68. Surah Al-Qalam

القلمThe Pen · 52 ayahsآسان قرآن

Ayahs 68:38–41

اِنَّ لَكُمْ فِیْهِ لَمَا تَخَیَّرُوْنَۚ Open ayah 68:38 in the Quran reader

کہ تمہیں وہاں وہی کچھ ملے گا جو تم پسند کرو گے ؟ (13)

اَمْ لَكُمْ اَیْمَانٌ عَلَیْنَا بَالِغَةٌ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ١ۙ اِنَّ لَكُمْ لَمَا تَحْكُمُوْنَۚ Open ayah 68:39 in the Quran reader

یا تم نے ہم سے قیامت کے دن تک باقی رہنے والی قسمیں لے رکھی ہیں کہ تمہیں وہی کچھ ملے گا جو تم طے کرو گے ؟

سَلْهُمْ اَیُّهُمْ بِذٰلِكَ زَعِیْمٌۚۛ Open ayah 68:40 in the Quran reader

(اے پیغمبر) ان سے پوچھو کہ : ان میں سے کون ہے جس نے اس بات کی ضمانت لے رکھی ہو ؟

اَمْ لَهُمْ شُرَكَآءُ١ۛۚ فَلْیَاْتُوْا بِشُرَكَآئِهِمْ اِنْ كَانُوْا صٰدِقِیْنَ Open ayah 68:41 in the Quran reader

کیا خدائی میں ان کے مانے ہوئے کچھ شریک ہیں (جو یہ ضمانت لیتے ہوں ؟) تو پھر لے آئیں اپنے ان شریکوں کو، اگر وہ سچے ہیں۔

13: بعض کافر یہ کہتے تھے کہ اگر بالفرض ہمیں اللہ تعالیٰ نے مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کیا تب بھی وہ ہمیں وہاں جنت کی نعمتیں دے گا، جیسا کہ سورة حم السجدہ : 50 میں گذرا ہے۔ یہ آیتیں اس بےبنیاد خیال کی تردید فرما رہی ہیں۔
Ayahs 68:42–47

یَوْمَ یُكْشَفُ عَنْ سَاقٍ وَّ یُدْعَوْنَ اِلَى السُّجُوْدِ فَلَا یَسْتَطِیْعُوْنَۙ Open ayah 68:42 in the Quran reader

جس دن ساق کھول دی جائے گی، اور ان کو سجدے کے لیے بلایا جائے گا تو یہ سجدہ کر نہیں سکیں گے۔ (14)

خَاشِعَةً اَبْصَارُهُمْ تَرْهَقُهُمْ ذِلَّةٌ١ؕ وَ قَدْ كَانُوْا یُدْعَوْنَ اِلَى السُّجُوْدِ وَ هُمْ سٰلِمُوْنَ Open ayah 68:43 in the Quran reader

ان کی نگاہیں جھکی ہوئی ہوں گی، ان پر ذلت چھائی ہوئی ہوگی۔ اس وقت بھی انہیں سجدے کے لیے بلایا جاتا تھا جب یہ لوگ صحیح سالم تھے (اس وقت قدرت کے باوجود یہ انکار کرتے تھے)

فَذَرْنِیْ وَ مَنْ یُّكَذِّبُ بِهٰذَا الْحَدِیْثِ١ؕ سَنَسْتَدْرِجُهُمْ مِّنْ حَیْثُ لَا یَعْلَمُوْنَۙ Open ayah 68:44 in the Quran reader

لہذا (اے پیغمبر) جو لوگ اس کلام کو جھٹلا رہے ہیں انہیں مجھ پر چھوڑ دو۔ ہم انہیں اس طرح دھیرے دھیرے (تباہی کی طرف) لے جائیں گے کہ انہیں پتہ بھی نہیں چلے گا۔

وَ اُمْلِیْ لَهُمْ١ؕ اِنَّ كَیْدِیْ مَتِیْنٌ Open ayah 68:45 in the Quran reader

اور میں انہیں ڈھیل دے رہا ہوں۔ یقین رکھو میری تدبیر بڑی مضبوط ہے۔

اَمْ تَسْئَلُهُمْ اَجْرًا فَهُمْ مِّنْ مَّغْرَمٍ مُّثْقَلُوْنَۚ Open ayah 68:46 in the Quran reader

کیا تم ان سے کوئی اجرت مانگ رہے ہو کہ وہ تاوان کے بوجھ سے دبے جارہے ہیں ؟

اَمْ عِنْدَهُمُ الْغَیْبُ فَهُمْ یَكْتُبُوْنَ Open ayah 68:47 in the Quran reader

یا ان کے پاس غیب کا علم ہے جسے وہ لکھ رہے ہوں ؟

14: ساق پنڈلی کو کہتے ہیں۔ اس آیت کی تفسیر میں بعض حضرات نے تو یہ فرمایا ہے کہ پنڈلی کا کھل جانا عربی میں ایک محاورہ ہے جو بہت سخت مصیبت پیش آجانے کے لیے بولا جاتا ہے، لہذا مطلب یہ ہے کہ جب قیامت کی سخت مصیبت پیش آجائے گی تو ان کافروں کا یہ حال ہوگا۔ اور بہت سے مفسرین نے اس کا مطلب یہ بتایا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی پنڈلی کھول دیں گے۔ اللہ تعالیٰ کی پنڈلی انسانوں کی پنڈلی کی طرح نہیں ہے، بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کی ایک خاص صفت ہے جس کی حقیقت اللہ تعالیٰ ہی کو معلوم ہے۔ بہر حال ! مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی وہ صفت ظاہر فرمائیں گے، اور لوگوں کو سجدے کے لیے بلایا جائے گا، مگر یہ کافر لوگ اس وقت سجدے پر قادر نہیں ہوں گے، کیونکہ جب ان کو قدرت تھی، اس وقت انہوں نے سجدہ کرنے سے انکار کیا تھا۔ اس تفسیر کی تائید ایک صحیح حدیث سے بھی ہوتی ہے۔
Ayah 68:48

فَاصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ وَ لَا تَكُنْ كَصَاحِبِ الْحُوْتِ١ۘ اِذْ نَادٰى وَ هُوَ مَكْظُوْمٌؕ Open ayah 68:48 in the Quran reader

غرض تم اپنے پروردگار کا حکم آنے تک صبر کیے جاؤ، اور مچھلی والے کی طرح مت ہوجانا۔ (15) جب انہوں نے غم سے گھٹ گھٹ کر (ہمیں) پکارا تھا۔

15: اس سے مراد حضرت یونس ؑ ہیں جن کا واقعہ سورة یونس : 98 اور سورة انبیاء : 87 اور سورة صافات : 140 میں گذر چکا ہے۔
Ayahs 68:49–52

لَوْ لَاۤ اَنْ تَدٰرَكَهٗ نِعْمَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ لَنُبِذَ بِالْعَرَآءِ وَ هُوَ مَذْمُوْمٌ Open ayah 68:49 in the Quran reader

اگر ان کے پروردگار کے فضل نے انہیں سنبھال نہ لیا ہوتا تو انہیں بری حالت کے ساتھ اسی کھلے میدان میں پھینک دیا جاتا۔ (16)

فَاجْتَبٰىهُ رَبُّهٗ فَجَعَلَهٗ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 68:50 in the Quran reader

پھر ان کے پروردگار نے انہیں منتخب فرما لیا، اور انہیں صالحین میں شامل کردیا۔

وَ اِنْ یَّكَادُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَیُزْلِقُوْنَكَ بِاَبْصَارِهِمْ لَمَّا سَمِعُوا الذِّكْرَ وَ یَقُوْلُوْنَ اِنَّهٗ لَمَجْنُوْنٌۘ Open ayah 68:51 in the Quran reader

جن لوگوں نے کفر اپنا لیا ہے جب وہ نصیحت کی یہ بات سنتے ہیں تو ایسا لگتا ہے کہ یہ اپنی (تیز تیز) آنکھوں سے تمہیں ڈگمگا دیں گے، اور وہ کہتے ہیں کہ یہ شخص تو دیوانہ ہے۔

وَ مَا هُوَ اِلَّا ذِكْرٌ لِّلْعٰلَمِیْنَ۠ Open ayah 68:52 in the Quran reader

حالانکہ یہ تو دنیا جہان کے لوگوں کے لیے ایک نصیحت ہی نصیحت ہے۔

16: اس سے مراد وہ میدان ہے جہاں مچھلی حضرت یونس ؑ کو اگل کر چلی گئی تھی۔ مطلب یہ ہے کہ مچھلی کے پیٹ سے نکلنے کے باوجود وہ اتنے کمزور ہوچکے تھے کہ ان کا زندہ رہنا بہت مشکل تھا۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے انہیں سنبھالا، اور وہ دوبارہ تندرست ہوگئے۔