Ayah 68:1ن . یہ حروف مقطعات میں سے ہے ‘ حروف مقطعات کی تشریح سورة بقر میں گزر چکی ہے۔
بعض علماء کا قول ہے کہ نون کا معنی ہے مچھلی اور مراد یا عام مچھلی ہے یا بہموت (ایک مچھلی کا نام) جس پر زمین قائم ہے یا ” نون “ کا معنی ہے دوات (اور یہی مراد بھی ہے) کیونکہ بعض مچھلیوں سے کالی سیاہی سے بھی زیادہ سیاہ روشنائی بنائی جاتی ہے ‘ جس سے لکھا جاتا ہے۔
اس کی کتابت بصورت حرف ” ن “ کی جاتی ہے اور تلفظ سکون کے ساتھ (یعنی نون) کیا جاتا ہے۔ خواہ وصل کے ساتھ پڑھا جائے یا وقف کے ساتھ۔
والقلم . قلم کی قسم۔ واؤ قسمیہ ہے ” القلم “ سے مراد وہی قلم ہے جس سے لوح محفوظ کی تحریر لکھی گئی ہے۔ حضرت عبادہ ؓ
بن صامت کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : سب سے اوّل اللہ تعالیٰ نے قلم کو پیدا کیا اور اس سے فرمایا : لکھ ! قلم نے عرض کیا : کیا لکھوں ؟ ارشاد فرمایا : تقدیر کو لکھ۔ چناچہ قلم نے ہر وہ چیز لکھ دی جو گزر گئی اور آئندہ کبھی بھی ہونے والی ہے۔ (ترمذی نے اس حدیث کو نقل کرنے کے بعد غریب کہا ہے) ۔
حضرت عبداللہ بن عمر ؓ کا قول ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : آسمان و زمین کی پیدائش سے پچاس ہزار برس پہلے اللہ نے مخلوقات کی تقدیریں (اندازے) لکھ دیئے تھے اور اس کا تخت (حکومت و اقتدار) پانی پر تھا۔ (مسلم)
بغوی نے کہا : (تقدیریں لکھنے والا) قلم نور کا تھا جس کا طول آسمان و زمین کی درمیانی مسافت کے برابر تھا۔
یہ بھی احتمال ہے کہ ” القلم “ سے عام قلم مراد ہو۔ قلم کے فوائد بکثرت ہیں ‘ اس لیے اللہ نے اسکی قسم کھائی۔
وما یسطرون . اور اس چیز کی قسم جس کو وہ لکھتے ہیں (کون لکھتے ہیں ؟ کون لکھنے والے مراد ہیں ؟ ) اگر قلم تقدیر مراد
ہو تو لکھنے والے سے یہی مراد ہوگا (لیکن قلم تقدیر تو ایک ہے اور ” یسطرون “ جمع کا صیغہ ہے) تعظیماً قلم تقدیر کی طرف ضمیر جمع راجع کی (جیسے بڑے آدمی کیلئے تعظیماً جمع کے صیغے استعمال کیے جاتے ہیں) لیکن اگر عام قلم مراد ہو تو جنس قلم کی طرف (بوجہ کثیر الافراد ہونے کے) ضمیر جمع راجع ہوگی ‘ تحریر کی نسبت آلۂ تحریر کی طرف کی گئی (قلم آلۂ تحریر ہے) کیونکہ قلم کو اہل قلم کے قائم مقام قرار دیا گیا ہے۔ مؤخر الذکر صورت میں اہل قلم کی طرف بھی ضمیر لوٹ سکتی ہے یا اعمالنامے لکھنے والے فرشتے مراد ہیں یا علماء مراد ہیں جو علوم دین لکھتے ہیں۔
Ayah 68:2ما انت بنعمۃ ربک بمجنون . آپ اپنے رب کے فضل سے دیوانہ نہیں ہیں۔ بِنِعْمَۃِ رَبِّکَِ حال ہے
یعنی فضل خدا کی موجودگی میں آپ دیوانہ نہیں ہیں۔ نعمت (فضل) سے مراد ہے نبوت ‘ شرافت ‘ کمال فہم و عقل ‘ عظمت مرتبہ ‘ علوم اور دوسرے مکارم۔
بغوی نے لکھا ہے کہ کافر کہتے تھے : یایھا الذی نزل علیہ الذکر انک لمجنون۔ اے وہ شخص جس پر قرآن اتارا گیا ہے حقیقت میں بلاشبہ تو دیوانہ ہے۔ کافروں کے اس قول کے جواب میں آیت مذکورہ نازل ہوئی۔ ابن منذر نے بھی ابن جریج کی روایت سے اس روایت کو نقل کیا ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے رسالت کا دعویٰ کیا ‘ سب لوگوں کی مخالفت مول لی ‘ اس وقت آپ ﷺ تنگ دست بھی تھے اور کافروں کا غلبہ بھی تھا ‘ اسلئے کافروں نے بطور تعجب قول مذکور کہا تھا (کہ ایسی حالت میں ایسا دعویٰ کرنا دیوانہ ہی کا کام ہے) اور چونکہ یہ استبعاد عقلی انکے خیال میں محکم اور مضبوط تھا اسلئے کلام کو تاکیدی حروف کے ساتھ بیان کیا ( اِنَّ جو مفید تحقیق ہے۔ لازم جو مفید قسم و تاکید ہے) اُنکا انکار چونکہ شدید اور قوی تھا تو ان کے قول کے مقابلہ میں اللہ نے بھی اس آیت کو قسم کے ساتھ مؤکد کیا اور خبر (مجنون) پر باء کو داخل کر کے نفی کو محکم کردیا۔
نعمت رب کی موجودی کے ساتھ نفی جنون کو مقید کرنے سے نفی کی دلیل وبرہان کا بھی ذکر ہوگیا کہ جب کسی کو فضل الٰہی یعنی علم ‘ عقل ‘ فہم اور دوسرے کمالات اس حد تک حاصل ہوں ‘ اس کو دیوانہ کہنا محض بیہودگی ہے۔ ایسی بات وہی کہہ سکتا ہے جو گدھے سے بھی بڑھ کر احمق اور کو دن ہو ‘ کیا تم کو نہیں معلوم کہ جب حضرت حلیمہ ؓ رسول اللہ ﷺ کو ساتھ لیے گدھی پر سوار تھیں تو گدھی نے کعبہ کی طرف تین بار سجدہ کیا اور کہا کہ میری پشت پر افضل الانبیاء سیّد المرسلین خیر الاولین والآخرین حبیب رب العالمین ﷺ سوار ہیں۔ مواہبؔ لدنیہ میں اس روایت کو ایک طویل حدیث کے ذیل میں ذکر کیا گیا ہے۔ معلوم ہوا کہ کافر گدھے سے بھی زیادہ بیوقوف تھے۔
Ayah 68:3وان لک لاجرا . یعنی دکھ برداشت کرنے اور احکام رسالت پہنچانے کا آپ کے لیے بڑا اجر ہے۔ اجراً میں
تنوین عظمت اجر کو ظاہر کر رہی ہے۔ (بڑا ثواب)
غیر ممنون . غیر منقطع (ثواب) یا ایسا ثواب جس کے لیے لوگوں کا احسان مند نہ ہونا پڑے یعنی محض خداداد اور
احسانِ الٰہی۔
Ayah 68:4وانک لعلی خلق عظیم . بلاشبہ آپ بڑے اخلاق کے مالک ہیں۔ کیونکہ آپ ﷺ ایسی (ایذا رساں ‘ توہین
آگیں) باتیں برداشت کرلیتے ہیں جو دوسرے لوگ نہیں برداشت کرسکتے۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : اللہ کے راستہ میں جو دکھ مجھے دیا گیا ہے وہ کسی کو نہیں دیا گیا۔ (ابو نعیم فی الحلیۃ بروایت حضرت انس ؓ
ابن عساکر نے حضرت جابر ؓ کی روایت بھی اسی طرح نقل کی ہے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ نے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ مشرکوں کے لیے بددعا کردیجئے۔ فرمایا : مجھے لعنت گر بنا کر نہیں بھیجا گیا بلکہ محض رحمت بنا کر بھیجا گیا ہے۔ (مسلم)
کافروں نے رسول اللہ ﷺ پر دیوانہ ہونے کی تہمت لگائی اور دیوانہ کسی اجر کا مستحق نہیں ہوتا ‘ بہرحال ان دونوں جملوں سے نفی جنون کی تاکید اور کافروں کے قول کی بہترین طریقہ سے تردید ہوگئی۔
حضرت ابن عباس ؓ اور مجاہد کا قول ہے کہ خلق عظیم سے مراد ہے دین عظیم یعنی دین اسلام۔ اس سے زیادہ محبوب اور پسندیدہ مجھے کوئی مذہب نہیں۔
حسن بصری (رح) کا قول ہے کہ خلق عظیم آداب قرآنی ہیں۔ حضرت عائشہ ؓ سے جب رسول اللہ ﷺ کے اخلاق کے متعلق دریافت کیا گیا تو آپ ؓ نے فرمایا : رسول اللہ ﷺ کا خلق قرآن تھا کیا تم قرآن (میں) نہیں پڑھتے : ” قد افلح المؤمنون……“ (مسلم فی الصحیح والبخاری فی الادب المفرد) قتادہ ؓ نے فرمایا : خلق عظیم ہے اوامر الٰہیہ کا امتثال اور ممنوعات سے اجتناب یعنی آپ ﷺ ان اخلاق پر ہیں جن کا حکم اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں دیا ہے۔ یہ بھی قتادہ کا قول ہے کہ خلق عظیم کا مجموعہ یہ ہے کہ پیش نظر اور اصل مقصد سوائے (مرضی) خدا کے اور کچھ نہ ہو۔
فصل : رسول اللہ ﷺ کے اخلاق کا بیان
حضرت براء راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سب سے زیادہ خوبصورت اور جسمانی لحاظ سے حسین ترین تھے۔ نہ بےت کے دراز قامت تھے ‘ نہ کوتاہ قد۔
حضرت انس ؓ نے فرمایا : میں نے دس سال رسول اللہ ﷺ کی خدمت کی لیکن حضور ﷺ نے کبھی مجھے ہوں بھی نہیں فرمایا ‘ اگر میں نے کوئی کام کرلیا تو یہ نہیں فرمایا کہ یہ کام کیوں کیا اور نہیں کیا تو یہ نہیں فرمایا کہ کیوں نہیں کیا۔ رسول اللہ ﷺ بڑے ہی خوش خلق تھے ‘ کوئی ریشم ( سلک) بلکہ کوئی چیز رسول اللہ ﷺ کی ہتھیلی سے زیادہ نرم میں نے نہیں چھوئی ‘ نہ حضور ﷺ کے پسینہ سے زیادہ خوشبو دار کسی مشک اور عطر کو پایا۔ (مسلم و بخاری)
حضرت انس ؓ کی روایت ہے کہ ایک عورت کی عقل میں کچھ فتور تھا ‘ اس نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! ﷺ مجھے آپ ﷺ سے کچھکام ہے۔ ارشاد فرمایا : اے عورت ! مدینہ کی جس گلی میں چاہے بیٹھ جا ‘ میں بھی تیرے پاس بیٹھ جاؤں گا۔ چناچہ حضور ﷺ اس کے پاس (زمین پر) بیٹھ گئے اور اس نے اپنا کام پورا کرلیا۔ حضرت انس ؓ کی روایت ہے کہ مدینہ کی باندی بھی حضور اقدس ﷺ کا دست مبارک پکڑ کر جہاں چاہتی لے جاتی تھی۔ (بخاری) حضرت انس ؓ کا قول ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے اگر کوئی مصافحہ کرتا تو حضور ﷺ دست مبارک اس کے ہاتھ سے اس وقت تک الگ نہ کرتے جب تک وہ خود ہی اپنا ہاتھ الگ نہ کرلیتا ‘ نہ اپنا رخ اس کی طرف سے پھیرتے ‘ نہ حضور ﷺ کو کسی ہمنشین کے سامنے زانو آگے بڑھائے دیکھا گیا۔ (ترمذی)
حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا : رسول اللہ ﷺ نے راہ خدا میں جہاد کے بغیر کبھی اپنے ہاتھ سے (کسی کے) کوئی چیز نہیں ماری ‘ نہ کسی خادم کو مارا ‘ نہ عورت کو ‘ نہ کسی حق تلفی کرنے والے سے انتقام لیتے تھے ‘ ہاں ! اگر کوئی ضوابط الٰہیہ کی خلاف ورزی کرتا تھا تو اس کو اللہ کے واسطے حضور ﷺ سزا دیتے تھے۔ (مسلم)
حضرت انس ؓ نے فرمایا : میں رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ پیدل جا رہا تھا۔ حضور ﷺ اس وقت نجرانی چادر ‘ موٹی کناری کے پہنے تھے۔ ایک دیہاتی آپہنچا اور چادر پکڑ کر اتنی زور سے کھینچی کہ حضور ﷺ کی گردن کے ایک طرف چادر کی کناری کا نشان پڑگیا ‘ اس کے بعد کہنے لگا : محمد ﷺ جو خدا کا مال تیرے پاس ہے ‘ اس میں سے مجھے بھی کچھ دینے کا حکم دیدے ‘ حضور والانے اً س کی طرف رخ پھیرا اور ہنس دیئے ‘ پھر کچھ عطا فرمانے کا حکم دیا۔ (مسلم و بخاری)
حضرت انس ؓ کا قول ہے کہ رسول اللہ ﷺ سب سے زیادہ حسین ‘ سب سے زیادہ سخی اور سب سے زیادہ بہادر تھے۔ (مسلم و بخاری) حضرت جابر کا قول ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے کسی سوال کے جواب میں نہیں ‘ کبھی نہیں فرمایا۔ (مسلم و بخاری)
حضرت جبیر بن مطعم ؓ نے بیان کیا کہ حنین سے واپسی میں میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ چل رہا تھا (اثناء راہ میں) کچھ دیہاتی مانگنے کے لیے حضور ﷺ سے چمٹ گئے ‘ یہاں تک کہ آپ ﷺ ایک کیکر کے درخت کی پناہ لینے پر مجبور ہوگئے۔ دیہاتیوں نے حضور ﷺ کی چادر جھپٹ لی۔ آپ ﷺ کھڑے فرما رہے تھے ‘ مجھے میری چادر دے دو اگر میرے پاس ان سنگریزوں کے برابر بھی اونٹ ہوں گے تو میں تم کو بانٹ دوں گا ‘ تم مجھے بخیل نہ پاؤں گے ‘ نہ جھوٹا ‘ نہ کم حوصلہ (یا بزول) ۔ (بخاری)
حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا : رسول اللہ ﷺ نہ فحش گوئی کے عادی تھے ‘ نہ بناوٹی فحش الفاظ زبان سے نکالتے تھے ‘ نہ بازاروں میں چیختے چلاتے تھے ‘ نہ برائی کا بدلہ برائی سے دیتے تھے بلکہ معاف کردیتے تھے اور درگزر فرماتے تھے۔ حسن خلق کی فضیلت میں اس مبحث کی ناقابل احاطہ احادیث آئی ہی۔ حضرت ابوہریرہ کی روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : مجھے حسن اخلاق کی تکمیل کے لیے بھیجا گیا ہے۔ (احمد) مؤطا میں ہے کہ مجھے حسن خلق کی تکمیل و تبلیغ کے لیے بھیجا گیا ہے۔ حضرت ابودرداء ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : قیامت کے دن مؤمن کی میزان میں سب سے وزنی چیز حسن اخلاق ہوگی اور فحش گو گالیاں بکنے والے سے اللہ نفرت کرتا ہے۔ (ترمذی نے اس حدیث کو حسن کہا ہے اور ابوداؤد نے یہ حدیث نقل کی ہے) حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے صحابیوں سے فرمایا : کیا تم کو معلوم ہے کہ جنت کے اندر لوگوں کو سب سے زیادہ تعداد میں کیا چیز لے جائے گی ؟ صحابہ ؓ نے عرض کیا : اللہ اور رسول ﷺ ہی جانتا ہے۔ فرمایا : جنت کے اندر سب سے زیادہ تعداد میں لوگوں کو لے جانے والی چیز تقویٰ اور حسن اخلاق ہے۔ حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا : میں نے خود سنا ‘ حضور ﷺ فرما رہے تھے کہ مؤمن حسن اخلاق کی وجہ سے قائم اللیل (رات کو ہمیشہ عبادت کرنے والے) اور صائم النہار (دن کو ہمیشہ روزہ رکھنے و الے) کا درجہ پا لیتا ہے۔ (ابوداؤد)
حضرت عبداللہ بن عمر ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : میرے نزدیک سب سے زیادہ پیارا لوگوں میں سے وہ شخص ہے جو اخلاق میں سب سے اچھا ہو۔ (بخاری) صحیحین کی ایک دوسری روایت ان الفاظ کے ساتھ ہے ‘ برگزیدہ لوگوں میں سے میرے نزدیک وہ شخص ہے جس کے اخلاق سب سے اچھے ہوں۔
بیہقی نے شعب الایمان میں ایک مزنی شخص کی روایت سے اور شرح السنۃ میں حضرت اسامہ بن شریک کے حو الہ سے نقل کیا ہے کہ صحابہ ؓ نے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! سب سے اچھی چیز آدمی کو کیا دی گئی ہے ؟ فرمایا : اچھا خلق۔ حضرت معاذ ؓ نے فرمایا : جب میں نے اپنا پاؤں رکاب میں رکھا تو رسول اللہ ﷺ نے سب سے آخر میں مجھے یہ نصیحت فرمائی کہ معاذ ؓ اپنے اخلاق لوگوں سے اچھے رکھنا۔ (رواہ مالک)
Ayah 68:5فستبصر . سین تحقیق کے لیے ہے اور خطاب رسول اللہ ﷺ کو ہے۔
و یبصرون . یعنی قیامت کے دن آپ بھی دیکھ لیں گے اور کافر بھی کہ
Ayah 68:6بایکم المفتون . بایکم میں باء زائد ہے اور المفتون (اسم مفعول) بمعنی مجنون خبر ہے۔ یعنی تم میں سے
کون دیوانہ تھا۔
یا المعقول اور المجلود کی طرح المفتون بھی مصدر ہے یعنی جنون۔ اس صورت میں المفتون مبتداء اور بایکم خبر مقدم ہوگی (یعنی تم میں سے کسی کو جنون تھا) یا یہ مراد ہے کہ دونوں فریقوں میں سے کسی کو جنون تھا ‘ مؤمنوں کے فرقہ کو یا کافروں کے فرقہ کو ‘ مجنون کہنا کس فریق کو زیبا ہے۔
حاصل مطلب یہ نکلا کہ کافروں کو ہی جنون ہے کیونکہ عقل کا تقاضا ہے کہ دو اختیاری چیزوں میں سے ایک کو انتخاب کرلینے کا اگر کسی کوا ختیار دیا جائے اور دو مصیبتوں میں سے کسی ایک مصیبت میں مبتلا ہونا لازم ہو تو جو چیز دونوں میں اچھی ہو اور جو مصیبت آسان ہو ‘ اس کو آدمی اختیار کرے۔ مؤمن تو اس خدا سے لَو لگائے ہوئے ہیں جو جامع کمالات ہے۔ تمام عیوب سے پاک ہے۔ نفع و نقصان اسی کے دست قدرت میں ہے۔ اسی کی مرضی کی طلب میں مؤمن اپنی پوری ہمت صرف کرتے ہیں۔ اس کی ناراضگی پیدا کرنے والی چیزوں سے پرہیز رکھتے ہیں۔ دنیا کی ذلیل ‘ ناپائیدار ‘ فانی نعمتوں کو اختیار نہیں کرتے اور کافروں کی نظر انتخاب اس کائنات پر متصور ہے جو بغیر حکم خدا نہ نفع پہنچا سکتی ہے نہ ضرر بلکہ پتھروں کی پوجا کو انہوں نے اختیار کر رکھا ہے اور اللہ واحد وقہار کی عبادت کو چھوڑ دیا ہے اور آخرت کی دوامی نعمتوں کو ترک کر کے دنیا کی فوری لذتوں کو پسند کر رکھا ہے حالانکہ یہ لذتیں بھی اتنی ہی ملتی ہیں جتنی خدا چاہتا ہے۔ غرض دوزخ کو جنت پر انہوں نے ترجیح دے رکھی ہے۔
Ayah 68:7ان ربک ھو اعلم بمن ضل عن سبیلہ . ھو ضمیر فصل ہے۔ بمن ضل کا تعلق اعلم سے ہے یعنی اللہ بخوبی
بخوبی واقف ہے کہ کون اسکے راستے سے بہکا ہوا ہے۔ پس حقیقت میں کافر ہی دیوانہ ہے۔ راہ حق سے بہک جانا ‘ دیوانہ ہونے کی نشانی ہے۔
وھو اعلم بالمھتدین . یعنی خدا ہی ان لوگوں سے واقف ہے جو کمال عقلی کی وجہ سے کامیاب ہیں اور اللہ تعالیٰ
تک پہنچے ہوئے ہیں۔
Ayah 68:8فلا تطع المکذبین . فاء سببیت کے لیے ہے یعنی جب یہ بات کھل گئی کہ آپ ہدایت پر ہیں اور آپ کو جھوٹا قرار
دینے والے بھٹکے ہوئے ہیں تو اب ان کے کہے پر نہ چلئے۔
Ayah 68:9ودوا لوتدھن فیدھنون . وَدُّوْا کا فاعل مکذبین ہے ‘ لو تمنائی ہے۔ اِدھان ‘ دہن سے مشتق ہے بمعنی نرمی
فیدھنون میں فاء عطف تعقیبی کے لیے ہے یا سببیت کے لیے۔ اوّل صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ وہ مداہنت (مذہبی معاملات میں نرمی) فریقین کی طرف سے چاہتے ہیں لیکن اس بات کے خواستگار ہیں کہ پہلے تم نرمی کرو یا بعض امور میں کبھی کبھی ان سے موافقت کرلو تو وہ تم پر طعن کرنا اور بعض امور میں تمہاری مخالفت کرنا ترک کردیں گے۔
مسئلہ اس آیت سے معلوم ہوا کہ دین کے معاملہ میں نرمی کرنی حرام ہے۔
Ayah 68:10ولا تطع کل حلاف . عموی نہی کے بعد خصوصی ممانعت فرمائی (پہلے تمام مکذبین کی) اطاعت سے ممانعت کی
تھی اب خصوصیت کے ساتھ ” حلاف “۔ ” حماز “ وغیرہ کی اطاعت سے بازداشت فرمائی) قتادہ نے فرمایا : یہ آیت ولید بن مغیرہ کے متعلق نازل ہوئی۔ منذر نے بروایت کلبی اور ابن ابی حاتم نے بروایت سعدی بیان کیا کہ اس آیت کا نزول اخنس بن شریق کے متعلق ہوا۔ بغوی نے عطاء کا بھی یہی قول نقل کیا ہے لیکن حسب نقل ابن ابی حاتم مجاہد قائل تھے کہ اس کا نزول اسود بن یغوث کے متعلق ہوا۔
ایک شبہ کُلَّ حَلاَّفٍ کا معنی ہے سب جھوٹی قسمیں کھانے والے۔ بظاہر مطلب یہ ہوا کہ سب جھوٹی قسمیں کھانے والوں کی بات نہ مانو تو کیا بعض جھوٹی قسم کھانے والوں کی اطاعت جائز ہے۔
ازالہ کُل افرادی ہے۔ اس سے عموم ممانعت کی تاکید ہوگئی۔ مقام کا قرینہ یہی ہے یعنی کسی حلاف کی اطاعت نہ کرو۔
حلاف سے مراد ہے بکثرت جھوٹی قسمیں کھانے والا۔ سورة بقر کی آیت : ولا تجلعوا اللہ عرضۃ لایمانکم کی تفسیر میں تفصیل گزر چکی ہے۔
مسئلہ زیادہ قسمیں کھانا مکروہ ہے۔
مھین . حقیر بروزن فعیل مہانت بمعنی حقارت سے مشتق ہے۔ مہانت کا اصل معنی ہے ‘ رائے اور فہم کی کمی۔
Ayah 68:11ھماز . عیب جو ‘ غیبت کرنے والا یا لوگوں کے عیوب کی طرف آنکھ اور ابرو سے اشارہ کرنے والا۔
مشاء بنمیم . چغلی کے طور پر باتیں بنانے والا۔
Ayah 68:12مناع للخیر . ایمان ‘ راہ خدا میں صرف ‘ نیک کام۔ غرض ہر چیز سے لوگوں کو روکنے والا۔
معتد . ظلم میں حد سے بڑھا ہوا۔
اثیم . بڑا گناہگار۔
Ayah 68:13عتل . قاموس میں ہے عتل کا معنی ہے بہت کھانے والا ‘ مغرور ‘ بد خلق ‘ اکھڑ۔
بعد ذلک زنیم . بعد ذلک کا تعلق زنیم سے ہے بعد (یہاں قبل کے مقابل نہیں ہے بلکہ مع و ساتھ)
کے معنی میں ہے یعنی مذکورہ بالابری باتوں کے ساتھ ساتھ وہ زنیم بھی ہے۔ زنیم کا معنی ہے ایسا شخص جو کسی قوم میں سے (بطور نسب) تو نہیں ہو بلکہ اس کو شامل کرلیا گیا ہو۔ زنیم دعی کو بھی کہتے ہیں اور دعی وہ شخص ہے جس کو تم بیٹا بنا لو یا وہ شخص جو حرامی ہونے میں متہم ہو۔ (قاموس) بیضاوی نے لکھا ہے کہ زنیم کا لفظ زنمتی الشاۃ سے ماخوذ ہے۔ بکری کے کان اور تھن اگر لٹکے ہوئے ہوں تو زنمتی الشاۃ کہلاتے ہیں۔ ولید بن مغیرہ کی عمر جب 18 سال ہوگئی تو اس کے باپ نے اس کے بیٹے ہونے کا اقرار کیا۔
اخنس بن شریق اصل میں ثقفی تھا لیکن اس کا شمار بنی زہرہ میں سے کیا جاتا تھا۔
حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : اس آیت میں اللہ کی طرف سے بڑے الفاظ کا استعمال کیا گیا لیکن معلوم نہ ہوسکا کہ کون شخص مراد ہے یہاں تک کہ جب لفظ زنیم فرمایا تو تعیین معلوم ہوگئی ‘ اس کے گلے میں ایک لٹکاؤ تھا جس کی وجہ سے اس کی پہچان ہوجاتی تھی۔ (شاید گلے کی کھال لٹکی ہوئی ہو یا گلے میں رسولی لٹک رہی ہو) ۔
ابن جریر نے حضرت ابن عباس ؓ کا قول نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ پر آیت : ولا تطع کل حلاف مھین ھماز مشاء بنمیم نازل ہوئی تو ہم کو کسی کی خصوصی شناخت نہ ہوسکی لیکن اس کے بعد زنیم کا لفظ نازل ہوا تو ہم پہچان گئے ‘ بکری کے کانوں (یا تھنوں) کی طرح اس کے کانوں میں لٹکاؤ تھا۔
سعید بن جبیر ؓ نے ابن عباس کا قول نقل کیا ہے کہ وہ شر میں ایسا ہی معروف تھا جس طرح بکری اپنے لٹکے ہوئے کانوں (اور تھنوں) سے پہچانی جاتی ہے۔
میں کہتا ہوں کہ شاید زنیم ہونے کی صفت مذکورۂ بالا قبائح سے زیادہ بری تھی ‘ اسی لیے تو چند قبائح کے ذکر کے بعد زنیم کو ذکر کیا۔
حارث بن وہب خزاعی کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : کیا میں تم کو نہ بتاؤں (کہ جنتی کون ہے اور دوزخی کون ہے) جنتی ہر وہ ضعیف آدمی ہے کہ اگر خدا کے بھروسہ پر وہ قسم کھالے تو اللہ اس کی قسم سچی کر دے اور دوزخی ہے ہر بدخلق ‘ اکھڑ ‘ مغرور (بغوی) لیکن ابوداؤد اور طبرانی نے حضرت ابو درداء کی روایت سے یہ حدیث بیان کی ہے۔
Ayah 68:14ان کان ذامال و بنین . ابن عامر ‘ حمزہ ‘ ابوبکر ؓ اور یعقوب (رح) کی قراءت میں ہمزہ استفہام بھی ہے یعنی اَ اَنْ کَان باقی
لوگوں کی قراءت حسب مذکور بغیر استفہام کے ہے۔ ثانی قراءت پر لام محذوف ہے لَاِنْ کَان تھا۔ یعنی اس وجہ سے تم اس کا کہنا نہ مان لینا کہ وہ مالدار اور بیٹوں والا ہے۔ مال و دولت والے کا کہنا ماننا عام لوگوں کا دستور ہی ہے۔ اوّل تقدیر پر استفہام انکاری ہے یعنی کیا تم اس کی بات اس لیے مان لو گے کہ وہ مالدار ہے اور بیٹوں والا ہے یا یوں کہا جائے کہ جملۂ آئندہ کے مدلول سے اس کا تعلق ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اس نے کفر کیا اور قرآن کی تکذیب کی ‘ اس لیے اس میں مالدار ہونے کی وجہ سے غرور اور تکبّر پیدا ہوگیا۔ مالدار ہونے کا تقاضا تھا کہ شکر کرتا مگر اس نے اس کے برعکس ناشکری کی۔
Ayah 68:15اذا تتلی علیہ ایاتنا قال اساطیر الاولین . جب اس کے سامنے اللہ کا کلام پڑھا جاتا ہے تو وہ کہتا ہے
کہ یہ تو پرانے لوگوں کے جھوٹے قصے لوگوں نے لکھ رکھے ہیں۔ اساطیر : بےتکی باتیں۔ (قاموس)
Ayah 68:16سنسمہ علی الخرطوم . یہ جملہ مستانفہ (الگ) ہے۔ اس سے تہدید اور تخویف ہے۔ خرطوم ‘ ہاتھی کی سونڈھ اور
خنزیر کی تھوتھنی ‘ یہاں مراد ناک ہے اس شخص کو ہاتھی اور سور کے ساتھ تشبیہ دے کر اس کی ناک کو ہاتھ کی سونڈھ یا خنزیر کی تھوتھنی قرار دیا۔ فراء کے نزدیک پورا چہرہ مراد ہے۔ جزء بول کر کُل مراد لے لیا جاتا ہے۔ ابو العالیہ اور مجاہد نے کہا : قیامت کے دن اس کا منہ کالا ہوجائے گا۔ اس علامت سے اس کی شناخت ہوجائے گی۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : (مراد یہ ہے کہ) ہم اس کی ناک میں تلوار کی نکیل ڈالیں گے ‘ چناچہ بدر کے دن ایسا ہی ہوا۔
Ayah 68:17انا بلونھم . یعنی قحط اور بھوک سے ہم نے اہل مکہ کی آزمائش کی ‘ جب رسول اللہ ﷺ نے مکہ والوں کے لیے بد دعا کی کہ الٰہی ان پر (زمانہ) یوسف ( علیہ السلام) جیسا قحط ڈال (تو اللہ نے ان کو قحط میں مبتلا کردیا ‘ یہاں تک کہ لوگ ہڈیاں اور مردار کھا گئے۔ )
کما بلونا اصحاب الجنۃ . الجنۃ میں الف لام عہدہ ہے (مراد ہے خاص باغ) یعنی ہم نے اہل مکہ کی ایسی آزمائش کی جیسی ایک مخصوص باغ والوں کی کی تھی۔ ابن ابی حاتم نے بروایت ابن جریج بیان کیا کہ بدر کے دن ابوجہل نے (مسلمانوں کی تعداد کم دیکھ کر) کہا تھا ‘ ان کو پکڑ کر رسیوں میں باندھ لو۔ قتل کسی کو نہ کرنا۔ تو یہ آیت نازل ہوئی کہ ہم نے مکہ والوں کو مسلمانوں پر اتنی قوت عطا فرمائی جیسی اصحب الجنۃ کو دی تھی۔
محمد بن مروان نے بروایت کلبی بحوالہ ابن صالح حضرت ابن عباس کا قول نقل کیا ہے کہ یمن میں صنعاء سے دو فرسخ کے فاصلہ پر ایک نیک شخص نے ایک باغ لگایا تھا جس کو صردان کہا جاتا تھا۔ اس شخص کا دستور تھا کہ دارنتی کی زد سے جو پھل درختوں پر بچ رہتے تھے ‘ اً ن کو مسکینوں کے لیے چھوڑ دیتا تھا۔ اسی طرح پھل توڑنے میں جو پھل نیچے بچھے ہوئے فرش سے باہر گرتے تھے وہ بھی مسکینوں کے ہوتے تھے۔ باغ کے اندر کھیتی کی بھی یہی کیفیت تھی۔ کٹتے وقت دارنتی سے جو پودہ بچ رہتا وہ مسکینوں کا ہوتا تھا اور دائیں چلاتے میں جو حصہ ادھر ادھر منتشر ہوجاتا وہ بھی مساکین کا حق تھا۔ اس شخص کے مرنے کے بعد اس کے تین بیٹے وارث ہوئے۔ انہوں نے آپس میں کہا کہ اس زمانہ میں مال تو کم ہے اور بچے زیادہ ہوگئے ہیں ‘ اس لیے باپ کی طرح ہم نہیں کرسکتے ‘ ایسا تو اس وقت کیا جاتا تھا جب مال زیادہ اور بچے کم تھے ‘ اب ہم ایسا نہیں کرسکتے۔ چناچہ باہم قسمیں کھا لیں کہ ہم اب ایسا نہیں کریں گے۔
اذا قسموا . ہم نے اصحاب الجنۃ کو قحط میں مبتلا اس وقت کیا جب انہوں نے قسمیں کھا کر کہا تھا
لیصر منھا مصبحین . کہ صبح ہوتے ہی مسکینوں کو اطلاع ہونے سے پہلے ہی ہم باغ کے پھل توڑ لیں گے۔
Ayah 68:18ولا یستثنون . یعنی انہوں نے استثناء نہیں کیا تھا ‘ استثناء کے دو معنی ہیں : ایک تو یہ کہ انہوں نے انشاء اللہ نہیں کہا تھا ‘ انشاء اللہ کہنے کو استثناء قرار دینے کی یہ وجہ ہے کہ استثناء سے بھی بعض بعد والی چیزوں کو پہلے والی چیزوں سے الگ کرلیا جاتا ہے اور انشاء اللہ کہنے سے بھی اخراج ہی مقصود ہوتا ہے یا یہ وجہ ہے کہ اَفْعَلُ اِنْشَآءَ اللہ (اگر خدا نے چاہا تو میں ایسا کروں گا) اور لاَ اَفْعَلُ الاَّ اَنْ شَآءَ اللہ (بغیر مشیت خدا کے میں ایسا نہیں کروں گا) دونوں کا مطلب ایک ہی ہے (اوّل قسم ہے دوسرا استثناء۔ مطلب دونوں کا ایک ہی ہے) اس صورت میں اقسموا کے فاعل سے لا یستثنون حال ہوگا۔ دوسرا معنی یہ ہے کہ صبح ہوتے ہی وہ پھل توڑ لینے کی قسم کھا رہے تھے اور مسکینوں کا حصہ الگ نہیں کر رہے تھے جیسا ان کا باپ کیا کرتا تھا۔ اس صورت میں لا یستثنون کا عطف لیصر منھا پر ہوگا یا علیحدہ مستانفہ جملہ ہے۔
Ayah 68:19فطاف علیھا طائف من ربک وھم نائمون
یعنی جب وہ سو رہے تھے کہ اللہ کی طرف سے رات کو ایک مصیبت یعنی آگ کا چکر اس باغ پر آیا۔
Ayah 68:20فاصبحت کالصریم . اور وہ اجڑی ہوئی کھیتی یا اجڑے ہوئے باغ کی طرح ہوگیا۔ صریم بروزن فصیل بمعنی
مفعول وہ باغ جس کے پھل توڑ لیے گئے ہوں ‘ کوئی پھل باقی نہ رہا ہو۔
یا صریم سے مراد ہے رات۔ یعنی وہ باغ سوختہ ہو کر رات کی طرح ہوگیا۔
یا دن مراد ہے یعنی وہ باغ بالکل سوکھ کر دن کی طرح سفید ہوگیا۔
اَصْرمٌ کا معنی ہے قطع ہوجانا ‘ کٹ جانا ‘ رات دن سے اور دن رات سے منقطع ہوتا ہے اس لیے ہر ایک کو صریم کہا جاتا ہے۔
حسن بصری (رح) نے فرمایا : اس باغ سے ہر اچھائی اور خوبی منقطع ہوگئی یعنی اس میں کچھ نہیں رہا۔
ابن عباس ؓ نے فرمایا : بنی خزیمہ کے محاورہ میں صریم سیارہ راکھ کو کہتے ہیں یعنی وہ باغ سیاہ راکھ کی طرح ہوگیا۔
Ayah 68:21فتنادوا مصبحین . صبح ہوتے ہی انہوں نے باہم آوازیں دیں۔
Ayah 68:22ان اغدوا علی حرثکم . یہ تنادوا کی تفسیر ہے یعنی ایک نے دوسرے سے پکار کر کہا کہ تڑکے ہی تڑکے اپنی کھیتی پر چلو۔
عربی میں اغدوا کے بعد الی (طرف) ہونا چاہیے لیکن یہاں علیٰ (پر) لایا گیا یا تو اس وجہ سے کہ اس جگہغدو توجہ کے معنی کو متضمن ہے یا غدو بمعنی استیلاء (کسی پر غلبہ پانا ‘ قادر ہونا) ہے (مطلب یہ ہے کہ اغدوا کے معنی یہاں صرف صبح کو نکل چلنے کے نہیں ہیں بلکہ یا کھیتی پر پہنچنے کے ارادہ سے نکلنے کے ہیں یا کھیتی پر تصرف کرنے کے لیے نکلنے کے ہیں) یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اغدوا (صیغہ امر غداء سے) فعل ناقص ہو اور علٰی حرثکم اس کی خبر ہو (یعنی صبح کو اپنی کھیتی پر پہنچ جاؤ) ۔
ان کنتم صادمین . اگر تم کھیتی کاٹنے والے ہو (یعنی اگر تم کاٹنا چاہتے ہو) ۔
Ayah 68:23فانطلقوا وھم یتخافتون . پس وہ چپکے چپکے کہتے ہوئے چلے خَفِیَ خَفَتَ اور خَفِہَ تینوں ہم معنی ہیں۔
Ayah 68:24ان لا یدخلنھا الیوم علیکم مسکین . کہ آج تمہارے پاس باغ میں کوئی مسکین ہرگز داخل نہ ہو۔ لا
یدخلن میں نہیں مؤکد بنون ثقیلہ ہے۔ مراد یہ ہے کہ کسی مسکین کو باغ میں ہرگز داخل نہ ہونے دینا۔ جیسے کہا جاتا ہے : لا اٰتینک ھٰھنا میں تیرے پاس ہرگز نہیں آؤں گا۔
Ayah 68:25وغدوا علی حرد قادرین . انطلقوا پر عطف ہے اور علی حرد کا تعلق قادرین سے ہے۔ حرد کا لغوی
معنی ہے ارادہ کرنا ‘ روکنا ‘ غضبناک ہونا۔ اس لیے حسن بصری ‘ قتادہ اور ابو العالیہ نے کہا کہ یہاں حرد کا معنی ہے جدوجہد۔ قرطبی ‘ مجاہد اور عکرمہ نے کہا : وہ امر جس پر اتفاقِ رائے کرلیا تھا۔ ابو عبیدہ نے کہا : مسکینوں کے روکنے پر شعبی اور سفیان ثوری نے کہا : مسکینوں پر غصہ کرنے پر حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : ان کو اپنی نظر میں ‘ اپنے باغ اور باغ کے پھلوں پر قدرت حاصل تھی ‘ اسی قوّت پر وہ صبح ہی نکل کھڑے ہوئے۔
Ayah 68:26فلما راوھا قالوا انا لضالون . جب جا کر باغ کو سوختہ دیکھا تو بولے ہم راستہ بھٹک گئے ‘ یہ ہمارا باغ نہیں
ہے یا یہ مطلب ہے کہ ہم نے خطا کی کہ مسکینوں کو روک دیا اور ان کا حصہ نہیں نکالا۔
Ayah 68:27بل نحن محرومون . (نہیں نہیں ‘ باغ وہی ہے ‘ ہم بھٹکے نہیں) بلکہ ہم باغ کے پھلوں سے محروم ہوگئے۔
Ayah 68:28قال اوسطھم . ان میں سے ایک متوسط عمر کے آدمی نے جو سب سے زیادہ انصاف پسند اور سمجھدار تھا ‘ کہا
الم اقل لکم لولا تسبحون . استفہام تقریری ہے ‘ کیا میں نے تم سے نہیں کہہ دیا تھا کہ تم انشاء اللہ کیوں نہیں کہتے۔ انشاء اللہ کہنے کو تسبیح قرار دیا ‘ اس لیے کہ انشاء اللہ کہنے میں اللہ کی تعظیم اور اس بات کا اقرار ہوتا ہے کہ اللہ کی مشیت کے بغیر کسی کو کسی بات پر قدرت حاصل نہیں ہوتی۔ (یہی تسبیح کا مفہوم ہے) ۔
ابو صالح نے کہا وہ لوگ انشاء اللہ کہنے کے موقع پر سبحان اللہ کہا کرتے تھے (اسی لیے انشاء اللہ کی جگہ تَسَبِّحُوْنَ کہا) یا یہ مطلب ہے کہ کیا میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ اللہ کی نعمت کا شکر کیوں نہیں کرتے کہ اس نے تم کو یہ باغ دیا اور مسکینوں کو کیوں روکتے ہو (اس وقت تسبیح بمعنی شکر ہوگی کیونکہ شکر کا معنی ہے نعمت کو دینے والے کی مرضی حاصل کرنے کے لیے صرف کرنا یا تسبیح بمعنی استغفار ہے) تم اپنے اس فعل کی معافی کیوں نہیں مانگتے۔
Ayah 68:29قالوا سبحان ربنا . بولے ہمارا رب پاک ہے ‘ اس جملہ میں اس امر کا اقرار ہے کہ اللہ ظالم ہونے سے پاک ہے۔ (وہ ظالم نہیں) ۔
انا کنا ظلمین . اور اپنے ظالم ہونے کا اعتراف ہے کہ ہم نے ہی مسکینوں کا حق روک کر اپنے اوپر ظلم کیا۔
Ayah 68:30فاقبل بعضھم علی بعض یتلاومون . مسکینوں کا حق روکنے پر باہم ایک دوسرے کو ملامت کرنے لگے۔
یتلاومون ‘ اقبل کے فاعل اور مفعول سے حال ہے جیسے بولا جاتا ہے لَقِیَہٗ رَاکِبَیْنِ وہ اس سے ایسی حالت میں ملا کہ دونوں سوار تھے۔
Ayah 68:31قالوا یاویلنا انا کنا طاغین . کہنے لگے ہائے افسوس ! زیادتی ہماری ہی طرف سے ہوئی ہے یعنی اللہ نے ہم کو
نعمتیں عطا فرمائیں اور ہم نے اس کا شکر ادا نہیں کیا ‘ جیسا ہمارے باپ نے کیا تھا۔
Ayah 68:32عسی ربنا ان یبدلنا خیرا منھا . اپنے کیے پر پشیمان ہو کر جب انہوں نے توبہ کی اور آئندہ شکر کرنے کا پختہ ارادہ کرلیا تو کلام کا رخ اپنی طرف پھیر کر کہنے لگے : قریب ہے کہ اس سوختہ باغ سے بہتر عوض ہمارا رب عطا فرمائے گا۔
انا الی ربنا راغبون . ہمارا مرکز رغبت ہمارا رب ہی ہے۔ الٰی انتہاء رغبت کے لیے ہے یا رغبت معنی رجوع کو متضمن ہے۔ یعنی ہم اللہ ہی کی طرف لوٹنے والے ہیں ‘ اس جملہ میں امید کا سبب بیان کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنا ‘ انعام الٰہی حاصل کرنے کا سبب ہوتا ہے (یعنی امید انعام ہم کو اپنے رب سے اس لیے ہے کہ اسی کی طرف ہمارا رخ ہوگیا ہے اور جس کا رخ رب کی طرف ہوجاتا ہے پروردگار اس کو اپنی نعمت عطا فرماتا ہے) حضرت ابن مسعود ؓ نے فرمایا : مجھے اطلاع ملی ہے کہ جب ان لوگوں نے خالص دل سے توبہ کرلی اور اللہ کو ان کی سچائی معلوم ہوگئی تو اللہ نے سوختہ باغ کے عوض ان کو ایک اور باغ عطا فرمایا جس کو جنون کہا جاتا تھا اس باغ کے انگوروں کی یہ حالت تھی کہ ایک خوشہ خچر پر لادا جاتا تھا۔ (بغوی)
Ayah 68:33کذلک العذاب . یعنی جیسا عذاب ہم نے اصحاب الجنۃ اور اہل مکہ پر نازل کیا۔ ایسا ہی شکر نہ کرنے پر دنیا
میں عذاب آتا ہے۔
ولعذاب الاخرۃ اکبر . اور کفر ‘ معصیت ‘ ترک شکر اور زکوٰۃ نہ دینے کا اخروی عذاب دنیوی عذاب سے بہت سخت
اور ناقابل زوال ہے۔
لو کانوا یعلمون . اگر وہ جانتے ہوتے تو جو حرکتیں کی ہیں ‘ نہ کرتے۔ یہ جملہ شرطیہ ہے ‘ گزشتہ کلام کا مفہوم ہی
جزاء پر دلالت کر رہا ہے ‘ جدید جزاء کی ضرورت نہیں۔
Ayah 68:34ان للمتقین عند ربھم . اللہ کے پاس یعنی جوار قدس میں متقیوں کے لیے۔
جنت النعیم . راحت کے باغ ہیں یعنی ایسے باغ ہیں جن کے اندر آسائش کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔
سابق آیت میں مجرموں کے لیے عذاب کی وعید تھی۔ اس آیت میں متقیوں کے لیے جنت کا وعدہ ہے۔
مشرکوں نے کہا تھا کہ بالفرض اگر روز آخرت ہوا تو جس طرح دنیا میں ہم کو نعمتیں ملی ہیں اسی طرح تم سے زیادہ یا تمہاری طرح ہم کو اس روز بھی نعمتیں دی جائیں گی۔ اس خیال کی تردید میں اللہ نے فرمایا :
Ayah 68:35افنجعل المسلمین کالمجرمین . استفہام انکاری ہے ‘ مسلمانوں کے برابر مجرموں کو قرار دینے کا انکار
ہے۔ جس سے مسلمانوں پر مجرموں کی فضیلت کا انکار بطریق اعلیٰ مستفاد ہوتا ہے۔ اس جملہ کا عطف محذوف جملہ پر ہے۔ اصل کلام یوں تھا کہ کیا ہم مسلمانوں کو مجرموں پر فضیلت نہیں دیں گے اور کیا مسلمانوں کو مجرموں کی طرح کردیں گے۔
Ayah 68:36مالکم کیف تحکمون . تم جو یہ عجیب ترین ‘ بعید از عقل فیصلہ کر رہے ہو ‘ کیسے کر رہے ہو۔ عقل کا تقاضا ہے کہ
فرمانبردار کا حال نافرمان سے اچھا ہو۔
Ayah 68:37ام لکم کتاب فیہ تدرسون
Ayah 68:38ان لکم فیہ لما تخیرون
. ام منقطعہ بمعنی بَلْ ہے یعنی مجرم اور مطیع کی
مساوات عقلاً ثابت نہیں تو کیا کوئی سمعی دلیل یعنی کتاب سماوی ایسی ہے جس میں تم پڑھتے ہو کہ تم کو تمہاری دل پسند ‘ خاطر خواہ چیزیں آخرت میں ملیں گی۔ اِنَّ محل مفعول میں ہے ‘ اسلئے بالکسر نہ ہونا چاہیے بلکہ اَنَّ بالفتح ہونا چاہیے پس یا تو قول محذوف ہے یعنی تم اس کتاب میں یہ قول پڑھتے ہو یا لما تخیرون میں لام لانے کی وجہ سے بجائے اَنَّ کے اِنَّ فرمایا۔ یہ بھی ممکن ہے کہ یہ کلام بطور استیناف ہو۔
Ayah 68:39ام لکم ایمان علینا . یعنی یا قسموں سے پختہ کیے ہوئے تمہارے عہد ہم پر لازم ہیں۔
بالغۃ . انتہائی پختہ۔
الی یوم القیامۃ . اس کا تعلق (بالغۃ سے نہیں ہے بلکہ) محذوف فعل سے ہے یعنی ایسے عہد جو قیامت تک
ہم پر لازم رہیں ‘ اس کی ذمہ داری سے اس وقت تک سبکدوشی نہ ہو جب تک قیامت کے دن تمہارے فیصلہ کے مطابق فیصلہ نہ ہوجائے یا بالغۃ سے تعلق ہے یعنی قیامت تک پہنچنے والے عہد۔
ان لکم لما تحکمون . لفظ ایمان سے قسم کا مفہوم پیدا ہوا تھا۔ یہ جملہ اس کا جواب (یعنی محل مفعول میں) ہے۔
یعنی کیا ہم نے قسم کھالی ہے کہ جو تم فیصلہ کرو گے ‘ وہی تم کو ضرور ملے گا۔
Ayah 68:40سلھم ایھم بذلک رعیم . ان سے دریافت کرو کہ اس دعوے کا مدعی اور مثبت کون ہے۔ اللہ نے ان آیات
میں ان تمام عقلی و نقلی دلائل کی نفی فرما دی جن سے ثبوت دعویٰ کا امکان ہوسکتا تھا ‘ نہ ان کو استحقاق ہے ‘ نہ اللہ نے وعدہ فرمایا ہے ‘ نہ کوئی ایسا شخص ہے جو اس دعوے کو ثابت کرسکتا ہو کہ یہ اس کی تقلید کرتے ہوں۔ جب مؤمنوں کے ساتھ کافروں کی مساوات کی نفی (ہر طرح) کردی تو (یہ خیال ممکن تھا کہ اگرچہ خدا کافروں کو مؤمنوں کے برابر درجہ میں نہیں کرے گا لیکن خدا کے دوسرے شریک ایسا کردیں گے۔ اس امکانی خیال کو دفع کرنے کے لیے) آئندہ آیت میں وجود شرکاء کی ہی نفی فرما دی کہ جب اللہ کا کوئی شریک ہی نہیں تو اس کا تصرف کیسا۔