68. Surah Al-Qalam

القلمThe Pen · 52 ayahsتفسیر القرطبی

Ayahs 68:1–3

نٓ وَ الْقَلَمِ وَ مَا یَسْطُرُوْنَۙ Open ayah 68:1 in the Quran reader

ن قلم کی اور جو (اہل قلم) لکھتے ہیں اس کی قسم

مَاۤ اَنْتَ بِنِعْمَةِ رَبِّكَ بِمَجْنُوْنٍۚ Open ayah 68:2 in the Quran reader

کہ (اے محمد ﷺ تم اپنے پروردگار کے فضل سے دیوانے نہیں ہو

وَ اِنَّ لَكَ لَاَجْرًا غَیْرَ مَمْنُوْنٍۚ Open ayah 68:3 in the Quran reader

اور تمہارے لئے بےانتہا اجر ہے۔

ن والقلم ابوبکر، مفضل، ہبیرہ، ورش، ابن محیصن، ابن عامر، کسائی اور یعقوب نے دوسری نون کو وائو میں مدغم کیا ہے باقی قراء نے اظہار کیا ہے۔ عیسیٰ بن عمر نے اس کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے، گویا فعل کو مضمر مانا ہے۔ حضرت ابن عباس، نصر اور ابن ابی اسحاق نے حرف قسم کو مضمر ماننے کے ساتھ اسے مسکور پڑھا ہے۔ ہ اور ن، محمد بن سمیقع اور معاویہ بن قرہ نے مبنی ہونے کی وجہ سے ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ اپنے باپ سے وہ نبی کریم ﷺ سے مرفوع روایت نقل کرتے ہیں کہ فرمایا، ن نور کی ایک لوح ہے “ (2) ثابت بنانی نے روایت کیا ہے کہ ن سے مراد دوات ہے (3) یہ حضرت حسن بصری اور قتادہ کا قول ہے۔ ولید بن مسلم نے روایت کی ہے کہ مالک بن انس، سمی سے جو ابوبکر کے غلام ہیں (4) وہ ابو صالح سمان سے وہ حضرت ابوہریرہ سے روایت نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا :” اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے قلم کو پیدا کیا پھر نون کو پیدا کیا، یہ دوات ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فرمان : ن والقلم سے یہی مراد ہے پھر اسے فرمایا، لھک ! اس نے عرض کی : میں کیا لکھوں ؟ فرمایا : جو کچھ ہوچکا ہے اور جو کچھ قیامت تک ہنے والا ہے سب لکھو، خواہ وہ عمل ہو، اجل ہو، رزق ہو یا اثر ہ۔ قیامت تک جو ہونے والا تھا، حکم اس میں جاری ہوگیا ہے۔ پھر قلم کے منہ پر لہر لگا دی گئی پھر اس نے نہ کچھ لکھا اور نہ قیامت تک لکھے گا۔ پھر عقل کو پیدا کیا گیا۔ جبار نے ارشاد فرمایا، میں نے کوئی ایسی مخلوق پیدا نہیں کی جو تجھ سے بڑھ کر مجھے پسند ہو۔ میری عزت و جلال کی قسم میں جس سے محبت کرتا ہوں گا اس میں تجھے مکمل کروں گا اور جس سے ناراض ہوں گا۔ اس میں تجھے ناقص رکھوں گا۔ “ پھر رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : اکمل الناس عقلاً اطوعھم للہ و اعملھم بطاعتہ (1) لوگوں میں سے از روئے عقل کے سب سے کامل وہ ہیں جو سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرنے والے ہیں اور اس کی طاعت میں زیادہ عمل کرنے والے ہیں۔ مجاہد نے کہا، ن سے مراد وہ چھلی ہے جو ساتویں زمین کے نیچے ہے اور قلم سے مراد وہ قلم ہے جس کے ساتھ ذکر لکھا گیا ہے، اسی طرح مقاتل، مرہ ہمدانی، عطا خراسانی، سدی اور کلبی نے کہا، نون سے مراد وہ مچھلی ہے جس پر سات زمینیں قائم ہیں۔ ابوظیبان نے حضرت ابن عباس سے روایت نقل کی ہے (2) سب سے پہلے اللہ تعالیٰ نے قلم کو پیدا کیا تو جو کچھ ہونے والا تھا اس نے وہ لکھ دیا، پھر پانی کے بخار کو اٹھایا تو اس سے آسمان کو بنایا پھر مچھلی کو پیدا کیا تو اس کی پشت پر زمین کو بچھا دیا۔ زمین جھک گئی تو اسے پہاڑوں کے ساتھ مضبوط کردیا، بیشک پہاڑ زمین پر فخر کرتے ہیں پھر حضتر ابن عباس نے کہا : ن والقلم کی قرت کی۔ کلبی اور مقاتل نے کہا : اس مچھلی کا نام بہموت ہے۔ راجز نے کہا : مالی اراکم کلکم سکوتا واللہ ربی خلق البھموت کیا وجہ ہے میں تم سب کو خاموش دیکھتا ہوں اللہ تعالیٰ میرا رب ہے اس نے بہموت کو پیدا کیا ہے۔ ابوظبیان اور واقدی نے اس کا نام لیوث لیا ہے (3) کعب نے کہا، اس کا نام لو ثوث ہے۔ کہا : اس کا کام بلہموث ہے۔ کعب نے کہا، ابلیس مچلھی میں داخل ہوگیا جس مچھلی پر زمینیں ہیں اس نے مچھلی کے دل میں وسوسہ اندازی کی۔ کہا : اے لوثوث ! کیا تو جانتی ہے تیری پشت پر چوپائوں، درختوں اور زمینوں وغیرہ میں سے کیا کچھ ہے اگر تو انہیں پھینکنا چاہے تو تو ان سب کو اپنی پشت سے نیچے پھینک دے۔ لثوث نے اس طرح کرنے کا ارادہ کیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی طرف ایک جانور بھیجا و اس مچھلی کے نتھنے میں داخل ہو اور اس کے دماغ تک جا پہنچا۔ مچھلی نے اس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی حضور آہ وزاری کی اللہ تعالیٰ نے اس جانور کو اجاجزت دے دی تو وہ جانور نکل گیا۔ کعب نے کہا : اللہ کی قسمچ بیشک اللہ تعالیٰ اس کی طرف دیکھتا اور مچھلی اس کی طرف دیکھتی اگر اللہ اس میں سے کسی چیز کا ارادہ کرتا تو جس طرح وہ پہلے تھی اسی طرح ہوجاتی۔ ضحاک نے حضرت ابن عباس سے روایت نقل کی ہے کہ ن لفظ رحمن کا آخری حرف ہے فرمایا : الرحمن مجموعہ رحمن ہے ان حروف کو ایک دوسرے سے الگ کردیا گیا ہے۔ ابن زید نے کہا، یہ قسم ہے اللہ تعالیٰ نے اس کے ساتھ قسم اٹھائی ہے (4) ابن کیسان نے کہا، سورت کا آغاز ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ سورت کا نام ہے۔ عطا اور ابوالعالیہ نے کہا، یہ اس کے اسماء نصیر، نور اور ناصر کا آغاز ہے (5) محمد بن کعب نے کہا : اللہ تعالیٰ نے قسم اٹھائی کہ وہ مومنوں کی مدد فرمائے گا۔ یہ حق ہے۔ اس کی وضاحت اللہ تعالیٰ کے اس فرمان میں ہے، وکان حقا علینا نصر المومنین۔ (الروم) امام جعفر صادق نے کہا : یہ جنت کی نہروں میں سے ایک نہر ہے جسے نون کہتے ہیں (1) ایک قول یہ کیا : یہ حروف معجم میں سے ایک ہے کیونکہ اگر یہ کوئی اور چیز ہوتی تو یہ معرب ہوتا ہے۔ ابو نصر عبدالرحیم قشیری نے اسے پسند کیا ہے۔ فرمایا : ن حرف ہے اس پر اعراب نہیں۔ اگر یہ مکمل قلم ہوتا تو اس پر اسی طرح اعراب وہتا جس طرح قلم پر اعراب دیا جاتا ہے یہ حرف تہجی ہے جس طرح باقی ستونوں کے آغاز میں ہے۔ اسی وجہ سے کہا گیا ہے : یہ سورت کا نام ہے یعنی یہ سورة نون ہے پھر فرمایا : والقلم قلم کی قسم اٹھائی کیونکہ اس کے ذریعے ہی وضاحت کی جاتی ہے جس طرح زبان کے ساتھ وضاحت کی جاتی ہے۔ اس کا اطلاق ہر اس حکم پر ہوتا ہے جس کے ساتھ لکھ جاتا ہے وہ آسمانوں میں ہو یا زمین میں ہو۔ اسی معنی میں ابو الفتح بستی کا قول ہے : کفی قلم الکتاب عزا و رفعۃ مدی الدھر ان اللہ اقسم بالقلم کاتبوں کے قلم کے لئے طویل زمانہ تک یہ عزت و رفعت میں کافی ہے کہ بیشک اللہ تعالیٰ نے قلم کی قسم اٹھائی ہے۔ شعراء کے بیشمار ایسے الفاظ ہیں جن میں قلم کو تلوار پر فضیلت دی گی ہے۔ جس کو ہم نے ذکر کیا ہے وہ ان سب سے اعلیٰ ہے۔ حضرت ابن عباس نے کہا، یہ اس قلم کی قسم ہے جسے اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا اللہ تعالیٰ نے اسے حکم دیا تو قیامت تک جو کچھ ہونے والا تھا اس نے وہ لکھ دیا۔ : یہ قلم نور کا ہے اس کی لمبائی اتنی ہے جتنی آسمان اور زمین کے درمیان مسافت ہے (2) یہ کہا جاتا ہے : اللہ تعالیٰ نے قلم کو پیدا کیا پھر اس کی طرف دیھکا تو اس میں شق پیدا ہوگیا فرمایا : چل پڑ۔ قلم نے عرض کی : اے میرے رب ! میں کس کے ساتھ جاری ہوں ؟ فرمایا، قیامت تک جو کچھ ہونے والا ہے اس کو لکھنے کے ساتھ چل پڑ۔ تو وہ لوح محفوظ پر جاری ہوگیا۔ ولید بن عبادہ بن صامت نے کہا، میرے والد نے اپنے وصال کے موقع پر وصیت کی اور کہا : اے بیٹے ! اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور جان لو ! تو کبھی بھی متقی نہیں بنے گا اور علم تک نہیں پہنچ سکے گا یہاں تک کہ تو اللہ وحدہ لا شریک پر ایمان لائے، اچھی اور بری تقدیر پر ایمان لائے (3) میں نے بنی کریم ﷺ کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے قلم کو پیدا کیا ہے اسے فرمایا، لکھ۔ اس نے عرض کی : میں کیا لکھوں ؟ فرمایا : تقدیر لکھ، قلم اس لمحہ لکھنے لگی جو کچھ ہوچکا تھا اور ہمیشہ کے لئے جو کچھ ہونے والا تھا۔ “ حضرت ابن عباس نے کہا : اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے قلم پیدا کیا اور اسے حکم دیا جو کچھ ہونے والا ہے اسے لکھتا جائے اس نے جو کچھ لکھا اس میں یہ بھی لکھا تبت یدآ ابی لھب قتادہ نے کہا، قلم بندوں پر اللہ تعالیٰ کی نعمت ہے۔ دوسرے علماء نے کہا : اللہ تعالیٰ نے اول قلم کو پیدا کیا جو کچھ ہونے والا تھا اس نے لکھ دیا (4) اسے اپنے عرش پر اپنے پاس رکھ دیا، پھر دوسرے قلم کو پیدا کیا تاکہ اس کے ساتھ زمین میں لکھے جس کی وضاحت سورة اقرا بسم ربک میں آرہی ہے۔ ومایطرون۔ اور جو وہ لکھتے ہیں، مراد فرشتے ہیں جو انسانوں کے اعمال لکھتے ہیں، یہ حضرت ابن عبسا کا قول ہے (1) ایک قول یہ کیا گیا ہے : جسے لوگ لکھتے ہیں اور سج کے ذریعے ایک دوسرے کی بات سمجھتے ہیں۔ حضرت ابن عباس کا قول ہے : وما یسطرون۔ کا معنی ہے جو وہ جانتے ہیں ما موصولہ ہے یا مصدریہ ہے مراد مسطور ہے یا سطر ہے، مراد ہوگا جو کوئی لکھتا ہے یا جسے حفظہ فرشتے لکھتے ہیں۔ اس میں علماء کا اختلاف ہے۔ ما انت بنعمۃ ربک بمجنون۔ یہ جواب قسم ہے اور جملہ منفیہ ہے۔ مشرک نبی کریم ﷺ کے بارے میں کہا کرتے تھے : یہ مجنون ہے، اس کا ایک شیطان ہے نعوذ باللہ (2) وہ ان کا یہ قول تھا، یا یھا الذین نزل علیہ الذکر انک لمجنون۔ (الحجر) اللہ تعالیٰ نے ان کا رد کرتے ہوئے اور ان کی قول کی تکذیب کرتے ہوئے اس آیت کو نازل فرمایا۔ یہاں نعمت رحمت کے معنی میں ہے یعنی آپ ﷺ اپنے رب کی رحمت کے ساتھ مجنون نہیں۔ دوسری تاویل یہ ہو سکتی ہے کہ یہاں نعمت قسم کے معنی میں ہو تقدیر کلام یہ ہوگی تیرے رب کی رحمت کے ساتھ مجنون نہیں۔ دوسری تاویل یہ ہوس کتی ہے کہ یہاں نعمت قسم کیم عنی میں ہو تقدیر کلام یہ ہوگی تیرے رب کی نعمت کی قسمچ آپ مجنوں نہیں کیونکہ وائو اور باء حروف قسم میں سے ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ کلام اسی طرح ہے جس طرح تو کہتا ہے : ماانت بمجنن وا لحمد اللہ (3) ایک قول کا یہ معنی ہے مانت بمجنون والنعمۃ لربک جس طرح ان کا قول ہے، سبحانک اللھم و بحمد یعنی والحمد للہ۔ اسی معنی میں لبید کا یہ شعر ہے : وافردت فی الدین بفقد عشیرتی وفارقنی جاز باربد نافع اس شعر میں باربد، وھواربد کے معنی میں ہے۔ نابغہ کا شہر ہے : لم یحرموا حسن الغذاء وامھم طفحت علیک بناتق مذکار اس میں ب ھی بناتق، ھوناتق کے منی میں ہے۔ بنعمۃ ربک مجنون کے متعلق ہے جس کی نفی کی گی ہے جس طرح کلام مثبت میں غافل کے متعلق ہے۔ تیرا قول ہے : انت بنمۃ ربک غافل اس کا محل نصب ہے۔ یہ حال ہے گویا فرمایا : ماانت بمجنون منعما علیک بذلک وان لک لاجراً آپ کے لئے ثواب ہے کیونکہ آپ نبوت کے بوجھ کو اٹھائے ہوئے ہیں۔ غیر ممنون۔ وہ نہ ختم ہوگا اور نہ اس میں کمی کی جائے گی۔ یہ جملہ بوالا جاتا ہے : مننت الحبل جب تو رسی کو کاٹ دے حبل منین جب وہ مضبوط نہ ہو۔ شاعر نے کہا : غبساً کو اسب لایمن طعامھا یہاں بھی لایمن، لایقطع کے معنی میں ہے۔ ان کا کھانا ختم نہیں ہوتا۔ مجاہد نے کہا : غیر ممنون۔ کا معنی ہے اس کا کوئی حسا ب نہ ہوگا (4) حضرت حسن بصری نے کہا : اسے احسن جتلا کر گدلا نہ کیا جائے گا۔ ضحاک نے کہا، بغیر علم کے اجر ہوگا (5) ایک قول یہ کیا یا ہے : بغیر اندازہ کے ہوگا (6) یہ فضل و احسان ہے کیونکہ جزا اندازے سے ہوتی ہے اور فضل و احسان اندازے کے بغیر ہوتا ہے، ماوردی نے اسے ذکر کیا ہے، یہ مجاہد کے قول کا معنی ہے۔
Ayah 68:4

وَ اِنَّكَ لَعَلٰى خُلُقٍ عَظِیْمٍ Open ayah 68:4 in the Quran reader

اور تمہارے اخلاق بہت (عالی) ہیں

اس میں دو مسئلہ ہیں : وانک تعلی خلق عظیم۔ ” بیشک آپ عظیم الشان خلق کے مالک ہیں۔ “ اس میں دو مسئلے ہیں : خلق سے مراد مسئلہ نمبر 1۔ وانک لعلی خلق عظیم۔ حضرت ابن عباس اور مجاہد نے کہا : علق خلق سے مراد ہے دنیوں میں سے عظیم دین پر۔ اللہ تعالیٰ کو اس دین سے بڑھ کر کوئی دین محبوب اور پسندیدہ نہیں۔ صحیح مسلم میں حضرت عائشہ صدیقہ سے روایت مروی ہے : آپ کا خلق قرآن ہے (1) حضرت علی شیر خدا اور عطیہ نے کہا، اس سے مراد ادب قرآن ہے (2) ایک قول یہ کیا گیا ہے : مراد آپ ﷺ کا اپنی امت کے لئے نرم دل ہونا اور ان کو اکرام سے نوازنا ہے۔ قتادہ نے کہا : مراد ہے اللہ تعالیٰ جس کا حکم دے اس کو بجا لانا ہے اور جس سے اللہ تعالیٰ منع کرتا ہے اس سے رک جانا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : آپ ﷺ طبع کریم پر ہیں۔ ماوردی نے کہا، یہی معنی ظاہر ہے (و) لغت میں خلق کا حقیقی معنی یہ ہو مایا خذبہ الانسان نفسہ من الادب انسان اپن ینفس کے لئے جو ادب اپناتا ہے اسے خلقک ہتے ہیں کیونکہ یہ چیز اس میں خلقت کی طرح ہوجاتی ہے۔ جس ادب پر اسے پیدا کیا جاتا ہے اسے خیم کہتے ہیں جس کا معنی سجیۃ اور طبیعۃ ہے۔ لفظوں میں اس کا کوئی واحد نہیں۔ خیم پہاڑ کا نام ہے۔ خلق ایسی فطرت ہے جس میں تکلف ہو اور خیم ایسی فطرت ہے جو پیدائشی ہو۔ اعشی نے اسے اپنے شعر میں واضح کیا ہے : واذا ذو الفضول ضن علی المو لی و عادت لخیمھا الاخلاق جب مالدار غلام پر بخل کرنے لگیں تو اخلقا اپنی طبع کی طرف لوٹ آئے۔ میں کہتا ہوں : میں نے حضرت عائشہ صدیقہ کا جو قول، ذکر کیا ہے جو صحیح مسلم میں موجود ہے وہ تمام اقوال سے اصح ہے۔ حضرت عائشہ صدیقہ سے آپ ﷺ کے بارے میں پوچھا گیا تو حضرت عائشہ صدیقہ نے قد افلح المومنون۔ سے دس آیات کو پڑھا۔ فرمایا : رسول اللہ ﷺ سے بڑھ کر اخلاق میں کوئی اچھا نہ تھا۔ آپ ﷺ کے صحابہ اور گھر والوں میں سے کسی نے آپ ﷺ کو نہ بلایا مگر آپ ﷺ نے جواب میں کا، لبیک۔ اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : وانک لعلی خلق عظیم۔ کوئی خلق محمود ذکر نہیں کیا گیا مگر نبی کریم ﷺ کا اس میں وافر حصہ ہوتا۔ جنید بغدادی نے کہا، آپ ﷺ کے خلق کو عظیم کہا گیا کیونکہ اللہ تعالیٰ کے سوا یہ کہنے کی کسی کی ہمت نہ تھی۔ ایک قول یہ کیا یا ہے : آپ ﷺ کے خلق کو عظیم نام دیا گیا کیونکہ آپ ﷺ میں مکارم اخلاق جمع ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو ادب سکھایا، اس کی آپ ﷺ نے اطاعت کی۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : خد العفو وامربالعرف و اعرض عن الجھلین۔ (الاعراف) نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” مجھے میرے رب نے اچھا ادب سکھایا کیونکہ ارشاد فرمایا : خذالعفو وا مر بالعرف و اعرض عن الجھلین۔ (الاعراف) جب میں نے اسے قبول کرلیا تو فرمایا، وانک لعلی خلق عظیم۔۔ “ خلق سے مراد اخلاق ہے مسئلہ نمبر 2۔ امام ترمذی نے حضرت ابوذر کے واسطہ سے نبی کریم ﷺ سے راویت نقل کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : اتق اللہ حیثما کنت و اتبع السیئۃ الحسنۃ تمحھا وخلاق النا بخلق حسن جہاں کہیں ہو اللہ سے ڈرو، برائی کے بعد اچھائی کرو جو برائی کو مٹا دے اور لوگوں کے ساتھ خلق حسن کے ساتھ معاملہ کرو (1) حضرت ابوب وردا سے مروی ہے۔ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” قیامت کے روز مومن کے میزان میں اچھے اخلاق سے بڑھ کر کوئی وزنی چیز نہ ہوگی، بیشک اللہ تعالیٰ فحش یا وہ گوئی کرنے والے کو ناپسند کرتا ہے (2) کہا : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ ان سے یہ بھی مروی ہے کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ما من شیء یو ضع فی المیزان اثقل من حسن الخلق وان صاحب حسن الخلق لیبلغ بہ درجۃ صاحب الصلاۃ والصوم جو چیز میزان میں رکھی جاتی ہے حسن خلق سے بڑھ کر کوئی وزنی چیز نہ ہوگ ی۔ اچھے اخلاق والا نماز پڑھنے والے اور روزہ رکھنے والے کے درجہ تک جا پہنچتا ہے۔ کہا، حیدث غریب ہے، اسی سند سے مروی ہے۔ حضرت ابوہریرہ سے مروی ہے۔ رسول اللہ ﷺ سے پوچھا گیا : سب سے زیادہ کونسی چیز لوگوں کو جنت میں داخل کرے گی ؟ فرمایا :” اللہ سے تقویٰ اور حسن خلوق “ (3) پوچھا گیا : کو سنی چیز سب سے زیادہ لوگوں کو جہنم میں داخل کرے گی ؟ فرمایا :” منہ اور شرمگاہ “ کہا : یہ حدیث صحیح غریب ہے۔ حضرت عبداللہ بن مبارک سے مروی ہے : آپ نے حسن خلق کے بارے میں فرمایا : ترش روئی نہ کرنا، نیکی کرنا اور اذیت کو دور کرنا (4) حضرت جابر سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا :” قیامت کے روز مجھے سب سے محبوب اور میرے سب سے قریب وہ ہوگا جو تم میں سے اخلاق میں سب سے اچھا ہوگا “ (5) فرمایا : ’ قیامت کے روز تم میں سے سب سے زیادہ مبغوض اور مجلس میں سب سے دور وہ ہوگا جو ثرث اورن (زیادہ باتیں کرنے والے) متشدقون (زبان دراز) اور متفیھقون ہیں۔ “ (صحابہ نے عرض کی : ہم ثرثا رون اور متشدقون کو تو جانتے ہیں، یہ متفیھقون کون ہیں ڈ فرمایا :” متکبر “۔ اس بارے میں حضرت ابوہریرہ سے ریات مروی ہے۔ کہا : یہ حدیث حسن غریب ہے۔
Ayahs 68:5–6

فَسَتُبْصِرُ وَ یُبْصِرُوْنَۙ Open ayah 68:5 in the Quran reader

سو عنقریب تم بھی دیکھ لو گے اور یہ (کافر) بھی دیکھ لینگے۔

بِاَىیِّكُمُ الْمَفْتُوْنُ Open ayah 68:6 in the Quran reader

کہ تم میں سے کون دیوانہ ہے

فستبصر ویبصرون۔ حضرت ابن عباس نے کہا : اس کا معنی ہے آپ عنقریب جان لیں گے اور وہ بھی قیامت کے روز جان لیں گے (1) ایک قول یہ کیا گیا ہے : آپ عنقریب دیکھ لیں گے اور وہ بھی قیامت کے روز دیکھ لیں گے جب حق اور باطل واضح ہوجائے گا (2) بائیکم المفقتون (2) باء زائدہ ہے، تقدیر کلام یہ ہے فستبصر ویبصرون ایکم المفتون یعنی جسے جنون کے ساتھ آزمائش میں ڈالا گیا ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : تنبت بالدھن (المومن : 20) یثرب بھا عباد اللہ دونوں میں باء زائدہ ہے، یہ قتادہ، ابو عبیدہ اور رخفش کا قول ہے۔ راجز نے کہا : نحن بنو جعدہ اصحاب الفلج نضرب باسیف ونرجو بالفرج ہم بنو جعدہ ہیں جو فلج شہر والے ہیں۔ ہم تلوار مارتے ہیں اور کشادگی کی امید رکھتے ہیں۔ بالسیف اور بالفرج میں باء زائدہ ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے، باء زائدہ نہیں۔ معنی ہے تم میں سے کسے فتنہ لاحق ہے (3) ؟ یہاں مفتون مصدر ہے اور مفعول کے وزن پر ہے۔ اس کا معنی فتون ہے جس طرح انہوں نے کہا : مالفلان مجلود ولا معقول یعنی اس کے ہاں عقل اور سختی نہیں، یہ قول حضرت حسن بصری، ضحاک اور حضرت ابن عباس کا قول ہے۔ راعی نے کہا : حتی اذا لم یترکوا لعظامہ لحما ولا لفوادہ معقولا یہاں تک کہ انہوں نے اس کی ہڈیوں کے لئے گوشت اور دل کے لئے عقل نہ چھوڑی یہاں معقول، عقل کے معنی میں ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے، کلام میں مضاف حذف ہے۔ تقدیر کلام یہ ہوگی بایکم فتنۃ المفتون۔ فراء نے کہا، باءنی کے معنی میں ہے۔ آپ عنقریب دیھکیں گے اور وہ بھی دیکھیں گے دونوں جماعتوں میں سے کون سی جماعت مجنون ہے کیا وہ جماعت جس میں آپ ﷺ ہیں یعنی مومن یا دوسری جماعت۔ مفتون سے مراد مجنون ہے جسے شیطان فتہ میں ڈال دے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : مفتون سے مراد وہ ہے جسے عذاب دیا جائے۔ عربوں کا قول ہے : فتنت الذھب بالنار (4) جب تو اسے آگ پر گرم کرے، اس معنی میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے یوم ھم علی النار یفتنون۔ (الذاریات) یفتنون یہاں یعذبون کے معنی میں ہے۔ اس سورت کا اکثر حصہ لوید بن مغیرہ اور ابوجہل کے بارے میں نازل ہوا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : مفتون سے مراد شیطان ہے کیونکہ اسے اس کے دین میں فتنہ میں ڈالا گیا (5) وہ کہا کرتے تھے : ان بہ شیطان مراد مجنون ہی لیتے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : وہ کل جان لیں گے ان میں سے کون مجنون ہے یعنی وہ شیطان جس کے مس کرنے سے جنون اور عقل میں خلل واقع ہوتا تھا۔
Ayah 68:7

اِنَّ رَبَّكَ هُوَ اَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ عَنْ سَبِیْلِهٖ١۪ وَ هُوَ اَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِیْنَ Open ayah 68:7 in the Quran reader

تمہارا پروردگار اس کو بھی خوب جانتا ہے جو اسکے راستے سے بھٹک گیا۔ اور انکو بھی خوب جانتا ہے جو اسکے راستہ پر چل رہے ہیں

ان ربک ھو العلم بمن ضل عن سبیلہ جو آدمی اس کے دین سے بھٹکتا ہے اللہ تعالیٰ اسے خوب جانتا ہے۔ وھو اعلم بالمھتدین۔ جو ہدیات پر ہیں انہیں بھی خوب جانتا ہے، تو قیامت کے روز وہ ہر کسی کو اسی کے عمل کا بدلہ دے گا۔
Ayah 68:8

فَلَا تُطِعِ الْمُكَذِّبِیْنَ Open ayah 68:8 in the Quran reader

تو تم جھٹلانے والوں کا کہا نہ ماننا۔

مشرکین کے ساتھ دوستی اور میلان سے منع کیا۔ وہ نبی کریم ﷺ کو دعوت دیتے کہ آپ ﷺ ان کے بارے میں کچھ نہ کہیں، وہ آپ ﷺ کے بارے کچھ نہ کہیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے واضح فرمایا کہ ان کے ساتھ دسوتی اور ان کی طرف میلان کفر ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ولولا ان ثبتنک لقد کدت ترکن الیھم شیاً قلیلاً ۔ (الاسرائ) ۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : آپ ﷺ جھٹلانے والوں کی ان باتوں میں اطاعت نہ کریں جن باتوں میں وہ آپ ﷺ کو اپنے خبیث دین کی طرف دعوت دیتے ہیں۔ یہ آیت مشرکین قریش کے بارے میں نازل ہوئی جب انہوں نے اپنے آباء کے دین کی طرف دعوت دی۔
Ayahs 68:9–11

وَدُّوْا لَوْ تُدْهِنُ فَیُدْهِنُوْنَ Open ayah 68:9 in the Quran reader

یہ لوگ چاہتے ہیں کہ تم نرمی اختیار کرو تو بھی نرم ہوجائیں

وَ لَا تُطِعْ كُلَّ حَلَّافٍ مَّهِیْنٍۙ Open ayah 68:10 in the Quran reader

اور کسی ایسے شخص کے کہے میں نہ آجانا جو بہت قسمیں کھانے والا ذلیل اوقات ہے۔

هَمَّازٍ مَّشَّآءٍۭ بِنَمِیْمٍۙ Open ayah 68:11 in the Quran reader

طعن آمیز اشارتیں کرنیوالا چغلیاں لئے پھرنے والا

حضرت ابن عباس عطیہ، ضحاک اور سدی نے کہا : انہوں نے پسند کیا کا شچ تم کفر کرتے تو وہ اپنے کفر میں مزید آگے بڑھ جاتے۔ حضرت ابن عباس نے یہ بھی کہا : انہوں نے پسند کیا کہ اگر آپ ﷺ انہیں رخصت دیں تو وہ بھی آپ ﷺ کو رخصت دیں گے (1) فراء اور کلبی نے کہا : اگر آپ نرمی کریں تو وہ بھی نرمی کریں گے۔ ادھان سے مراد اس کے لئے نرمی کرتا ہے جس کے لئے نرمی کرنا مناسب نہ ہو، یہ فراء کا قول ہے۔ مجاہد نے کہا، معنی ہے انہوں نے چاہا اگر آپ ﷺ کی طرف مائل ہوں اور آپ حق کو چھوڑ دیں تو وہ بھی آپ ﷺ کی طرف مئال ہوں گے۔ ربیع بن انس نے کہا، انہوں نے چاہا اگر آپ جھوٹ بولیں تو وہب ھی جھوٹ بولیں گے (2) قتادہ نے کہا : انہوں نے چاہا اگر آپ ﷺ اس امر سے کنارہ کش ہو اجئیں تو وہب ھی آپ کے ساتھ کنارہ کش ہوجائیں گے (3) حضرت حسن بصری نے کہا : انہوں نے پسند کیا اگر آپ اپنے دین میں ان کے ساتھ کوئی نرمی کریں تو وہ اپنے دین میں آپ ﷺ کے ساتھ نرمی کریں گے (4) ان سے یہ بھی مروی ہے، انہوں نے پسند کیا اگر آپ ﷺ اپنے بعض امور کو ترک کردیں تو وہ اپنے بعض امور کو ترک کردیں گے۔ (5) زید بن اسلم نے کہا، اگر آپ ﷺ منافقت کریں اور ریا کاری کریں (نعوذ باللہ) تو وہ بھی منافقت کریں گے اور ریا کاری کریں گے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : انہوں نے پسند کیا اگر آپ ﷺ کمزوری دکھائیں تو وہ بھی کمزوری دکھائیں گے (6) یہ ابو جعفر کا قول ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے، انہوں نے پسند کیا اگر آپ ﷺ اپنے دین میں مداہنت دکھائیں تو وہ اپنے ادیان میں مداہنت دکھائیں گے (7) یہ قول قتبی کا ہے۔ ان سے یہ بھی مروی ہے، انہوں نے آپ ﷺ سے مطالبہ کیا کہ آپ ﷺ ایک عرصہ ان کے معبودوں کی عبادت کریں تو وہ ایک عرصہ آپ ﷺ کے معبودوں کی عبادتک ریں گے۔ یہ بارہ اقوال ہیں۔ ابن عربی نے کہا، مفسرین نے اس میں دس کے قریب اقوال ذکر کئے ہیں۔ سب لغت اور معنی پر جھوٹے دعوے ہیں (1) ان میں سے ان کا یہ قول ہے : ودوالوتکذب فیکفرون، ودوالوتکفر فیکفرون۔ میں کہتا ہوں، سب اشنئا اللہ صحیح ہیں لغت اور معنی کے موافق ہیں کیونکہ ادھانکا معنی نرمی کرنا اور نرم رویہ اپنانا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : ادھان کا معنی دشمن سے حسن سلوک کرنا اور اس سے دوستی کرنا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : کلام میں قرب ظاہر کرنا اور قول میں نرمی کرنا۔ مفضل نے کہا، اس سے مراد نفاق اور باہم نصیحت کو ترک کرنا ہے (2) اس توجیہ کی صورت میں یہ مذموم ہے اور پہلی توجیہ کی صورت میں مذموم نہیں۔ ان میں سے کوئی چیز بھی نہیں۔ مبرد نے کہا، یہ جملہ بولا جاتا ہے ادھن فی دینہ وداھن فی امرہ یعنی اس نے اس میں خیانت کی اور جو چیز چھپائے ہوئے تھا اس کے خلاف ظاہر کیا۔ ایک قوم نے کہا، فیدھنون کو عطف کے طریقہ پر چلایا ہے۔ (3) اگر نیہ کے جواب کے طریقہ پر آتا تو اسے فیدھنوا ارشاد فرماتا۔ بیشک یہ ارادہ کیا انہوں نے تمنا کی اگر آپ ایسا کریں تو وہ بھی آپ کی مثل کریں گے۔ یہ عطف کے طور پر ہے۔ جزا اور مکافات کے طریقہ پر نہیں، یہ تمثیل و تنظیر ہے۔
Ayah 68:12

مَّنَّاعٍ لِّلْخَیْرِ مُعْتَدٍ اَثِیْمٍۙ Open ayah 68:12 in the Quran reader

مال میں بخل کرنیوالا حد سے بڑھا ہوا بدکار

امام شعبی، سدی اور ابن اسحاق کے قول میں احنس بن شریق مراد ہے (4) ۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : مراد اسود بن عبد یغوث یا عبدالرحمٰن بن اسود ہے، یہ مجاہد کا قول ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے، مراد ولید بن مغیرہ ہے (5) ۔ اس نے نبی کریم ﷺ کو ملا کی پیشکش کی اور اس نیق سم اٹھائی کہ اگر آپ ﷺ دین سے رجوع کرلیں تو وہ یہ مال انہیں دیگ ا، یہ مقاتل کا قول ہے۔ حضتر ابن عباس نے ہا، مراد ابوجہل بن ہشام ہے۔ حلا سے مراد بہت زیادہ قسمیں اٹھانے والا۔ مہین سے مراد جس کا دل کمزور ہو، یہ مجاہد سے مروی ہے۔ حضرت ابن عباس نے کہا، مراد سخت جھوٹا اور جھوٹ بولنے والا ذلیل ہوتا ہے (6) ایک قول یہ کیا گیا ہے، شر میں بہت زیادہ آگے بڑھنے والا، یہ قول حضرت حسن بصری اور قتادہ نے کیا ہے۔ کلبی نے کہا، مراد حقیر، فاجر اور عاجز ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس کا معنی ہے اللہ تعالیٰ کے ہاں حقیر۔ ابن شجرہ نے کہا، وہ ذلیل ہے۔ امانی نے کہا، حقیر و پشت کیونکہ وہ بہت زیادہ قبیح عمل کرتا ہے۔ یہ مھانہ سے فعیل کا وزن ہے جس کا معنی قتل ہے یہاں رائے اورت میز میں قلت ہے یا یہ فعیل، مفعول کے معنی میں ہے۔ اس کا معنی مھان (ذلیل کیا گیا) ہے۔ ھماز ابن زید نے کہا، ھماز سے مراد وہ آدمی ہے جو اپنے ہاتھ سے لوگوں کی چٹکی لیتا ہے اور انہیں مارتا ہے اور لمازجو زبان سے دوسرے لوگوں کے ساتھ یہ سلوک کرتا ہے۔ حضرت حسن بصری نے کہا، جو مجلس میں لوگوں کے عیب ذکر کرے جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے ھمزۃ (الہمزہ : 1) (1) ایک قول یہ کیا گیا ہے : ھماز سے مراد وہ شخص ہے جو لوگوں کے سامنے ان کی برائی ذکر کرتا ہے اور لمازا سے کہتے ہیں جو ان کی عدم موجودگی میں ان کی برائی ذکر کرتا ہے، یہ ابوالعالیہ، عطا بن ابی رباح اور حضرت حسن بصری کا قول ہے۔ مقاتل نے اس کلام کی ضد میں کلام کی ہے : حمزہ اسے کہتے ہیں جو عدم موجودگی میں غیبت کرتا ہے اور لمزہ اسے کہتے ہیں جو سامنے برائی کرتا ہے۔ مرہ نے کہا : دونوں برابر ہیں۔ اس سے مراد وہ شخص ہے جو عدم موجودگی میں عیب جوئی کرتا ہے۔ حضرت ابن عباس اور قتادہ سے اسی کی مثل مروی ہے۔ شاعر نے کہا : تدلی بود اذا لا قیتنی کذباً وان اغب فانت الھا مز اللمزہ (2) جب تو ملتا ہے تو جھوٹ موٹ کی محبت کا اظہار کرتا ہے اور اگر میں غائب ہوں تو تو عیب جوئی کرنے والا ہے۔ مشآء ونمیم لوگوں میں چغیل خوری کرتا ہے تاکہ ان میں فساد برپا کر دے۔ یہ بولا جاتا ہے : نم ینم نما و نسیما و نمیمۃ جب وہ چغل خوری کرے اور فساد برپا کر دے۔ صحیح مسلم میں حضرت حذیفہ سے مروی ہے انہیں یہ خبر پہنچی کہف لاں آدمی چغل خوری کرتا ہے تو حضرت حذیفہ نے کہا، میں نے رسول اللہ ﷺ کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ” جنت میں کوئی چغل خور داخل نہیں ہوگا۔ “ (3) شاعر نے کہا : ومولی کبیت النمل لا خیر عندہ لمولاہ الا سعیہ بنمیم (4) غلام چیوٹنی کے گھر کی طرح ہے۔ اس کے ہاں آقا کے لئے کوئی خیر نہیں سوائے اس کے کہ وہ چغل خوری کرتا ہے۔ مناع للخیر وہ مال کو روکنے والا ہے کہ اسے بھلائی کے راستوں میں خرچ کیا جائے۔ حضرت ابن عباس نے کہا، وہ اپنی اولاد اور قبیلہ کو سالام سے روکتا ہے (5) حضرت حسن بصری نے ہا، وہ انہیں کہتا ہے تم میں سے جو بھی (حضرت) محمد ﷺ کے دین میں داخل ہوا میں اسے کبھی بھی کسی چیز کا فائدہ نہیں دوں گا (6) معتد وہ لوگوں پر ظلم کرنے والا ہے، حد سے تجاوز کرنے والا ہے، باطل کا ساتھی ہے۔ اثیم گناہگار ہے اس کا معنی اثوم ہے۔ یہ فعیل کا وزن ہے اور فعول کے معنی میں ہے۔ عتل بعد ذلک زنیم۔ عقل، یعنی وہ کفر میں بہت سخت ہے۔ کلبی اور فراء نے کہا، وہ باطل میں سخت خصوصیت کرنے والا ہے۔ (7) ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ لوگوں سے خصومت کرتا ہے اور انہیں قید یا عذاب کی طرف لے جاتا ہے۔ یہ عتل سے ماخوذ ہے جس کا معنی کھینچنا ہے، اسی معنی میں یہ ارشاد ہے خذوہ فاعتلوہ (الدخان : 47) صحاح میں ہے عتلت الرجل، اعتلہ واعتلہ جب تو اسے سختی سے کھینچے۔ رجل معتل۔ وہ گھوڑے کی تعریف کرتا ہے : نفرعہ فرعاً ولسنا نعتلہ ہم اسے سختی سے روکتے ہیں اور ہم اسے کھینچتے نہیں۔ ابن کسیت نے کہا، عتلہ و عتنہ دونوں طرح یہ لفظ استعمال ہوتا ہے۔ عتل کا معنی سخت دل۔ عتل کا معنی یہ بھی ہے موٹا نیزہ۔ رجل عتل ایسا آدمی جو برائی کی طرف جلدی جانے والا ہ۔ یہ جملہ بولا جاتا ہے۔ لاانعتل معک یعنی میں اپنی جگہ سے نہ ہلوں گا۔ عبیدبن عمیر نے کہا : العتل سے مراد بہت زیادہ کھانے والا، بہت زیادہ پینے والا، قوی اور شدید۔ اسے میزان میں رکھا جائے تو ایک جو کا وزن بھی نہ ہو۔ فرشتہ ایک دھکے سے ایسے ستر ہزار آدمیوں کو جہنم میں دھکیل دے گا۔ حضرت علی بن ابی طالبا رو حضتر حسن بصرمی نے کہا، عتل سے مراد فحش گوئی کرنے والا اور برے اخلاق والا۔ معمر نے کہا : اس سے مراد فحش گوئی کرنے والا اور کمینہ ہے (1) ۔ شاعر نے کہا : بعتل من الرجال زنیم غیر ذی نجدۃ وغیرہ کریم (2) لوگوں میں سے ترش اور بد اصل وہ بلند رمقام متر بےوالا نہیں اور نہ ہی معزعز ہے۔ صحیح مسلم میں حضرت حاثر بن وہب سے روایت مروی ہے کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ” کیا میں تمہیں ا ہل جنت کے بارے میں باخبر نہ کروں ؟ “ (3) صحابہ نے عرض کی : کیوں نہیں ؟ فرمایا :” ہر کمزور جسے لوگ کمزور جانیں۔ اگر وہ اللہ تعالیٰ پر کسی امر کے بارے میں قسم اٹھا دے تو وہ اس قسم کو پورا کر دے۔ کیا میں تمہیں جہنمیوں کے بارے میں باخبر نہ کروں ؟ “ صحابہ نے عرض کی : کیوں نہیں ؟ فرمایا :” ہر ترش رو، سخت دل، مال جمع کرنے والا اور متکبر “۔ ایک روایت میں ہے۔ ” ہر مال جمع کرنے والا، بداصل اور متکبر “ (4) جواظ سے مراد مال جمع کرنے والا اور خرچ کرنے سے رکنے والا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے، زیادہگ وشت والا اور چال میں تکبر کرنے اولا۔ ماوردی نے شہر بن حوشب سے وہ عبدالرحمٰن بن غنم سے روایت نقل کرتے ہیں (5) اسے حضرت ابن مسعود نے روایت نقل کیا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا، لایدخل الجنۃ جو اط ولا جعظری ولا العتل الزنیم ایک آدمی نے عرض کی : جو اظ اور جعظری کیا ہوتا ہے اور عتل زنیم سے کیا مراد ہے ؟ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : جو اظ اسے کہتے ہیں جو مال جمع کرتا ہے اور اسے روک لیتا ہے، جعظری سے مراد سخت دل اور عتل زنیم سے مراد مضبوط جسم والا، بڑے پیٹ والا، صحت مند، خوب کھانے پینے والا، کھانے کو پانے والا اور لوگوں پر ظلم کرنے والا۔ “ ثعلبی نے اسے شداد بن اوس سے نقل کیا ہے :” جنت میں جو اظ جعظری اور عتل زنیم داخل نہیں ہوگا۔ میں نے یہ باتیں نبی کریم ﷺ سے سنی ہیں۔ میں نے عرض کی : جو اظ کون ہے ؟ فرمایا :” مال جمع کرنے والا اور اسے روکنے ولا۔ “ میں نے پوچھا : جعظری کیا ہے ؟ فرمایا :” ترش رو سخت دل “ میں نے عرض کی : عتل زنیم کیا ہے ؟ فرمایا :” بڑے پیٹ والا۔ “ بھرے گوشت والا، خوب کھانے پینے والا اور ظالم۔ “ میں کہتا ہوں : یہ تفسیر نبی کریم ﷺ سے عتل کے بارے میں ہے جو مفسرین کے اقوال پر فوقیت رکتھی ہے۔ ابو دائود کی کتاب میں جو اظ کی تفسیر میں ہے، اس سے مراد ترش رو اور سخت دل ہے۔ یہ حارث بن وہب خزاعی کی حدیث میں وارد ہے تو رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا، لایدخل الجنۃ الجواظ ولا الجعظری (1) جو اظ اور جعظری جنت میں داخل نہیں ہوگا۔ کہا : جو اظ سے مراد ترش رو اور سخت دل ہے۔ اس بارے میں دو اور تفسیریں ہیں جو مرفوع روایت میں بیان ہوئیں جن کا ذکر ہم پہلے کرچکے ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے، اس سے مراد سخت دل ہے۔
Ayah 68:13

عُتُلٍّۭ بَعْدَ ذٰلِكَ زَنِیْمٍۙ Open ayah 68:13 in the Quran reader

سخت خو اور اسکے علاوہ بد ذات ہے

حضرت زید بن اسلم اللہ تعالیٰ کے فرمان، عتل بعد ذلک زنیم۔ کی تفسیر میں کہتے ہیں (2) نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا :” آسمان اس آدمی کی حرکتوں سے روتا ہے اللہ تعالیٰ نے جس کے جسم کو دسرت کیا، اس کے پیٹ کو بڑا کیا اور دنیا میں سے بعض دیا تو وہ لوگوں پر ظلم کرتا ہے، پس وہی عتل زنیم ہے اور آسمان اس بدکار بوڑھے کی وجہ سے روتا ہے جس کو زمین اٹھائے ہوئے ہے۔ “ زنیم ہے اور آسمان سا بدکار بوڑھے کی وجہ سیر وتا ہے جس کو زمین ہوئے ہے۔ “ زنیم اسے کہتے ہیں جو کسی قوم کے ساتھ چسپاں کردیا گیا ہے اور جس کے بارے میں دعویٰ کیا یا ہو۔ یہ حضرت ابن عباس اور دوسرے علماء سے مروی ہے۔ شاعر نے کہا : زنیم تداعاہ الرجال زیادۃ وہ زنیم ہے جسے لوگ بطور زیادہ چیز کے دعویٰ کرتے ہیں۔ حضرت ابن عباس سے یہ بھی مروی ہے کہ قریش کا ایک فرو تھا اس کا ایسا زخم تھا جس طرح بکری ص کے کانوں یا گردن) میں الگ تھلگ گوشت لٹک رہا ہوتا ہے (3) ابن جبیر نے حضرت ابن عباس سے یہ روایت بھی کی ہے کہ وہ شر میں یوں معروف تھا جس طرح بکری اس گوشت کی وجہ سے پہچانی جاتی ہے (4) عکرمہ نے کہا، مراد ایسا کمینہ فرد ہے جو اپنی کمینگی کی وجہ سے معروف ہے جس طرح بکری اس گوشت کی وجہ سے پہچانی جاتی ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ انبہ (عیب) کی وجہ سے پہچانا جاتا ہے۔ یہ حضرت ابن عباس سے بھی مروی ہے۔ ان سے یہ بھی مروی ہے : اس سے مراد مظلوم ہے۔ یہ چھ اقوال ہیں۔ مجاہد نے کہا، زنیم جس کے ہاتھ میں چھ انگلیاں تھیں اور ہر اگنوٹھے میں ایک انگلی زائد تھی۔ ان میں سے بھی اور سعید بن مسیب اور عکرمہ سیب ھی یہ مروی ہے : اس سے مراد ولد زنا ہے جو نسب میں کسی قوم کے ساتھ لاحق کردیا گیا ہو۔ ولید قریش میں دعی (جس کا دعویٰ کیا یا ہو) تھا وہ ان کی اصل سے نہ تھا۔ اس کے والد نے اس کی پیدائش اٹھارہ سال بعد اس کے بیٹے ہونے کا دعویٰ کیا تھا۔ شاعر نے کہا : زنیم لیس یعرف من ابوہ بغی الام ذو حسب لئیم وہ بداصل ہے، اس کا باپ معروف نہیں، اس کی ماں بدکار تھی وہ کمینے حسب والا ہے۔ میں کہتا ہوں، یہ عبینہ پہلا قول ہے۔ حضرت علی شیرخ دا سے مروی ہے کہ اس سے مراد وہ ہے جس کی اصل نہ ہو۔ معنی ایک ہی ہے۔ روایت بیان کی گئی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا :” جنت میں ولد زنا، اس کا بچہ اور اس کے بچہ کا بچہ داخل نہیں ہوگا۔ “ (1) حضرت عبداللہ بن عمر نے کہا : نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” ولد زنا قیامت کے روز بندروں اور خنزیروں کی صورت میں اٹھائے جائیں گے۔ ‘ حضرت میمونہ نے کہا : میں نے نبی کریم ﷺ کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ” میری امت بھلائی میں رہے گی جب تک اس میں ولد زنا عام نہ ہوں گے اور جب اس میں ولد زنا عام ہوجائیں گے تو قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ ان پر عتاب کو عام کر دے۔ “ عکرمہ نے کہا، جب ولد زنا کی کثرت ہوجاتی ہے تو بارش کم ہوجاتی ہے۔ میں کہتا ہوں : جہاں تک پہلی اور دوسری حدیث کا تعلق ہے میں ان کی ایسی سند گمان نہیں کرتا جو صحیح ہو جہاں تک حضرت میمونہ کی حدیث کا تعلق ہے اور عکرمہ نے جو کہا ہے وہ صحیح مسلم میں حضرت زینب بنت حجش جو نبی کریم ﷺ کی زوجہ سے ہیں، سے مروی ہے۔ کہا : ایک روز نبی کریم ﷺ گھبراتے ہوئے نکلے جبکہ آپ ﷺ کا چہرہ سرخ تھا۔ آپ ﷺ کہہ رہے تھے : لا الہ الا اللہ ویل للعرب من شرقد اقترب۔ فتح الیوم من ردم یا جوج وما جوج مثل ھذا (2) اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ عربوں کے لئے اس شر کی وجہ سے ہلاکت ہے جو قریب آچکی ہے۔ آج یاجوج و ماجوج کی آڑ اس قدر کھول دی گئی ہے۔ آپ نے اپنے انگوٹھے اور ساتھ والی انگلی سے حلقہ بنایا۔ حضرت زینب بنت حجش نے کہا، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا ہم ہلاک ہوجائیں گے جبکہ ہم میں صالح لوگ بھی ہیں۔ فرمایا :” ہاں، جب بد کاری عام ہوجائے گی۔ “ امام بخاری نے اسے نقل کیا ہے۔ کثرۃ خبث سے مراد زنا کا عام ہونا اور زنا کی اولاد کا عام ہونا ہے۔ علماء نے یہی تفسیر بیان کی ہے۔ عکرمہ کا قول قحط المطر اس امر کی وضاحت ہے جس کے ساتھ ہلاکت ہوگی۔ یہ امر قیاسی نہیں تو قیفی (جیسی خبر دی) ہے وہ زیادہ بہتر جانتے ہیں کہ کس وجہ سے انہوں نے یہ بات کہی۔ اکثر مفسرین کی رائے ہے کہ یہ آیت ولید بن مغیرہ کے حق میں نازل ہوئی وہ منیٰ میں مقیم لوگوں کو تین دن حلوہ کھلاتا تھا اور اعلان کرتا : خبردار ! کوئی آدی ہنڈیاں کے نیچے آگ نہ جلائے، کوئی آدی کھروں (کو پکانے کے لئے) ان کے نیچے دھواں نہ ڈالے۔ (خبر دار ! جو حیس (مرہ) کی خواہش رکھتا ہے وہ ولید بن مغیرہ کے پسا آئے وہ ایک حج کے موقع پر بیس ہزار یا اس سے زیادہ خرچ کیا کرتا تھا اور مسکین کو ایک درہم بھی نہ دیتا تو کہا گیا : مناع للخیر اس بارے میں یہ آیت نازل ہوئی۔ وویل المشرکین۔ الذین لایوتون الزکوۃ (فصلت) محمد بن اسحاق نے کہا، یہ آیت اخنس بن شریق کے حق میں نازل ہوئی کیونکہ وہ حلیف تھا اور بنو زہرہ کے ساتھ لاحق کیا گیا تھا، اسی وجہ سے اسے زنیم کہا گیا۔ حضرت ابن عباس نے کہا، اس ایٓت میں اس کی یہ صفت بیان کی گئی اس کے بارے میں کسی کو پتہ نہ تھا یہاں تک کہ وہ قتل ہوا تو اس کا پتہ چلا۔ اس کی گردن میں گوشت کا ایک لوتھڑا تھا جو لٹک رہا تھا۔ مرہ ہمدانی نے کہا، اس کے والد نے اس کی پیدائش کے اٹھارہ سال بعد اس کے بیٹا ہونے کا دعویٰ کیا۔
Ayahs 68:14–15

اَنْ كَانَ ذَا مَالٍ وَّ بَنِیْنَؕ Open ayah 68:14 in the Quran reader

اس سبب سے کہ مال اور بیٹے رکھتا ہے۔

اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِ اٰیٰتُنَا قَالَ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 68:15 in the Quran reader

جب اس کو ہماری آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو کہتا ہے یہ اگلے لوگوں کے افسانے ہیں

ان کان ذا مال وبنین۔ ابو جعفر، ابن عامر، ابوحیوہ، مغیرہ اور اعرج نے ان کان ایک ہمزہ ممدودہ کے ساتھ پڑھا ع ہے کہ یہ کلام استفہامیہ ہے۔ مفضل، ابوبکر اور حمزہ نے ان کان دو ہمزوں کے ساتھ جو اپنی جگہ پر ثابت ہیں کے ساتھ پڑھا ہے باقی قراء نے ایک ہمزہ کے ساتھ پڑھا ہے اس بنا پر کہ یہ کلام استفہامیہ نہیں جس نے ایک ہمزہ ممدودہ یا دو ہمزہ محققہ کے ساتھ پڑھا ہے تو اس صورت میں کلام استفہامیہ ہوگی۔ اس سے مراد تو بیخ ہے اس کے لئے اچھا ہوگا کہ وہ زنیم پر وقف کرے اور ان کان سے کلام کا آغاز کرے معنی یہ بنے گا کیا اس لئے کہ وہ صاحب مال اور صاحب اولاد ہے آپ ﷺ اس کی اطاعت کرتے ہیں۔ یہ تقدیر کلام بھی جائز ہے الان کان ذا مال وبنین یقول اذا تتلی علیہ آیاتنا اساطیر الاولین کیا اس لئے کہ وہ صاحب مال اور صاحب اولاد ہے جب اس پر ہماری آیات کی تلاوت کی جاتی ہے تو و کہتا ہے یہ پہلے لوگوں کے قصے کہانیاں ہیں۔ یہ بھی جائز ہے کہ تقدیر کلام یوں ہے الان کان ذا مال و بنین یکفر ویستکبر کیا اس لئے کہ وہ صاحب مال اور صاحب اولاد ہے وہ کفر کرتا ہے تکبر کرتا ہے۔ ماقبل کلام اس پر دلالت کرتی ہے تو یہ استفہام کے بعدمذکور کی طرح ہے۔ جس نے ان کان استفہام کے بغیر پڑھا تو وہ مفعول لاجلہ ہوگا اس میں عامل فعل مضمر ہے تقدیر کلام یہ ہوگی یکفرلان کان ذا مال و بنین اس فعل پر اذا تتلی علیہ ایتنا قال اساطیر الاولین۔ دلالت کرتا ہے۔ ان میں تتلی فعل عامل نہیں ہوگا اور نہ ہی قال فعل عامل ہوگا کیونکہ اذا کا مابعد اس کے ماقبل میں عمل نہیں کرتا کیونجہ اذا مابعد جملہ کی طرف مضاف ہو کر استعمال وہتا ہے اور مضاف الیہ، مضاف کے ماقل میں عمل نہیں کرتا اور قال جزاء کا جواب ہے یہ جزا کے مقابل میں عمل نہیں کرتا کیونکہ عامل کا حکم یہ ہے کہ وہ معمول سے پہلے ہو اور جواب کا حکم یہ ہے کہ وہ شرط کے بعد ہو وہ ایک ہی حال میں مقدم و موخر ہوگا۔ یہ جائز ہے کہ معنی ہو اس کی اطاعت نہ کر اس لئے کہ وہ صاحب مال اور صاحب اولاد ہے۔ ابن انبایر نے کہا : جس نے استفہام کے بغیر پڑھا اس کے لئے زنیم پر وقف کرنا اچھا نہیں کیونکہ معنی ہے ان کان بان کان۔ ان ماقبل سے متعلق ہے۔ دوسرے علماء نے کہا، یہ بھی جائز ہے کہ مشآء بنمیم کے متعلق ہو تقدیر کلام یہ ہوگی یمشی بنمیم لان کان ذا مال و بنین وہ چغل خوری اس لئے کرتا ہے کہ وہ صاحب مال اور صاحب اولاد ہے۔ ابو علی نے یہ بھی جائز قرار دیا کہ یہ عتل کے متعلق ہو اساطیر الاولین سے مراد ان کی باطل باتیں، جھٹوی آرزویں اور خرافات ہیں۔ یہ بحث پہلے گزر چکی ہے۔
Ayah 68:16

سَنَسِمُهٗ عَلَى الْخُرْطُوْمِ Open ayah 68:16 in the Quran reader

ہم عنقریب اس کی ناک پر داغ لگائیں گے

اس میں دو مسئلے ہیں : سنسمہ کا معنی و مفہوم مسئلہ نمبر 1۔ سنسمہ حضرت ابن عباس نے کہا : سنسمہ کا معنی ہے ہم تلوار کے ساتھ اسے نکیل ڈالیں گے (1) ، کہا : جس کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی غزوہ بدر کے دن تلوار کے ساتھ اس کی ناک پر زخم لگایا گیا، وہ مرنے تک اسی طرح رہا۔ قتادہ نے کہا، قیامت کے روز ہم اس کی ناک پر نشان لائیں گے جس کے ساتھ وہ پہچان لیا جائے گا یہ جملہ بولا جاتا ہے : وسبتہ و سماً و سمۃً جب اس میں سمہ اور کا ویہ کے ساتھ اثر چھوڑا، اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : یوم تبیض وجوہ و تسودہ وجوہ (آل عمران : 106) یہ ظاہر علامت ہے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ونحشر المجرمین یومئذزرقاً ۔ (طہ) یہ ایک اور ظاہر علامت ہے اس آیت نے تیسرا فائدہ اٹھایا، وہ ناک پر آگ سے نشان لگاتا ہے یہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی طرح ہے : یعرف المجرمون بسیمھم (الرحمٰن : 41) یہ کلبی اور دوسرے علماء کا قول ہے۔ ابوالعالیہ اور مجاہد نے کہا، سنسمہ علی الخرطوم۔ کا معنی ہے ہم اس کے ناک پر نشان لگائیں گے اور آخرت میں اس کے چہرے کو سیاہ کردیں گے تو وہ اپنے چہرے کی سیاہی کی وجہ سے پہچانا جائے گا۔ خرطوم سے مراد انسان کی ناک ہے، درندوں سے اس کے ہونٹ کی وجگہ ہے، قوم کے خراطیم سے مراد ان کے سردار ہیں۔ فراء نے کہا، اگر خرطوم کو سمہ کے ساتھ خاص کیا گیا ہو تو اس وقت یہ وجہ کے معین میں ہوگا کیونکہ کسی چیز کے بعض کے ساتھ اس کے کل کو تعبیر کیا جاتا ہے۔ طبری نے کہا، ہم اس کے امر کو واضح کریں گے یہاں تک لوگ اسے پہچان لیں گے وہ ان پر مخفی نہیں رہے گا جس طرح ناک پر نشان مخفی نہیں رہتا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : ہم اسے عارلاحق کریں گے یہاں تک کہ وہ اس کے لئے اس طرح ہوجائے گا جس طرح اس کی ناک پر نشان ہو۔ قتبی نے کہا، عرب اس آدمی کے بارے میں کہتے ہیں جس کو کوئی قبیح الزام دیا گیا ہو جو باقی رہنے والا ہے : قد وسم میسم سوء معنی اسے ایسی عار لاحق ہوگئی ہے جو اس سے جدا نہیں ہوگی، جس طرح نشان کا اثر نہیں مٹایا جاسکتا ہے۔ جریر نے کہا : لما وضعت علی الفرزدق میسمی ولعی العیث جدعت انف الاخطل (1) جب میں نے اپنی ہجو فرزدق اور بعیث (خداش بن بشیر) پر رکھی تو میں نے اخطل کی ناک کو کاٹ دیا۔ یہاں میسم سے مراد ہجو ہے۔ کہا، یہ سب آیات ولید بن مغیرہ کے بارے میں نازل ہوئیں ہم نہیں جانتے کہ اللہ تعالیٰ نے کسی کے اتنے عیوب کا ذکر کیا ہو جتنے عیوب اس کے ذکر کئے۔ اسے ایسی عار لاحق کی جو دنیا و آخرت میں اس سے جدانہ ہوئی جس طرح ناک پر نشان زخم جدا نہیں ہوتا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس سے مراد وہ آزمائش ہے جس سے اللہ تعالیٰ نے اسے دنیا میں اس کی ذات، مال اور اہل میں مبتلا کیا اسے ذلت و پستی میں رہنا پڑا (2) یہ ابن بحر نے کہا جس طرح اعشی نے کہا، واعلب انف من انت و اسم جس پر نشان لگانا چاتہا ہے اس کی ناک پر نشان لگا۔ نضر بن شمیل نے کہا، معنی ہے ہم شراب پینے پر اس پر حد جاری کریں گے خرطوم سے مراد شراب ہے اس کی جمع خراطیم آتی ہے۔ شاعر نے کہا : تظل یومک فی لھو و فی طرب وانت باللیل شراب الخراطیم تو دن کے وقت لہو اور نشاط میں رہتا ہے اور رات کے وقت شراب پیتا ہے۔ ایک اور نے کہا : ومن یشرب الخرطوم یصبح مسکرا جو شراب پیتا ہے، وہ نشہ کی حالت میں صبح کرتا ہے۔ چہرے پر نشان کے ساتھ مثال بیان کی وجہ مسئلہ نمبر 2۔ ابن عربی نے کہا، معصیت کا ارتکاب کرنے والے کے چہرے پر نشان لگانا لوگوں کے ہاں قدیمی معمول ہے (1) جس طرح پہلے گزر چکا ہے۔ یہ روایت کی گئی ہے : جب یہودیوں نے زانی کو رجم کرنے میں ڈھیل دی تو اس کے عوض انہوں نے مارنے اور چہرے کو سیاہ کرنے کی سزا دی۔ یہ بات الگ توجیہ ہے۔ چہرے پر نشان لگانے کے اعتبار سے صحیح توجیہ یہ ہے جو علماء نے رائے قائم کی کہ جھوٹی گواہی دینے والے کے چہرے کو سیاہ کیا جائے۔ یہ اس کی معصیت کی قباحت پر علامت کے طور پر ہے اور اس آدمی پر سخت کرنے کے لئے ہے جو جھوٹی گواہی کسی اور کے لئے دیتا ہے یہ ان لوگوں میں سے ہے جس کے بارے میں اس عمل سے اجتناب کرنے کی امید کی جاسکتی تھی۔ وہ حق بات کہہ کر معزز ہو سکتا تھا جبکہ وہ معصیت کا ارتکاب کر کے حقیر ہوگیا ہے سب سے بڑی اہانت چہرے کی اہانت ہے اسی طرح اس کا اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں اپنے آپ کو پست کرنا یہ دائمی بھلائی اور آگ پر حرمت کا سبب ہے اللہ تعالیٰ نے آگ پر حرام کیا ہے کہ وہ انسان کے سجدہ کے اثر کو کھئاے جس طرح حدیث صحیح میں ثابت ہے۔
Ayahs 68:17–19

اِنَّا بَلَوْنٰهُمْ كَمَا بَلَوْنَاۤ اَصْحٰبَ الْجَنَّةِ١ۚ اِذْ اَقْسَمُوْا لَیَصْرِمُنَّهَا مُصْبِحِیْنَۙ Open ayah 68:17 in the Quran reader

ہم نے ان لوگوں کی اس طرح آزمائش کی ہم جس طرح باغ والوں کی آزمائش کی تھی جب انہوں نے قمسیں کھا کھا کر کہا کہ صبح ہوتے ہوتے ہم اس کا میوہ توڑ لیں گے

وَ لَا یَسْتَثْنُوْنَ Open ayah 68:18 in the Quran reader

اور انشاء اللہ نہ کہا

فَطَافَ عَلَیْهَا طَآئِفٌ مِّنْ رَّبِّكَ وَ هُمْ نَآئِمُوْنَ Open ayah 68:19 in the Quran reader

سو وہ ابھی سو ہی رہے تھے کہ تمہارے پروردگار کی طرف سے (راتوں رات) اس پر ایک آفت پھر گئی

اس میں تین مسائل ہیں : باغ والوں کا ابتلا اور ان کا قصہ مسئلہ نمبر 1 انا بلونھم مراد اہل مکہ ہیں۔ ابتلاء سے مراد آزمانا ہے۔ اس کا معنی ہے ہم نے انہیں مال عطا کئے تاکہ وہ شکر بجا لائیں نہ کہ وہ تکبر کریں۔ جب انہوں نے تکبر کیا اور حضرت محمد ﷺ سے دشمن یک تو ہم نے بھوک اور قحط کے ساتھ آزمایا جس طرح مہ نے باغ والوں کو آزمایا تھا جن کی خبر ان کے ہاں معروف و مشہور تھی۔ وہ باغ یمن کے علاقہ میں صنعاء سے چند فرسخ دور تھا۔ ایک قول یہ کیا جاتا ہے : وہ دو فرسخ دور تھا وہ باغ ایک ایسے آدمی کا تھا جو اس میں سے اللہ تعالیٰ کا حق ادا کیا کرتا تھا جب وہ فوت ہوگیا تو باغ بیٹوں کی ملکیت میں آگیا انہوں نے لوگوں کو اس کے مال سے روک دیا اور اللہ تعالیٰ کا حق ادا کرنے میں بخل سے کام لیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس باغ کو ایسے طریقہ سے ہلاک کردیا جس کو دور کرنا ان کے لئے ممکن نہ تھا۔ کلبی نے کہا، ان کے اور صنعاء کے درمیان دو فرسخ کا فاصلہ تھا اللہ تعالیٰ نے انہیں آزمئاش میں ڈالا کہ ان کے باغ کو جلا دیا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ باغ ضوران میں تھا اور ضوران، صنعاء سے دو فرسخ کے مقام پر تھا۔ اس باغ والے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے آسمان کی طرف اٹھائے جانے سے تھوڑا عرصہ بعد ہوئے وہ سب بخیل تھے وہ مساکین سے بچنے کے لئے رات کے وقت کھجوروں سے پھل اتارتے تھے۔ انہوں نے فصل کاٹنے کا ارادہ کیا اور کہا : آج تم پر کوئی مسکین داخل نہ ہونے پائے وہ صبح صبح اس کی طرف گئے تو وہ باغ اپنی جڑوں سے اکھیڑا جا چکا تھا تو وہ رات کی طرح ہوچکا تھا۔ یہب یھ کہا جاتا ہے کہ دن کو بھی صریم کہتے ہیں۔ اگر رات مراد لی جائے تو اس جگہ کے سیاہ ہونے کی وجہ سے اسے صریم کیا گیا گویا انہوں نے اس کی جگہ کو سیاہ کیچڑ کوئلہ پایا اگر صریم سے مراد دن ہو تو اس کے درختوں اور کھیتیوں کے ختم ہونے اور زمین کے اندر سے صاف ہونے کی وجہ سے اسے صریم کہا گیا۔ طائف سے مراد حضرت جبریل امین ہیں انہوں نے اس باغ کو جڑ سے اکھاڑ دیا۔ یہ بھی کہا اجتا ہے : اس باغ کو بیت اللہ شریف کے گرد چکر لگایا اور پھر اسے وہاں رکھ دیا جہاں آج کل طائف شہر ہے۔ اسی وجہ سے اس شہر کو طائف کہتے ہیں۔ حجاز کے علاقہ میں کوئی ایسا شہر نہیں جہاں درخت، انگور اور پانی ہو۔ بکری نے معجم میں کہا : طائف کو یہ نام اس لئے دیا گیا کیونکہ صدف کا ایک آدمی جسے دمون کہا جاتا اس نے ایک دیوار بنائی اور کہا : میں نے تمہارے شہر کے اردگرد ایک طائف بنائی ہے اس وجہ سے اس شہر کا نام طائف پڑگیا۔ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔ کھیتی کاٹنے کا وقت اور اس وقت کیا کرنا چاہئے مسئلہ نمبر 2 بعض علماء نے کہا : جو آدمی اپنی کھیتی کاٹے یا پھل کاٹے تو جو آدمی وہاں حاضر ہو اس کے ساتھ غم گساری کرے۔ اللہ تعالیٰ کے فرمان : واتواحقہ یوم حصادہ (الانعام : 141) کا یہی مقصود ہے، یہ زکوۃ کے علاوہ ہے جس طرح سورة الانعام میں گزر چکا ہے۔ بعض نے کہا : کاٹنے والوں نے جسے چھوڑ دیا ہے مالک پر لازم ہے کہ اسے چھوڑ دے کیونکہ بعض لوگ اس سے اپنی روزی تلاش کرتے ہیں۔ روایت بیان کی گئی ہے کہ رات کے وقت فصل کاٹنے سے منع کیا گیا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : کیونکہ اس طریقہ سے مساکین کے ساتھ نرمی کرنے کا حکم ہے وہ منقطع ہوجاتا ع ہے جس نے یہ کہا اس نے سورة ن والقلم کی اس آیت کی یہ تاویل کی۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : رات کے وقت اس لئے کاٹنے سے منع کیا گیا ہے کیونکہ سانپوں اور دوسرے حشرارت الارض کا خوف ہوتا ہے۔ میں کہتا ہوں، پہلا قول زیادہ صحیح ہے۔ دوسرا احسن ہے۔ ہم نے کہا ہے، پہلا قومل زیادہ صحیح ہے کیونکہ سزا انہیں اسی لئے ملی جو انہوں نے مساکین کو محروم رکھنے کا ارادہ کیا تھا جس طرح اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا۔ اسباط نے سدی سے روایت کی ہے کہ ایک قوم یمن میں آاد تھی ان کا باپ ایک نیک آدمی تھا جب ان کے پھل پک جاتے تو مساکین اس کے پاس آجاتے وہ باغ میں داخل وہنے سے انہیں منع نہ کرتا، اس سے کھانے سے منع نہ کرتا اور زادراہ لینے سے منع نہ کرتا۔ جب وہ فوت ہوگیا تو اس کے بیٹوں نے ایک دوسرے سے کہا، ہم اپنے اموال مساکین کو کیوں دیں۔ آئو۔ ہم رات کے وقت اس میں داخل ہوں اور مساکین کو علم ہونے سے پہلے ہی کاٹ لیں۔ انہوں نے انشاء اللہ بھی نہ کہا۔ ایک دوسرے کو کہہ رہے تھے راز داری سے بات کرو آج تم پر کوئی مسکین داخل نہ ہو اسی وجہ سے فرمایا : اذاق سموا لیصرمنھا مصبحین۔ انہوں نے ……کہ مساکین کے گھروں سے نکلنے سے پہلے ہم صبح صبح اسے کاٹ لیں اور انہوں نے انشاء اللہ نے کہا۔ حضرت ابن عباس نے کہا : وہ باغ صنعاء سے دو فرسخ کے مقام پر تھا اسے ایک صالح آدمی نے لگایا تھا اس کے تین بیٹے تھے وہ تمام پھل مساکین کے لئے ہوتا جو درانتی یس رہ جاتا اور اگنور میں سے اس نے نہکاٹا ہوتا جب اسے چادر پر ڈالا جاتا تو جو پھل اس چادر سے گزر جاتا وہ بھی مساکین کے لئے ہوتا جب وہ اپنی کھیتی کاٹتے تو جو چیز دراتنی سے رہ جاتی وہ مساکین کے لئے ہوتی جب وہ اس فصل کو صاف کرتے تو جبو چیز ادھر ادھر بکھر جاتی وہ بھی مساکین کے لئے ہوتی ان کا باپ اس میں سے صدقہ کرتا ان کے باپ کی زندگی میں یتامی، بیوائیں اور مساکین اس سے وقت گزارتے جب ان کا باپ فوت ہوگیا تو بیٹوں نے وہ کچھ لیا جو اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں ذکر کیا۔ انہوں نے کہا، مال کم ہوگیا ہے اور اہل و عیال زیادہ ہوگئے ہیں، انہوں نے باہم قسم اٹھائی کہ لوگوں کے نکلنے سے پہلے وہ باغ کی طرف جائیں گے پھر اسے کاٹیں گے اور مساکین کو پتہ بھی نہ چلے گا۔ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان : اذا قسموا لیصرمنھا کا یہی معنی ہے انہوں نے قسم اٹھائی کہ وہ اپنی کھجوروں کا پھل اس وقت کاٹیں گے جب ابھی رات کی کچھ تاریکی ہوگی تاکہ مساکین بیدار نہ ہو ہوں۔ صرمہ کا معنی کاٹنا ہے یہ جملہ بولا جاتا ہے : صرم العذق من النخل اس نے کھجور کا خوشہ کاٹا۔ اصرم النخل کھجور کے کاٹنے کا وقت آگیا جس طرح ارکب المھر اور احصد الزرع یعنی بچھیرے پر سواری کرنے کا وقت آگیا اور کھیتی کے کاٹنے کا وقت آگیا۔ ولایستثنون۔ انہوں نے انشاء اللہ نے کہا، فتنادوا مصبحین وہ ایک دوسرے کو ندا کرتے ہیں : ان اغدوا علی حرشکم ان کنتم صرمین۔ کھیتی کو کاٹنے کا عزم رکھتے ہو۔ قتادہ نے کہا : اگر تم کھیتی کاٹنے والے ہو۔ کلبی نے کہا : ان کے باغ میں جو کھیتی اور کھجوریں ہیں انہیں کاٹنے والے ہو۔ مجاہد نے کہا، ان کی کھیتی انگور کی تھی۔ انہوں نے انشاء اللہ نے کہا (1) ابو صالح نے کہا، ان کی استثناء ان کا یہ قول تھا، سبحان اللہ ربنا ایک قول یہ کیا گیا ہے : لایستثنوکن کا معنی ہے وہ مساکین تا حق نہیں نکالتے، یہ علماء کا قول ہے وہ اپنے باغ میں رات کے وقت آئے انہوں نے باغ کو سیاہ پایا تیرے رب کی جانب سے ان پر ایک مصیبت آئی جبکہ وہ سوئے ہوئے تھے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے، طائف سے مراد حضرت جبریل امین ہیں جس کا ذکر پہلے گزر چکا ہے۔ حرت ابن عباس نے کہا : اس سے مراد ہے تیرے رب کی جانب سے امر (2) قتادہ نے کہا، تیرے رب کی جانب سے عذاب۔ ابن جریج نے کہا، آگ کی گردن جو جہنم کی وادی سے نکلی تھی۔ طائف اس مصیبت کو کہتے ہیں جو رات کے وقت آئے، یہ فراء کا قول ہے (3) مسئلہ نمبر 3۔ میں کہتا ہوں : اس آیت میں ایسی دلیل ہے کہ عزم پر بھی انسان کا مواخذہ ہوگا کیونکہ انہوں نے عزم کیا تھا کہ وہ ایسا کریں گے تو ان کے فعل سے پعلے انہیں سزا دی گئی۔ اس آیت کی مثل اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ومن یردفیہ بالحاد بظلم نذقہ من عذاب الیم۔ (الحج) صحیح میں نبی کریم ﷺ سے مروی ہے :” جو دو مسلمان پانی تلواروں کے ساتھ باہم مقابلہ کرتے ہیں تو قاتل اور مقتول دونوں آگ میں ہونگے “ (1) عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! ﷺ یہ تو قاتل ہے تو مقتول کس وجہ سے ؟ فرمایا :” وہ اپنے ساتھی کے قتل کا حریص تھا۔ “ سورة آل عمران آیت 135 میں ولم یصروا علی ما فعلوا کے ضمن میں بحث گزر چکی ہے۔
Ayahs 68:20–22

فَاَصْبَحَتْ كَالصَّرِیْمِۙ Open ayah 68:20 in the Quran reader

تو وہ ایسا ہوگیا جسے کٹی ہوئی کھیتی

فَتَنَادَوْا مُصْبِحِیْنَۙ Open ayah 68:21 in the Quran reader

جب صبح ہوئی تو وہ لوگ ایک دوسرے کو پکارنے لگے

اَنِ اغْدُوْا عَلٰى حَرْثِكُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰرِمِیْنَ Open ayah 68:22 in the Quran reader

کہ اگر تم کو کاٹنا ہے تو اپنی کھیتی پر سویرے ہی جا پہنچو

فاصبحت کالصریم۔ وہ ہوگیا تاریک رات کی طرح (2) حضرت ابن عباس فراء اور دوسرے علماء نے کہا : یعنی وہ باغ جل گیا اور سیاہ رات کی طرح ہوگیا۔ حضرت ابن عباس سے مروی ہے : سیاہ رات کی طرح ہوگیا (3) کہا، حزیمہ کی لغت میں وہ سیاہ راکھ کی طرح ہوگیا۔ ثوری نے کہا، کٹی ہوئی کھیتی کی طرح ہوگیا۔ صریم، مصروم کے معنی میں ہے اس میں جو کچھ تھا اس کو کاٹ دیا گیا۔ حضرت حسن بصری نے کہا : بھلائی اس سے ختم کردی گئی۔ صریم، اسم مفعول کا وزن ہے۔ مورج نے کہا، ایسی ریت جو زیادہ ریت سے الگ ہوگئی۔ یہ کہا اجتا ہے، صریمۃ صرائم ریت کوئی ایسی چیز نہیں اگاتی جس سے نفع حاصل کیا جاسکتا ہو۔ اخفش نے کہا : وہ صبح کی طرح ہوگیا جو رات سے کٹ چکی ہو۔ مبرد نے کہا، وہ دن کی طرح ہوگیا، پس اس میں کوئی چیز باقی نہ بچی۔ شمر نے کہا، صریم سے مراد رات ہے، صریم سے مراد دن ہے، یعنی رات دن سے کٹتی ہے اور دن رات سے کٹتا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : رات کو صریمہ کا نام دیا گیا ہے کیونکہ یہ اپنی تاریکی کی وجہ سے تصرف سے روک دیتی ہے، اسی وجہ سے فعیل فاعل کے معنی میں ہے۔ قشیری نے کہا، اس میں اعتراض کی گنجائش ہے کیونکہ دن کو بھی صریم کہتے ہیں جبکہ وہ انسان کو تصرف سے نہیں روکتا۔