Ayahs 68:1–23 پیغمبر (علیہ السلام) کی عظمت شان کا ذکر وبیان : سو قلم اور ومایسطرون کی قسموں کے مقسم بہ کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ آپ اے پیغمبر اپنے رب کے فضل سے مجنوں نہیں ہیں۔ جیسا کہ نور حق و ہدایت سے محروم ان بدبختوں کا کہنا ہے، جیسا کہ دوسری جگہ ارشاد فرمایا گیا۔ وقالوا یا ایھا الذی نزل علیہ الذکر انک لمجنون (الحجر۔ 6) پس یہ دراصل انہی بدبختوں کا رد ہے نہ کہ حضرت ختمی مرتبت ﷺ کو تسلی دینا، جیسا کہ بادی النظر میں محسوس ہوتا ہے کہ آپ (صلوات اللہ وسلامہ علیہ) کو اس طرح کی کوئی غلط فہمی نہیں تھی، کہ آپ ﷺ تو بہرحال اور قطعی طور پر حق پر تھے (انک لعلی ھدی مستقیم) (الحج ۔ 67) سو یہ خطاب اگرچہ آپ ﷺ سے ہے مگر سنانا درحقیقت کفر و شرک کے مارے ہوئے انہی بدبختوں کو ہے اور اس اسلوب تخاطب اور انداز بیاں میں دراصل بلاغت کا یہ اہم پہلو محلوظ ہوتا ہے کہ ایسا الزام لگانے والے یہ کفار و مشرکین اس قابل بھی نہیں کہ ان کو براہ راست مخاطب کیا جائے اور ان کو خطاب کر کے ان کی بات کا جواب دیا جائے، بلکہ ان سے منہ پھیر کر اور دوسرے کو مخاطب کر کے اور اس کے ذریعے ان کو سنایا جا رہا ہے کہ ایسا کلام معجز نظام سنانے والے کو تم لوگ مجنوں کہہ رہے ہ، آخر تمہاری عقلوں کو ہو کیا گیا ہے ؟ اور تمہاری مت آخر کہاں، کیسے اور کتنی مار دی گئی ؟ والعیاذ باللہ العظیم۔ بہرکیف یہاں پر ان دو قسموں کے جواب میں اور مقسم علیہ کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ آپ میں اے پیغمبر اللہ کے فضل و کرم سے دیوانگی کی کوئی بات نہیں جس طرح کہ ان منکروں بدبختوں کا کہنا ہے بلکہ گزشتہ تمام آسمانی صحیفے اور یہ قرآن جو لکھا جا رہا ہے آپ کی صداقت و حقانیت کے شاہد ہیں اور یہ کہ آپ اپنے رب کے سب سے بڑے فضل سے بہرہ مند ہیں اور اخلاق کریمہ کے اعلیٰ درجے پر ہیں۔ (علیہ السلام)
Ayahs 68:3–45 پیغمبر (علیہ السلام) کا اخلاق و کردار اور ان کی صداقت و حقانیت کی دلیل : سو ارشاد فرمایا گیا اور کلمات تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ بلاشبہ آپ ﷺ اخلاق کے بہت بڑے مرتبے پر ہیں۔ اتنے بڑے مرتبے پر جس کی نظیر و مثال چشم فلک نے نہ اس سے پہلے کبھی دیکھی اور نہ آئندہ قیامت تک کبھی دیکھ سکے گی۔ صلوات اللہ وسلامہ علیہ علی آلہ وصحبہ ومن والاہ وبھداہ اھتدی اور آپ ﷺ کے اخلاق کی یہ بلندی اور پاکیزگی ان لوگوں کے خلاف سب سے بڑی حجت ہے جو آپ ﷺ کو دیوانہ یا کاہن یا شاعر کہہ کرو العیاذ باللہ اپنے دلوں کی بھڑاس نکالتے ہیں اور اس طرح وہ اپنی بدبختی کے داغ کو اور پکا کرتے ہیں اور اس طرح وہ اپنے آپ کو اور اپنے عوام کو یہ باور کرانے کی کوشش کرتے ہیں، کہ آپ ﷺ کی باتیں یونہی ہیں جو ہوا میں اڑ جائیں گی، پس آپ ﷺ ان لوگوں کی ایسی دلا آزار باتوں کی پرواہ نہیں کرنا، ان کے کہنے سے کیا بنتا یا بگڑتا ہے اصل گواہی تو آپ ﷺ کے رب کی ہے سبحانہ و تعالیٰ جو کہ بہرحال آپ کے ساتھ اور آپ کے حق میں ہے، بہر کیف اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ پیغمبر کا اخلاق و کردار ان کی صداقت و حقانیت کی شہادت اور اس کی دلیل ہے اور یہ امتیازی شان پیغمبر کے سوا اور کسی کو نصیب نہیں ہوسکتی۔ (علیہ السلام) ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ ان کی محبت اور اطاعت سے سرفراز و سرشار رکھے۔ آمین
Ayahs 68:5–86 مکذبین و منکرین کی اطاعت و فرمانبرداری سے ممانعت کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا پس حق اور حقیقت کی وضاحت ہوگئی تو آپ بھی کہا نہیں ماننا جھٹلانے الوں کا جیسا کہ اب تک نہیں مانا کیونکہ حق اور باطل کا توافق اور جوڑ ممکن ہی نہیں، کہ باطل دوئی پسند ہے اور حق لاشریک، شرکت میانہ حق و باطل نہ کر قبول، سوس اس ارشاد میں بھی خطاب اگرچہ پیغمبر سے ہے لیکن سنانا دراصل آپ ﷺ کے انہی منکروں کو ہے، جو حق بات کو سننے اور ماننے کو تیار نہیں ہے۔ بلکہ اس کے برعکس اس طرح کی خبیث کوششوں میں لگے ہوئے تھے کہ کسی طرح آپ ﷺ ان کی باتوں میں آ کر، اور ان کا کہا مان کر ان کے طور طریقوں کو اپنا لیں، جیسا کہ آگے بھی آ رہا ہے، سو ایسے لوگوں کو براہ راست خطاب کرنے کی بجائے پیغمبر کے توسط سے بتادیا گیا، کہ یہ لوگ ایسی ہر غلط فہمی کو اپنے دل و دماغ سے نکال دیں کہ پیغمبر کی طرف سے ان کی ایسی کسی بات کے ماننے کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، کیونکہ حق بہرحال حق ہے اس کے ساتھ باطل کی کسی طرح کی کوئی آمیزش ممکن نہیں اور دوسری طرف اس میں پیغمبر کے واسطے سے آپ کی امت اور امت کے ہر فرد کے لئے یہ درس عظیم ہے کہ تم کبھی مکذبین و منکرین میں سے کسی کی بات نہ ماننا کہ یہ بات اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت و فرمانبرداری کے تقاضوں کے خلاف ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی پناہ میں رکھے۔ آمین۔
Ayah 68:97 مکذبین کی کافرانہ پالیسی کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ یہ لوگ چاہتے ہیں کہ کسی طرح آپ ﷺ ڈھیلے پڑجائیں تو اس کے نتیجے میں یہ بھی ڈھیلے پڑجائیں۔ جیسا کہ روایات میں وارد ہے کہ مشرکین مکہ نے آنحضرت ﷺ کی خدمت میں یہ پیش کش کی تھی کہ آپ ہمارے معبودوں کو کچھ نہ کہیں ہم آپ کے معبود کو مان لیں گے، تاکہ اس طرح " کچھ لو اور کچھ دو " کی پالیسی پر عمل کر کے باہم توافق و مصالحت کو پانایا جاسکے، سو ان لوگوں کا مقصد کلمہ حق کو سننا اور ماننا سرے سے تھا ہی نہیں کہ یہ بات ان کی خاہشات پرستی اور ان کی تقلید آبا کے تقاضوں کیخلاف تھی، اس لئے وہ چاہتے تھے کہ آپ کچھ نرمی پیدا کریں اور اس کے نتیجے میں یہ بھی نرم پڑجائیں، سو جب تک ان کو اس کی توقع ہے کہ اس طرح یہ اپنے مشن میں کامیاب ہوجائیں گے، تو ان کی یہ بات کوشش جاری رہے گی اور جب ان کی توقع ختم ہوجائے گی تو ان کا حوصلہ پست ہوجائے گا، بہرکیف اس ارشاد سے مذبین و منکرین کی کافرانہ پالیسی اور ان کے خبث باطن سے پڑا پردہ اٹھایا گیا ہے کہ یہ لوگ حق کے آگے جھکنے اور اس کو اپنانے کے لے تیار نہیں بلکہ یہ اپنی خواہشات کی پیروی کے لئے حق کو بھی ادھر ہی موڑنے کمی فکر اور اس چکر میں ہیں یعنی یہ لوگ حق کے آگے جھکنے اور اس کی تعلیمات کے سانچے میں ڈھلنے کی بجائے الٹا یہ بدبخت حق کو اپنی خواہشات پر ڈھالنے کی تگ و دو میں لگے ہوئے ہیں جس سے ان کا جرم دوہرا اور ان کی محرومی کی چھاپ اور پکی اور گہری ہوتی جاتی ہے۔ پس ایسوں کی بات کبھی نہیں ماننا کہ دین حق میں ایسی Bargaining کی کوئی گنجائش نہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ حق بہرحال حق اور پوری طرح واضح ہے۔
Ayah 68:108 بدکردار شخص کی بات ماننے سے ممانعت کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا اور نہ ہی کہا ماننا کسی ایسے شخص کا جو بہت قسمیں اٹھانے والا ہو کہ وہ عقیدہ و ایمان کے ثقل و وزن اور اخلاق و کردار کے جوہر سے عاری ہوتا ہے اور یہ دراصل حلاف (بہت قسمیں کھانے والے شخص) کا ایک وصف لازم ہوتا ہے کہ وہ اپنے اندر سے خود اپنے آپ کو بےحقیقت اور بےاعتبار سمجھ رہا ہوتا ہے اسی لئے وہ قسمیں کھا کھا کر دوسروں کو یقین دلانے کی کوشش کرتا ہے، پس ایسے کسی شخص کی بات پر کان نہیں دھرنا، سو یہاں پر اخلاق و کردار کے دو بالکل مختلف نمونے پیش فرما دیئے گئے، کہ ایک طرف تو پیغمبر کے اخلاق عالیہ کا نمونہ ہے جو آپ کی صداقت و حقانیت کی شہادت اور اس کی ایک کھلی اور واضح دلیل ہے اور جس کے بارے میں ارشاد فرمایا گیا کہ یقیناً آپک اخلاق فاصلہ کے بڑے اونچے درجے پر ہیں اور ایسے اونچے درجے پر جو آپ ﷺ کے مخالفین پر حجت ہے اور دوسری طرف منکرین و مکذبین حق ہیں جن کے اخلاق رذیلہ کے نمونے یہ اور یہ ہیں، اب ہر آدمی خود دیکھ اور سوچ لے کہ وہ ان دونوں میں سے کس طریقے کو اپنائے اور اختیار کرے، سو اس سے یہ حقیقت بھی واضح ہوجاتی ہے کہ انسان کی قدر و قیمت اس کی شکل و صورت، ظاہری ٹیپ ٹاپ اور دنیاوی مال و دولت وغیرہ ظاہری اور مادی اسباب کی بنا پر نہیں جس طرح کہ عام دنیادار اور مادہ پرست لوگوں کا کہنا اور ماننا ہے بلکہ اس کی اصل قدر و قیمت اس کے ایمان و یقین اور اس کے اخلاق و کردار ہے۔ اللہ تعالیٰ محض اپنے فضل و کرم سے ہمیشہ اور ہر حال میں ایمان کامل عمل صالح اور اخلاق عالی کی دولت سے سرفراز و سرشار رکھے۔ آمین ثم آمین
Ayahs 68:11–129 ۔ خیر سے روکنے والے کی پیروی سے ممانعت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جو روکنے والا ہو خیر سے۔ الخیر کا لفظ چونکہ بھلائی کے لئے بھی آتا ہے اور مال کے لئے بھی، اور ایسا بےایمان و بےضمیر شخص چونکہ ان دونوں ہی سے روکتا ہے، اس لئے ہم نے ترجمہ کے اندر لفظ خیر ہی کو اختیار کیا ہے تاکہ وہ دونوں معنوں کو عام و شامل رہے، اہل بدعت کے ایک بڑے مشہور و معروف تحریف پسند نے اپنی بدعت پرستی اور تحریف پسندی کی بناء پر یہاں اس طرح گل فشانی کی ہے کہ آج بھی بعض لوگ جوئے شراب اور سینما سے نہیں روکتے ہاں میلاد شریف بزرگان دین کا ختم انہیں بہت کھٹکتا ہے، یہ ہے منع خیر (بلفظہ) فانا للہ وانا الیہ راجعون بدعت کے مارے ہوئے ان محرفین سے کوئی پوچھے کہ جوئے شراب اور سینما وغیرہ کو کس نے جائز قرار دیا ہے ؟ اور یہ امور جن کو خیر کہتے ہو خیر نہیں، بدعات ہیں جن کے بارے میں حضرت رسالت مآب ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے کہ جس نے ہمارے دین میں کوئی نء بات نکالی یعنی کوئی بدعت اس میں شامل کی وہ مردود ہے (من احدث فی امرنا ھذا مالیس منہ فھورد) سو بدعات سے روکنا تو دین کا تقاضا اور آنحضرت ﷺ کے حکم و ارشاد کا مقتضی ہے کہ یہ دین میں خود ساختہ اضافہ ہے جو دین کی بنیاد کو ڈھا دینے کے مترادف ہے، ان کو خیر کہنا اور امور خیر میں شامل کرنا خود تحریف دین کے زمرے میں آتا ہے، والعیاذ باللہ العظیم سو جس چیز کا ثبوت نہ قرآن حکیم میں ہو، نہ حدیث رسول میں، نہ صحابہ کرام اور تابعین کے دور میں اور نہ ہی فقہا کرام کی فقہ میں اور خاص کر فقہ حنفی میں جس کے ماننے کا دعویٰ ایسے اہل بدعت بھی کرتے ہیں اور بڑے زور و شور سے کرتے ہیں، وہ چیز خیر اور دین کس طرح ہوسکتی ہے ؟ فالی اللہ المشتکی وھوالمستعان وعلیہ التکلان بہر کیف اس بہرکیف اس ارشاد سے مناع للخیر یعنی خیر سے روکنے والے کی اطاعت و فرمانبرداری سے منہ فرمایا گیا ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم
Ayahs 68:13–1410 فساد کردار کے سبب کی نشاندہی کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس بناء پر کہ وہ مال اور اولاد والا ہے۔ اس صورت میں ان کان کا تعلق فلا تطع سے ہوگا اور مطلب یہ ہوگا کہ محض اس بناء پر اس کا کہنا نہیں ماننا کہ وہ مال اور اولاد والا ہے، کہ ایسے شخص کا مال و اولاد قیامت کے روز اس کے کچھ بھی کام نہ آسکے گا، جیسا کہ دوسرے مقام پر فرمایا گیا۔ " یوم لاینفع مال ولاینون الا من اتی اللہ بقلب سلیم " (الشعراء : 88) (کشاف، مراغی، محاسن اور معارف، وبیان القرآن وغیرہ) اور دوسرا احتمال اس میں یہ بھی ہے کہ اس کا تعلق اگلی آیت کریمہ سے ہو، اس صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ ایسا شخص محض اس بناء پر کہ وہ مال اور اولاد والا تھا، حق کا منکر ہوگیا، والعیاذ باللہ یعنی مال و اولاد کی نعمت پا کر اس کے شکرئے میں حق کو قبول کرنے اور اس کے آگے جھنے کی بجائے وہ الٹا تکبر اور انانیت کے گھمنڈ میں مبتلا ہو کر حق کا منکر ہوگیا اور نور حق و ہدایت سے محروم ہوگیا اور انسان تنگ ظرف کا یہی وطیرہ ہوتا ہے کہ دنیادوں کا کچھ حصہ مل گیا تو وہ بپھر کر آپے سے باہر ہوگیا اور کفر و انکار پر اتر آیا کل بھی یہی تھا اور آج بھی یہی ہے الا من عصمہ اللہ والیعاذ باللہ العظیم بہر کیف اس سے ایسے مفسدین کے فساد کردار کے اصل سبب کی نشاندہی فرما دی گئی کہ ایسے لوگ اپنے دنیاوی مال و اسباب اور آل و اولاد وغیرہ کی بنا پر تکبر میں مبتلا ہوجاتے ہیں اور وہ اس بنا پر اپنے آپ کو حق سمجھتے ہیں کہ اگر ہم حق پر نہ ہوتے تو ہمیں یہ دنیاوی مال و دولت کیوں ملتا اور اسی بنا پر ایسے لوگ آخرت اور وہاں کی جزاء و سزا کے منکر ہوجاتے ہیں اور سمجھنے اور کہنے لگنے ہیں کہ اگر آخرت ہوئی بھی تو وہاں بھی ہماری ہی کامیابی ہوگی۔ سو دنیاوی مال و دولت کا یہ پہلو بہت خطرناک اور باعث محرومی ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر اعتبار سے اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے ہر قسم کے سرور و نفن سے ہمیشہ محفوظ رکھے اور ہر قدم اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر اٹھانے کی توفیق بخشے۔ آمین ثم آمین
Ayah 68:1511 تکبر کا نتیجہ و انجام حق کا انکار و محرومی، والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جب ایسے شخص کو ہماری آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو کہتا ہے یہ کہانیاں ہیں پہلے لوگوں کی سو ارشاد فرمایا گیا کہ ہم عنقریب ہی ایک نشان لگا دیں گے اس سونڈ پر جو اس کی تحقیر و تذلیل کا نشان ہوگا، چناچہ کفر و تکذیب اور انکار و استکبار کی عمومی سیاہی کے علاوہ، بدر کے موقع پر اس کافر کی ناک پر تلوار ایک ایسا وار لگا کہ وہ اس کے لئے ہمیشہ کا وسمہ تذلیل و عار بن گیا ( جامع البیان، مدارک، کبیر وغیرہ) اور آخرت کی رو سیاہی تو اس سے کہیں بڑھ کر ہوگی جیسا کہ ارشاد فرمایا گیا " ترھقھا قترۃ " نیز ارشاد فرمایا گیا " یعرف المجرمون بسیماھم " کہ اس روز مجرم لوگ ان کے چہروں کی نشانوں سے پہنچانے جائیں گے، والعیاذ باللہ العظیم۔ بہرکیف اس ارشاد سے ایسے متکبر شخص کے کبر و غرور کی تصویر پیش فرما دی گئی ہے کہ جب اس کو سبق لینے اور اصلاح احوال کی طرف متوجہ کرنے کے لئے پہلے گزرے ہوئے متکبروں کے احوال پر مشتمل ہماری آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو ایسا شخص سبق لینے کی بجائے الٹا یوں کہتا ہے کہ یہ تو قصے اور کہانیاں ہیں پہلے لوگوں کی اور اس طرح ایسا شخص ماننے کی بجائے ان کو افسانے قرار دے کر ان کا مذاق اڑانے لگتا ہے کہ ان قصوں کہانیوں کا ہم سے کیا تعلق ہے ہم ان سے دبنے والے اور ان کے رعب میں آنے والے نہیں وغیرہ وغیرہ۔
Ayah 68:1612 ۔ استکبار کا نتیجہ و انحرم ذلت و خواری والعیاد باللہ ! : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ہم عنقریب ہی نشان لگا دیں گے اس کی سونڈ پر یعنی۔ اس کی ناک پر، اس میں اس کی انتہائی تحقیر و تذلیل ہے کہ اس کی ناک کے لئے خرطوم یعنی سونڈ کا لفظ اسعتمال فرمایا گیا ہے، جو کہ اپنی اصل کے اعتبار سے ہاتھی اور خنزیر کی سونڈ کے لئے بولا جاتا ہے، کیونکہ یہ شخص اپنی اسی جھوٹی ناک کی بڑائی کے گھمنڈ میں کفر و انکار کا مرتکب ہوا تھا اور اس نے کلام الٰہی کے حق میں توہین کا ارتکاب کیا تھا، رہ گئی یہ بات کہ یہ کون شخص تھا ؟ تو اس کے بارے میں حضرات مفسرین کرام نے مختلف نام لئے ہیں، مثلاً اخنس بن شریق، اسود بن عبدیغوث، عبدالرحمٰن بن اسود، ولید بن مغیرہ اور ابوجہل بن ہشام (روح، ابن کثیر، قرطبی، محاسن، اور مدارک وغیرہ) لیکن حقیقت یہ ہے کہ قرآنی الفاظ کا عموم ان سب ہی کو شامل ہے اور اس کے علاوہ آئندہ بھی اس قماش کے جو لوگ ہوں گے وہ سب بھی اسی زمرے میں آتے ہیں، اس لئے ابھموا ما ابھمہ القرآن کے مطابق اور المطلق یجری علی اطلاقہ کے اصول کے تحت کلمات تنزیل کو عام ہی رکھنا چاہئے تاکہ یہ اس طرح کہ سب ہی لوگوں کو عام اور شامل رہیں کہ مسئلہ فلاں ابن فلاں کا نہیں بلکہ اخلاق و کردار کا ہے۔ سو اس سے استکبار کے نتیجہ و انجام اور اس کی سزا کو بیان فرما دیا گیا ہے جس سے یہ بھی ظاہر فرما دیا گیا کہ استکبار کے ساتھ اپنی ناک کو بڑا کرنے اور اس کے نتیجے میں نور حق اور ہدایت سے منہ موڑنے والوں کی ناک ناک نہیں بلکہ خنزیر کی سو انڈ ہوتی ہے جو حق کی طرف مڑنے اور اس کے آگے جھکنے کے لئے تیار نہیں ہوتی جبکہ انسان کی اصل قدر و قیمت ہی حق کے آگے جھکنے اور اس کو قبول کرنے میں ہے۔ وباللہ التوفیق لمایحب ویرید وعلی مایحب ویرید۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی رضا کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے۔ آمین۔
Ayahs 68:17–1814 انبار و رضا نے کہرو غرور اور ان کی محرومی کے ایک نمونے اور مظہر کے ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جبکہ وہ اپنے زعم اور گھمنڈ کی بناء پر کڑی قسمیں کھا کر کہہ رہے تھے ہم ضرور یا ضرور پھل توڑ کر رہیں گے اپنے باغ کئے اور اس پر وہ اتنے باغ کئے اور اس پر وہ اتنے مست اور مکن کہ پر انشاء اللہ بھی نہیں کہہ رہے تھے۔ سورس سے معلوم ہوا کہ اپنی فکر و تدبیر کے گھمنڈ میں مبتلا ہو کر حضرت حق جل مجدہ کی قدرت و عظمت کو بھول جانا خرابی و فساد کی جڑی بنیاد ہے، جیسا کہ دوسرے مقام پر اس کی تصریح فرمائی گئی کہ اللہ پاک کی گرفت و پکڑ اور اس کے مکر سے نڈر اور بےخوف ہوجانا انہی لوگوں کا شیوہ و طریقہ ہوسکتا ہے جن کے نصیب ہی پھوٹ چکے ہوں اور وہ خسارے میں مبتلا ہوچکے ہوں چناچہ ارشاد ہوتا ہے، فلا یامن مکر اللہ الا القوم الخاسرون (الاعراف -99) اللھم وقفنا لما تحب وترضی و خدنا بنواصینا الی مافیہ حبک ورضاک یا رحم الراحمین سو وہ لوگ اپنے زعم اور گھمنڈ کے مطابق باغ کے پھل توڑنے کے ارادہ و پروگرام سے ایسے مست و مگن ہوگئے کہ گویا ان کے لئے کوئی خطرہ ہی نہیں اور سب کچھ انہی کے قبضہ و اختیار میں ہے اور انہوں نے انشاء اللہ کہنے کی بھی ضرورت نہ سمجھی۔ سو اس سے ان کے کبر و غرور کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ والعیاذ باللہ۔
Ayah 68:1915 باغ پر گردش عذاب کے چکر کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ پھر چکر لگا لیا اس باغ پر تمہارے رب کی طرف سے ایک آفت نے جبکہ وہ اور یہ آفت ایک آسمانی آگ کی صورت میں آئی اور اس نے ان کے اس باغ کو جلا کر خاکستر کردیا، ابن جریر کہتے ہیں طائف اسی آفت کو کہا جاتا ہے جو رات کو آتی ہے، دن میں آنے والی مصیبت کو طائف نہیں کہا جاتا، (صفوۃ التفاسیر، محاسن التاویل، وغیرہ) سو یہ لوگ تو اپنے مذکورہ فیصلے پر بڑے عزم و جزم کے ساتھ مطمئن ہو کر رات کو سو گئے کہ صبح اٹھ کر باغ کے پھل کاٹیں گے، لیکن یہ رات کو ابھی سوئے ہی پڑے تھے کہ ان کے باغ پر ایک ایسی گردش آئی کہ اس نے اس کا صفایا کردیا اور اس طرح وہ کٹی ہوئی فصل کی مانند ہو کر رہ گیا اور یہ آفت آپ ﷺ کے رب کی طرف سے اس طور پر آئی کہ ان لوگوں کو اس کا کوئی وہم و گمان تک نہ تھا او اس زور و قوت اور بےپناہی کے ساتھ آئی کہ اس سے چشم زدن میں وہ ہرا بھرا باغ بےنشان ہو کر رہ گیا، والعیاذ باللہ العظیم ۔ طائف من ربک کے کلمات کریمہ میں دو اہم اور بنیادی حقیقتوں کی طرف اشارہ پایا جاتا ہے۔ ایک اس کے ناگہانی ہونے پر کہ وہ عذاب ایس آیا کہ ان لوگوں کو اس کا سان و گمان بھی نہ تھا اور دوسری حقیقت جو من ربک کی اس نسبت و اضافت سے ظاہر ہوتی ہے وہ اس کی بےپناہی ہے کہ اس عذاب نے چشم زدن میں وہ کرشمہ کر دکھایا کہ ان کا وہ ہرا بھرا باغ بےشنان ہو کر رہ گیا اور ایسا اور اس حد تک کہ اس کے مالکوں کو اس کی جگہ تک پہنچاننا مشکل ہوگیا۔ والعیاذ باللہ العظیم۔
Ayahs 68:20–2116 باغ والوں کی روانگی اور باہمی راز داری کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ صبح کو وہ لوگ آپس میں چپکے چپکے باتیں کرتے ہوئے نکل پڑے۔ کہ تاکہ کوئی غریب مسکین سن گن کر ادھر نہ آنکلے (روح، صفوہ، ابن کثیر، معارف وغیرہ) اور اس طرح وہ دوسروں کی محرومی کے لئے تدبیر کر کے دراصل خود اپنی ہی محرومی کا سامان کر رہے تھے اور اپنے پاؤں پر خود اپنے ہاتھوں سے کلاڑا مار رہے تھے، مگر وہ اس سے بیخبر تھے، والعیاذ باللہ، اسی لئے دین حنیف یہ تعلیم دیتا ہے کہ دوسوں کے بھلے اور نفع رسانی کی فکر و کوشش کرو، تاکہ خود تمہارا بھلا ہو جیسا کہ فرمایا گیا خیر الناس انفعھم للناس یعنی سب سے اچھا انسان وہ ہے جو دوسروں کو سب سے زیادہ نفع اور فائدہ پہچان والا ہے، نیز فرمایا گیا واللہ فی عون العبد ماکان العبد فی عون اخیہ یعنی اللہ اپنے بندے کی مدد میں ہوتا ہے جب تک کہ بندہ اپنے بھائی کی مدد میں ہوتا ہے، سبحان اللہ کیسیعظیم تعلیم اور کس قدر عمدہ درس ہے خود اپنے بھلے کا، مگر لوگ ہیں کہ اس سے غافل ہیں الا ماشاء اللہ اسی لئے کہا جاتا ہے کہ بھلا، ہو بھلا، بھلے کا انت بھلا واللہ المستعان وعلیہ التکلان بہرکیف وہ بدنصیب لوگ اپنی قرار داد اور فیصلہ کے مطابق صبح سویرے اپنے باغ کے پھل توڑنے کے لئے نکل پڑے اور آپس میں چپکے چپکے باتیں کرتے جا رہے تھے، مگر ان کو معلوم نہیں تھا کہ آگے ان کی بدنیتی اور بدبختی نے ان کے باغ کا صفایا کردیا ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین
Ayahs 68:22–2617 باغ والوں کی بدحواسی کے منظر کا ذکر وبیان سو جب وہ وہاں پہنچے تو دیکھا کہ وہاں پر باغ کا نام و نشان بھی نہیں تو انہوں نے کہا کہ ہم تو راستہ بھول گئے۔ اور رات کے اندھیرے میں بھٹک کر کسی اور جگہ پہنچ گئے ہیں کیونہ ان کے باغ کا تو نام و نشان ہی مٹ گیا تھا، والعیاذ باللہ سوگردش آسمانی نے ان کے اس باغ کا حلیہ اس قدر بگاڑ کر رکھ دیا تھا کہ جب ان کی نظر اس پر پڑی، تو اول وہلہ میں وہ اس کو پہچان ہی نہ سکے اور یہاں تک کہ ان کو خیال ہوا کہ ہم بھول کر کسی اور جگہ پہنچ گئے اور رات کے اندھیرے میں راستہ بھٹک کر کسی اور طرف نکل آئے، سو کہاں اس باغ کی وہ آبادی و رونق اور کہاں اس کی یہ اجاڑ اور ویرانی ؟ والعیاذ باللہ من کل زیغ و ضلال و سوء و انحراف ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر قائم رکھے۔ آمین ثم امین
Ayah 68:2718 باغ والوں کے اقرار محرومی کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ انہوں نے کہا کہ نہیں بلکہ ہم محروم ہوگئے۔ یعنی جب دائیں بائیں کے نشانات وغیرہ دیکھنے سے معلوم ہوا کہ ہم راستہ نہیں بھولے کہ جگہ تو وہی ہمارے باغ والی ہی ہے، مگر ہماری بدنیتی کی وجہ سے ہمارے باغ کا صفایا ہوگیا ہے اور وہ نیست و نابود ہوگیا ہے ہماری قسمت پھوٹ گئی اور ہم محروم ہوگئے، والعیاذ باللہ تو اس پر وہ بدبخت حسرت بھرے انداز میں یوں کہنے لگے، ہم کن ارمانوں اور حوصلوں کے ساتھ گھروں سے نکلے تھے اور کیا کچھ پروگرام بنا کر چلے تھے، لیکن آگے کیا صورت پیش آئی اور ہمارے باغ کا کیا بن گیا، مگر اب پچھتانے اور کف افسوس ملنے سے کیا فائدہ، کہ اب تو چڑیوں نے کھیت چگ لیا تھا اور ان کی بدنیتی و ناشکری کا نتیجہ ان کے سامنے آچکا تھا۔ والعیاذ باللہ العظیم۔
Ayah 68:2819 نیک بخت انسان کی تنبیہ و تذکیر کا ذکر وبیان : سو اس وقت ان کے میانہ رو شخص نے ان بگڑے ہوئے انسانوں سے کہا کہ کیا میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ تم تسبیح کیوں نہیں کرتے ؟ یعنی اوسط سے یہاں پر مراد عقل ورائے کے اعتبار سے اوسط ہے، (قرطبی، صفوہ وغیرہ) سو یہ ان کے اندر کا سب سے میانہ رو اور معقول آدمی تھا اور یہ کوئی تعجب کی بات نہیں، برے سے برے معاشرے میں بھی کچھ ایسی نیک بخت اور سعید روحیں موجود ہوتی ہیں جو لوگوں کو ان کی بےراہ روی پر ٹوکتی اور غلط راستے سے روکتی رہتی ہیں، غفلت کے مارے خواہ ان کی بات سنیں یا نہ سنیں، خیر کی بات کو اپنائیں یا نہ اپنائیں، ایسے نیک بخت اور سعادت مند لوگ ان کو حق و ہدایت کی تعلیم و تلقین کرتے رہتے ہیں، سو ایسا ہی اللہ کا ایک بندہ ان کے اندر بھی موجود تھا، جو ان کو یہ وعظ اور تذکیر کرتا رہتا تھا کہ تم لوگ اپنیح رب کی یاد سے غفلت نہ برتو بلکہ اس کی تسبیح کرتے رہو اور تسبیح کا لفظ ایک جامع لفظ ہے جو اللہ تعالیٰ کی یاد اور اس کی بزرگی کے پورے مفہوم پر حاوی ہے، مگر ان خرمستوں نے اس بندہ صدق و صفا کی اس ناصحانہ اور خیر خواہانہ بات پر کان نہیں جھرے اور ہی حال ہوتا ہے ان بگڑے ہوئے لوگوں کا جن کی بدبختی ان پر غالب آجاتی ہے لیکن جب ان بدبختوں کی غفلت کا نتیجہ و انجام ان کے سامنے آگیا تو اس وقت اس بندہ خدا نے ان کو یاد دلایا کہ کیا میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ تم تسبیح کیوں نہیں کرتے ؟
Ayah 68:2920 بدبختوں کا گرفت میں آنے کے بعد اعتراف و اقرار جرم : سو اس مرد ناصح کی اس تذکیر و یاد دہانی کے جواب میں انہوں نے اعتراف جرم کرتے ہوئے فوراً کہا کہ پاک ہے ہمارا رب ہر نقص و عیب سے اور اس سے کہ کوئی انسان اپنی عقل و تدبیر کے بل بوتے پر اس کے قدرت و مشیت پر غالب آسکے، سبحانہ و تعالیٰ اور یہ اس نے ہمارے اوپر کوئی ظلم نہیں کیا، بلکہ ہم لوگ خود ہی اپنی جانوں پر ظلم کرنے والے تھے، ہم اپنی کامیابیوں کے نشے میں اس کی قدرت اور اسیک شانوں کو بھول گئے تھے او اگر اعتراف تھا جس طرح فرعون نے اپنی غرقابی کے موقع پر کیا تھا اور بےوقت کا ایسا اعتراف بےسود ہوتا ہے، والعیاذ باللہ العظیم ایسے وقت میں جبکہ ایسے متکبر اور مست و مغرور لوگ اللہ کی گرفت اور اس کے عذب کی پکڑ میں آ جات یہیں تو ان کا وہ نشہ ان سے ہرن ہوجاتا ہے جو اس سے پہلے ان کے سروں پر سوار ہوتا ہے اور جس کے نتیجے میں یہ کسی ناصح مخلص کی بات کو سننے اور ماننے کے لئے تیار نہیں ہوتے اور اس وقت ایسے لوگ اپنے جرم و قصور کا اعتراف و اقرار تو کرتے ہیں اور زور دے کر کرتے ہیں مگر اس کا ان کو کوئی فائدہ بہرحال نہیں ہوتا کہ اس وقت گزر چکا ہوتا ہے۔ والعیاذ باللہ اعلظیم
Ayah 68:3021 ہارے ہوئے بازیگروں کی آپس میں لعنت ملامت کا ذکر وبیان : سو اس سے ان کی آپس میں ایک دوسرے کی ملامت کا ذکر فرمایا گیا ہے چناچہ ارشاد فرمایا گیا پھر وہ آپس میں ایک دوسرے کو الزام دینے لگے۔ جیسا کہ اس تنگ ظرف اور جلد باز انسان کا طریقہ ودطیرہ ہے کہ یہ بازی ہارنے پر اس کا الزام دوسروں کو دینے گتا ہے، والعیاذ باللہ سو ان بدبختوں کا حال بھی ایسے ہی ہوا کہ جب ان کے کئے کرائے کا انجام تک سامنے آگیا، تو وہ آپس میں ایک دوسرے کو الزام دینے لگے، کسی نے کسی پر الزام لگایا کہ یہ سب قصور اس کا ہے کہ اس نے صحیح راہ اختیار نہ کی، کسی نے دوسرے کو مجرم ٹھہرایا کہ اس نے ناصح کی بات نہ سننے دی، سو اس طرح کے لوگ ایسے موقع پر اسی طرح ایک دوسرے کو مطعون کرتے اور الزام دیتے ہیں، حالانکہ مجرم سب ہی ہوتے ہیں، پس درجات کا فرق ہوتا ہے کہ ان میں سے کچھ تو وہ ہوتے ہیں جو فتنے اور فساد کی راہ کھولنے والے اور اس کے سرغنے ہوتے ہیں اور کچھ وہ ہوتے ہیں جو اس میں شریک اور حصے دار ہوتے ہیں اور کچھ وہ ہوتے ہیں جو آنکھ بند کر کے ان کی پیروی کرتے ہیں لیکن آخر کار جب اس کے نتیجہ و انجام کی زد میں آتے ہیں تو اس وقت ان کو اس کا اعتراف کرنا پڑتا ہے اور اس حد تک کہ ان میں سے ہر ایک اپنی براءت ظاہر کرتا اور اس کا الزام دوسرے پر رکھنے کی کوشش کرتا ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ تعالیٰ زیغ و ضلال کی ہر شکل سے محفوظ اور اپنی پناہ میں رکھے اور ہمیشہ اپنا ہی بنائے رکھے۔ آمین ثم امین۔
Ayah 68:3122 عذاب آنے کے بعد کی توبہ کا کوئی اعتبار نہیں : سو ایک دوسرے پر لعن طعن کرنے اور ایک دوسرے پر الزام رکھنے کے بعد انہوں نے اعتراف جرم کرتے ہوئے کہا کہ یقینا ہم سب ہی سرکش تھے کہ ہم نے اپنے نیک باپ کے نیک اور پاکیزہ طریقے کو چھوڑا، فقراء اور مساکین کو ان کے حق سے محروم کرنے کی کوشش کی اور اپنے رب پر توکل و اعتماد کو ترک کیا، والعیاذ باللہ سو آخر کار ان سب کو اپنے قصور کا اعتراف کرنا پڑا اور کہا کہ ہم سب ہی اس جرم میں شریک اور قصور وار تھے، مگر بےوقت کے اس اعتراف کا کوئی فائدہ نہیں تھا۔ بہرحال انہوں نے کہا کہ ہم امید رکھتے ہیں کہ ہمارا رب ہمیں اس سے بہتر بدلہ دے گا۔ ہم اپنے رب ہی کی طرف راغب ہوتے اور رجوع کرتے ہیں۔ قرآن حکیم نے یہاں پر ان کے اس اعتراف و اقرار اور ان کی اس توقع اور رغبت و رجوع الی اللہ کے ذکر ہی پر اکتفاء فرمایا ہے۔ آگے اس پر کوئی تبصرہ نہیں فرمایا۔ لیکن سنت الٰہی اور دستور خدا وندی یہی ہے کہ وقت گزر جانے اور عذب آجانے کے بعد کی توبہ اور رجوع الی اللہ کا کوئی اعتبار نہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم
Ayahs 68:32–3323 ۔ تنبیہی عذاب سے متعلق سنت الہیہ کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اسی طرح ہوتا ہے اللہ کا عذاب۔ جوا نسان کو اس کی سرکشی اور بدعملی کی پاداش میں کبھی اسی دنیا میں بھی آدبوچتا ہے، والعیاذ باللہ، تاکہ عبرت پکڑنے والے عبرت پکڑیں اور انکار وتکبر والے اپنے انجام کو پہنچیں، جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ولنذیقنھم من العذاب الادنی دون العذاب الاکبر لعلھم یرجعون (السجدہ :21) چناچہ ایسے عذاب اس دنیا میں پہلے بھی آتے رہے اور اب بھی آئے دن آتے رہتے ہیں، جگہ جگہ آتے ہیں اور طرح طرح سے آتے ہیں، والعیاذ باللہ، مگر یہ انسان کی غفلت و لاپرواہی اور اس کی محرومی ہے کہ یہ اس سے سبق نہیں لیتا، چناچہ آج کل ہی جب کہ راقم آثم اس مقام پر یہ سطور لکھ رہا ہے (یعنی 3 مئی 1991 ء کو) سابقہ مشرقی پاکستان اور موجودہ بنگلہ دیش میں قیامت خیز طوفان نے یکایک ایک لاکھ بلکہ شاید اس سے بھی زیادہ انسانوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا، شہروں کے شہر تباہ و برباد ہوگئے، اس سے تین چار ماہ قبل عربوں کی خانہ جنگی کے دوران لاکھوں عراقی تہ تیغ ہوگئے اور فضائی حملے ہوئے، عرقای تعمیر و ترقی کی اینٹ سے اینٹ بجا دی گئی، اتحادی فوجوں کی طرف سے عراق پر ڈیڑھ ماہ کے عرصے میں لگاتار ایک لاکھ سے بھی زیادہ فضائی حملے ہوئے، ادھر کیوت کے جلنے والے تیل کنوؤں سے دھوئیں کے بادل اب تک بلند ہو رہے ہیں اور ماہرین کا کہنا ہے کہ اس آگ پر کوئی ڈیڑھ سال کے عرصے میں قابو پایا جاسکے گا، اخباری اطلاعات کے مطابق تقریباً دو لاکھ عرقای فوج ماری گئی اور تقریباً اتنی ہی قیدی بنائی گئی اور نہایت ذلت آمیز اور شرمناک طریقے سے، والعیاذ باللہ اس سے پہلے کم و بیش دس لاکھ کرد لوگ عراقی افواج کے مظالم سے بھاگ کر برفانی پہاڑوں میں ایرانی اور ترکی علاقوں میں پناہ لینے پر مجبور ہوگئے ہیں، جہاں روزانہ ہزاروں کی تعداد میں اموات واقع ہو رہی ہیں، اور دنیا ساری میں اس المیے پر شور بپا ہے اوراقوام متحدہ کی نگرانی میں ان بےگھرو بےدر لوگوں کی امداد کے لئے کوششیں ہو رہی ہیں، اگرچہ اس خطے کے ان تمام المیوں کا ظاہری طور پر اصل ذمہ دار عراقی ڈکٹیٹر صدام حسین ہے لیکن درحقیقت یہ قدرت کے غیبی ہاتھ کی طرف سے منلے والے عذاب عاجل کی مختلف شکلیں اور صورتیں ہیں، والعیاذ باللہ اس سے قبل روسی جمہوریت آزربائیجان میں ایک ہولناک زلزلے سے آناً فاناً چند لمحات کے اندر نوے ہزار انسان موت کی ابدی نیند سو گئے، اس سے پہلے چرنوبل کے جوہری حادثے سے دس ہزار انسان اور بیشمار مویشی لقمہ اجل بن گئے اور یہ پورا علاقہ اس قدر متاثر ہوا کہ اب بالکل ویران پڑا ہے اور سائنس دانوں کے کہنے کے مطاق وہاں پھیلنے والے تابکاری اثرات کی بناء پر یہ علاقہ عرصہ تک رہنے بسنے کے قابل نہیں رہا، اس سے قبل ہندوستان کے شہر بھوپال میں رونما ہونے والے اسی طرح کے ایک حادثے میں ہزاروں لوگ یکایک موت کے منہ میں چلے گئی اور ہزاروں معذور بےکار ہوگئے، پھر وہاں ہندو مسلمان فسادات اور بابری مسجد مندر کے تنازع میں کچھ ہی قبل خون کی ایک خوفناک ہولی کھیلی گئی، اسی طرح امریکی ریاست کو لمبیا میں کچھ ہی قبل جو خوفناک زلزلہ تھا آیا اس نے ایسی تباہی مچائی کہ اس کے پچاس ہزار آبادی والے ایک شہر کو سرکاری طور پر ایک اجتماعی قبرستان قرار دے دیا گیا تھا، وغیرہ وغیرہ سو یہ سب تازیانے ہغیں جو قدرت کی طرف سے عبرت پذیری کے لئے برسائے جاتے ہیں اور کذالک العذاب کے نمونے ہوتے ہیں مگر عبرت کتنے لوگ پکڑتے ہیں ؟ اکثریت تو خواب غفلت سے چونکتی ہی نہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی رضا کی راہ پر قائم رکھے۔ آمین ثم آمین
24 اصل عذاب آخرت کا عذاب ہے۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ایسے ہی ہوتا ہے عذاب اور آخرت کا عذاب تو یقینا اس سے کہیں بڑھ کر ہوگا۔ کاش کہ لوگ جان لیتے سو آخرت کا عذاب اتنا بڑا ہوگا کہ عقلیں اس کے احاطہ و ادراک سے اور الفاظ کلمات اس کے اظہار وبیان سے عاجز و قاصر ہیں، والعیاذ باللہ العظیم سو کذالک العذاب میں جس عذاب کا ذکر ہے، اس سے مراد ہی عذاب ہے جو سنت الٰہی اور دستور خداوندی کے مطابق کسی قوم پر اس وقت آیا جبکہ اس نے اپنے رسول کی تکذیب کی اور وہ اپنے اس جرم سے باز نہیں آئی اور رسول اپن افرض بلاغ ادا کرچکے، سو ایسا عذاب اس قوم کا فیصلہ کردیتا ہے، والعیاذ باللہ العظیم اور اس کے بعد اس کو آخرت کے عذاب سے سابقہ پیش آئے گا جو اس سے کہیں بڑھ چڑھ کر ہوگا۔ رسولوں نے اپنی قوموں کو ان دونوں ہی قسم کے عذابوں سے خبردار کیا، یعنی وہ تنبیہی عذاب جو کسی قوم پر اس وقت آیا ہے جب اس نے اپنے رسول کی تکذیب کی اور حق کو مان کر نہ دیا حالانکہ رسول نے اپنا فرض بلاغ پوری طرح ادا کردیا۔ سو ایسا عذاب اس قوم کا صفایا کردیتا ہے جس سے وہ قوم قصہ پارینہ اور داستانوں میں سے ایک داستان بن کر رہ جاتی ہے لیکن منکرین و مکذبین کے لئے اسی دنیاوی عذاب پر بس نہیں بلکہ ان کے لئے اصل عذاب وہ ہوتا ہے جو آخرت کے دار الحساب اور دارلجزاء میں مقرر ہوتا ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ حضرات انبیاء ورسل نے اپنی اپنی قوموں کو ان دونوں ہی قسم کے عذابوں سے خبردار کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی حفاظت اور پناہ میں رکھے۔ آمین ثم امین
25 منکرین کے رویئے پر اظہار حسرت و افسوس : سو منکرین و مکذبین کے اس باغیانہ سرکشانہ رویے پر اظہار افسوس کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ کاش کہ یہ لوگ جان لیتے حق اور حقیقت کو۔ اور اس کے نتیجے میں یہ حق و ہدایت کی دولت کو اپنا لیتے اور اس کے نتیجے میں یہ بچ جاتے اس ہولناک انجام سے اور فرصت عمر کے ہاتھ سے نکل جانے سے قبل یہ اپنی آخرت کے لئے تیاری کرلیتے اور اس طرح دائمی ہلاکت و تباہی سے بچ جاتے۔ وباللہ التوفیق۔ بہرکیف یہ اظہار حسرت و افسوس کا جملہ ہے کہ عقل کے ان اندھوں اور امت کے ان ماروں کو آخرت بہت بعید از قیاس معلوم ہوتی ہے اور اس بناء پر یہ اس سے نچنت اور بےفکر ہیں، حالانکہ وہ ایک اٹل حقیقت ہے اور اس کا عذاب بڑا ہی سخت اور ہولناک عذاب ہے، کاش کہ یہ لوگ جان لیتے اس حقیقت کو تو اس سے ان کی زندگی کے رخ بدل جاتے، وباللہ التوفیق لما یحب ویریدو علی مایحب ویریدو ہوالہادی الی سواء السبیل۔
Ayah 68:3426 پرہیزگاروں کے لئے ابدی کامیابی کی بشارت : سو ارشاد فرمایا گیا اور کلمہ تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ بلاشبہ پرہیزگاروں کے لئے ان کے رب کے یہاں نعمتوں بھری جنتیں ہیں اور جو ایسی نعمتوں سے بھیر ہیں کہ نہ کسی آنکھ نے ان کو دیکھا، نہ کسی کان نے ان کو سنا اور نہ کسی دل پر ان کا گزر ہی ہوا، (مالا عین راب ولا اذن سمعت ولا خطر علی قلب بشر اللھم اجعلنا من اھلھا) سو مستکربین و مجرمین والعیاذ باللہ کے انجام کے ذکر وبیان کے بعد اب اس سے متقین کا انعام بیان فرمایا گیا ہے، سو جن لوگوں نے دنیا میں اپنے رب کی ناراضگی سے بچتے ہوئے اور آخرت کے حساب و کتاب سے ڈرتے ہوئے زندگی گزاری ہوگی ان کے لئے آخرت میں نعمتوں بھیر جنتوں سے سرفرازی کی ابدی سعادت کی بشارت ہے کہ وہ دنیا کی ظاہر فریبیوں میں گم ہو کر نہیں رہ گئے بلکہ انہوں نے ان ظواہر و مظاہر کے پس پردہ کار فرما اصل حقیقت پر نگاہ رکھی اور کامیاب زندگی گزاری۔ وباللہ التوفیق۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر حال میں اپنا ہی بنا کر رکھے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین۔
Ayah 68:3527 منکرین کے ضمیروں کو جھنجھوڑنے والا ایک سوال : سو منکرین کے ضمیروں کو جھنجھوڑتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ کیا ہم فرمانبرداروں کو مجرموں کی طرح کردیں گے ؟ جب نہیں اور ہرگز و یقیناً نہیں، کہ یہ عقل و خرد کے بھی خلاف ہے اور ہمارے عدل و انصاف کے بھی منافی، تو پھر یہ لوگ آخر کس خبط میں مبتلا ہیں ؟ سو اس ارشاد سے اس بات کی دلیل بیان فرما دی گئی کہ خدا نے ڈرنے والوں کے لئے ان کے رب کے یہاں نعمتوں بھری جنتیں کیوں ہوں گی ؟ پس اس سے واضح فرما دیا گیا کہ ایسا کرنا اس کے قانون عدل و انصاف اور اس کی رحمت بےپایاں کا لازم تقاضا ہے، سو اگر ایسا نہ ہو تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اس کائنات کے خالق ومالک کے نزدیک ایماندار و بےایمان، وفادار و غدار اور نیکوکار و بدکار سب ایک برابر ہیں اور ظاہر ہے کہ یہ بات بدیہہ البطلان ہے، سو وہ نیکو کاروں کو ایسے عظیم الشان اجر سے نوازے گا، سبحانہ و تعالیٰ اور بدکاروں کو ان کی بدکاری کی قرار واقعی سزا دے گا تاکہ اس طرح عدل و انصاف کے تقاضے پورے ہوں اور علی وجہ الکمال پورے ہوں۔ سو اس سوال و ارشاد سے ان منکروں کے ضمیروں کو جھنجوڑا گیا ہے جو اپنے کفر وا نکار کی بنا پر آخرت کی جوابدہی اور وہاں کے حساب و کتاب سے نچنت و بےفکر ہو کر حیانوں کی زندگی گزار رہے ہیں اور دائمی ہلاکت و تباہی کی طرف بڑھے چلے جا رہے ہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم
Ayah 68:3628 ۔ جزا و سزا عقل و فطرت کا تقاضا : سو منکرین کے ضمیروں کو جھنجھوڑتے ہوئے ان سے فرمایا گیا کہ کیا ہوگیا تم لوگوں کہ تم کیسا فیصلہ کرتے ہو ؟ جو کہتے ہو کہ آخرت وغیرہ کچھ نہیں جو کچھ نہیں جو کچھ ہے یہ دنیا ہی دنیا ہے اور اگر بالفرض آخرت ہوئی بھی تو ہمارے لئے وہاں بھی اچھائی اور کامیابی ہے ولئن رددت الٰی ربی لاجدن خیرا منھا منقلبا واضح ہے کہ یحکمون حکم سے ماخوذ ہے جس کے معنی فیصلہ کرنے کے آتے ہیں اسی لئے عربی میں عدالت (Court) کو محکمہ کہا جاتا ہے، یعنی فصلہ کرنے کی جگہ، اور اس کی جمع محاکم آتی ہے، سو اس سوال و استفہام کا حاصل و مدا یہ ہے کہ عدل و انصاف اور عقل و خرد اور فطرت انسانی کا تقاضا یہ ہے کہ نیک و بد اور مجرم و فرمانبردار میں سے ر ایک کو اپنے کئے کرائے کا بھرپور صلہ وثمرہ ملے، تاکہ حق و انصاف کے تقاضے پورے ہو سکیں اور اس دنیا میں اسا نہ ہوتا ہے نہ ہوسکتا ہے کیونکہ اول تو یہ دنیاوی زندگی میں انسان کے کئے کرائے کا فیصلہ آخرت ہی میں ہوسکتا ہے اور وہیں ونا چاہئے اور دوسری بات یہ ہے کہ دنیا کی اس فرصت محدود میں نیک یا بد کسی کو بھی اس کے عمل کا پورا بدلہ مل سکتا بھی نہیں، کیونکہ دنیا میں مثلاً ایک شخص وہ ہے جو بذات خود ایمان و عمل کی دولت سے بہرہ مند ہے اور بس، اور ایک وہ ہے جس نے دوسرے بہت سوں کو بھی اس دولت ایمان و عمل سے بہرہ ور کیا ہوگا، تو ان دونوں کو ان کے حسب حال پورا صلہ و بدلہ اس دنیا میں کس طرح مل سکتا ہے ؟ دوسری طرف ایک شخص نے مثلاً ایک شخص کو قتل کیا تو اس کے بدلے میں اس کو بھی قتل کردیا گیا، تو بعض صورتوں میں یہ اگرچہ بدل ہوجاتا ہے مگر جس نے دس بیس یا اس سے بھی کہیں زیادہق تل کئے ہوں اور جیسا کہ ظالم اور سفاک لوگ کرتے ہیں پہلے بھی ایسے ہوتا رہا اور آج بھی ہو رہا ہے، تو اس کا بدلہ یہاں کس طرح ممکن ہوسکتا ہے ؟ سو دنیا کے اس ظرف محدود میں ہر کسی کے لئے اس کے زندگی بھر کے کئے کرائے کا بدلہ ممکن ہی نہیں، لہٰذا قیامت کا قائم ہونا عقل و فطرت کے تقاضوں کے مطابق نہایت ضروری اور ناگزی ہے، تاکہ عدل و انصاف کے تقاضے بھرپور طریقے سے پورے ہو سکیں، سو منکرین کا انکار عقل و نقل اور تقاضائے فطرت کے خلاف ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم
Ayahs 68:37–3829 منکرین کے ایک زعم باطل کی تردید : سو منکروں کے ضمیروں کو جھنجھوڑنے کے لئے ان سے ایک اور سوال کیا گیا کہ تم لوگوں کے پاس کوئی ایسی کتاب ہے جس میں تم یہ پڑھتے ہو کہ آخرت میں تم کو وہی کچھ ملے گا، جو تم پسند کرتے ہو ؟ اور ظاہر ہے کہ ایسا بھی نہیں نہ ایسی کوئی کتاب ہے اور نہ ہوسکتی ہے تو پھر تم لوگ آخرت کے اس حقیقی اور ہولناک انجام سے نچنت اور بےفکر کس طرح اور کیونکر ہو ؟ سو تم لوگوں نے اپنے دلوں کے اندر جو طرح طرح کی آرزوئیں پال رکھی ہیں اور جو مفروضے از خود گھڑ رکھے ہیں۔ آخر ان کی اصل اور اساس کیا ہے اور تم لوگ ایسا کس بنیاد پر کہتے ہو ؟ سو اس سال و ارشاد میں منکرین کے ایک اور زعم باطل کی تردید فرمائی گئی ہے۔ ان کا عزم و گھمنڈ اور دعویٰ یہ تھا کہ اول تو آخرت و آخرت کچھ ہے ہی نہیں۔ یہ سب اییس ہی ڈراونے ہیں اور اگر بالفرض آخرت ہوئی بھی تو ہمیں وہاں بھی اس سے بہتر ملے گا جو اس دنیا میں ملا ہوا ہے کہ ہمیں دنیا جو ملی ہوئی ہے اگر ہم لوگ اچھے اور خدا کے منظور نظر نہ ہوتے تو ہمیں یہ سب کچھ آخر کیوں ملتا۔ سو ان کے اس زعم باطل پر ضرب کاری لگانے کے لئے ان سے فرمایا گیا کہ کیا تمہارے پاس کوئی ایسی کتاب یا صحیفہ ایسا ہے جس میں یہ لکھا ہو کہ تم کو وہی کچھ ملے گا جو تم چاہتے ہو ؟ اور جب نہیں اور یقیناً نہیں تو پھر تم لوگ آخر کس بنیاد پر اس مغالطے میں مبتلا ہو کہ تمہیں وہاں پر وہی کچھ ملے گا جو تم خود چاہتے ہو ؟ بس یہ سب کچھ تم لوگوں کا اپنا افتراء اور تمہاری اپنی گھڑت ہے اور بس والعیاذ باللہ العظیم
Ayah 68:3930 منکرین کے غرور پر ایک ضرب : سو منکرین کے غرور پر ایک اور ضرب لگانے کے لئے ارشاد فرمایا گیا کہ کیا تمہارے لئے ہمارے ذمے اس طرح کے کوئی عہد ہیں کہ تمہیں وہی کچھ ملے گا جو تم چاہو گے ؟ اور ظاہر ہے کہ یہ صورت بھی نہیں، ہمارے ذمے تمہاری لئے ایسی کوئی عہد و پیمان نہ ہیں اور نہ ہوسکتے ہیں، بلکہ اس کے برعکس اصل حقیقت یہ ہے جس کو طرح طرح سے واضح کیا گیا ہے کہ ہواں پر اصل فیصلہ انسان کے اپنے ایمان و عقیدہ اور عمل و کردار پر ہوگا، تو پھر تم لوگ آخر کیوں اس طرح کے مغالطوں کا شکار ہو اور تم کیوں طرح طرح کی گمراہیوں میں غلطاں و پیچاں ہو ؟ تمہیں ناز کس چیز کا ہے ؟ اور کس اساس و بنیاد پر تم لوگ اس طرح کے گھمنڈ میں مبتلا ہو کہ تم جو کچھ کرتے ہو ٹھیک کرتے ہو، نہ دنیا میں تمہیں کوئی تمہاری جگہ سے ہلا سکتا ہے اور نہ آخرت میں تمہاری کوئی مسؤلیت اور باز پرس ہونے والی ہے، سو باز آجاؤ تم لوگ اس طرح کی خوش فہمیوں سے اور اصلاح کرلو اپنی قبل اس سے کہ اس کا موقع تمہارے ہاتھوں سے نکل جائے۔ سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ اللہ تعالیٰ نے کسی قوم سے اس طرح کا کوئی عہد نہیں کیا جو قیامت تک اور غیر مشروط ہو کہ وہ چونکہ فلاں ابن فلاں کا شرف رکھتی ہے۔ پس وہ جو چاہے کرے۔ اس کے لئے جنت الاٹ ہے۔ سو ایسا نہ ہے نہ ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے یہاں دارین کی فوز و فلاح ایمان و عقیدہ اور عمل و کردار سے مربوط ہے۔ اس کے سوا لوگوں نے جو مختلف مفروضے از خود کھڑے کر رکھے ہیں وہ سب من گھڑت اور بےبنیاد ہیں ‘ جن کی بناء پر تم لوگ خود ہلاکت و تباہی اور محرومی و بدبختی کی راہ پر چل رہے ہو ‘ والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہمیشح اور ہر اعتبار سے اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے ‘ آمین ثم آمین۔
Ayah 68:4031 منکرین سے ان کی تعجیر و تجہیل کیلئے ایک اور سوال : سو منکرین کے مزاعم باطلہ کی بیخ کنی کیلئے مزید ارشاد فرمایا گیا کہ ان سے کہو کہ ان میں سے کون اس بات کا ضامن ہے ؟ ظاہر ہے کہ ایسا بھی کوئی نہیں ہوسکتا ‘ کیونکہ یہ باتیں جو تم لوگ کہتے اور سنتے ہو ‘ عقل و منطق کے خلاف خود ساختہ و من گھڑت ہیں جن کی ذمہ داری اٹھانے کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا (صفوۃ التفاسیر وغیرہ) سو اس طرح ان مشرکین کے سب مزاعم باطل ہوگئے ‘ اور کوئی حجت و دلیل ان کے پاس ایسی نہیں رہ گئی جس کا یہ سہارا لے سکیں ‘ اور کفر و شکر اور انکار و باطل کے حً میں آخر کوئی دلیل ہو ہی کیا سکتی ہے ؟ جب کہ وہ عقل کے بھی سراسر خلاف ہے نقل سے بھی ‘ چناچہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ومن یدع مع اللہ الھا آخر لا برھان لہ بہ فانما حسابہ عند (المومنون۔ 118) بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ ان سے پوچھو کہ ان میں سے کون اس بات کا کفیل اور ضامن ہے کہ ان کے خداوند قدوس کے یہاں سے نجات و فلاح کا ابدی اور غیر مشروط پروانہ جاری ہوگیا ہے ؟ ظاہر ہے کہ ایسا کوئی بھی نہیں رہا۔ پس ان لوگوں کے ایسے تمام مزاعم و دعاوی باطل و بےبنیاد ہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم۔