68. Surah Al-Qalam

القلمThe Pen · 52 ayahsجواھر القرآن

Ayah 68:41

اَمْ لَهُمْ شُرَكَآءُ١ۛۚ فَلْیَاْتُوْا بِشُرَكَآئِهِمْ اِنْ كَانُوْا صٰدِقِیْنَ Open ayah 68:41 in the Quran reader

کیا ان کے واسطے19 کوئی شریک ہیں پھر تو چاہیے لے آئیں اپنے اپنے شریکوں کو اگر وہ سچے ہیں

19:۔ ” ام لہم شرکاء “ اچھا اگر مذکورہ بالا باتوں میں سے کوئی بات نہیں تو کیا ان کے شرکاء ہیں جو ان کے اس دعوے کو صحیح کردکھائیں گے تو وہ اپنے ان شرکاء کو لے آئیں اور ان کا کوئی کمال تو دکھائیں جس سے ثابت ہو کہ وہ واقعی برکات دہندہ ہیں۔
Ayahs 68:42–43

یَوْمَ یُكْشَفُ عَنْ سَاقٍ وَّ یُدْعَوْنَ اِلَى السُّجُوْدِ فَلَا یَسْتَطِیْعُوْنَۙ Open ayah 68:42 in the Quran reader

جس دن20 کہ کھولی جائے پنڈلی اور وہ بلائے جائیں سجدہ کرنے کو، پھر نہ کرسکیں

خَاشِعَةً اَبْصَارُهُمْ تَرْهَقُهُمْ ذِلَّةٌ١ؕ وَ قَدْ كَانُوْا یُدْعَوْنَ اِلَى السُّجُوْدِ وَ هُمْ سٰلِمُوْنَ Open ayah 68:43 in the Quran reader

جھکی پڑتی ہوں گی ان کی آنکھیں چڑھی آتی ہوگی ان پر ذلت اور پہلے ان کو بلاتے رہے سجدہ کرنے کو اور وہ تھے اچھے خاصے

20:۔ ” یو یکشف “ یہ تخویف اخروی ہے۔ الکشف عن ساق، پنڈلی کھولنا شدت امر اور صعوبت کار سے کنایہ ہے۔ کیونکہ جب انسان کوئی کٹھن کام کرتا ہے تو پنڈلی سے تہبند سمیٹ لیتا ہے۔ قیامت کے دن جب شدت ہول اور افراتفری کا دور دورہ ہوگا اس وقت ان مشرکین سے سجدہ کرنے کو کہا جائے گا تو وہ فورا سجدہ کرنے کے لیے جھکنے کی کوشش کریں گے مگر ان کی پیٹھوں کو تختوں کی مانند سخت کردیا جائے گا اور وہ سجدہ نہیں کرسکیں گے ان کی آنکھیں جھکی ہوں گی اور ان کے چہروں پر ذلت ورسوائی کے آثار نمایاں ہوں گے۔ مومنوں کے چہرے روشن اور درخشاں ہوں گے لیکن کفار و مشرکین کے چہرے نہایت سنیاہ ہوں گے۔ دنیا میں ان کو خدائے واحد کی بارگاہ میں سجدہ کرنے کی دعوت دی جاتی تھی تو وہ اکڑ جاتے تھے حالانکہ اس وقت وہ صحیح سالم تھے اور سجدہ کرسکتے تھے۔ دنیا میں وہ سجدہ سے استکبار کرتے تھے تو قیامت میں بھی ان کو سجدہ کرنے کی استطاعت سے محروم کردیا جائے گا
Ayahs 68:44–45

فَذَرْنِیْ وَ مَنْ یُّكَذِّبُ بِهٰذَا الْحَدِیْثِ١ؕ سَنَسْتَدْرِجُهُمْ مِّنْ حَیْثُ لَا یَعْلَمُوْنَۙ Open ayah 68:44 in the Quran reader

اب چھوڑ دے21 مجھ کو اور ان کو جو کہ جھٹلائیں اس بات کو اب ہم سیڑھی سیڑھی اتاریں گے ان کو جہاں سے ان کو پتہ بھی نہیں

وَ اُمْلِیْ لَهُمْ١ؕ اِنَّ كَیْدِیْ مَتِیْنٌ Open ayah 68:45 in the Quran reader

اور ان کو ڈھیل دیے جاتا ہوں بیشک میرا داؤ پکا ہے

21:۔ ” فذرنی “ یہ سزا دینے پر تمکن وقدرت سے کنایہ ہے۔ مجھے چھوڑو تو سہی میں ان جھٹلانے والوں کے لیے کافی ہوں اور میں ان کو ٹھیک کرلوں گا ہم ان کو مہلت دیں گے اور ان کو نعمتوں سے نوازیں گے اور ان کو معلوم بھی نہ ہوگا کہ یہ ان کے لیے استدراج ہے اور پھر ہم ان کو اچانک پکڑ لیں۔ میری تدبیر ایسی محکم ہے کہ کوئی اس کا مقابلہ نہیں کرسکتا۔ اللہ تعالیٰ کی کید سے مراد انتقام ہے بصورت انعام و امہال فالکید من اللہ الانتقام بصورۃ الانعام (مظہری ج 10 ص 43) ۔
Ayahs 68:46–47

اَمْ تَسْئَلُهُمْ اَجْرًا فَهُمْ مِّنْ مَّغْرَمٍ مُّثْقَلُوْنَۚ Open ayah 68:46 in the Quran reader

کیا تو مانگتا ہے22 ان سے کچھ حق سو ان پر تاوان کا بوجھ پڑ رہا ہے

اَمْ عِنْدَهُمُ الْغَیْبُ فَهُمْ یَكْتُبُوْنَ Open ayah 68:47 in the Quran reader

کیا ان کے پاس خبر ہے غیب کی، سو وہ لکھ لاتے ہیں

22:۔” ام تسئلہم “ یہ معاندین کیوں نہیں مانتے، کیا آپ تبلیغ و ارشاد پر ان سے کوئی معاوضہ طلب کرتے اور وہ اس تاوان کو بوجھ سمجھ کر آپ سے اعراض کرتے ہیں ؟ استفہام انکاری ہے یعنی ایسا نہیں ہے۔ آپ ان سے کسی معاوضہ یا مالی تعاون کا مطالبہ نہیں کرتے، تو پھر ان کے انکار وجحود کی کیا وجہ ہے ؟ ” ام عندھم الغیب “ یا ان کے پاس غیب سے علم آتا ہے جس میں یہ لکھا ہے کہ ان کے معبود برکات دہندہ ہیں جسے وہ لکھ لیتے ہیں اور پھر اس کے مطابق من مانی باتیں کرتے رہتے ہیں اور اس کی وجہ سے آپ کے علم سے بےنیاز ہیں اور اسی لیے آپ کو نہیں مانتے ؟ استفہام انکاری ہے۔ یعنی ایسا نہیں ہے۔ (ام عندھم الغیب فھم یکتبون) مایحکمون بہ ویستغنون بذلک من علمک (روح ج 29 ص 37) ۔ حاصل یہ ہے کہ آپ ان کو بلا معاوضہ توحید کی دعوت دیتے ہیں اور وہ محض جہالت اور ضد وعناد کی وجہ سے آپ کی تکذیب کر رہے ہیں۔
Ayah 68:48

فَاصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ وَ لَا تَكُنْ كَصَاحِبِ الْحُوْتِ١ۘ اِذْ نَادٰى وَ هُوَ مَكْظُوْمٌؕ Open ayah 68:48 in the Quran reader

اب تو استقلال23 سے راہ دیکھتا رہ اپنے رب کے حکم کی اور مت ہو جیسا وہ مچھلی والا جب پکارا اس نے اور وہ غصہ میں بھرا تھا

23:۔ ” فاصبر “ یہ آنحضرت ﷺ کے لیے تسلیہ ہے۔ آپ مشرکین کی تکذیب اور ایذاء سے تنگ آ کر کوئی اقدام نہ کریں بلکہ صبر و تحمل سے سب کچھ برداشت کریں اور اللہ کے حکم کا انتظار کریں اور مچھلی والے (حضرت یونس علیہ السلام) کی مانند نہ ہوں، ورنہ کسی اور مصیبت میں گرفتار ہوجائیں گے۔ جس طرح یونس (علیہ السلام) نے عجلت سے کام لیا اور احوال و قرائن سے ہجرت کا جواز سمجھ کر اللہ کے حکم کا انتظار کیے بغیر ہی شہر سے نکل کھڑے ہوئے تو ہم نے بطور تنبیہ ان کو مچھلی کے پیٹ میں قید کردیا، جہاں انہوں نے کرب والم کی حالت میں ہم سے فریاد کی اور اپنی لغزش کا اعتراف کیا تو ہم نے محض اپنی رحمت سے ان کو رنج والم سے نجات دی ” مکظوم “ مغموم و مکروب۔
Ayahs 68:49–50

لَوْ لَاۤ اَنْ تَدٰرَكَهٗ نِعْمَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ لَنُبِذَ بِالْعَرَآءِ وَ هُوَ مَذْمُوْمٌ Open ayah 68:49 in the Quran reader

اگر نہ سنبھالتا24 اس کو احسان تیرے رب کا تو پھینکا گیا ہی تھا چٹیل میدان میں الزام کھا کر

فَاجْتَبٰىهُ رَبُّهٗ فَجَعَلَهٗ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 68:50 in the Quran reader

پھر نوازا اس کے رب نے پھر کردیا اس کو نیکوں میں

24:۔ ” لولا ان تدار کہ “ اگر اللہ کی نعمت و رحمت اس کی دستگیری نہ کرتی تو اسے کرامت و حرمت سے محروم کر کے چٹیل میدان میں پھینک دیا جاتا، لیکن اللہ کی رحمت نے اس کی دستگیری کی، تو اللہ نے ان کے اعتراف اور تسبیح کی بدولت ان کے درجات میں مزید ترقی عطا فرمائی اور ان کو کاملین میں داخل فمایا۔ یہاں تک کہ اس کے بعد کوئی ان سے خلاف اولی کام سرزد نہ ہوا (من الصالحین) من الکاملین فی الصلاح بان عصمہ من ان یفعل ما ترکہ اولی (بیضاوی ج 2 ص 393) ۔
Ayah 68:51

وَ اِنْ یَّكَادُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَیُزْلِقُوْنَكَ بِاَبْصَارِهِمْ لَمَّا سَمِعُوا الذِّكْرَ وَ یَقُوْلُوْنَ اِنَّهٗ لَمَجْنُوْنٌۘ Open ayah 68:51 in the Quran reader

اور25 منکر تو لگے ہی ہیں کہ پھسلا دیں تجھ کو اپنی نگاہوں سے جب سنتے ہیں قرآن اور کہتے ہیں وہ تو باؤلا ہے

25:۔ ” وان یکادوا “ یہ سورت کی ابتداء سے متعلق ہے۔ جب آپ قرآن کی تلاوت فرماتے اور توحید کی تبلیغ اور صرف اللہ کے برکات دہندہ ہونے کا اعلان کرتے ہیں، تو مشرکین قہر آلود نگاہوں سے آپ کو گھورتے ہیں تاکہ آپ مرعوب ہو کر تبلیغ کا کام چھوڑ دیں اور آپ کو مجنون بھی کہتے ہیں، مگر آپ ثابت قدم رہیں اور تبلیغ کا کام کیے جائیں۔ اللہ آپ کا حافظ و ناصر ہے۔ السدی و سعید بن جبیر : یصرفونک عنا انت علیہ من تبلیغ الرسالۃ (قرطبی ج 18 ص 256) ۔ یصرفونک عما انت علیہ من تبلیغ الرسالۃ وانما اراد انہم ینظرون الیک اذا قرات القران نظرا شدیدا بالعداوۃ والبغضاء یکاد یسقطک (خازن ج 7 ص 141) ۔
Ayah 68:52

وَ مَا هُوَ اِلَّا ذِكْرٌ لِّلْعٰلَمِیْنَ۠ Open ayah 68:52 in the Quran reader

اور یہ26 قرآن تو یہی نصیحت ہے سارے جہان والوں کو

26:۔ ” وما ھو “ حالانکہ یہ قرآن تمام دنیا جہان والوں کے لیے نصیحت ہے اور اس میں ان کے تمام ضروری امور کا بیان ہے اور اس کی تعلیمات ان کے لیے فلاح دارین کی ضامن ہیں، تو کیا ایسی عظیم الشان کتاب کے حامل کو اس کی تبلیغ سے روکنا اور اسے دیوانگی کا طعن دینا کہاں کی عقلمندی ہے ؟ سورة القلم کی خصوصیت : مسئلہ توحید کے بیان میں نرمی اور مداہنت سے ممانعت اور توحید کی خاطر تکلیفیں برداشت کرنے اور صبر و تحمل اختیار کرنے کی تلقین۔ سورة القلم ختم ہوئی