68. Surah Al-Qalam

القلمThe Pen · 52 ayahsآسان قرآن

تعارف

تعارف

یہاں سے قرآن کریم کے آخر تک زیادہ تر مکی سورتیں ہیں۔ تقریباً ان سب سورتوں کا مرکزی موضوع اسلام کے بنیادی عقائد توحید، رسالت اور آخرت کا اثبات، جنت و دوزخ کے حالات اور اسلام کی تبلیغ کے لیے حضور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ہدایات اور تسلی دینا ہے۔ چونکہ یہ پچھلی سورتوں کے مقابلے میں مختصر سورتیں ہیں، اس لیے ان سب کے الگ الگ تعارف کی ضرورت نہیں ہے۔ البتہ جس سورت میں ضرورت محسوس ہوگی، انشاء اللہ وہاں تعارف عرض کردیا جائے گا۔

Ayahs 68:1–8

نٓ وَ الْقَلَمِ وَ مَا یَسْطُرُوْنَۙ Open ayah 68:1 in the Quran reader

ن (1) (اے پیغمبر) قسم ہے قلم کی، اور اس چیز کی جو وہ لکھ رہے ہیں۔ (2)

مَاۤ اَنْتَ بِنِعْمَةِ رَبِّكَ بِمَجْنُوْنٍۚ Open ayah 68:2 in the Quran reader

اپنے پروردگار کے فضل سے تم دیوانے نہیں ہو۔

وَ اِنَّ لَكَ لَاَجْرًا غَیْرَ مَمْنُوْنٍۚ Open ayah 68:3 in the Quran reader

اور یقین جانو تمہارے لیے ایسا اجر ہے جو کبھی ختم نہیں ہوگا۔

وَ اِنَّكَ لَعَلٰى خُلُقٍ عَظِیْمٍ Open ayah 68:4 in the Quran reader

اور یقینا تم اخلاق کے اعلی درجے پر ہو۔

فَسَتُبْصِرُ وَ یُبْصِرُوْنَۙ Open ayah 68:5 in the Quran reader

چنانچہ تم بھی دیکھ لو گے اور یہ لوگ بھی دیکھ لیں گے۔

بِاَىیِّكُمُ الْمَفْتُوْنُ Open ayah 68:6 in the Quran reader

کہ تم میں سے کون دیوانگی میں مبتلا ہے۔

اِنَّ رَبَّكَ هُوَ اَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ عَنْ سَبِیْلِهٖ١۪ وَ هُوَ اَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِیْنَ Open ayah 68:7 in the Quran reader

یقینا تمہارا پروردگار اسے بھی خوب جانتا ہے جو اپنے راستے سے بھٹک گیا ہے اور ان لوگوں کو بھی خوب جانتا ہے جنہوں نے سیدھی راہ پالی ہے۔

فَلَا تُطِعِ الْمُكَذِّبِیْنَ Open ayah 68:8 in the Quran reader

لہذا تم ان کی باتوں میں نہ آنا جو (تمہیں) جھٹلا رہے ہیں۔

1: یہاں حرف نون انہی حروف مقطعات میں سے ہے جو مختلف قرآنی سورتوں کے شروع میں آئے ہیں، اور جن کے بارے میں سورة بقرہ کے شروع میں عرض کیا جا چکا ہے کہ ان کے ٹھیک ٹھیک معنی اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو بھی معلوم نہیں ہیں۔ 2: مکہ مکرمہ کے کافر لوگ آنحضرت ﷺ کو (معاذ اللہ) دیوانہ کہا کرتے تھے۔ اگلی آیت میں ان کی تردید فرمائی گئی ہے، اور اس سے پہلے اس آیت میں اس تردید پر یہ قسم کھائی گئی ہے۔ اس کی تفسیر میں بہت سے مفسرین نے فرمایا ہے کہ قلم سے مراد تقدیر کا قلم ہے اور ”وہ“ سے مراد فرشتے ہیں۔ یعنی قسم ہے تقدیر کے قلم کی، اور تقدیر کے ان فیصلوں کی جو فرشتے لکھتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ دیوانے نہیں ہیں۔ یعنی آنحضرت ﷺ کا پیغمبر ہونا اور مکہ مکرمہ میں مبعوث ہونا تقدیر میں پہلے سے لکھا جا چکا تھا، اس لیے آپ اگر اللہ تعالیٰ کا پیغام دنیا والوں تک پہنچا رہے ہیں تو اس میں نہ کوئی غیر معقول بات ہے، اور نہ اس پر کسی کو حیرت ہونی چاہیے۔ دوسرے بعض مفسرین نے فرمایا ہے کہ قلم سے مراد عام قلم ہے، اور جو کچھ وہ لکھ رہے ہیں سے مراد عام لوگوں کا لکھنا ہے۔ اس صورت میں مطلب یہ ہوسکتا ہے کہ قلم سے لکھنا جاننے والے بھی وہ اعلیٰ مضامین لکھنے سے عاجز ہیں جو آنحضرت ﷺ قرآن کریم کے ذریعے لوگوں تک پہنچا رہے ہیں، حالانکہ آپ امی ہیں، اور لکھنا پڑھنا نہیں جانتے۔ ایک امی کی زبان مبارک پر ایسا اونچے درجے کا کلام جاری ہونا اس بات کی کھلی دلیل ہے کہ آپ کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی آرہی ہے۔ ایسی صورت میں آپ کو دیوانگی کا طعنہ دینا خود دیوانگی ہے۔
Ayah 68:9

وَدُّوْا لَوْ تُدْهِنُ فَیُدْهِنُوْنَ Open ayah 68:9 in the Quran reader

یہ چاہتے ہیں کہ تم ڈھیلے پڑجاؤ تو یہ بھی ڈھیلے پڑجائیں۔ (3)

3: کافروں کی طرف سے کئی بار اس قسم کی تجویزیں پیش کی گئی تھیں کہ اگر آنحضرت ﷺ اپنے فرائض تبلیغ کی ادائیگی میں کچھ نرمی کا مظاہرہ فرمائیں اور ہمارے بتوں کو باطل نہ کہیں تو ہم بھی آپ کو ستانا چھوڑ دیں گے۔ یہ ان کی اس تجویز کی طرف اشارہ ہے۔
Ayahs 68:10–13

وَ لَا تُطِعْ كُلَّ حَلَّافٍ مَّهِیْنٍۙ Open ayah 68:10 in the Quran reader

اور کسی بھی ایسے شخص کی باتوں میں نہ آنا جو بہت قسمیں کھانے والا، بےوقعت شخص ہے۔ (4)

هَمَّازٍ مَّشَّآءٍۭ بِنَمِیْمٍۙ Open ayah 68:11 in the Quran reader

طعنے دینے کا عادی ہے، چغلیاں لگاتا پھرتا ہے۔

مَّنَّاعٍ لِّلْخَیْرِ مُعْتَدٍ اَثِیْمٍۙ Open ayah 68:12 in the Quran reader

بھلائی سے روکنے والا، زیادتی کرنے والا، بد عمل ہے۔

عُتُلٍّۭ بَعْدَ ذٰلِكَ زَنِیْمٍۙ Open ayah 68:13 in the Quran reader

بد مزاج ہے اور اس کے علاوہ نچلے نسب والا بھی۔

4: جو کافر لوگ آنحضرت ﷺ کی مخالفت میں پیش پیش تھے، اور آپ کو اپنے دین کی تبلیغ سے ہٹانا چاہتے تھے، ان میں سے کئی لوگ ایسے تھے جن میں وہ اخلاقی خرابیاں پائی جاتی تھیں جن کا تذکرہ آیات 10 تا 12 میں فرمایا گیا ہے۔ بعض مفسرین نے ایسے افراد کا نام بھی لیا ہے کہ وہ اخنس بن شریق، اسود بن عبد یغوث یا ولید بن مغیرہ تھے۔
Ayahs 68:14–15

اَنْ كَانَ ذَا مَالٍ وَّ بَنِیْنَؕ Open ayah 68:14 in the Quran reader

صرف اس وجہ سے کہ وہ بڑے مال اور اولاد والا ہے۔ (5)

اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِ اٰیٰتُنَا قَالَ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 68:15 in the Quran reader

جب اس کے سامنے ہماری آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو وہ کہتا ہے کہ یہ پچھلے لوگوں کی کہانیاں ہیں۔

5: یعنی صرف مال دار اور بڑے خاندان والا ہونے کی وجہ سے ایسے آدمی کی باتوں میں نہیں آنا چاہیے۔
Ayah 68:16

سَنَسِمُهٗ عَلَى الْخُرْطُوْمِ Open ayah 68:16 in the Quran reader

عنقریب ہم اس کی سونڈ پر داغ لگا دیں گے۔ (6)

6: سونڈ سے مراد ناک ہے جسے اہانت کے طور پر سونڈ سے تعبیر کیا گیا ہے، اور مطلب یہ ہے کہ قیامت کے دن ایسے شخص کی ناک کو داغ کر اس پر ایک بدنما نشان لگا دیا جائے گا جس سے اس کی مزید رسوائی ہوگی۔
Ayah 68:17

اِنَّا بَلَوْنٰهُمْ كَمَا بَلَوْنَاۤ اَصْحٰبَ الْجَنَّةِ١ۚ اِذْ اَقْسَمُوْا لَیَصْرِمُنَّهَا مُصْبِحِیْنَۙ Open ayah 68:17 in the Quran reader

ہم نے ان (مکہ والوں) کو اسی طرح آزمائش میں ڈالا ہے جیسے (ایک) باغ والوں کو اس وقت آزمائش میں ڈالا تھا جب انہوں نے قسم کھائی تھی کہ صبح ہوتے ہی ہم اس باغ کا پھل توڑ لیں گے۔ (7)

7: مکہ مکرمہ کے بعض مال دار کافروں کو یہ زعم تھا کہ اگر اللہ تعالیٰ ہم سے ناراض ہوتا تو ہمیں مال و دولت سے نہ نوازتا، جیسا کہ سورة مومنون : 56 میں اللہ تعالیٰ نے ان کے اس خیال کا ذکر فرمایا ہے۔ یہاں اللہ تعالیٰ یہ فرما رہے ہیں کہ ہم بعض اوقات کسی کو مال و دولت اس آزمانے کے لیے دیتے ہیں، اور اگر وہ اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے کے بجائے ناشکری کرے تو اس پر دنیا ہی میں عذاب آجاتا ہے۔ چنانچہ ان آیات میں اسی طرح کا ایک واقعہ بیان فرمایا گیا ہے جو اہل عرب میں مشہور تھا۔ واقعہ یہ ہے کہ ایک نیک شخص کا بہت بڑا باغ تھا۔ اس نیک آدمی کا معمول یہ تھا کہ وہ اپنے باغ اور کھیت کی پیداوار کا ایک اچھا خاصہ حصہ غریبوں کو دیا کرتا تھا۔ جب اس کا انتقال ہوا تو اس کے بیٹوں نے یہ طے کیا کہ ہمارا باپ بیوقوف تھا جو اتنی ساری پیداوار غریبوں کو دے کر اپنی دولت میں کمی کردیتا تھا۔ اب جو ہم باغ کی کٹائی کریں گے تو ایسا انتظام کریں گے کہ کوئی غریب آدمی وہاں آنے ہی نہ پائے۔ اس کے نتیجے میں جب وہ کٹائی کے لیے پہنچے تو اللہ تعالیٰ نے ان کے باغ پر ایک ایسی آفت بھیج دی کہ سارا باغ تباہ ہو کر رہ گیا۔ اکثر روایتوں کے مطابق یہ واقعہ یمن کے شہر صنعاء سے کچھ فاصلے پر ضروان نامی ایک علاقے میں پیش آیا تھا۔ یہ علاقہ اب بھی ضروان کہلاتا ہے، اور میں نے دیکھا ہے۔ وہاں چاروں طرف پھیلے ہوئے سبزے کے درمیان ایک کالے کالے پتھروں والا ویران علاقہ ہے جس کے بارے میں مشہور ہے کہ یہی اس باغ کی جگہ تھی جو بعد میں آباد نہیں ہوسکی۔ واللہ اعلم۔
Ayahs 68:18–24

وَ لَا یَسْتَثْنُوْنَ Open ayah 68:18 in the Quran reader

اور یہ (کہتے ہوئے) وہ کوئی استثناء نہیں کر رہے تھے۔ (8)

فَطَافَ عَلَیْهَا طَآئِفٌ مِّنْ رَّبِّكَ وَ هُمْ نَآئِمُوْنَ Open ayah 68:19 in the Quran reader

پھر ہوا یہ کہ جس وقت وہ سو رہے تھے، اس وقت تمہارے پروردگار کی طرف سے ایک بلا اس باغ پر پھیرا لگا گئی۔

فَاَصْبَحَتْ كَالصَّرِیْمِۙ Open ayah 68:20 in the Quran reader

جس سے وہ باغ صبح کو کٹی ہوئی کھیتی کی طرح ہوگیا۔

فَتَنَادَوْا مُصْبِحِیْنَۙ Open ayah 68:21 in the Quran reader

پھر صبح ہوتے ہی انہوں نے ایک دوسرے کو آواز دی۔

اَنِ اغْدُوْا عَلٰى حَرْثِكُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰرِمِیْنَ Open ayah 68:22 in the Quran reader

کہ اگر پھل توڑنے ہیں تو اپنے کھیت کی طرف سویرے چل نکلو۔

فَانْطَلَقُوْا وَ هُمْ یَتَخَافَتُوْنَۙ Open ayah 68:23 in the Quran reader

چنانچہ وہ ایک دوسرے سے چپکے چپکے یہ کہتے ہوئے روانہ ہوئے۔

اَنْ لَّا یَدْخُلَنَّهَا الْیَوْمَ عَلَیْكُمْ مِّسْكِیْنٌۙ Open ayah 68:24 in the Quran reader

کہ آج کوئی مسکین تمہارے پاس اس باغ میں نہ آنے پائے۔

8: اس کا ایک مطلب تو یہ ہوسکتا ہے کہ انہوں نے یہ ارادہ کیا تھا کہ سارے کا سارا پھل ہم توڑ لیں گے، اور اس کے کسی حصے کا استثناء نہیں کریں گے، یعنی کوئی حصہ غریبوں کے لیے نہیں چھوڑیں گے۔ دوسرے استثناء کرنے کا ایک مطلب ”ان شاء اللہ“ کہنا بھی ہوتا ہے۔ اس صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ جب وہ یہ کہہ رہے تھے کہ ہم صبح ہوتے ہی پھل توڑ لیں گے تو اس وقت انہوں نے ”ان شاء اللہ“ نہیں کہا تھا
Ayah 68:25

وَّ غَدَوْا عَلٰى حَرْدٍ قٰدِرِیْنَ Open ayah 68:25 in the Quran reader

اور وہ بڑے زوروں میں تیز تیز چلتے ہوئے نکلے۔ (9)

9: اس کا ایک ترجمہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ”وہ یہ سوچ کر سویرے روانہ ہوئے کہ وہ غریبوں کو منع کرنے پر قادر ہوجائیں گے“
Ayahs 68:26–27

فَلَمَّا رَاَوْهَا قَالُوْۤا اِنَّا لَضَآلُّوْنَۙ Open ayah 68:26 in the Quran reader

پھر جب اس باغ کو دیکھا تو کہنے لگے کہ : ہم ضرور راستہ بھٹک گئے ہیں۔ (10)

بَلْ نَحْنُ مَحْرُوْمُوْنَ Open ayah 68:27 in the Quran reader

(پھر کچھ دیر بعد کے بعد کہا کہ) نہیں بلکہ ہم سب لٹ گئے ہیں۔

10: یعنی جب انہوں نے اپنے باغ کے پاس پہنچ کر دیکھا کہ وہاں درختوں کا نام و نشان ہی نہیں ہے تو شروع میں یہ سمجھے کہ وہ راستہ بھٹک کر کہیں اور پہنچ گئے ہیں۔
Ayahs 68:28–31

قَالَ اَوْسَطُهُمْ اَلَمْ اَقُلْ لَّكُمْ لَوْ لَا تُسَبِّحُوْنَ Open ayah 68:28 in the Quran reader

ان میں جو شخص سب سے اچھا تھا، وہ کہنے لگا : کیا میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ تم تسبیح کیوں نہیں کرتے ؟ (11)

قَالُوْا سُبْحٰنَ رَبِّنَاۤ اِنَّا كُنَّا ظٰلِمِیْنَ Open ayah 68:29 in the Quran reader

کہنے لگے : ہم اپنے پروردگار کی تسبیح کرتے ہیں، یقینا ہم ظالم تھے۔

فَاَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلٰى بَعْضٍ یَّتَلَاوَمُوْنَ Open ayah 68:30 in the Quran reader

پھر ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر ایک دوسرے کو ملامت کرنے لگے۔

قَالُوْا یٰوَیْلَنَاۤ اِنَّا كُنَّا طٰغِیْنَ Open ayah 68:31 in the Quran reader

(پھر) سب نے (متفق ہوکر) کہا کہ : افسوس ہے ہم سب پر ! یقینا ہم سب نے سرکشی اختیار کرلی تھی۔

11: ان بھائیوں میں ایک دوسروں کی بہ نسبت اچھا تھا، اس نے پہلے بھی بھائیوں سے کہا تھا کہ اللہ کا ذکر کرو، اور غریبوں کو منع نہ کرو، لیکن بعد میں وہ بھی دوسرے بھائیوں کے ساتھ شامل ہوگیا تھا۔
Ayahs 68:32–37

عَسٰى رَبُّنَاۤ اَنْ یُّبْدِلَنَا خَیْرًا مِّنْهَاۤ اِنَّاۤ اِلٰى رَبِّنَا رٰغِبُوْنَ Open ayah 68:32 in the Quran reader

کیا بعید ہے کہ ہمارا پروردگار ہمیں اس باغ کے بدلے اس سے اچھا عطا فرمادے۔ بیشک ہم اپنے پروردگار کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ (12)

كَذٰلِكَ الْعَذَابُ١ؕ وَ لَعَذَابُ الْاٰخِرَةِ اَكْبَرُ١ۘ لَوْ كَانُوْا یَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 68:33 in the Quran reader

عذاب ایسا ہی ہوتا ہے اور آخرت کا عذاب یقینا سب سے بڑا ہے۔ کاش یہ لوگ جانتے۔

اِنَّ لِلْمُتَّقِیْنَ عِنْدَ رَبِّهِمْ جَنّٰتِ النَّعِیْمِ Open ayah 68:34 in the Quran reader

البتہ متقیوں کے لیے ان کے پروردگار کے پاس نعمتوں بھرے باغات ہیں۔

اَفَنَجْعَلُ الْمُسْلِمِیْنَ كَالْمُجْرِمِیْنَؕ Open ayah 68:35 in the Quran reader

بھلا کیا ہم فرمانبرداروں کو مجرموں کے برابر کردیں گے ؟

مَا لَكُمْ١ٙ كَیْفَ تَحْكُمُوْنَۚ Open ayah 68:36 in the Quran reader

تمہیں کیا ہوگیا ہے ؟ تم کیسی باتیں طے کرلیتے ہو ؟

اَمْ لَكُمْ كِتٰبٌ فِیْهِ تَدْرُسُوْنَۙ Open ayah 68:37 in the Quran reader

کیا تمہارے پاس کوئی کتاب ہے جس میں تم یہ پڑھتے ہو۔

12: اس آیت سے بطاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس واقعے کے بعد انہوں نے توبہ کرلی تھی۔