68. Surah Al-Qalam

القلمThe Pen · 52 ayahsبصیرتِ قرآن

تعارف

تعارف

تعارف سورة القلم سورة 68 کل رکوع 2 آیات 52 الفاظ و کلمات 306 حروف 1295 مقام نزول مکہ مکرمہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ جو لوگ تقویٰ اور پرہیز گاری اختیار کرتے ہیں ان کے لئے ان کے رب کے پاس نعمتوں سے بھرپور جنتیں ہیں۔ اور کفار کے لئے نار جہنم۔ فرمایا کہ ان کفار نے کیا سمجھ رکھا ہے کہ اللہ اپنے فرمانبردار بندوں کو اور مجرموں کو ایک جیسا درجہ اور مقامدیں گے اور ان کے ساتھ یکساں سلوک کریں گے۔ ہرگز نہیں بلکہ اللہ فرماں برداروں کو آخرت کی نعمتیں عطا فرمائیں گے اور کفار و مشرکین کے لئے جہنم کی ابدی تکلیفیں ہوں گی۔ فرمایا کہ قیامت کے دن جب سارے حجابات اٹھادیئے جائیں گے اور لوگون کو سجدہ کی طرف بلایا جائے گا تو اہل ایمان اللہ کے سامنے سجدے میں گر جائیں گے مگر وہ لوگ دنیا میں صحیح سالم ہونے کے باوجود اللہ کے سامنے سجدہ نہیں کرتے تھے وہ اس دن بھی اللہ تعالیٰ کے سامنے سجدہ کرنے سے محروم رہیں گے۔ ان کی نظریں نیچی ہوں گی اور ان پر ہر طرح کی ذلت چھائی ہوئی ہوگی۔ اس سورة میں اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر کیے جانے والے ظلم و ستم اور تکذیب سے جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تکلیف پہنچتی تھی اس پر انہیں صبر و استقامت کی تلقین فرمائی ہے۔ کفار جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر طرح طرح کے اعتراضات کرتے تھے ان کو جواب اور کفار و مشرکین کو نصیحت کی گئی ہے کہ وہ اس موقع سے فائدہ اٹھا کر حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لا کر مکمل اطاعت و فرمانبرداری اختیار کرین ورنہ وہ باغ والے جنہوں نے کسی نصیحت والے کی نصیحت کو نہیں سنا اور آخر کار وہ تباہ وبرباد ہو کر رہ گئے اسی طرح اگر کفار قریش نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نصیحتوں کو نہ مانا تو ان کا انجام بھی باغ والوں سے مختلف نہ ہوگا۔ اللہ تعالیٰ نے قلم اور اس سے لکھی جانے والی اس تحریر کی قسم کھا کر جسے فرشتے لکھ رہے ہیں فرمایا ہے کہ اللہ کے فضل وکرم سے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دیوانے یا مجنون نہیں ہیں بلکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تو اخلاق کریمانہ کے اس اعلیٰ مقام پر فائز ہیں جہاں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا فیض اور اجرو ثواب کا سلسلہ کبھی ختم نہ ہوگا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیوانہ کہنے والے اور اپنے آپ کو عقل مند سمجھنے والے بہت جلد اس بات کو جان لیں گے کہ دیوان کون ہے ؟ اور عقل مند کون ؟ یہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی اپنی آنکھوں سے دیکھیں گے۔ فرمایا کہ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا پروردگار اچھی طرح جانتا ہے راستے سے بھٹکے ہوئے کون لوگ ہیں اور کون سیدھے راستے پر چل رہے ہیں۔ وہ کفار سب کچھ اس لئے کر رہے ہیں کہ آپ ان کے دبائو میں آجائیں۔ لیکن آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان جھٹلانے والوں کے کسی دبائو میں نہ آئیے۔ ان کی دلی خواہش یہ ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کے دبائو میں آکر دین کے معاملہ میں ذرا سی نرمی اختیار کریں تو وہ بھی ڈھیلے پڑجائیں گے۔ خاص طور پر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس شخص کے دبائو میں ذرا بھی نہ آئیں جو بہت قسمیں کھانے والا، بےوقعت، طعنے دینے والا، چغلیاں کھانے والا، بھلائی سے روکنے والا، ظلم و زیادتی میں حد سے گزر جانے والا، انتہائی بد عمل، گناہ گار اور ان تمام عیبوں کے ساتھ ساتھ وہ ” ولدالزنا “ بھی ہے۔ جسے اس بات پر بھی بڑا ناز ہے کہ وہ بہت زیادہ مالدار ہے۔ جب اس کے سامنے ہماری آیات کی تلاوت کی جاتی ہے تو نہایت تکبر اور نفرت سے کہتا ہے کہ یہ تو گزرے ہوئے لوگوں کے قصے کہانیاں ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہم بہت جلد اس کی ناک پر داغ لگائیں گے یعنی اس کو ذلیل و رسوا کرکے رکھ دیں گے۔ ارشاد ہے ہم نے ان مکہ والوں کو باغ والوں کی طرح آزمائش میں ڈال دیا ہے۔ جب انہوں نے اس بات پر قسم کھائی تھی کہ ہم صبح کو سارا پھل اور غلہ جمع کرکے لے آئیں گے اور کسی غریب کو ذرا سی چیز بھی نہ دیں گے وہ یہ فیصلہ کرتے وقت انشاء اللہ تک کہنا بھول گئے۔ فرمایا کہ وہ ابھی آرام سے رات کو سوئے ہوئے تھے کہ اللہ کے حکم سے ان کے باغ پر ایک آفت گھوم گئی اور انکا باغ تباہ و برباد ہوکر رہ گیا۔ وہ صبح ہی صبح ایک دوسرے کو آواز دینے لگے کہ فوراً سویرے سویرے اپنے باغ کی طرف چلو۔ وہ چپکے چپکے باتیں کرتے جا رہے تھے تاکہ کسی کو معلوم نہ ہو اور کوئی غریب ان کی آہٹ سن کر اس کے ساتھ نہ لگ جائے۔ وہ تو یہ سمجھ رہے تھے کہ بس ہم جائیں گے اور سارا پھل سمیٹ کرلے آئیں گے۔ لیکن جب وہ اپنے باغ پر پہنچے اور راکھ کا ڈھیر دیکھا تو کہنے لگے شاید ہم رات کے اندھیرے میں کسی اور کے باغ پر پہنچ گئے ہیں۔ مگر کچھ دیر کے بعد ان کو پتہ چل گیا کہ یہ ان ہی کا باگ ہے اور وہ اللہ کے حکم سے تباہ ہوچکا ہے اور وہ اپنے باغ سے محروم ہوچکے ہیں۔ ان بھائیوں میں سے جو نیک اور معتدل مزاج تھا اس نے کہا دیکھو میں نے تمہیں پہلے ہی منع کیا تھا کہ ایسا نہ کرو لیکن تمہیں مانے اب بھی وقت ہے کہ تم اللہ کی حمدو ثنا کرکے اس سے معافی مانگ لو۔ پہلے تو وہ سب کے سب آپس میں اس سارے واقعہ کی ذمہ داری ایک دوسرے پر ڈالتے رہے۔ پھر جب ان کو عقل آئی اور انہوں نے اپنی غلطی پر شرمندگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ واقعہ ہم ہی خطا وار ہیں۔ ہم سرکش ہوگئے تھے۔ ہمیں اس پر افسوس ہے۔ ہم اپنے اللہ کی حمدو ثنا کرتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ اللہ ہماری غلطی کو معاف کرکے ہمیں اس سے بہتر باغ عطا فرمادے گا۔ ہم اللہ ہی کی طرف رجوع ہوتے ہیں۔ اللہ نے فرمایا کہ دیکھو ہمارا عذاب ایسا ہوتا ہے اور آخرت کا عذاب تو اس سے بھی بڑھ کر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جو لوگ تقویٰ اختیار کرتے ہیں ان کے لئے انکے رب کے پاس نعمت بھری جتنیں ہیں۔ فرمایا کہ انہوں نے کیا سمجھ رکھا ہے کیا ہم اپنے فرمانبردار بندوں اور مجرموں کو ایک جیسا درجہ دیں گے اور ان کے ساتھ یکساں سلوک کریں گے ؟ ہرگز نہیں۔ ان لوگوں کو کیا ہوگیا ہے جو ایسی بےتکی باتیں کرتے ہیں۔ کیا ان کے پاس کوئی ایسی کتاب ہے جس میں یہ پڑھ پڑھ کر سنا رہے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ ان کے لئے آخرت میں وہ سب کچھ ہوگا جو وہ چاہیں گے اور انہیں ان کی من پسندتمام نعمتیں دی جائیں گے۔ کیا انہوں نے اللہ سے کوئی عہدو پیمان کر رکھا ہے کہ وہاں وہی سب کچھ ہوگا جو یہ لوگ اپنے لئے پسند کرتے ہیں ۔ فرمایا کہ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ ان سے پوچھئے کہ جن کو وہ اللہ کا شریک بنا رہے ہیں کیا ان میں سے ان باتوں کوئی ذمہ دار ہے۔ انہیں چاہیے اپنے ان شریکوں کو لے کر تو آئیں اگر وہ اپنی بات سے سچے ہیں۔ فرمایا کہ جس دن پنڈلی کھولی جائے گی یعنی درمیان کے سارے پردے ہٹا دئیے جائیں گے۔ لوگوں کو سجدہ کی طرف بلایا جائے گا تو وہ کافر اللہ کے سامنے سجدہ نہ کرسکیں گے۔ ان کی نظریں نیچی ہوں گے۔ ان پر ذلت چھائی ہوئی ہوگی۔ کیونکہ جب یہ لوگ بالکل درست اور صحیح تھے اور ان کو اللہ کے سامنے سجدہ کرنے کو کہا جاتا تھا تو وہ اس کا انکار کرتے تھے۔ فرمایا کہ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ دین کو پھیلائیے۔ ان کفار کے معاملہ کو مجھ پر چھوڑئیے۔ میں خود ان کو تباہی کی طرف آہستہ آہستہ لے جاؤں گا کہ ان کو اس کی خبر بھی نہ ہوگی۔ میں ان کو مہلت اور ڈھیل دے رہا ہوں لیکن میری تدبیر بہت زبردست ہے۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے فرمایا کہ کیا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس تبلیغ دین پر ان سے کچھ اجرت اور معاوضہ مانگ رہے ہیں کہ وہ اس کے نیچے دبے چلے جا رہے ہیں۔ یا ان لوگوں کے پاس غیب کا کوئی علم ہے جسے یہ لکھ رہے ہیں ؟ فرمایا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے رب کا فیصلہ آنے تک صبر کیجئے اور مچھلی والے (حضرت یونس (علیہ السلام) ) کی طرح نہ ہوجائیے۔ جب انہوں نے اپنے رب کو اس حال میں پکارا کہ وہ غم سے گھٹے جا رہے تھے۔ اگر آپو کے رب کا کرم نہ ہوتا تو وہ خراب حالت میں ایک چٹیل میدان میں پڑے رہ جاتے۔ آخر کار آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے رب نے ان کو اور برگزیدہ کرلیا اور ان کو صالحین میں سے کردیا۔ فرمایا کہ یہ کفار جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے قرآن میں اس طرح کی باتیں سنتے ہیں تو وہ آپ کو ایسی گندی نظروں سے دیکھتے ہیں کہ جیسے وہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قدم اکھاڑ دیں گے۔ اسی لئے وہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیوانہ کہتے ہیں۔ حالانکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جس قرآن کو پیش کر رہے ہیں وہ تو سارے جہاں والوں کے لئے سراسر نصیحت ہی نصیحت ہے۔

Ayahs 68:1–33

نٓ وَ الْقَلَمِ وَ مَا یَسْطُرُوْنَۙ Open ayah 68:1 in the Quran reader

نون (حروف مقطعات میں سے ایک حرف ہے جس کے معنی کا علم اللہ کو ہے) ۔ قسم ہے قلم کی اور ان (فرشتوں) کی جو لکھتے جاتے ہیں۔

مَاۤ اَنْتَ بِنِعْمَةِ رَبِّكَ بِمَجْنُوْنٍۚ Open ayah 68:2 in the Quran reader

(اے نبی ﷺ آپ اپنے پروردگار کے فضل و کرم سے دیوانے نہیں ہیں۔

وَ اِنَّ لَكَ لَاَجْرًا غَیْرَ مَمْنُوْنٍۚ Open ayah 68:3 in the Quran reader

اور بیشک آپ کے لئے تو وہ اجر ہے جو کبھی ختم ہونے والا نہیں ہے۔

وَ اِنَّكَ لَعَلٰى خُلُقٍ عَظِیْمٍ Open ayah 68:4 in the Quran reader

اور بلا شبہ آپ ایک اعلیٰ ترین اخلاق (کے مالک ) ہیں۔

فَسَتُبْصِرُ وَ یُبْصِرُوْنَۙ Open ayah 68:5 in the Quran reader

پھر بہت جلد آپ دیکھیں گے اور (یہ کافر بھی) دیکھ لیں گے

بِاَىیِّكُمُ الْمَفْتُوْنُ Open ayah 68:6 in the Quran reader

کہ تم میں سے کون جنوں (دیوانگی) میں مبتلا ہے ؟

اِنَّ رَبَّكَ هُوَ اَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ عَنْ سَبِیْلِهٖ١۪ وَ هُوَ اَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِیْنَ Open ayah 68:7 in the Quran reader

بیشک آپ کا پروردگار اچھی طرح جانتا ہے ہر اس شخص کو جو راستہ بھٹک گیا ہے اور ان کو بھی خوب جانتا ہے جو سیدھے راستے پر ہیں۔

فَلَا تُطِعِ الْمُكَذِّبِیْنَ Open ayah 68:8 in the Quran reader

آپ ان جھٹلانے والوں کو کہا نہ مانئے۔

وَدُّوْا لَوْ تُدْهِنُ فَیُدْهِنُوْنَ Open ayah 68:9 in the Quran reader

وہ تو یہ چاہتے ہیں کہ اگر آپ ان کے بتوں کے معاملے میں ذرا نرمی اختیار کرلیں تو یہ بھی ڈھیلے پڑجائیں گے۔

وَ لَا تُطِعْ كُلَّ حَلَّافٍ مَّهِیْنٍۙ Open ayah 68:10 in the Quran reader

آپ کسی ایسے شخص کی بات نہ مانئے جو بہت (جھوٹی) قسمیں کھانے والا اور ذلیل شخص ہو۔

هَمَّازٍ مَّشَّآءٍۭ بِنَمِیْمٍۙ Open ayah 68:11 in the Quran reader

طنعے دیتا اور چغل خوری کرتا پھرتا ہو،

مَّنَّاعٍ لِّلْخَیْرِ مُعْتَدٍ اَثِیْمٍۙ Open ayah 68:12 in the Quran reader

نیک کاموں سے روکنے والا، گناہوں میں سے حد سے بڑھنے والا،

عُتُلٍّۭ بَعْدَ ذٰلِكَ زَنِیْمٍۙ Open ayah 68:13 in the Quran reader

بد مزاج اور برے نسب کا مالک ہو محض اس وجہ سے (وہ ایسی حرکتیں کر رہا ہے)

اَنْ كَانَ ذَا مَالٍ وَّ بَنِیْنَؕ Open ayah 68:14 in the Quran reader

کہ آدمی مال دار اور اولاد والا ہے۔

اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِ اٰیٰتُنَا قَالَ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 68:15 in the Quran reader

جب اس کے سامنے ہماری آیتوں کی تلاوت کی جاتی ہے تو کہتا ہے کہ یہ تو گزرے ہوئے لوگوں کے قصے کہانیاں ہیں۔

سَنَسِمُهٗ عَلَى الْخُرْطُوْمِ Open ayah 68:16 in the Quran reader

ہم بہت جلد اس کی ناک پر داغ لگا دیں گے (یونی رسوا کرکے چھوڑیں گے) ۔

اِنَّا بَلَوْنٰهُمْ كَمَا بَلَوْنَاۤ اَصْحٰبَ الْجَنَّةِ١ۚ اِذْ اَقْسَمُوْا لَیَصْرِمُنَّهَا مُصْبِحِیْنَۙ Open ayah 68:17 in the Quran reader

ہم نے ان (مکہ والوں کو) اسی طرح آزمائش میں دال دیا ہے جس طرح باغ والوں کو آزمایا تھا جب انہوں نے قسمیں کھائی تھیں کہ ہم صبح ہوتے ہی اس (اپنے ) باغ کے پھل توڑ لیں گے۔

وَ لَا یَسْتَثْنُوْنَ Open ayah 68:18 in the Quran reader

اور انہوں نے انشاء اللہ تک نہ کہا۔

فَطَافَ عَلَیْهَا طَآئِفٌ مِّنْ رَّبِّكَ وَ هُمْ نَآئِمُوْنَ Open ayah 68:19 in the Quran reader

پھر جب وہ پرے سور رہے تھے تو (اے نبی ﷺ آپ کے رب کی طرف سے اس باغ پر ایک آفت چکر لگا گئی۔ ا

فَاَصْبَحَتْ كَالصَّرِیْمِۙ Open ayah 68:20 in the Quran reader

ور پھر وہ باغ ایک کٹے ہوئے کھیت کی طرح ہوگیا۔

فَتَنَادَوْا مُصْبِحِیْنَۙ Open ayah 68:21 in the Quran reader

پھر صبح سویرے وہ ایک دوسرے کو (بیدار ہونے کے لئے) آوازیں دینے لگے

اَنِ اغْدُوْا عَلٰى حَرْثِكُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰرِمِیْنَ Open ayah 68:22 in the Quran reader

کہ اگر تمہیں باغ کے پھل توڑنے ہیں تو سویرے سویرے (کھیت پر) چلو۔

فَانْطَلَقُوْا وَ هُمْ یَتَخَافَتُوْنَۙ Open ayah 68:23 in the Quran reader

پھر وہ آپس میں چپکے چپکے باتیں کرتے ہوئے کہنے لگے

اَنْ لَّا یَدْخُلَنَّهَا الْیَوْمَ عَلَیْكُمْ مِّسْكِیْنٌۙ Open ayah 68:24 in the Quran reader

کہ (دیکھو) آج کے دن ) (باغ میں) کوئی غریب و مسکین آدمی تم تک پہنچنے نہ پائے۔ ا

وَّ غَدَوْا عَلٰى حَرْدٍ قٰدِرِیْنَ Open ayah 68:25 in the Quran reader

ور ضرورت مندوں کو نہ دینے پر اپنے آپ کو قادر سمجھتے ہوئے صبح سویرے پہنچ گئے۔

فَلَمَّا رَاَوْهَا قَالُوْۤا اِنَّا لَضَآلُّوْنَۙ Open ayah 68:26 in the Quran reader

پھر جب انہوں نے (اپنے اس باغ کو) دیکھا تو کہنے لگے شاید ہم راستہ بھول گئے ہیں۔

بَلْ نَحْنُ مَحْرُوْمُوْنَ Open ayah 68:27 in the Quran reader

(خوب چکر لگانے کے بعد) کہنے لگے کہ نہیں ہم تو (اس باغ سے) محروم کردئیے گئے ہیں۔

قَالَ اَوْسَطُهُمْ اَلَمْ اَقُلْ لَّكُمْ لَوْ لَا تُسَبِّحُوْنَ Open ayah 68:28 in the Quran reader

ان میں سے جو متعدل مزاج آدمی تھا اس نے کہا میں نے تم سے پہلے ہی کہا تھا کہ (شکر کرتے ہوئے) اللہ کی تسبیح (توبہ) کرتے رہو۔

قَالُوْا سُبْحٰنَ رَبِّنَاۤ اِنَّا كُنَّا ظٰلِمِیْنَ Open ayah 68:29 in the Quran reader

وہ کہنے لگے کہ واقعی ہمارا رب تو ہر طرح کے عیب سے پاک ہے ہم نے ہی سرکشی اختیار کرلی تھی۔

فَاَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلٰى بَعْضٍ یَّتَلَاوَمُوْنَ Open ayah 68:30 in the Quran reader

پھر وہ ایک دوسرے کے سامنے ہو کر ایک دوسرے پر الزام رکھنے لگے۔

قَالُوْا یٰوَیْلَنَاۤ اِنَّا كُنَّا طٰغِیْنَ Open ayah 68:31 in the Quran reader

کہنے لگے کہ ہائے افسوس ہم تو واقعی حد سے بڑھ جانے والے تھے۔

عَسٰى رَبُّنَاۤ اَنْ یُّبْدِلَنَا خَیْرًا مِّنْهَاۤ اِنَّاۤ اِلٰى رَبِّنَا رٰغِبُوْنَ Open ayah 68:32 in the Quran reader

امید ہے کہ ہمارا رب ہمیں اس باغ سے بہتر باغ عنایت کردے گا۔ بیشک ہم اپنے اللہ ہی کی طرف رجوع کرتے ہیں۔

كَذٰلِكَ الْعَذَابُ١ؕ وَ لَعَذَابُ الْاٰخِرَةِ اَكْبَرُ١ۘ لَوْ كَانُوْا یَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 68:33 in the Quran reader

(لوگو دیکھو) اس طرح عذاب آیا کرتا ہے اور یقینا آخرت کا عذاب تو اس سے بھی بڑھ کر ہوگا۔ کاش وہ جانتے ہوتے۔

لغات القرآن۔ یسطرون۔ وہ لکھتے ہیں۔ ممنون۔ منقطع ہونے والا۔ ختم ہونے والا۔ تبصر۔ تو دیکھے گا۔ المفتون۔ دیوانہ۔ ودوا۔ وہ پسند کرتے ہیں۔ تدھن۔ تو خوشامد کرے۔ تو نمر پرے۔ حلاف۔ بہت قسمیں کھانے والا۔ مھین۔ ذلیل کمینہ۔ ھماز۔ طعنے دینے والا۔ مشائ۔ پھرنے والے۔ نیمیم۔ چغل خور۔ باتیں لگانے والے۔ مناع۔ روکنے والا۔ معتد۔ حد سے بڑھنے والا۔ اثیم۔ گناہ گار۔ عتل۔ اکھڑ۔ اجد۔ زنیم۔ بدنام۔ نسیم۔ ہم داغ دیں گے۔ الخرطوم۔ ناک۔ دم۔ سونڈ۔ تشریح : سورة القلم کا آغاز ” ن “ سے کیا گیا ہے جو حروف مقطعات میں سے ایک حروف ہے۔ اس کے کیا معنی ہیں ؟ اس کی تفصیل اس سے پہلی ابتدائی سورتوں میں آچکی ہے کہ ان حروف کے معنی اور مراد کا علم صرف اللہ کو ہے۔ ممکن ہے اللہ تعالیٰ نے نبی کریم و کو ان حروف کے معنی بتا دئیے ہوں لیکن خود نبی کریم ﷺ نے ان حروف کے معنی نہیں بتائے۔ اگر امت کے لئے ان حروف کے معانی بیان کرنا ضروری ہوتا تو رسول اللہ ﷺ ضرور ارشاد فرمادیتے۔ اللہ تعالیٰ نے قلم اور اس سے لکھی جانے والی تحریر کی قسم کھا کر فرمایا ہے کہ اللہ کے فضل و کرم سے آپ دیوانے نہیں ہیں بلکہ خلق عظیم کے درجے پر فائز ہیں اور آپ کا اجرو ثواب اور فیض پر تو وہ اجر عظیم ہے جو کبھی ختم ہونے والا نہیں ہے۔ وہ وقت دور نہیں ہے جب ہر ایک کو اس بات کا پوری طرح اندازہ ہوجائے گا کہ راہ ہدایت پر کون ہے ؟ اور سیدھے راستے سے بھٹک کر کون گمراہی میں مبتلا ہے ؟ نبی کریم ﷺ سے فرمایا گیا ہے کہ آپ ان لوگوں کی پرواہ نہ کیجئے اور نہ ان کی کسی بات کو تسلیم کیجئے جو ضد اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے خود ہی پاگل پن کا شکار ہیں۔ خاص طور پر وہ شخص جو بہت قسمیں کھانے والا، ذلیل و خوار، طعنے باز، چغل خور، نیک کاموں سے روکنے والا، گناہوں میں حدوں سے نکل جانے والا، بدمزاج اور برے نسب کا مالک ہے۔ وہ اپنے مال اور اولاد کی کثرت کی وجہ سے اللہ کے دین کو جھٹلاتا ہے اور جب اس کے سامنے اللہ کا کلام پڑھا جاتا ہے تو وہ کہتا کہ یہ تو گزرے ہوئے لوگوں کے قصے اور کہانیاں ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہم اس کو ذلیل کرکے چھوڑیں گے۔ درحقیقت یہ شخس (ولید ابن مغیرہ) اور اس کی طرح ذہن رکھنے والے لوگ یہ چاہتے ہیں کہ اگر آپ ذرا ڈھیلے پڑجائیں اور ان کے بتوں اور جھوٹے معبودوں کے معاملے میں نرمی اختیار کرلیں تو یہ بھی مخالفت میں ڈھیلے پر جائیں گے۔ اللہ نے فرمایا کہ اے نبی ﷺ ! ایسے لوگ ہرگز اس قابل نہیں ہیں کہ ان کی طرف توجہ بھی دی جائے۔ آپ بےفکر ہو کر اللہ کے دین کو ہر شخص تک پہنچانے کی جدوجہد کرتے رہیں اس پر آپ کو ایسا اجر عظیم عطا کیا جائے گا جو کبھی ختم نہ ہوگا اور دنیا اور آخرت میں آپ ہی کا فیض جاری رہے گا۔ زیر مطالعہ آیات کی مزید وضاحت یہ ہے کہ (1) ۔ اللہ تعالیٰ نے قلم کی قسم کھا کر اس سورت کا آغاز فرمایا ہے۔ قلم کیا ہے ؟ اور قلم سے لکھی جانے والی سطروں کی کیا اہمیت ہے ؟ اس کی تفصیل یہ ہے کہ ایک مرتبہ حضرت جابر بن اعبد اللہ ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے ورض کیا میرے ماں باپ آپ کی (عظمت و شان) پر قربان مجھے یہ بتا دیجئے کہ اللہ نے چیزوں میں سب سے پہلے کس چیز کو پیدا کیا تھا ؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ نے سب چیزوں سے پہلے تمہارے نبی کے نور کو پیدا فرمایا تھا۔ پھر وہ نور قدرت الٰہی سے جہاں اس کو منظور ہوا سیر کرتا رہا۔ اس وقت لوح و قلم، جنت و جہنم، زمین وآسمان، چاند اور سورج، جن و انسان اور فرشتے یا ان میں سے کوئی چیز بھی موجود نہ تھی۔ پھر جب اللہ نے مخلوق کو پیدا کیا تو اس نے اس نور کے چار حصے کئے۔ (1) ایک حصے سے قلم کو پیدا کیا۔ (2) دوسرے سے لوح محفوظ کو (3) تیسرے سے عرش کو (4) اور چوتھے حصے سے ساری مخلوق کو پیدا فرمایا۔ ایک حدیث میں آتا ہے کہ جب اللہ نے قلم کو پیدا کیا اور اس کو حکم دیا کہ لکھ۔ قلم نے عرض کیا الٰہی کیا لکھوں ؟ اللہ نے فرمایا کہ تقدیر کو لکھ۔ چناچہ قلم نے ہر اس چیز کو لکھا جو گذر گیا یا آئندہ آنے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسی قلم کی قسم کھا کر بتایا ہے کہ نبی کریم خاتم الانبیاء حضرت محمد ﷺ کو دیوانہ کہنے والے کتنے پاگل پن اور دیوانگی میں مبتلا ہیں کہ جن کے صدقے کائنات کو وجود ملا۔ جنہوں نے دنیا کو وہ نظام زندگی دیا جو قیامت تک انسان اور انسانیت کی فلاح اور کامیابی کی ضمانت ہے۔ جن کے عظیم اخلاق نے انسانوں کو وہ نمونہ زندگی دیا جو بےمثال ہے۔ جن کی عظمت اور شان یہ ہے کہ اعلان نبوت سے پہلے ہر شخص ان کو صادق اور امین کہتا اور ان کی فہم و فراست کا قائل تھا۔ لیکن جب اس سچائی کا آپ نے اعلان کیا جس سچائی کو سارے انبیاء کرام لے کر تشریف لائے تھے تو بےحقیقت معبودوں کو پوجنے والے آپ کو دیوانہ اور مجنون کہنے لگے۔ اللہ نے فرمایا کہ اے نبی ﷺ ! اللہ کے فضل و کرم سے آپ دیوانے نہیں ہیں بلکہ وہ وقت دور نہیں ہے جب ساری حقیقت کھل کر سامنے آجائے گی اور ساری دنیا پر آپ ہی کے فیض کا سایہ ہوگا اور آپ کے اخلاق کریمانہ سے بھٹکی ہوئی انسانیت کو سچا راستہ نصیب ہوگا اور کبھی نہ ختم ہونے والا اجر عظیم آپ کو عطا کیا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے جب نبی کریم ﷺ پر غار حرا میں پہلی وحی نازل کی تو اس وقت بھی ارشاد فرمایا کہ انسان جن حقیقتوں سے واقف نہیں تھا اللہ نے وہ تمام حقیقتیں انسان کو سکھائیں اور قلم کے ذریعہ تعلیم دی۔ قلم اور اس کی تحریر کو حکومت و سلطنت کے انتظام میں بڑا دخل اور کسی بھی سلطنت کی ترقی کا دارومدار قلم اور تحریر ہی ہے۔ تاریخ اور قوموں کے عروج وزوال کی داستانیں قلم کے ذریعہ ہی دنیا تک پہنچیں۔ اگر قلم اور تحریر نہ ہوتی تو انسانی زندگی کے ہزاروں گوشے پردہ گم نامی میں ہوتے۔ اگر قلم نہ ہوتا تو نبی کریم ﷺ کی ہمہ گیز تعلیم، اس کی اشاعت اور تمام دنیا کو علم کا نور کیسے پہنچتا۔ اللہ نے اسی قلم کی قسم کھا کر فرمایا کہ جس قلم کے ذریعہ تقدیرات الٰہی کو لکھا گیا ایسا بلند اور پاکیزہ کلام پیش کرنے والا کیا مجنون اور دیوانہ ہوسکتا ہے ؟ (2) دوسری بات اخلاق مصطفویٰ ﷺ کے متعلق فرمائی کہ اللہ نے آپ کو اخلاق کریمانہ کا پیکر اور مجسم نمونہ زندگی بنایا ہے۔ آپ نے پتھر برسانے والوں کے لئے ہدایت کی دعا کی اور راستے میں کاٹنے بچھانے والوں کے لئے پھول برسائے ہیں۔ آپ نے قرآن کریم کی تعلیمات کا مجسم نمونہ بن کر ” خلق عظیم “ کا درجہ حاصل فرمایا ہے۔ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے جب کسی نے آپ ﷺ کے اخلاق کے بارے میں سوال کیا تو ام المومنین نے فرمایا ” کان خلقہ القرآن “ یعنی قرآن کریم کے تمام اصولوں کی صحیح تشریح اور اخلاق ہی آپ کی سیرت ہے۔ آپ نے قرآن کریم کے ہر اصول کو عمل میں دھال کر اس طرح پیش فرمایا ہے کہ قرآن کریم پڑھنے والا اور درحقیقت سیرت مصطفیٰ ﷺ ہی کا مطالعہ کرتا ہے۔