریں گے۔ (مظہری)
Ayahs 68:19–20(آیت) فَطَافَ عَلَيْهَا طَاۗىِٕفٌ مِّنْ رَّبِّكَ (پھر پھر گیا اس کی اور باغ پر ایک پھرنے والا آپ کے رب کی طرف سے پھرنے والے سے مراد کوئی بلا اور آفت ہے جس سے کھیتی اور باغ تباہ ہوجائے۔ بعض روایات میں ہے کہ وہ ایک آگ تھی جس نے سب کھڑی کھیتی کو جلا کر خاک سیاہ کردیا وھم تائمون یعنی یہ واقعہ نزول عذاب کا رات کو اس وقت ہوا جبکہ یہ لوگ محو خواب تھے فَاَصْبَحَتْ كَالصَّرِيْمِ صرم کے معنی پھل وغیرہ کاٹنے کے ہیں۔ صریم بمعنے مصروم و مقطوع ہے مطلب یہ ہے کہ آگ نے اس کھیتی کو ایسا بنادیا کہ جیسے کھیتی کاٹ لینے کے بعد صاف زمین رہ جاتی ہے اور صریم کے معنی رات کے بھی آتے ہیں اس معنے کے لحاظ سے مطلب یہ ہوگا کہ جیسے رات تاریک سیاہ ہوتی ہے یہ کھیتی بھی خاک سیاہ ہوگئی (مظہری)
Ayahs 68:21–24(آیت) فَتَنَادَوْا مُصْبِحِيْنَ یعنی صبح اندھیرے سے آپس میں ایک دوسرے کو آواز دے کر جگانے لگے کہ اگر کھیتی کاٹنا ہے تو سویرے چلو وَهُمْ يَتَخَافَتُوْنَ ، یعنی گھر سے نکلنے کے وقت آپس میں آہستہ بات کرتے تھے کہ کسی فقیر مسکین کو خبر نہ ہوجائے جو ساتھ لگے۔
Ayah 68:25(آیت) وَّغَدَوْا عَلٰي حَرْدٍ قٰدِرِيْنَ ، حرد کے معنی منع کرنے اور غیظ و غضب دکھانے کے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ یہ لو اپنے خیال میں یہ سمجھ کر چلے کہ ہمیں اس پر قدرت ہے کہ ہم کسی فقیر و مسکین کو کچھ نہ دیں کوئی آبھی جاوے تو اس کو دفع کردیں۔
Ayahs 68:26–27(آیت) فَلَمَّا رَاَوْهَا قَالُوْٓا اِنَّا لَضَاۗلُّوْنَ مگر جب اس جگہ کھیت باغ کچھ نہ پایا تو اول تو یہ کہنے لگے کہ ہم جگہ کو بھول کر کہیں اور آگئے، یہاں تو نہ باغ ہے نہ کھیت، مگر پھر قریبی مقامات اور نشانات پر غور کیا تو معلوم ہوا جگہ تو یہی ہے اور کھیت جل کر ختم ہوچکا ہے تو کہنے لگے بل نحن محرومون یعنی ہم اس نعمت سے محروم کردیئے گئے۔
Ayah 68:28قَالَ اَوْسَطُهُمْ اَلَمْ اَقُلْ لَّكُمْ لَوْلَا تُـسَبِّحُوْنَ ان میں سے جو درمیان آدمی تھا یعنی باپ کی طرح نیک صالح اللہ کی راہ میں خرچ پر خوش ہونے والا تھا دوسرے بھائیوں کی طرح بخیل سخت دل نہ تھا اس نے کہا کہ کیا میں نے تمہیں پہلے ہی نہیں کہا تھا کہ تم اللہ کے نام کی تسبیح کیوں نہیں کرتے، تسبیح کے لفظی معنی پاکی بیان کرنے کے ہیں، مطلب یہ ہے کہ فقراء و مساکین سے اپنا مال بچا لینے کی تدبیر کا منشاء یہ ہے کہ آپ یہ سمجھتے ہیں کہ اللہ تم کو اس کے بجائے اور نہ دے گا حالانکہ اللہ تعالیٰ اس سے پاک ہے وہ خرچ کرنے والوں کو اپنے پاس سے اور زیادہ دیتا ہے۔ (مظہری)
Ayah 68:29(آیت) قَالُوْا سُبْحٰنَ رَبِّنَآ اِنَّا كُنَّا ظٰلِمِيْنَ اس بھائی کی بات اس وقت تو کسی نے نہ سنی مگر اب سب نے اقرار کیا کہ اللہ تعالیٰ پاک ہے ہر نقص و کمی سے اور ہم ظالم ٹھہرے کہ ہم نے فقراء کے حصہ کو بھی کھا لینا چاہا۔
تنبیہ۔ یہ درمیان آدمی جس نے صحیح بات کہی تھی اگرچہ دوسروں سے بہتر تھا مگر پھر بہرحال انہیں کیساتھ ہو لیا اور انہیں کی غلط رائے پر عمل کے لئے تیار ہوگیا تھا اس لئے حشر اس کا بھی انہیں جیسا ہوا۔ اس سے معلوم ہوا کہ جو آدمی کسی گناہ سے لوگوں کو روکے مگر وہ نہ رکیں، پھر خود بھی ان کے ساتھ لگا رہے اور گناہ میں شریک رہے تو یہ بھی انہیں کے حکم میں ہوتا ہے اس کو چاہئے کہ وہ نہیں روکے تو خود اپنے آپ کو اس گناہ سے بچائے۔
Ayah 68:30فَاَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلٰي بَعْضٍ يَّتَلَاوَمُوْنَ۔ یعنی ان لوگوں نے اپنے جرم کا تو اعتراف کرلیا، لیکن اب الزام ایک دوسرے پر ڈالنے لگے کہ تو نے ہی اول ایسی غلط رائے دی تھی جس کے نتیجہ میں یہ عذاب آیا۔ حالانکہ یہ جرم انمیں سے کسی کا تنہا نہیں تھا بلکہ سب یا اکثر اس میں شریک تھے۔
تنبیہ۔ آج کل اس معاملے میں ابتلاء عام ہے کہ بہت سی جماعتوں کے مجموعی عمل کی وجہ سے کوئی ناکامی یا مصیبت پیش آجائے تو اس وقت ایک دوسرا عذاب ان پر یہ ہوتا ہے کہ اس کا الزام ایک دوسرے پر ڈالنے میں اپنا وقت ضائع کرتے ہیں۔
Ayahs 68:31–32قَالُوْا يٰوَيْلَنَآ اِنَّا كُنَّا طٰغِيْنَ ، یعنی ابتداء ایک دوسرے پر الزام ڈالنے کے بعد جب غور کیا تو پھر سب نے اقرار کرلیا کہ ہم سب ہی سرکش گناہگار ہیں یہ اعتراف ندامت کے ساتھ ان کی توبہ کے قائم مقام تھا اسی بناء پر ان کو اللہ سے یہ امید ہوئی کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اس باغ سے بہتر باغ عطا فرما دیں گے۔
امام بغوی نے حضرت عبداللہ بن مسعود سے نقل کیا ہے کہ ابن مسعوں نے فرمایا کہ مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ جب ان سب لوگوں نے سچے دل سے توبہ کرلی تو اللہ تعالیٰ نے ان کو اس سے بہتر باغ عطا فرما دیا جس کے انگوروں کے خوشے اتنے بڑے تھے کہ ایک خوشہ ایک خچر پر لادا جاتا تھا۔ (مظہری)
Ayahs 68:33–34كَذٰلِكَ الْعَذَابُ۔ اہل مکہ کے عذاب قحط کا اجمالی اور باغ والوں کے کھیت جل جانے کا تفصیلی ذکر فرمانے کے بعد عام ضابطہ ارشاد فرمایا کہ جب اللہ کا عذاب آتا ہے تو اسی طرح آیا کرتا ہے اور دنیا میں عذاب آجانے سے بھی ان کے آخرت کے عذاب کا کفارہ نہیں ہوتا بلکہ آخرت کا عذاب اس کے علاوہ اور اس سے زیادہ سخت ہوتا ہے۔
اگلی آیات میں اول نیک متقی بندوں کی جزاء کا ذکر ہے اور اس کے بعد مشرکین مکہ کے ایک اور باطل دعوے کا رد ہے۔ وہ یہ کہ کفار مکہ کرتے تھے کہ اول تو قیامت آنے والی نہیں اور دوبارہ زندہ ہو کر حساب کتاب کا قصہ سب افسانہ ہے اور اگر بالفرض ایسا ہو بھی گیا تو ہمیں وہاں بھی ایسی ہی نعمتیں اور مال و دولت ملے گا جیسا دنیا میں ملا ہوا ہے، اس کا جواب کئی آیتوں میں میں دیا گیا ہے کہ کیا اللہ تعالیٰ نیک بندوں اور مجرمین کو برابر کردیں گے یہ کیسا عجیب و غریب فیصلہ ہے جس پر نہ کوئی سند نہ دلیل نہ کسی آسمانی کتاب سے اس کا ثبوت نہ اللہ کی طرف سے کوئی وعدہ وعید کہ وہاں بھی تمہیں نعمت دے گا۔
قیامت کی ایک عقلی دلیل۔ ان آیات مذکورہ سے ثابت ہوا کہ قیامت آنا اور حساب کتاب ہونا اور نیک و بد کی جزا و سزاء یہ سب عقلاً ضروری ہے کیونکہ اس کا تو دنیا میں ہر شخص مشاہدہ کرتا ہے اور کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ دنیا میں جو عموماً فساق فجار بدکار ظالم چورا اور ڈاکو ہیں نفع میں رہتے اور مزے اڑاتے ہیں، ایک چور اور ڈاکو ایک رات میں بعض اوقات اتنا کمال یتا ہے کہ شریف نیک آدمی عمر بھر میں بھی نہ کما سکے۔ پھر وہ نہ خوف خدا و آخرت کو جانتا ہے نہ کسی شرم و حیا کا پابند ہے اپنے نفس کی خواہشات کو جس طرح چاہے پورا کرتا ہے اور نیک شریف آدمی اول تو خدا سے ڈرتا ہے وہ بھی نہ ہو تو برادری کی شرم و حیا سے مغلوب ہوتا ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ دنیا کے کارخانے میں تو بدکار بدمعاش کامیاب اور نیک شریف آدمی ناکام نظر آتا ہے اب اگر آگے بھی کوئی ایسا وقت نہ آئے جس میں حق و ناحق کا صحیح انصاف ہو نیک کو اچھا بدلہ ملے بد کو سزا ملے تو پھر اول تو کسی برائی کو برائی اور گناہ کو گناہ کہنا لغو و بےمعنے ہوجاتا ہے کہ وہ ایک انسان کو بلاوجہ اس کی خواہشات سے روکنا ہے دوسرے پھر عدل و انصاف کے کوئی معنے باقی نہیں رہتے جو لوگ خدا کے وجود کے قائل ہیں وہ اس کا کیا جواب دیں گے کہ خدا تعالیٰ کا انصاف کہاں گیا۔
رہا یہ شبہ کو دنیا میں بسا اوقات مجرم پکڑا جاتا ہے اس کی رسوائی ہوتی ہے سزا پاتا ہے شریف آدمی کا امتیاز اس سے یہیں واضح ہوجاتا ہے اور عدل و انصاف حکومتوں کے قوانین سے قائم ہوجاتا ہے۔ یہ اسلئے غلط ہے کہ اول تو ہر جگہ اور ہر حال میں حکومت کی نگرانی ہو ہی نہیں سکتی، جہاں ہوجاوے وہاں عدالتی ثبوت ہر جگہ بہم پہنچنا آسان نہیں جس کے ذریعہ مجرم سزا پا سکے اور جہاں ثبوت بھی بہم پہنچ جائے تو زور و زر اور رشوت ہر جگہ بہم پہنچنا آسان نہیں جس کے ذریعہ مجرم سزا پا سکے اور جہاں ثبوت بھی بہم پہنچ جائے تو زور و زر اور رشوت و سفارش اور دباؤ کے کتنے چور دروازے ہیں جن سے مجرم نکل بھاگتا ہے اور اس زمانے کی حکومتی اور عدالتی جرم و سزا کا جائزہل یا جائے تو اس وقت تو سزا صرف وہ بیوقوف بےعقل یا بےسہارا آدمی پاتا ہے جو ہوشیاری سے کوئی چور دروازہ نہ نکال سکے اور جس کے پاس نہ رشوت کے لئے پیسے ہوں نہ کوئی بڑا آدمی اس کا مددگار ہو یا پھر وہ اپنی بےوقوفی سے ان چیزوں کو استعمال نہ کرسکے۔ باقی سب مجرم آزاد پھرتے ہیں۔