67. Surah Al-Mulk

الملكThe Sovereignty · 30 ayahsمعارف القرآن

Ayah 67:1

تَبٰرَكَ الَّذِیْ بِیَدِهِ الْمُلْكُ١٘ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرُۙ Open ayah 67:1 in the Quran reader

بڑی برکت ہے اس کی جس کے ہاتھ میں ہے راج اور وہ سب کچھ کرسکتا ہے

خلاصہ تفسیر وہ (خدا) بڑا عالیشیان ہے جس کے قبضہ میں تمام سلطنت ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے جس نے موت اور حیات کو پیدا کیا تاکہ تمہاری آزمائش کر کے تم میں کون شخص عمل میں زیادہ اچھا ہے (حسن عمل میں موت کا تو دخل یہ ہے کہ موت کی فکر سے انسان دنیا فانی اور قیامت کے اعتقاد سے آخرت کو باقی سمجھ کر وہاں کے ثواب حاصل کرنے اور وہاں کے عذاب سے بچنے کے لئے مستعد ہوسکتا ہے اور حیات کا دخل یہ ہے کہ اگر حیات نہ ہو تو عمل کس وقت کرے، پس حسن عمل کے لئے موت بمنزلہ شرط کے اور حیات بمنزلہ ظرف کے ہے اور چونکہ موت عدم محض نہیں ہے اس لئے اس پر مخلوقیت کا حکم صحیح ہے) اور وہ زبردست (اور بخشنے والا ہے (کہ اعمال غیر حسنہ پر عتاب اور اعمال حسنہ پر مغفرت وثواب مرتب فرماتا ہے) جس نے سات آسمان اوپر تلے پیدا کئے (جیسے حدیث صحیح میں ہے کہ ایک آسمان سے اوپر بفاصلہ دراز دوسرا آسمان ہے پھر اسی طرح اس سے اوپر تیسرا و علیٰ ہذا آگے آسمان کا استحکام بیان فرماتے ہیں کہ اے دیکھنے والے) تو خدا کی اس صنعت میں کوئی خلل نہ دیکھے گا سو (اب کی بار) پھر نگاہ ڈال کر دیکھ لے کہیں تجھ کو کوئی خلل نظر آتا ہے (یعنی بلاتامل تو بہت بار دیکھا ہوگا اب کی بار تامل سے نگاہ کر) پھر بار بار نگاہ ڈال کر دیکھ (آخر کار) نگاہ ذلیل اور درماندہ ہو کر تیری طرف لوٹ آوے گی (اور کوئی رخنہ نظر نہ آوے گا یعنی وہ جس چیز کو یجسا چاہے بنا سکتا ہے چناچہ آسمان کو مضبوط بنانا چاہا کہ باوجود زمان دراز گزر جانے کے اب تک اس میں کوئی خلل نہیں آیا۔ وہذا کقولہ تعالیٰ ومالھا من فروج اسی طرح کسی شئے کو ضعیف اور جلد متاثر ہونے والی بنادیا غرض اس کو ہر طرح کی قدرت ہے) اور (ہماری قدرت کی دلیل یہ ہے کہ) ہم نے قریب کے آسمان کو چراغوں (یعنی ستاروں) سے آراستہ کر رکھا ہے اور ہم نے ان (ستاروں) کو شیطانوں کے مارنے کا ذریعہ بھی بنایا ہے (جس کی حقیقت سورة حجر میں گزری ہے) اور ہم نے ان (شیاطین) کے لئے (شہاب کی مار کے عالوہ جو کہ دنیا میں ہوتا ہے آخرت میں بوجہ ان کے کفر کے) دوزخ کا عذاب (بھی) تیار کر رکھا ہے اور جو لوگ اپنے رب (کی توحید) کا انکار کرتے ہیں ان کے لئے دوزخ کا عذاب ہے اور وہ بری جگہ ہے جب یہ لوگ اس میں ڈالے جاویں گے تو اس کی ایک بڑی زور کی آواز سنیں گے اور وہ اس طرح جوش مارتی ہوگی جیسے معلوم ہوتا ہے کہ (ابھی) غصہ کے مارے پھٹ پڑے گی (یا تو اللہ تعالیٰ اس میں ادراک اور غصہ پیدا کر دے گا کہ مبغوضین حق پر اس کو بھی غیظ آوے گا اور یا مقصود تمثیل ہے یعنی جیسے کوئی غصہ سے جوش میں آتا ہے اسی طرح وہ شدت اشتعال سے جوش میں آوے گی اور) جب اس میں کوئی گروہ (کافروں کا) ڈالا جاوے گا تو اس کے محافظ ان لوگوں سے پوچھیں گے کہ کیا تمہارے پاس کوئی ڈرانے والا (پیغمبر) نہیں آیا تھا (جس نے تم کو اس عذاب سے ڈرایا ہو جس کا مقتضا یہ تھا کہ اس سے ڈرتے اور بچنے کا سامان کرتے۔ یہ سوال بطرو توبیخ ہے یعنی پیغمبر تو آئے تھے اور یہ سوال ہر نئے جانے والے گروہ سے ہوگا کیونکہ دوزخ میں حسب تفاوت مراتب کفر سب فرقے کفار کے یکے بعد دیگرے جاویں گے) وہ کافر (بطور اعتراف کے) کہیں گے کہ واقعی ہمارے پاس ڈرانے والا (پیغمبر) آیا تھا سو (ہماری شامت تھی کہ) ہم نے اس کو جھٹلا دیا اور کہہ دیا کہ خدا تعالیٰ نے (از قبیلا حکام و کتب) کچھ نازل نہیں کیا (ا ور) تم بڑی غلطی میں پڑے ہو اور (وہ کافر فرشتوں سے یہ بھی) کہیں گے کہ ہم اگر سنتے یا سمجھتے (یعنی پیغمبروں کے کہنے کو قبول کرتے اور مانتے) تو ہم اہل دوزخ میں (شامل) نہ ہوتے غرض اپنے جرم کا اقرار کریں گے سو اہل دوزخ پر لعنت ہے۔ بیشک جو لوگ اپنے پروردگار سے بےدیکھے ڈرتے ہیں (اور ایمان و اطاعت اختیار کرتے ہیں) ان کے لئے مغفرت اور اجر عظیم (مقرر) ہے اور تم لوگ خواہ چھپا کر بات کہو یا پکار کر کہو (اس کو سب خیر ہے کیونکہ) وہ دلوں کی باتوں سے خوب آگاہ ہے (اور بھلا) کیا وہ نہ جائے گا جس نے پیدا کیا ہے اور وہ باریک بین ہے۔ (اور) پورا باخبر ہے (حاصل استدلال کا یہ ہے کہ وہ ہر شئے کا خالق مختار ہے پس تمہارے احوال و اقوال کا بھی خالق ہے اور کسی چیز کی تخلیق بغیر علم کے نہیں ہو سکتی اس لئے اللہ کو ہر چیز کا علم ضروری ہوا اور تخصیص اقوال کی مقصود نہیں بلکہ حکم عام ہے افعال بھی اس میں داخل ہیں۔ تخصیص ذکری شاید اس بناء پر ہو کہ اقوال کثیر الوقوع ہیں غرض اس کو سب علم ہے وہ ہر ایک کو مناسب جزا دے گا) وہ ایسا (منعم) ہے جس نے تمہارے لئے زمین کو مخسر کردیا، (کہ تم اس میں ہر طرح کے تصرفات کرسکتے ہو) سو تم اس کے رستوں میں چلو (پھرو) اور خدا کی روزی میں سے (جو زمین میں پیدا کی ہے) کھاؤ (پیو) اور (کھا پی کر اس کو یاد رکھنا کہ) اسی کے پاس دوبارہ زندہ ہو کر جانا ہے (پس یہ اس کو مقتضی ہے کہ اس کی نعمتوں کا شکر ادا کرو جو ایمان و اطاعت ہے) کے یا تم لوگ اس سے بیخوف ہوگئے اور جو کہ آسمان میں (بھی اپنا حکم اور تصرف رکھتا) ہے کہ وہ تم کو (مثل قارون کے) زمین میں دھنسا دے پھر وہ زمین تھرتھرا (کر الٹ پلٹ ہو (نے لگے (جس سے تم اور نیچے اتر جاؤ اور زمین کے اجزاء تمہاے ر اوپر آ کر مل جاویں) یا تم لوگ اس سے بیخوف ہوگئے ہو جو کہ آسمان میں (بھی اپنا حکم اور تصرف رکھتا) ہے کہ وہ تم پر (مثل عاد کے) ایک ہوائے تند بھیجدے (جس سے تم ہلاک ہوجاؤ یعنی مقضا تمہارے کفر کا یہی ہے) سو (اگر کسی مصلحت عاد کے) ایک ہوائے تند بھیج دے (جس سے تم ہلاک ہوجاؤ یعنی مققنا تمہارے کفر کا یہی ہے) سو (اگر کسی مصلحت سے عذاب عاجل تم پر ٹل رہا ہے تو کیا ہوا) عنقریب (مرتے ہی) تم کو معلوم ہوجائے گا کہ میرا ڈرانا (َذاب سے) کیسا (واقع اور صحیح) تھا اور (اگر بدون عذاب عاجل کے کفر کا مبغوص ہونا ان کی سمجھ میں نہ آوے تو اس کا نمونہ بھی موجود ہے چنانچہ) ان سے پہلے جو لوگ ہو گزرے ہیں انہوں نے (دین حق کو) جھٹلایا تھا سو (دیکھ لو ان پر) میرا عذاب کیسا (واقع) ہوا (جس سے صاف معلوم ہوا کہ کفر مبغوض ہے پس اگر کسی مصلحت سے یہاں عذاب ٹل گیا تو در سے عالم میں حسب وعید واقع ہوگا اور اوپر خلق سبع سموت الخ میں وہ دلائل توحید بیان ہوئے جو آسمان کے متعلق ہیں پھر ھوالذی جعل لکم الارض الخ میں زمین کے متعلق چیزوں کا بیان ہوا، آگے جو یعنی فضائ آسمانی کے متعلقہ دلائل کا بیان ہے) کیا ان لوگوں نے اپنے اوپر پرندوں کی طرف نظر نہیں کہ پر پھیلائے ہوئے (اڑتے پھرتے) ہیں اور (کبھی اسی حالت میں) پر سمیٹ لیتے ہیں (اور دونوں حالتوں میں باوجود ثقیل اور وزنی ہونے کے زمین اور آسمان کی درمیانی فضا میں پھرتے رہتے ہیں زمین پر نہیں گر جاتے اور بجز (خدائے) رحمان کے ان کو کوئی تامے ہوئے نہیں ہے بیشک وہ ہر چیز کو دیکھ رہا ہے (اور جس طرح چاہے اس میں تصرف کر رہا ہے) ہاں (خدا کے تصرفات تو سن لئے اب بتلاؤ کہ) رحمٰن کے سوا وہ کون ہے کہ وہ تمہارا لشکر بن کر (آفات سے) تمہاری حفاظت کرسکے (اور) کافر (جو اپنے معبودوں کی نسبت ایسا خیال رکھتے ہیں) تو (وہ) نرے دھوکہ میں ہیں (اور) ہاں (یہ بھی بتلاؤ کہ) وہ کون ہے جو تم کو روزی پہنچاوے اگر اللہ تعالیٰ اپنی روزی بند کرلے (مگر یہ لوگ اس سے بھی متاثر نہیں ہوتے) بلکہ یہ لوگ سرکشی اور نفرت (عن الحق) پر جم رہے ہیں (خلاصہ یہ کہ تمہارے معبودات باطلہ بت وغیرہ نہ کسی مضرت کے دفع پر قادر ہیں وہو المراد بقولہ تعالیٰ ینصرکم اور نہ ایصال منافع پر قادر ہیں وہوالمراد بقولہ تعالیٰ یرزقکم پھر ان کی عبادت محض بےوقوفی ہے یعنی جس کافر کا حال اوپر سنا ہے ۭ اِنِ الْكٰفِرُوْنَ اِلَّا فِيْ غُرُوْر ۚ بَلْ لَّجُّوْا فِيْ عُتُوٍّ وَّنُفُوْر) سو (اس کو سن کر سو چو کہ) کیا جو شخص (بوجہ ناہمواری راہ کے ٹھوکریں کھاتہ و اور) منہ کے بل گرتا ہوا چل رہا ہو وہ منزل مقصود پر زیادہ پہنچنے والا ہوگا یا وہ شخص (زیادہ منزل مقصود پر پہنچنے والا ہوگا) جو سیدھا ایک ہموار سڑک پر چلا جا رہا ہو (یہی حال ہے مومن و کافر کا کہ مومن کے چلنے کا رستہ بھی دین مستقیم ہے، اور وہ چلتا بھی ہے سیدھا ہو کر افراط تفریط سے بچ کر اور کافر کے چلنے کا رستہ بھی زیغ و ضلالت کا ہے اور چلنے میں بھی ہر وقت مہالک و مخاوف میں گرتا جاتا ہے پس ایسی حالت میں کیا منزل پر پہنچے گا اور اوپر دلائل توحید متعلق آفاق کے تھے آگے متعلق انفس کے ارشاد ہیں) آپ (ان سے) کہئے کہ وہی (ایسا قادر و منعم) ہے جس نے تم کو پیدا کیا اور تم کو کان اور آنکھیں اور دل دیئے (مگر) تم لوگ بہت کم شکر کرتے ہو (اور) آپ (یہ بھی) کہئے کہ وہی ہے جس نے تم کو روئے زمین پر پھیلایا اور تم اسی کے پاس (قیامت کے روز) اکٹھے کئے جاؤ گے اور یہ لوگ (جب قیامت کا ذکر سنتے ہیں کمافی ہذا السورة من قولہ الیہ النشور ومن قولہ الیہ تحشرون تو) کہتے ہیں کہ یہ وعدہ کب ہوگا اگر تم (یعنی پیغمبر ﷺ اور آپ کے متبعین مؤ منین) سچے ہو (تو بتلاؤ) آپ (جواب میں) کہہ دیجئے کہ یہ (تعیین کا) علم تو خدا ہی کو ہے اور میں تو محض (علی الاجمال مگر) صاف صاف ڈرانے والا ہوں پھر جب اس (عذاب قیامت) کو پاس آتا ہوا دیکھیں گے (پاس آتا ہوا دیکھنا یہ کہ اعمال کا محاسبہ ہوگا دوزخ میں جانے کا حکم ہوگا جس سے متیقن ہوجائے گا کہ اب عذاب سر پر آ گیا غرض جب اس کو پاس آتا ہوا دیکھیں گے) تو (مارے غم کے) کافروں کے منہ بگڑ جاویں گے (کقولہ تعالیٰ (آیت) وجوہ یومئذ علیھا غبرة ترھقھا قترة) اور (ان سے) کہا جاوے گا یہی ہے وہ جس کو تم مانگا کرتے تھے (کہ عذاب لاؤ، عذاب لاؤ، اور یہ کفار ان مضامین حقہ توحید و بعث وغیرہ کو سن کر جو ایسی باتیں کرتے (آیت) شاعر نتربص بہ ریب المنون ان کاد لیضلنا عن الھتنا لولا ان صبرنا علیھا، جن کا حاصل انتظار آپ کی ہلاکت کا اور آپ کو نعوذ باللہ منسوب الی الضلال کرنا ہے آگے اس کے جواب کی تعلیم ہے جس میں عذاب کفار کی تقریر اور دوسرے مضامین سے اس کی تمتیم ہے ارشاد ہوتا ہے کہ) آپ (ان سے) کہئے کہ تم یہ بتئاو کہ اگر خدا تعالیٰ مجھ کو اور میرے ساتھ والوں کو (موافق تمہاری تمنا کے) ہلاک کر دے یا (ہماری امید اور اپنے وعدہ کے مطابق) ہم پر رحمت فرما دے تو (دونوں حالت میں اپنی خبر لو اور یہ بتلاؤ کہ) کافروں کو عذاب درد ناک سے کون بچا لے گا (یعنی ہماری تو جو حالت ہوگی دنیا میں ہوگی اور انجام اس کا ہر حال میں اچھا ہے کقولہ تعالیٰ (آیت) ھل تربصون بنا الا احدی الحسنین الخ مگر اپنی کہو کہ تم پر جو مصیبت عظیمہ آنے والی ہے اس کو کون روکے گا اور ہماری دنیوی حوادث سے تمہاری وہ مصیبت کیسے ٹل جاوے گی تو اپنی فکر چھوڑ کر ہمارے حوادث کا انتظار ایک فضول حرکت ہے۔ یہ جواب ہے نتربص الخ کا اور) آپ) (ان سے یہ بھی) کہئے کہ وہ بڑا مہربان ہے ہم اس پر (اس کے حکم کے موافق) ایمان لائے اور ہم اس پر توکل کرتے ہیں (پس ایمان کی برکت سے تو وہ ہم کو عذاب آخرت سے محفوظ رکھے گا اور توکل کی برکت سے حوادث دنیویہ کو دفع یا سہل کر دے گا یہ بھی نتربص کا تمتمہ جواب ہے) سو (جب تم پر عذاب الیم آنیاولا ہے اور ہم انشاء اللہ تعالیٰ ایمان کی برکت سے اس عذاب سے محفوظ رہنے والے ہیں تو) عنقریب تم کو معلوم ہوجاوے گا (جب اپنے آپ کو عذاب میں مبتلا اور ہم کو اس سے محفوظ دیکھو گے) کہ صریح گمرایہ میں کون ہے (یعنی تم ہو جیسا کہ ہم کہتے ہیں یا ہم ہیں جیسا کہ تم کہتے ہو یہ جواب ہے ان کاد لیضلنا الخ کا، آگے تقریر ہے مضمون بالا فمن یجیرالکفرین الخ کی یعنی اوپر جو کہا گیا ہے کہ تم کو عذاب الیم سے کوئی نہیں بچا سکتا، ان کو اگر اپنے الہ باطلہ کا گھمنڈ ہو کہ وہ بچا لیں گے تو اس زعم کے ابطال و ازالہ کے لئے ان سے) آپ (یہ) کہہ دیجئے کہ اچھا یہ بتئاو کہ اگر تمہارا پانی (جو کنوؤں میں ہے) نیچے کو (اتر کر) غائب ہی ہوجائے سو وہ کون ہے جو تمہارے پاس سوت کا پانی لے آئے (یعنی کنوئیں کی سوت کو جاری کر دے اور اعماق ارض سے اوپر لے آئے اور اگر کسی کو کھود لینے پر ناز ہو تو اللہ تعالیٰ اس پر قادر ہے کہ اس کو اور نیچے غائب کر دے وعلیٰ ہذا، پس جب خدا کے مقابلے میں کسی کو اتنی بھی قدرت نہیں معمولی طبعی واقعات میں تصرف کرسکے تو عذاب آخرت سے بچانے کی کیا قدرت ہوگی) معارف و مسائل فضائل سورة ملک۔ اس سورت کو حدیث میں واقعہ اور منجیہ بھی فرمایا ہے۔ واقیہ کے معنے بچانے والی اور منجیہ کے معنے نجات دینے والی، حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہی المانعتہ المنجیتہ تنجیہ من عذاب القبر، یعنی یہ سورت عذاب کو روکنے والی اور عذاب سے نجات دینے والی ہے۔ یہ اپنے پڑھنے والے کو عذاب قبر سے بچا لے گی (رواہ الترمذی و قال حدیث حسن غریب از قرطبی) اور حضرت ابن عابس سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میرا دل چاہتا ہے کہ سورة ملک ہر مومن کے دل میں ہو (ذکرہ الثعلبی) اور حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ کتاب اللہ میں ایک ایسی سورت ہے جس کی آیتیں تو صرف تیس ہیں قیامت کے روز یہ ایک شخص کی سفارش کرے گی یہاں کہ اس کو جہنم سے نکال کر جنت میں داخل کر دے گی اور وہ سورة تبارک ہے۔ (قرطبی۔ از ترمذی) تَبٰرَكَ الَّذِيْ بِيَدِهِ الْمُلْكُ ۡ وَهُوَ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرُۨ، لفظ تبارک برکت سے مشتق ہے جس کے لفظی معنے بڑھنے اور زیادہ ہونے کے ہیں یہ لفظ جب اللہ تعالیٰ کی شان میں بولا جاتا ہے تو سب سے بالاوبرتر ہونے کے معنی میں آتا ہے جیسے اللہ اکبر، بیدہ الملک، اللہ کے ہاتھ میں ہے ملک اللہ جل شانہ کے لئے قرآن کریم میں جا بجا لفظ ید بمعنے ہاتھ استعمال ہوا ہے اللہ تعالیٰ جسم اور اعضاء سے بالاوبرتر ہے۔ اسلئے یہ لفظ متشابہات میں سے ہے جس کے حق ہونے پر ایمان لانا واجب ہے اور اسکی کیفیت و حقیقت کسی کو معلوم نہیں ہو سکتی اس کے در پے ہونا درست نہیں اور ملک سے مراد آسمانوں اور زمینوں کی اور دنیا و آخرت ہے اس آیت میں حق تعالیٰ کے لئے چار صفات کا دعویٰ ہے اول اس کا موجود ہونا دوسرے انتہائی درجے کی صفات کمال کا مالک اور سب سے بالاو برتر ہونا تیسرے آسمان و زمین پر اس کی حکومت ہونا، چوتھے ہر چیز پر اس کا قادر ہونا، اگلی آیات میں اس دعوے کے دلائل ہیں جو اللہ تعالیٰ کی مخلوقات ہی میں غور و فکر کرنے سے واضح ہوتے ہیں اس لئے اگلی ایٓات میں تمام کائنات و مخلوقات کی مختلف انواع و اصناف سے اللہ تعالیٰ کے وجود اور توحید پر اور اس کے کمال علم وقدرت پر استدلال کیا گیا ہے سب سے پہلے اشرف المخلوقات انسان کے اپنے وجود میں جو دلائل قدرت ہیں ان کی طرف متوجہ فرمایا، ۙالَّذِيْ خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَيٰوةَ الخ میں اس کا بیان ہے اس کے بعد کئی آیتوں میں آسمانوں کی تخلیق میں غور و فکر سے استدلال فرمایا الَّذِيْ خَلَقَ سَبْعَ سَمٰوٰت الایتہ اس کے بعد زمین کی تخلیق اور اس کے فوائد متعلقہ میں غور و فکر کا بیان ہوا۔ ۧهُوَ الَّذِيْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ سے دو آیتوں میں فرمایا، پھر فضائے آسمانی میں رہنے والی مخلوق پرندوں کا ذکر فرمایا اَوَلَمْ يَرَوْا اِلَى الطَّيْر الخ غرض اس پوری سورت میں اصل مضمون حق تعالیٰ کے وجود اور اس کے کمال علم وقدرت پر کائنات عالم کے مشاہدہ سے دلائل پیش کرنا ہے۔ ضمنا دوسرے مضامین کفار کی سزا اور مومنین کی جزا کے بھی آگئے ہیں۔ خود انسان کے نفس میں جو دلائل اللہ تعالیٰ کے کمال علم وقدرت کے ہیں ان کی طرف دو لفظوں سے ہدایت فرمائی۔
Ayah 67:2

اِ۟لَّذِیْ خَلَقَ الْمَوْتَ وَ الْحَیٰوةَ لِیَبْلُوَكُمْ اَیُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا١ؕ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْغَفُوْرُۙ Open ayah 67:2 in the Quran reader

جس نے بنایا مرنا اور جینا تاکہ تم کو جانچے کون تم میں اچھا کرتا ہے کام اور وہ زبردست ہے بخشنے والا

موت وحیات کی حقیقت خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَيٰوةَ یعنی پیدا کیا اس نے موت اور حیات کو احوال انسانی میں سے یہاں صرف دو چیزیں موت وحیات بیان کی گئیں کیونکہ یہی دونوں انسان کے تمام عمر کے احوال و افعال پر حاوی ہیں۔ حیات کے لئے پیدا کرنے کا لفظ تو اپنی جگہ ظاہر ہے کہ حیات ایک وجودی چیز ہے تخلیق وتکوین کا اس سے متعلق ہونا ظاہر ہے لیکن موت و جو بظاہر ایک عدم کا نام ہے اس کے ساتھ تخلیق کا تعلق کس طرح ہوا، اس کے جواب میں ائمہ تفسیر سے متعدد اقوال منقول ہیں۔ سب سے زیادہ واضح بات یہ ہے کہ موت عدم محض کا نام نہیں بلکہ روح اور بدن کا تعلق منقطع کر کے روح کو ایک مکان سے دوسرے مکان میں منتقل کرنے کا نام ہے اور یہ ایک وجودی چیز ہے۔ غرض جس طرح حیات ایک حال ہے جو جسم انسانی پر طاری ہوتا ہے اسی طرح موت بھی ایک ایسا ہی حال ہے اور حضرت عبداللہ بن عباس اور بعض دوسرے ائمہ تفسیر سے جو یہ منقول ہے کہ موت وحیات دو مجسم مخلوق ہیں، موت ایک مینڈھے کی شکل میں اور حیات ایک گھوڑی کی شکل میں ہے۔ اس سے مراد بظاہر اس صحیح حدیث کا بیان ہے جس میں یہ ارشاد ہے کہ جب قیامت میں اہل جنت جنت میں اور اہل دوزخ دوزخ میں داخل ہو چکیں گے تو موت کو ایک مینڈھے کی شکل میں لایا جائے گا اور پل صراط کے پاس اس کو ذبح کر کے اعلان کردیا جائے گا کہ اب جو جس حالت میں ہے وہ دائمی اور ابدی ہے اب کسی کو موت نہیں آئے گی، مگر اس حدیث سے یہ لازم نہیں آتا کہ دنیا میں موت کوئی جسم ہو بلکہ جس طرح دنیا کے بہت سے احوال و اعمال قیامت میں مجسم اور متشکل ہوجائیں گے جو بہت سی احادیث صحیحہ سے ثابت ہے اسی طرح موت جو انسان کو پیش آنے والی ایک حالت ہے وہ بھی قیامت میں مجسم ہو کر مینڈھے کی شکل میں ذبح کردی جائے گی۔ (قرطبی) اور تفسیر مظہری میں فرمایا کہ موت اگرچہ عدمی چیز ہے مگر عدم محض نہیں، بلکہ ایسی چیز کا عدم ہے جس کو وجود میں کسی وقت آنا ہے اور ایسے تمام معدومات کی شکلیں عالم مثال میں قبل از وجود ناسوتی موجود ہوتی ہیں جن کو اعیان ثابتہ کہا جاتا ہے ان اشکال کی وجہ سے ان کو قبل الوجود بھی ایک قسم کا وجود حاصل ہغے اور عالم مثال کے موجود ہونے پر بہت سی روایات حدیث سے استدلال فرمایا ہے واللہ اعلم موت وحیات کے درجات مختلفہ۔ تفسیر مظہری میں ہے کہ حق تعالیٰ جل شانہ نے اپنی قدرت اور حکمت بالغہ سے مخلوقات و ممکنات کو مختلف اقسام میں تقسیم فرما کر ہر ایک کو حیا کی ایک قسم عطا فرمائی ہے۔ سب سے زیادہ کامل و مکمل حیات انسان کو عطا فرمائی جس میں یہ صلاحیت بھی رکھ دی کہ وہ حق تعالیٰ کی ذات وصفات کی معرفت ایک خاص حد تک حاصل کرسکے اور یہ معرفت ہی بناء تکلیف احکام شرعیہ اور وہ بار امانت ہے جس کے اٹھانے سے آسمان و زمین اور پہاڑ سب ڈر گئے اور انسان نے اپنی اس خدا داد صلاحیت کے سبب اٹھا لیا اس حیات کے مقابل وہ موت ہے جس کا ذکر قرآن کریم کی (آیت) اومن کان میتا فاحیینہ میں ذکر فرمایا ہے کہ کافر کو مردہ اور مومن کو زندہ قرار دیا گیا کیونکہ کافر نے اپنی اس معرفت کو ضائع کردیا جو انسان کی مخصوص حیات تھی، اور بعض اصناف و اقسام مخلوقات میں یہ درجہ حیات کا تو نہیں مگر حس و حرکت موجود ہے اس کے مقابل وہ موت ہے جس کا ذکر قرآن کریم کی (آیت) کنتم امواً تا فاحیاکم ثم یمیتکم ثم یحییکم میں آیا ہے کہ اس جگہ حیات سے مراد حس و حرکت اور موت سے مراد اس کا ختم ہوجانا ہے اور بعض اقسام ممکنات میں یہ حس و حرکت بھی نہیں صرف نمو (بڑھنے کی صالحیت) ہے جیسے عام درختوں اور نباتات میں اس کے بالمقابل وہ موت ہے جس کا ذکر قرآن کی (آیت) یحییٰ الارض بعد موتھا میں آیا ہے۔ حیات کی یہ تین قسمیں انسان، حیوان، نبات میں منحصر ہیں ان کے عالوہ اور کسی چیز میں یہ اقسام حیات نہیں ہیں اسی لئے حق تعالیٰ پتھروں سے بنے ہوئے بتوں کے متعلق فرمایا اموات غیر احیآء لیکن اس کے باوجود جمادات میں بھی ایک خاص حیات موجود ہے جو وجود کیساتھ لازم ہے۔ اسی حیات کا اثر ہے جس کا ذکر قرآن کریم میں ہے (آیت) وان من شیء الا یسبح بحمدہ یعنی کوئی چیز ایسی نہیں جو اللہ کی حمد کی تسبیح نہ پڑھتی ہو اور آیت میں موت کا ذکر مقدم کرنے کی وجہ بھی اس بیان سے واضح ہوگئی کہ اصل کے اعتبار سے موت ہی مقدم ہے۔ ہر چیز جو وجود میں آئی ہے پہلے موت کے عالم میں تھی بعد میں اس کو حیات عطا ہوئی ہے اس لئے موت کا ذکر مقدم کیا گیا اور یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ آگے جو موت وحیات کی تخلیق کی وجہ انسان کی آزمائش و ابتلاء کو قرار دیا ہے لِيَبْلُوَكُمْ اَيُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا یہ آزمائش یہ نسبت حیات کے موت میں زیادہ ہے۔ کیونکہ جس شخص کو اپنی موت کا استحضار ہوگا وہ اچھے اعمال کی پابندی زیادہ سے زیادہ کرے گا اور اگرچہ یہ آزمائش حیات میں بھی ہے کہ زندگی کے قدم قدم پر اس کو اپنا عجز اور اللہ تعالیٰ کے قادر مطلق ہونے کا استحضار ہوتا رہتا ہے جو حسن عمل کی طرف داعی ہے لیکن موت کی فکر اصلاح عمل اور حسن عمل میں سب سے زیادہ مؤثر ہے۔ حضرت عمار بن یاسر کی حدیث مرفوع میں ہے کفی بالموت واعظار کفی بالیقین غنی، یعنی موت و عظ کے لئے کافی ہے اور یقین غنی کے لئے (رواہ البرانی) مراد یہ ہے کہ اپنے دوستوں عزیزوں کی موت کا مشاہدہ سب سے بڑا واعظ ہے جو اس سے متاثر نہیں ہوتا اس کا دوسری چیزوں سے متاثر ہونا مشکل ہے اور جس کو اللہ نے ایمان یقین کی دولت عطا فرمائی اس کی برابر کوئی غنی و بےنیاز نہیں اور ربیع بن انس نے فرمایا کہ موت انسان کو دنیا سے بیزار کرنے اور آخرت کی طرف رغبت دینے کے لئے کافی ہے۔ احسن عملاً یہاں یہ بات قابل نظر ہے کہ انسان کی اس آزمائش میں جو اس کی موت وحیات سے وابستہ ہے حق تعالیٰ نے یہ فرمایا کہ ہم یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ تم میں سے کس کا عمل اچھا ہے۔ یہ نہیں فرمایا کہ کس کا عمل زیادہ ہے اس سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک کسی عمل کی مقدار کا زیادہ ہونا قابل توجہ نہیں بلکہ عمل کا اچھا اور صحیح و مقبول ہونا معتبر ہے اسی لئے قیامت میں انسان کے اعمال کو گنا نہیں جائے گا بلکہ تولا جائے گا جس میں بعض ایک ہی عمل کا وزن ہزاروں اعمال سے بڑھ جائے گا۔ حسن عمل کیا ہے۔ حضرت ابن عمر نے فرمایا کہ نبی کریم ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی یہاں تک کہ احسن عملاً تک پہنچے تو فرمایا کہ (احسن عملاً) وہ شخص ہے جو اللہ کی حرام کی ہوئی چیزوں سے سب سے زیادہ پرہیز کرنے والا ہو اور اللہ کی اطاعت میں ہر وقت مستعد و تیار ہو (قرطبی)
Ayahs 67:3–4

الَّذِیْ خَلَقَ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ طِبَاقًا١ؕ مَا تَرٰى فِیْ خَلْقِ الرَّحْمٰنِ مِنْ تَفٰوُتٍ١ؕ فَارْجِعِ الْبَصَرَ١ۙ هَلْ تَرٰى مِنْ فُطُوْرٍ Open ayah 67:3 in the Quran reader

جس نے بنائے سات آسمان تہ پر تہ کیا دیکھتا ہے تو رحمن کے بنانے میں کچھ فرق پھر دوبارہ نگاہ کر کہیں نظر آتی ہے تجھ کو دراڑ

ثُمَّ ارْجِعِ الْبَصَرَ كَرَّتَیْنِ یَنْقَلِبْ اِلَیْكَ الْبَصَرُ خَاسِئًا وَّ هُوَ حَسِیْرٌ Open ayah 67:4 in the Quran reader

پھر لوٹا کر نگاہ کردو دو بار لوٹ آئے گی تیرے پاس تیری نگاہ رد ہو کر تھک کر

(آیت) فَارْجِعِ الْبَصَرَ ۙ هَلْ تَرٰى مِنْ فُطُوْرٍ ، اس آیت سے ظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ دنیا والے آسمان کو آنکھوں سے دیکھ سکتے ہیں اور یہ ضروری نہیں کہ نیلگوں فضا جو دکھائی دیتی ہے یہی آسمان ہو بلکہ ہوسکتا ہے آسمان اس سے بہت اوپر ہو اور یہ نیلگوں رنگ ہوا اور فضا کا ہو جیسا کہ فلاسفہ کہتے ہیں مگر اس سے یہ بھی لازم نہیں آتا کہ آسمان انسان کو نظر ہی نہ آئے، ہوسکتا ہے کہ یہ نیلگوں فضا شفاف ہونے کے سب اصل آسمان کو جو اس سے بہت اوپر ہے دیکھنے میں مانع نہ ہو اور اگر کسی دلیل سے یہ ثابت ہوجائے کہ دنیا میں رہتے ہوئے آسمان کو آنکھ سے نہیں دیکھا جاسکتا تو پھر اس آیت میں رویت سے مراد رویت عقلی یعنی غرو و فکر ہوگا (بیان القرآن)
Ayahs 67:5–14

وَ لَقَدْ زَیَّنَّا السَّمَآءَ الدُّنْیَا بِمَصَابِیْحَ وَ جَعَلْنٰهَا رُجُوْمًا لِّلشَّیٰطِیْنِ وَ اَعْتَدْنَا لَهُمْ عَذَابَ السَّعِیْرِ Open ayah 67:5 in the Quran reader

اور ہم نے رونق دی سب سے ورلے آسمان کو چراغوں سے اور ان سے کر رکھی ہے ہم نے پھینک مار شیطانوں کے واسطے اور رکھا ہے اس کے واسطے عذاب دہکتی آگ کا

وَ لِلَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِرَبِّهِمْ عَذَابُ جَهَنَّمَ١ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ Open ayah 67:6 in the Quran reader

اور جو لوگ منکر ہوئے اپنے رب سے ان کے واسطے ہے عذاب دوزخ کا اور بری جگہ جا پہنچے

اِذَاۤ اُلْقُوْا فِیْهَا سَمِعُوْا لَهَا شَهِیْقًا وَّ هِیَ تَفُوْرُۙ Open ayah 67:7 in the Quran reader

جب اس میں ڈالے جائیں گے سنیں گے اس کا دہاڑنا اور وہ اچھل رہی ہوگی

تَكَادُ تَمَیَّزُ مِنَ الْغَیْظِ١ؕ كُلَّمَاۤ اُلْقِیَ فِیْهَا فَوْجٌ سَاَلَهُمْ خَزَنَتُهَاۤ اَلَمْ یَاْتِكُمْ نَذِیْرٌ Open ayah 67:8 in the Quran reader

ایسا لگتا ہے کہ پھٹ پڑے گی جوش سے جس وقت پڑے اس میں ایک گروہ پوچھیں ان سے دوزخ کے داروغہ کیا نہ پہنچا تھا تمہارے پاس کوئی ڈر سنانے والا

قَالُوْا بَلٰى قَدْ جَآءَنَا نَذِیْرٌ١ۙ۬ فَكَذَّبْنَا وَ قُلْنَا مَا نَزَّلَ اللّٰهُ مِنْ شَیْءٍ١ۖۚ اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا فِیْ ضَلٰلٍ كَبِیْرٍ Open ayah 67:9 in the Quran reader

وہ بولیں کیوں نہیں ہمارے پاس پہنچا تھا ڈر سنانے والا پھر ہم نے جھٹلایا اور کہا نہیں اتاری اللہ نے کوئی چیز تم تو پڑے ہوئے ہو بڑے بہکاوے میں

وَ قَالُوْا لَوْ كُنَّا نَسْمَعُ اَوْ نَعْقِلُ مَا كُنَّا فِیْۤ اَصْحٰبِ السَّعِیْرِ Open ayah 67:10 in the Quran reader

اور کہیں گے اگر ہم ہوتے سنتے یا سمجھتے تو نہ ہوتے دوزخ والوں میں

فَاعْتَرَفُوْا بِذَنْۢبِهِمْ١ۚ فَسُحْقًا لِّاَصْحٰبِ السَّعِیْرِ Open ayah 67:11 in the Quran reader

سو قائل ہوگئے اپنے گناہ کے اب دفع ہوجائیں دوزخ والے

اِنَّ الَّذِیْنَ یَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَیْبِ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ اَجْرٌ كَبِیْرٌ Open ayah 67:12 in the Quran reader

جو لوگ ڈرتے ہیں اپنے رب سے بن دیکھے ان کے لئے معافی ہے اور ثواب بڑا

وَ اَسِرُّوْا قَوْلَكُمْ اَوِ اجْهَرُوْا بِهٖ١ؕ اِنَّهٗ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 67:13 in the Quran reader

اور تم چھپا کر کہو اپنی بات یا کھول کر اور خوب جانتا ہے جیوں کے بھید

اَلَا یَعْلَمُ مَنْ خَلَقَ١ؕ وَ هُوَ اللَّطِیْفُ الْخَبِیْرُ۠ Open ayah 67:14 in the Quran reader

بھلا وہ نہ جانے جس نے بنایا اور وہی ہے بھید جاننے والا خبر دار

(آیت) وَلَقَدْ زَيَّنَّا السَّمَاۗءَ الدُّنْيَا بِمَصَابِيْحَ وَجَعَلْنٰهَا رُجُوْمًا لِّلشَّـيٰطِيْنِ ، مصابیح سے مراد ستارے ہیں اور نیچے کے آسمان کو ستاروں سے مزین کرنے کے لئے یہ ضروری نہیں کہ ستارے آسمان کے اندر یا اس کے اوپر لگے ہوئے ہوں بلکہ یہ تزیین اس صورت میں بھی صادق ہے جبکہ ستارے آسمان سے بہت نیچے خلا میں ہوں جیسا کہ تحقیق جدید سے اس کا مشاہدہ ہو رہا ہے یہ اس کے منافی نہیں اور ستاروں کو شیاطین کے دفع کرنے کے لئے انگارے بنا دینے کا یہ مطلب ہوسکتا ہے کہ ستاروں میں سے کوئی مادہ آتشیں ان کی طرف چھوڑ دیا جاتا ہو ستارے اپنی جگہ رہتے ہوں، عوام کی نظر میں چونکہ یہ شعلہ ستارہ کی طحر حرکت کرتا ہوا نظر آتا ہے اسلئے اس کو ستارہ ٹوٹنا اور عربی میں انقضاض الکوب کہہ دیتے ہیں (قرطبی) اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ شیاطین جو آسمانی خبریں چرانے کے لئے چڑھتے ہیں وہ کواکب اور ستاروں سے نیچے ہی دفع کردیئے جاتے ہیں (قرطبی) یہاں تک مختلف مخلوقات میں غور و فکر کے ذریعہ حق تعالیٰ کے کمال علم وقدرت کے دلائل بیان ہوئے آگے منکرین اور کفار کا عذاب اور پھر مؤمنین اور اطاعت شعار لوگوں کا ثواب بیان ہوا ہے وَلِلَّذِيْنَ كَفَرُوْا بِرَبِّهِمْ عَذَابُ جَهَنَّم سے سات آیتوں تک یہ مضمون چلا ہے۔ آگے پھر وہی علم وقدرت کا بیان ہے۔
Ayah 67:15

هُوَ الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ ذَلُوْلًا فَامْشُوْا فِیْ مَنَاكِبِهَا وَ كُلُوْا مِنْ رِّزْقِهٖ١ؕ وَ اِلَیْهِ النُّشُوْرُ Open ayah 67:15 in the Quran reader

وہی ہے جس نے کیا تمہارے آگے زمین کو پست اب چلو پھر و اس کے کندھوں پر اور کھاؤ کچھ اس کی دی ہوئی روزی اور اسی کی طرف جی اٹھنا ہے

(آیت) هُوَ الَّذِيْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ ذَلُوْلًا۔ ذلول کے لفظی معنی منقاد و مطیع کے ہیں اس جانور کو ذلول کہا جاتا ہے جو سواری دینے میں شوخی نہ کرے۔ مناکب، منکب کی جمع ہے مونڈھے کو کہتے ہیں۔ کسی بھیج انور کا مونڈھا سواری کی جگہ نہیں ہوتی بلکہ اسکی کمر یا گردن ہوتی جو جانور سوار ہونے والوں کے لئے اپنے مونڈھے بھی پیش کردے وہ بہت ہی مطیع و منقاد اور مسخر ہو سکتا ہے اس لئے فرمایا کہ زمین کو تمہارے لئے ہم نے ایسا مخسرو مطیع بنادیا ہے کہ تم اس کے مونڈھیوں پر چڑھتے پھرو۔ زمین کو حق تعالیٰ نے ایک ایسا قوام بخشا ہے کہ نہ تو پانی کیر طح سیال اور بہنے والا ہے نہ روئی اور کیچڑ کی طرح دبنے والا، کیونکہ زمین ایسی ہوتی تو اس پر کسی انسان کا رہنا ٹھہرنا ناممکن نہ ہوتا اسی طرح زمین کو لہوے پتھر کی طرح سخت بھی نہیں بنایا اگر ایسا ہوتا تو اس میں درخت اور کھیتی نہ بوئی جاسکتی اس میں کنوئیں اور نہریں نہ کھودی جا سکتیں اس کو کھود کر اونچی عمارتوں کی بنیاد نہ رکھی جاسکتی، اس قوام کے ساتھ اس کو ایسا سکون بخشا کہ اس پر عمارتیں ٹھہر سکیں چلنے پھرنے والوں کو لغزش نہ ہو۔ وَكُلُوْا مِنْ رِّزْقِهٖ ۭ وَاِلَيْهِ النُّشُوْرُ پہلے زمین کے اطراف میں چلنے پھرنے کی ہدایت فرمائی اس کے بعد فرمایا کہ اللہ کا رزق کھاؤ اس میں اشارہ ہو سکتا ہے کہ تجارت کے لئے سفر اور مال کی درآمد برآمد اللہ کے رزق کا دروازہ ہے الیہ النشور میں مبتلا دیا کہ کھانے پینے رہنے سہنے کے فوائد زمین سے حاصل کرنے کی اجازت ہے مگر موت اور آخرت سے بےفکر نہ رہو کہ انجام کار اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔ زمین پر رہتے ہوئے آخرت کی تیاری میں لگے رہو۔ اس میں تو اس بات سے ڈرایا گیا تھا کہ آخر کار قیامت میں اللہ کی طرف لوٹنا ہے، آگے اس پر تنبیہ کی گئی ہے کہ زمین پر رہنے بسنے کے وقت بھی اللہ کا عذاب آسکتا ہے
Ayah 67:16

ءَاَمِنْتُمْ مَّنْ فِی السَّمَآءِ اَنْ یَّخْسِفَ بِكُمُ الْاَرْضَ فَاِذَا هِیَ تَمُوْرُۙ Open ayah 67:16 in the Quran reader

کیا تم نڈر ہوگئے اس سے جو آسمان میں ہے اس سے کہ دھنسا دے تم کو زمین میں پھر تبھی وہ لرزنے لگے

ارشاد فرمایا، (آیت) ءَاَمِنْتُمْ مَّنْ فِي السَّمَاۗءِ اَنْ يَّخْسِفَ بِكُمُ الْاَرْضَ فَاِذَا هِيَ تَمُوْرُ ، کیا تم اس سے بےخوف ہو کہ آسمان والات م ہیں زمین کے اندر خسف کر کے دھنسا دے اور زمین تمہیں نگل جائے یعنی اگرچہ اللہ نے زمین کو ایسا معتدل قوام دیا ہے کہ آدمی بغیر کھودے ہوئے اس کے اندر نہیں اتر سکتا، لیکن وہ اس پر بھی قادر ہے کہ اس کو ایسا بنا دے کہ یہی زمین اپنے اوپر رہنے اولوں کو نگلج ائے، اس کے بعد نیا میں بسنے والوں کو ایک اور طرح کے عذاب سے ڈرایا کہ اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو تمہارے اوپر یعنی آسمان سے پتھر بھی برسا کر تمہیں ہلاک کیا جاسکتا ہے۔ اللہ کے منکر اور نافرمان دنیا میں اس سے بےفکر ہو کر نہ بیٹھیں۔
Ayahs 67:17–18

اَمْ اَمِنْتُمْ مَّنْ فِی السَّمَآءِ اَنْ یُّرْسِلَ عَلَیْكُمْ حَاصِبًا١ؕ فَسَتَعْلَمُوْنَ كَیْفَ نَذِیْرِ Open ayah 67:17 in the Quran reader

یا نڈر ہوگئے ہو اس سے جو آسمان میں ہے اس بات سے کہ برسا دے تم کو مینہ پتھروں کا سو جان لو گے کیسا ہے میرا ڈرانا

وَ لَقَدْ كَذَّبَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَكَیْفَ كَانَ نَكِیْرِ Open ayah 67:18 in the Quran reader

اور جھٹلا چکے ہیں جو ان سے پہلے تھے پھر کیسا ہوا میرا انکار

اَمْ اَمِنْتُمْ مَّنْ فِي السَّمَاۗءِ اَنْ يُّرْسِلَ عَلَيْكُمْ حَاصِبًا ۭ فَسَتَعْلَمُوْنَ كَيْفَ نَذِيْرِ۔ یعنی کیا تم اس سے بےخوف ہو کہ آسمان والا تم پر آسمان سے پتھر برسا دے، اس وقت تمہیں اس ڈرانے کا انجام معلوم ہوگا کہ اس وقت معلوم ہونا بےسود ہوگا آج جبکہ تم صحیح سالم محفوظ ومامون ہو اس کی فکر کرو اس کے بعد پچھلی ان قوموں کے واقعات کی طرف اشارہ کیا جن پر دنیا میں عذاب الٰہی نازل ہوا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ان کے حال سے عبرت حاصل کرو ولقد کذب الذین من قبلھم فکیف کان تکبر کا یہی مطلب ہے اس کے بعد پھر اصل مضمون سورت کی طرف رجوع ہے کہ ممکنات و مخلوقات کے حالات سے حق تعالیٰ کی توحید اور علم وقدرت پر استدلال ہے خود انسان کے نفوس، آسمان، ستارے، زمین وغیرہ کے حالات کا بیان پہلے آ چکا ہے آگے ان پرندوں کا ذکر ہے جو فضاء آسمانی میں اڑتے پھرتے ہیں۔
Ayah 67:19

اَوَ لَمْ یَرَوْا اِلَى الطَّیْرِ فَوْقَهُمْ صٰٓفّٰتٍ وَّ یَقْبِضْنَ١ؕۘؔ مَا یُمْسِكُهُنَّ اِلَّا الرَّحْمٰنُ١ؕ اِنَّهٗ بِكُلِّ شَیْءٍۭ بَصِیْرٌ Open ayah 67:19 in the Quran reader

اور کیا نہیں دیکھتے ہو اڑتے جانوروں کو اپنے اوپر پر کھولے ہوئے اور پر جھپکتے ہوئے ان کو کوئی نہیں تھام رہا رحمن کے سوائے اس کی نگاہ میں ہے ہر چیز

(آیت) اَوَلَمْ يَرَوْا اِلَى الطَّيْرِ الآیتہ، یعنی کیا وہ پرندوں کو اپنے سروں پر اڑتے ہوئے نہیں دیکھتے جو کبھی اپنے بازؤں کو پھیلا دیتے ہیں اور بکھی سیمٹ لیتے ہیں۔ ان میں غور کرو کہ یہ وزنی جسم میں عام قاعدہ کیر و سے وزنی جسم جب اوپر چھوڑا جائے تو اسے زمین پر گجانا چاہئے ہو ان وزنی جسموں کو عام طور پر نہیں روک سکتی مگر اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کاملہ سے ان پرندوں جانوروں کو ایسی وضع پر بنایا ہے کہ وہ ہوا پر ٹھہر سکیں اور ہوا پر اپنے جسام کا بوجھ ڈالنے اور اس میں تیرتے ہوئے پھرنے کے لئے حق تعالیٰ نے اس بظاہر بےعقل و شعور جانور کو یہ سلیقہ سکھا دیا ہے کہ وہ اپنے پروں کو پھیلانے اور سمیٹنے کے ذریعہ ہوا کو مسخر کرلیتا ہے اور ظاہر ہے کہ ہوا میں یہ صلاحیت پیدا کرنا، پرندوں کے پروں کو اس وضع پر بنانا پھر ان کو اپنے پروں کے ذریعہ ہوا پر کنٹرول کرنے کا سلیقہ سکھانا یہ سب حق تعالیٰ ہی کی قدرت کاملہ سے ہے۔ یہاں تک ممکنات و موجودات کی مختلف اصناف کے حالات میں غور و فکر کے ذریعہ حق تعالیٰ کے وجود اور توحید اور بےنظیر علم وق درت کے دلائل جمع فرمائے گئے جن میں ذرا بھی غرو و فکر کرنیوالے کو حق تعالیٰ پر ایمان لانے کے سوا چارہ نہیں رہتا، آگے ختم سورت تک کفار و فجار منکرین اور بدعمل لوگوں کو عذاب الٰہی سے ڈرایا گیا ہے۔ پہلے اس پر تنبیہ کی گئی کہ اگر اللہ تعالیٰ کسی قوم پر عذاب نازل کرنا چاہیں تو دنیا کی کوئی طاقت اس کو نہیں روک سکتی، تمہارے لشکر اور سپاہی اس سے تم کو نہیں بچا سکتے،
Ayah 67:20

اَمَّنْ هٰذَا الَّذِیْ هُوَ جُنْدٌ لَّكُمْ یَنْصُرُكُمْ مِّنْ دُوْنِ الرَّحْمٰنِ١ؕ اِنِ الْكٰفِرُوْنَ اِلَّا فِیْ غُرُوْرٍۚ Open ayah 67:20 in the Quran reader

بھلا وہ کون ہے جو فوج ہے تمہاری مدد کرے تمہاری رحمن کے سوائے منکر پڑے ہیں برے بہکائے میں

چناچہ ارشاد فرمایا۔ (آیت) اَمَّنْ هٰذَا الَّذِيْ هُوَ جُنْدٌ لَّكُمْ يَنْصُرُكُمْ مِّنْ دُوْنِ الرَّحْمٰنِ ۭ اِنِ الْكٰفِرُوْنَ اِلَّا فِيْ غُرُوْرٍ۔ اس کے بعد اس کے ڈرایا گیا کہ اللہ تعالیٰ کا جو رزق تم کو آسمان سے پانی برسنے و اور زمین سے نباتا اگانے کے ذریعہ مل رہا ہے یہ کوئی تمہاری ذاتی جاگیر نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی عطا و بخشش ہے وہ اس کو روک بھی سکتا ہے۔
Ayah 67:21

اَمَّنْ هٰذَا الَّذِیْ یَرْزُقُكُمْ اِنْ اَمْسَكَ رِزْقَهٗ١ۚ بَلْ لَّجُّوْا فِیْ عُتُوٍّ وَّ نُفُوْرٍ Open ayah 67:21 in the Quran reader

بھلا وہ کون ہے جو روزی دے تم کو اگر وہ رکھ چھوڑے اپنی روزی کوئی نہیں پر اڑ رہے ہیں شرارت اور بدکنے پر

(آیت) اَمَّنْ هٰذَا الَّذِيْ يَرْزُقُكُمْ اِنْ اَمْسَكَ رِزْقَهٗ کا یہی مطلب ہے۔ آگے کفار کے حال پر افسوس ہے جو نہ آیات قدرت میں خود غور کرتے ہیں نہ دوسرے بتانے والوں کی بات سنتے ہیں ۚ بَلْ لَّجُّوْا فِيْ عُتُوٍّ وَّنُفُوْر یعنی یہ لوگ برابر اپنی سرکشی اور حق سے دوری میں بڑھتے ہی جاتے ہیں۔ آگے میدان قیامت میں کافرو مومن کا جو حال ہونا ہے اس کا ذکر ہے کہ قیامت کے میدان میں کفار اس طرح حاضر کئے جاویں گے کہ پاؤں پر چلنے کے بجائے سر کے بل چلیں گے۔ صحیح بخایر و مسلم میں حضرت انس کی روایت ہے کہ صحابہ کرام نے سوال کیا کہ کفار چہرے کے بل کیسے چلیں گے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ سج ذات نے ان کو پیروں پر چلایا ہے کیا وہ اس پر قادر نہیں کہ ان کو چہروں اور سروں کے بل چلا دے اسی کو اگلی آیت میں بیان فرمایا ہے۔
Ayah 67:22

اَفَمَنْ یَّمْشِیْ مُكِبًّا عَلٰى وَجْهِهٖۤ اَهْدٰۤى اَمَّنْ یَّمْشِیْ سَوِیًّا عَلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 67:22 in the Quran reader

بھلا ایک جو چلے اوندھا اپنے منہ کے بل وہ سیدھی راہ پائے یا وہ شخص جو چلے سیدھا ایک سیدھی راہ پر

(آیت) اَفَمَنْ يَّمْشِيْ مُكِبًّا عَلٰي وَجْهِهٖٓ اَهْدٰٓى اَمَّنْ يَّمْشِيْ سَوِيًّا عَلٰي صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍ ، یعنی کیا وہ آدمی جو اوندھا اپنے چہرہ کے بل چلے زیادہ ہدایت پانے والا ہے یا وہ جو سیدھا چلنے والا ہے۔ سیدھا چلنے والے سے مراد مومن ہے کہ ہدایت یافتہ وہی ہوسکتا ہے۔ آگے پھر انسانی تخلیق میں حق تعالیٰ کی قدرت و حکمت کے چند مظاہر کا بیان ہے۔
Ayahs 67:23–29

قُلْ هُوَ الَّذِیْۤ اَنْشَاَكُمْ وَ جَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَ الْاَبْصَارَ وَ الْاَفْئِدَةَ١ؕ قَلِیْلًا مَّا تَشْكُرُوْنَ Open ayah 67:23 in the Quran reader

تو کہہ وہی ہے جس نے تم کو بنا کھڑا کیا اور بنا دیئے تمہارے واسطے کان اور آنکھیں اور دل تم بہت تھوڑا حق مانتے ہو

قُلْ هُوَ الَّذِیْ ذَرَاَكُمْ فِی الْاَرْضِ وَ اِلَیْهِ تُحْشَرُوْنَ Open ayah 67:24 in the Quran reader

تو کہہ وہی ہے جس نے بکھیر دیا تم کو زمین میں اور اسی کی طرف اکٹھے کئے جاؤ گے

وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 67:25 in the Quran reader

اور کہتے ہیں کب ہوگا یہ وعدہ اگر تم سچے ہو

قُلْ اِنَّمَا الْعِلْمُ عِنْدَ اللّٰهِ١۪ وَ اِنَّمَاۤ اَنَا نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 67:26 in the Quran reader

تو کہہ خبر تو ہے اللہ ہی کے پاس اور میرا کام تو یہی ڈر سنا دینا ہے

فَلَمَّا رَاَوْهُ زُلْفَةً سِیْٓئَتْ وُجُوْهُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ قِیْلَ هٰذَا الَّذِیْ كُنْتُمْ بِهٖ تَدَّعُوْنَ Open ayah 67:27 in the Quran reader

کھول کر پھر جب دیکھیں گے کہ وہ پاس آ لگا تو بگڑ جائیں گے منہ منکروں کے اور کہے گا یہی ہے جس کو تم مانگتے تھے

قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ اَهْلَكَنِیَ اللّٰهُ وَ مَنْ مَّعِیَ اَوْ رَحِمَنَا١ۙ فَمَنْ یُّجِیْرُ الْكٰفِرِیْنَ مِنْ عَذَابٍ اَلِیْمٍ Open ayah 67:28 in the Quran reader

تو کہہ بھلا دیکھو تو اگر ہلاک کر دے مجھ کو اللہ اور میرے ساتھ والوں کو یا ہم پر رحم کرے پھر وہ کون ہے جو بچائے منکروں کو عذاب درد ناک سے

قُلْ هُوَ الرَّحْمٰنُ اٰمَنَّا بِهٖ وَ عَلَیْهِ تَوَكَّلْنَا١ۚ فَسَتَعْلَمُوْنَ مَنْ هُوَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 67:29 in the Quran reader

تو کہہ وہی رحمن ہے ہم نے اس کو مانا اور اسی پر بھروسہ کیا سو اب تم جان لوگے کون پڑا ہے صریح بہکائے میں

(آیت) قُلْ هُوَ الَّذِيْٓ اَنْشَاَكُمْ وَجَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَالْاَبْصَارَ وَالْاَفْــِٕدَةَ ۭ قَلِيْلًا مَّا تَشْكُرُوْنَ ، یعنی آپ کہہ دیجئے کہا للہ ہی وہ ذات ہے جس نے تمہیں پیدا کیا اور تمہارے کان، آنکھیں اور دل بنائے مگر تم لوگ شکر گزار نہیں ہوتے۔ سمع و بصر اور قلب کی تخصیص۔ اس میں اعضائے انسانی میں سے ان تین اعضاء کا ذکر ہے جن پر علم و ادراک اور شعرو موقوف ہے۔ فالسفہ نے علم و ادراک کے پانچ ذریعہ بیان کئے ہیں جن کو حواس خمسہ کہا جاتا ہے۔ یعنی سننا، دیکھنا، سونگھنا، چکھنا اور چھوٹا، سونگھنے کے لئے ناک اور چکھنے کے لئے زبان اور چھونے کی قوت سارے بدن میں حق تعالیٰ نے رکھی ہے۔ سننے کے لئے کان اور دیکھنے کے لئے آنکھ بنائی ہے یہاں حق تعالیٰ نے ان پانچوں چیزوں میں سے صرف دو کا ذکر کیا ہے یعنی کان اور آنکھ، وجہ یہ ہے کہ سونگھتے چکھنے اور چھونے سے بہت کم چیزوں کا علم انسان کو حاصل ہوتا ہے اس کے معلومات کا بڑا مدار سننے اور دیکھنے پر ہے اور ان میں سے بھی سننے کو مقدم کیا گیا غور کرو تو معلوم ہوگا کہ انسان کو اپنی عمر میں جتنی معلومات ہوئی ہیں۔ ان میں سنی ہوئی چیزیں بہ نسبت دیکھی ہوئی چیزوں کے بدر جہا زائد ہوتی ہیں اس لئے اس جگہ حواس خمسہ میں سے صرف دو پر اکتفا کیا گیا ہے کہ وہ اصل بنیاد اور مرکز علم کا ہے۔ کانوں سے سنی ہوئی اور آنکھوں سے دیکھی ہوئی چیزوں اک علم بھی قلب پر موقوف ہے۔ قرآن کریم کی بہت سی آیات اس پر شاہد ہیں کہ قلب کو مرکز علم قرار دیا ہے۔ بخلاف فلاسفہ کے کہ وہ دماغ کو اس کا مرکز مانتے ہیں۔ اس کے بعد پھر کفار و منکرین کو تنبیہ اور عذاب کی وعید کا بیان ہے۔ آخر سورت میں پھر ایک جملہ میں یہ ارشاد فرمایا کہ زمین پر بسنے والو اور اس کو کھود کر کنوئیں بنانے والو اور اس کے پانی سے اپنے پینے پلانے اور نباتات اگانے کا کام لینے الو اس بات کو نہ بھولو کہ یہ سب چیزیں کوئی تمہاری ذاتی جاگیر نہیں صرف حق تعالیٰ کا عطیہ ہے کہ اس نے پانی برسایا اور اس پانی کو برف کی شکل میں بحر منجمد بنا کر پہاڑوں کی چوٹیوں پر لاد دیا کہ سڑنے اور خراب ہونے سے محفوظ رہے پھر اس برف کو آہستہ آہستہ پگھلا کر پہاڑوں کی عروق کے ذریعہ زمین کے اندر اتار دیا اور بغیر کسی پائپ لائن کے پوری زمین میں اس کا ایسا جال پھیلا دیا کہ جہاں چاہو زمین کھود کر پانی نکال لو مگر یہ پانی جو اس نے زمین کی اوپر ہی کی سطح پر رکھ دیا ہے جس کو چند فٹ یا گز زمین کھود کر نکالا جاسکتا ہے یہ مالک و خالق کا عطیہ ہے اگر وہ چاہے تو اس پانی کو زمین کے نیچے کی سطح پر اتار دے جہاں تک تمہاری رسائی ممکن نہ ہو۔
Ayah 67:30

قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ اَصْبَحَ مَآؤُكُمْ غَوْرًا فَمَنْ یَّاْتِیْكُمْ بِمَآءٍ مَّعِیْنٍ۠ Open ayah 67:30 in the Quran reader

تو کہہ بھلا دیکھو تو اگر ہوجائے صبح کو پانی تمہارا خشک پھر کون ہے جو لائے تمہارے پاس پانی نتھرا۔

قُلْ اَرَءَيْتُمْ اِنْ اَصْبَحَ مَاۗؤُكُمْ غَوْرًا فَمَنْ يَّاْتِيْكُمْ بِمَاۗءٍ مَّعِيْنٍ۔ یعنی آپ ان لوگوں کو بتلادیجئے کہ اس بات پر غور کریں کہ جو پانی کنوؤں کے ذریعہ با آسانی نکال کر پی رہے ہو اگر وہ پانی زمین کی گہرائی میں اتر جائے تو تمہاری کونسی طاقت ہے جو اس جاری پانی کو حاصل کر کسے۔ حدیث میں ہے کہ جب آدمی یہ آیت تلاوت کرے تو اس کو کہنا چاہے اللہ رب العاملین یعنی اللہ رب العالمین ہی پھر اس کو لا سکتا ہے ہماری کسی کی طاقت نہیں۔ تمت سورة الملک بحمد اللہ فی ثالث رجب 1391 ھ یوم الخمیس