65. Surah At-Talaaq

الطلاقDivorce · 12 ayahsمعارف القرآن

Ayah 65:6

اَسْكِنُوْهُنَّ مِنْ حَیْثُ سَكَنْتُمْ مِّنْ وُّجْدِكُمْ وَ لَا تُضَآرُّوْهُنَّ لِتُضَیِّقُوْا عَلَیْهِنَّ١ؕ وَ اِنْ كُنَّ اُولَاتِ حَمْلٍ فَاَنْفِقُوْا عَلَیْهِنَّ حَتّٰى یَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ١ۚ فَاِنْ اَرْضَعْنَ لَكُمْ فَاٰتُوْهُنَّ اُجُوْرَهُنَّ١ۚ وَ اْتَمِرُوْا بَیْنَكُمْ بِمَعْرُوْفٍ١ۚ وَ اِنْ تَعَاسَرْتُمْ فَسَتُرْضِعُ لَهٗۤ اُخْرٰىؕ Open ayah 65:6 in the Quran reader

ان کو گھر دو رہنے کے واسطے جہاں تم آپ رہو اپنے مقدور کے موافق اور ایذا دینا نہ چاہو ان کو تاکہ تنگ پکڑو ان کو اور اگر رکھتی ہوں پیٹ میں بچہ تو ان پر خرچ کرو جب تک جنیں پیٹ کا بچہ پھر اگر وہ دودھ پلائیں تمہاری خاطر تو دو ان کو ان کا بدلہ سکھاؤ آپس میں نیکی اور اگر ضد کرو آپس میں تو دودھ پلائے گی اس کی خاطر اور کوئی عورت

آگے پھر مطلقہ عورتوں کی عدت اور ان کے نفقہ کا بیان اور عام عورتوں کے حقوق کی ادائیگی کی تاکید ہے اَسْكِنُوْهُنَّ مِنْ حَيْثُ سَكَنْتُمْ مِّنْ وُّجْدِكُمْ وَلَا تُضَاۗرُّوْهُنَّ لِتُضَيِّقُوْا عَلَيْهِنَّ اس آیت کا تعلق اس پہلے حکم سے ہے جو اوپر آ چکا ہے کہ مطلقہ عورتوں کو ان کے گھروں سے نہ نکالو۔ اس آیت میں اس کا ایجابی پہلو ذکر کیا گیا کہ ان کو عدت پوری ہونے تک اپنی وسعت وقدرت کے مطابق رہنے کا مکان دو جہاں تم خود رہتے ہو اسی مکان کے کسی حصہ میں رکھو۔ اگر مطلقہ بطلاق رجعی ہے جب تو باہم کسی پردہ کی بھی ضرورت نہیں، ہاں اگر طلاق بائن دی ہے یا تین طلاق دے دی ہیں تو اب رشتہ نکاح ٹوٹ چکا ہے اس کو سابق شوہر سے پردہ کرنا چاہئے اس لئے پردہ کیساتھ اسی مکان میں رہنے کا انتظام کیا جائے۔ دسواں حکم مطلقہ عورتوں کو ایام عدت میں پریشان نہ کرو۔ لاتضآروھن اس کا مطلب یہ ہے کہ ایام عدت میں جبکہ مطلقہ عورت تمہارے ساتھ رہے تو طعن تشنیع کر کے یا اس کی ضروریات میں تنگی کر کے اس کو پریشان نہ کرو کہ وہ نکلنے پر مجبور ہوجائے۔ وَاِنْ كُنَّ اُولَاتِ حَمْلٍ فَاَنْفِقُوْا عَلَيْهِنَّ حَتّٰى يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ یعنی اگر مطلقہ عورتیں حمل والیاں ہوں تو ان پر اس وقت تک خرچ کرتے رہو جب تک کہ ان کا حمل پیدا نہ ہوائے۔ گیارہواں حکم مطلقات کا نفقہ عدت۔ اس آیت میں بتلایا گیا ہے کہ مطلقہ عورتیں اگر حاملہ ہوں تو ان کا نفقہ اس وقت تک شوہر پر لازم ہے جب تک کہ حمل پیدا ہو .... اسی لئے مطلقہ حاملہ کی متعلق پوری امت کا اجماع ہے کہ اس کا نفقہ اس کی عدت جو وضع حمل ہے پوری ہونے تک شوہر پر واجب ہے۔ باقی جو مطلقہ حاملہ نہیں اگر اس کو طلاق رجعی دی گئی ہے تو اس کا نفقہ عدت بھی شوہر پر باجماع امت واجب ہے باقی وہ مطلقہ جس کو طلاق بائن یا تین طلاق دی گئی ہیں یا جس نے خلع وغیرہ کے ذریعہ اپنا نکاح فسخ کرایا ہو اس کے متعلق امام شافعی و احمد اور بعض دوسرے ائمہ کا قول یہ ہے کہ ان کا نفقہ شوہر پر واجب نہیں اور امام اعظم ابوحینفہ کے نزدیک ان کا نفقہ بھی شوہر پر لازم ہے ان کے نزدیک جس طرح حق سکنی تمام مطلقات کے لئے واجب ہے اسی طرح نفقہ بھی ہر قسم کی مطلقات کے لئے واجب ہے اور دلیل یہی آیت ہے۔ جس میں عام مطلقات کے لئے حق سکنی دینے کو لازم کیا گیا ہے یعنی اَسْكِنُوْهُنَّ مِنْ حَيْثُ سَكَنْتُمْ مِّنْ وُّجْدِكُمْ کیونکہ اسی آیت میں حضرت عبداللہ بن مسعود کی قرائت یہ ہے اَسْكِنُوْهُنَّ مِنْ حَيْثُ سَكَنْتُمْ مِّنْ وُّجْدِكُمْ اور ایک قراءت دوسری قرات کے لئے مفسر ہوتی ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ آیت مذکورہ کی مشہور قراءت جس میں لفظ انفقوا مذکور نہیں اس میں بھی ایام عدت تک واجب کردیا ہے اور اس کی تائید حضرت فاروق اعظم اور دوسرے متعدد صحابہ کرام کے اس قول سے ہوتی کہ انہوں نے فاطمہ بنت قیس کی جن کو ان کے شوہر نے تین طلاق دے دی تھی ان کی اس روایت کو کہ رسول اللہ ﷺ نے ان کا نفقہ ان کے شوہر پر لازم نہیں کیا یہ کہہ کر رد فرمایا کہ ہم ان کی اس روایت کی بناء پر کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ کو نہیں چھوڑ سکتے جس میں تمام مطلقات کا نفقہ عدت شوہروں پر واجب کیا گیا ہے۔ (راہ مسلم) اس میں کتاب اللہ کے حوالہ سے بظاہر یہی آیت مراد ہے اور فاروق اعظم کے نزدیک مفہوم آیت میں نفقہ بھی داخل ہے اور سنت سے مراد وہ حدیث ہے جو خود عمر بن خطاب سے طحاوی، دارقطنی اور طبرانی نے روایت کی ہے عمر بن خطاب نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے کہ آپ نے مطلقہ ثلثا کے لئے بھی نفقہ اور سکنی واجب کیا ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ حمل والی عورتوں کا نفقہ عدت تو صراحتہ اس آیت نے واجب قرار دیا ہے اسی لئے اس پر اجماع امت ہے۔ اسی طرح مطلقہ رجعیہ کا چونکہ ابھی تک نکاح ٹوٹا نہیں ہے اس کا نفقہ بھی باتفاق واجب ہے مطلقہ بائنہ پاثلثہ وغیرہ کے معاملہ میں فقہاء امت کا اختلاف ہے امام اعظم کے نزدیک اس کا بھی نفقطہ واجب ہے اس کی مکمل تفصیل اسی آیت کی تفسیر میں تفسیر مظہری میں دیکھی جاسکتی ہے۔ فَاِنْ اَرْضَعْنَ لَكُمْ فَاٰتُوْهُنَّ اُجُوْرَهُنَّ ، یعنی مطلقہ عورتیں اگر حاملہ ہوں اور پھر حمل سے بچہ پیدا ہوگیا تو ان کی عدت تو وضع حمل کی وجہ سے پوری ہوگئی اس لئے ان کا نفقہ تو شوہر پر لازم نہیں رہا مگر جو بچہ پیدا ہوا ہے اگر یہ مطلقہ ماں اس کو دودھ پلائے تو دودھ پلانے کا معاوضہ لینا اور دینا جائز ہے۔ بارہواں حکم۔ رضاعت یعنی بچہ کو دودھ پلانے کی اجرت، جب تک عورت شوہر کے نکاح میں ہے اس وقت تک بچوں کو دودھ پلانا خود ماں کے ذمہ بحکم قرآن واجب ہے (آیت) والولدت یرضعن اولادھن اور جو کا مکسی کے ذمہ خود واجب ہو اس پر معاوضہ لینا رشوت کے حکم میں ہے جس کا لینا بھی ناجائز ہے اور دینا بھی۔ اور ایام عدت بھی اس معاملے میں بحکم نکاح میں کیونکہ عورت کا نفقہ جس طرح بحالت نکاح شوہر پر لازم ہے عدت میں بھی واجب ہے، البتہ جب وضع حمل کے ذریعہ عدت ختم ہوگئی اور عورت آزاد ہوگئی اس کا نفقہ بھی شوہر پر واجب نہیں رہا، اب اگر یہ اس بچے کو دودھ پلائے تو آیت مذکورہ نے اس کا معاوضہ لینے اور دینے کو جائز قرار دے دیا۔ تیرھواں حکم وَاْتَمِرُوْا بَيْنَكُمْ بِمَعْرُوْفٍ۔ ائمتار کے لفظی معنے باہم مشورہ اور ایک دوسرے کی بات قبول کرنے کے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ دودھ پلانے کی اجرت میں زوجین کو اس کی ہدایت دی گئی ہے کہ باہمی نزاع کی نوبت نہ آنے دیں۔ مطلقہ بیوی عام اجرت سے زیادہ نہ مانگے، شوہر عام اجرت کے مطابق دینے سے انکار نہ کرے ایک دوسرے کے ساتھ رواداری کا معاملہ کریں۔ چودھواں حکم وَاِنْ تَعَاسَرْتُمْ فَسَتُرْضِعُ لَهٗٓ اُخْرٰى:۔ یعنی اگر دودھ پلانے کا معاملہ باہمی مشورہ سے طے نہ ہو پائے یا مطلقہ عورت اگر اپنے بچہ کو معاوضہ لے کر بھی دودھ پلانے سے انکار کر دے تو اس کو قضاء مجبور نہیں کیا جائے گا بلکہ یہ سمجھا جائے گا کہ ماں کی شفقت بچے پر سب سے زیادہ ہونے کے باوجود جب انکار کر رہی ہے تو کوئی واقعی عذر ہوگا لیکن اگر فی الواقع اس کو عذر نہیں محض غصہ و ناراضی کی وجہ سے انکار کرتی ہے تو عنداللہ وہ گنہگار ہوگی مگر قاضی کی عدالت اس کو دودھ پلانے پر مجبور نہیں کریگی۔ اسی طرح اگر شوہر کو دودھ پلانے کی اجرت دینے کی بوجہ افلاس کے قدرت نہیں اور کوئی دوسری عورت بلامعاوضہ یا اس معاوضہ سے کم پر دودھ پلانے کو تیار ہو جو معاوضہ مطلقہ ماں مانگتی ہے تو شوہر کو مجبور نہیں کیا جائے گا کہ وہ ماں کا مطالبہ منظور کر کے اسی سے دودھ پلوائے بلکہ دونوں صورتوں میں دوسری عورت سے اس کو دودھ پلوایا جاسکتا ہے۔ ہاں اگر دوسری دودھ پلانے الی عورت بھی اتنا ہی معاوضہ طلب کرے جتنا ماں کر رہی ہے تو شوہر کے لئے باتفاق فقہاء جائز نہیں کہ ماں کو چھوڑ کر دوسری عورت سے اسی معاوضہ پر دودھ پلوائے۔ مسئلہ۔ اگر دوسری عورت سے دودھ پلوانا طے ہوجائے تو یہ ضروری ہے کہ دودھ پلانے الی عورت اس کی ماں کے پاس رکھ کر ودھ پلائے۔ ماں سے الگ کر کے دودھ پلوانا جائز نہیں کیونکہ حضانت یعنی تربیت اور اپنی نگرانی میں رکھنا ازروئے احادیث صحیحہ ماں کا حق ہے اس سے یہ حق سلب کرنا جائز نہیں (تفسیر مظہری) پندرھواں حکم۔ بیوی کے نفقہ کی مقدار میں شوہر کی حالت کا اعتبار ہو گا
Ayah 65:7

لِیُنْفِقْ ذُوْ سَعَةٍ مِّنْ سَعَتِهٖ١ؕ وَ مَنْ قُدِرَ عَلَیْهِ رِزْقُهٗ فَلْیُنْفِقْ مِمَّاۤ اٰتٰىهُ اللّٰهُ١ؕ لَا یُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفْسًا اِلَّا مَاۤ اٰتٰىهَا١ؕ سَیَجْعَلُ اللّٰهُ بَعْدَ عُسْرٍ یُّسْرًا۠ Open ayah 65:7 in the Quran reader

چاہئے خرچ کرے وسعت والا اپنی وسعت کے موافق اور جس کو نپی تلی ملتی ہے اس کی روزی تو خرچ کرے جیسا کہ دیا ہے اس کو اللہ نے اللہ کسی پر تکلیف نہیں رکھتا مگر اسی قدر جو اس کو دیا اب کر دے گا اللہ سختی کے پیچھے کچھ آسانی۔

(آیت) لِيُنْفِقْ ذُوْ سَعَةٍ مِّنْ سَعَتِهٖ ۭ وَمَنْ قُدِرَ عَلَيْهِ رِزْقُهٗ فَلْيُنْفِقْ مِمَّآ اٰتٰىهُ اللّٰه یعنی خرچ کرے وسعت والا آدمی اپنی وسعت کے مطابق اور جس شخص پر رزق تنگ ہو وہ اپنی آمدنی کے مطابق خرچ کرے۔ اس سے معلوم ہوا کہ بیوی کے نفقہ میں بیوی کی حالت کا اعتبار نہیں کیا جائے گا بلکہ شوہر کی حالت کے مطباق نفقہ دینا واجب ہوگا۔ اگر شوہر مالدار ہے تو امیرانہ نفقہ دینا واجب ہے اگرچہ بیوی مالدار نہ ہو بلکہ تندگست فقیر ہو، اور اگر شوہر غریب ہے تو تو غریبانہ نفقہ اس کے مقدور کے مطابق واجب ہوگا اگرچہ بیوی مالدار ہو۔ امام اعظم ابوحنیفہ کا یہی مذہب ہے بعض دوسرے فقہاء کے اقوال اس کے خلاف بھی ہیں۔ (تفسیر مظہری) لَا يُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفْسًا اِلَّا مَآ اٰتٰىهَا ۭ سَيَجْعَلُ اللّٰهُ بَعْدَ عُسْرٍ يُّسْرًا۔ یہ اسی سابقہ جملہ کی مزید تشریح ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی کو اس کی وسعت وقدرت سے زیادہ کی تکلیف نہیں دیتا اس لئے نادار مفلس شوہر پر اسی حیثیت کا نفقہ واجب ہوگا جو حیثیت اس کی اس وقت ہے۔ آگے بیوی کو غیربانہ نفقہ پر قناعت اور اس پر صبر کی تلقین کے لئے فرمایا سیجعل اللہ بعد عسر یسراً یعنی کسی کو یہ خیال نہ کرنا چاہئے کہ موجودہ حالت میں تنگی ہے تو یہ تنگی ہمیشہ رہے گی بلکہ تنگی اور فراخی اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے وہتنگی کے بعد فراخی بھی دے سکتا ہے۔ فائدہ۔ اس آیت میں ایسے شوہروں کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے فراخی ملنے کی طرف اشارہ ہے جو مقدور پھر نفقات واجبہ پورا کرنے کی کوشش میں رہیں۔ بیوی کو تنگ رکھنے کی عادت نہ ہو۔ (روح المعانی) واللہ اعلم
Ayahs 65:8–9

وَ كَاَیِّنْ مِّنْ قَرْیَةٍ عَتَتْ عَنْ اَمْرِ رَبِّهَا وَ رُسُلِهٖ فَحَاسَبْنٰهَا حِسَابًا شَدِیْدًا١ۙ وَّ عَذَّبْنٰهَا عَذَابًا نُّكْرًا Open ayah 65:8 in the Quran reader

اور کتنی بستیاں کہ نکل چکیں حکم سے اپنے رب کے اور اس کے رسولوں کے پھر ہم نے حساب میں پکڑا ان کو سخت حساب میں اور آفت ڈالی ان پر بن دیکھی آفت

فَذَاقَتْ وَبَالَ اَمْرِهَا وَ كَانَ عَاقِبَةُ اَمْرِهَا خُسْرًا Open ayah 65:9 in the Quran reader

پھر چکھی انہوں نے سزا اپنے کام کی اور آخر کو ان کے کام میں ٹوٹا آگیا

خلاصہ تفسیر اور بہت سی بستیاں تھیں جنہوں نے اپنے رب کے حکم (ماننے) سے اور اس کے رسولوں سے سرتابی کی سو ہم نے ان (کے اعمال) کا سخت حساب کیا (مطلب یہ کہ ان کے اعمال کفر یہ میں سے کسی عمل کو معاف نہیں کیا بلکہ سب پر سزا تجویز کی، یہاں حساب سے پرستش کے طور پر حساب مراد نہیں) اور ہم نے ان کو بڑی بھاری سزا دی (کہ عذاب کے ذریعہ ہلاک کئے گئے) غرض انہوں نے اپنے اعمال کا وبال چکھا اور ان کا انجام کا رخسار ہی ہوا (یہ تو دنیا میں ہوا اور آخرت میں) اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے ایک سخت عذاب تیار رکھا ہے (اور جب انجام نافرمانی کا یہ ہے) تو اے سمجھدار جو کہ ایمان لائے ہو تم خدا سے ڈرو (کہ ایمان بھی اس کو مقتضی ہے اور ڈرتا یہ کہ اطاعت کرو، اور اسی اطاعت کا طریقہ بتلانے کے لئے) خدا نے تمہارے پاس ایک نصیحت نامہ بھیجا (اور وہ نصیحت نامہ دے کر) ایک ایسا رسول (بھیجا) جو تم کو اللہ کے صاف صاف احکام پڑھ پڑھ کر سناتے ہیں تاکہ ایسے لوگوں کو کہ جو ایمان لا دیں اور اچھے عمل کریں (کفر و جہل کی) تاریکیوں سے (ایمان اور علم و عمل کے) نور کی طرف لے آویں (مطلب یہ کہ جو نصیحت اس رسول کے ذریعہ سے پہنچے اس پر عمل کرنا بھی اطاعت ہے) اور (آگے اطاعت یعنی ایمان و عمل صالح پر وعدہ ہے کہ) جو شخص اللہ پر ایمان لاوے گا اور اچھے عمل کرے گا خدا اس کو (جنت کے) ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے سے نہریں جا رہی ہیں ان میں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے رہیں گے بیشک اللہ نے (ان کو بہت) اچھی روزی دی (آگے اللہ کا واجاب الاطاعت ہونا بیان کیا جاتا ہے یعنی) اللہ ایسا ہے جس نے سات آسمان پیدا کئے اور ان ہی کی طرح زمین بھی (سات پیدا کی جیسا ترمذی وغیرہ کی حدیث میں ہے کہ ایک زمین کے نیچے دوسری زمین ہے اس کے نتیچے تیسری زمین اسی طرح سات زمینیں ہیں اور) ان سب (آسمانوں اور زمینوں) میں (اللہ تعالیٰ کے) احکام (تشریع یاتکوینی یا دونوں) نازل ہوتے رہتے ہیں (اور یہ اس لئے بتلا دیا گیا) تاکہ تم کو معلوم ہوجائے کہ اللہ تعالیٰ ہر شئے پر قادر ہے اور اللہ ہر چیز کو (اپنے) احاطہ علمی میں لئے ہوئے ہے (اس لئے اللہ تعالیٰ کا واجب الاطاعت ہونا ظاہر ہے۔) معارف و مسائل (آیت) فَحَاسَبْنٰهَا حِسَابًا شَدِيْدًا ۙ وَّعَذَّبْنٰهَا عَذَابًا نُّكْرًا۔ آیت میں ان قوموں کے حساب و عذاب کا جو ذکر ہے وہ آخرت میں ہونیوالا ہے مگر یہاں اس کو بلفظ ماضی حاسبنا اور عذبنا سے تعبیر کردینا یا تو اس کے یقینی ہونے کی طرف اشارہ کرنے کے لئے ہے کہ گویا یہ کام ہوچکا (کما فی الروح) اور یہ بھی ہوس کتا ہے کہ حساب سے مراد اس جگہ سوالات اور پرسش نہ ہو بلکہ اس کی سا کی تعیین ہو جیسا کہ خلاصہ تفسیر مذکور میں لیا گیا اور یہ بھی احتمال ہے کہ حساب شدید اگرچہ آخرت میں ہوگا مگر صحائف اعمال میں اس کی کتابت تو ہوچکی ہے اور ہو رہی ہے اس کو حساب کردینے سے تعبیر کیا گیا اور عذاب سے مراد دنیا کا عذاب ہو جو بہت سی پہلی قوموں پر نازل ہوا ہے اس صورت میں بعد میں آنیوالا جملہ اَعَدَّ اللّٰهُ لَهُمْ عَذَابًا شَدِيْدًا صرف یہ آخرت کے عذاب سے متعلق رہے گا۔
Ayahs 65:10–11

اَعَدَّ اللّٰهُ لَهُمْ عَذَابًا شَدِیْدًا١ۙ فَاتَّقُوا اللّٰهَ یٰۤاُولِی الْاَلْبَابِ١ۛۖۚ۬ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا١ۛ۫ؕ قَدْ اَنْزَلَ اللّٰهُ اِلَیْكُمْ ذِكْرًاۙ Open ayah 65:10 in the Quran reader

تیار رکھا ہے اللہ نے واسطے ان کے سخت عذاب سو ڈرتے رہو اللہ سے اے عقل والوں جن کو یقین ہے بیشک اللہ نے اتاری ہے تم پر نصیحت

رَّسُوْلًا یَّتْلُوْا عَلَیْكُمْ اٰیٰتِ اللّٰهِ مُبَیِّنٰتٍ لِّیُخْرِجَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ مِنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ١ؕ وَ مَنْ یُّؤْمِنْۢ بِاللّٰهِ وَ یَعْمَلْ صَالِحًا یُّدْخِلْهُ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًا١ؕ قَدْ اَحْسَنَ اللّٰهُ لَهٗ رِزْقًا Open ayah 65:11 in the Quran reader

رسول ہے جو پڑھ کر سناتا ہے تم کو اللہ کی آیتیں کھول کر سنانے والی تاکہ نکالے ان لوگوں کو جو کہ یقین لائے اور کئے بھلے کام اندھیروں سے اجالے میں اور جو کوئی یقین لائے اللہ پر اور کرے کچھ بھلائی اس کو داخل کرے باغوں میں نیچے بہتی ہیں جن کے نہریں سدا رہیں ان میں ہمیشہ البتہ خوب دی اللہ نے اس کو روزی

(آیت) قَدْ اَنْزَلَ اللّٰهُ اِلَيْكُمْ ذِكْرًا، رسولاً اس آیت کی آسان توجیہ یہ ہے کہ یہاں لفظ ارسل محذوف مانا جائے تو معنے یہ ہوں گے کہ نازل کیا ذکر یعنی قرآن کو اور بھیجا رسول کو خلاصہ تفسیر میں اسی کو اختیار کر کے تفسیر کی گئی ہے حضرات مفسرین نے دوسری توجیہات بھی کلھی ہیں مثلاً یہ کہ ذکر سے مراد خود رسول ہوں کہ ذکر اللہ کی کثرت کے سبب ان کا وجود گویا خود ذکر اللہ بن گیا وغیرہ ذلک (روح)
Ayah 65:12

اَللّٰهُ الَّذِیْ خَلَقَ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ وَّ مِنَ الْاَرْضِ مِثْلَهُنَّ١ؕ یَتَنَزَّلُ الْاَمْرُ بَیْنَهُنَّ لِتَعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ١ۙ۬ وَّ اَنَّ اللّٰهَ قَدْ اَحَاطَ بِكُلِّ شَیْءٍ عِلْمًا۠ Open ayah 65:12 in the Quran reader

اللہ وہ ہے جس نے بنائے سات آسمان اور زمین بھی اتنی ہی اترتا ہے اس کا حکم ان کے اندر تاکہ تم جانو کہ اللہ ہر چیز کرسکتا ہے اور اللہ کے علم میں سمائی ہے ہر چیز کی۔

سات زمینیں کہاں کہاں کس صورت میں ہیں (آیت) اَللّٰهُ الَّذِيْ خَلَقَ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ وَّمِنَ الْاَرْضِ مِثْلَهُنَّ ، اس آیت سے اتنی بات تو واضح طور پر ثابت ہے کہ جس طرح آسمان سات ہیں ایسی ہی زمینیں بھی سات ہیں۔ پھر یہ سات زمینیں کہاں کہاں اور کس وضع و صورت میں ہیں اوپر نیچے طبقات کی صورت میں تہ برتہ ہیں یا ہر ایک زمین کا مقام الگ الگ ہے اگر اوپر نیچے طبقات ہیں تو کیا جس طرح سات آسمانوں میں ہر دو آسمان کے درمیان بڑا فاصلہ ہے اور ہر آسمان میں الگ الگ فرشتے آباد ہیں اسی طرح ایک زمین اور دوسری زمین کے درمیان بھی فاصلہ اور ہوا فضا وغیرہ ہیں اور اس میں کوئی مخلوق آباد ہے یا یہ طبقات زمین ایک دوسرے سے پیوستہ ہیں۔ قرآن مجید اس سے ساکت ہے اور روایات حدیث ہو اس بارے میں آئی ہیں ان میں اکثر احادیث میں ائمہ حدیث کا اختلاف ہے بعض نے ان کو صحیح و ثابت قرار دیا ہے بعض نے موضوع و منگھڑت تک کہہ دیدا ہے اور عقلاً یہ سب صورتیں ممکن ہیں اور ہماری کوئی دینی یا دنیوی ضرورت اس کی تحقیق پر موقوف نہیں نہ ہم سے قبر میں یا حشر میں اس کا سوال ہوگا کہ ہم ان سات زمینوں کی وضع و صورت اور محل وقوع اور اس میں بسنے والی مخلوقات کی تحقیق کریں، اس لئے اسلم صورت یہ ہے کہ بس اس پر ایمان لائیں اور یقین کریں کہ زمینیں بھی آسمانوں کی طرح سات ہی ہیں، اور سب کو اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کاملہ سے پیدا فرمایا ہے۔ اتین ہی بات قرآن نے بیان کی ہے جس کو قرآن نے بیان کرنا ضروری نہیں سمجھا ہم بھی اس کی فکر و تحقیق میں کیوں پڑیں۔ حضرات سلف صالحین کا ایسی صورتوں میں یہی طرز عمل رہا ہے۔ انہوں نے فرمایا ہے ابھموا ما ابھمہ اللہ، یعنی جس چیز کو اللہ تعالیٰ نے مبہم چھوڑا ہے تم بھی اسے مبہم رہنے دو جبکہ اس میں تمہارے لئے کوئی عملی حکم نہیں، اور تمہاری کوئی دینی یا دنیوی ضرورت اس سے متعلق نہیں۔ خصوصاً یہ تفسیر عوام کے لئے لکھی گئی ہے۔ ایسے خلاص علمی اختلافی مباحث اس میں نہیں لئے گئے جن کی عورت کو ضرورت نہیں ہے۔ یتنزل الامربیھن یعنی اللہ کا حکم ان ساتوں آسمانوں اور ساتوں زمینوں کے درمیان نازل ہوتا رہتا ہے اور حکم الٰہی کی دو قسم ہیں۔ ایک تشریعی جو اللہ کے مکلف بندوں کے لئے بذریعہ وحی بواسطہ انبیاء بھیجا جاتا ہے جیسے زمین میں انسان اور جن کے لئے آسمانوں سے فرشتے یہ تشریعی احکام انبیاء تک لے کر آتے ہیں جن میں عقائد، عبادات، اخلاق، معاملات، معاشرت کے قوانین ہوتے ہیں ان کی پابندی پر ثواب اور خلاف ورزی پر عذاب ہوتا ہے۔ دوسری قسم حکم کی حکم تکوینی ہے۔ یعنی تقدیر الٰہی کی تنفیذ سے متعلق احکام جس میں کائنات کی تخلیق اور اس کی تدریجی ترقی اور اس میں کمی بیشی اور موت وحیات داخل ہیں یہ احکام تمام مخلوقات الہیہ پر حاوی ہیں۔ اس لئے اگر ہر دو زمینوں کے درمیان فضاء اور فاصلہ اور اس میں کسی مخلوق کا آباد ہونا ثابت ہوجائے خواہ مخلوق مکلف احکام شرعیہ کی نہ ہو تو اس پر بھی یتنزل الامر صادق ہے کہ اللہ تعالیٰ کا امرتکوینی اس پر بھی حاوی ہے۔ واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم تمت سورة الطلاق بعون اللہ وحمدہ فی اخریوم من جمادی الثانیہ 1391 ھ یوم الاحد واللہ اموفق والمعین