66. Surah At-Tahrim

التحريمThe Prohibition · 12 ayahsمعارف القرآن

Ayah 66:1

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَاۤ اَحَلَّ اللّٰهُ لَكَ١ۚ تَبْتَغِیْ مَرْضَاتَ اَزْوَاجِكَ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 66:1 in the Quran reader

اے نبی تو کیوں حرام کرتا ہے جو حلال کیا اللہ نے تجھ پر چاہتا ہے تو رضا مندی اپنی عورتوں کی اور اللہ بخشنے والا ہے مہربان

خلاصہ تفسیر اے نبی جس چیز کو اللہ نے آپ کے لئے حلال کیا ہے آپ (قسم کھا کر) اس کو (اپنے اوپر) کیوں حرام فرماتے ہیں (پھر وہ بھی) اپنی بیبیوں کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے (یعنی گو کسی مباح کا ترک کردینا جائز ہے اور اس ترک کا موکد بالقسم کرنا بھی کسی مصلحت سے جائز ہے لیکن تاہم خلاف اولیٰ ہی خصوصاً جبکہ اس کا داعی بھی ضعیف ہو۔ یعنی بیبیوں کی رضا جوئی ایسے امر میں جس میں ان کا راضی کرنا ضروری نہ تھا) اور اللہ تعالیٰ بخشنے والا مہربان ہے (کہ گناہ تک کو معاف کردیتا ہے اور آپ سے تو کوئی گناہ بھی نہیں ہوا اسلئے یہ عتاب نہیں بلکہ شفقةً ورافة آپ سے کہا جاتا ہے کہ آپ نے ایک جائز نفع کو ترک کرکے کیوں تکلیف اٹھائی اور چونکہ آپ نے قسم کھالی تھی اسلئے عام خطاب سے قسم کا کفارہ دینے کی نسبت ارشاد فرماتے ہیں کہ) اللہ تعالیٰ نے تم لوگوں کے لئے تمہاری قسموں کا کھولنا (یعنی قسم توڑنے کے بعد اسکے کفارہ کا طریقہ) مقرر فرما دیا ہے اور اللہ تمہارا کار ساز ہے اور وہ بڑا جاننے والا بڑی حکمت والا ہے (اسلئے وہ اپنے علم و حکمت سے تمہاری مصلحتوں اور ضرورتوں کو جان کر تمہاری بہت سی دشواریوں کو آسان کردینے کے طریقے مقرر فرما دیتا ہے چناچہ کفارہ کے ذریعہ قسم کی پابندی کی کلفت کا علاج کردیا) اور (آگے بیبیوں کو سناتے ہیں کہ وہ وقت یاد کرنے کے قابل ہے) جبکہ پیغمبر ﷺ نے اپنی کسی بی بی سے چپکے سے ایک بات فرمائی (وہ بات یہی تھی کہ میں پھر شہد نہ پیوں گا مگر کسی سے کہنا نہیں) پھر جب اس بی بی نے وہ بات (دوسری بی بی کو) بتلا دی اور پیغمبر کو اللہ تعالیٰ نے (بذریعہ وحی) اس کی خبر کردی تو پیغمبر نے (اس ظاہر کردینے والی بی بی کو) تھوڑی سی بات تو جتلا دی (کہ تو نے ہماری یہ بات دوسری سے کہہ دی) اور تھوڑی بات کو ٹال گئے (یعنی آپ کا کرم اس غایت تک ہے کہ اپنے حکم کے خلاف کرنے پر جو بی بی کی شکایت کرنے بیٹھے تو شکایت کے وقت بھی اس کہی ہوئی بات کے پورے اجزاء کا اعادہ نہیں فرمایا کہ تو میری یہ بات کہہ دی اور یہ بھی کہہ دی بلکہ کچھ اجزاء کا ذکر کیا اور کچھ اجزاء کا نہیں تاکہ جو بی بی مخاطب ہے اس کو گمان ہو کہ ان کو اتنی ہی بات کہنے کی خبر ہوئی ہے زائد کی نہیں ہوئی تو شرمندگی کم ہو وھذا اسھل الاقوال فی تفسیر ھذین البعضین) سو جب پیغمبر نے اس بی بی کو وہ بات جتلائی تو وہ کہنے لگی کہ آپ کو اس کی کسی نے خبر کردی، آپ نے فرمایا کہ مجھ کو بڑے جاننے والے بڑے خبر رکھنے والے (یعنی خدا) نے خبر کردی (یہ بیبیوں کو شاید اس لئے سنایا کہ رسول اللہ ﷺ کا پورے راز پر مطلع ہونا سنکر آپ کے کریمانہ معاملہ سے اپنی کارروائی پر زیادہ شرمندہ ہوں اور توبہ کریں چناچہ آگے خود بیبیوں کو توبہ وغیرہ کا خطاب ہے کہ) اے (پیغمبر کی) دونوں بیبیوں اگر تم اللہ کے سامنے توبہ کرلو تو (بہتر ہے کیونکہ مقتضیٰ توبہ کا موجود ہے وہ یہ کہ) تمہارے دل (اس طرف) مائل ہو رہے ہیں (کہ دوسری بیبیوں سے ہٹا کر آپ کو اپنا ہی بنالیں اور گو یہ امر باعتبار اسکے کہ اصل مقتضی اس کا حب رسول ہے قبیح نہیں ہے لیکن چونکہ اس میں دوسروں کے حقوق کا اتلاف اور دل شکنی لازم آتی ہے اور مستلزم قبیح قبیح ہوتا ہے اس اعتبار سے قبیح وموجب لا متوبہ ہے) اور اگر (اسی طرح) پیغمبر کے مقابلے میں تم دونوں کارروائیاں کرتی رہیں تو (یاد رکھو کہ) پیغمبر کا رفیق اللہ ہے اور جبریئل ہیں اور نیک مسلمان ہیں اور ان کے علاوہ فرشتے (آپ کے) مددگار ہیں (مطلب یہ کہ تمہاری ان سازشوں سے آپ کا کوئی ضرر نہیں ہے بلکہ تمہارا ہی ضرر ہے کیونکہ جس شخص کے حامی ایسے ہوں اسکے خلاف مزاج کارروائیاں کرنے کا انجام ظاہر ہے کہ برا ہی برا ہے اور چونکہ بعضے اسباب نزول میں حضرت عائشہ وحفصہ کے علاوہ اور بیبیاں بھی شریک تھیں جیسے حضرت سودہ وصفیہ، اسلئے آگے صیغہ جمع سے خطاب فرماتے ہیں کہ تم یہ وسوسہ دل میں نہ لانا کہ آخر تو مرد کو بیبیوں کی ضرورت ہوتی ہے اور ہم سے بہتر عورتیں کہاں ہیں اس لئے چارونا چار ہماری سب باتیں سہی جاویں گی سو یہ سمجھ لو کہ) اگر پیغمبر تم عورتوں کو طلاق دیدیں تو ان کا پروردگار بہت جلد تمہارے بدلے ان کو تم سے اچھی بیبیاں دی دے گا جو اسلام والیاں ایمان والیاں فرمانبرداری کرنے والیاں توبہ کرنے والیاں عبادت کرنے والیاں روزہ رکھنے والیاں ہوں گی کچھ بیوہ اور کچھ کنواریاں (بعض مصالح سے بیوہ بھی مرغوب ہوتی ہے جیسے تجربہ سلیقہ ہم عمری وغیرہ اس لئے اس کو بھی اوصاف رغبت میں شمار فرمایا) معارف و مسائل آیات تحریم کا واقعہ نزول صحیح بخاری وغیرہ میں حضرت عائشہ وغیرہ سے منقول ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا معمول شریف تھا کہ عصر کے بعد کھڑے کھڑے سب بیبیوں کے پاس (خبر گیری کے لئے) تشریف لاتے تھے۔ ایک روز حضرت زینب کے پاس معمول سے زیادہ ٹھیرے اور شہد پیا تو مجھ کو رشک آیا اور میں نے حفصہ سے مشورہ کیا کہ ہم میں سے جس کے پاس تشریف لادیں وہ یوں کہے کہ آپ نے مغافیر نوش فرمایا ہے۔ مغافیر ایک خاص قسم کا گوند ہے جس میں کچھ بدبو ہوتی ہے چناچہ ایسا ہی ہوا۔ آپ نے فرمایا کہ میں نے تو شہید پیا ہے۔ ان بی بی نے کہا کہ شاید کوئی مکھی مغافیر کے درخت پر بیٹھی ہو اور اس کا رس چوسا ہو (اسی وجہ سے شہد میں بھی بدبو آنے لگی) رسول اللہ ﷺ بدبو کی چیزوں سے بہت پرہیز فرماتے تھے اسلئے آپ نے قسم کھالی کہ پھر میں شہد نہ پیؤں گا اور اس خیال سے کہ حضرت زینب کا جی برا نہ ہو اس کے اخفاء کی تاکید فرمائی مگر ان بی بی نے دوسری سے کہہ دیا۔ اور بعض روایات میں ہے کہ حضرت حفصہ شہد پلانے والی ہیں اور حضرت عائشہ وسودہ وصفیہ صلاح مشورہ کرنے والی اور بعض روایات میں یہ قصہ دوسری طرح بھی آیا ہے۔ ممکن ہے کئی واقعے ہوں اور ان سب کے بعد یہ آیتیں نازل ہوئی ہیں (ازبیان القرآن) خلاصہ ان آیات کا یہ ہے کہ اس واقعہ میں جو رسول اللہ ﷺ نے ایک حلال چیز یعنی شہد کو بذریعہ قسم اپنے اوپر حرام کرلیا تھا یہ فعل جبکہ کسی ضرورت و مصلحت سے ہو تو جائز ہے گناہ نہیں۔ مگر اس واقعہ میں ضرورت ایسی نہ تھی کہ اس کی وجہ سے آپ خود کوئی تکلیف اٹھاویں اور ایک حلال چیز کو چھوڑ دیں کیونکہ آنحضرت ﷺ نے یہ کام ازواج مطہرات کو راضی کرنے کیلئے کیا تھا، اور ایسے معاملے میں ان کا راضی کرنا آپ کے ذمہ لازم نہ تھا اسلئے اللہ تعالیٰ نے ازروئے شفقت و عنایت فرمایا۔ يٰٓاَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَآ اَحَلَّ اللّٰهُ لَكَ ۚ تَبْتَغِيْ مَرْضَاتَ اَزْوَاجِكَ ۭ وَاللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِيْم اس آیت میں بھی قرآن کریم کے عام اسلوب کے مطابق رسول اللہ ﷺ کو آپکا نام لے کر خطاب نہیں کیا بلکہ یایھا النبی کے لقب سے خطاب فرمایا جو آپ کا خصوصی اعزازو اکرام ہے اور پھر فرمایا کہ اپنی ازواج کی رضا جوئی کے لئے آپ اپنے اوپر ایک حلال چیز کو کیوں حرام کرتے ہیں۔ یہ کلام اگرچہ ازروئے شفقت ہوا مگر صورت جواب طلبی کی تھی جس سے یہ خیال ہوسکتا تھا کہ شاید آپ سے کوئی بڑی غلطی ہوگئی اسلئے ساتھ ہی فرمایا واللہ غفور رحیم یعنی اگر گناہ ہوتا تو اللہ تعالیٰ مغفرت اور معاف کرنے والے ہیں۔ مسئلہکسی حلال چیز کو اپنے اوپر حرام کرنے کی تین صورتیں ہیں جنکا مفصل ذکر سورة مائدہ کی (آیت) یا ایھا الذین امنوا لاتحرمو طیبت ما احل اللہ لکم، کے تحت معارف القران جلد سوم میں آچکا ہے جسکا خلاصہ یہ ہے کہ اگر کوئی شخص کسی حلال قطعی کو عقیدةحرام قرار دے تو یہ کفر اور گناہ عظیم ہے۔ اور اگر عقیدة حرام نہ سمجھے مگر بلا کسی ضرورت و مصلحت کے قسم کھا کر اپنے اوپر حرام کرلے تو یہ گناہ ہے اس قسم کو توڑنا اور کفارہ ادا کرنا اس پر واجب ہے جسکا ذکر آگے آتا ہے۔ اور کوئی ضرورت و مصلحت ہو تو جائز، مگر خلاف اولیٰ ہے اور تیسری صورت یہ ہے کہ نہ عقیدة حرام سمجھے نہ قسم کھا کر اپنے اوپر حرام کرے مگر عملاً اس کو ہمیشہ ترک کرنے کا دل میں عزم کرلے یہ عزم اگر اس نیت سے کرے کہ اس کا دائمی ترک باعث ثواب ہے، تب تو یہ بدعث اور رہبانیت ہے جو شرعاً گناہ اور مذموم ہے اور اگر ترک دائمی کو ثواب سمجھ کر نہیں بلکہ اپنے کسی جسمانی یا روحانی مرض کے علاج کے طور پر کرتا ہے تو بلاکراہت جائز ہے۔ بعض صوفیائے کرام سے جو ترک لذائذ کی حکایتیں منقول ہیں وہ اسی صورت پر محمول ہیں۔ واقعہ مذکورہ میں رسول اللہ ﷺ نے قسم کھالی تھی نزول آیت کے بعد اس قسم کو توڑا اور کفارہ ادا فرمایا جیسا کہ درمنثور کی روایت میں ہے آپ نے ایک غلام کفارہ قسم میں آزاد کیا (ازبیان القرآن)
Ayah 66:2

قَدْ فَرَضَ اللّٰهُ لَكُمْ تَحِلَّةَ اَیْمَانِكُمْ١ۚ وَ اللّٰهُ مَوْلٰىكُمْ١ۚ وَ هُوَ الْعَلِیْمُ الْحَكِیْمُ Open ayah 66:2 in the Quran reader

مقرر کردیا ہے اللہ نے تمہارے لئے کھول ڈالنا تمہاری قسموں کا اور اللہ مالک ہے تمہارا اور وہی ہے سب کچھ جانتا حکمت والا

(آیت) قَدْ فَرَضَ اللّٰهُ لَكُمْ تَحِلَّةَ اَيْمَانِكُمْ ، یعنی اللہ تعالیٰ نے ایسی صورتوں میں جہاں قسم کا توڑنا ضروری یا مستحسن ہو تمہاری قسموں سے حلال ہونے یعنی قسم توڑ کر کفارہ ادا کردینے کا راستہ نکال دیا ہے جسکا ذکر دوسری آیات میں مفصل ہے۔
Ayah 66:3

وَ اِذْ اَسَرَّ النَّبِیُّ اِلٰى بَعْضِ اَزْوَاجِهٖ حَدِیْثًا١ۚ فَلَمَّا نَبَّاَتْ بِهٖ وَ اَظْهَرَهُ اللّٰهُ عَلَیْهِ عَرَّفَ بَعْضَهٗ وَ اَعْرَضَ عَنْۢ بَعْضٍ١ۚ فَلَمَّا نَبَّاَهَا بِهٖ قَالَتْ مَنْ اَنْۢبَاَكَ هٰذَا١ؕ قَالَ نَبَّاَنِیَ الْعَلِیْمُ الْخَبِیْرُ Open ayah 66:3 in the Quran reader

اور جب چھپا کر کہی نبی نے اپنی کسی عورت سے ایک بات پھر جب اس نے خبر کردی اس کی اور اللہ نے جتلا دی نبی کو وہ بات تو جتلائی نبی نے اس میں سے کچھ اور ٹلا دی کچھ پھر جب وہ جتلائی عورت کو بولی تجھ کو کس نے بتلا دی یہ کہا مجھ کو بتایا اس خبر والے واقف نے

(آیت) وَاِذْ اَسَرَّ النَّبِيُّ اِلٰى بَعْضِ اَزْوَاجِهٖ حَدِيْثًا، یعنی جبکہ نبی کریم ﷺ نے اپنی کسی بی بی سے ایک راز کی بات کہی۔ وہ راز کی بات صحیح اور اکثر روایات کی رو سے یہی تھی کہ آپ نے حضرت زینب کے پاس جو شہد پیا اور دوسری ازواج کو بھاری معلوم ہوا آپ نے ان کو راضی کرنے کے لئے شہد نہ پینے کی قسم کھالی مگر یہ فرمایا کہ اس کی کسی کو خبرنہ ہو تاکہ زینب کو رنج نہ پہنچے مگر اس بی بی نے یہ راز دوسری پر ظاہر کردیا جسکا ذکر اگلی آیت میں ہے۔ اس راز کی بات کے متعلق دوسری روایات میں اور بھی چند چیزین منقول ہیں مگر اکثر اور صحیح روایات میں یہی ہے جو لکھا گیا۔ فَلَمَّا نَبَّاَتْ بِهٖ وَاَظْهَرَهُ اللّٰهُ عَلَيْهِ عَرَّفَ بَعْضَهٗ وَاَعْرَضَ عَنْۢ بَعْضٍ ۚ، یعنی جب اس بی بی نے وہ راز کی بات دوسری بی بی سے کہہ ڈالی اور اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کو اس کی خبر کردی کہ اس نے آپکا راز فاش کردیا تو آپ نے اس بی بی سے افشاء راز کا شکوہ تو کیا مگر پوری بات نہیں کھولی یہ آنحضرت ﷺ کا کرم اور حسن خلق تھا کہ پوری بات کھولنے سے ان کو زیادہ خجالت اور شرمندگی ہوگی۔ جس بی بی سے راز کی بات کہی گئی تھی وہ کون تھیں اور جس پر راز ظاہر کیا وہ کون، قرآن کریم نے اس کو بیان نہیں کیا، اکثر روایات حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ راز کی بات حضرت حفصہ سے کہی گئی تھی انہوں نے حضرت عائشہ سے ذکر کردیا، جیسا کہ صحیح بخاری کی حدیث میں حضرت ابن عباس سے اس کا بیان آگے آئے گا۔ بعض روایات حدیث میں ہے کہ حضرت حفصہ کے راز فاش کرنے پر رسول اللہ ﷺ نے ان کو طلاق دینے کا ارادہ فرمایا مگر اللہ نے جبرئیل امین کو بھیج کر ان کی طلاق سے روک دیا اور فرمایا کہ بہت نماز گزار بکثرت روزے رکھنے والی ہیں اور ان کا نام جنت میں آپ کی بیبیوں میں لکھا ہوا ہے (مظہری)
Ayah 66:4

اِنْ تَتُوْبَاۤ اِلَى اللّٰهِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوْبُكُمَا١ۚ وَ اِنْ تَظٰهَرَا عَلَیْهِ فَاِنَّ اللّٰهَ هُوَ مَوْلٰىهُ وَ جِبْرِیْلُ وَ صَالِحُ الْمُؤْمِنِیْنَ١ۚ وَ الْمَلٰٓئِكَةُ بَعْدَ ذٰلِكَ ظَهِیْرٌ Open ayah 66:4 in the Quran reader

اگر تم دونوں توبہ کرتی ہو تو جھ پڑے ہیں دل تمہارے اور اگر تم دونوں چڑھائی کرو گی اس پر تو اللہ ہے اس کا رفیق اور جبرائیل اور نیک بخت ایمان والے اور فرشتے اس کے پیچھے مددگار ہیں

(آیت) اِنْ تَتُوْبَآ اِلَى اللّٰهِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوْبُكُمَا، ازواج مطہرات میں سے جن دو کا اجمالی ذکر اوپر آیا ہے کہ انہوں نے باہم مشورہ کرکے آنحضرت ﷺ کے شہد پینے پر ایسا طرز اختیار کیا جس سے آپ نے شہد پینے سے قسم کھالی اور پھر آپ نے اسکے اخفاء کے لئے فرمایا تھا وہ اخفاء نہیں کیا بلکہ ایک نے دوسری پر بات کھول دی۔ یہ دو کون ہیں انکے متعلق صحیح بخاری وغیرہ میں حضرت ابن عباس کی ایک طویل روایت ہے جس میں انہوں نے فرمایا کہ عرصہ تک میرے دل میں یہ خواہش تھی کہ میں ان دو عورتوں کے متعلق عمر بن خطاب سے دریافت کروں جن کے متعلق قرآن میں آیا ہے اِنْ تَتُوْبَآ اِلَى اللّٰهِ ، یہاں تک ایک موقع آیا کہ عمر بن خطاب حج کے لئے نکلے اور میں بھی شریک سفر ہوگیا۔ دوران سفر میں ایک روز عمر بن خطاب قضاء حاجت کے لئے جنگل کی طرف تشریف لے گئے اور واپس آئے تو میں نے وضو کے لئے پانی کا انتظام کر رکھا تھا میں نے آپ کے ہاتھوں پر پانی ڈالا۔ اور وضو کراتے ہوئے میں نے سوال کیا کہ یہ دو عورتیں جن کے متعلق قرآن میں ان تتوبا آیا ہے کون ہیں۔ حضرت عمر نے فرمایا آپ سے تعجب ہے کہ آپ کو خبر نہیں یہ دونوں عورتیں حفصہ اور عائشہ ہیں۔ اسکے بعد حضرت عمر نے اپنا ایک طویل قصہ اس واقعہ سے متعلق ذکر فرمایا جس میں اس واقعہ کے پیش آنے سے پہلے کے کچھ حالات بھی بیان فرمائے جن کی پوری تفصیل تفسیر مظہری میں ہے۔ آیت میں مذکورہ میں ان دونوں ازواج مطہرات کو مستقل خطاب کرکے ارشاد فرمایا کہ اگر تم توبہ کرو جیسا کہ اس واقعہ کا تقاضا ہے کہ تمہارے دل حق سے مائل ہوگئے کیونکہ رسول اللہ ﷺ کی محبت اور آپکی رضا جوئی ہر مومن کا فرض ہے مگر تم دونوں نے باہم مشورہ کرکے ایسی صورت اختیار کی جس سے آپ کو تکلیف پہنچی یہ ایسا گناہ ہے کہ اس سے توبہ کرنا ضروری ہے اور آگے فرمایا۔ وَاِنْ تَظٰهَرَا عَلَيْهِ فَاِنَّ اللّٰهَ هُوَ مَوْلٰىهُ وَجِبْرِيْلُ الآیة، اس میں یہ بتلادیا کہ اگر تم نے توبہ کرکے رسول اللہ ﷺ کو راضی نہ کیا تو یہ نہ سمجھو کہ آپ کو کوئی نقصان پہنچے گا کیونکہ آپ کا تو اللہ مولیٰ اور کفیل ہے اور جبرئیل امین اور سب نیک مسلمان اور ان کے بعد سب فرشتے، جس کی رفاقت واعانت پر سب لگے ہوں اس کو کوئی کیا نقصان پہنچا سکتا ہے۔ نقصان وضرر جو کچھ ہے تمہارا ہی ہے آگے انہیں کے متعلق فرمایا۔
Ayah 66:5

عَسٰى رَبُّهٗۤ اِنْ طَلَّقَكُنَّ اَنْ یُّبْدِلَهٗۤ اَزْوَاجًا خَیْرًا مِّنْكُنَّ مُسْلِمٰتٍ مُّؤْمِنٰتٍ قٰنِتٰتٍ تٰٓئِبٰتٍ عٰبِدٰتٍ سٰٓئِحٰتٍ ثَیِّبٰتٍ وَّ اَبْكَارًا Open ayah 66:5 in the Quran reader

اگر نبی چھوڑ دے تم سب کو ابھی اس کا رب بدلے میں دیدے اس کو عورتیں تم سے بہتر حکم بردار یقین رکھنے والیاں نماز میں کھڑی ہونے والیاں توبہ کرنے والیاں بندگی بجا لانے والیاں روزہ رکھنے والیاں بیاہیاں اور کنواریاں۔

(آیت) عَسٰى رَبُّهٗٓ اِنْ طَلَّقَكُنَّ اَنْ يُّبْدِلَهٗٓ اَزْوَاجًا خَيْرًا مِّنْكُنَّ الایة، اس میں عورتوں کے اس خیال کا جواب ہے کہ اگر ہمیں طلاق دے دیتو ہم جیسی دوسری عورتیں شاید آپ کو نہ ملیں۔ حاصل ارشاد کا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی قدرت سے کیا چیز باہر ہے اگر وہ تمہیں طلاق دیدیں تو وہ تم جیسی ہی نہیں بلکہ تم سے بہتر عورتیں عطا فرما دے گا، اس سے یہ لازم نہیں آیا کہ ان سے بہتر عورتیں اس وقت موجود تھیں ہوسکتا ہے کہ اس وقت نہ ہوں اور جب ضرورت پڑے اللہ تعالیٰ دوسری عورتوں کو ان سے بہتر بنادیں۔ ان آیات میں جیسا کہ خاص ازواج مطہرات کے اعمال و اخلاق کی اصلاح اور ان کی تادیب و تربیت کا بیان تھا آگے عام مومنین کو اس کا حکم دیا گیا ہے۔
Ayahs 66:6–7

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قُوْۤا اَنْفُسَكُمْ وَ اَهْلِیْكُمْ نَارًا وَّ قُوْدُهَا النَّاسُ وَ الْحِجَارَةُ عَلَیْهَا مَلٰٓئِكَةٌ غِلَاظٌ شِدَادٌ لَّا یَعْصُوْنَ اللّٰهَ مَاۤ اَمَرَهُمْ وَ یَفْعَلُوْنَ مَا یُؤْمَرُوْنَ Open ayah 66:6 in the Quran reader

اے ایمان والو ! بچاؤ اپنی جان کو اور اپنے گھر والوں کو اس آگ سے جس کی چھٹیاں ہیں آدمی اور پتھر اس پر مقرر ہیں فرشتے تند خو زبردست نافرمانی نہیں کرتے اللہ کی جو بات فرمائے ان کو اور وہی کام کرتے ہیں جو ان کو حکم ہو اے

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَا تَعْتَذِرُوا الْیَوْمَ١ؕ اِنَّمَا تُجْزَوْنَ مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 66:7 in the Quran reader

منکر ہونے والوں مت بہانے بتلاؤ آج کے دن وہی بدلہ پاؤ گے جو تم کرتے تھے

خلاصہ تفسیر اے ایمان والو (جب رسول کی بیبیوں کو بھی عمل صالح اور اطاعت سے چارہ نہیں جیسا کہ اوپر معلوم ہوا اور رسول اللہ ﷺ بھی اس پر مامور ہیں کہ اپنی ازواج کو نصیحت کرکے عمل صالح پر آمادہ کریں تو باقی سب امت پر بھی یہ فریضہ اور زیادہ موکد ہوگیا کہ اپنے اہل و عیال کی اصلاح اعمال و اخلاق میں غفلت نہ برتیں اسلئے حکم دیا گیا کہ) تم اپنے کو اور اپنے گھر والوں کو (دوزخ کی) اس آگ سے بچاؤ جسکا ایندھن (سوختہ) آدمی اور پتھر ہیں (اپنے کو بچانا خود اطاعت احکام کرنا اور گھر والوں کو بچانا ان کو احکام الہیہ کا سکھانا اور ان پر عمل کرانے کے لئے زبان سے ہاتھ سے بقدر امکان کوشش کرنا ہے۔ آگے اس آگ کی دوسری حالت کا بیان ہے کہ) جس پر تند خو (اور) مضبوط (قوی) فرشتے (متعین) ہیں (کہ نہ وہ کسی پر رحم کریں نہ کوئی ان کا مقابلہ کرکے بچ سکے) جو خدا کی (ذرا) نافرمانی نہیں کرتے کسی بات میں جو ان کو حکم دیتا ہے اور جو کچھ ان کو حکم دیا جاتا ہے اس کو (فوراً) بجالاتے ہیں (غرض اس دوزخ پر ایسے فرشتے مقرر ہیں جو کافروں کو دوزخ میں داخل کرکے چھوڑیں گے اور اس وقت کافروں سے کہا جائے گا کہ) اے کافرو تم آج عذر (ومعذرت) مت کرو۔ (کہ بےسود ہے) بس تم کو تو اسی کی سزا مل رہی ہے جو کچھ تم (دنیا میں) کیا کرتے تھے۔ معارف و مسائل قُوْٓا اَنْفُسَكُمْ وَاَهْلِيْكُمْ ، الآیة، اس آیت میں عام مسلمانوں کو حکم ہے کہ جہنم کی آگ سے اپنے آپ کو بھی بچائیں اور اپنے اہل و عیال کو بھی پھر نار جہنم کی ہولناک شدت کا ذکر فرمایا اور آخر میں یہ بھی فرمایا کہ جو اس جہنم کا مستحق ہوگا وہ کسی زور طاقت جتھہ یا خوشامد یا رشوت کے ذریعہ ان فرشتوں کی گرفت سے نہیں بچ سکے گا جو جہنم پر مسلط ہیں جنکا نام زبانیہ ہے۔ لفظ اَهْلِيْكُمْ میں اہل و عیال سب داخل ہیں جن میں بیوی، اولاد، غلام، باندیاں سب داخل ہیں اور بعید نہیں کہ ہمہ وقتی نوکر چاکر بھی غلام باندیوں کے حکم میں ہوں۔ ایک روایت میں ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو حضرت عمر بن خطاب نے عرض کیا یا رسول اللہ اپنے آپ کو جہنم سے بچانے کی فکر تو سمجھ میں آگئی (کہ ہم گناہوں سے بچیں اور احکام الٰہی کی پابندی کریں) مگر اہل و عیال کو ہم کس طرح جہنم سے بچائیں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اس کا طریقہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تم کو جن کاموں سے منع فرمایا ہے ان کاموں سے ان سب کو منع کرو اور جن کاموں کے کرنے کا تم کو حکم دیا ہے تم ان کے کرنے کا اہل ویعال کو بھی حکم کرو تو یہ عمل انکو جہنم کی آگ سے بچا سکے گا (روح المعافی) بیوی اور اولاد کی تعلیم و تربیت ہر مسلمان پر فرض ہے حضرات فقہا نے فرمایا کہ اس آیت سے ثابت ہوا کہ ہر شخص پر فرض ہے کہ اپنی بیوی اور اولاد کو فرائض شرعیہ اور حلال و حرام کے احکام کی تعلیم دے اور اس پر عمل کرانے کے لئے کوشش کرے۔ ایک حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ اس شخص پر اپنی رحمت نازل کرے جو کہتا ہے اے میرے بیوی بچو، تمہاری نماز، تمہارا روزہ، تمہاری زکوٰة، تمہارا مسکین، تمہارا یتیم، تمہارے پڑوسی، امید ہے کہ اللہ تعالیٰ ان سب کو اسکے ساتھ جنت میں جمع فرمائیں گے۔ تمہاری نماز، تمہارا روزہ وغیرہ فرمانے کا مطلب یہ ہے کہ ان چیزوں کا خیال رکھو اس میں غفلت نہ ہونے پائے اور مسکینکم یتیمکم وغیرہ فرمانے کا مطلب یہ ہے کہ ان کے جو حقوق تمہارے ذمہ ہیں ان کی خوشی اور پابندی سے ادا کرو اور بعض بزرگوں نے فرمایا کہ قیامت کے دن سب سے زیادہ عذاب میں وہ شخص ہوگا جس کے اہل و عیال دین سے جاہل وغافل ہوں (روح) عام مومنین کی نصیحت کے بعد کفار کو خطاب ہے کہ اب تمہارا کیا ہوا تمہارے سامنے آرہا ہے اب کوئی عذر کسی کا قبول نہیں کیا جاسکتا يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَا تَعْتَذِرُوا الْيَوْمَ کا یہی مطلب ہے۔
Ayahs 66:8–9

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا تُوْبُوْۤا اِلَى اللّٰهِ تَوْبَةً نَّصُوْحًا١ؕ عَسٰى رَبُّكُمْ اَنْ یُّكَفِّرَ عَنْكُمْ سَیِّاٰتِكُمْ وَ یُدْخِلَكُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ۙ یَوْمَ لَا یُخْزِی اللّٰهُ النَّبِیَّ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ١ۚ نُوْرُهُمْ یَسْعٰى بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ بِاَیْمَانِهِمْ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَاۤ اَتْمِمْ لَنَا نُوْرَنَا وَ اغْفِرْ لَنَا١ۚ اِنَّكَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 66:8 in the Quran reader

اے ایمان والو ! توبہ کرو اللہ کی طرف صاف دل کی توبہ امید ہے تمہارا رب اتار دے تم پر سے تمہاری برائیاں اور داخل کرے تم کو باغوں میں جن کے نیچے بہتی ہیں نہریں جس دن کہ اللہ ذلیل نہ کرے گا نبی کو اور ان لوگوں کو جو یقین لائے ہیں اس کے ساتھ ان کی روشنی دوڑتی ہے ان کے آگے اور ان کے داہنے کہتے ہیں اے رب ہمارے پوری کر دے ہم کو ہماری روشنی اور معاف کر ہم کو بیشک تو سب کچھ کرسکتا ہے

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ جَاهِدِ الْكُفَّارَ وَ الْمُنٰفِقِیْنَ وَ اغْلُظْ عَلَیْهِمْ١ؕ وَ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ١ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ Open ayah 66:9 in the Quran reader

اے نبی لڑائی کر منکروں سے اور دغا بازوں سے اور سختی کر ان پر اور ان کا گھر دوزخ ہے اور بری جگہ جا پہنچے

خلاصہ تفسیر (ان آیات میں دوزخ سے بچنے کا طریقہ بتلایا گیا ہے اور وہی اہل و عیال کو بتلا کر جہنم کی آگ سے بچانے کا طریقہ ہے وہ یہ ہے) اے ایمان والو اللہ کے سامنے سچی توبہ کرو (یعنی دل میں گناہ پر کامل ندامت ہو اور آئندہ اسکے نہ کرنے کا پختہ قصد ہو اس میں تمام احکامدین فرائض واجبات بھی داخل ہوگئے کہ ان کا چھوڑنا گناہ ہے اور تمام محرمات ومکروہات بھی آگئے کہ ان کا کرنا گناہ ہے) امید (یعنی وعدہ) ہے کہ تمہارا رب (اس توبہ کی بدولت) تمہارے گناہ معاف کر دے گا اور تم کو (جنت کے) ایسے باغوں میں داخل کرے گا جنکے نیچے نہریں جاری ہوں گی (اور یہ اس روز ہوگا) جس دن کہ اللہ نبی ﷺ کو اور جو مسلمان (ایمان اور دین کی رو سے) ان کے ساتھ ہیں ان کو رسوا نہ کرے گا ان کا نور ان کے داہنے اور ان کے سامنے دوڑتا ہوگا (جیسا کہ سورة حدید میں گزرچکا ہے اور وہ) یوں دعا کرتے ہوں گے کہ اے ہمارے رب ہمارے لئے ہمارے اس نور و اخیر تک رکھئے (یعنی راستہ میں گل نہ ہوجاوے) اور ہماری مغرفت فرما دیجئے آپ ہر شئے پر قادر ہیں (اور اس دعا کی وجہ یہ ہوگی کہ قیامت میں ہر مومن کو کچھ نہ کچھ نور عطا ہوگا جس وقت پل صراط کے پاس پہنچ کر منافقین کا نور بجھ جاوے گا جسکا ذکر سورة حدید میں آچکا ہے اس وقت مومنین یہ دعا کریں گے کہ منافقین کی طرح کہیں ہمارا نور بھی سلب نہ ہوجائے (کذافی الدر المنثور عن ابن عباس) اے نبی ﷺ کفار (سے بذریعہ تلوار) اور منافقین سے (بذریعہ زبان وبیان حجت) جہاد کیجئے اور ان پر سختی کیجئے (دنیا میں تو یہ اس سزا کے مستحق ہوئے) اور (آخرت میں) ان کا ٹھکانا دوزخ ہے اور وہ بری جگہ ہے (آگے اس کا بیان ہے کہ آخرت میں ہر شخص کو اپنا ہی ایمان کام آئے گا۔ کافر کو کسی ان کے خویش و عزیز کا ایمان عذاب سے نہ بچائے گا، اسی طرح مومن کے خویش و عزیز کافر ہوں تو مومن کو اس کا کوئی نقصان نہیں پہنچے گا) اللہ تعالیٰ کافروں (کی عبرت) کے لئے نوح کی بی بی اور لوط کی بی بی کا حال بیان فرماتا ہے، وہ دونوں ہمارے خاص بندوں میں سے دو نیک بندوں کے نکاح میں تھیں سو ان عورتوں نے ان دونوں بندوں کا حق ضائع کیا (یعنی بوجہ ان کے نبی ہونے کے ان کا حق یہ بھی تھا کہ ان پر ایمان لاتیں اور دینی احکام میں ان کی اطاعت کرتیں جو انہوں نے نہیں کی) تو وہ دونوں نیک بندے اللہ کے مقابلے میں ان کے ذرا کام نہ آسکے اور ان دونوں عورتوں کو (بوجہ کافر ہوجانے کے) حکم ہوگیا کہ تم دونوں بھی دوسرے جہنم میں داخل ہونے والوں کے ساتھ جہنم میں داخل ہوجاؤ (یہاں تک کافروں کی عبرت کے لئے واقعہ بیان کیا گیا تھا، آگے مسلمانوں کے اطمینان کے لئے فرمایا) اللہ تعالیٰ مسلمانوں (کی تسلی) کے لئے فرعون کی بی بی (حضرت آسیہ) کا حال بیان کرتا ہے جبکہ ان بی بی نے دعا کی کہ اے میرے پروردگار میرے واسطے جنت میں اپنے قرب میں مکان بنائے اور مجھ کو فرعون (کے شر) سے اور اسکے عمل (کفر کے ضرر اور اثر) سے محفوظ رکھئے اور مجھ کو تمام ظالم (یعنی کافر) لوگوں (کے ظاہری اور باطنی ضرر) سے محفوظ رکھئے اور (نیز مسلمانوں کی تسلی کے لئے اللہ تعالیٰ) عمران کی بیٹی حضرت مریم کا حال بیان کرتا ہے جنہوں نے اپنے ناموس کو (حرام اور حلال دونوں سے) محفوظ رکھا، سو ہم نے ان کے چاک گریبان میں (بواسطہ جبرئیل علیہ السلام) اپنی روح پھونک دی اور انہوں نے اپنے پروردگار کے پیغاموں کی (جو ملائکہ کے ذریعے پہنچے تھے) اور اس کی کتابوں کی (جن میں تورات و انجیل بھی ہیں) تصدیق کی (یہ بیان ہے ان کے عقائد کا) اور وہ اطاعت والوں میں سے تھیں (یہ بیان ہے ان کے اعمال کا) معارف و مسائل تُوْبُوْٓا اِلَى اللّٰهِ تَوْبَةً نَّصُوْحًا . توبہ کے لفظی معنے لوٹنے اور رجوع ہونے کے ہیں، مراد گناہوں سے لوٹنا ہے۔ اور اصطلاح قرآن وسنت میں توبہ اس کا نام ہے کہ آدمی اپنے پچھلے گناہ پر نادم ہو اور آئندہ اس کے پاس نہ جانے کا پختہ عزم کرے۔ اور نصوح کو اگر مصدر نصح اور نصیحت سے لیا جائے تو اس کے معنے خالص کرنے کے ہیں، اور مصدر نصاحت سے مشتق قرار دیں تو اس کے معنے کپڑے کو سینے اور جوڑ لگانے کے ہیں۔ پہلے معنے کے اعتبار سے نصوح کے معنی یہ ہوں گے کہ وہ ریا اور نمود سے خالص ہو۔ محض اللہ تعالیٰ کی رضاجوئی اور خوف عذاب سے گناہ پر نادم ہو کر اس کو چھوڑ دے اور دوسرے معنی کے اعتبار سے نصوح اس مطلب کے لئے ہوگا کہ اعمال صالحہ کا لباس جو گناہ کی وجہ سے پھٹ گیا ہے تو یہ اسکے خرق یعنی پھٹن کو جوڑنے والی ہے۔ حضرت حسن بصری نے فرمایا کہ توبہ نصوح یہ ہے کہ آدمی اپنے گزشتہ عمل پر نادم ہو اور پھر اس کی طرف نہ لوٹنے کا پختہ ارادہ اور عزم رکھتا ہو۔ اور کلبی نے فرمایا کہ توبہ نصوح یہ ہے کہ زبان سے استغفار کرے اور دل میں نادم ہو اور اپنے بدن اور اعضاء کو آئندہ اس گناہ سے روکے۔ اور حضرت علی کرم اللہ وجہ سے سوال کیا گیا کہ توبہ کیا ہے ؟ تو آپ نے فرمایا جس میں چھ چیزیں جمع ہوں۔ (1) اپنے گزشتہ برے عمل پر ندامت (2) جو فرائض وواجبات اللہ تعالیٰ کے چھوٹے ہیں ان کی قضا (3) کسی کا مال وغیرہ ظلماً لیا تھا تو اسی کی واپسی (4) کسی کو ہاتھ یا زبان سے ستایا اور تکلیف پہنچائی تھی تو اس سے معافی (5) آئندہ اس گناہ کے پاس نہ جانے کا پختہ عزم و ارادہ (6) اور یہ کہ جس طرح اس نے اپنے نفس کو اللہ کی نافرمانی کرتے ہوئے دیکھا ہے اب وہ اطاعت کرتے ہوئے دیکھ لے (مظہری) حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے جو شرائط توبہ بیان فرمائی ہیں وہ سبھی کے نزدیک مسلم ہیں۔ بعض نے مختصر بعض نے مفصل بیان کردیا ہے۔ عَسٰى رَبُّكُمْ اَنْ يُّكَفِّرَ عَنْكُم، آلایة لفظ عسیٰ کا ترجمہ امید ہے اور یہاں مراد اس سے وعدہ ہے مگر اس وعدہ کو بلفظ امید تعبیر کرکے اس طرف اشارہ کردیا کہ توبہ ہو یا انسان کے دوسرے اعمال صالحہ ان میں سے کوئی بھی جنت و مغفرت کی قیمت نہیں اور نہ اللہ کے ذمہ ازروئے انصاف یہ لازم آتا ہے جو عمل صاحل کرے اس کو ضرور جنت ہی میں داخل کرے کیونکہ اعمال صالحہ کا ایک بدلہ تو ہر انسان کو دنیوی زندگی میں عطا ہونے والی نعمتوں سے مل چکا ہے۔ اس کے بدلے میں ازروئے قانون وقاعدہ جنت ملنا ضروری نہیں وہ محض اللہ تعالیٰ کے فضل و انعام ہی پر موقوف ہے جیسا کہ حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تم میں کسی کو صرف اس کا عمل نجات نہیں دلا سکتا۔ صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ، کیا آپکو بھی، آپ نے فرمایا ہاں مجھے بھی جب تک کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل و رحمت کا معاملہ نہ فرماویں (بخاری ومسلم) ازمظہری
Ayah 66:10

ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوا امْرَاَتَ نُوْحٍ وَّ امْرَاَتَ لُوْطٍ١ؕ كَانَتَا تَحْتَ عَبْدَیْنِ مِنْ عِبَادِنَا صَالِحَیْنِ فَخَانَتٰهُمَا فَلَمْ یُغْنِیَا عَنْهُمَا مِنَ اللّٰهِ شَیْئًا وَّ قِیْلَ ادْخُلَا النَّارَ مَعَ الدّٰخِلِیْنَ Open ayah 66:10 in the Quran reader

اللہ نے بتلائی ایک مثل منکروں کے واسطے عورت نوح کی اور عورت لوط کی گھر میں تھیں دونوں دو نیک بندوں کے ہمارے نیک بندوں میں سے پھر انہوں نے ان سے چوری کی پھر وہ کام نہ آئے ان کے اللہ کے ہاتھ سے کچھ بھی اور حکم ہوا کہ چلی جاؤ دوزخ میں جانے والوں کے ساتھ

ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا لِّلَّذِيْنَ كَفَرُوا امْرَاَتَ نُوْحٍ الآیة آخر سورت میں حق تعالیٰ نے چار عورتوں کی مثالیں بیان فرمائی ہیں، پہلی دو عورتیں دو پیغمبروں کی بیویاں ہیں جنہوں نے دین کے معاملے میں اپنے شوہروں کی مخالفت کی، کفار و مشرکین کی امداد وموافقت خفیہ کرتی رہیں اس کے نتیجہ میں جہنم میں گئیں، اللہ کے مقبول و برگزیدہ پیغمبروں کی زوجیت بھی ان کو عذاب سے نہ بچا سکی، ان میں ایک حضرت نوح ؑ کی بی بی ہے جن کا نام واغلہ بیان کیا گیا ہے اور دوسری حضرت لوط ؑ کی بی بی جس کا نام والہ کہا گیا ہے (قرطبی) ان کے ناموں میں اور بھی مختلف اقوال ہیں۔ تیسری وہ عورت ہے جو سب سے بڑے کافر خدائی کے مدعی فرعون کی بیوی تھی مگر موسیٰ ؑ پر ایمان لے آئی، اس کو اللہ تعالیٰ نے یہ درجہ دیا کہ دنیا ہی میں اس کو جنت کا مقام دکھلا دیا، شوہر کو فرعونیت اس کی راہ میں کچھ حائل نہیں ہوسکی چوتھی حضرت مریم ہیں جو کسی کی بی بی نہیں مگر ایمان اور اعمال صالحہ کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان کو یہ درجہ دیا کہ ان کو نبوت کے کمالات عطا فرمائے، اگرچہ جمہور امت کے نزدیک نبی نہیں۔ ان سب مثالوں سے یہ واضح کردیا کہ ایک مومن کا ایمان اسکے کسی کا فرعزیز کے کام نہیں آسکتا اور ایک کافر کا کفر اس کے کسی مومن عزیز کو نقصان نہیں پہنچا سکتا، اس لئے انبیاء و اولیا کی بیویاں اس پر بےفکر نہ ہوں کہ ہمیں ہمارے شوہروں کی وجہ سے نجات ہو ہی جائے گی اور کسی کافر فاجر کی بیوی یہ فکر نہ کرے کہ اس کا کفر میرے لئے کسی مضرت کا سبب بن جائے گا بلکہ ہر ایک مرد و عورت کو اپنے ایمان وعمل کی فکر خود کرنا چاہئے۔
Ayah 66:11

وَ ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوا امْرَاَتَ فِرْعَوْنَ١ۘ اِذْ قَالَتْ رَبِّ ابْنِ لِیْ عِنْدَكَ بَیْتًا فِی الْجَنَّةِ وَ نَجِّنِیْ مِنْ فِرْعَوْنَ وَ عَمَلِهٖ وَ نَجِّنِیْ مِنَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَۙ Open ayah 66:11 in the Quran reader

اور اللہ نے بتلائی ایک مثل ایمان والوں کے لئے عورت فرعون کی جب بولی اے رب بنا میرے واسطے اپنے پاس ایک گھر بہشت میں اور بچا نکال مجھ کو فرعون سے اور اس کے کام سے اور بچا نکال مجھ کو ظالم لوگوں سے

(آیت) وَضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا لِّلَّذِيْنَ اٰمَنُوا امْرَاَتَ فِرْعَوْنَ اِذْ قَالَتْ رَبِّ ابْنِ لِيْ عِنْدَكَ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ یہ مثال فرعون کی بیوی حضرت آسیہ بنت مزاحم کی ہے جس وقت موسیٰ ؑ جادوگروں کے مقابلے میں کامیاب ہوئے اور جادوگر مسلمان ہوگئے تو اس بی بی نے اپنے ایمان کا اظہار کردیا، فرعون نے ان کو سخت سزا دینا تجویز کیا، بعض روایات میں ہے کہ ان کو چومیخہ کرکے سینے پر بھاری پتھر رکھدیا یعنی چاروں ہاتھوں پیروں میں میخیں گاڑ دیں کہ حرکت نہ کرسکیں۔ اس حالت میں انہوں نے اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کی جو اس آیت میں مذکور ہے اور بعض روایات میں ہے کہ یہ تجویز کیا کہ اوپر سے بہت بھاری پتھر ان کے سر پر ڈالدیا جائے، ابھی ڈالنے نہیں پائے تھے کہ انہوں نے دعا کی اور اللہ تعالیٰ نے ان کی روح قبض کرلی، پتھر جسم بےجان پر گرا، اور دعا میں یہ فرمایا کہ میرے رب جنت میں اپنے پاس گھر بنا دے اللہ تعالیٰ نے دنیا ہی میں انکو جنت کا گھر دکھلادیا (مظہری)
Ayah 66:12

وَ مَرْیَمَ ابْنَتَ عِمْرٰنَ الَّتِیْۤ اَحْصَنَتْ فَرْجَهَا فَنَفَخْنَا فِیْهِ مِنْ رُّوْحِنَا وَ صَدَّقَتْ بِكَلِمٰتِ رَبِّهَا وَ كُتُبِهٖ وَ كَانَتْ مِنَ الْقٰنِتِیْنَ۠ Open ayah 66:12 in the Quran reader

اور مریم بیٹی عمران کی جس نے روکے رکھا اپنی شہوت کی جگہ کو پھر ہم نے پھونک دی اس میں ایک اپنی طرف سے جان اور سچا جانا اپنے رب کی باتوں کو اور اس کی کتابوں کو اور وہ تھی بندگی کرنے والوں میں۔

(آیت) وَصَدَّقَتْ بِكَلِمٰتِ رَبِّهَا وَكُتُبِهٖ ، کلمات رب سے مراد اللہ کے نزدل کردہ صحیفے ہیں جو انبیاء پر اترتے ہیں۔ اور کتب سے مراد معروف آسمانی کتابیں انجیل، زبور، تورات ہیں وَكَانَتْ مِنَ الْقٰنِتِيْنَ قانت کی جمع ہے جس کے معنی عابد کے ہیں جو اپنی عبادت اور طاقت پر مداومت کرتا ہے۔ یہ حضرت مریم کی صفت ہے۔ حضرت ابوموسیٰ کی حدیث ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ مردوں میں سے بہت لوگ کامل ومکمل ہوئے ہیں مگر عورتوں میں سے صرف آسیہ فرعون کی بیوی اور مریم بنت عمران کامل ہوئیں (بخاری ومسلم، از مظہری) ظاہر یہ ہے کہ مراد کمالات نبوت ہیں کہ باوجود عورت ہونے کے ان کو حاصل ہوئے (مظہری) واللہ اعلم تمت سورة التحریم بعون اللہ وحمدہ فی غرة رجب 1931 یوم الثلثائ