66. Surah At-Tahrim

التحريمThe Prohibition · 12 ayahsجواھر القرآن

Ayahs 66:1–2

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَاۤ اَحَلَّ اللّٰهُ لَكَ١ۚ تَبْتَغِیْ مَرْضَاتَ اَزْوَاجِكَ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 66:1 in the Quran reader

اے2 نبی تو کیوں حرام کرتا ہے جو حلال کیا اللہ نے تجھ پر چاہتا ہے تو رضامندی اپنی عورتوں کی اور اللہ بخشنے والا ہے مہربان3

قَدْ فَرَضَ اللّٰهُ لَكُمْ تَحِلَّةَ اَیْمَانِكُمْ١ۚ وَ اللّٰهُ مَوْلٰىكُمْ١ۚ وَ هُوَ الْعَلِیْمُ الْحَكِیْمُ Open ayah 66:2 in the Quran reader

مقرر کردیا اللہ نے تمہارے لیے کھول ڈالنا تمہاری قسموں کا اور اللہ مالک ہے تمہارا اور وہی ہے سب کچھ جانتا حکمت والا

2:۔ ” یا ایہا النبی “ ذکر آداب بطور تمہید۔ آنحضرت ﷺ کو حلال چیزوں سے قسم کھا کر اجتناب کی ممانعت اور ازواج مطہرات کو خلاف رضاء آنحضرت ﷺ امور سے اجتناب کی تلقین فرمائی۔ یہ ایک واقعہ کی طرف اشارہ ہے۔ آنحضرت ﷺ کو شہد بہت مرغوب تھا اور آپ ام المومنین حضرت زینب بنت جحش ؓ کے یہاں روزانہ شہد تناول فرماتے۔ حضرت عائشہ اور حضرت حفصہ ؓ نے ازراہ رقابت سوچا کہ زینب ؓ کو یہ شرف کیوں حاصل ہو۔ کسی ترکیب سے آپ کو شہد سے متنفر کیا جائے۔ چناچہ دونوں نے طے کیا کہ آپ جس کے پاس بھی آئیں وہ کہہ دے کہ حضرت ! آج آپ کے پاس سے مغافیر کی بو آر ہی ہے، کیا آپ نے مغافیر تناول فرمائی ہے، چناچہ آپ پہلے حضرت حفصہ ؓ کے پاس تشریف لے گئے تو انہوں نے وہی بات کہی جو طے ہوچکی تھی، آپ نے فرمایا نہیں، میں نے زینب کے پاس سے شہد استعمال کیا ہے عرض کی گئی ممکن ہے مکھیوں نے عرفطہ کا رس چوسا ہو۔ مغافیر ایک قسم کا گوند تھا بدبودار جو عرفطہ درخت سے نکلتا تھا۔ آپ کو بدبو دار چیز نہایت ناپسند تھی، اس لیے آپ نے قسم کھالی کہ میں آئندہ شہد نہیں پیوں گا۔ حضرت حفصہ ؓ کو آٓپ نے یہ بھی فرمادیا کہ یہ بات کسی کو نہ بتانا، اس پر یہ آیتیں نازل ہوئیں (روح، خازن، معالم، قرطبی، مظہری، ابن کثیر) ۔ فرمایا : اے پیغمبر ! جس چیز کو اللہ نے تیرے لیے حلال کیا ہے، تو اس کو حرام کیوں کرتا ہے ؟ کیا اپنی بیویوں کی رضا جوئی کی خاطر ایسا کرتا ہے ؟ تو یہ چیز آپ کی شان کے زیبا نہیں۔ آپ کے حلف کا مقصد صرف یہ تھا کہ آپ نے ایک حلال چیز سے اجتناب کا پختہ اور مؤکد بالحلف فیصلہ کرلیا تھا یہ مقصد نہیں کہ حلال کو حرام قرار دے کر اس کو ترک کردیا تھا۔ یہ چیز اگرچہ فی نفسہ مباح تھی مگر خلاف اولی ہونے کی وجہ سے آپ کی شان رفیع کے خلاف تھی کہ ازواج کی رضا جوئی کے لیے آپ مرغوبات کو ترک کردیں۔ آپ کی رفعت شان اور علو مرتبت کے پیش نظر خلاف اولی کو بمنزلہ ذنب قرار دے کر فرمایا ” واللہ غفور رحیم “ یعنی توبہ کرنے والوں پر اللہ تعالیٰ ایسا مہربان ہے کہ ان کے گناہ معاف فرما دیتا ہے۔ فیہ تعظیم شانہ ﷺ بان ترک الاولی بالنسبۃ الی مقامہ العالی الکریم یعد کالذنب وان لم یکن فی نفسہ کذلک (روح ج 28 ص 147) ۔ 3:۔ ” قد فرض اللہ “ اللہ تعالیٰ نے ایسی قسموں کو توڑنے کی اجازت دے دی ہے جو ترک حلال پر کھائی گئی ہوں۔ اور اللہ تعالیٰ تمہارا ناصر و مددگار ہے جو ایسی مشکل صورتوں میں آسانی کا راستہ بتاتا ہے اور ایسی تحریمات کو کفارہ یمین ادا کر کے اٹھا دینے کی اجازت دیتا ہے۔ ولیکم و ناصرکم بازالۃ الحظر فیما تحرمونہ علی انفسکم وباالترخیص لکم فی تحلیل ایمانکم بالکفارۃ وبا لثواب علی ما تخرجونہ فی الکفارۃ (قرطبی ج 18 ص 186) ۔
Ayah 66:3

وَ اِذْ اَسَرَّ النَّبِیُّ اِلٰى بَعْضِ اَزْوَاجِهٖ حَدِیْثًا١ۚ فَلَمَّا نَبَّاَتْ بِهٖ وَ اَظْهَرَهُ اللّٰهُ عَلَیْهِ عَرَّفَ بَعْضَهٗ وَ اَعْرَضَ عَنْۢ بَعْضٍ١ۚ فَلَمَّا نَبَّاَهَا بِهٖ قَالَتْ مَنْ اَنْۢبَاَكَ هٰذَا١ؕ قَالَ نَبَّاَنِیَ الْعَلِیْمُ الْخَبِیْرُ Open ayah 66:3 in the Quran reader

اور4 جب چھپا کر کہی نبی نے اپنی کسی عورت سے ایک بات پھر جب اس نے خبر کردی اس کی اور اللہ نے جتلا دی نبی کو وہ بات تو جتلائی نبی نے اس میں سے کچھ اور ٹلا دی کچھ پھر جب وہ جتلائی عورت کو بولی تجھ کو کس نے بتلا دی یہ کہا مجھ کو بتایا اس خبر والے واقف نے

4:۔ ” واذ اسر النبی “ آنحضرت ﷺ نے کونسی پوشیدہ بات فرمائی اور ازواج مطہرات میں سے کسی سے فرمائی ؟ اس میں مفسرین کا اختلاف ہے۔ صحیح تر یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس سے مراد شہد کی تحریم ہے جس کا ذکر آپ نے حضرت حفصہ ؓ سے کہا تھا اور ساتھ ہی فرما دیا تھا کہ اس کا ذکر کسی سے نہ کرنا چناچہ علماہ آلوسی نے بخاری، ابن سعد، عبد بن حمید، ابن المنذر اور ابن مردویہ رحمہم اللہ کے حوالے سے نقل کیا ہے۔ فقال : لا بل شربت علامہ عند زینب بنت جحش ولن اعور وفی روایۃ : وقد حلفت فلا تخبری بذلک احدا الخ (روح ج 28 ص 146، 150) ۔ مگر حضرت حفصہ سے نہ رہا گیا اور انہوں نے اس کا ذکر حضرت عائشہ سے کردیا ادھر اللہ نے نبی کریم (علیہ الصلوۃ والسلام) کو اس افشاء راز پر آگاہ فرما دیا، تو آپ نے حضرت حفصہ کو جتا دیا کہ تم نے فلاں بات ظاہر کردی ہے مگر کچھ حصہ نہ جتلایا اور اس سے اعراض فرمایا، تاکہ وہ زیادہ شرمسار نہ ہوں۔ حضرت حفصہ ؓ نے عرض کیا : آپ کو کسی نے بتایا ہے کہ میں نے راز فاش کردیا ہے ؟ تو آپ نے فرمایا ہے کہ مجھے علیم وخبیر نے بتایا ہے۔
Ayah 66:4

اِنْ تَتُوْبَاۤ اِلَى اللّٰهِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوْبُكُمَا١ۚ وَ اِنْ تَظٰهَرَا عَلَیْهِ فَاِنَّ اللّٰهَ هُوَ مَوْلٰىهُ وَ جِبْرِیْلُ وَ صَالِحُ الْمُؤْمِنِیْنَ١ۚ وَ الْمَلٰٓئِكَةُ بَعْدَ ذٰلِكَ ظَهِیْرٌ Open ayah 66:4 in the Quran reader

اگر5 تم دونوں توبہ کرتی ہو تو جھک پڑے ہیں دل تمہارے اور اگر تم دونوں چڑھائی6 کرو گی اس پر تو اللہ ہے اس کا رفیق اور جبرائیل اور نیک بخت ایمان والے اور فرشتے اس کے پیچھے مددگار ہیں

5:۔ ” ان تتوبا “ جزاء شرط محذوف ہے اور ” فقد صغت “ ما قبل کی علت ہے قائم مقام جزاء۔ جزاء محذوف یا تو کان خیرا لکما ہے (قرطبی) یا ” تقبلا “ (جلالین) یا یمح اثمکما یا فقہ ادیتما ما یبج علیکما او اتیتما بما یحق لکما (روح) ۔ یا فذلک یلیق بکما (حضرت شیخ قدس سرہ) ۔ ” فقد صغت قلوبکما “ کیونکہ تمہارے دل حق بات سے ہٹ چکے ہیں یعنی تم نے اس چیز کو پسند کیا ہے جسے رسول اللہ ﷺ ناپسند فرماتے تھے، مراد ہے شہد سے اجتناب۔ یا ” صغت قلوبکما “ کے معنی ہیں تہارے دل توبہ کی طرف حق یا حق کی طر فمائل ہوچکے ہیں۔ حضرت عائشہ اور حفصہ ؓ کو اپنی غلطی اور کوتاہی کا احساس ہوگیا اور ان کے دلوں میں اس غلطی سے توبہ کرنے اور آئندہ کے لیے اداء حق واجب کا جذبہ پیدا ہوگیا۔ وقیل فقد مالت قلوبکما الی التوبۃ (قرطبی ج 18 ص 188) ۔ 6:۔ ” ان تظاھرا “ لیکن اگر تم آنحضرت ﷺ کی مرضی کے خلاف مشورے کرتی رہو گی اور اس کام میں باہم تعاون کرتی ر ہوگی، تو آپ کو کوئی ضرر نہیں پہنچ سکتا، کیونکہ اللہ تعالیٰ آپ کا حامی و ناصر ہے جبرائیل امین، خیار المومنین اور تمام فرشتے آپ کے حامی اور معاون ہیں۔ صالح المومنین سے جنس مراد ہے اور اس سے خیار المومنین مراد ہیں جن میں خلفاء راشدین بطریق اولی داخل ہیں۔ والمراد بالصالح الجنس ولذلک عم بالاضافۃ (بیضاوی ج 2 ص 384) ۔ وان اقول العموم اولی، وھما (ابو بکر وعمر) وکذا علی کرم اللہ تعالیٰ وجہہ یدخلون دخولا اولیا (روح ج 28 ص 154) ۔
Ayah 66:5

عَسٰى رَبُّهٗۤ اِنْ طَلَّقَكُنَّ اَنْ یُّبْدِلَهٗۤ اَزْوَاجًا خَیْرًا مِّنْكُنَّ مُسْلِمٰتٍ مُّؤْمِنٰتٍ قٰنِتٰتٍ تٰٓئِبٰتٍ عٰبِدٰتٍ سٰٓئِحٰتٍ ثَیِّبٰتٍ وَّ اَبْكَارًا Open ayah 66:5 in the Quran reader

اور اگر نبی7 چھوڑ دے تم سب کو ابھی اس کا رب بدلے میں دے دے اس کو عورتیں تم سے بہتر حکم بردار یقین رکھنے والیاں نماز میں کھڑی ہونے والیاں توبہ کرنے والیاں بندگی بجا لانے والیاں روزہ رکھنے والیاں بیاہیاں اور کنواریاں

7:۔ ” عسی ربہ “ یہ ازواج مطہرات کو تنبیہ ہے کہ پیغمبر (علیہ الصلوۃ والسلام) کے گھر کی آبادی اور رونق کوئی تم پر منحصر نہیں کہ اگر تم نہیں ہوگی تو آپ کا گھر غیر آباد ہوجائیگا۔ اگر آپ تم سب کو طلاق دے کر سبکدوش فرما دیں تو اللہ تعالیٰ آپ کو تمہاری جگہ تم سے بہتر بیویاں عطا فرمائیگا جو ایمان و عمل صلاح وتقوی اور جسمانی و روحانی خوبیوں سے متصف اور آراستہ ہوں۔ قانتان، ہمیشہ عبادت وطاعت میں رہنے والیاں۔ تائبات، گناہوں سے باز رہنے والیاں۔ عابدات، عبادت گذار اور رسول اللہ ﷺ کے احکام کے سامنے جھکنے والیاں۔ سائحات، روزہ رکھنے والیاں (روح، قرطبی) ۔
Ayah 66:6

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قُوْۤا اَنْفُسَكُمْ وَ اَهْلِیْكُمْ نَارًا وَّ قُوْدُهَا النَّاسُ وَ الْحِجَارَةُ عَلَیْهَا مَلٰٓئِكَةٌ غِلَاظٌ شِدَادٌ لَّا یَعْصُوْنَ اللّٰهَ مَاۤ اَمَرَهُمْ وَ یَفْعَلُوْنَ مَا یُؤْمَرُوْنَ Open ayah 66:6 in the Quran reader

اے ایمان8 والو بچاؤ اپنی جان کو اور اپنے گھر والوں کو اس آگ سے جس کی چھپٹیاں ہیں آدمی اور پتھر اس پر مقرر ہیں فرشتے تند خود زبردست نافرمانی نہیں کرتے اللہ کی جو بات فرمائے ان کو اور وہی کام کرتے ہیں جو ان کو حکم ہو

8:۔ ” یا ایہا الذین امنوا “ یہ مومنوں سے خطاب ہے۔ فرمایا اے اہل ایمان اپنے کو اور اپنے اہل و عیال کو ان کاموں سے بچاؤ جو عذاب جہنم کا موجب ہوں۔ جہنم کی آگ نہایت سخت ہوگی اور اس کی تیزی اور تندی کو بڑھانے کے لیے ایندھن کے طور پر پتھروں کو جلایا جائے گا۔ یا ” الحجارۃ سے پتھر کے وہ بت مراد ہیں جو مشرکین نے اپنے معبودوں کے ناموں پر بنا رکھے تھے جس طرح ’ الناس ‘ سے مشرک لوگ مراد ہیں۔ ” غلاظ “ تندخو۔ ” شداد “ سخت گیر۔ جہنم پر جو فرشتے مقرر ہوں گے وہ نہایت تند خو اور سخت گیر ہوں گے وہ کسی دوزخی کی خوشامد اور منت سماجت پر کان نہیں دھریں گے اور نہ ان کو دوزخیوں کی چیخ و پکار اور نالہ وزاری پر رحم ہی آئیگا وہ تو بس اللہ تعالیٰ کے حکم کے بندے ہوں گے جو ان کو حکم ہوگا اسے بجا لائیں گے اور اس سے سرِ مو انحراف کریں گے۔
Ayah 66:7

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَا تَعْتَذِرُوا الْیَوْمَ١ؕ اِنَّمَا تُجْزَوْنَ مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 66:7 in the Quran reader

اے منکر ہونے والوف 9 مت بہانے بتلاؤ آج کے دن وہی بدلہ پاؤ گے جو تم کرتے تھے

9:۔ ” یا ایہا الذین کفرو “ تخویف اخروی۔ قیامت کے دن کفار و مشرکین جہنم کے عذاب سے بچنے کے لیے حیلے بہانے کریں گے اور قبول حق سے اپنی کئی معذوریاں بیان کریں گے، تو جواب ملے گا آج کوئی عذر مت پیش کرو، آج کوئی عذرت معذرت قبول نہ ہوگی۔ آج تمہیں صرف انہی عملوں کی سزا دی جائیگی جو تم کیا کرتے تھے اور کسی بھی صورت سے تم اس سزا سے بچ نہیں سکتے۔
Ayah 66:8

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا تُوْبُوْۤا اِلَى اللّٰهِ تَوْبَةً نَّصُوْحًا١ؕ عَسٰى رَبُّكُمْ اَنْ یُّكَفِّرَ عَنْكُمْ سَیِّاٰتِكُمْ وَ یُدْخِلَكُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ۙ یَوْمَ لَا یُخْزِی اللّٰهُ النَّبِیَّ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ١ۚ نُوْرُهُمْ یَسْعٰى بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ بِاَیْمَانِهِمْ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَاۤ اَتْمِمْ لَنَا نُوْرَنَا وَ اغْفِرْ لَنَا١ۚ اِنَّكَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 66:8 in the Quran reader

اے ایمان والو10 توبہ کرو اللہ کی طرف صاف دل کی توبہ امید ہے تمہارا رب اتار دے تم پر سے تمہاری برائیاں اور داخل کرے تم کو باغوں میں جن کے نیچے بہتی ہیں نہریں جس دن کہ اللہ ذلیل نہ کرے گا نبی کو اور ان لوگوں کو جو یقین لائے ہیں اس کے ساتھ ان کی روشنی11 دوڑتی ہے ان کے آگے اور ان کے داہنے کہتے ہیں اے رب ہمارے پوری کردی ہم کو ہماری روشنی اور معاف کر ہم کو بیشک تو سب کچھ کرسکتا ہے

10:۔ ” یا ایہا الذین امنوا “ بشارت اخروی برائے تائبین صادقین۔ ” نصوح “ خالص یعنی سچی توبہ جس میں گناہوں پر ندامت ہو اور آئندہ کیلئے گناہوں سے بچنے کا پختہ ارادہ ہو تفسیر حضرت ابن عباس ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے روایت کی ہے اور حضرت عمر، ابن مسعود، ابی بن کعب، حسن اور مجاہد رحمہم اللہ سے بھی یہی منقول ہے۔ قال معاذ بن جبل، یا رسول اللہ ما التوبۃ النصوح ؟ قال ان یندم العبد علی الذنب الذی اصاب فیعتذر الی اللہ تعالیٰ ثم یعود الیہ کما لا یعود اللبن الی الضرع وروی تفسیر ھا بما ذکر عن عمرو ابن مسعود وابی والحسن و مجاھد وغیرہم (روح ج 28 ص 157) ۔ ایسی سچی توبہ کا نتیجہ یہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ گناہ معاف کر کے ایسے باغوں میں داخل فرمائے گا جن میں انواع و اقسام مشروبات کی نہریں بہتی ہوں گی۔ یہ اس دن میں ہوگا جس دن کفار و مشرکین سر محشر ذلیل و رسوا ہوں گے اور اللہ تعالیٰ پیغمبر خدا ﷺ اور مومنین کو ذلت و رسوائی سے محفوظ رکھے گا۔ 11:۔ ” نورھم یسعی “ قیامت کے دن مومنین کے چاروں طرف نور اور اجالا ہوگا اور وہ بل صراط اور گھاٹیوں سے بخیر و خوبی گذر جائیں گے اور ساتھ ہی اللہ تعالیٰ سے دعا بھی مانگیں گے کہ اے ہمارے پروردگار ! ہمارے گناہ معاف فرما اور ہمیں مزید نور عطا کر کیونکہ تجھے ہر چیز پر قدرت ہے۔ سورة الحدید میں ارشاد ہے۔ ” یوم تری المؤمنین والمؤمنات یسعی نورھم بین ایدیھم و بایمانہم۔ الایۃ “ یہ نور ان کو انفاق فی سبیل اللہ کی وجہ سے حاصل ہوگا۔ اسی کا یہاں اعادہ فرمایا۔ ” نورھم یسعی بین ایدیہم وبایمانہم “ اس طرح اس آیت میں ضمنًا انفاق فی سبیل اللہ کا مضمون آگیا۔
Ayah 66:9

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ جَاهِدِ الْكُفَّارَ وَ الْمُنٰفِقِیْنَ وَ اغْلُظْ عَلَیْهِمْ١ؕ وَ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ١ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ Open ayah 66:9 in the Quran reader

اے نبی لڑائی کر12 منکروں سے دغابازوں سے اور سختی کر ان پر اور ان کا گھر دوزخ ہے اور بری جگہ جا پہنچے

12:۔ ” یا ایہا النبی جاھد “ مضمون جہاد کا ذکر ہے جو سورة حدید کا دوسرا مضمون ہے۔ کفار اور منافقین دونوں فریقوں سے جہاد کا حکم فرمایا مگر دونوں کے ساتھ جہاد کی کیفیت مختلف ہے کافروں کے ساتھ سیف وسنان سے جہاد کرو اور منافقین سے حجت وبرہان سے (بیضاوی، مظہری، روح) ۔ جہاد اوراقامتِ حجت میں جہاں سختی اور شدت کی ضرورت ہو وہاں ان پر سختی بھی کریں۔ ان کا ٹھکانا جہنم ہے جو نہایت بری جگہ ہے۔
Ayah 66:10

ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوا امْرَاَتَ نُوْحٍ وَّ امْرَاَتَ لُوْطٍ١ؕ كَانَتَا تَحْتَ عَبْدَیْنِ مِنْ عِبَادِنَا صَالِحَیْنِ فَخَانَتٰهُمَا فَلَمْ یُغْنِیَا عَنْهُمَا مِنَ اللّٰهِ شَیْئًا وَّ قِیْلَ ادْخُلَا النَّارَ مَعَ الدّٰخِلِیْنَ Open ayah 66:10 in the Quran reader

اللہ نے13 بتلائی ایک مثل منکروں کے واسطے عورت نوح کی اور عورت لوط کی گھر میں تھیں دونوں دو نیک بندوں کے ہمارے نیک بندوں میں سے پھر انہوں نے ان سے چوری کی پھر وہ کام نہ آئے ان کے اللہ کے ہاتھ سے کچھ بھی اور حکم ہوا کہ چلی جاؤ دوزخ میں جانے والوں کے ساتھ

13:۔ ” ضرب اللہ مثلاً “ یہ کافروں کے لیے تمثیل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ حضرت نوح اور لوط (علیہما السلام) دونوں جلیل القدر پیغمبر تھے اور ان کی بیویاں کافرہ اور مشرکہ تھیں اور اپنے خاوندوں کی مخالفت میں در پردہ کافروں کی ہمنوا تھیں تو پیغمبروں کی پیغمبر اور ان کے اعمال صالحہ ان کی کافرہ بیویوں کو کوئی فائدہ نہ ہنچا سکے۔ اور آخر کار ان کو دوزخیوں کے ساتھ دوزخ میں داخل ہونے کا حکم دیدیا گیا خیانت سے مخالفت میں کافروں کی ہمنوائی اور اپنے خاوندوں کے رازوں کا کافروں پر افشاء مراد ہے خیانت سے بدکاری مراد نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انبیاء (علیہما السلام) کی بیویوں کو اس فعل سے محفوط رکھا ہے۔ ولیس المراد بقولہ (فخانتاھما) فی فاحشۃ بل فی الدین فان نساء الانبیاء معصومات عن الوقوع فی الفاحشۃ الحرمۃ الانبیاء (ابن کثیر ج 4 ص 393) ۔
Ayah 66:11

وَ ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوا امْرَاَتَ فِرْعَوْنَ١ۘ اِذْ قَالَتْ رَبِّ ابْنِ لِیْ عِنْدَكَ بَیْتًا فِی الْجَنَّةِ وَ نَجِّنِیْ مِنْ فِرْعَوْنَ وَ عَمَلِهٖ وَ نَجِّنِیْ مِنَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَۙ Open ayah 66:11 in the Quran reader

اور اللہ نے14 بتلائی ایک مثل ایمان والوں کے لیے عورت فرعون کی جب بولی اے رب بنا میرے واسطے اپنے پاس ایک گھر بہشت میں اور بچا نکال مجھ کو فرعون سے اور اس کے کام سے اور بچا نکال مجھ کو ظالم لوگوں سے

14:۔ ” وضرب اللہ مثلا “ یہ مومنوں کے لیے تمثیل ہے۔ جس طرح خاوند کی نیکی کافرہ بیوی کو مفید نہیں اسی طرح کافر خاوند کا کفر مومنہ بیوی کے لیے مضر نہیں۔ فرعون کے کفر سے اس کی بیوی آسیہ مومنہ کو کوئی نقصان نہ پہنچا بنت مزاحم نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی اے میرے پروردگار ! اپنے پاس جنت میں میرا گھر بنا اور فرعون کے نفس خبیثہ اور اس کے عمل سے مجھے نجات عطا فرما اور ان ظالموں سے مجھے بچا عمل فرعون سے اس کا ظلم و تشدد راد ہے جو وہ ایمان کی وجہ سے اپنی بیوی پر کرتا تھا۔ حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ اس سے صحبت اور جماع مراد ہے (قرطبی، روح) ۔
Ayah 66:12

وَ مَرْیَمَ ابْنَتَ عِمْرٰنَ الَّتِیْۤ اَحْصَنَتْ فَرْجَهَا فَنَفَخْنَا فِیْهِ مِنْ رُّوْحِنَا وَ صَدَّقَتْ بِكَلِمٰتِ رَبِّهَا وَ كُتُبِهٖ وَ كَانَتْ مِنَ الْقٰنِتِیْنَ۠ Open ayah 66:12 in the Quran reader

اور مریم بیٹی15 عمران کی جس نے روکے رکھا اپنی شہوت کی جگہ کو پھر ہم نے پھونک دی اس میں ایک اپنی طرف سے جان اور سچا جانا اپنے رب کی باتوں کو اور اس کی کتابوں کو اور وہ تھی بندگی کرنے والوں میں

15:۔ ” ومریم ابنت عمران “ مومنوں کے لیے دوسری تمثیل ہے۔ حضرت مریم صدیقہ کا حال سنو جن کو پاکبازی، صلاح وتقوی اور عبادت و طات کی بدولت ایسا مرتبہ بلند عطا ہوا، مگر ان کے طاعنین کے کفر اور ان کے طعن سے ان کو کوئی ضرر نہ پہنچ سکا، وہ پاکدان تھی اور اللہ تعالیٰ کی تمام کتابوں اور صحیفوں پر ایمن رکھتی تھی اور اللہ تعالیٰ کے ہاں نہایت فرمانبردار اور عبادت گذار تھی۔ ہم نے محض اپنی قدرت سے اس میں روح پھونک دی جس سے وہ مار دار ہوگئی اور اس طرح ہم نے خاوند کے بغیر ہی اس کو بیٹا عطا فرمادیا۔ سورة تحریم میں آیات توحید اور اس کی خصوصیات 1 ۔ یا ایہا النبی لم تحرم ما احل اللہ لک الخ۔ تحلیل و تحریم کا اختیار اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو نہیں۔ 2 مسئلہ توحید کی انفاق اور جہاد فی سبیل اللہ کا حکم سورة تحریم ختم ہوئی