68. Surah Al-Qalam

القلمThe Pen · 52 ayahsجواھر القرآن

Ayahs 68:1–2

نٓ وَ الْقَلَمِ وَ مَا یَسْطُرُوْنَۙ Open ayah 68:1 in the Quran reader

قسم ہے2 قلم کی اور جو کچھ لکھتے ہیں

مَاۤ اَنْتَ بِنِعْمَةِ رَبِّكَ بِمَجْنُوْنٍۚ Open ayah 68:2 in the Quran reader

تو نہیں اپنے رب کے فضل سے دیوانہ

2:۔ ” ن والقلم۔ تا۔ لعلی خلق عظیم “ تسلیہ برائے نبی کریم ﷺ ۔ والقلم معطوف قسم ہے اور ما انت بنعمۃ ربک بمجنون، جواب قسم ہے اور اس کے بعد کا مضمون مستانف ہے۔ مایسطرون سے مراد کراما کاتبین ہیں یا اہل علم مراد ہیں جو علوم دین کو قید تحریر میں لاتے ہیں۔ ای الحفظۃ الذین یکتبون اعمال بنی ادم او العلماء الذین یکتبون علوم الدین (مظہری ج 10 ص 30) قلم جس سے علوم دین لکھے جاتے ہیں نیز علماء دین اس پر گواہ ہیں کہ آپ بحمد اللہ تعالیٰ مجنون نہیں ہیں، کیونکہ آپ کی باتیں علم و حکمت سے لبریز ہوتی ہیں اور دیوانوں سے ایسی باتوں کا صدور نہیں ہوسکتا۔ نیز آپ نے جو قرآن پیش کیا ہے وہ علوم و معارف کا خزینہ اور اپنی لفظی اور معنوی خوبیوں کے اعتبار سے معجز اور بےمثل ہے۔ کیا کوئی دیوانہ بھی ایسی کتاب لاسکتا ہے ؟
Ayahs 68:3–4

وَ اِنَّ لَكَ لَاَجْرًا غَیْرَ مَمْنُوْنٍۚ Open ayah 68:3 in the Quran reader

اور تیرے واسطے3 بدلہ ہے بےانتہا

وَ اِنَّكَ لَعَلٰى خُلُقٍ عَظِیْمٍ Open ayah 68:4 in the Quran reader

اور تو پیدا ہوا ہے بڑے خلق پر

3:۔ ” وان لک “ آپ اپنے کام میں ثابت قدم رہیں، راہ حق اور تبلیغ توحید میں آپ نے جو شدائد برداشت کیے ہیں ان کا آپ کو ایسا اجر وثواب ملے گا جو کبھی ختم نہیں ہوگا۔ ای ثوابا ما تحملت من اثقالا لنبوۃ (قرطبی ج 18 ص 226) ۔ ” وانک لعلی خلق عظیم “ خلق سے اخلاق و عادات مراد ہیں آپ کے خلق کو ” عظیم “ فرمایا کیونکہ آپ کی ذات گرامی میں تمام مکارم اخلاق علی وجہ الاتم موجود تھے اور آپ قرآنی اخلاق و آداب کا مجسم نمونہ تھے۔ حضرت عائشہ ؓ سے جب آپ کے خلق کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا ” کان خلقہ القران “ کہ آپ کا خلق قرآن ہے یعنی آپ کے تمام اعمال و افعال اور اخلاق و عادات قرآنی تعلیم کے عین مطابق تھے۔ یا خلق سے دین اسلام راد ہے جو تمام دینوں سے افضل اور خدا کے یہاں سب سے زیادہ پسندیدہ ہے۔ یہ حضرت ابن عباس اور مجاہد رحمہما اللہ سے منقول ہے۔ قال ابن عباس و مجاھد : علی خلق علی دین عظیم من الادیان لیس دین احب الی اللہ تعالیٰ ولا ارضی عندہ منہ (قرطبی ج 18 ص 227) ۔ وھو دین الاسلام (مظہری ج 10 ص 31) ۔
Ayahs 68:5–6

فَسَتُبْصِرُ وَ یُبْصِرُوْنَۙ Open ayah 68:5 in the Quran reader

سو اب تو بھی دیکھ لے گا اور4 وہ بھی دیکھ لے گا

بِاَىیِّكُمُ الْمَفْتُوْنُ Open ayah 68:6 in the Quran reader

کہ کون ہے تم میں جو بچل رہا ہے

4:۔ ” فستبصر ویبصورن “ یہ مشرکین پر زجر ہے۔ ” المفتون “ مصدر ہے۔ یعنی الفتنۃ بمعنی الجنون (روح) ۔ بہت جلد دنیا ہی میں جب اسلام کو غلبہ حاصل ہوجائے گا اور یہ صنادید کفر اور اراکین شرک مسلمانوں کے ہاتھوں مغلوب و مقہور ہوں گے تو ان کا سارا غرور خاک میں مل جائے گا اس وقت آپ بھی مشاہدہ کرلیں گے اور وہ خود بھی دیکھ لیں گے کہ حقیقت میں دیوانہ اور مجنون کون ہے ؟ حاصل یہ ہے کہ اس وقت انہیں معلوم ہوجائے گا کہ حقیقت میں دیوانے تو وہ خود ہیں۔ جنہوں نے دین حق سے اعراض کر کے دنیا اور آخرت میں ذلت و رسوائی مول لی اور اللہ کے سچے پیغمبر (علیہ السلام) کو جھوٹے طعنوں کا نشانہ بتاتے رہے۔
Ayah 68:7

اِنَّ رَبَّكَ هُوَ اَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ عَنْ سَبِیْلِهٖ١۪ وَ هُوَ اَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِیْنَ Open ayah 68:7 in the Quran reader

بیشک تیرا رب5 وہی خوب جانے اس کو جو بہکا اس کی راہ سے اور وہی خوب جانتا ہے راہ پانے والوں کو

5:۔ ” ان ربک “ اللہ تعالیٰ دونوں جماعتوں کو خوب جانتا ہے جو سیدھی راہ سے گمراہ ہیں ان کو بھی جانتا ہے اور جو لوگ سیدھی راہ پر گامزن ہیں ان کو بھی، وہ دنیا و آخرت میں ہر ایک کے ساتھ اس کے حال کے موافق معاملہ فرمائے گا۔ جو لوگ حق سے منحرف ہیں حقیقت میں وہی مجانین ہیں اور اہل ایمان کمال عقل سے متصف ہیں کیونکہ انہوں نے سیدھی راہ اختیار کی ہے۔
Ayahs 68:8–9

فَلَا تُطِعِ الْمُكَذِّبِیْنَ Open ayah 68:8 in the Quran reader

سو تو کہنا مت6 مان جھٹلانے والوں کا

وَدُّوْا لَوْ تُدْهِنُ فَیُدْهِنُوْنَ Open ayah 68:9 in the Quran reader

وہ چاہتے ہیں کسی طرح تو ڈھیلا ہو تو وہ بھی ڈھیلے ہوں

6:۔ ” فلا تطع المکذبین “ فاء تفریعیہ ہے۔ جب یہ بات واضح ہوگئی کہ آپ بحمد اللہ مجنون نہیں ہیں، بلکہ یہ آپ کے مخالفین مجانین ہیں۔ اس لیے آپ ان حق کا انکار کرنے والوں کی اطاعت نہ کریں اور ان کی کوئی بات نہ مانیں۔ ” ودوا لو تدھن فیدھنون “ یہ سورت کا دعوی ہے۔ ” فیدھنون “ تمنی کا جواب نہیں ورنہ ” فیدھنوا “ ہوتا۔ اس لیے یہ اصل میں ” فھم یدھنون “ ہے۔ مشرکین کی تمنا اور خواہش ہے کہ آپ توحید کے معاملے میں نرم ہوجائیں یعنی ان کو شرک سے نہ روکیں اور ان کے معبودوں کی عاجزی اور بےبسی کا ذکر نہ کیا کریں، ویسے خود بڑی خوشی سے اپنے معبود کی عبادت کریں اور اس کے صفات و کمالات بیان کیا کریں اور اس کو برکات دہندہ سمجھیں لیکن ان کے معبودوں کو کچھ نہ کہیں اور یہ صراحت نہ کریں کہ وہ برکات دہندہ نہیں ہیں۔ تو اس صورت میں وہ بھی نرم ہوجائیں گے اور آپ پر طعن نہیں کریں گے اور نہ آپ کو تبلیغ اور خدائے واحد کی عبادت سے روکیں گے یا مطلب یہ ہے کہ وہ تو اب نرم ہورہے ہیں اس خواہش میں کہ شاید آپ بھی نرم ہوجائیں۔ مگر یادرکھیے مسئلہ توحید میں ادنی مداہنت کی بھی اجازت نہیں۔ آپ اس میں نرم نہ ہونا اور صاف صاف بیان کرنا کہ تمہارے خود ساختہ معبود عاجز ہیں اور کچھ نہیں کرسکتے۔ ای فھم یدھنون حینئذ او فھم الان یدھنون طمعا فی ادھانک (روح ج 29 ص 26) ۔
Ayahs 68:10–14

وَ لَا تُطِعْ كُلَّ حَلَّافٍ مَّهِیْنٍۙ Open ayah 68:10 in the Quran reader

اور تو کہا مت مان7 کسی قسمیں کھانے والے بےقدر کا

هَمَّازٍ مَّشَّآءٍۭ بِنَمِیْمٍۙ Open ayah 68:11 in the Quran reader

طعنے دے چغلی کھاتا پھرے،

مَّنَّاعٍ لِّلْخَیْرِ مُعْتَدٍ اَثِیْمٍۙ Open ayah 68:12 in the Quran reader

بھلے کام سے روکے حد سے بڑھے بڑا گنہگار

عُتُلٍّۭ بَعْدَ ذٰلِكَ زَنِیْمٍۙ Open ayah 68:13 in the Quran reader

اُجڈ ان سب کے پیچھے بدنام

اَنْ كَانَ ذَا مَالٍ وَّ بَنِیْنَؕ Open ayah 68:14 in the Quran reader

اس واسطے کہ رکھتا ہے مال اور بیٹے

7:۔ ” ولا تطع کل حلاف “ اعادہ صیغہ نہی بعد عہد کی وجہ سے ہے۔ ” حلاف “ بات بات پر جھوٹی قسمیں کھانے والا دنیوی کاموں میں بھی اور دینی امور میں بھی مثلاً غیر اللہ کو پکارتا ہے اور پھر قسمیں کھاتا ہے کہ میں اپنے فلاں معبود کو پکارا تھا اس لیے میرا کام ہوگیا۔ ” مھین “ گھٹیاں اور پست ذہنیت رکھنے والا۔ ” ھماز “ اہل توحید کی عیب چینی کرنے والا۔ ” مشاء بنمیم “ اہل توحید کی چغلی کھانے والا۔ ” مناع للخیر “ بھلائی سے روکنے والا۔ ” معتد “ حد سے گذرنے والا۔ ” اثیم “ بہت بڑا مجرم۔ ” عتل “ بد زبان، کج خلق۔ ” یعد ذلک “ یعنی اس کے علاوہ ” زنیم “ شرو فساد میں معروف۔ من الروح والبیضاوی۔ یہ مکذبین کی صفات ہیں جن کی بات ماننے سے آپ کو منع کیا گیا ہے۔ ” ان کان ذا مال وبنین “ لام تعلیلیہ مقدر ہے۔ ای لان کان، اور یہ ” لا تطع “ کی علت ہے۔ حاصل یہ ہے کہ ایسی برائیوں کے حامل کی اس لیے بھی اطاعت نہ کر کہ وہ بڑا مال دار اور کثیر آل اولاد والا ہے۔ ان کی باتوں کی پروا مت کر اور اپنا کام، تبلیغ کیے جا۔
Ayahs 68:15–16

اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِ اٰیٰتُنَا قَالَ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 68:15 in the Quran reader

جب سنائے8 اس کو ہماری باتیں کہے یہ نقلیں ہیں پہلوں کی

سَنَسِمُهٗ عَلَى الْخُرْطُوْمِ Open ayah 68:16 in the Quran reader

اب داغ دیں گے ہم اس کو سونڈ پر

8:۔ ” اذا تتلی علیہ “ یہ شکوی ہے، جب ایسے ذمیم اور بہر بدی موصوف کے سامنے ہماری آیتیں پڑھی جاتی ہیں تو کہہ دیتا ہے کچھ نہیں یہ تو محض گذشتہ لوگوں کے قصے کہانیاں ہی ہیں۔ ” سنسمہ علی الخرطوم “ ان بد قماشوں کے لیے وعید ہے دنیوی۔ یہ لوگ پیغمبر (علیہ السلام) کے اتباع سے ناک بھوں چڑھاتے اور آپ کی پیروی میں شرم و عار محسوس کرتے۔ اس لیے ہم دنیا ہی میں ان کو ذلیل و رسوا کر کے ان کی بڑائی خاک میں ملا دیں گے اس طرح یہ تذلیل و تحقیر سے کنایہ ہے۔ وقیل المعنی سنلحق بہ عار وسبۃ حتی یکون کمن وسم علی انفہ (قرطبی ج 18 ص 237) ۔ یا یہ وعید اخروی ہے یعنی جس ناک سے وہ پھوں پھوں کرتا ہے اور سمجھتا ہے کہ محمد ﷺ کی پیروی سے ناک کٹتی ہے قیامت کے دن ہم اس کی وہی ناک کاٹیں گے اور جہنم کی آگ میں اس کو داغ دیں گے۔ وقال بعض ھو فی الاخرۃ ومن القائلین بان ھذا وعید بامر یکون فیہا من قال ھو تعذیب بنار علی انفہ فی جھنم (روح ج 29 ص 29) ۔ تنبیہ : یہ آیتیں کسی مخصوص آدمی کے حق میں نہیں ہیں، بلکہ اس سے تمام وہ کفار مراد ہیں جو ان اوصاف سے متصف ہوں۔ شان نزول میں مخصوص شخص کے ذکر کا مطلب یہ ہے کہ وہ مخصوص فرد بھی اس میں شامل ہے، یہ مطلب نہیں کہ یہ آیتیں اس کے ساتھ مخصوص ہیں اور کسی اور کو شامل نہیں ہیں۔
Ayahs 68:17–18

اِنَّا بَلَوْنٰهُمْ كَمَا بَلَوْنَاۤ اَصْحٰبَ الْجَنَّةِ١ۚ اِذْ اَقْسَمُوْا لَیَصْرِمُنَّهَا مُصْبِحِیْنَۙ Open ayah 68:17 in the Quran reader

ہم نے ان کو جانچا9 ہے جیسے جانچا تھا باغ والوں کو2 جب ان سب10 نے قسم کھائی کہ اس کا میوہ توڑیں گے صبح ہوتے

وَ لَا یَسْتَثْنُوْنَ Open ayah 68:18 in the Quran reader

اور انشاء اللہ نہ کہا

9:۔ ” انا بلوناھم “ یہ تخویف دنیوی کا نمونہ ہے۔ ضمیر منصوب اہل مکہ سے کنایہ ہے۔ ” اصحاب الجنۃ “ سے گذشتہ زمانے کے وہ بھائی مراد ہیں جنہوں نے ایک نہایت عمدہ باغ اپنے باپ سے وراثت میں پایا تھا۔ صنعاء الیمن کے قرب و جوار میں ایک شخص رہتا تھا جس کا ایک بہت اچھا باغ تھا جس میں ہر قسم کے میووں اور پھلوں کے درخت تھے یہ شخص بہت نیک تھا اور صرف خدا ہی کو برکات دہندہ سمجھتا تھا باغ کی پیداوار میں سے دل کھول کر خدا کی راہ میں خرچ کرتا اور مساکین کو کھلاتا تھا۔ مساکین صبح صبح ہی اس کے باغ میں پہنچ جاتے اور پھل توڑ کر ان کو کھلاتا اور ساتھ لے جانے کے لیے بھی دیتا اس کی وفات ہوئی تو اس کے بیٹوں نے سوچا کہ ہمارا باپ کوئی عقلمند نہیں تھا۔ وہ اپنی دولت فضول مسکینوں اور غریبوں میں بانٹ دیتا تھا اب انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ راتوں رات ہی پھل توڑ کرلے آئیں کہ جب مساکین وہاں پہنچیں تو وہ پھل سمیٹ کر واپس آچکے ہوں۔ ایک کے سوا یہ تمام بھائی مشرک تھے اور اپنے خود ساختہ معبودوں کو برکات دہندہ سمجھتے تھے چناچہ انہوں نے قسمیں کھا کر یہ فیصلہ کیا اور جب وہ یہ فیصلہ کر رہے تھے اس وقت وہ استثناء نہیں کر رہے تھے یعنی شرک سے اللہ تعالیٰ کی تقدیس و تنزیہ نہیں کر رہے تھے اور برکات دینے میں اللہ کو وحدہ لا شریک نہیں سمجھ رہے تھے اور انہیں یہ خیال نہیں آرہا تھا کہ اللہ تعالیٰ کے حکم اور اس کی مشیت کے بغیر وہ کچھ نہیں کرسکتے۔ قال ابو صالح، کان استثنائہم قولہم سبحان اللہ ربنا (قرطبی ج 18 ص 241) ۔ مگر ان میں سے ایک جو علم و فہم اور عقل و اعتقاد کے اعتبار سے سب پر فائق تھا اس نے ان کو اس حرکت سے منع کیا تھا اور انہیں سمجھا یا تھا کہ وہ خدا کی تسبیح و تقدیس کریں اور اللہ کے سوا کسی اور کو برکات دہندہ نہ سمجھیں مگر انہوں نے اس کی ایک نہ سنی آخر کار اللہ تعالیٰ نے ان کے باغ میں پہنچنے سے پہلے ہی اس کو آفت سماویہ سے تباہ و برباد کردیا۔ فرمایا ہم نے ان باغ والوں کو دنیوی نعمتوں سے مالا مال کر کے آزمایا۔ مگر انہوں نے ناشکری کی اور اللہ کے سوا اوروں کو برکات دہندہ سمجھنے لگے جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان کو ان نعمتوں سے محروم کردیا گیا اسی طرح اہل مکہ کو ہم نے تمام دنیوی نعمتیں اور آسائشیں دیں اور سب سے بڑی نعمت ہم نے ان کو یہ عطا کی کہ سید الانبیاء ﷺ کو ان میں مبعوث فرمایا مگر انہوں نے ان تمام نعمتوں کی بےقدری اور ناشکری کی اور اپنے معبودان باطلہ کو برکات دہندہ سمجھا تو ہم نے ان پر سخت ترین قحط مسلط کردیا ہے۔ 10:۔ ” اذ اقسموا “ انہوں نے قسمیں کھا کر پختہ فیصلہ کرلیا کہ بالکل علی الصبح باغ میں پہنچ کر پھل توڑ لیں گے۔ مقصد یہ تھا کہ مساکین کے پہنچنے سے پہلے اپنا کام ختم کر کے واپس آجائیں۔ ولا یستثنون ای ولا یسحون بقرینۃ لولا تسبحون اور قالو اسبحان ربنا۔ یعنی وہ شرک سے اللہ تعالیٰ کی تنزیہ و تقدیس نہیں کر رہے تھے اور برکات دہندہ ہونے میں اللہ تعالیٰ کو وحدہ لاشریک نہیں مانتے تھے بلکہ اپنے خود ساختہ معبودوں کو بھی برکات دہندہ سمجھتے تھے۔
Ayahs 68:19–25

فَطَافَ عَلَیْهَا طَآئِفٌ مِّنْ رَّبِّكَ وَ هُمْ نَآئِمُوْنَ Open ayah 68:19 in the Quran reader

پھر پھیرا کر گیا11 اس پر کوئی پھرجانے والا تیرے رب کی طرف سے اور وہ سوتے ہی رہے

فَاَصْبَحَتْ كَالصَّرِیْمِۙ Open ayah 68:20 in the Quran reader

پھر صبح تک ہو رہا جیسے ٹوٹ چکا

فَتَنَادَوْا مُصْبِحِیْنَۙ Open ayah 68:21 in the Quran reader

پھر آپس میں بولے صبح ہوتے

اَنِ اغْدُوْا عَلٰى حَرْثِكُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰرِمِیْنَ Open ayah 68:22 in the Quran reader

کہ سویرے چلو اپنے کھیت پر اگر تم کو توڑنا ہے

فَانْطَلَقُوْا وَ هُمْ یَتَخَافَتُوْنَۙ Open ayah 68:23 in the Quran reader

پھر چلے اور آپس میں کہتے تھے چپکے چپکے

اَنْ لَّا یَدْخُلَنَّهَا الْیَوْمَ عَلَیْكُمْ مِّسْكِیْنٌۙ Open ayah 68:24 in the Quran reader

کہ اندر نہ آنے پائے اس میں آج تمہارے پاس کوئی محتاج

وَّ غَدَوْا عَلٰى حَرْدٍ قٰدِرِیْنَ Open ayah 68:25 in the Quran reader

اور سویرے چلے لپکتے ہوئے زور کے ساتھ

11:۔ ” فطاف علہا “۔ طائف سے جبریل (علیہ السلام) مراد ہیں جو عذاب الٰہی لے کر آئے تھے۔ یہ فیصلہ کر کے وہ سو گئے، رات کو اللہ نے اس پر ایسا عذاب نازل فرمایا کہ سارا باغ تباہ و برباد ہوگیا اور زمین اس طرح صاف ہوگئی جس طرح وہاں سے سب کچھ کاٹ لیا گیا ہو۔ ” فتنادوا مصبحین “ صبح ہونے کو ہوئی تو سب نے ایک دوسرے کو آوازز دی کہ پھل توڑنا ہے تو جلدی جلدی باغ میں پہنچو۔ چناچہ سب روانہ ہوئے اور آہستہ آہستہ ایک دوسرے سے کہتے جارہے تھے کہ آج کوئی مسکین ہمارے قریب نہ آنے پائے۔ ” وغدوا علی حرد قادرین “ حرد، روکنا اور نہ دینا۔ چناچہ جب وہ وہاں پہنچے تو وہ خوش تھے اور اپنے زعم میں سمجھ رہے تھے کہ وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہیں اور آج وہ مسکینوں کو کچھ بھی نہیں دیں گے۔
Ayahs 68:26–28

فَلَمَّا رَاَوْهَا قَالُوْۤا اِنَّا لَضَآلُّوْنَۙ Open ayah 68:26 in the Quran reader

پھر جب اس کو12 دیکھا بولے ہم تو راہ بھول آئے

بَلْ نَحْنُ مَحْرُوْمُوْنَ Open ayah 68:27 in the Quran reader

نہیں ہماری تو قسمت پھوٹ گئی

قَالَ اَوْسَطُهُمْ اَلَمْ اَقُلْ لَّكُمْ لَوْ لَا تُسَبِّحُوْنَ Open ayah 68:28 in the Quran reader

بولا بچلا ان کا میں نے تم کو نہ کہا تھا کہ کیوں نہیں پاکی بولتے اللہ کی

12:۔ ” فلما راوھا “ جب وہ باغ کی جگہ پہنچے تو اسے اجڑا ہوا دیکھ کر بولے رات کے اندھیرے میں ہم راستہ بھول گئے ہیں اور اپنے باغ کے بجائے کسی دوسری جگہ پہنچ گئے۔ ” بل نحن محرومون “ لیکن جب انہوں نے آس پاس کے کھیتوں اور زمینوں کا بغور جائزہ لیا تو سمجھ گئے کہ یہ جگہ تو ہمارے ہی باغ کی ہے اور ہم راستہ نہیں بھولے بلکہ اللہ نے اس کو اجاڑ کر ہمیں اس کے پھل سے محروم کردیا ہے۔ قال اوسطھم، اب ان میں سے جو سب سے اچھا بھائی تھا، وہ بولا : کیا میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ تم خدا کی تسبیح و تقدیس کیوں نہیں کرتے ہو اور برکات دینے میں اس کو وحدہ لا شریک کیوں نہیں سمجھتے ہو ؟۔
Ayahs 68:29–32

قَالُوْا سُبْحٰنَ رَبِّنَاۤ اِنَّا كُنَّا ظٰلِمِیْنَ Open ayah 68:29 in the Quran reader

بولے13 پاک ذات ہے ہمارے رب کی ہم ہی تقصیر وار تھے

فَاَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلٰى بَعْضٍ یَّتَلَاوَمُوْنَ Open ayah 68:30 in the Quran reader

پھر منہ کر کر ایک دوسرے کی طرف لگے الا ہنا (الزام) دینے

قَالُوْا یٰوَیْلَنَاۤ اِنَّا كُنَّا طٰغِیْنَ Open ayah 68:31 in the Quran reader

بولے ہائے خرابی ہماری ہم ہی تھے حد سے بڑھنے والے

عَسٰى رَبُّنَاۤ اَنْ یُّبْدِلَنَا خَیْرًا مِّنْهَاۤ اِنَّاۤ اِلٰى رَبِّنَا رٰغِبُوْنَ Open ayah 68:32 in the Quran reader

شاید ہمارا رب بدل دے ہم کو اس سے بہتر ہم اپنے رب سے آرزو رکھتے ہیں

13:۔ ” قالوا سبحن ربنا “ اب ان کے ہوش ٹھکانے آئے اور فوراً بول اٹھے ہمارا پروردگار شرک سے پاک ہے بیشک ہم غیر اللہ کو برکات دہندہ سمجھ کر اپنی جانوں پر ظلم کر رہے تھے۔ ” فاقبل بعضہم اب وہ ایک دوسرے کو ملامت کرنے لگے اور آخر انہوں نے اعتراف کرلیا کہ انہوں نے جو کچھ بھی کیا ہے وہ حدود اللہ سے تجاوز تھا۔ ” عسی ربنا ان یبدلنا “ ہم اپنے کیے پر نادم ہیں اور اپنے پروردگار سے امید رکھتے ہیں کہ اب جبکہ ہم اپنے کیے سے توبہ کرچکے ہیں، وہ ہمیں اس کے عوض بہتر باغ عطا فرمائیگا کیونکہ اب ہم توبہ کر کے اللہ کی طرف راغب ہوچکے ہیں اور اس کی بارگاہ سے عفو درگذر کی امید رکھتے ہیں۔
Ayah 68:33

كَذٰلِكَ الْعَذَابُ١ؕ وَ لَعَذَابُ الْاٰخِرَةِ اَكْبَرُ١ۘ لَوْ كَانُوْا یَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 68:33 in the Quran reader

یوں آتی ہے14 آفت اور آخرت کی آفت تو سب سے بڑی ہے اگر ان کو سمجھ ہوتی

14:۔ ” کذلک العذاب “ یہ اہل مکہ کو تنبیہ ہے یعنی دنیا کا عذاب ایسا ہے جس میں تم کو مبتلا کیا گیا ہے اور آخرت کا عذاب ایسا ہے جس میں تم کو مبتلا کیا گیا ہے اور آخرت کا عذاب اس سے بھی زیادہ سخت اور ہولناک ہے۔ اگر وہ اس کو حقیقت کو جان لیں تو کفر و شرک اور تکذیب و انکار سے باز آجائیں۔
Ayah 68:34

اِنَّ لِلْمُتَّقِیْنَ عِنْدَ رَبِّهِمْ جَنّٰتِ النَّعِیْمِ Open ayah 68:34 in the Quran reader

البتہ15 ڈرنے والوں کو ان کے رب کے پاس باغ ہیں نعمت کے

15:۔ ” ان للمتقین “ یہ مومنوں کے لیے بشارت اخرویہ ہے۔ جو لوگ کفر و شرک سے بچنے والے ہیں ان کے لیے نعمتوں کے باغ ہیں جہاں انہیں ہر قسم کی راحت و آسائش اور ہر نعمت میسر ہوگی۔
Ayahs 68:35–36

اَفَنَجْعَلُ الْمُسْلِمِیْنَ كَالْمُجْرِمِیْنَؕ Open ayah 68:35 in the Quran reader

کیا ہم کردیں گے16 حکم برداروں کو برابر گناہ گاروں کے

مَا لَكُمْ١ٙ كَیْفَ تَحْكُمُوْنَۚ Open ayah 68:36 in the Quran reader

کیا ہوگیا تم کو کیسے ٹھہراتے ہو بات

16:۔ ” افنجعل المسلمین “ یہ مشرکین پر زجر ہے۔ مشرکین جب آخرت اور جنت و دوزخ کا ذکر سنتے تو کہتے اگر بالفرض قیامت آ بھی گئی تو ہمارا اور مسلمانوں کا حال بعینہ وہی ہوگا جو آج دنیا میں ہے یعنی ان سے زیادہ دولت و ثروت کے مالک ہوں گے اور ان کو ہم پر کوئی فوقیت اور بڑائی حاصل نہیں ہوگی بلکہ زیادہ سے زیادہ وہ ہمارے برابر ہی ہوں گے اس پر ارشاد فرمایا : کیا ہم مسلمانوں کو ان سرکش اور باغی و طاغی مجرموں کے برابر کردیں گے ؟ ہرگز نہیں، ایسا نہیں ہوگا۔ تمہیں کیا ہوگیا ہے تم کیسی بےتکی اور بےعقلی کی باتیں کرتے ہو۔ استفہام انکاری ہے۔
Ayahs 68:37–39

اَمْ لَكُمْ كِتٰبٌ فِیْهِ تَدْرُسُوْنَۙ Open ayah 68:37 in the Quran reader

کیا تمہارے پاس17 کوئی کتاب ہے جس میں پڑھ لیتے ہو

اِنَّ لَكُمْ فِیْهِ لَمَا تَخَیَّرُوْنَۚ Open ayah 68:38 in the Quran reader

اس میں ملتا ہے تم کو جو تم پسند کرلو

اَمْ لَكُمْ اَیْمَانٌ عَلَیْنَا بَالِغَةٌ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ١ۙ اِنَّ لَكُمْ لَمَا تَحْكُمُوْنَۚ Open ayah 68:39 in the Quran reader

کیا تم نے ہم سے قسمیں لے لی ہیں ٹھیک پہنچنے والی قیامت کے دن تک کہ تم کو ملے گا جو کچھ تم ٹھہراؤ گے

17:۔ ” ام لکم کتب “ خطاب مشرکین سے ہے۔ کیا تمہارے پاس کوئی آسمانی کتاب ہے جس میں تم پڑھتے ہو کہ اس میں تمہاری مرضی کی باتیں موجود ہیں یعنی کیا اس میں لکھا ہے کہ ان کے معبود برکات دہندہ ہیں یا یہ کہ قیامت کے دن مسلمان ان کے برابر ہوں گے ؟ ” ام لکم ایمان “ یا ہم نے تمہارے ساتھ پختہ وعدے کر رکھے ہیں جن کو پورا کرنا قیامت تک ہمارے ذمہ ہے اور جو کچھ تم کہہ رہے ہو، ہم اس کو ضرور پورا کریں گے کہ قیامت کے دن تم مسلمانوں کے برابر ہو گے (بالغۃ) ای ثابتۃ الکم الی یوم القیامۃ لا نخرج عن عھدتہا الا یومئذ اذا حکمنالکم و اعطیناکم ماتحکمون (روح ج 29 ص 34) ۔
Ayah 68:40

سَلْهُمْ اَیُّهُمْ بِذٰلِكَ زَعِیْمٌۚۛ Open ayah 68:40 in the Quran reader

پوچھ ان سے18 کون سا ان میں اس کا ذمہ لیتا ہے

18:۔ ” سلھم “ خطاب آنحضرت ﷺ سے ہے، فرمایا آپ ان دعویداروں سے سوال تو کریں کہ ان کے اس دعوے کا ضامن کون ہے کہ قیامت کے دن ان کا انجام بھی ویسا ہی ہوگا جیسا کہ مسلمانوں کا ہوگا۔ ای سل یا محمد ھؤلاء المتقولین علی ایھم کفی بما تقدم ذکرہ وھو ان لہم من الخیر ما للمسلمین (قرطبی ج 18 ص 247) ۔