68. Surah Al-Qalam

القلمThe Pen · 52 ayahsتفسیرِ ماجدی

Ayah 68:1

نٓ وَ الْقَلَمِ وَ مَا یَسْطُرُوْنَۙ Open ayah 68:1 in the Quran reader

نون، قسم ہے قلم کی اور اس کی جو وہ (فرشتے) لکھتے ہیں،1۔

1۔ (نامہ اعمال میں) ۔ ن، حروف مقطعات میں سے ہے۔ اور مقطعات کے لئے ملاحظہ ہو شروع سورة البقرۃ میں ” الم “۔ پر حاشیہ صحیح معنی اللہ ہی کو معلوم ہیں۔ محققین سے دوات کے معنی منقول ہیں۔ عن الحسن والقتادۃ قالاھی الدواۃ (ابن کثیر) عن ابن عباس ؓ ان اللہ خلق النون وھی الدواۃ (ابن جریر) وقال الحسن وقتادۃ والضحاک النون الدواۃ (معالم) (آیت) ” والقلم “۔ یہ قلم وہی ہے جس سے تمام خلق کی تقدیریں لوح محفوظ میں لکھ دی گئی ہیں۔ (آیت) ” وما یسطرون “۔ فعل کے فاعل کاتب اعمال فرشتے ہیں۔ اے مایسطرہ الحفظۃ (مدارک) اے ماتکتب الملکیۃ الحفظۃ من اعمال بنی ادم (معالم) یہ بھی کہا گیا ہے کہ مراد کاتبان لوح محفوظ سے ہے۔ وقال اخرون بل المراد ھھنا بالقلم الذی اجراہ اللہ بالقدر حین کتب مقادیر الخلائق قبل ان یخلق السموت والارضین (ابن کثیر)
Ayah 68:2

مَاۤ اَنْتَ بِنِعْمَةِ رَبِّكَ بِمَجْنُوْنٍۚ Open ayah 68:2 in the Quran reader

کہ آپ اپنے پروردگار کے فضل سے مجنون نہیں ہیں،2۔

2۔ (جیسا کہ ان دشمنان دین ودشمنان عقل نے ٹھہرا لیا ہے بلکہ سب ہوشمندوں سے بڑھ کر ہوش مند اور دانا ترین ہیں) قسم کے مفہوم کیلئے ملاحظہ ہو پارہ 14 کے آخر میں ضمیمہ ” اقسام قرآن “ پر۔ آیت کا مطلب یہ ہے کہ کاتب قدرت کیلئے قلم اور روشنائی اور خود کتبات لوح کی گواہی یہی ہے جو آگے کی آیتوں میں آرہی ہے آپ ﷺ کے کمال دانائی کی شہادت تو سارے ہی صحائف تکوینی پیش کریں گے۔ کسی معاصر احمق و جاہل کی تکذیب وتعریض سے ہوتا کیا ہے۔
Ayah 68:3

وَ اِنَّ لَكَ لَاَجْرًا غَیْرَ مَمْنُوْنٍۚ Open ayah 68:3 in the Quran reader

اور بیشک آپ کے لئے ایسا اجر ہے جو ختم ہونے والا نہیں،3۔

3۔ (اس لئے آپ ان مطاعن کو چندے صبر کے ساتھ برداشت کرلیجئے) (آیت) ” لاجر ا “۔ یہ اجربے نہایت ادائے فرائض نبوت پر ملے گا۔
Ayah 68:4

وَ اِنَّكَ لَعَلٰى خُلُقٍ عَظِیْمٍ Open ayah 68:4 in the Quran reader

اور بیشک آپ اخلاق کے اعلی مرتبہ پر ہیں،4۔

4۔ اور وہ بھی اس مرتبہ پر کہ آپ ﷺ کی سیرت تو نظیر اور نمونہ کا کام دے گی زندگی کے ہر ہر شعبہ میں اور وہ بھی کسی ایک قوم، کسی ایک زمانہ کے لئے نہیں، ہر ملک، ہر قوم، ہر زمانہ کے لئے عدیم النظیر سیرت والے کی جانب جنون کی نسبت دینا خود اپنے پاگل پن کا ڈھنڈورا پیٹنا ہے۔
Ayahs 68:5–6

فَسَتُبْصِرُ وَ یُبْصِرُوْنَۙ Open ayah 68:5 in the Quran reader

عنقریب آپ بھی دیکھ لیں گے اور یہ لوگ بھی دیکھ لیں گے ،

بِاَىیِّكُمُ الْمَفْتُوْنُ Open ayah 68:6 in the Quran reader

کہ تم میں سے کس کو (واقعی) جنون تھا،5۔

5۔ محمد رسول اللہ ﷺ کو جن کا نام رہتی دینا تک مشہور سے مشہور تر ہی ہوتا چلاجائے گا ؟ یا ابوجہل اور ابولہب اور عناد ومخالفت کے دوسرے بڑے بڑے لیڈروں کو ؟ (آیت) ” فستبصر “۔ یہ علم عنقریب ہوکر رہے گا۔ دنیا میں پوری طرح اور آخرت میں تو اس سے بھی زیادہ روشن ہو (آیت) ” بایکم “۔ ب زائد ہے اور مراد ایکم ہے یعنی تم میں سے کون۔ وقال اخرون الباء فیہ زائدۃ معناہ ایکم المفتون (معالم) انما دخلت الباء فی قولہ بایکم یقول علی تضمین العقل فی قولہ فستبصر ویبصرون (ابن کثیر) وھو قول الاخفش وابی عبیدہ وابن قتیبتۃ ان الباء صلۃ زائدۃ والمعنی ایکم المفتون (کبیر)
Ayah 68:7

اِنَّ رَبَّكَ هُوَ اَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ عَنْ سَبِیْلِهٖ١۪ وَ هُوَ اَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِیْنَ Open ayah 68:7 in the Quran reader

بیشک آپ کا پروردگار وہی جانتا ہے اس کو جو اس کی راہ سے بھٹکا ہوا ہے اور وہی خوب جانتا ہے راہ پائے ہوؤں کو،6۔

6۔ (اس لئے فیصلہ اسی پر چھوڑے رہئے اس کے احاطہ علم سے کوئی بھی باہر نہیں وہی ایک کو جزاء وسزا بھی اس کے مناسب حال دے لے گا)
Ayah 68:8

فَلَا تُطِعِ الْمُكَذِّبِیْنَ Open ayah 68:8 in the Quran reader

تو آپ تکذیب کرنے والوں کا کہنا نہ مانئے یہ لوگ تو یہی چاہتے ہیں کہ آپ ڈھیلے پڑجائیں تو یہ بھی ڈھیلے پڑجائیں،7۔

7۔ یعنی ان کی تو عین تمنا ہی یہ ہے کہ آپ اپنے فرائض تبلیغ میں ڈھیلے پڑجائیں تو یہ بھی اپنی شدت مخالفت وعناد میں ڈھیلے پڑیں۔ لیکن آپ ﷺ ان کے کہے میں ہرگز نہ آئیے گا، جیسا کہ اب تک بھی نہیں آئے ہیں۔ کہاں آپ سر تاسر حق پر اور کہاں وہ سرتاسر باطل پر !
Ayahs 68:9–14

وَدُّوْا لَوْ تُدْهِنُ فَیُدْهِنُوْنَ Open ayah 68:9 in the Quran reader

اور آپ ایسے شخص کا بھی کہنا نہ مانئے گا جو بڑاقسمیں کھانے والا ہے ذلیل ہے ،

وَ لَا تُطِعْ كُلَّ حَلَّافٍ مَّهِیْنٍۙ Open ayah 68:10 in the Quran reader

طعنہ باز ہے، چلتا پھرتا چغل خور ہے،

هَمَّازٍ مَّشَّآءٍۭ بِنَمِیْمٍۙ Open ayah 68:11 in the Quran reader

نیک کام سے روکنے والا ہے، حد سے گزرنے والا ہے ،

مَّنَّاعٍ لِّلْخَیْرِ مُعْتَدٍ اَثِیْمٍۙ Open ayah 68:12 in the Quran reader

سخت گنگار ہے، سخت مزاج ہے،

عُتُلٍّۭ بَعْدَ ذٰلِكَ زَنِیْمٍۙ Open ayah 68:13 in the Quran reader

اس کے علاوہ بدنسب بھی ہے،

اَنْ كَانَ ذَا مَالٍ وَّ بَنِیْنَؕ Open ayah 68:14 in the Quran reader

اس نظر سے کہ وہ مال اور اولاد والا ہے،8۔

8۔ یعنی ایسا نہ ہونے پائے کہ آپ اس خیال سے کہ فلاں شخص سے اس بناء پر کہ وہ صاحب وجاہت اور صاحب اثر ہے، باوجود اس کی ان ساری خباثتوں کے اشتراک عمل کرلینا بھی مصلحت خیال کرنے لگیں۔ (آیت) ” ان کان “۔ ان الفاظ کا تعلق آیت ماقبل کے ابتدائی لفظ ولا تطع سے ہے۔ متعلق بقولہ ولا تطع (مدارک) بعض نے یہ ترکیب بھی صحیح قرار دی ہے کہ ان کان کے قبل یکفر یا یجحد محذوف ہے اور ان کان اس سے متعلق اس صورت میں معنی یہ ہوں گے کہ وہ خبیث کفر و انکار اسی گھمنڈ میں آکر کرتا ہے کہ وہ دولت مند اور صاحب اولاد کثیر ہے۔ آیت اپنے عموم مفہوم کے لحاظ سے تو ہر خبیث ورذیل خصائل والے کافر معاند کے حق میں عام ہے۔ لیکن شان نزول کی روایتوں میں ایک مخصوص و متعین شخص ولید بن مغیرہ کا نام بھی آیا ہے جو انہیں صفات کا حامل تھا۔ والمراد الولید بن المغیرۃ عند المجھور (مدارک) (آیت) ” حلاف “۔ ایسا شخص جو جھوٹی سچی قسمیں عادت کی بناء پر کھاتا رہتا ہو۔ قیل من یحلف باللہ کاذبا (جصاص) کثیر الحلف بالباطل (معالم) کثیر الحلف فی الحق والباطل وکفی بہ مزجرۃ لمن اعتادالخلف (کبیر) (آیت) ” مھین “۔ ایسا شخص جو اپنی کمینی حرکتوں کی بناء پر خالق و مخلوق دونوں کی نظر میں ذلیل و خوار اور ہر طرح بےوقعت وبے اعتبار ہوچکا ہو۔ (آیت) ” ھماز “ ایسا شخص جو طنز وتعریض سے دل دکھاتا رہتاہو۔ (آیت) ” اثیم “۔ یعنی فسق پیشہ ہے، الصفۃ السابعۃ کونہ اثیما وھو مبالغۃ فی الاثم (کبیر) بعد یہاں مع کے معنی میں ہے۔ اے مع ذلک (معالم) (آیت) ” زنیم “۔ ایسا شخص جو کسی قوم یا قبیلہ سے نہ ہو مگر اس کی جانب منسوب کردیا گیا ہو۔ انما الزنیم فی لغۃ العرب ھو الدعی فی القول قالہ ابن جریر وغیرواحد من الائمۃ (ابن کثیر) وھو الدعی الملصق بالقوم ولیس منھم (معالم)
Ayahs 68:15–16

اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِ اٰیٰتُنَا قَالَ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 68:15 in the Quran reader

جب ہماری آیتیں اس کے سامنے پڑھی جاتی ہیں تو وہ کہتا ہے کہ یہ تو اگلوں کی خرافات ہیں ،

سَنَسِمُهٗ عَلَى الْخُرْطُوْمِ Open ayah 68:16 in the Quran reader

تو ہم عنقریب اس کی ناک پر داغ لگائیں گے،9۔

9۔ یعنی اس کے کفر خبیثانہ کی پاداش میں اس کے چہرہ اور ناک کو داغدار کردیں گے۔ (آیت) ” الخرطوم “ خرطوم ہاتھی کی سونڈ کو کہتے ہیں۔ انسان کی ناک یا چہرہ کے لئے اس کا استعمال محل ذم وتحقیر پر ہے۔ قال المبرد الخرطوم ھھنا الانف وانما ذکر ھذا اللفظ علی سبیل الا ستخفاف بہ (کبیر) والخرطوم انف الفیل فسمی انفہ خرطوما استقباحالہ (راغب) (آیت) ” سنسمہ “۔ س یعنی ” عنقریب “ کو حشر سے متعلق سمجھا گیا ہے۔ قال ابو العالیۃ و مجاھد اے نسود وجھہ فنجعل لہ علما فی الاخرۃ یعرف بہ (معالم) منھم من قال ھذا الوسم یحصل فی الاخرۃ (کبیر) بعض اقوال اس دنیا سے متعلق بھی ہیں۔ قال ابن عباس سنخطمہ بالسیف وقد فعل ذلک یوم بدر (معالم) ومنھم من قال یحصل فی الدنیا (کبیر) اور ممکن ہے کہ دنیا اور آخرت دونوں ہی عالم مراد ہوں کہ ایسے خبیث کو روسیاہی دونوں ہی جہانوں میں نصیب ہوتی ہے۔ مال ابوجعفر ابن جریر الی انہ لامانع من اجتماع الجمیع علیہ فی الدنیا والاخرۃ وھو متجہ (ابن کثیر)
Ayah 68:17

اِنَّا بَلَوْنٰهُمْ كَمَا بَلَوْنَاۤ اَصْحٰبَ الْجَنَّةِ١ۚ اِذْ اَقْسَمُوْا لَیَصْرِمُنَّهَا مُصْبِحِیْنَۙ Open ayah 68:17 in the Quran reader

ہم نے ان کی آزمائش کو دی ہے،10۔ جیسا ہم نے باغ والوں کی آزمائش کی تھی جب کہ ان لوگوں نے قسم کھائی تھی کہ ہم اس کا پھل ضرور صبح چل کر توڑ لائیں گے ،

10۔ (کہ دیکھیں کون ہماری نعمتوں کا شکر ادا کرتا ہے اور کون ناشکری کی راہ اختیار کرتا ہے) (آیت) ” یلونھم “۔ ھم سے مراد مشرکین مکہ ہیں۔ خصوصا ان کا خوش حال وخوش عیش طبقہ۔
Ayahs 68:18–25

وَ لَا یَسْتَثْنُوْنَ Open ayah 68:18 in the Quran reader

اور انہوں نے انشاء اللہ بھی نہیں کہا تھا ،

فَطَافَ عَلَیْهَا طَآئِفٌ مِّنْ رَّبِّكَ وَ هُمْ نَآئِمُوْنَ Open ayah 68:19 in the Quran reader

سو اس (باغ) پر آپ کے پروردگار کی طرف سے ایک پھرنے والا (عذاب) پھر گیا اس حال میں کہ وہ سو رہے تھے،

فَاَصْبَحَتْ كَالصَّرِیْمِۙ Open ayah 68:20 in the Quran reader

تو وہ (باغ) ایسا رہ گیا جیسا کٹا ہوا کھیت ،

فَتَنَادَوْا مُصْبِحِیْنَۙ Open ayah 68:21 in the Quran reader

پھر وہ ایک دوسرے کو پکارنے لگے

اَنِ اغْدُوْا عَلٰى حَرْثِكُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰرِمِیْنَ Open ayah 68:22 in the Quran reader

کہ اپنے کھیت پر سویرے چلو اگر تمہیں پھل توڑنا ہے،

فَانْطَلَقُوْا وَ هُمْ یَتَخَافَتُوْنَۙ Open ayah 68:23 in the Quran reader

غرض وہ چلے اور آپ میں باتیں چپکے چپکے کرتے ،

اَنْ لَّا یَدْخُلَنَّهَا الْیَوْمَ عَلَیْكُمْ مِّسْكِیْنٌۙ Open ayah 68:24 in the Quran reader

کہ آج وہاں کوئی محتاج تم تک نہ آنے پائے ،

وَّ غَدَوْا عَلٰى حَرْدٍ قٰدِرِیْنَ Open ayah 68:25 in the Quran reader

اور اپنے کو اس نہ دینے پر قادر سمجھے،11۔

11۔ یہ کن باغ والوں کا ذکر ہے ؟ بعض نے کہا ہے کہ کوئی باغ حبشہ میں تھا۔ قیل کانوا میں اھل الحبشۃ (ابن کثیر) عن عکرمۃ قال ھم ناس من الحبشۃ (ابن جریر) ایک قول یہ بھی ہے کہ یہ باغ یمن میں تھا۔ عن ابن عباس قال کان بستان بالیمن (معالم) قال سعید بن جبیرکانوا من قریۃ یقال لھا فروان علی ستۃ امیال من صنعاء (ابن کثیر) بہرحال جہاں کہیں بھی ہو ایسا باغ تھا جس کی تلمیح سے اہل عرب خوب واقف تھے۔ اور قصہ کا ماحصل یہ ہے کہ جو اہل غفلت اپنی تدبیروں پر نازاں اور اہل حقوق کی حق تلفی میں لگے رہتے ہیں، وہ آخر خود ہی خسارہ میں رہتے ہیں۔ (آیت) ” ولایستثنون “۔ یعنی انہیں اس درجہ وثوق اپنے صبح کے پروگرام پر تھا کہ انہوں شب کی تجویزوں میں حق تعالیٰ کے ارادہ کا خیال ہی نہ آنے دیا۔ (آیت) ” فطاف ...... نآئمون “۔ یہ لوگ تو سوتے کے سوتے رہے اور ادھر رات ہی بھر میں کوئی زمینی یا آسمانی آفت آکر باغ کا صفایا کرگئی، باغوں اور کھیتوں پر ایسی ناگہانی مصیبتیں ہر فصل اور ہر زمانہ میں برابر آتی ہی رہتی ہیں، کبھی گرم اور تیز لونے سبزہ زار کو جھلسادیا، کبھی تندآندھی نے درختوں کا ناس مار دیا۔ کبھی اتنا پالا پڑگیا کہ کھیتی برباد ہوگئی۔ کہیں آسمان سے اولے ایسے پڑے کہ پتے پتیاں تک باقی نہ رہ گئیں وقس علی ھذا (آیت) ” وھم ..... مسکین “۔ خدا فراموشی اور آخرت فراموشی کے ساتھ ساتھ یہ باغ والے، مسکینوں محتاجوں کے حصہ کے بھی روادار نہ تھے۔ کمال بخل یا شدت حرص سے۔
Ayah 68:26

فَلَمَّا رَاَوْهَا قَالُوْۤا اِنَّا لَضَآلُّوْنَۙ Open ayah 68:26 in the Quran reader

تو جب اس (باغ) کو دیکھا تو بول اٹھے کہ یقیناً ہم راستہ بھول گئے،12۔

12۔ (جو کہیں یہاں نکل آئے) باغ اب باقی ہی کہاں تھا، جسے وہ لوگ دیکھ کر پہچانتے، یہی سمجھے کہ ہم کسی غلط جگہ آگئے ہیں۔
Ayah 68:27

بَلْ نَحْنُ مَحْرُوْمُوْنَ Open ayah 68:27 in the Quran reader

نہیں بلکہ اصل یہ ہے کہ ہماری قسمت ہی پھوٹ گئی،13۔

13۔ (کہ پھلاپھلا یا باغ یوں لٹ گیا) یہ انہوں نے اس وقت کہا جب باغ کی بربادی کا پورا یقین آگیا۔
Ayah 68:28

قَالَ اَوْسَطُهُمْ اَلَمْ اَقُلْ لَّكُمْ لَوْ لَا تُسَبِّحُوْنَ Open ayah 68:28 in the Quran reader

پھر ان میں سے جو (نسبۃ) بہتر تھا وہ بولا کہ کیوں میں نے تم سے کہا نہ تھا سو (اب) تسبیح کیوں نہیں کرتے ہو ؟ ،14۔

14۔ یعنی توبہ و استغفار سے اپنی غلطی کا تدارک کیوں نہیں کرتے۔ (آیت) ” اوسطھم “۔ یعنی ان لوگوں میں سے بہترین شخص۔ ابن عباس ؓ صحابی اور ائمہ تابعین نے یہی معنی لیے ہیں۔ اے اعدلھم واعقلھم وافضلھم ‘(معالم) قال ابن عباس ؓ مجاھد و سعید بن جبیر وعکرمہ ومحمد بن کعب والربیع بن انس والضحاک وقتادۃ اے اخیرھم (ابن کثیر) بعض نے لفظی معنی لے کر باغوں کے مالکوں میں سے منجھلے بھائی سے مراد لی ہے۔ قال ..... لکم “۔ یہ شخص وہ تھا جس کا عقیدہ تو صحیح تھا لیکن عملا یہ بھی ان لوگوں کا شریک حال ہوگیا تھا۔ (آیت) ” لو لا تسبحون “ تسبیح کے عموم میں توبہ، استغفار وغیرہ سب شامل ہیں۔ اے لولا تذکروں اللہ وتتوبون الیہ من خبث نیتکم (مدارک) کہنے والے کا مطلب یہ تھا کہ پچھلے گناہ کی معافی اور آیندہ کے لئے احتیاط کی فکر کرو۔
Ayah 68:29

قَالُوْا سُبْحٰنَ رَبِّنَاۤ اِنَّا كُنَّا ظٰلِمِیْنَ Open ayah 68:29 in the Quran reader

وہ لوگ بولے کہ ہمارا پروردگار پاک ہے بیشک ہم ہی قصور وار ہے،15۔

15۔ اس ذرا سے فقرہ کے اندر تمہید استغفار اور نفس استغفار دونوں آگئے۔
Ayah 68:30

فَاَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلٰى بَعْضٍ یَّتَلَاوَمُوْنَ Open ayah 68:30 in the Quran reader

پھر ایک دوسرے کی طرف مخاطب ہوئے باہم الزام دیتے ہوئے،16۔

16۔ جیسا کہ کام بگڑجانے پر دنیا میں عموما وعادتا ہوا کرتا ہے۔
Ayahs 68:31–32

قَالُوْا یٰوَیْلَنَاۤ اِنَّا كُنَّا طٰغِیْنَ Open ayah 68:31 in the Quran reader

(پھر سب) بولے (کہ) ہائے ہماری شامت کہ ہم ہی سرکشی کرنے والے تھے،

عَسٰى رَبُّنَاۤ اَنْ یُّبْدِلَنَا خَیْرًا مِّنْهَاۤ اِنَّاۤ اِلٰى رَبِّنَا رٰغِبُوْنَ Open ayah 68:32 in the Quran reader

شاید کہ ہمارا پروردگار ہمیں اس سے بہتر (باغ) بدلہ میں دے دے، ہم تو (اب) اپنے پروردگار کی طرف رجوع ہوتے ہیں،17۔

17۔ یعنی توبہ وتدارک کرنے میں (آیت) ” یبدلنا خیرا منھا “۔ بدل عام ہے خواہ دنیا میں ملے خواہ آخرت میں اور عجب نہیں کہ دونوں جگہ ہو، صحابی ابن مسعود ؓ کا قول نقل ہوا ہے کہ بہتر باغ انہیں دنیا ہی میں مل گیا۔ اور مجاہد تابعی (رح) سے بھی ایسا ہی منقول ہے۔ عن ابن مسعود ؓ المعنی انھم اخلصوا فابدلھم بہ جنۃ (مدارک) عن مجاہد تابوا فابدلواخیرا منہ (مدارک)
Ayah 68:33

كَذٰلِكَ الْعَذَابُ١ؕ وَ لَعَذَابُ الْاٰخِرَةِ اَكْبَرُ١ۘ لَوْ كَانُوْا یَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 68:33 in the Quran reader

عذاب اسی طرح (ہوا کرتا ہے) اور آخرت کا عذاب کہیں بڑھا ہوا ہے کاش یہ لوگ (اسے) جان لیتے،18۔

18۔ کاش بندوں کو اس حقیقت کا علم ہوتا اور استحضار رہا کرتا کہ معصیت ونافرمانی کی پاداش میں جو عذاب اس دنیا میں کبھی کبھی ہوتا رہتا ہے، جب اس کانمونہ یہ ہے تو کفر و انکار پر عذاب جس کا پور ظہور آخرت میں ہی میں ہوگا۔ ظاہر ہے کہ وہ اس سے کس درجہ بڑھا ہوا ہوگا۔
Ayah 68:34

اِنَّ لِلْمُتَّقِیْنَ عِنْدَ رَبِّهِمْ جَنّٰتِ النَّعِیْمِ Open ayah 68:34 in the Quran reader

بیشک پرہیزگاروں کے لئے ان کے رب کے پاس آسائش کے باغ میں،19۔

19۔ یہاں یہ بتلا دیا کہ جنات النعیم میں داخلہ کا سبب تقوی ہوگا اور تقوی کا ابتدائی اور لازمی درجہ ایمان ہے۔
Ayahs 68:35–36

اَفَنَجْعَلُ الْمُسْلِمِیْنَ كَالْمُجْرِمِیْنَؕ Open ayah 68:35 in the Quran reader

تو کیا ہم فرمانبرداروں کو نافرمانوں کا سا کردیں گے ، ؟

مَا لَكُمْ١ٙ كَیْفَ تَحْكُمُوْنَۚ Open ayah 68:36 in the Quran reader

تمہیں کیا ہوگیا ! تم کیسا فیصلہ کرتے ہو،20۔

20۔ (جو اتنے کھلے ہوئے فرق کو محسوس نہیں کرتے) مطلب یہ ہوا کہ متقین کو یہ درجہ اگر نہ ملے تو گویا مطیع ونافرمان دونوں برابر ٹھہرے (آیت) ” المسلمین “۔ یہ مراد وہ لوگ ہیں جو عادتا مطیع حق رہے ہیں۔ (آیت) ” المجرمین “۔ مراد وہ لوگ ہیں جو عادتا نافرمان و قانون شکن رہے ہیں۔
Ayahs 68:37–38

اَمْ لَكُمْ كِتٰبٌ فِیْهِ تَدْرُسُوْنَۙ Open ayah 68:37 in the Quran reader

کی تمہارے پاس کوئی (آسمانی) کتاب ہے جس میں تم پڑھتے ہو،

اِنَّ لَكُمْ فِیْهِ لَمَا تَخَیَّرُوْنَۚ Open ayah 68:38 in the Quran reader

کہ اس میں تمہارے لئے وہ چیز (درج) ہے جسے تم پسند کرتے ہو ؟ ،21۔

21۔ یعنی آخرت میں نجات اور کامیابی۔ مطلب یہ ہوا کہ تمہارے عقائد کی صحت کی پشت پر کوئی خدائی سند، کوئی آسمانی شہادت ہے ؟
Ayah 68:39

اَمْ لَكُمْ اَیْمَانٌ عَلَیْنَا بَالِغَةٌ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ١ۙ اِنَّ لَكُمْ لَمَا تَحْكُمُوْنَۚ Open ayah 68:39 in the Quran reader

کیا ہمارے ذمہ کچھ تمہارے حق میں کھائی ہوئی قسمیں ہیں قیامت تک باقی رہنے والی کہ تم کو وہ چیزیں ملیں گی جن کا تم فیصلہ کررہے ہو ؟ ،22۔

22۔ یعنی جنت اور اجر۔