68. Surah Al-Qalam

القلمThe Pen · 52 ayahsمعارف القرآن

Ayahs 68:35–43

اَفَنَجْعَلُ الْمُسْلِمِیْنَ كَالْمُجْرِمِیْنَؕ Open ayah 68:35 in the Quran reader

کیا ہم کردیں گے حکم برداروں کو برابر گناہ گاروں کے

مَا لَكُمْ١ٙ كَیْفَ تَحْكُمُوْنَۚ Open ayah 68:36 in the Quran reader

کیا ہوگیا تم کو کیسے ٹھہراتے ہو بات

اَمْ لَكُمْ كِتٰبٌ فِیْهِ تَدْرُسُوْنَۙ Open ayah 68:37 in the Quran reader

کیا تمہارے پاس کوئی کتاب ہے جس میں پڑھ لیتے ہو

اِنَّ لَكُمْ فِیْهِ لَمَا تَخَیَّرُوْنَۚ Open ayah 68:38 in the Quran reader

اس میں ملتا ہے تم کو جو تم پسند کرلو

اَمْ لَكُمْ اَیْمَانٌ عَلَیْنَا بَالِغَةٌ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ١ۙ اِنَّ لَكُمْ لَمَا تَحْكُمُوْنَۚ Open ayah 68:39 in the Quran reader

کیا تم نے ہم سے قسمیں لے لی ہیں ٹھیک پہنچنے والی قیامت کے دن تک کہ تم کو ملے گا جو کچھ تم ٹھہراؤ گے

سَلْهُمْ اَیُّهُمْ بِذٰلِكَ زَعِیْمٌۚۛ Open ayah 68:40 in the Quran reader

پوچھ ان سے کونسا ان میں اس کا ذمہ لیتا ہے

اَمْ لَهُمْ شُرَكَآءُ١ۛۚ فَلْیَاْتُوْا بِشُرَكَآئِهِمْ اِنْ كَانُوْا صٰدِقِیْنَ Open ayah 68:41 in the Quran reader

کیا ان کے واسطے کوئی شریک ہیں پھر تو چاہئے لے آئیں اپنے اپنے شریکوں کو اگر وہ سچے ہیں

یَوْمَ یُكْشَفُ عَنْ سَاقٍ وَّ یُدْعَوْنَ اِلَى السُّجُوْدِ فَلَا یَسْتَطِیْعُوْنَۙ Open ayah 68:42 in the Quran reader

جس دن کہ کھولی جائے پنڈلی اور وہ بلائے جائیں سجدہ کرنے کو پھر نہ کرسکیں

خَاشِعَةً اَبْصَارُهُمْ تَرْهَقُهُمْ ذِلَّةٌ١ؕ وَ قَدْ كَانُوْا یُدْعَوْنَ اِلَى السُّجُوْدِ وَ هُمْ سٰلِمُوْنَ Open ayah 68:43 in the Quran reader

جھکی پڑتی ہوں گی ان کی آنکھیں چڑھی آتی ہوئی ان پر ذلت اور پہلے ان کو بلاتے رہے سجدہ کرنے کو اور وہ تھے اچھے خاصے

قرآن کریم کے اس لفظ نے اَفَنَجْعَلُ الْمُسْلِمِيْنَ كَالْمُجْرِمِيْنَ ، اس حقیقت کو واضح کردیا کہ عقلاً یہ ہونا ضروری ہے کہ کوئی ایسا وقت آئے جہاں سب کا حساب ہو اور جہاں مجرموں کے لئے کوئی چور دروازہ نہ ہو اور جہاں انصاف ہی انصاف ہو اور نیک و بد کا کھل کر امتیاز واضح ہو اور اگر یہ نہیں ہے تو دنیا میں کوئی برا کام برا نہیں اور کوئی جرم جرم نہیں اور پھر خدائی عدل و انصاف کے کوئی معنے نہیں رہتے۔ اور جب قیامت آنا اور اعمال کی جزاء و سزا ہونا یقینی ہوگیا تو آگے کچھ اہواں قیامت اور مجرمین کی سزا کا ذکر کیا گیا ہے جس میں قیامت کے دن کشف ساق کا اعجاز بیان ہوا ہے اس کی حقیقت خلاصہ تفسیر میں آ چکی ہے۔
Ayahs 68:44–47

فَذَرْنِیْ وَ مَنْ یُّكَذِّبُ بِهٰذَا الْحَدِیْثِ١ؕ سَنَسْتَدْرِجُهُمْ مِّنْ حَیْثُ لَا یَعْلَمُوْنَۙ Open ayah 68:44 in the Quran reader

اب چھوڑ دے مجھ کو اور ان کو جو کہ جھٹلائیں اس بات کو اب ہم سیڑھی سیڑھی اتاریں گے ان کو جہاں سے ان کو پتہ بھی نہیں

وَ اُمْلِیْ لَهُمْ١ؕ اِنَّ كَیْدِیْ مَتِیْنٌ Open ayah 68:45 in the Quran reader

اور ان کو ڈھیل دیئے جاتا ہوں بیشک میرا داؤ پکا ہے

اَمْ تَسْئَلُهُمْ اَجْرًا فَهُمْ مِّنْ مَّغْرَمٍ مُّثْقَلُوْنَۚ Open ayah 68:46 in the Quran reader

کیا تو مانگتا ہے ان سے کچھ حق سو ان پر تاوان کا بوجھ پڑ رہا ہے

اَمْ عِنْدَهُمُ الْغَیْبُ فَهُمْ یَكْتُبُوْنَ Open ayah 68:47 in the Quran reader

کیا ان کے پاس خبر ہے غیب کی سو وہ لکھ لاتے ہیں

(آیت) فَذَرْنِيْ وَمَنْ يُّكَذِّبُ بِهٰذَا الْحَدِيْثِ۔ یعنی آپ اس قیامت کی بات جھٹلانے والوں کو اور مجھے چھوڑ دیں پھر دیکھیں کہ ہم کیا کرتے ہیں۔ یہاں چھوڑ دینا ایک محاورہ کے طور پر فرمایا گیا ہے مراد اس سے اللہ پر بھروسہ اور توکل کرنا ہے اور حاصل اس کلام کا یہ ہے کہ کفار کی طرف سے یہ مطالبہ بھی بار بار پیش ہوا کرتا تھا کہ اگر ہم واقعی اللہ کے نزدیک مجرم ہیں اور اللہ تعالیٰ ہمیں عذاب دینے پر قادر ہے تو پھر ہمیں عذاب ابھی کیوں نہیں دے ڈالتا ان کے ایسے دل آزار مطالبوں کی وجہ سے کبھی کبھی خود رسول اللہ ﷺ کے قلب مبارک میں بھی یہ خیال پیدا ہوتا ہوگا اور ممکن ہے کسی وقت دعا بھی کی ہو کہ ان لوگوں پر اسی وقت عذاب آجائے تو باقیماندہ لوگوں کی اصلاح کی توقع ہے اس پر یہ فرمایا گیا کہا پنی حکمت کو ہم ہی خوب جانتے ہیں ایک حد تک ان کو مہلت دیے ت ہیں فوراً عذاب نہیں بھیج دیتے اس میں ان کی آزمائش بھی ہوتی ہے اور ایمان لانے کی مہلت بھی آخر میں حضرت یونین ؑ کے واقعہ کا ذکر فرما کر آنحضرت ﷺ کو یہ نصیحت فرمائی گئی کہ جس طرح یونس ؑ نے لوگوں کے مطالبے سے تنگ آ کر عذاب کی دعا کردی اور عذاب کے آثار سامنے بھی آگئے اور یونس ؑ اس جائے عذاب سے دوسری جگہ منتقل بھی ہوگئے مگر پھر پوری قوم نے الحاج وزاری اور اخلاص کیساتھ توبہ کرلی اللہ تعالیٰ نے ان کو معافی دے دی اور عذاب ہٹا لیا تو اب یونس ؑ نے یہ شرمندگئی محسوس کی کہ میں ان لوگوں میں جھوٹا قرار پاؤں گا اس بدنامی کے خوف سے اللہ تعالیٰ کے اذن صریح کے بغیر اپنے اجتہاد سے یہ راہ اختیار کرلی کہ اب ان لوگوں میں واپس نہ جائیں، اس پر حق تعالیٰ نے ان کی تنبیہ کے لئے دریا کے سفر پھر مچھلی کے نگل جانے کا معاملہ فرمایا اور پھر یونس ؑ کے متنبہ ہو کر استغفار و معافی کی طرف متوجہ ہونے پر دوبارہ ان پر اپنے سابقہ انعامات کے دروازے کھول دیئے۔ یہ واقع ہ سورة یونس اور دوسری سورتوں میں گزر چکا ہے۔ نبی کریم ﷺ کو یہ واقعہ یاد دلا کر اس کی نصیحت فرمائی کہ آپ ان لوگوں کے ایسے مطالبہ سے مغلوب نہ ہوں اور ان پر جلدی عذاب نازل کرنے کے خواہشمند نہ ہوں اپنی حکمتوں اور عالم کی مصلحتوں کو ہم ہی جانتے ہیں ہم پر توکل کریں۔
Ayahs 68:48–50

فَاصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ وَ لَا تَكُنْ كَصَاحِبِ الْحُوْتِ١ۘ اِذْ نَادٰى وَ هُوَ مَكْظُوْمٌؕ Open ayah 68:48 in the Quran reader

اب تو استقلال سے راہ دیکھتا رہ اپنے رب کے حکم کی اور مت ہو جیسا وہ مچھلی والا جب پکارا اس نے اور وہ غصہ میں بھرا تھا

لَوْ لَاۤ اَنْ تَدٰرَكَهٗ نِعْمَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ لَنُبِذَ بِالْعَرَآءِ وَ هُوَ مَذْمُوْمٌ Open ayah 68:49 in the Quran reader

اگر نہ سنبھالتا اس کو احسان تیرے رب کا تو پھینکا گیا ہی تھا چٹیل میدان میں الزام کھا کر

فَاجْتَبٰىهُ رَبُّهٗ فَجَعَلَهٗ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 68:50 in the Quran reader

پھر نوازا اس کو اس کے رب نے پھر کردیا اس کو نیکوں میں

(آیت) وَلَا تَكُنْ كَصَاحِبِ الْحُوْتِ یہاں حضرت یونین ؑ کو صاحب حوت اسی مناسبت سے کہا گیا کہ وہ کچھ عرصہ مچھلی کے پیٹ میں رہے۔
Ayahs 68:51–52

وَ اِنْ یَّكَادُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَیُزْلِقُوْنَكَ بِاَبْصَارِهِمْ لَمَّا سَمِعُوا الذِّكْرَ وَ یَقُوْلُوْنَ اِنَّهٗ لَمَجْنُوْنٌۘ Open ayah 68:51 in the Quran reader

اور منکر تو لگ ہی رہے ہیں کہ پھسلا دیں تجھ کو اپنی نگاہوں سے جب سنتے ہیں قرآن اور کہتے ہیں وہ تو باؤلا ہے

وَ مَا هُوَ اِلَّا ذِكْرٌ لِّلْعٰلَمِیْنَ۠ Open ayah 68:52 in the Quran reader

اور یہ قرآن تو یہی نصیحت ہے سارے جہاں والوں کو۔

وَاِنْ يَّكَادُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَيُزْلِقُوْنَكَ بِاَبْصَارِهِمْ۔ لیزلقونک ازلاق سے مشتق ہے جس کے معنی لغزش دینے اور گرا دینے کے ہیں (راغب) مطلب یہ ہے کہ کفار مکہ آپ کو غضبناک اور ترچھی نگاہوں سے دیکھتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ آپ کو اپنی جگہ اور مقام سے لغزش دیدیں جبکہ وہ اللہ کا کلام سنتے ہیں اور کہنے لگتے ہیں کہ یہ تو مجنون ہے ۘوَمَا هُوَ اِلَّا ذِكْرٌ لِّلْعٰلَمِيْنَ حالانکہ یہ کلام تو تمام جہان والوں کے لئے ذکر و نصیحت اور ان کی صلاح و فلاح کا ضامن ہے ایسے کلام والا کہیں مجنوں کہا جاسکتا ہے۔ کفار کے جس طعنہ کا اس سورة کے شروع میں جواب دیا گیا تھا ختم سورة پر اسی کا ایک دوسرے انداز سے جواب دیدیا گیا۔ اور امام بغوی وغیرہ مفسرین نے ان آیات کا ایک خاص واقعہ نقل کیا ہے کہ انسان کی نظر بد لگ جانا اور اس سے کسی انسان کو نقصان اور بیماری بلکہ ہلاکت تک پہنچ جانا، جیسا کہ حقیقت ہے اور احادیث صحیحہ میں اس کا حق ہونا وارد ہے عرب میں بھی معروف و مشہور تھا اور مکہ میں ایک شخص نظر لگانے میں بڑا مشہور تھا اونٹوں یا جانوروں کو نظر لگا دیتا تو وہ فوراً مر جاتے تھے۔ کفار مکہ کو رسو اللہ ﷺ سے عداوت تو تھی ہی اور ہر طحر کی کوشش آپ کو قتلک رنے اور ایذا پہنچانے کی کیا کرتے تھے ان کو یہ سوجھی کہ اس شخص سے رسول اللہ ﷺ کو نظر لگواؤ اور اس کو بلا لائے اس نے نظر بد لگانے کی اپنی پوری کوشش کرلی مگر اللہ تعالیٰ نے آپ کی حفاظت فرمائی یہ آیات اسی سلسلے میں نازل ہوئیں اور لیزلقونک بابصارھم میں اسی نگاہ بدلگانے کو بیان فرمایا گیا ہے۔ فائدہ۔ حضرت حسن بصری سے منقول ہے کہ جس شخص کو نظر بد کسی انسان کی لگ گئی ہو اس پر یہ آیات پڑھ کر دم کردینا اس کے اثر کو زائل کردیتا ہے۔ یہ آیات وَاِنْ يَّكَادُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا سے آخرت سورت تک ہیں۔ (مظہری) تمت سورة القلم بحمد اللہ یوم الاحد لست مضین من رجب 1391 ھ