65. Surah At-Talaaq

الطلاقDivorce · 12 ayahsمعارف القرآن

Ayah 65:1

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ اِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَآءَ فَطَلِّقُوْهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ وَ اَحْصُوا الْعِدَّةَ١ۚ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ رَبَّكُمْ١ۚ لَا تُخْرِجُوْهُنَّ مِنْۢ بُیُوْتِهِنَّ وَ لَا یَخْرُجْنَ اِلَّاۤ اَنْ یَّاْتِیْنَ بِفَاحِشَةٍ مُّبَیِّنَةٍ١ؕ وَ تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ١ؕ وَ مَنْ یَّتَعَدَّ حُدُوْدَ اللّٰهِ فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَهٗ١ؕ لَا تَدْرِیْ لَعَلَّ اللّٰهَ یُحْدِثُ بَعْدَ ذٰلِكَ اَمْرًا Open ayah 65:1 in the Quran reader

اے نبی جب تم طلاق دو عورتوں کو تو ان کو طلاق دو ان کی عدت پر اور گنتے رہو عدت کو اور ڈرو اللہ سے جو رب ہے تمہارا مت نکالو ان کو ان کے گھروں سے اور وہ بھی نہ نکلیں مگر جو کریں صریح بےحیائی اور یہ حدیں ہیں باندھی ہوئی اللہ کی اور جو کوئی بڑھے اللہ کی حدوں سے تو اس نے برا کیا اپنا اس کو خبر نہیں شاید اللہ پیدا کر دے اس طلاق کے بعد نئی صورت

خلاصہ تفسیر اے پیغمبر (آپ لوگوں سے کہہ دیجئے کہ) جب تم لوگ (ایسی) عورتوں کو طلاق دینے لگو (جب کے ساتھ خلوت ہوچکی ہے کیونکہ عدت کا حکم ایسی عورتوں سے متعلق ہے جیسا کہ دوسری آیت میں ہے ثم طلقتموھن من قبل ان تمسوھن فمالکم علیھن من عدة) تو ان کو (زمانہ) عدت (یعنی حیض) سے پہلے (یعنی طہر میں) طلاق دو (اور یہ احادیث صحاح سے ثابت ہے کہ اس طہر میں صحبت نہ ہو جس میں طلاق دینا ہے) اور (طلاق دینے کے بعد) تم عدت کو یاد رکھو (یعنی مرد و عورت سب یاد رکھیں، لیکن خطاب میں تخصیص صیغہ مذکر کی اشارہ اس طرف ہے کہ عورتوں میں غفلت غالب ہوتی ہے تو مردوں کو بھی اس کا اہتمام رکھنا چاہئے، کما فی المدارک) اور اللہ سے ڈرتے رہو جو تمہارا رب ہے (یعنی ان ابواب میں جو اس کے احکام ہیں ان کے خلاف نہ کرو۔ مثلاً یہ کہ تین طلاق دفعتہ مت دو اور یہ کہ حالت حیض میں طلاق مت دو جیسا کہ احادیث صحیحہ میں آیا ہے اور یہ کہ عدت میں) ان عرتوں کو ان کے (رہنے کے) گھروں سے مت نالو (کیونکہ سکنی یعنی حق سکونت مطلقہ کا مثل منکوحہ کے واجب ہے) اور نہ وہ عورتیں خود نکلیں (کیونکہ یہ سکنی محض شوہر کا حق نہیں ہے جو اس کی رضاء سے ساقط ہوجاوے بلکہ حق الشرع ہے) مگر ہاں کوئی کھلی بیحیائی کریں تو اور بات ہے (یعنی مثلاً مرتکب بدکاری یا سرقہ کی ہوں تو سزا کے لئے نکالی اجویں یا بقول بعض علماء زبان درازی اور ہمہ وقت کا تکرار رکھتی ہوں تو ان کو نکال دینا جائز ہے) اور یہ سب خدا کے مقرر کئے ہوئے احکام ہیں اور جو شخص احکام خداوندی سے تجاوز کرے گا (مثلاً اس عورت کو گھر سے نکال دیا) اس نے اپنے اوپر ظلم کیا (یعنی گناہگار ہوا آگے طلاق دینے والے کو ترغیب دیتے ہیں کہ طلاق میں طلاق رجعی بہتر ہے پس ارشاد ہے کہ اے طلاق دینے والے) تجھ کو خبر نہیں شاید اللہ تعالیٰ بعد اس (طلاق دینے) کے کوئی نئی بات (تیرے دل میں) پیدا کر دے (مثلاً طلاق پر ندامت ہو تو طلاق رجعی میں اس کا تدارک آسانی سے ہو سکے گا) پھر جب وہ [ مطلقہ) عورتیں (جبکہ ان کو طلاق رجعی دی ہو بقرینہ فامسکوہن) اپنی عدت گزرنے کے قریب پہنچ جاویں (اور عدت ختم نہیں ہوئی) تو (تم کو دو اختیار ہیں یا تو) ان کو قاعدہ کے موافق (رجعت کر کے) نکاح میں رہنے دو یا قاعدہ کے موافق ان کو رہائی دو (یعنی انقضائے عدت تک رجعت نہ کرو مطلب سے رجعت کرلو) اور (جو کچھ بھی کرو مرافقت یا مفارقت اس پر) آپس میں سے دو معتبر شخصوں کو گواہ کرلو۔ (یہ مستحب ہے کذا فی الہدایہ والنہایہ رجعت میں تو اس لئے کہ بعد انقضائے عدت کبھی عورت اختلاف کرچکا تھ) اور (اے گواہو اگر گواہی کی حاجت پڑے تو) تم ٹھیک ٹھیک اللہ کے واسطے (بلا رو رعایت) گواہی دو۔ اس ضمن سے اس شخص کو نصیحت کی جاتی ہے جو اللہ پر اور یوم قیامت پر یقین رکھتا ہو (مطلب یہ کہ ایماندار ہی نصائح سے منتفع ہوتے ہیں اور یوں تو نصائح سب کے لئے عام ہیں) اور (اوپر جو تقویٰ کا حکم ہے احکام کے بعد اس کی متعدد فضیلتیں ارشاد فرماتے ہیں، اول فضیلت یہ کہ) جو شخص اللہ سے ڈرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے لئے (مضرتوں سے) نجات کی شکل نکال دیتا ہے اور (منافع عطا فرماتا ہے چنانچہا یک بڑی منفعت ہے رزق، سو) اس کو ایسی جگہ سے رز پہنچاتا ہے جہاں اس کا گمان بھی نہیں ہوتا، اور (ایک شعبہ اس تقویٰ کا توکل ہے اس کی یہ خاصیت ہے کہ) جو شخص اللہ پر توکل کرے گا تو اللہ تعالیٰ اس (کی اصلاح مہمات) کے لئے کافی ہے (یعنی اپنی کفایت کا اثر خاص اصلاح مہمات میں ظاہر فرماتا ہے ورنہ اس کی کفایت تو تمام عالم کے لئے عام ہے اور یہ اصلاح مہمات بھی عام ہے حساً ہو یا باطنا ہو کیونکہ) اللہ تعالیٰ اپنا کام (جس طرح چاہتا ہے) پورا کر کے رہتا ہے (اور اسی طرح اصلاح مہمات کا وقت بھی اسی کے ارادہ پر ہے کیونکہ) اللہ تعالیٰ نے ہر شئے کا ایک انداز (اپنے علم میں) مقرر کر رکھا ہے (اور اسی کے موافق اس کو واقع کرنا قرین حکمت ہوتا ہے آگے پھر عود ہے احکام کی طرف یعنی اوپر تو عدت کا اجمالاً ذکر تھا) اور (تفصیل اس کی آگے ہے وہ یہ کہ) تمہاری (مطلقہ) بیبیوں میں سے جو عورتیں (بوجہ زیادت عمر کے) حیض آنے سے ناامید ہوچکی ہیں اگر تم کو (ان کی عدت کے تعین میں) شبھہ ہو (جیسا کہ واقع میں شبھہ ہوا تھا اور پوچھا تھا) تو ان کی عدت تین مہینے ہیں اور اسی طرح جن عورتوں کو (اب تک بوجہ کم عمر کے) حیض نہیں آیا (ان کی عدت بھی تین مہینے ہیں) اور حاملہ عورتوں کی عدت ان کے اس حمل کا پیدا ہوجانا ہے (خواہ کامل ہو یا ناقص بشرطیکہ کوئی عضو بن گیا ہو گو ایک انگلی ہی سہی) اور (چونکہ تقویٰ خود بھی مہتم بالشان ہے اور احکام مذکورہ میں جو کہ متعلق بمعاملات دنیا ہیں عام طبائع میں خیال ہوسکتا ہے کہ ان دنیوی معاملات کو دین سے کیا تعلق ہم جس طرح چاہیں کرلیں اس لئے آگے پھر تقویٰ کا مضمون ہے یعنی جو شخص اللہ سے ڈریگا اللہ تعالیٰ اس کے ہر کام میں آسانی کر دے گا (آخرت کی یا دنیا کی ظاہراً یا باطناً ، آگے پھر تاکید امتثال احکام کے لئے ارشاد ہے کہ) یہ (جو کچھ مذکور ہوا) اللہ کا حکم ہے جو اس نے تمہارے اس بھیجا ہے اور جو شخ (ان معاملات میں اور دوسرے امور میں بھی) اللہ تعالیٰ سے ڈریگا اللہ تعالیٰ اس کے گناہ دور کر دے گا (جو سب سے بڑی مضرت سے نجات ہے) اور اس کو بڑ اجر دے گا (جو سب سے بڑی منفعت کا حصول ہے، آگے پھر مطلقات کے احکام کا بیان ہے یعنی عدت میں علاوہ عدم تطویل عدت اور حق سکنیٰ کے ان کے کچھ اور حقوق بھی ہیں وہ یہ کہ) تم ان (مطلقہ) عورتوں کو اپنی وسعت کے موافق رہنے کا مکان دو جہاں تم رہتے ہو (یعنی عدت میں سکنی بھی مطلقہ کا واجب ہے البتہ طلاق بائن میں ایک مکان میں خلوت کے ساتھ دونوں کا رہنا جائز نہیں بلکہ پردہ حائل ہونا ضرور ہے) اور ان کو تنگ کرنے کے لئے (سکنی کے بارے میں) تکلیف مت پہنچاؤ (مثلاً کوئی ایسی بات کرنے لگو جس سے وہ پریشان ہو کر نکل جائیں) اور اگر وہ (مطلقہ) عورتیں حمل والیاں ہوں تو حمل پیدا ہونے تک ان کو (کھانے پینے کا) خرچ دو (بخلاف غیر حمل والیوں کے کہ ان کے نفقہ کی حد تین حیض یا تین ماہ ہیں اور یہ احکام تو عدت کے متعلق تھے) پھر اگر (عدت کے بعد) وہ (مطلقہ) عورتیں حمل والیاں ہوں تو حمل پیدا ہونے اور یہ احکام تو عدت کے متعلق تھے) پھر اگر (عدت کے بعد) وہ (مطلقہ) عورتیں (جبکہ پہلے سے بچہ والیاں ہوں یا بچہ ہی پیدا ہونے سے ان کی عدت ختم ہوئی ہو) تمہارے لئے (بچہ کو اجرت پر) دودھ پلا دیں تو تم ان کو (مقررہ) اجرت دو اور (اجرت کے بارے میں) باہم مناسب طور پر مشورہ کرلیا کرو (یعنی نہ تو عورت اس قدر زیادہ مانگے کہ مرد کو دوسری انا ڈھونڈھنی پڑے اور نہ مرد اس قدر کم دینا چاہے کہ عورت کا کام نہ چل سکے بلکہ حتی الامکان دونوں اس کا خیال رکھیں کہ ماں ہی دودھ پلاوے کہ بچہ کی اس میں زیادہ مصلحت ہے) اور اگر تم باہم کشمکش کرو گے تو کوئی دوسری عورت دودھ پلاوے گی (مقصود اس خبر سے امر ہے یعنی اور کسی انا کو تلاش کرلیا جاوے نہ ماں کو جبور کیا جاوے نہ باپ کو اور صورة خبر میں یہ نکتہ ہے کہ مرد کو کم اجرت تجویز کرنے پر عتاب ہے کہ آخر کوئی عورت پلاوے گی اور وہ بھی غالباً بہت کم نہ لے گی پھر یہ کمی ماں ہی کے لئے کیوں تجویز کی جاوے اور عورت کو زیادہ اجرت مانگنے پر عتاب ہے کہ تو نہ پلاوے گی اور کوئی میسر ہو جاویگی کیا دنیا میں ایک تو ہی ہے جو اس قدر گراں بنتی ہے آگے بچہ کے نفقہ کے بارے میں ارشاد ہے کہ) وسعت والے کو اپنی وسعت کے موافق (بچہ پر) خرچ کرنا چاہئے اور جس کی آمدنی کم ہو تو اس کو چاہئے کہ اللہ نے اس کو جتنا دیا ہے اس میں سے خرچ کرے (یعنی امیر آدمی اپنی حیثیت کے موافق خرچ اٹھاوے اور غریب آدمی اپنی حیثیت کے موافق کیونکہ) اللہ تعالیٰ کسی شخص کو اس سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا جتنا اس کو دیا ہے (اور تنگدست آدمی خرچ کرتا ہوا اس سے نہ ڈرے کہ خرچ کرنے سے بالکل ہی کچھ نہ رہے گا جیسا بعضے آدمی اس خوف سے اولاد کو قتل کر ڈالتے ہیں پس ارشاد ہے کہ) خدا تعالیٰ تنگی کے بعد جلدی فراغت بھی دے گا (گو بقدر ضرورت و حاجت روائی سہی، و ہذا کقولہ تعالیٰ ولاتفتلوا ولا دکم خشیہ املاق نحن نور فھم وایاکم) معارف و مسائل نکاح و طلاق کی شرعی حیثیت اور ان کا حکیمانہ نظام۔ معارف القرآن جلد اول ص 05 میں سورة بقرہ کی تفسیر میں اسی عنوان مذکور کے تحت میں پوری تفصیل لکھی جا چکی ہے اس کو ملاحظہ فرمالیں جس کا خلاص ہیہ ہے کہ نکاح و طلاق کا معاملہ ہر مذہب و ملت میں عام معاملات بیع و شراء اور اجارہ کی طرح نہیں کہ طرفین کی رضا مندی سے جس طرح چاہیں کرلیں بلکہ ہر مذہب و ملت کے لوگ ہمیشہ سے اس پر متفقہ ہیں کہ ان معاملات کو ایک خاص مذہبی تقدس حاصل ہے اسی کی ہدایت کے تحت یہ کام سر انجام پانے چاہئیں۔ اہل کتاب یہود و نصاریٰ تو بہرحال ایک آسمانی دین اور آسمانی کتاب سے نسبت رکھتے ہیں ان میں سینکڑوں تحریفات کے باوجود اتنی قدر مشترک اب بھی باقی ہے کہ ان معاملات میں کچھ مذہبی حدود وقیود کے پابند ہیں۔ کفار و مشرکین جو کوئی آسمانی کتاب اور مذہب نہیں رکھتے مگر کسی نہ کسی صورت میں اللہ تعالیٰ کے قائل ہیں جیسے ہندو، آریہ، سکھ، محبوس، آتش پرست، نجوم پرست لوگ وہ بھی نکاح و طلا کے معاملات کو عام معاملات بیع و شراءیا اجارہ کی طرح نہیں سمجھتے ان کے یہاں بھی کچھ مذہبی رسوم ہیں جن کی پابندی ان معاملات میں لازم سمجھتے ہیں اور انہیں اصول و رسوم پر تمام مذاہب و فرق کے عائلی قوانین چلتے ہیں۔ صرف دہر یہ اور لامذہب منکر خدا لوگوں کا ایک فرقہ ہے جو خداو مذہب ہی سے بیزار ہے وہ ان چیزوں کو بھی اجارہ کی طرح باہمی رضامندی سے طے ہوجانے الا ایک معاملہ قرار دیتے ہیں جس کا مقصد اپنے شہوانی جذبات کی تسکین سے آگے کچھ نہیں۔ افسوس ہے کہ آج کل دنیا میں یہی نظریہ عام ہوتا جاتا ہے جس نے انسانوں کو جنگل کے جانوروں کی صف میں کھڑا کردیا ہے۔ انا للہ والیہ المشتکے شریعت اسلام ایک مکمل اور پاکیزہ نظام حیات کا نام ہے۔ اس میں نکاح کو صرف ایک معاملہ اور معاہدہ نہیں بلکہ ایک گونہ عبادت کی حیثیت بخشی ہے جس میں خالق کائنات کی طرف سے انسانی فطرت میں رکھے ہوئے شہوانی جذبات کی تسکین کا بہترین اور پاکیزہ سامان بھی ہے اور مرد و عورت کے ازدواجی تعلقات سے جو عمرانی مسائل بقائے نسل اور تربیت اولاد کے متعلق ہیں ان کا بھی معتدلانہ اور حکیمانہ بہترین نظام موجود ہے۔ اور چونکہ معاملہ ازدواج کی درستی پر عام نسل انسانی کی درستی موقوف ہے اس لئے قرآن کریم میں ان عائلی مسائل کو تمام دوسرے معاملات سے زیادہ اہمیت دی ہے۔ قرآن کریم کو بغور پڑھنے والا یہ عجیب مشاہدہ کرے گا کہ دنیا کے عام معاشی مسائل میں سب سے اہمت تجارت شرکت اجارہ وغیرہ۔ قرآن حکیم نے ان کے تو صرف اصول بتلانے پر اکتفا فرمایا ہے ان کے فروعی مسائل قرآن میں شاذ و نادر ہیں۔ بخلاف نکاح و طلاق کے کہ ان میں صرف اصول بتلانے پر اکتفا نہیں فرمایا بلکہ ان کے بیشتر فروع اور زئیات کو بھی براہ راست حق تعالیٰ نے قرآن کریم میں نازل فرمایا ہے۔ یہ مسائل قرآن کی اکثر سورتوں میں متفرق اور سورة نساء میں کچھ زیادہ تفصیل سے آئے ہیں یہ سورت جو سورة طلاق کے نام سے موسوم ہے اس میں خصوصیت سے طلاق اور عدت وغیرہ کے احکام کا ذکر ہے اسی لئے بعض روایات حدیث میں اس کو سورة نساء صغریٰ بھی کہا گیا ہے یعنی چھوٹی سورة نسائ (قرطبی بحوالہ بخاری) اسلامی اصول کا رخ یہ ہے کہ جن مرد و عورت میں اسلامی اصول کے مطابق ازدواجی تعلق قائم ہو وہ پائیدا اور عمر بھر کا رشتہ ہو جس سے ان دونوں کا دنیا و دنیا بھی درست ہو اور ان سے پیدا ہونے والی اولاد کے اعمال و اخلاق بھی درست ہوں۔ اسی لئے نکاح کے معاملے میں شروع سے آخر تک ہر قدم پر اسلام کی ہدایات یہ ہیں کہ اس تعلق کو تلخیوں اور رنجشوں سے پاک صاف رکھنے کی اور اگر کبھی پیدا ہوجائے تو ان کے ازالہ کی پوری کوشش کی گی ہے۔ لیکن ان تمام کوششوں کے باوجودبعض اوقات طرفین کی زندگی کی فلاح اسی میں منحصر ہوجاتی ہے کہ یہ تعلق ختم کردیا جائے جن مذاہب میں طلاق کا اصول نہیں ہے ان میں ایسے اوقات میں سخت مشکلات کا سامنا ہوتا ہے اور بعض اوقات انتہائی برے نتائج سامنے آتے ہیں اس لئے اسلام نے قانین نکاح کی طرح طلاق کے بھی اصول و قواعد مقرر فرمائے مگر ساتھ ہی یہ ہدایات بھی دیدیں کہ طلاق اللہ تعالیٰ کے نزدیک نہایت مبغوض و مکروہ کام ہے جہاں تک ممکن ہو اس سے پرہیز کرنا چاہئے، حدیث میں بروایت حضرت عبداللہ بن عمر منقول ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ حلال چیزوں میں سب سے زیادہ مبغوض اللہ کے نزدیک طلاق ہے اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ تزوجواہ تطلقوافان الطلاق یھتزمنہ عرش الرحمٰن یعنی نکاح کرو اور طلاق نہ دو کیونکہ طلاق سے عرش رحمن ہل جاتا ہے اور حضرت ابوموسی کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ عورتوں کو طلاق نہ دو بغیر کسی بدکاری کے کیونکہ اللہ تعالیٰ ان مردوں کو پسند نہیں کرتا جو صرف ذائقہ چکھنے والے ہیں اور ان عورتوں کو پسند نہیں کرتا جو صرف ذائقہ چکھنے والی ہیں (قرطبی بروایت ثعلبی) اور دارقطنی نے حضرت معاذ بن جبل سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ نے زمین پر جو کچھ پیدا فرمایا ہے ان سب میں اللہ کے نزدیک محبوب غلاموں کو آزاد کرنا ہے اور جتنی چیزیں زمین پر پیدا کی ہیں ان سب میں مبغوض و مکروہ طلاق ہے (از قرطبی) بہرحال اسلام نے اگرچہ طلاق کی حوصلہ افزائی نہیں کی بلکہ تابمقدور اس سے روکا ہے لیکن بعض ضرورت کے مواقع میں اجازت دی تو اس کے لئے کچھ اصول و قواعد بنا کر اجازت دی۔ جن کا حاصل یہ ہے کہ اس رشتہ ازدواج کو ختم ہی کرنا ضروری ہوجائے تو وہ بھی خوبصورتی اور حسن معاملہ کے ساتھ انجام پائے محض غصہ نکالنے اور انتقامی جذبات کا کھیل بنانے کی صورت نہ بننے پائے۔ اس سورت میں احکام طلاق کو اس طرح شروع کیا گیا کہ اول رسول اللہ ﷺ کو يٰٓاَيُّهَا النَّبِيُّ کے عنوان سے خطاب کیا گیا جو امام قرطی کے بیان کے مطباق ان مواقع میں اسعتمال ہوتا ہے جہاں حکم تمام امت کے لئے عام اور جس جگہ کوئی حکم رسول کی ذات سے متعلق ہوتا ہے تو وہاں یایھا الرسول سے خطاب کیا جاتا ہے۔ اس جملہ يٰٓاَيُّهَا النَّبِيُّ کا تقاضا یہ تھا کہ آگے بھی بصیغہ مفرد احکام کا بیان ہوتا مگر یہاں اس کے خلاف بصیغہ جمع خطاب فرمایا اِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاۗء جو اگرچہ بلاواسطہ خطاب نبی کریم ﷺ کو ہے اور بصیغہ جمع خطاب کرنے میں آنحضرت ﷺ کی تعظیم و تکریم بھی ہے سات ھہی اس طرف اشارہ بھی کہ یہ حکم آپ کے لئے مخصوص نہیں تمام امت اس میں شریک ہے۔ اور بعض حضرات نے اس جگہ جملہ محذوف قرار دے کر آیت کی تفسیر یہ کی ہے يٰٓاَيُّهَا النَّبِيُّ اِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاۗ یعنی اے نبی آپ مسلمانوں کو بتلا دیں کہ جب وہ طلاق دیا کریں تو آگے بیان کئے ہوئے قانون کی پابندی کریں۔ اوپر خلاصہ تفسیر میں اسی کو اختیار کیا گیا ہے۔ آگے بعض احکام طلاق کا بیان ہے۔ پہلا حکم۔ فَطَلِّقُوْهُنَّ لِعِدَّتِهِن عدت کے لفظی معنے عدد شمار کرنے کے ہیں۔ شرع اصطلاح میں اس مدت کو کہا جاتا ہے جس میں عورت ایک شوہر کے ناح سے نکلنے کے بعد دوسرے نکاح سے ممنوع ہوتی ہے۔ اس مدت انتظار کو عدت کہا جاتا ہے اور کسی شوہر کے نکاح سے نکلنے کی صورتیں دو ہوت ہیں ایک یہ کہ شوہر کا انتقال ہوجائے، اس کی عدت کو عدت وفات کہا جاتا ہے جو غیر حاملہ کے لئے چار ماہ دس دن مقرر ہے۔ دوسری صورت نکاح سے نکلنے کی طلاق ہے۔ عدت طلاق غیر حاملہ عورت کے لئے امام اعظم ابوحنفہ اور بعض دوسرے ائمہ کے نزدیک تین حیض پورے ہیں اور امام شافعی اور بعض دوسرے ائمہ کے نزدیک تین طہر عدت طلاق ہے بہرحال اس کے لئے کچھ ایام یا مہینے مقرر نہیں جتنے مہینوں میں تین حیض یا تین طہر پورے ہوجاویں وہ ہی عدت طلاق ہوگی اور جن عورتوں کو ابھی کم عمری کی وجہ سے حیض نہیں آیا یا زیادہ عمر ہوجانے کے سبب حیض منقطع ہوچکا ہے ان کا حکم آگے مستقلاً آ رہا ہے اور اسی طرح حمل والی عورتوں کا حکم بھی آگے آ رہا ہے اس میں عدت وفات اور عدت طلاق دونوں یکساں ہیں۔ فطلقوھن لعدتھن اور صحیح مسلم کی حدیث میں ہے کہ رسول ﷺ نے اس کو فطلقوھن لقبل عدتھن تلاوت فرمائی اور حضرت ابن عمر اور ابن عباس ؓ کی قراءت میں بھی ایک روایت میں لقبل عدتھن اور دوسری ایک روایت میں فی قبل عدتھن منقول ہے۔ (روح) اور صیحین بخاری و مسلم میں حضرت عبداللہ بن عمر سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنی عورت کو بحالت حیض طلاق دے دیتھی۔ حضرت فاروق اعظم نے اس کا ذکر رسول اللہ ﷺ سے کیا تو آپ سخت ناراض ہوئے پھر فرمایا۔ ان کو چاہئے کہ بحالت حیض دی ہوئی طلاق سے رجوع کرلیں پھر اپنی زوجیت میں رکھیں یہاں تک کہ حیض سے طہارت ہوجائے اور پھر اس کے بعد حیض آئے اس حیض سے طہارت ہوجائے اس وقت اگر طلاق دینا ہی ہے تو اس طہر میں مباشرت و صحبت کئے بغیر طلاق دیدیں۔ یہی وہ عدت ہے جس کا اللہ تعالیٰ نے آیت (مذکورہ) میں حکم دیا ہے۔ اس حدیث سے چند باتیں ثابت ہوئیں اول یہ کہ حالت حیض میں طلاق دینا حرام ہے دوسرے یہ کہ اگر کسی نے ایسا کرلیا تو اس طلاق سے رجعت کرلینا واجب ہے (بشرطیکہ طلاق قابل رجعت ہو جیسا کہ ابن عمر کے واقعہ میں تھی) تیسرے یہ کہ جس طہر میں طلاق دینا ہے اس میں عورت سے مباشرت و صحبت نہ ہو۔ چوتھے یہ کہ آیت قرآنی فَطَلِّقُوْهُنَّ لِعِدَّتِهِن کی یہی تفسیر ہے۔ آیت مذکورہ کی دونوں قراتوں سے پھر ایک روایت حدیث سے آیت مذکورہ کا یہ مفہوم متعین ہوگیا کہ جب کسی عورت کو طلاق دینا ہو تو عدت شروع ہونے سے قبل طلاق دی جائے۔ امام اعظم ابوحنیفہ کے نزدیک چونکہ عدت حیض سے شروع ہوتی ہے تو معنے آیت کے یہ قرار دیئے کہ جس طہر میں طلاق دینے کا ارادہ ہو اس میں عورت سے مباشرت نہ کرے اور آخر طہر میں حیض شروع ہونے سے پہلے طلاق دیدے اور امام شافعی وغیرہ کے نزدیک چونکہ عدت طہر ہی سے شروع ہوتی اس لئے لقبل عدتھن کا مفہوم یہ قرار دیا کہ بالکل شروع طہر میں طلاق دے دیجائے اور یہ بحث کہ عدت تین حیض ہیں یا تین طہر اس کا بیان سورة بقرہ کی آیت ثلثتہ قروء کی تفسیر میں گزر چکا ہے۔ بہرحال طلاق کے متعلق پہلا حکم اس آیت سے باجماع امت یہ ثابت ہوا کہ حالت حیض میں طلاق دینا بھی حرام ہے اور ایسے طہر میں جس میں عورت کے ساتھ مباشرت و صحبت کرلی ہو اس میں بھی طلاق دینا حرام ہے اور وجہ حرمت کی دونوں میں یہ ہے کہ ان دونوں صورتوں میں عورت کی عدت طویل ہوجائے گی جو اس کے لئے باعث تکلیف ہے کیونکہ جس حیض میں طلاق دی یہ حیض تو عدت میں شمار نہیں ہوگا بلکہ حیض کے ایام پورے ہوں اور مذہب ابوحنیفہ کے مطابق اسکے بعد کا طہر بھی خال گزرے پھر جب دوسرا حیض آئے تو اس وقت عدت شروع ہوگی جس میں بڑی تطویل ہے اور مذہب شافعی کے مطابق بھی کم از کم حیض کے بقیہ ایام جو عدت سے پہلے گزریں گے وہ زیادہ ہوجائیں گے۔ طلاق کا یہ پہلا حکم ہے اس اہم ہدایت پر مشتمل ہے کہ طلاق کوئی غصہ نکالنے یا انتقام کی چیز نہیں بلکہ بدرجہ مجبوری طرفین کی راحت کا انتظام ہے اس لئے طلاق دینے کے وقتہی سے اس کا خیال رکھنا ضروری ہے کہ عورت کو طول عدت کے بلاوجہ تکلیف نہ پہنچے اور یہ حکم صرف ان عورتوں کے لئے ہیں جن پر عدت گزارنا حیض یا طہر سے لازم ہے اور جن عورتوں پر عدت واجب ہی نہیں مثلاً وہ عورت جس سے خلوت ہی ابھی تک نہیں ہوئی اس پر سرے سے عدت ہی لازم نہیں اس کو حالت حیض میں بھی طلاق دے دیجائے تو جائز ہے اسی طرح وہ عورت جس کو کم عمری یا زیادتی عمر کے سبب حیض نہیں آت اس لئے اس کی عدت میں حیض و طہر کا کوئی اعتبار ہی نہیں بلکہ ان کی عدت مہینوں کے حساب سے تین ماہ ہے ان کو کسی بھی حالت میں طلاق دے دیجائے یا صحبت و مباشرت کے عبد طلاق دے دیجائے سب جائز ہے جیسا کہ آئندہ آیات میں آ رہا ہے۔ (از مظہری مع بعض تشریحات) دوسرا حکم َ وَاَحْصُوا الْعِدَّةَ ہے۔ احصاء کے معنے شمار کرنے کے ہیں۔ معنے آیت کے یہ ہیں کہ عدت کے ایام کو اہتمام کے ساتھ یاد رکھنا چاہئے ایسا نہ کہ بھول میں پڑ کر اختتام عدت سے پہلے ہی ختم سمجھ لے اور یہ ذمہ داری ایام عدت کو محفوظ رکھنے کی مرد و عورت دونوں پر عائد ہے مگر یہاں صیغہ مذکر استعمال کیا گیا کیونکہ عام طور پر جو احکام مرد و عورت میں مشترک ہیں ان میں عموماً خطاب بصیغہ مذکر ہی آتا ہے عورتیں تبعاً اس میں داخل سمجھی جاتی ہیں اور اس خاص مسئلہ میں وہ حکمت بھی ہو سکتی ہے جو خلاصہ تفسیر میں لکھی گئی ہے کہ عورتوں میں غفلت کا احتمال زیادہ ہے اس لئے براہ راست ذمہ داری مردوں پر ڈال دی گئی۔ تیسرا حکم لَا تُخْرِجُوْهُنَّ مِنْ بُيُوْتِهِنَّ وَلَا يَخْرُجْن (نہ نکالو ان کو ان کے گھروں سے) اس میں لفظ بیوتھن میں (مکانات) کو ان عورتوں کے بیوت فرما کر اس طرف اشارہ کیا کہ جب تک ان کا حق سکنی (سکونت) مرد کے ذمہ ہے اس گھر میں اس کا حق ہے اس میں سکوتن کو بحال رکھنا کوئی احسان نہیں بلکہ ادائیگی واجب ہے بیوی کے حقوق میں سے ایک حق سکنی بھی ہے۔ اس آیت نے بتلا دیا کہ یہ حق صرف طلاق دیدینے سے ختم نہیں ہوجاتا بلکہ ایام عدت تک عورت کو اسی جگہ رہنے کا استحقاق ہے اور ان کا گھر سے نکال دینا قبل اتمام عدت کے ظلم و حرام ہے اسی طرح خود ان کے لئے با اختیار خود ان گھروں سے نکل جانا بھی حرام ہے اگرچہ شوہر بھی اس کی اجازت دیدے کیونکہ ایام عدت اسی مکان میں گزارنا شوہر ہی کا حق نہیں بلکہ حق اللہ بھی ہے۔ جو منجانب اللہ معتدہ پر لازم ہے (ہذا ہو مذہب الخفیتہ) چوتھا حکم َ اِلَّآ اَنْ يَّاْتِيْنَ بِفَاحِشَةٍ مُّبَيِّنَةٍ یعنی معتدہ عورتوں کو ان کے گھروں سے نکالنا حرام عے مگر اس میں سے یہ صورت مستثنیٰ ہے کہ عورت کسی کھلی بےحیائی میں مبتلا ہو ائے۔ اس کھلی بےحیائی سے کیا مراد ہے اس میں ائمہ تفسیر کے تین قول منقول ہیں۔ اول یہ کہ بےحیائی سے مراد خود یہی گھر سے نکل جانا ہے تو اس صورت میں یہ استثناء صرف صورة استثناء ہے جس سے خروج من البیت کی اجازت دینا مقصود نہیں بلکہ اس کی ممانعت کو اور زیادہ موکد کرنا ہے اس کی مثال ایسی ہے جیسے یہ کہا جائے کہ فلاں کام کسی کو نہیں کرنا چاہئے بجز اس کے کہ وہ آدمیت ہی سے نکل جائے، یا کہ اپنی ماں کو گالی نہ دو بجز اس کے کہ تم ماں کے بالکل ہی نافرمان ہوجاؤ تو یہ ظاہر ہے کہ پہلی مثال میں اس صورت استثاء سے اس فعل کا جواز بتلانا منظور نہیں اور دوسری مثال میں ماں کی نافرمانی کا جواز ثابت کرنا نہیں بلکہ بلیغ انداز میں اس کی اور بھی زیادہ ممانعت و شناعت کا بیان ہے تو خلاصہ مضمون آیت اس صورت میں یہ ہوا کہ مطلقہ عوتیں اپنے شوہروں کے گھروں سے نہ نکلیں مگر یہ کہ وہ بےحیائی ہی پر اتر آئیں اور نکل بھاگیں تو اس کا مطلب نکل بھاگنے کا جواز نہیں بلکہ اور زیادہ مذمت اور ممانعت کا اثبات ہے۔ فاحشہ مبینہ کی یہ تفصیر حضرت عبداللہ بن عمر، سدی، ابن النسائب نخعی وغیرہ سے منقول ہے اور امام اعظم ابوحنیفہ نے اسی کو اختیار فرمایا ہے (روح المعانی) دوسرا قول یہ ہے کہ فاحشہ مبینہ سے مراد زنا اور بدکاری ہے اس صورت میں استثناء اپنے معنی میں ہے کہ اگر مطلقہ عورت نے زنا کیا اور جرم اس پر ثابت ہوگیا تو اس کو حد شرعی جاری کرنے کے لئے لامحالہ بیت عدت سے نکالا جائیگا۔ یہ تفسیر حضرت قتادہ، حسن صری، شعبی، زید بن اسلم اور ضحاک و عکرمہ وغیرہ سے منقول ہے امام ابویوسف نے اسی قول کو اختیار کیا ہے۔ تیسرا قول یہ ہے کہ فاحشہ مبینہ سے مراد زبان درازی اور لڑائی جھگڑا ہے تو معنے آیت کے یہ ہوں گے کہ مطلقہ عورتوں کو ان کے گھروں سے نکالنا جائز نہیں بجز اس صورت کے کہ عورت بد زبان جھگڑا لو ہو اپنے شوہر اور اس کے متعلقین سے بد زبانی کے ساتھ پیش آئے تو ایسی صورت میں اس کو مکان عدت سے نکالا جاسکتا ہے۔ فاحشہ مبینہ کی یہ تفسیر حضرت ابن عباس سے بروایت متعددہ منقول ہے اور آیت مذکور میں حضرت ابی بن کعب اور عبداللہ بن مسعود کی قرائت اس طرح ہے الا ان یفحش اس لفظ کے ظاہری معنی فحش کلام اور بد زبانی کے ہیں۔ اس قراءت سے بھی آخری تفسیر کی تائید ہوتی ہے (روح) اس صورت میں بھی استثاء اپنی حقیقت پر رہے گا کہ بد زبانی اور جھگڑا کرنے کی صورت میں مطلقہ کو مکان عدت سے نکالا جاسکتا ہے۔ یہاں تک طلاق کے متعلق چار احکام کا بیان آیا ہے اور آگے مزید احکام بیان ہوں گے مگر ان کے درمیان میں احکام مذکورہ کی پابندی کی تاکید اور اس کی مخالفت سے بچنے کے لئے چند وعظ و نصیحت کے جملے ب یان ہوتے ہیں یہ قرآن حکیم کا خاص اسلوب ہے کہ ہر حکم کے بعد اللہ تعالیٰ کے خوف اور آخرت کی فکر یاد دلا کر اس کی خلاف ورزی کو روکا گیا ہے کہ کیونکہ میاں بیوی کا رشتہ اور باہمی حقوق کی پوری ادائیگی کا انتظام کسی قانون کے ذریعہ نہیں ہوسکتا اس کے لئے خوف خدا و آخرت ہی روکنے والی چیز ہے۔ (آیت) وَتِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ ۭ وَمَنْ يَّتَعَدَّ حُدُوْدَ اللّٰهِ فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَهٗ ۭ لَا تَدْرِيْ لَعَلَّ اللّٰهَ يُحْدِثُ بَعْدَ ذٰلِكَ اَمْرًا، حدود اللہ سے مراد شریعت کے مقرر کردہ قوانین ہیں۔ ومن یتعد یعنی جو شخص حدود اللہ میں تعدی کرے یعنی ان حدود و احکام کی خلاف ورزی کرے فقد ظلم نفسہ، تو اس نے اپنی جان پر ظلم کیا، یعنی اللہ کا یا شریعت اسلام کا کچھ نہیں بگاڑا اپنا ہی نقصان کیا ہے اور یہ نقصان عام ہے دینی بھی اور دنیاوی بھی، دینی نقصان تو اس میں خلاف شروع کرنے کا گناہ اور اس کا وبال آخرت ہے اور دنیوی نقصان یہ ہے کہ جو شخص شرعی ہدایات کے بغیر طلاق دے بیٹھتا ہے وہ اکثر تین طلاقوں تک پہنچ جاتا ہے جس کے بعد آپس میں رجوع یا نکاح جدید بھی نہیں ہوسکتا اور آدمی اکثر طلاق دینے کے بعد پچھتاتا ہے اور مصیبت جھیلتا ہے خصوصاً جبکہ صاحب اولاد بھی ہو، اس لئے یہ مصیبت دنیا ہی میں اپنی جان پر پڑی اور بہت سے لوگ جو بیوی کو تکلیف دینے اور نقصان پہنچانے کی نیت سے ظالمانہ طلاق دیتے ہیں گو اس کی تکلیف عورت کو بھی کچھ پہنچ جائے لیکن اس کے لئے ظلم پر ظلم اور دوہرا وبال ہوجائے گا ایک اللہ کی مقرر کردہ حدود کو توڑنے کا دوسرے عورت پر ظلم کرنے کا جس کی حقیت یہ ہے کہ پنداشت ستمگر جفا برما کرد برگر دن وے بماندو برمابگذشت لَا تَدْرِيْ لَعَلَّ اللّٰهَ يُحْدِثُ بَعْدَ ذٰلِكَ اَمْرًا یعنی تم نہیں جانتے شاید اللہ تعالیٰ اس غیظ و غضب کے بعد کوئی دوسری حالت پیدا فرما دیں کہ بیوی سے جو راحتیں ملتی تھیں اور اولاد کی پرورش اور گھر کے انتظام کی سہولتیں تھیں ان کا خیال کر کے تم پھر اپنی طلاق پر پچھتاؤ اور دوبارہ اس کو نکاح میں رکھنے کا ارادہ کرو تو دوبارہ نکاح میں رہنے کی صورت جبھی ہو سکتی ہے جبکہ تم طلاق کے وقت حدود شرعیہ کی رعایت کرو کہ بلاوجہ طلاق کو باسن نہ کرو بلکہ رجعی رہنے دو جس میں رجعت کرنے کا شوہر کو اختیار ہوتا ہے رجعت کرلینے سے پہلا نکاح بدستور قائم رہ جاتا ہے اور یہ کہ تین طلاق تک نوبت نہ پہنچا دو جسکے بعد رجعت کا حق نہیں رہتا اور دونوں کی رضامندی کے باوجود آپس میں دوبارہ نکاح بھی شرعاً حلال نہیں ہوتا۔
Ayah 65:2

فَاِذَا بَلَغْنَ اَجَلَهُنَّ فَاَمْسِكُوْهُنَّ بِمَعْرُوْفٍ اَوْ فَارِقُوْهُنَّ بِمَعْرُوْفٍ وَّ اَشْهِدُوْا ذَوَیْ عَدْلٍ مِّنْكُمْ وَ اَقِیْمُوا الشَّهَادَةَ لِلّٰهِ١ؕ ذٰلِكُمْ یُوْعَظُ بِهٖ مَنْ كَانَ یُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ١ؕ۬ وَ مَنْ یَّتَّقِ اللّٰهَ یَجْعَلْ لَّهٗ مَخْرَجًاۙ Open ayah 65:2 in the Quran reader

پھر جب پہنچیں اپنے وعدہ کو تو رکھ لو ان کو دستور کے موافق یا چھوڑ دو ان کو دستور کے موافق اور گواہ کرلو دو معتبر اپنے میں کے اور سیدھی ادا کرو گواہی اللہ کے واسطے یہ بات جو ہے اس سے سمجھ جائے گا جو کوئی یقین رکھتا ہوگا اللہ پر اور پچھلے دن پر اور جو کوئی ڈرتا ہے اللہ سے وہ کر دے اس کا گزارہ

(آیت) فَاِذَا بَلَغْنَ اَجَلَهُنَّ فَاَمْسِكُوْهُنَّ بِمَعْرُوْفٍ اَوْ فَارِقُوْهُنَّ بِمَعْرُوْف، اجلھن میں لفظ اجل بمعنے عدت ہے اور بلوغ اجل سے مراد عدت کا اختتام کے قریب ہونا ہے۔ طلاق کے متعلق پانچواں حکم اس آیت میں یہ ارشاد ہوا ہے کہ جب مطلقہ بیوی کی عدت ختم کے قریب پہنچے تو اب نکاح سے نکل جانے کا وقت آ گیا اس وقت تک وقتی تاثرات اور غم و غصہ کی کیفیت بھی ختم ہوجانی چاہئے اس وقت پھر سنجیدگی کے ساتھ غور کرلو کہ نکاح رکھنا بہتر ہے ای اس کا بالکل منقطع کردینا اگر نکاح میں رکھنے کی رائے ہوجائے تو اس کو روک لو جس کی مسنون صورت اگلی آیت کے اشارہ اور حدیث کے ارشاد کے مطابق یہ ہے کہ زبان سے کہہ دو کہ میں نے اپنی طلاق سے رجوع کرلیا اور اس پر دو گواہ بھی بنا لو۔ اور اگر اب بھی یہی رائے قائم ہو کہ نکاح ختم کرنا ہے تو پھر اس کو خوبصورتی کے ساتھ آزاد کردو۔ یعنی عدت ختم ہوجانے دو عدت پوری ہوتے ہی وہ آزاد دو خودم ختار ہوجائے گی۔ چھٹا حکم۔ اختتام عدت کے وقت، بیوی کو روکنا اور نکاح میں رکھنا طے ہو یا آزاد کردینا، دونوں میں قرآن کریم نے بمعروف کی قید لگا دی ہے۔ معروف کے لفظی معنے پہچانا ہوا طریقہ اور مراد اس سے یہ ہے کہ جو طریقہ شریعت و سنت سے ثابت اور اسلام اور مسلمانوں میں عام طور پر معروف ہے وہ اختیار کرو وہ یہ ہے کہ اگر نکاح میں رکھنا اور رجعت کرنا طے کرو تو آگے اس کو زبانی یا عملی ایذاء نہ پہنچاؤ اور اس پر احسان نہ جتلاؤ اور اس کی جو عملی یا اخلاقی کمزوری طلاق کا سبب بن رہی تھی آگے خود بھی اس پر صبر کرنے کا عزم کرلو تاکہ پھر وہ تلخی پیدا نہ ہو، اور اگر آزاد کرنا طے ہو تو اس میں معروف و مسنون طریقہ یہ ہے کہ اس کو ذلیل و خوار کر کے یا برا بھلا کہہ کر گھر سے نکالو بلکہ حسن اخلاق کے ساتھ رخصت کرو اور جیسا کہ قرآن کریم کی دوسری آیات سے ثابت ہے چلتے وقت اس کو کوئی جوڑا کپڑے کا دے کر رخصت کرنا کم از کم مستحب ضرور ہے۔ بعض صورتوں میں واجب بھی ہے جس کی تفصیل کتب فقہ میں ہے۔ ساتواں حکم آیت مذکورہ میں روکنے یا آزاد کرنے کے دو اختیار دینے سے نیز اس سے پہلی آیت میں لعل اللہ یحدث بعد ذلک امراً سے ضمنی طور پر یہ مستفاد ہوا کہ منشاء رباین یہ ہے کہ طلاق دینے کی مجبوری ہی پیش آجائے تو طلاق ایسی دی جائے جس میں رجعت کرنے کا حق باقی رہے جس کی مسنون صورت یہ ہے کہ صاف لفظوں میں صرف ایک طلاق دیدے اور اس کے ساتھ اظہار غیظ و غضب کے لئے ایسا کوئی لفظ نہ بولے جو رشتہ نکاح کو بالکیہ منقطع کردینے پر دلالت کرتا ہو مثلاً کہہ دے کہ میرے گھر سے نکل جاؤ۔ یا کہہ دے تمہیں بہت سخت طلاق دیتا ہوں یا کہہ دے کہ اب میرا تم سے کوئی تعلق نکاح کا باقی نہیں ایسے الفاظ اگر طلاق صریح کے ساتھ بھی کہہ دیئے جاویں یا خود یہی ال فاظ بہ نیت طلاق کہہ دیئے جاویں تو اس سے رجعت کا حق باطل ہوجاتا ہے۔ یہ اصطلاح شرع میں طلاق بائن ہوجاتی ہے جس سے نکاح فوراً ٹوٹ جاتا ہے اور رجعت کا حق باقی نہیں رہتا اور اس سے زیادہ اشدیہ ہے کہ طلاق کو تین کے عدد تک پہنچا دے کہ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ شوہر کا صرف حق رجعت ہی سلب نہیں ہوجائے گا بلکہ آئندہ اگر مرد و عورت دونوں راضی ہو کر باہم نکاح بھی کرنا چاہیں تو نکاح جدید بھی نہ ہو سکے گا جیسا کہ سورة بقرہ کی آیت میں ہے۔ (آیت) فان طلقھا فلاتحل لہ من بعد حتی تنکح زوجا غیرہ۔ تین طلاق بیک وقت دینا حرام ہے مگر کسی نے ایسا کیا تو تینوں طلاق واقع ہوجائیں گی اس پر امت کا اجماع ہے۔ آج کل دین سے بےپرواہی اس کے احکام سے غفلت بری طرح عام ہوتی جاتی ہے جاہلوں کا تو کہنا کیا ہے لکھے پڑھے عرائض نویس بھی تین طلاق سے کم کو گویا طلاق ہی نہیں سمجھتے اور رات دن اس کا مشاہدہ ہوتا ہے کہ تین طلاقیں دینے والے بعد میں پچھتاتے ہیں اور اس فکر میں رہتے ہیں کہ کسی طرح بیوی ہاتھ سے نہ جائے۔ حدیث صحیح میں تین طلاق بیک وقت دینے پر وسل اللہ ﷺ کا سخت غضبناک ہونا امام نسائی نے بروایت محمود بن لبید نقل کیا ہے اسی لئے بیک وقت تین طلاق دینا باجماع امت حرام و ناجائز ہے اور اگر کوئی شخص تین طہر میں الگ الگ تین طلاقوں تک پہنچ جائے تو اس کے ناپسندیدہ ہونے پر بھی امت کا اجماع اور خود قرآن کی آیات کے اشارے سے ثابت ہے صرف اس میں اختلاف ہے کہ یہ صورت بھی حرام و ناجائز اور طلاق بدغی میں داخل ہے یا ایسا نہیں، امام مالک کے نزدیک حرام ہے اور امام اعظم ابوحنیفہ و شافعی حرام تو نہیں کہتے یعنی اس صورت کو طلاق بدعی میں شمار نہیں کرتے بلکہ طلاق سنت میں داخل سمجھتے ہیں مگر ناپسندیدہ فعل ان کے نزدیک بھی ہے تفصیل اس کی سورة بقرہ کی تفسیر معارف القرآن جلد اول ص 405 میں مذکور ہے۔ مگر جس طرح تین طلاق بیک وقت دینے کے حرام ہونے پر پوری امت کا اجماع ہے اسی طرح اس پر بھی اجماع ہے کہ حرام ہونے کے باوجود کوئی شخص ایسا کر گزرے تو تینوں طلاق واقع ہو کر آئندہ آپس میں نکاح جدید بھی حلال نہیں ہوگا۔ پوری امت میں کچھ اہل حدیث اور اہلت شیع کے سوا تمام مذاہب اربعہ اس پر متفق ہیں کہ تین طلاق بیک وقت بھی دے دیگیں تو تینوں واقع ہوجائیں گی کیونکہ کسی فعل کے حرام ہونے سے اس کے آثار کا وقوع متاثر نہیں ہوا کرتا جیسے کوئی کسی کو بےگناہ قتل کر دے تو یہ فعل حرام ہونے کے باوجود منقول تو بہرحال مر ہی جائیگا۔ اسی طرح تین طلاق بیک وقت حرام ہونے کے باوجود تینوں کا وقوع لازمی امر ہے اور صرف مذاہب اربعہ کا ہی نہیں بلکہ اس پر صحابہ کرام کا بھی اجماع حضرت فاروق اعظم ؓ کے زمانہ میں منقول و معروف ہے اس کا بھی مکمل بیان معارف القرآن جلد اول ص 405 تا ص 415 میں تفصیل کے ساتھ آچکا ہے اس کو دیکھ لیا جاوے۔ وَّاَشْهِدُوْا ذَوَيْ عَدْلٍ مِّنْكُمْ وَاَقِيْمُوا الشَّهَادَةَ لِلّہ یعنی گواہ بنا لو اپنے مسلمانوں میں سے دو معتبر آدمیوں کو اور قائم کرو شہادت کو ٹھیک ٹھیک۔ آٹھواں حکم اس آیت سے یہ معلوم ہوا کہ اختتام عدت کے وقت خواہ رجعت کر کے بیوی کو روکنا طے کیا جائے یا عدت پوری کر کے آزاد کرنا طے کیا جائے دونوں صورتوں میں اپنے اس فعل رجعت یا ترک رجعت پر دو معتبر گواہ بنا لو۔ یہ حکم اکثر ائمہ کے نزدیک استحبابی ہے رجعت اس پر موقوف نہیں اور گواہ بنانے کی حکمت رجعت کرنے کی صورت میں تو یہ ہے کہ کہیں کل کو عوتر رجعت سے انکا کر کے اس کے نکاح سے نکل جانے کا دعویٰ نہ کرنے لگے اور ترک رجعت اور انقطاع نکاح کی صورت میں اس لئے کہ کل کو خود اپن انفس ہی کہیں شرارت یا بیوی کی محبت سے مغلوب ہو کر یہ دعویٰ نہ کرنے لگے کہ عدت گزرنے سے پہلے رجعت کرلی تھی۔ ان دو گواہوں کے لئے ذوی عدل فرما کر بتلا دیا کہ شرعی اور اصطلاحی معنی میں عدل یعنی ثقہ و معتبر ہونا گواہوں کا ضروری ہے ورنہ ان کی شہادت پر قاضی کوئی فیصلہ نہیں دے گا اور اقیموالشھادة للہ میں عام مسلمانوں کو خطاب ہے کہ اگر تم کسی ایسے واقعہ رجعت یا انقطاع نکاح کے گواہ ہو اور قاضی کی عدالت میں گواہی دینے کی نوبت آوے تو کسی رو رعایت یا مخالفت و عداوت کی وجہ سے سچی گواہی دینے میں ذرا بھی فرق نہ کرو۔ ذٰلِكُمْ يُوْعَظُ بِهٖ مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ باللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ ، یعنی اس مذکورہ مضمون سے اس شخص کو نصیحت کی جاتی ہے جو ایمان رکھتا ہو اللہ پر اور آخری دن یعنی قیامت پر۔ اس میں آخرت کا خصوصیت سے ذکر اس لئے کیا گیا کہ زوجین کے باہمی حقوق کی ادائیگی بغیر تقویٰ اور فکر آخرت کے کسی سے نہیں کرائی جاسکتی۔ جرم و سزا کے قوانین میں قرآن حکیم کا عجیب و غریب حکیمانہ اور مربیانہ اصول۔ دنیا کی حکومتوں میں قواعد و قوانین کی تدوین اور جرائم کی سزا و تعزر کا پرانا دستور ہے ہر قوم و ملک میں قوانین اور تعزیرات کی کتابیں لکھی گئی ہیں اور یہ بھی ظاہر ہے کہ قرآن کریم بھی اللہ کے قانون کی کتاب ہے مگر اس کا طرز تمام دنیا کی کتب قوانین سے نرالا اور عجیب ہے کہ قانون کے آگے پیچھے خوف خدا اور فکر آخرت کو سامنے کردیا جاتا ہے۔ تاکہ ہر انسان قانون کی پابندی کسی پولیس اور نگراں کے خوف سے نہیں بلکہ اللہ کے خوف سے کرے کوئی دیکھے یا نہ دیکھے، خلوت ہو یا جلوت ہر صورت میں پابندی قانون کو ضروری سمجھے۔ صرف یہی سبب ہے کہ قرآن پر صحیح ایمان رکھنے والوں میں کسی سخت سے سخت قانون کی تنفیذ بھی زیادہ دشوار نہیں ہوتی اس کے لئے اسلامی حکومت کو پولیس اور اس پر اسپیشل پولیس اور اس پر خفیہ پولیس کا جال پھیلانے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ قرآن کریم کا یہ مربیانہ اصول تمام ہی قوانین میں عام ہے۔ خصوصیت سے میاں بیوی کے تعلقات اور باہمی حقوق کے قوانین میں اس کا سب سے زیادہ اہمتام کیا گیا ہے کیونکہ یہ تعلقات ہی ایسے ہیں کہ ان میں نہ ہر کام پر کوئی شہادت مہیا ہو سکتی ہے نہ عدالتی تحقیق زوجین کے حقوق باہمی کی کمی و کوتاہی کا صحیح اندازہ لگا سکتی ہے ان کا تمامتر مدار خود زوجین ہی کے قلوب اور ان کے اعمال و افعال پر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نکاح کے خطبہ مسنونہ میں قرآن کریم کی جو تین آیتیں پڑھنا سنت سے ثابت ہے یہ تینوں آیتیں تقویٰ کے حکم سے شروع اور اسی پر ختم ہوتی ہیں جن میں یہ اشارہ ہے کہ نکاح کرنے والوں کو ابھی سے یہ سمجھ لینا ہے کہ کوئی دیکھے یا نہ دیکھے مگر حق تعالیٰ ہمارے کھلے اور چھپے سب اعمال سے بلکہ دلوں کے پوشیدہ خیالات تک سے واقف ہے ہم نے آپس کے حقوق کی ادائیگی میں کوتاہی برتی، ایک سے دوسرے کو تکلیف پہنچی تو عالم السراء کے سامنے جوابدہی کرنا ہوگی، اسی طرح سورة طلاق میں جبکہ طلاق کے چند احکام بیان فرمائے گئے تو پہلے ہی حکم کے بعد واتقو اللہ ربکم فرما کر تقویٰ کی ہدایت فرمائی پھر چار احکام کا ذکر کرنے کے بعد یہ وعظ و نصیحت کی کہ جو شخص ان کی خلاف ورزی کرتا ہے وہ کسی اور پر نہیں بلکہ اپنی ذات ہی پر ظلم کرتا ہے اس کا وبال اسی کو تباہ کر دے گا وَمَنْ يَّتَعَدَّ حُدُوْدَ اللّٰهِ فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَهٗ پھر اور چار ضمنی احکام و قوانین ذکر کرنے کے بعد دوبارہ اس ہدایت کو دہرایا گیا ذٰلِكُمْ يُوْعَظُ بِهٖ مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ باللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِر آگے ایک آیت میں تقویٰ کے فضائل اور اس کی دینی و دنیوی برکات کا بیان فرمایا پھر اسی آیت کے آخر میں اللہ پر توکل اور بھروسہ رکھنے کی برکات ارشاد فرمائی گئیں اسکے بعد پھر چند احکام عدت کے بیان فرمائے اور اس کے بعد پھر دو آیتوں میں تقویٰ کے مزید برکات وثمرات کا بیان آیا اور اس کے بعد پھر کچھ نکاح و طلاق کے متعلقات بیوی کے نفقہ اور اولاد کے دودھ پلانے وغیرہ کے احکام بتلائے گئے۔ طلاق و عدت اور عورتوں کے نفقہ اور دودھ پلانے وغیرہ کے احکام میں بار بار کہیں ذکر آخرت کہیں تقویٰ کی فضیلت و برکت اور کہیں توکل کے برکات اور کچھ احکام بیان کر کے پھر تقویٰ کے مکرر سکرر فضائل کا بیان بظاہر بےجوڑ معلوم ہوتا ہے مگر قرآن کریم کے اس مربیانہ اصول کی حکمت سمجھ لینے کے بعد اس کا جوڑا اور گہرا ربط بھی واضح اب آیات مذکورہ کی تفسیر و تشریح دیکھئے۔ وَمَنْ يَّتَّقِ اللّٰهَ يَجْعَلْ لَّهٗ مَخْرَجًا ۝ ۙوَّيَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ ، یعنی جو شخص اللہ سے ڈریگا تو اللہ تعالیٰ اس کے لئے ہر مشکل و مصبت سے نجات کا راستہ نکالدیں گے اور اس کو بےگمان رزق عطا فرما دیں گے۔ لفظ تقویٰ کے اصلی اور لغوی معنے بچنے کے ہیں۔ شرعی اصطلاح میں گناہوں سے بچنے کے لئے یہ لفظ بولا جاتا ہے اور جب اللہ تعالیٰ کی طرف اضافت و نسبت ہوتی ہے تو ترجمہ اللہ سے ڈرنے کا کردیا جاتا ہے اور مطلب یہ ہوتا ہے کہ اللہ کی نافرمانی اور معصیت سے بچے اور ڈرے۔ اس آیت میں تقویٰ کی دو برکتیں بیان فرمائیں ہیں۔ اول یہ کہ تقویٰ اختیار کرنے والے کے لئے اللہ تعالیٰ بچنے کا راستہ نکال دیتے ہیں۔ کس چیز سے بچنا، اس میں صحیح بات یہ ہے کہ یہ عام ہے دنیا کی سب مشکلات و مصائب کے لئے بھی اور آخرت کی سب مشکلات و مصائب کے لئے بھی اور مطلب آیت کا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ متقی یعنی گناہوں سے بچنے والے آدمی کے لئے دنیا و آخرت کی ہر مشکل و مصیبت سے نجات کا راستہ نکال دیتے ہیں اور دوسری برکت یہ ہے کہ اس کو ایسی جگہ سے رزق عطا فرماتے ہیں جہاں کا اس کو خیال و گمان بھی نہیں ہوتا۔ صحیح بات یہی ہے کہ رزق سے بھی اس جگہ مراد ہر ضرورت کی چیز ہے خواہ دنیا کی ہو یا آخرت کی، مومن متقی کے لئے اللہ تعالیٰ کا وعدہ اس آیت میں یہ ہے کہ اس کی ہر مشکل کو بھی آسان کردیتا ہے اور اس کی ضروریات کا بھی تکفل کرتا ہے اور ایسے رساتوں سے اس کی ضروریات مہیا کردیتا ہے جس کا اس کو وہم و گمان بھی نہیں ہوتا (کذا فی الروح) مناسبت مقام کی وجہ سے بعض حضرات مفسرین نے اس آیت کی تفسیر میں یہ فرمایا ہے کہ طلاق دینے والے شوہر اور مطلقہ بیوی دونوں یا ان میں جو بھی تقویٰ اختیار کرنے والا ہوگا اللہ تعالیٰ اس کو طلاق اور انقطاع نکاح کے بعد پیش آنے والی ہر مشکل و تکلیف سے نجات عطا فرمائیں گے اور مرد کو اس کے مناسب یوی اور عورت کو اس کے مناسب شوہر عطا فرمائیں گے اور ظاہر ہے کہ آیت کا اصل مفہوم جو تمام مشکلات اور ہر قسم رزق کے لئے عام اور شامل ہے اس میں زوجین کی یہ مشکلات و ضروریات بھی شامل ہیں (کذا فی روح المعانی) آیت مذکورہ کا شان نزول۔ حضرت عبداللہ بن عباس سے روایت ہے کہ عوف بن مالک اشجعی رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ میرے لڑکے سالم کو دشمن گرفتار کر کے لے گئے، اس کی ماں سخت پریشان ہے مجھے کیا کرنا چاہئے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میں تم کو اور لڑکے کی والدہ کو حکم دیتا ہوں کہ تم کثرت کے ساتھ لاحول ولا قوة الا باللہ پڑھا کرو۔ ان دونوں نے حکم کی تعمیل کی، کثرت سے یہ کلمہ پڑھنے لگے اس کا یہ اثر ہوا کہ جن دشمنوں نے لڑکے کو قید کر رکھا تھا وہ کسی روز ذرا غافل ہوئے لڑکا کسی طرح ان کی قید سے نکل گیا اور ان کی کچھ بکریاں ہنکا کر ساتھ لے کر اپنے والد کے پاس پہنچ گیا۔ بعض روایات میں ہے کہ ان کا ایک اونٹ ان کو مل گیا اس پر سوار ہوئے اور دوسرے اونٹوں کو ساتھ لگایا سب کو لے کر والد کے پاس پہنچے گئے، ان کے والد یہ خبر لے کر آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور بعض روایات میں ہے کہ یہ سوال بھی کیا کہ یہ اونٹ بکریاں جو میرا لڑکا ساتھ لے آیا ہے یہ ہمارے لئے جائز و حلال ہیں یا نہیں۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی ومن یتق اللہ آلایتہ۔ اور بعض روایات میں ہے کہ عوف بن مالک اشجعی اور ان کی بیوی کو جب لڑکے کی مفارقت نے زیادہ بےچین کیا تو رسول اللہ ﷺ نے ان کو تقویٰ اختیار کرنے کا حکم دیا اور اس میں کچھ بعد نہیں کہ تقوے کا بھی حکم دیا ہو اور بکثرت لاحول ولا قوة الخ پڑھنے کا بھی (یہ سب روایات روح المعانے میں ابن مردویہ سے من طریق الکلبی عن ابی صالح عن ابن عباس نقل کی گئی ہیں) اس شان نزول سے بھی یہ معلوم ہوا کہ اگرچہ اس مقام پر یہ آیت طلاق سے تعلق رکھنے والے مرد و عورت کے متعلق آئی ہے مگر مفہوم اس کا عام ہے سب کے لئے شامل ہے۔ مسئلہ۔ اس حدیث سے یہ بھی ثابت ہوا کہ کوئی مسلمان کفار کی قید میں میں آجائے اور وہ ان کا کچھ مال لے کر واپس آجائے تو یہ مال بحکم مال غنیمت حلال ہے اور مال غنیمت کے عام قاعدہ کے مطابق اس کا پانچواں حصہ بیت المال کو دینا بھی اس کے ذمہ نہیں جیسا کہ واقعہ حدیث میں اس مال میں سے خمس نہیں لیا گیا۔ حضرات فقہاء نے فرمایا کہ کوئی مسلمان چھپ کر بغیر اما و اجازت لئے ہوئے دارالحرب میں چلا جائے اور وہاں سے کفار کا کچھ مال چھین کر یا کسی طرح لے آئے اور دار الاسلام میں پہن جائے تو اس کا بھی یہی حکم ہے۔ لیکن جو شخص کفار سے امان اور اجازت لے کر ان کے ملک میں جائے جیسا آج کل ویزا لینے کا دستور ہے تو اس کے لئے جائز نہیں کہ ان کا کوئی مال بغیر ان کی رضامندی کے لے آئے اسی طرح جو شخص قید ہو کر ان کے ملک میں چلا جائے پھر کفار میں سے کوئی آدمی اس کے پاس کوئی امانت رکھدے تو اس امانت کا لے آنا بھی حلال نہیں، پہلی صورت میں تو اس لئے کہ امان لے کر جانے سے ایک معاہدہ ان کے درمیان ہوگیا اب بغیر ان کی رضامندی کے ان کے جان و مال میں کوئی تصرف کرنا عہد شکنی میں داخل ہے اور دوسری صورت میں بھی امانت رکھنے والے سے عملی ماہدہ ہوتا ہے کہ جب وہ مانگے گا امانت اس کو دے دیجائے گی، اب امانت واپس نہ کرنا بد عہدی اور عہد شکنی ہے جو شرعاً حرام ہے (مظہری) رسول اللہ ﷺ کے پاس ہجرت سے پہلے بہت سے کفار اپنی امانتیں رکھدیتے تھے۔ ہجرت کے وقت آپ کے قبضہ میں ایسی کچھ امانتیں تھیں ان کو آپ اپنے ساتھ نہیں لائے بلکہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو اسی کام کے لئے اپنے پیچھے چھوڑا کہ وہ جس جس کی امانت ہے اس کو سپرد کردیں۔ مصائب سے نجات اور مقاصد کے حصول کا مجرب نسخہ۔ حدیث مذکور میں رسول اللہ ﷺ نے عوف بن مالک کو مصیبت سے نجات اور حصول مقصد کے لے یہ تلقین فرمائی کہ کثرت کے ساتھ لاحول ولاقوة الا باللہ پڑھا کریں۔ حضرت مجدد الف ثانی نے فرمایا کہ دینی اور دنیاوی ہر قسم کے مصائب اور مضرتوں سے بچنے اور منافع و مقاصد کو حاصل کرنے کے لئے اس کلمہ کی کثرت بہت مجرب عمل ہے اور اس کثرت کی مقدار حضرت مجدد نے یہ بتلائی کہ روزانہ پانسو مرتبہ یہ کلمہ لاحول ولاقوة الا باللہ پڑھا کرے اور سو سو مرتبہ درود شریف اس کے اول و آخر میں پڑھ کر اپنے مقصد کے لئے دعا کرے (تفسیر مظہری) اور امام احمد اور حاکم بیہقی ابونعیم وغیرہ نے حضرت ابوذر سے روایت کیا ہے اور حاکم نے اس کی اسناد کو صحیح کہا ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایک روز اس آیت وَمَنْ يَّتَّقِ اللّٰهَ يَجْعَلْ لَّهٗ مَخْرَجًا آلایتہ کی تلاوت بار بار فرماتے رہے یہاں تک کہ مجھے نیند آنے لگی پھر فرمایا کہ اے ابوذر اگر آدمی صرف اس آیت کو اختیار کرلیں تو سب کے لئے کافی ہے (روح المعانی) کافی ہونے کی مراد ظاہر ہے کہ تمام دینی اور دنیوی مقاصد میں کامیابی کے لئے کافی ہے۔
Ayah 65:3

وَّ یَرْزُقْهُ مِنْ حَیْثُ لَا یَحْتَسِبُ١ؕ وَ مَنْ یَّتَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ فَهُوَ حَسْبُهٗ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بَالِغُ اَمْرِهٖ١ؕ قَدْ جَعَلَ اللّٰهُ لِكُلِّ شَیْءٍ قَدْرًا Open ayah 65:3 in the Quran reader

اور روزی دے اس کو جہاں سے اس کو خیال بھی نہ ہو اور جو کوئی بھروسہ رکھے اللہ پر تو وہ اس کو کافی ہے تحقیق اللہ پورا کرلیتا ہے اپنا کام اللہ نے رکھا ہے ہر چیز کا اندازہ

وَمَنْ يَّتَوَكَّلْ عَلَي اللّٰهِ فَهُوَ حَسْبُهٗ ۭ اِنَّ اللّٰهَ بَالِغُ اَمْرِهٖ ۭ قَدْ جَعَلَ اللّٰهُ لِكُلِّ شَيْءٍ قَدْرًا یعنی جو شخص اللہ پر توکل اور بھروسہ کرے گا اللہ اس کی مہمات کے لئے کافی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنے کام کو جس طرح چاہے پورا کر کے رہتا ہے اس نے ہر چیز کا ایک اندازہ مقرر کردیا ہے اسی کے مطابق سب کام ہوتے ہیں ترمذی اور ابن ماجہ نے حضرت عمر بن خطاب سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے۔ اگر تم اللہ پر توکل کرتے جیسا کہ اس کا حق ہے تو بیشک اللہ تعالیٰ تمہیں اس طرح رزق دیتا جیسا پرندے جانوروں کو دیتا ہے کہ صبح کو اپنے گھونسلوں سے بھوکے نکلتے ہیں اور شام کو پیٹ بھرے ہوئے واپس ہوتے ہیں۔ اور صحیح بخاری و مسلم میں حضرت ابن عباس کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میری امت میں سے ستر ہزار آدمی بےحساب جنت میں داخل ہوں گے، ان کے اوصاف میں ایک یہ بھی ہے کہ وہ اللہ پر توکل کرنے والے ہوں گے۔ (مظہری) توکل کے معنی یہ نہیں کہ اللہ کے پیدا کئے ہوئے اسباب و آلات کو چھوڑ دے بلکہ مراد یہ ہے کہ اسباب اختیار یہ کو ضرور اختیار کرے مگر بھروسہ اسباب پر کرنے کے بجائے اللہ تعالیٰ پر کرے کہ جب تک اس کی مشیت و ارادہ نہ ہوجائے کوئی کام نہیں ہو سکتا۔ مذکورہ آیت میں تقوی اور توکل کے فضائل و برکات بیان کرنے کے بعد مزید چند احکام طلاق وحدت کے بیان فرمائے ہیں،
Ayah 65:4

وَ الّٰٓئِیْ یَئِسْنَ مِنَ الْمَحِیْضِ مِنْ نِّسَآئِكُمْ اِنِ ارْتَبْتُمْ فَعِدَّتُهُنَّ ثَلٰثَةُ اَشْهُرٍ١ۙ وَّ الّٰٓئِیْ لَمْ یَحِضْنَ١ؕ وَ اُولَاتُ الْاَحْمَالِ اَجَلُهُنَّ اَنْ یَّضَعْنَ حَمْلَهُنَّ١ؕ وَ مَنْ یَّتَّقِ اللّٰهَ یَجْعَلْ لَّهٗ مِنْ اَمْرِهٖ یُسْرًا Open ayah 65:4 in the Quran reader

اور جو عورتیں ناامید ہوگئیں حیض سے تمہاری عورتوں میں اگر تم کو شبہ رہ گیا تو ان کی عدت ہے تین مہینے اور ایسے ہی جن کو حیض نہیں آیا اور جن کے پیٹ میں بچہ ہے ان کی عدت یہ کہ جن لیں پیٹ کا بچہ اور جو کوئی ڈرتا رہے اللہ سے کر دے وہ اس کے کام میں آسانی

وَاڿ يَىِٕسْنَ مِنَ الْمَحِيْضِ مِنْ نِّسَاۗىِٕكُمْ اِنِ ارْتَبْتُمْ فَعِدَّتُهُنَّ ثَلٰثَةُ اَشْهُرٍ ۙ وَّاڿ لَمْ يَحِضْنَ ۭ وَاُولَاتُ الْاَحْمَالِ اَجَلُهُنَّ اَنْ يَّضَعْنَ حَمْلَهُنَّ ، اس آیت میں مطلقہ عورتوں کی عدت کی مزید تفصیل ہے جس میں تین قسم کی عورتوں کی عدت کا عام قاعدہ عدت سے جداگانہ حکم مذکور ہے۔ عدت طلاق کے متعلق نواں حکمعدت طلاق عام حالات میں تین حیض پورے ہیں جس کا بیان سورة بقرہ میں ہوچکا ہے لیکن و عورتیں جن کو عمر کی زیادتی یا کسی بیماری وغیرہ کے سبب حیض آنا بند ہوچکا ہو اسی طرح وہ عوتریں جن کو کم عمری کے سبب ابھی تک حیض آنا شروع نہ ہوا ہو ان کی عدت آیت مذکورہ میں تین حیض کے بجائے تین مہینے مقرر فرماوی اور حاملہ عورتوں کی عدت وضع حمل قرار دی ہے خواہ وہ کتنے ہی دنوں میں ہو۔ اِنِ ارْتَبْتُمْ یعنی اگر تمہیں شک ہو، مراد شک سے یہ ہے کہ اصل عدت حیض سے شمار ہوتی ہے اور ان عورتوں کا حیض تو بند ہے تو پھر عدت کی شمار کیسے ہوگی یہ تردد مراد ہے۔ آگے پھر تقویٰ کی فضیلت و برکت کا بیان ہے ومن یتق اللہ یجعل لہ میں امرہ یسرا یعنی جو شخص اللہ سے ڈرتا ہے اللہ اس کے کام میں آسانی کردیتا ہے یعنی دنیا و آخرت کے کام اس کے لئے آسان ہوجاتے ہیں
Ayah 65:5

ذٰلِكَ اَمْرُ اللّٰهِ اَنْزَلَهٗۤ اِلَیْكُمْ١ؕ وَ مَنْ یَّتَّقِ اللّٰهَ یُكَفِّرْ عَنْهُ سَیِّاٰتِهٖ وَ یُعْظِمْ لَهٗۤ اَجْرًا Open ayah 65:5 in the Quran reader

یہ حکم ہے اللہ کا جو اتارا تمہاری طرف اور جو کوئی ڈرتا رہے اللہ سے اتار دے اس پر سے اس کی برائیاں اور بڑا دے اس کو ثواب

اس کے بعد پھر طلاق وع عدت کے احکام مذکورہ کی پابندی کی تاکید ہے ذٰلِكَ اَمْرُ اللّٰهِ اَنْزَلَهٗٓ اِلَيْكم (یہ حکم ہے اللہ کا جو تمہاری طرف نازل کیا گیا ہے اس کے بعد پھر تقویٰ کی ایک اور فضیلت کا بیان ہے ۭ وَمَنْ يَّتَّقِ اللّٰهَ يُكَفِّرْ عَنْهُ سَـيِّاٰتِهٖ وَيُعْظِمْ لَهٗٓ اَجْرًا یعنی جو شخص اللہ سے ڈرے گا تو اللہ تعالیٰ اس کے گناہوں کا کفارہ کردیں گے اور اس کا اجر بڑھا دیں گے۔ تقویٰ کی پانچ برکات۔ آیات مذکورہ میں جو تقویٰ کے فضائل و برکات کا بیان آیا اس کا خلاصہ پانچ چیزیں ہیں ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ متقی کے لئے دنیا و آخرت کے مصائب و مشکلات سے نجات کا راستہ نکال دیتے ہیں۔ دوسرے یہ کہ اس کے لئے رزق کے ایسے دروازے کھول دیتے ہیں جن کی طرف اس کا ھیان بھی نہیں جاتا، تیسرے یہ کہ اس کے سب کاموں میں آسانی پیدا فرما دیتے ہیں۔ چوتھے یہ کہ اس کے گناہوں کا کفارہ کردیتے ہیں۔ پانچویں یہ کہ اس کا اجز بڑھا دیتے ہیں اور ایک دوسری جگہ تقوے کی یہ برکت بھی بتلائی گئی ہے کہ اس کی وجہ سے اس کو حق و باطل کی پہچان آسان ہوجاتی ہے (آیت ان تتقوا اللہ یجعل لکم فرقانا) کا یہی مطلب ہے۔