67. Surah Al-Mulk

الملكThe Sovereignty · 30 ayahsجواھر القرآن

Ayah 67:1

تَبٰرَكَ الَّذِیْ بِیَدِهِ الْمُلْكُ١٘ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرُۙ Open ayah 67:1 in the Quran reader

بڑی برکت ہے2 اس کی جس کے ہاتھ میں ہے3 راج اور وہ سب کچھ کرسکتا ہے

2:۔ ” تبرک الذی “ یہ سورت کا دعوی ہے کہ برکات دہندہ صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے اور ہر نعمت اسی کی طرف سے ہے۔ تائید ” وما بکم من نعمۃ فمن اللہ۔ (2) ” وان تعدوا نعمۃ اللہ لا تحصوھا۔ شاہ ولی اللہ دہلوی یوں تعبیر فرماتے ہی۔ برکت از وست ہر برکت و خیر اسی کی طرف سے ہے۔ ” ھو الذی جاء بکل برکۃ وخیر “۔ یہی دعوی سورة الفرقان کی ابتداء میں اس عنوان سے مذکور ہے۔ ” تبرک الذی نزل الفرقان علی عبدہ۔ الایۃ “ سورة الرحمن میں فرمایا ” تبرک اسم ربک ذی الجلل والاکرام۔ یعنی برکت دینے والا اللہ تعالیٰ ہی ہے اور اسی کے نام میں برکت ہے۔ 3:۔ ” بیدہ الملک “ یہ سورت کے دعوے پر پہلی دلیل عقلی عام ہے کہ ساری کائنات کی سلطنت اور اس میں تصرف و اختیار صرف اللہ تعالیٰ ہی کا ہے۔ ” وھو علی کل شیئ قدیر “ دوسری دلیل عقلی عام اور اس کی قدرت ہر چیز پر حاوی ہے، اس لیے ہر نعمت و برکت اسی ہی کی طرف سے ہے۔ بیدہ الملک ای ھو المتصرف فی جمیع المخلوقات بما یشاء لا معقب لحکمہ ولا یسئل عما یفعل لقھرہ و حکمتہ وعدلہ (ابن کثیر ج 4 ص 396) ۔ جب ساری کائنات کا مالک وہی ہے اور ہر چیز پر قادر بھی وہی ہے تو کیا برکات دہندہ کوئی اور ہوگا ؟۔
Ayah 67:2

اِ۟لَّذِیْ خَلَقَ الْمَوْتَ وَ الْحَیٰوةَ لِیَبْلُوَكُمْ اَیُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا١ؕ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْغَفُوْرُۙ Open ayah 67:2 in the Quran reader

جس نے بنایا4 مرنا اور جینا تاکہ تم کو جانچے کون تم میں اچھا کرتا ہے کام اور وہ زبردست ہے بخشنے والا

4:۔ ” الذی خلق الموت “ یہ تیسری دلیل عقلی عام ہے۔ یہ موت وحیات کا سلسلہ اسی نے پیدا فرمایا تاکہ آزمائش کر کے کہ کون نیک عمل کرتا ہے اور کون نہیں اور پھر حساب کتاب بھی وہی لے گا۔ پھر وہ ایسا غالب ہے کہ نہ ماننے والوں کو سزا دے گا اور ایسا مہربان ہے کہ ماننے والوں سے اگر خطائیں ہوجائیں و ان سے اپنے انعامات چھین نہیں لیتا بلکہ استغفار پر در گذر فرماتا ہے اور معافی عطاء کرتا ہے، تو کیا برکات دہندہ کوئی اور ہوگا ؟۔
Ayahs 67:3–4

الَّذِیْ خَلَقَ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ طِبَاقًا١ؕ مَا تَرٰى فِیْ خَلْقِ الرَّحْمٰنِ مِنْ تَفٰوُتٍ١ؕ فَارْجِعِ الْبَصَرَ١ۙ هَلْ تَرٰى مِنْ فُطُوْرٍ Open ayah 67:3 in the Quran reader

جس نے بنائے5 سات آسمان تہ پر تہ کیا دیکھتا ہے تو رحمان کے بنانے میں کچھ فرق پھر دوبارہ نگاہ کر کہیں نظر آتی ہے تجھ کو دڑاڑ

ثُمَّ ارْجِعِ الْبَصَرَ كَرَّتَیْنِ یَنْقَلِبْ اِلَیْكَ الْبَصَرُ خَاسِئًا وَّ هُوَ حَسِیْرٌ Open ayah 67:4 in the Quran reader

پھر لوٹا کر نگاہ کر دوبارہ لوٹ آئے گی تیرے پاس تیری نگاہ رد ہو کر تھک کر

5:۔ ” الذی خلق “ یہ پہلی دلیل عقلی خاص ہے۔ ” طباقا “ تہ بہ تہ، یہ قید مدار کلام ہے جیسا کہ علم معانی میں مذکور ہے کہ مدار کلام قید زائد پر ہوتا ہے۔ ” تفاوت “ اختلاف اور عدم تناسب (روح) ۔ ” فطور “ شگاف۔ ” خاسئ “ ناکام، عاجز۔ ” حسیر “ تھکی ہوئی۔ حاصل یہ کہ اوپر آسمانوں کو دیکھو ہم ہی نے ان کو تہ بہ تہ پیدا کیا۔ جو خوبی صنعت میں برابر ہیں، ان کی طرف بار بار غور سے دیکھو کیا کہیں کوئی شگاف نظر آتا ہے ؟ جتنی بار پھر دیکھو گے تمہاری نگاہیں تھک ہار کر واپس آجائیں گی مگر ہماری صنعت میں انہیں کوئی عیب نظر نہیں آئیگا اس سے معلوم ہوا کہ برکات دہندہ اللہ تعالیٰ ہی ہے جس نے یہ سب کچھ ہمارے لیے پیدا فرمایا۔
Ayah 67:5

وَ لَقَدْ زَیَّنَّا السَّمَآءَ الدُّنْیَا بِمَصَابِیْحَ وَ جَعَلْنٰهَا رُجُوْمًا لِّلشَّیٰطِیْنِ وَ اَعْتَدْنَا لَهُمْ عَذَابَ السَّعِیْرِ Open ayah 67:5 in the Quran reader

اور ہم نے رونق دی6 سب سے ورلے آسمان کو چراغوں سے اور ان سے کر رکھی ہے ہم نے پھینک مار شیطانوں کے واسطے اور رکھا ہے ان کے واسطے عذاب دہکتی آگ کا

6:۔ ” ولقد زینا “ دوسری دلیل عقلی خاص۔ دلیل اول سے بطور ترقی فرمایا کہ آسمانوں کو تو میں نے پیدا کردیا، لیکن کیا پہلے آسمان کو ستاروں سے مزین کسی اور نے کیا ہے ؟ نہیں نہیں یہ بھی ہم ہی نے کیا ہے۔ اسی طرح ” وجعلناھا رجوما للشیاطین “۔ تیسری دلیل عقلی خاص۔ ستاروں کو شیاطین کیلئے رجوم اور ان کی تیز آگ کو ان کے لیے عذاب ہم ہی نے بنایا کیا یہ کام کسی دوسرے کا ہے، ہرگز نہیں، اسی طرح برکات دہندہ بھی کوئی اور نہیں عذاب سعیر سے عذاب جہنم نہیں بلکہ شہاب ثاقب کا عذاب مراد ہے یہ تینوں دلائل آسمانی حالات سے متعلق ہیں۔
Ayahs 67:6–9

وَ لِلَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِرَبِّهِمْ عَذَابُ جَهَنَّمَ١ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ Open ayah 67:6 in the Quran reader

اور جو لوگ7 منکر ہوئے اپنے رب سے ان کے واسطے ہے عذاب دوزخ کا اور بری جگہ جا پہنچے

اِذَاۤ اُلْقُوْا فِیْهَا سَمِعُوْا لَهَا شَهِیْقًا وَّ هِیَ تَفُوْرُۙ Open ayah 67:7 in the Quran reader

جب اس میں ڈالے جائیں گے سنیں گے اس کا دھاڑنا اور وہ اچھل رہی ہوگی، ایسا لگتا ہے کہ پھٹ پڑے گی جوش سے

تَكَادُ تَمَیَّزُ مِنَ الْغَیْظِ١ؕ كُلَّمَاۤ اُلْقِیَ فِیْهَا فَوْجٌ سَاَلَهُمْ خَزَنَتُهَاۤ اَلَمْ یَاْتِكُمْ نَذِیْرٌ Open ayah 67:8 in the Quran reader

جس وقت پڑے اس میں ایک گروہ پوچھیں ان سے دوزخ کے داروغہ کیا نہ پہنچا تھا تمہارے پاس کوئی ڈر سنانے والا

قَالُوْا بَلٰى قَدْ جَآءَنَا نَذِیْرٌ١ۙ۬ فَكَذَّبْنَا وَ قُلْنَا مَا نَزَّلَ اللّٰهُ مِنْ شَیْءٍ١ۖۚ اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا فِیْ ضَلٰلٍ كَبِیْرٍ Open ayah 67:9 in the Quran reader

اور وہ بولیں کیوں نہیں ہمارے پاس پہنچا تھا ڈر سنانے والا پھر ہم نے جھٹلایا اور کہا نہیں اتاری اللہ نے کوئی چیز تم تو پڑے ہوئے ہو بڑے بہکاوے میں

7:۔ ” وللذین کفروا “ تخویف اخروی۔ جو لوگ اپنے رب سے کفر کرتے ہیں یعنی اللہ کے سوا اپنے خود ساختہ معبودوں کو برکات دہندہ سمجھتے ہیں ان کے لیے جہنم کا عذاب ہے جو نہایت ہی برا انجام ہے۔ جب ان کفار و مشرکین کو جہنم میں ڈالا جائیگا تو وہ سخت جوش میں آجائے گی اور اس کی ہیبتناک غراہٹ ہوگی۔ وہ دشمنان خدا پر اس قدر غضبناک ہوگی کہ قریب ہوگا کہ غیظ و غضب سے پھٹ جائے۔ ” کلام القی فیہا فوج “ جب بھی مشرکین کی کوئی جماعت جہنم میں ڈالی جائیگی تو خازنان جہنم ان سے پوچھیں گے کیا تمہارے پاس ڈرانے والے نہیں آئے تھے ؟ جنہوں نے تمہیں آج کے عذاب سے خبردار کیا ہو۔ ” قالوا بلی “ جواب دیں گے کیوں نہیں ؟ ہمارے پاس ڈرانے والے آئے مگر ہم نے ان کو جھٹلایا اور صاف صاف کہہ دیا کہ اللہ نے تمہیں کوئی حکم دے کر نہیں بھیجا اور تمہارا دعوئے نبوت صحیح نہیں۔
Ayahs 67:10–11

وَ قَالُوْا لَوْ كُنَّا نَسْمَعُ اَوْ نَعْقِلُ مَا كُنَّا فِیْۤ اَصْحٰبِ السَّعِیْرِ Open ayah 67:10 in the Quran reader

اور کہیں گے اگر ہم8 ہوتے سنتے یا سمجھتے تو نہ ہوتے دوزخ والوں میں

فَاعْتَرَفُوْا بِذَنْۢبِهِمْ١ۚ فَسُحْقًا لِّاَصْحٰبِ السَّعِیْرِ Open ayah 67:11 in the Quran reader

سو قائل ہوگئے اپنے گناہ کے اب دفع ہوجائیں دوزخ والے

8:۔ ” وقاو لو کنا نسمع “ اب مشرکین حسرت و ندامت کا اظہار کرتے ہوئے کہیں گے کاش ! اگر ہم اللہ کی آیتیں سن کر بلا تفکر و تامل مان لیتے یا سمجھ سوچ کر ان کو قبول کرلیتے تو آج دوزخیوں کے ساتھ نہ ہوتے۔ اس سے معلوم ہوگیا کہ اگر داعئ حق کی بات محض سن کر بحث و تمحیص کے بغیر ہی اس کی دیانت و امانت پر اعتماد کر کے اس کی دعوت کو قبول کیا جائے تو یہ بھی ذریعہ نجات ہے۔ ای لو کنا نسمع کلام النذیر فن قبلہ جملۃ من غیر بحث وتفتیش اعتمادا علی مالاح صدقہ بالمعجز الخ۔ (روح ج 29 ص 12) ۔ ” فاعترفوا بذنبھم “ اس طرح مشرکین و کفار اپنے جرم کا اقبال کرلیں گے اور ان جہنمیوں کے لیے خدا کی رحمت سے دوری اور محرمی ہوگی۔
Ayahs 67:12–14

اِنَّ الَّذِیْنَ یَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَیْبِ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ اَجْرٌ كَبِیْرٌ Open ayah 67:12 in the Quran reader

جو لوگ ڈرتے9 ہیں اپنے رب سے بن دیکھے ان کے لیے معافی ہے اور ثواب بڑا

وَ اَسِرُّوْا قَوْلَكُمْ اَوِ اجْهَرُوْا بِهٖ١ؕ اِنَّهٗ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 67:13 in the Quran reader

اور تم چھپا کر کہو اپنی بات یا کھول کر وہ خوب جانتا ہے جیوں کے بھید

اَلَا یَعْلَمُ مَنْ خَلَقَ١ؕ وَ هُوَ اللَّطِیْفُ الْخَبِیْرُ۠ Open ayah 67:14 in the Quran reader

بھلا وہ نہ جانے جس نے بنایا اور وہی ہے بھید جاننے والا خبردار

9:۔ ” ان الذین یخشون “ یہ مومنوں کے لیے بشارت اخرویہ ہے۔ جو لوگ اللہ کے عذاب سے ڈرتے رہتے ہیں حالانکہ عذاب آنکھوں سے دیکھا بھی نہیں، ان کے لیے گناہوں کی معافی کے علاوہ بہت بڑا اجر وثواب تیار ہے۔ ” واسروا قولکم “ یہ دلائل سابقہ کا ثمرہ ہے۔ ” انہ علیم بذات الصدور “ جملہ تعلیلیہ ہے، یہ ماقبل کی علت ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کو آہستہ پکارو یا اونچی آواز سے پکارو وہ سنتا ہے، کیونکہ وہ تو دل کی باتیں بھی جانتا ہے قالہ الشیخ۔ یا یہ خطاب مشرکین سے مخصوص ہے جو کفر و عداوت کی باتیں کرتے اور آپس میں کہتے آہستہ باتیں کرو کہیں محمد کا رب سن کر اس کو اطلاع نہ دیدے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ قال ابن عباس و سببہ ان بعض المشرکین قال لبعض اسروا قولکم لا یسمعکم الہ محمد (بحر ج 8 ص 300) ۔ ” الا یعلم من خلق “ بھلا جس نے پیدا کیا ہے وہ جانتا نہیں اور ساتھ ہی وہ ظاہر و باطن اور نہاں وعیاں کو جاننے والا بھی ہے ؟ استفہام انکاری ہے یعنی وہ سب کچھ جانتا ہے اور اس سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں۔
Ayah 67:15

هُوَ الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ ذَلُوْلًا فَامْشُوْا فِیْ مَنَاكِبِهَا وَ كُلُوْا مِنْ رِّزْقِهٖ١ؕ وَ اِلَیْهِ النُّشُوْرُ Open ayah 67:15 in the Quran reader

وہی ہے10 جس نے کیا تمہارے آگے زمین کو پست اب چلو پھرو اس کے کندھوں پر اور کھاؤ کچھ اس کی دی ہوئی روزی اور اسی کی طرف جی اٹھنا ہے

10:۔ ” ھو الذی جعل “ یہ چوتھی دلیل عقلی خاص ہے۔۔ اوپر کا حال تو دیکھ لیا اچھا اب نیچے کی طرف دیکھو۔ یہاں ” ذلولا “ مدار کلام ہے۔ اللہ تعالیٰ ہی نے اس زمین کو تمہارے لیے عاجز بنا دیا ہے کہ اس کی راہوں میں چلتے ہو اور اس میں پیدا ہونے والا رزق کھاتے ہو اور پھر آخر اسی کی طرف اٹھ کر جانا ہے جس نے زمین کو ذلول بنایا وہی برکات دہندہ ہے اور کوئی نہیں۔ ذلول، یعنی نہ ایسی سخت اور درشت کہ پاؤں کو چھیل ڈالے اور نہ ایسی نرم کہ پاؤں اس میں دھنس جائیں۔ ” الیہ النشور “ یہ تخویف اخروی کی طرف اشارہ ہے۔
Ayahs 67:16–18

ءَاَمِنْتُمْ مَّنْ فِی السَّمَآءِ اَنْ یَّخْسِفَ بِكُمُ الْاَرْضَ فَاِذَا هِیَ تَمُوْرُۙ Open ayah 67:16 in the Quran reader

کیا تم نڈر ہوگئے11 اس سے جو آسمان میں ہے اس سے کہ دھنسا دے تم کو زمین میں پھر تبہی وہ لرزنے لگے

اَمْ اَمِنْتُمْ مَّنْ فِی السَّمَآءِ اَنْ یُّرْسِلَ عَلَیْكُمْ حَاصِبًا١ؕ فَسَتَعْلَمُوْنَ كَیْفَ نَذِیْرِ Open ayah 67:17 in the Quran reader

یا نڈر ہوگئے ہو اس سے جو آسمان میں ہے اس بات سے کہ برسا دے تم پر مینہ پتھروں کا سو جان لو گے کیسا ہے میرا ڈرانا

وَ لَقَدْ كَذَّبَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَكَیْفَ كَانَ نَكِیْرِ Open ayah 67:18 in the Quran reader

اور جھٹلا چکے ہیں جو ان سے پہلے تھے پھر کیسا ہوا میرا انکار

11:۔ ” ء امنتم من فی السماء۔ تا۔ فکیف کان نکیر “ تخویف دنیوی من فی السماء سے اللہ تعالیٰ مراد ہے اور اللہ تعالیٰ کے آسمانوں میں ہونے سے اللہ تعالیٰ کی جو مراد ہے اور اللہ تعالیٰ کے آسمانوں میں ہونے سے اللہ تعالیٰ کی جو مراد ہے وہ حق ہے اور اس پر ایمان لانا ضروری ہے اور کیفیت سے بحث کرنا جائز نہیں۔ الایۃ من المتشابہات لکونہ تعالیٰ منزھا عن التمکین فی السماء فمذھب السلف السکوت (مظہری ج 10 ص 25) ۔ وائمۃ السلف لم یذھبوا الی غیرہ تعالیٰ والایۃ عندھم من المتشابہ وقد قال ﷺ امنوا بمتشباہہ ولم یقل اولوہ فھم مومنون بانہ عز وجل فی السماء علی المعنی الذی ارادہ سبحانہ مع کمال التنزیہ (روح ج 29 ص 15) ۔ فرمایا کیا تم اللہ تعالیٰ سے نڈر ہوگئے ہو اور اس پر مطمئن ہوچکے ہو کہ وہ تمہیں زمین میں نہیں دھنسا دے گا یا آسمان سے پتھر برسا کر تمہیں ہلاک نہیں کرے گا۔ جب اس کا عذاب کسی شکل میں آگیا تو تمہیں میرے ڈرانے کا حال معلوم ہوجائیگا اور تم جان لوگے کہ میں کس طرح عذاب لاتا ہوں ” نذیر “ مصدر ہے بمعنی انذار (روح) ۔ ان سے پہلے بھی گذشتہ قوموں کے کافروں نے تکذیب کی تو ان پر میرا انکار کیسا رہا۔ نکیر بمعنی انکار ہے اور یائے متکلم محذوف ہے جس پر کسرہ راء دال ہے مقصد عذاب کی شدت وفظاعت کا اظہار ہے۔
Ayah 67:19

اَوَ لَمْ یَرَوْا اِلَى الطَّیْرِ فَوْقَهُمْ صٰٓفّٰتٍ وَّ یَقْبِضْنَ١ؕۘؔ مَا یُمْسِكُهُنَّ اِلَّا الرَّحْمٰنُ١ؕ اِنَّهٗ بِكُلِّ شَیْءٍۭ بَصِیْرٌ Open ayah 67:19 in the Quran reader

اور کیا نہیں دیکھتے ہو12 اڑتے جانوروں کو اپنے اوپر پر کھولے ہوئے اور پر جھپکتے ہوئے ان کو کوئی نہیں تھام رہا رحمان کے سوا اس کی نگاہ میں ہے ہر چیز

12:۔ ” اولم یروا “ یہ پانچویں دلیل عقلی خاص۔ مدار کلام ” صٰفت ویقبضن “ کیا وہ دیکھتے نہیں کہ فضاء میں پرندے صف در صف پرواز کر رہے ہیں، کبھی پروں کو پھیلا لیتے ہیں اور کبھی سمیٹ لیتے ہیں، فضا میں ان کو تھامنا بھی اللہ تعالیٰ ہی کی قدرت کا کرشمہ ہے اور پھر کوئی چیز اس کی نگاہوں سے اوجھل نہیں۔ جب یہ سارے کام اللہ تعالیٰ ہی کرتا ہے تو برکات دہندہ بھی وہی ہے اور کوئی نہیں۔
Ayah 67:20

اَمَّنْ هٰذَا الَّذِیْ هُوَ جُنْدٌ لَّكُمْ یَنْصُرُكُمْ مِّنْ دُوْنِ الرَّحْمٰنِ١ؕ اِنِ الْكٰفِرُوْنَ اِلَّا فِیْ غُرُوْرٍۚ Open ayah 67:20 in the Quran reader

بھلا وہ کون ہے13 جو فوج ہے تمہاری مدد کرے تمہاری رحمان کے سوا منکر پڑے ہیں برے بہکائے ہیں

13:۔ ” امن ھذا “ یہ تخویف دنیوی ہے اور یہ دونوں آیتیں ماقبل کا ثمرہ ہے۔ یہ تباؤ کہ تمہارے یہ خود ساختہ معبود جن کو تم برکات دہندہ سمجھتے ہو کیا یہ خدائے رحمن کے سوا تمہاری مدد کرسکتے ہیں یا اس سکے عذاب سے تم کو پناہ دے سکتے ہیں ؟ استفہام انکار ہے یعنی وہ مدد نہیں کرسکتے۔ یہ مشرکین جو ان عاجزوں کو مددگار اور برکات دہندہ سمجھتے ہیں اور ان کا خیال ہے کہ وہ ان معبودوں کے حفظ وامان میں ہیں، وہ بہت بڑے دھوکہ میں ہیں، وھو استفہام انکار ای لاجند لکم یدع عنکم عذاب اللہ (قرطبی ج 18 ص 218) ۔ ای ماھم فی زعمہم انھم محفوظون فی النوائب بحفظ الھتہم لا بحفظہ تعالیٰ فقط وان الہتہم تحفظہم من باس اللہ تعالیٰ الا فی غرور عظیم وضلال فاحش الخ (روح ج 29 ص 18) ۔
Ayah 67:21

اَمَّنْ هٰذَا الَّذِیْ یَرْزُقُكُمْ اِنْ اَمْسَكَ رِزْقَهٗ١ۚ بَلْ لَّجُّوْا فِیْ عُتُوٍّ وَّ نُفُوْرٍ Open ayah 67:21 in the Quran reader

بھلا وہ کون ہے14 جو روزی دے تم کو اگر وہ رکھ چھوڑے اپنی روزی کوئی نہیں پر اڑ رہے ہیں شرارت اور بدکنے پر

14:۔ ” امن ھذا الذی یرزقکم “ یہ بتاؤ کہ اللہ تعالیٰ جو تمہیں روزی دیتا ہے اگر وہ روزی بند کردے تو پھر تمہیں کون روزی دے گا ؟ یعنی اس کے سوا کوئی روزی رساں نہیں اس لیے اس کے سوا برکات دہندہ بھی کوئی نہیں۔ ” بل لجو فی عتو “ یہ مقدر سے متعلق ہے۔ ای لم یتاثروا بذلک ولم یذعنوا للحق (روح) ۔ اس بیان سے وہ نہ متاثر ہوئے اور نہ حق کو قبول کیا، بلکہ سرکشی اور نفرت میں پوری قوت سے اور آگے بڑھ گئے ہیں۔
Ayah 67:22

اَفَمَنْ یَّمْشِیْ مُكِبًّا عَلٰى وَجْهِهٖۤ اَهْدٰۤى اَمَّنْ یَّمْشِیْ سَوِیًّا عَلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 67:22 in the Quran reader

بھلا ایک جو چلے15 اوندھا اپنے منہ کے بل وہ سیدھی راہ پائے یا وہ شخص جو چلے سیدھا ایک سیدھی راہ پر

15:۔ ” افمن یمشی مکبا “ یہ پہلی دو آیتوں پر متفرع ہے اور اس میں مشرک اور موحد کی مثال بیان کی گئی ہے۔ جب یہ ثابت ہوگیا کہ عذاب سے پناہ دینے والا اور رزق دینے والا اللہ تعالیٰ ہی ہے اور کوئی نہیں، تو جو شخص اس کے باوجود پھر اللہ تعالیٰ کے احکام سے سرتابی کرے اور شرک کا راستہ اختیار کرے اس کی مثال اس شخص کی مانند ہے جو سرجھکا کر ادھر ادھر دیکھے بغیر جدھر اس کا منہ آجائے ادھر ہی چلا جائے اور اس طرح سیدھی راہ سے ہٹ کر بھٹکتا رہے یہ مشرک کی مثال ہے جو سوچ بچار کے بغیر ہی مشرک باپ دادا کی راہ چلتا ہے اس کے مقابلے میں وہ شخص ہے جو سوچ سمجھ کر قدم رکھتا ہے اور سیدھا صراط مستقیم پر چل رہا ہے۔ یہ مومن کی مثال ہے۔ بعض مفسرین نے اس آیت کو احوال قیامت سے متعلق قرار دیا ہے بیشک یہ قیامت کے احوال میں سے ایک حال ضرور ہے کہ مشرکین سروں کے بل چلیں گے لیکن یہ اس آیت سے متعلق نہیں۔ دونوں تمثیلوں میں تقابل ہے۔ یمشی مکبا۔ یعنی باپ دادا کے باطل دین پر آنکھیں بند کر کے چلتا ہے اس کے مقابلے میں ہے۔ ” سویا “ یعنی توحید کی راہ پر چلتا ہے۔ ” علی وجہہ “ بلا تامل و فکر جس طرف اس کا منہ آجائے ادھر ہی چل پڑتا ہے۔ ” علی صراط مستقیم “ یعنی سوچ سمجھ کر سیدھی راہ پر چلتا ہے۔
Ayahs 67:23–24

قُلْ هُوَ الَّذِیْۤ اَنْشَاَكُمْ وَ جَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَ الْاَبْصَارَ وَ الْاَفْئِدَةَ١ؕ قَلِیْلًا مَّا تَشْكُرُوْنَ Open ayah 67:23 in the Quran reader

تو کہہ وہی ہے جس نے16 تم کو بنا کھڑا کیا اور بنا دیے تمہارے واسطے کان اور آنکھیں اور دل تم بہت تھوڑا حق مانتے ہو

قُلْ هُوَ الَّذِیْ ذَرَاَكُمْ فِی الْاَرْضِ وَ اِلَیْهِ تُحْشَرُوْنَ Open ayah 67:24 in the Quran reader

تو کہہ وہی ہے جس نے کھنڈا دیا تم کو زمین میں اور اسی کی طرف اکٹھے کیے جاؤ گے

16:۔ ” قل ھو الذی انشاکم “ چھٹی دلی عقلی خاص۔ زمین و آسمان کے احوال کے بعد اب اپنی طرف دیکھو کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں پیدا فرمایا اور تمہیں سننے، دیکھنے اور سمجھنے کی قوتیں عطا کیں، مگر تم اس کی نعمتوں کا شکر ادا نہیں کرتے ہو۔ ” جعل لکم السمع الخ “ مدار کلام ہے۔ جب یہ قوتیں عطا کرنے والا کوئی اور نہیں، تو کیا برکات دہندہ کوئی اور ہوگا ؟ ” قل ھو الذی ذرا کم “ ساتویں دلیل عقلی خاص۔ تمہیں پیدا بھی میں نے کیا اور پھر زمین میں تم کو پھیلایا اور آباد کیا اور پھر آخر سب اسی کے پاس اکٹھے کیے جاؤ گے کیا یہ سب کچھ کسی دوسرے نے کیا ہے ؟ نہیں، نہیں ! میں ہی نے کیا ہے تو برکات دہندہ کوئی اور ہوگا ؟۔
Ayahs 67:25–26

وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 67:25 in the Quran reader

اور کہتے ہیں17 کب ہوگا یہ وعدہ اگر تم سچے ہو

قُلْ اِنَّمَا الْعِلْمُ عِنْدَ اللّٰهِ١۪ وَ اِنَّمَاۤ اَنَا نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 67:26 in the Quran reader

تو کہہ خبر تو ہے اللہ ہی کے پاس اور میرا کام تو یہی ڈر سنا دینا ہے کھول کر

17:۔ ” ویقولون “ یہ شکوی ہے۔ مشرکین ازراہ تعنت وعناد سوال کرتے ہیں کہ وہ (قیامت کا یا عذاب کا) وعدہ کب پورا ہوگا ؟ اگر تم سچے ہو تو اس کی متعین تاریخ بتاؤ۔ ” قل انما العلم عند اللہ “ جواب شکوی ہے۔ آپ جواب میں فرما دیں اس کے معین وقت کا علم تو صرف اللہ ہی کو ہے۔ میں تو اس کی خبر دینے والا ہوں۔ میں نے جو خبر دی ہے۔ اور اس کے مطابق اللہ کا عذاب ضرور آئیگا۔
Ayahs 67:27–28

فَلَمَّا رَاَوْهُ زُلْفَةً سِیْٓئَتْ وُجُوْهُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ قِیْلَ هٰذَا الَّذِیْ كُنْتُمْ بِهٖ تَدَّعُوْنَ Open ayah 67:27 in the Quran reader

پھر جب دیکھیں گے18 کہ وہ پاس آلگا تو بگڑ جائیں گے منہ منکروں کے اور کہے گا یہی ہے جس کو تم مانگتے تھے

قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ اَهْلَكَنِیَ اللّٰهُ وَ مَنْ مَّعِیَ اَوْ رَحِمَنَا١ۙ فَمَنْ یُّجِیْرُ الْكٰفِرِیْنَ مِنْ عَذَابٍ اَلِیْمٍ Open ayah 67:28 in the Quran reader

تو کہہ بھلا دیکھو تو اگر ہلاک کر دے مجھ کو اللہ اور میرے ساتھ والوں کو یا ہم پر رحم کرے پھر وہ کون ہے جو بچائے منکروں کو عذاب درناک سے

18:۔ ” فلما راوہ “ تخویف اخروی۔ جب مشرکین اللہ کے عذاب کو اپنے قریب دیکھ لیں گے تو خوف وہراس سے ان کے چہرے بگڑ جائیں گے اور ان سے کہا جائے گا۔ یہ وہی عذاب ہے جس کا تم مطالبہ کرتے تھے۔ ” قل ارایتم “ تخویف دنیوی و طریق تبلیغ اول۔ شرط کی جزا محذوف ہے۔ ای لیس لنا غیرہ من عذابہ۔ حاصل یہ کہ اللہ تعالیٰ کے سوا عذاب دینے والا اور رحم کرنے والا کوئی نہیں۔ اے مشرکین یہ بتاؤ کہ اگر مجھے اور میرے ساتھیوں کو اللہ ہلاک کر ڈالے جس طرح تمہاری تمنا ہے یا وہ ہم پر مہربانی اور ہمیں عذاب سے مھفوظ رکھے تو بتاؤ تمہیں اس کے دردناک عذاب سے کون پناہ دے گا ؟ کیونکہ تمہارے معبود تو عاجز اور بےبس ہیں۔ اس لیے تمہارا فائدہ اسی میں رہے کہ تم پیغمبر (علیہ السلام) کی پیروی کرو جس کا اتباع تمہیں اللہ کے عذاب سے بچا سکتا ہے۔ والحاصل انہ لافائدۃ لکم فی ھلاکنا حتی تطلبونہ انما یفیدکم ان تتبعوا من یجیرکم من عبذاب اللہ الخ (مظہری ج 10 ص 28) ۔
Ayah 67:29

قُلْ هُوَ الرَّحْمٰنُ اٰمَنَّا بِهٖ وَ عَلَیْهِ تَوَكَّلْنَا١ۚ فَسَتَعْلَمُوْنَ مَنْ هُوَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 67:29 in the Quran reader

تو کہہ وہی19 رحمان ہے ہم نے اس کو مانا اور اسی پر بھروسہ کیا سو اب تم جان لو گے کون پڑا ہے صریح بہکائے میں

19:۔ ” قل ھو الرحمن “ طریق تبلیغ دوم۔ فرما دیجئے عذاب سے پناہ دینے والا رحمن ہی ہے، اس لیے ہم اس کی توحید پر ایمان لائے ہیں اور مصائب و مشکلات میں اسی پر ہمارا بھروسہ ہے۔ اے مشرکین تمہیں بہت جلد معلوم ہوجائے گا کہ ہدایت پر کون ہے، کیونکہ جب اللہ کا عذاب تم پر نازل ہوگا تو تمہاری آنکھیں کھل جائیں گی۔
Ayah 67:30

قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ اَصْبَحَ مَآؤُكُمْ غَوْرًا فَمَنْ یَّاْتِیْكُمْ بِمَآءٍ مَّعِیْنٍ۠ Open ayah 67:30 in the Quran reader

تو کہہ بھلا دیکھو20 تو اگر ہوجائے صبح کو پانی تمہارا خشک پھر کون ہے جو لائے تمہارے پاس پانی نتھرا

20:۔ ” قل ارایتم “ آٹھویں دلیل عقلی خاص۔ ” معین “ بروزن فعیل، معن سے ماخوذ ہے یعنی جاری اور بہتا ہوا یا یہ عین سے اسم مفعول ہے یعنی جو آنکھوں سے نظر آئے۔ عن ابن عباس (بماء معین) ای ظاھر تراہ العیون فھو مفعول وقیل ھو من معن الماء ای کثر، فھو علی ھذا فعیل (قرطبی ج 18 ص 222) ۔ یہ بتاؤ اگر یہ پانی زمین کی گہرائی میں چلا جائے، تو تازہ اور جاری پانی تمہیں کون لا کر دے گا ؟ وہ تعالیٰ ہی ہے جو تمہیں تازہ اور میٹھا پانی عطا فرماتا ہے تو کیا برکات دہندہ کوئی اور ہوگا ؟ یہ سب اللہ کی مہربانی ہے، تمہارے خود ساختہ معبود یہ کام نہیں کرسکتے۔ سورة ملک میں آیات توحید اور اس کی خصوصیات۔” تبرک الذی بیدہ الملک “ چھ عقلی دلیلوں سے ثابت کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی برکات دہندہ نہیں۔ سوہ ملک ختم ہوئی