Ayahs 68:1–7اللہ تبارک وتعالی، قلم، کی قسم کھاتا ہے۔ یہ اسم جنس ہے جو ان تمام اقلام کو شامل ہے جن کے ذریعے سے مختلف علوم کو علوم کو لکھا جاتا ہے اور جن کے ذریعے سے مختلف انواع کا کلام لکھا جاتا ہے، اللہ تعالیٰ کی عظیم نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے، جو اس امر کی مستحق ہے کہ محمد کی ان عیوب کے بارے میں براءت پر اس کی قسم کھائی جائے جو آپ کے دشمن آپ کی طرف منسوب کرتے ہیں یعنی جنون وغیرہ۔ پس آپ کے رب کی نعمت اور احسان سے ان عیوب کی آپ نفی کی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو عقل کامل، عمدہ رائے اور فصاحت و بلاغت سے لبریز کلام فیصل سے سرفراز فرمایا ہے جو بہترین کلام ہے جسے قلم لکھتے ہیں اور مخلوقات اسے قلم بند کرتی ہیں اور دنیا کے اندر یہی سعادت ہے۔
پھر اللہ تعالیٰ نے آپ کی اخروی سعادت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا (ان لک لاجرا) آپ کے لیے بہت بڑا اجر ہے، جیسا کہ نکرہ سے مسفادہ ہوتا ہے (غیر ممنون) یعنی ایسا اجر جو کبھی منقطع نہیں ہوگا بلکہ دائمی اور ہمیشہ رہنے والا ہے۔ اس کا سبب وہ اعمال صالحہ، اخلاق کاملہ اور ہر بھلائی کی طرف وہ راہ نمائی وغیرہ ہے جو نبی اکرم سے صادر ہوئی ہے۔ (وانک لعلی خلق عظیم) ۔ اور بیشک آپ بڑے (عمدہ) اخلاق پر ہیں۔ یعنی آپ اس اخلاق کی بنا پر بلند مرتبہ ہیں اور اپنے اس خلق عظیم کی بنا پر فوقیت رکھتے ہیں جس سے اللہ تعالیٰ نے آپ کو نوازا ہے۔ آپ کے خلق عظیم کا حاصل وہ ہے جس کی تفسیر ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ نے اس شخص کے سامنے بیان فرمائی تھی جس نے آپ کے اخلاق کے بارے میں ان سے پوچھا تھا، حضرت عائشہ نے فرمایا (کان خلقہ القرآن) ۔ آپ کا خلق قرآن ہی ہے۔ یہ آپ کے لیے اللہ تعالیٰ کے ان ارشادات کی طرح ہے (خذ العفوا وامر بالعرف واعرض عن الجاھلین) (الاعراف 199) ۔ عفو کا رویہ اختیار کیجیے، نیکی کا حکم دیجئے اور جاہلوں سے کنارہ کیجئے۔ نیز فرمایا (فبما رحمۃ من اللہ لنت لھم) (آل عمران 159) اللہ کی مہربانی سے، آپ ان کے لیے نرم خو واقع ہوئے ہیں۔ اور فرمایا (لقد جاء کم رسول من انفسکم عزیز علیہ ما عنتم حریص علیکم بالمومنین رؤوف رحیم۔ التوبہ 128) تمہارے پاس تم ہی میں سے ایک رسول آیا ہے تمہاری تکلیف اس پر بہت گراں گزرتی ہے تمہاری بھلائی کا وہ بہت خواہش مند ہے، اہل ایمان پر بہت شفقت کرنے والا اور ان پر نہایت مہربان ہے۔
کتنا صحیح مصداق ہیں یہ آیات کریمہ جو آپ کے مکارم اخلاق سے متصف ہونے پر دلالت کرتی ہیں اور وہ آیات کریمہ جو ہر قسم کے خلق جمیل کی ترغیب دیتی ہیں۔ وہ ان اوصاف میں کامل ترین اور جلیل ترین مقام پر فائز تھے اور ان خصائل میں سے ہر خصلت کی بلند چوٹی پر تھے، آپ بہت ہی نرم برتاؤ کرنے والے اور نرم خو تھے، لوگوں کے بہت قریب تھے جو کوئی آپ کو دعوت دیتا آپ اس کی دعوت قبول کرتے تھے، جو کوئی آپ سے کسی حاجت کا طلب گر ہوتا آپ اس کی حاجت پوری کرتے تھے بلکہ آپ اس کی دل جوئی کرتے تھے اگر آپ کے اصحاب کو آپ سے کام ہوتا آپ اس کام پر ان کی موافقت کرتے اور اس بارے میں ان کی بات مانتے بشرطیکہ اس میں کوئی ایسی چیز نہ ہو جس سے بچنے کے لیے کہا گیا ہو، اگر کسی امر کا عزم فرماتے تو ان کو نظر انداز کرکے ان پر اپنی رائے نہیں تھوپتے تھے بلکہ ان کے ساتھ مشاورت کرکے ان کی رائے لیتے تھے ان کے اچھے کام کو قبول کرلیتے اور برائی کرنے والے سے درگزر کرتے تھے کسی ہم نشین کے ساتھ معاشرت کرتے تو کامل ترین اور بہترین طریقے سے معاشرت کرے، آپ کبھی اپنی پیشانی پر بل ڈالتے نہ آپ کبھی کوئی سخت بات کہتے، نہ آپ اس سے منہ موڑتے نہ آپ اس کی زبان کی لغزش پر گرفت کرتے اور نہ اس کی طرف سے کسی سخت رویے پر مواخذہ فرماتے بلکہ اس کے ساتھ انتہائی حسن سلوک سے پیش آتے اور اسے انتہائی حد تک برداشت کرتے۔ جب اللہ تبارک وتعالی نے محمد مصطفیٰ ﷺ کو بلندترین مقام پر فائز فرمایا اور آپ کے دشمن آپ کی طرف منسوب کرتے تھے کہ آپ مجنون اور دیوانے ہیں تو فرمایا (فستبصر ویبصرون، بایکم المفتون) پس عنقریب آپ دیکھ لیں گے اور وہ بھی دیکھ لیں گے کہ تم میں سے کون دیوانہ ہے اور یہ حقیقت واضح ہوگئی کہ آپ لوگوں میں سب سے زیادہ ہدایت یافتہ، اپنے لیے اور دوسروں کے لیے سب سے زیادہ کامل ہیں، نیز یہ بھی واضح ہوگیا کہ آپ کے دشمن، لوگوں میں سے سب سے زیادہ گمراہ اور سب سے زیادہ شر پسند ہیں۔ یہی لوگ ہیں جنہوں نے اللہ کے بندوں کو فتنے میں ڈالا اور ان کو اللہ کے راستے سے بھٹکا دیا۔ اس بارے میں اللہ تعالیٰ کا علم کافی ہے۔ وہی محاسبہ کرنے والا اور جزا دینے والا ہے۔ اور (ھو اعلم بمن ضل عن سبیلہ وھواعلم بالمھتدین) وہ اس کو خوب جانتا ہے جو اس کے راستے سے بھٹک گیا اور ان کو بھی خوب جانتا ہے جو سیدھے راستے پر چل رہے ہیں۔ اس میں گمراہ لوگوں کے لیے تہدید اور ہدایت یافتہ لوگوں کے لیے وعدہ ہے، نیز اس میں اللہ تعالیٰ کی حکمت کا بیان ہے کہ وہ اس شخص کو ہدایت سے نوازتا ہے جو ہدایت کے لائق ہوتا ہے۔
Ayahs 68:8–9اللہ تبارک وتعالی اپنے نبی سے فرماتا ہے (فلا تطع المکذبین) جنہوں نے آپ کو جھٹلایا اور حق کے ساتھ عناد رکھا یہ لوگ اس قابل نہیں کہ ان کی اطاعت کی جائے کیونکہ یہ صرف اسی بات کا حکم دیتے ہیں جو ان کی خواہشات نفس کے موافق ہوتی ہے اور یہ باطل کے سوا کچھ نہیں چاہتے، پس ان کی اطاعت کرنے والا اس چیز کی طرف بڑھتا ہے جو اس کے لیے نقصان دہ ہے۔ یہ آیت کریمہ ہر جھٹلانے والے اور ہراس اطاعت کے لیے عام ہے جو تکذیب سے جنم لیتی ہے اگرچہ اس کا سیاق ایک خاص معاملے میں ہے اور وہ یہ ہے کہ کفار نے آپ سے مطالبہ کیا تھا کہ آپ ان کے معبودوں اور ان کے دین کے بارے میں خاموش ہوجائیں وہ بھی آپ کے بارے میں خاموش رہیں گے، لہذا فرمایا (ودوا) یعنی مشرکین چاہتے ہیں (لوتدھن) کہ آپ ان کے موقف سے موافقت کریں قول کے ذریعے سے یا فعل کے ذریعے سے یا جہاں کلام کرنا ضروری ٹھہرتا ہو وہاں خاموش رہیں (فیدھنون) تو وہ بھی نرم ہوجائیں۔ مگر آپ نے اللہ کے حکم سے حق کو کھلم کھلا بیان کیا اور دین اسلام کا اظہار کیا کیونکہ اس کا کامل اظہار، اس کی ضد کے نقض اور اس کے متناقض نظریات کے عیب کا اظہار ہے۔
Ayah 68:10(ولا تطع کل حلاف) اور کسی ایسے شخص کی بات نہ ماننا جو بہت قسمیں کھانے والا ہو۔ کیونکہ اتنی زیادہ قسمیں کھانے والا جھوٹا ہی ہوسکتا ہے اور آدمی جھوٹا نہیں ہوسکتا جب تک وہ (مھین) خسیس النفس اور دانائی سے تہی دست نہ ہو اور اسے بھلائی میں کوئی رغبت نہ ہو بلکہ اس کا ارادہ اس کے خسیس نفس کی شہوات پر مرتکز ہو۔
Ayah 68:11(ھماز) یعنی جو لوگوں کی بہت زیادہ عیب چینی کرتا ہے اور غیبت اور استہزا کے ذریعے سے طعنہ زنی کرتا ہے۔ (مشآء بنمیم) یعنی لوگوں کے درمیان چغل خوری کرتا پھرتا ہے، چغل خوری یہ ہے کہ لوگوں کے درمیان فساد ڈالنے اور عداوت اور بغض پیدا کرنے کی غرض سے ایک کی بات دوسرے تک پہنچائی جائے۔
Ayah 68:12(مناع للخیر) بھلائی، یعنی نفقات واجبہ، کفارہ اور زکوۃ وغیرہ، جس کا قیام اس پر لازم تھا، سے منع کرنے والا ہے (معتد) مخلوق پر زیادتی کرنے والا، لوگوں کی جان ومال اور ان کی ناموس پر ظلم کرنے والا (اثیم) یعنی اللہ کے حقوق سے متعلق بہت زیادہ گناہوں کا ارتکاب کرنے والا۔
Ayahs 68:13–16(عتل بعد ذالک) یعنی درشت خو، بدخلق اور سخت طبیعت رکھنے والا جو حق کے سامنے سرتسلیم خم نہیں کرتا اس کے ساتھ ساتھ وہ (زنیم) بدذات ہے، یعنی مجہول النسب جس کی کوئی اصل ہے نہ ایسا مادہ کہ جس سے کوئی بھلائی منتج ہوتی ہے بلکہ اس کے اخلاق بدترین اخلاق ہیں۔ اس سے فلاح کی امید نہیں اور اس میں شر کی علامت ہے جس سے وہ پہچانا جاتا ہے۔
ان تمام آیات کریمہ کا حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر اس شخص کی اطاعت سے روکا ہے جو نہایت کثرت سے قسمین کھانے والا، سخت جھوٹا، خسیس النفس، نہایت بداخلاق، خاص طور پر وہ ایسے برے اخلاق کا مالک ہے جو خود پسند، مخلوق اور حق کے مقابلے اور حق کے مقابلے میں تکبر اور استکبار، غیبت، چغلی اور طعنہ زنی کے ذریعے سے لوگوں سے حقارت کا رویہ رکھنے اور گناہوں کی کثرت کے متضمن ہیں یہ آیات کریمہ۔۔ اگرچہ بعض مشرکین کے بارے میں نازل ہوئیں، مثلا ولید بن مغیرہ وغیرہ کیونکہ اس کے بارے میں فرمایا (ان کان ذا مال وبنین۔ اذا تتلی علیہ اٰیتنا قال اساطیر الاولین) ۔ کیونکہ اپنے مال اور اولاد کی وجہ سے اس نے سرکشی اختیار کی، حق کے مقابلے میں تکبر و استکبار کا مظاہرہ کیا، جب حق اس کے پاس آیا تو اس نے اسے ٹھکرا دیا اور اسے پہلوں کے قصے کہانیاں قرار دیا جن میں سچ اور جھوٹ دونوں ممکن ہیں۔۔۔ لیکن یہ آیات کریمہ ہر اس شخص کے بارے میں عام ہیں جو اس وصف سے متصف ہو کیونکہ قرآن کریم تمام مخلوق کی ہدایت کے لیے نازل ہوا اور اس میں اولین وآخرین سب داخل ہیں، بسا اوقات بعض آیات کسی خاص سبب یا کسی خاص شخص کے بارے میں نازل ہوتی ہیں تاکہ ان سے عام قاعدہ واضح ہوجائے اور عام قضیوں میں داخل جزئیات کی مثالوں کی معرفت حاصل ہوجائے پھر اللہ تعالیٰ نے اس شخص کو وعید سنائی ہے جس سے یہ سب کچھ واقع ہوا جو اللہ نے بیان فرمایا ہے کہ اللہ عذاب میں اس کی ناک پر داغ لگائے گا اور اسے ظاہری عذاب میں مبتلا کرے گا اس کے چہرے پر داغ علامت لگی ہوگی جہاں داغ لگایا جانا سب سے زیادہ شاق گزرتا ہے۔
Ayahs 68:17–18اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ہم نے ان جھٹلانے والوں کو بھلائی کے ساتھ آزمایا ہم نے انہیں مہلت دی اور ہم نے ان کی خواہشات نفس کے موافق مال و دولت اور لمبی عمر وغیرہ میں سے جس سے چاہا انہیں نوازا۔ اس کا سبب یہ نہ تھا کہ ہمارے نزدیک ان کی کرامت تھی بلکہ بسا اوقات یہ سب کچھ انہیں استدراج کے طور پر عطا کیا جاتا ہے جس کا انہیں علم تک نہیں ہوتا۔ پس ان کی ان نعمتوں کی وجہ سے دھوکے میں مبتلا ہونا، اس باغ والوں کی فریب کو ردگی کی مانند ہے جو باغ کی ملکیت میں شریک تھے جب درختوں کے پھل لگ گئے اور پھلوں نے رنگ پکڑ لیا اور ان کی برداشت کا وقت آن پہنچا، انہیں یقین تھا کہ باغ کی فصل ان کے ہاتھ میں ہے اور کوئی ایسا مانع نہیں جو باغ کی فصل برداشت کرنے سے روکے، اسل یے ان تمام شرکا نے قسم کھائی اور کسی استثنا (ان شاء اللہ کہنے) کے بغیر حلف اٹھایا کہ وہ فصل کاٹیں گے، یعنی صبح کے وقت اس کے پھل چنین گے انہیں اس بات کا ہرگز علم نہ تھا کہ اللہ ان کی گھات میں ہے اور عذاب انکو پیچھے چھوڑ دے گا اور ان سے آگے بڑھ کر باغ کو جالے گا۔
Ayah 68:19(فطاف علیھا طائف من ربک) ۔ پس تمہارے رب کی طرف سے اس پر ایک آفت پڑگئی، یعنی ایک عذاب جو رات کے وقت اس باغ پر نازل ہوا (وھم نائمون) اور وہ محو خواب تھے۔ پس اس عذاب نے اسے تباہ و برباد کردیا۔
Ayahs 68:20–21(فاصبحت کالصریم) پس وہ ہوگیا جیسے کٹی ہوئی کھیتی، ، یعنی اندھیری رات کی مانند، تمام درخت اور پھل ملیا میٹ ہوگئے مگر انہیں نازل ہونے والی اس مصیبت کے بارے میں کچھ علم نہیں تھا، اس لیے جب صبح ہوئی تو انہوں نے ایک دوسرے کو یہ کہتے ہوئے آواز دی۔
Ayahs 68:22–24(اگر تم کو کاٹنا ہے تو اپنی کھیتی پر سویرے ہی جا پہنچو، پس وہ چل پڑے، باغ کا قصد کر کے (وھم یتخافتوں) اور ان کی حالت یہ تھی کہ وہ آپس میں چپکے چپکے اللہ تعالیٰ کے حق سے ایک دوسرے کو روکتے جارہے تھے اور کہہ رہے تھے (لایدخلنھا الیوم علیکم مسکین) آج تمہارے پاس کوئی فقیر نہ آنے پائے، یعنی لوگوں کے پھیلنے سے پہلے، صبح صبح گھروں سے نکل پڑو اور اس کے ساتھ ساتھ وہ فقراء اور مساکین کو محروم کرنے کے لیے باہم تلقین کرتے جارہے تھے۔
Ayah 68:25(وغدوا) انتہائی بری، قساوت اور بےرحمی کی حالت میں انہوں نے صبح کی (علی حرد قادرین) یعنی گویا کہ وہ یہ گمان رکھتے تھے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حق کو روکنے پر قادر ہیں اور انہیں پختہ یقین ہے کہ وہ باغ پر قدرت رکھتے ہیں۔
Ayahs 68:26–28(فلما رواھا) جب انہوں نے باغ کو اس وصف پر دیکھا جس کا اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے کہ وہ کٹی ہوئی کھیتی کی مانند تھا (قالوا) تو انہوں نے حیرت اور بےقراری سے کہا (انا لضالون) ہم باغ سے بھٹک گئے ہیں، شاید یہ کوئی اور باغ ہو۔ پس جب تحقیق ہوگیا کہ یہ وہی باغ ہے اور ان کے عقل و حواس لوٹے تو کہنے لگے (بل نحن محرومون) ہم اس باغ سے محروم ہیں اس وقت وہ پہچان گئے کہ یہ سزا ہے (قال اوسطھم) یعنی ان میں سے سب سے زیادہ انصاف پسند اور سب سے اچھا طریقہ رکھنے والے نے کہا 0 الم اقل لکم لو لا تسبحون) کیا میں نے تمہیں نہیں کہا تھا کہ تم اللہ کو ان اوصاف سے منزہ کیوں قرار نہیں دیتے جو اس کے لائق نہیں ؟ ان میں سے ایک یہ کہ تمہارا گمان ہے کہ تمہاری قدرت ایک مستقل حیثیت رکھتی ہے تم نے (ان شاء اللہ) کہہ کر استثنا کیا ہوتا اور اپنی مشیت کو اللہ تعالیٰ کی مشیت کے تابع کیا ہوتا، تو تمہارے ساتھ وہ کچھ نہ ہوتا جو ہوا ہے۔
Ayah 68:29(قالو سبحن ربنا انا کنا ظالمین) ۔ وہ کہنے لگے کہ ہمارا رب پاک ہے بیشک ہم ہی قصور وار تھے، اس کے بعد انہوں نے اپنی کوتاہی کا تدارک کیا مگر اسوقت جب ان کے باغ پر عذاب نازل ہوچکا تھا جو اٹھایا نہیں جاسکتا تھا۔ ہوسکتا ہے ان کی یہ تسبیح، اپنی جانوں پر ظلم کرنے کا اقرار، تخفیف گناہ میں کوئی فائدہ دے اور توبہ بن جائے، اس لیے وہ سخت نادم ہوئے۔
Ayah 68:30(فاقبل بعضھم علی بعض یتلاومون) جو کچھ ان سے صادر ہوا اور جو کچھ انہوں نے کیا اس بارے میں ایک دوسرے کو ملامت کرنے لگے۔
Ayah 68:31(قالوا یویلنا انا کنا طغین) ۔ کہنے لگے، ہائے شامت ہم ہی حد سے بڑھ گئے تھے۔ یعنی ہم اللہ کے حق اور اس کے بندوں کے حق کے بارے میں حد سے تجاوز کرنے والے تھے۔
Ayah 68:32(عسی ربنا ان یبدلنا خیرا منھا انا الی ربنا راغبون) ۔ پس انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ اللہ تعالیٰ انہیں اس سے بہتر عطا کرے گا اور انہوں نے وعدہ کیا کہ وہ اللہ کی طرف راغب ہوں گے اور اس دنیا میں اس کے سامنے اصرار کے ساتھ التجائیں کرتے رہیں گے۔ پس اگر وہ ایسے ہی تھے جیسے وہ کہتے تھے تو ظاہر ہے کہ اللہ نے دنیا میں ان کے حال کو بدل دیا ہوگا کیونکہ جو کوئی صدق دل سے اللہ سے دعا کرتا ہے، اس کی طرف راغب ہوتا ہے اور اس کے ساتھ امید وابستہ کرتا ہے تو وہ جو کچھ اللہ تعالیٰ سے مانگتا ہے وہ اسے عطا کرتا ہے۔ اللہ تبارک وتعالی نے جو کچھ وقوع پذیر ہوا، اسے بیان کرتے ہوئے فرمایا (کذالک العذاب) یعنی اس شخص کے لیے اسی طرح دنیاوی عذاب ہے جو عذاب کے اسباب کو اختیار کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس سے وہ چیز سلب کرلے جس کی بنیاد پر اس نے سرکشی اور بغاوت کارویہ اپنایا اور دنیا کی زندگی کو ترجیح دی، نیز یہ کہ وہ اس سے وہ چیز زائل کردے جس کا وہ سب سے زیادہ ضرورت مند ہے۔
Ayah 68:33(ولعذاب الاخرۃ اکبر) دنیا کے عذاب سے آخرت کا عذاب زیادہ بڑا ہے (لوکانوایعلمون) ، کاش انہیں سمجھ ہوتی۔ کیونکہ جو کوئی اس حقیقت کو جانتا ہے تو یہ علم اسے ہر اس سبب سے باز رکھتا ہے جو عذاب کا موجب اور ثواب سے محروم رکھنے والا ہے۔
Ayahs 68:34–39اللہ تعالیٰ ان چیزوں کے بارے میں آگاہی فرماتا ہے جو اس نے کفر اور معاصی سے بچنے والوں کے لیے تیار کررکھی ہیں، یعنی مختلف انواع کی نعمتیں اور اکرم الاکرمین کے جوار میں ہر قسم کے تکدر سے پاک زندگی، نیز وہ آگاہ فرماتا ہے کہ اس کی حکمت تقاضا نہیں کرتی کہ وہ اہل تقوی، اپنے رب کے فرماں بردار بندوں، اس کے احکام کی تعمیل کرنے والوں اور اس کی مرضی کی اتباع کرنے والوں کو مجرموں کے برابر قرار دے جنہوں نے اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی، اس کی آیات اور اس کے رسولوں کے ساتھ کفر اور اس کے اولیاء کے ساتھ محاربت میں مبتلا کررکھا ہے، جو کوئی یہ سمجھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان سب لوگوں کو ثواب میں برقرار دے گا تو اس نے نہایت برا فیصلہ کیا ہے اس کا فیصلہ باطل اور اس کی رائے فاسد ہے۔ اور مجرم جب یہ دعوی کرتے ہیں کہ تو ان کے پاس کوئی سند ہے نہ کوئی ایسی کتاب ہے جسے یہ پڑھتے اور اس کی تلاوت کرتے ہوں کہ وہ جنتی ہیں اور انہیں ہر وہ چیز حاصل ہوگی جو وہ منتخب کریں گے اور طلب کریں گے اللہ تعالیٰ کے ہاں قیامت تک ان کے لیے اس بات کا کوئی عہد ہے نہ حلف کہ ان کے لیے وہ سب کچھ ہو جس وہ فیصلہ کریں اور جو کچھ وہ طلب کرتے ہیں اس کے حصول میں ان کا کوئی شریک اور معاون بھی نہیں ہیں۔ اگر ان کے شرکا اور معاون و مددگار ہیں تو ان کو لائیں اگر وہ سچے ہیں یہ بات معلوم ہے کہ یہ سب کچھ بہت بعید ہے ان کے پاس کوئی کتاب ہے نہ نجات کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے ہاں ان کے لیے کوئی عہد ہے اور نہ ان کے شریک ہیں جو ان کی مدد کریں، پس معلوم ہوا کہ ان کا دعوی باطل اور فاسد ہے۔