65. Surah At-Talaaq

الطلاقDivorce · 12 ayahsجواھر القرآن

Ayah 65:1

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ اِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَآءَ فَطَلِّقُوْهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ وَ اَحْصُوا الْعِدَّةَ١ۚ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ رَبَّكُمْ١ۚ لَا تُخْرِجُوْهُنَّ مِنْۢ بُیُوْتِهِنَّ وَ لَا یَخْرُجْنَ اِلَّاۤ اَنْ یَّاْتِیْنَ بِفَاحِشَةٍ مُّبَیِّنَةٍ١ؕ وَ تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ١ؕ وَ مَنْ یَّتَعَدَّ حُدُوْدَ اللّٰهِ فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَهٗ١ؕ لَا تَدْرِیْ لَعَلَّ اللّٰهَ یُحْدِثُ بَعْدَ ذٰلِكَ اَمْرًا Open ayah 65:1 in the Quran reader

اے2 نبی جب تم طلاق دو عورتوں کو تو ان کو طلاق دو ان کی عدت پر اور گنتے رہو عدت کو اور ڈرو اللہ سے جو رب ہے تمہارا مت نکالو ان3 کو ان کے گھروں سے اور وہ بھی نہ نکلیں مگر جو کریں صریح بےحیائی اور یہ حدیں ہیں باندھی ہوئی اللہ کی اور جو کوئی بڑھے اللہ کی حدوں سے تو اس نے برا کیا اپنا اس کو خبر نہیں شاید اللہ پیدا کر دے اس طلاق کے بعد نئی صورت

2:۔ ” یا ایہا النبی “ مطلقہ کے لیے عدت کا اثبات۔ نداء سے آنحضرت ﷺ کو مختص کیا گیا، لیکن حکم کا خطاب ساری امت سے فرمایا کیونکہ آپ امت کے امام ہیں یا اصل عبارت اس طرح ہے۔ ” یا ایہا النبی قل لامتک اذا طلقتم۔ الایۃ “ (روح) ۔ حنفیہ اور شافعیہ کا اس پر تو اتفاق ہے کہ طلاق طہر کی حالت میں دینی چاہئے، التہ اس میں ان کا اختلاف ہے کہ عدت کا شمار حیض سے ہوگا یا طہر سے۔ حنفیہ کے نزدیک عدت تین حیض ہے اور شافعیہ کے نزدیک تین طہر۔ اسی اختلاف کی بنا پر لعدتہن میں لام کے مفہوم میں اختلاف ہے۔ شافعیہ کے نزدیک لام توقیت کے لیے ہے ای فی وقت عدتہن اور حنفیہ کے نزدیک لام بمعنی قبل ہے۔ ای قبل عدتہم لیکن حضرت شیخ قدس سرہ فرماتے ہیں کہ یہ لام عاقبت کا ہے جیسا کہ، لیکن لہم عدوا وحزنا میں ہے۔ مطلب یہ ہوگا کہ جب تم ان کو طلاق دیدو تو طلاق عدت سے ملابس ہو، یعنی ان کو گھروں سے نہ نکالو، بلکہ عدت گذارنے کے لیے ان کو بٹھاؤ، اور عدت کو باقاعدہ شمار کرو اور اس کی مدت پوری رکو۔ اور خدا سے ڈرو اور اپنے طرز عمل سے معتدہ کو ضرر نہ پہنچاؤ۔ 3:۔ ” لا تخرجوھن “ عدت گذارنے والی عورتوں کو گھروں سے نکالنے کی ممانعت فرمائی۔ البتہ اگر وہ اپنی مرضی سے خود بخود نکل جائیں تو تم پر کوئی الزام نہیں۔ فاحشۃ مبینۃ سے معتدات کا خود بخود گھروں سے نکل جانا مراد ہے۔ ھی نفس الخروج قبل انقضاء العدۃ (روح ج 28 ص 133) یہ تفسیر حضرت عبداللہ بن عمر، سدی، ابن السائب، نخعی اور امام ابوحنیفہ رحمہم اللہ سے منقول ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی حدیں ہیں جو اس نے اپنے بندوں کیلئے مقرر کی ہیں، جو شخص ان کو توڑتا ہے وہ اپنی جان پر ظلم کرتا ہے۔ ” لاتدری لعل اللہ “ کسی کو یہ معلوم نہیں کہ اللہ آئندہ کیسے حالات پیدا کرنے والا ہے، اسلیے طلاق، عدت اور سکنی وغیرہ خداوند تعالیٰ کے احکام سے تجاوز نہ کرو اور نہ عورتوں کو ظلم وتعدی کا نشانہ بناؤ ممکن ہے طلاق دینے کے بعد تم پشیمان ہوجاؤ اور بیوی سے رجوع کا ارادہ ہوجائے تو آسانی سے مافات کی تلافی کرسکو۔ اگر تم نے بیوی کو مغلظہ طلاق دیدی یا طلاق کے بعد اس سے بد سلوکی کا برتاؤ کیا تو رجوع مشکل ہوجائے گا۔ حضرت شیخ قدس سرہ فرماتے ہیں یہ ماقبل کی علت ہے۔ معتدہ کو گھر سے نکالنے کی ممانعت اس لیے کی گئی کہ ہوسکتا ہے کہ اس کے پیٹ میں اپنے خاوند کا حمل ہو۔ اگر اسے گھر سے نکلنے کی اجازت دیدی جائے تو حمل ظاہر ہونے پر تہمت آنے کا اندیشہ ہے۔
Ayahs 65:2–3

فَاِذَا بَلَغْنَ اَجَلَهُنَّ فَاَمْسِكُوْهُنَّ بِمَعْرُوْفٍ اَوْ فَارِقُوْهُنَّ بِمَعْرُوْفٍ وَّ اَشْهِدُوْا ذَوَیْ عَدْلٍ مِّنْكُمْ وَ اَقِیْمُوا الشَّهَادَةَ لِلّٰهِ١ؕ ذٰلِكُمْ یُوْعَظُ بِهٖ مَنْ كَانَ یُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ١ؕ۬ وَ مَنْ یَّتَّقِ اللّٰهَ یَجْعَلْ لَّهٗ مَخْرَجًاۙ Open ayah 65:2 in the Quran reader

پھر جب پہنچیں اپنے وعدہ کو4 تو رکھ لو ان کو دستور کے موافق یا چھوڑ دو ان کو دستور کے موافق اور گواہ کرلو دو معتبر اپنے میں کے اور سیدھی ادا کروگواہی اللہ کے واسطے یہ بات جو ہے اس سے سمجھ جائے گا جو کوئی5 یقین رکھتا ہوگا اللہ پر اور پچھلے دن پر اور جو کوئی ڈرتا ہے اللہ سے وہ کر دے اس کا گزراہ

وَّ یَرْزُقْهُ مِنْ حَیْثُ لَا یَحْتَسِبُ١ؕ وَ مَنْ یَّتَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ فَهُوَ حَسْبُهٗ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بَالِغُ اَمْرِهٖ١ؕ قَدْ جَعَلَ اللّٰهُ لِكُلِّ شَیْءٍ قَدْرًا Open ayah 65:3 in the Quran reader

اور روزی دے اس کو جہاں سے اس کو خیال بھی نہ ہو اور جو کوئی بھروسہ رکھے اللہ پر تو وہ اس کو کافی ہے تحقیق اللہ پورا کرلیتا ہے اپنا کام اللہ نے رکھا ہے ہر چیز کا اندازہ

4:۔ ” فاذا بلغن “ ای قاربن انقضاء العدۃ (قرطبی) جب ان کی عدت اختتام کے قریب ہو، تو اب بھی موقعہ ہے سوچ سمجھ کر آخری فیصلہ کرلو۔ اگر رجوع کر کے اسے اپنے پاس رکھنا چاہو تو رکھ لو، مگر مقصد حسن معاشرت ہو نہ کہ اسے ایذاء دینا۔ اگر رجوع کرنے کا ارادہ نہ ہو تو بھی اسے اچھے برتاؤ کے ساتھ عدت گذارنے کا موقع دو ، تاکہ انقضاء عدت کے بعد وہ اپنی مرضی سے جہا چاہے نکاح کرلے۔ اس وقت جو بھی فیصلہ کرلو رجعت کا یا فرقت کا، دو قابل اعتماد آدمیوں کو اس پر گواہ بنا لو اور ان کو اپنے فیصلے سے آگاہ کردو تاکہ تمہارا فیصلہ شک و ریب سے بالا تر ہوجائے اور بعد میں نزاع کا اندیشہ نہ رہے۔ ” واقیامو الشہادۃ للہ “ یہ گواہوں کو حکم ہے کہ جب ان کی گواہی کی ضرورت پڑے تو وہ کسی دباؤ یا لالچ کے تحت گواہی کو نہ چھپائیں، بلکہ محض اللہ کی رضا کے لیے صحیح گواہی ادا کریں۔ یہ پند و نصیحت اس شخص کے لیے ہے جو خدا پر اور آخرت پر ایمان رکھتا ہو، کیونکہ اس کا فائدہ وہی اٹھائے گا۔ 5 ۔ ” ومن یتق اللہ “ اس کا تعلق طلاق سے ہے یعنی جو شخص خدا سے ڈرے اور طلاق دیتے وقت حدود اللہ کی پابندی کرے تو اس کے لیے عدت میں رجوع کا موقع موجود ہے۔ قال ابن عباس والشعبی والضحاک ھذا فی الطلاق خاصۃ ؟ ای من طلق کما امرہ اللہ یکن لہ مخرج فی الرجعۃ فی العدۃ (قرطبی ج 18 ص 159) ۔ جو شخص حسن معاشرت کی نیت سے بیوی کو آباد کرنا چاہے وہ روزی کی فکرنہ کرے اللہ اسے ایسی جگہ سے روزی مہیا فرمائے گا جہاں سے اسے وہم و گمان بھی نہیں ہوگا۔ جو شخص بھی اللہ پر بھوسہ کرلے اسے اللہ ہی کافی ہے اور اسے کسی اور کی ضرورت نہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ ایسا قادر و متصرف ہے کہ وہ جس کام کا ارادہ فرمالیتا ہے اسے پورا کرلیتا ہے اور کوئی چیز اس کے ارادے کی راہ میں حائل نہیں ہوسکتی۔ ای یبلغ مایریدہ عز وجل ولا یفوتہ مراد (روح ج 28 ص 136) ۔ ” قد جعل اللہ “ ہر چیز کے لیے اللہ تعالیٰ نے ایک اندازہ مقرر فرمادیا خواہ طلاق ہو یا عدتی یا کوئی اور چیز اس کی عدت کی مختلف میعادوں کا بیان ہے۔
Ayahs 65:4–5

وَ الّٰٓئِیْ یَئِسْنَ مِنَ الْمَحِیْضِ مِنْ نِّسَآئِكُمْ اِنِ ارْتَبْتُمْ فَعِدَّتُهُنَّ ثَلٰثَةُ اَشْهُرٍ١ۙ وَّ الّٰٓئِیْ لَمْ یَحِضْنَ١ؕ وَ اُولَاتُ الْاَحْمَالِ اَجَلُهُنَّ اَنْ یَّضَعْنَ حَمْلَهُنَّ١ؕ وَ مَنْ یَّتَّقِ اللّٰهَ یَجْعَلْ لَّهٗ مِنْ اَمْرِهٖ یُسْرًا Open ayah 65:4 in the Quran reader

اور جو عورتیں6 ناامید ہوگئیں حیض سے تمہاری عورتوں میں اگر تم کو شبہ رہ گیا تو ان کی عدت ہے تین مہینے اور ایسے ہی جن کو حیض نہیں آیا اور جن کے پیٹ میں بچہ ہے ان کی عدت یہ ہے کہ جن لیں پیٹ کا بچہ اور جو کوئی7 ڈرتا ہے اللہ سے کر دے وہ اس کے کام میں آسانی

ذٰلِكَ اَمْرُ اللّٰهِ اَنْزَلَهٗۤ اِلَیْكُمْ١ؕ وَ مَنْ یَّتَّقِ اللّٰهَ یُكَفِّرْ عَنْهُ سَیِّاٰتِهٖ وَ یُعْظِمْ لَهٗۤ اَجْرًا Open ayah 65:5 in the Quran reader

یہ حکم ہے اللہ کا جو اتارا تمہاری طرف اور جو کوئی ڈرتا رہے اللہ سے اتار دے اس پر سے اس کی برائیاں اور بڑھا دے اس کو ثواب

6:۔ ” اللائی یئسن “ اس آیت میں عدت کی دو میعادوں کا بیان ہے۔ ایک تین ماہ اور دوم وضع حمل۔ ہر میعاد دو دو قسم کی عورتوں کے لیے ہے۔ پہلی میعاد ان دو عورتوں کے لیے (1) آئسہ یعنی وہ عورت جس کو بڑھاپے کی وجہ سے حیض نہ آتا ہو۔ (2) وہ عورت جس کو ابھی حیض آنا شروع ہی ہوا ہو، خواہ صغیرہ ہو یا مراہقہ یا بالغہ بالسن۔ اسی طرح دوسری میعاد یعنی وضع حمل ان دو عورتوں کے لیے (1) وہ حاملہ جس کو حالت حمل میں طلاق ہوگئی (2) وہ حاملہ جس کا خاوند فوت ہوگیا ہو۔ ان ارتبتم ای فی مقدار عدتہن۔ واللائی مبتدا ہے اور فعدتہن الخ اس کی خبر ہے یعنی اگر ان کی مقدار عدت میں تمہیں شک ہو اور ” والمطلقات یتربصن بانفسہن ثلثۃ قروء “ سے تم ان کی عدت نہیں سمجھ سکے ہو تو سن لو ان کی عدت تین ماہ ہے۔ 7:۔ ” ومن یتق اللہ “ جو شخص اللہ کے احکام میں اس سے ڈرے اور ان کو بجا لائے تو اللہ اس کے کام کو آسان کردے گا اور ایسے نیک کاموں کی توفیق عطا فرمائیگا ” ذلک امر اللہ “ یہ مذکورہ احکام اللہ نے تم پر نازل فرمائے ہیں جو شخص اللہ سے ڈرے اور اس کے احکام کی اطاعت کرے، تو اللہ اس کے گناہ معاف فرمائے گا اور اسے بہت بڑا اجر دے گا۔
Ayahs 65:6–7

اَسْكِنُوْهُنَّ مِنْ حَیْثُ سَكَنْتُمْ مِّنْ وُّجْدِكُمْ وَ لَا تُضَآرُّوْهُنَّ لِتُضَیِّقُوْا عَلَیْهِنَّ١ؕ وَ اِنْ كُنَّ اُولَاتِ حَمْلٍ فَاَنْفِقُوْا عَلَیْهِنَّ حَتّٰى یَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ١ۚ فَاِنْ اَرْضَعْنَ لَكُمْ فَاٰتُوْهُنَّ اُجُوْرَهُنَّ١ۚ وَ اْتَمِرُوْا بَیْنَكُمْ بِمَعْرُوْفٍ١ۚ وَ اِنْ تَعَاسَرْتُمْ فَسَتُرْضِعُ لَهٗۤ اُخْرٰىؕ Open ayah 65:6 in the Quran reader

ان کو گھر دور رہنے کے واسطے8 جہاں تم آپ رہو اپنے مقدور کے موافق اور ایذا دینا نہ چاہو ان کو تاکہ تنگ پکڑو ان کو اور اگر رکھتی ہوں پیٹ میں بچہ تو ان پر خرچ کرو جب تک جنیں پیٹ کا بچہ پھر اگر9 وہ دودھ پلائیں تمہاری خاطر، تو دو ان کو ان کا بدلہ اور سکھاؤ آپس میں نیکی اور اگر ضد کرو آپس میں تو دودھ پلائے گی اس کی خاطر اور کوئی عورت

لِیُنْفِقْ ذُوْ سَعَةٍ مِّنْ سَعَتِهٖ١ؕ وَ مَنْ قُدِرَ عَلَیْهِ رِزْقُهٗ فَلْیُنْفِقْ مِمَّاۤ اٰتٰىهُ اللّٰهُ١ؕ لَا یُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفْسًا اِلَّا مَاۤ اٰتٰىهَا١ؕ سَیَجْعَلُ اللّٰهُ بَعْدَ عُسْرٍ یُّسْرًا۠ Open ayah 65:7 in the Quran reader

چاہیے خرچ کرے وسعت والا اپنی وسعت کے موافق اور جس کو نپی تلی ملتی ہے اس کی روزی تو خرچ کرے جیسا کہ دیا ہے اس کو اللہ نے اللہ کسی پر تکلیف نہیں رکھتا، مگر اسی قدر جو اس کو دیا اب کر دے گا اللہ سختی کے پیچھے کچھ آسانی

8:۔ ” اسکنوھن “ معتدہ کے لیے انقضاء عدت تک رہائش کا انتظام خاوند کے ذمہ ہے۔ خاوند اپنی مالی حیثیت کے مطابق رہائش کا انتظام کرے اور اس پر لازم ہے کہ اسے تنگ نہ کرے اور تکلیف نہ دے تاکہ وہ مکان چھوڑنے پر مجبور ہوجائے۔ معتدہ رجعیہ ہو یا بائنہ اس کا نفقہ بھی خاوند کے ذمہ اور سکنی بھی۔ امام ابوحنیفہ اور امام ثوری رحمہما اللہ کا یہی مسلک ہے۔ ” وان کن اولات حمل “ اگر معتدہ حامل ہو تو اسے خرچ بھی دو ۔ شرط کا مفہوم مخالف حتجت نہیں۔ اس کے علاوہ شرط کا فائدہ یہ ہے کہ وہم ہوسکتا تھا کہ حاملہ کے لیے نفقہ نہ ہو، کیونکہ بعض اوقات مدت حمل بہت طویل ہوتی ہے، تو حاملہ کے لیے نفقہ ثابت ہوگیا تو غیر حاملہ کے لیے بطریق اولی ثابت ہوگا (روح) ۔ 9:۔ ” فان ارضعن لکم “ مطلق حاملہ وضع حمل کے بعد اگر تمہارے بچے کو دودھ پلاتی اور اس کی پرورش کرتی ہے تو اسے اس کا معاوضہ ادا کرو اور آپس میں حکم شریعت کے مطابق معاملہ کرو نہ باپ کنجوسی سے کام لے اور نہ والدہ جائز حق سے زائد کا مطالبہ کرے اور اگر خاوند تنگدس ہو اور والدہ اس کی وسعت سے زیادہ معاوضہ طلب کرے، تو اسے چھوڑو، دودھ پلانے والیاں تمہیں اور بہت مل جائیں گی۔ ” لینفق ذو سعۃ “ جو شخص حوشحال ہو وہ اپنی حیثیت کے مطابق خرچ کرے اور جو تنگدست ہو وہ اپنی حیثیت کے مطابق خرچ کرے۔ اللہ تعالیٰ کسی کو اس کی وسعت سے زیادہ کوئی تکلیف نہیں دیتا۔ اگر کوئی تنگدست ہو تو ہوسکتا ہے اللہ کے رز میں فراخی عطا فرما دے۔
Ayahs 65:8–9

وَ كَاَیِّنْ مِّنْ قَرْیَةٍ عَتَتْ عَنْ اَمْرِ رَبِّهَا وَ رُسُلِهٖ فَحَاسَبْنٰهَا حِسَابًا شَدِیْدًا١ۙ وَّ عَذَّبْنٰهَا عَذَابًا نُّكْرًا Open ayah 65:8 in the Quran reader

اور کتنی10 بستیاں کہ نکل چکیں حکم سے اپنے رب کے اور اس کے رسولوں کے پھر ہم نے حساب میں پکڑا ان کو سخت حساب میں اور آفت ڈالی ان پر بن دیکھی آفت

فَذَاقَتْ وَبَالَ اَمْرِهَا وَ كَانَ عَاقِبَةُ اَمْرِهَا خُسْرًا Open ayah 65:9 in the Quran reader

پھر چکھی انہوں نے سزا اپنے کام کی اور آخرت کو ان کے کام میں ٹوٹا گیا

10:۔ ” وکاین من قریۃ “ خانگی امور انتظامیہ طلاق، عدت، سکنی، نفقہ اور رضاعت کے احکام بیان کرنے کے بعد تخویف دنیوی و اخروی سنائی گئی۔ تاکہ احکام خداوندی سے بغاوت کرنے والوں کو اپنے انجام بد کا علم ہوجائے اور نیک لوگ بھی اس سے عبرت حاصل کریں۔ فرمایا بہت سی بستیاں ایسی تھیں جن کے باشندوں نے اپنے پروردگار اور اس کے رسولوں کے احکام سے سرکشی کی اور روگدانی کی تو ہم نے ان کا سخت محاسبہ کیا اور ان کو نہایت دردناک سزا دی اس طرح انہوں نے اپنے کرتوتوں کا مزہ چکھ لیا اور انجام کار دین و دنیا کا خسارہ اٹھایا اور پھر آخرت میں بھی اللہ نے ان کے لیے شدید ترین عذاب تیار کر رکھا ہے۔
Ayah 65:10

اَعَدَّ اللّٰهُ لَهُمْ عَذَابًا شَدِیْدًا١ۙ فَاتَّقُوا اللّٰهَ یٰۤاُولِی الْاَلْبَابِ١ۛۖۚ۬ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا١ۛ۫ؕ قَدْ اَنْزَلَ اللّٰهُ اِلَیْكُمْ ذِكْرًاۙ Open ayah 65:10 in the Quran reader

تیار رکھا ہے اللہ نے واسطے ان کے سخت عذاب سو11 ڈرتے رہو اللہ سے اے عقل والو جن کو یقین ہے بیشک اللہ نے اتاری ہے تم پر نصیحت

11:۔ ” فاتقوا اللہ “ اے عقلمند مؤمنین ! اللہ سے ڈرو اور اس کے احکام کی اطاعت کرو۔ اس نے تمہاری رہنمائی کے لیے ایک عظیم الشان کتاب نازل فرمائی ہے جو سراپا نصیحت ہے اور ایک عظیم الشان رسول بھیجا ہے جو اس کی واضح ور روشن آیتیں پڑھ کر سناتا ہے تاکہ مومنین صالحین کو گمراہی کے اندھیروں سے نکال کر رشد و ہدایت کی روشنی سے ہمکنار کرے۔ رسولا، ذکرا سے بدل ہے، تلاوت قرآن پر مواظبت کی وجہ سے آپ کو ذکر فرمایا۔ یا رسولا کا فعل ناصب مقدر ای ارسل رسولا۔ سدی اور ابن عطیہ نے اسی کو اختیار کیا ہے (روح) ۔ امام زجاج، قرطبی اور قاضی ثناء اللہ پانی پتی (مظہری) اور حضرت شیخ قدس سرہ کے نزدیک بھی یہی مختار ہے اور یہ ترکیب علفتہا تبنا وماء باردا کے قبیل سے ہے۔
Ayah 65:11

رَّسُوْلًا یَّتْلُوْا عَلَیْكُمْ اٰیٰتِ اللّٰهِ مُبَیِّنٰتٍ لِّیُخْرِجَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ مِنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ١ؕ وَ مَنْ یُّؤْمِنْۢ بِاللّٰهِ وَ یَعْمَلْ صَالِحًا یُّدْخِلْهُ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًا١ؕ قَدْ اَحْسَنَ اللّٰهُ لَهٗ رِزْقًا Open ayah 65:11 in the Quran reader

رسول ہے جو پڑھ کر سناتا ہے تم کو اللہ کی آیتیں کھول کر سنانے والی تاکہ نکالے ان لوگوں کو جو کہ یقین لائے اور کیے بھلے کام اندھیروں سے اجالے میں اور جو کوئی12 یقین لائے اللہ پر اور کرے کچھ بھلائی اس کو داخل کرے باغوں میں نیچے بہتی ہیں جن کے نہریں سدا رہیں ان میں ہمیشہ البتہ خوب دی اللہ نے اس کو روزی

12 ۔ ” ومن یومن باللہ “ یہ مومنین کے لیے بشارت اخرویہ ہے۔ جو شخص ایمان لائے اور نیک عمل کرے اسے اللہ ایسے باغوں میں داخل فرمائے گا جن میں ہر اعلی مشروب کی ندیاں بہتی ہوں گی اور وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ان میں رہیں گے وہاں انہیں جو رزق ملے گا وہ بھی نہایت عمدہ، لذیذ اور اعلی درجہ کا ہوگا۔
Ayah 65:12

اَللّٰهُ الَّذِیْ خَلَقَ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ وَّ مِنَ الْاَرْضِ مِثْلَهُنَّ١ؕ یَتَنَزَّلُ الْاَمْرُ بَیْنَهُنَّ لِتَعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ١ۙ۬ وَّ اَنَّ اللّٰهَ قَدْ اَحَاطَ بِكُلِّ شَیْءٍ عِلْمًا۠ Open ayah 65:12 in the Quran reader

اللہ13 وہ ہے جس نے بنائے سات آسمان اور زمین بھی اتنی ہی اترتا ہے اس کا حکم ان کے اندر تاکہ تم جانو کہ اللہ ہر چیز کرسکتا ہے اور اللہ کے علم میں سمائی ہے ہر چیز کی

13:۔ ” اللہ الذی “ یہ توحید پر عقلی دلیل ہے۔ اس سورت کے آخر میں توحید پر عقلی دلیل ہے۔ اس سورت کے آخر میں توحید کا بیان آگیا تاکہ دیگراحکام کے ساتھ ساتھ توحید کی طرف بھی توجہ باقی رہے۔ کیونکہ اصل مقصود یہی ہے۔ زمین و آسمان اور ساری کائنات کا خالق اللہ تعالیٰ ہے اور زمین و آسمان کے درمیان وہی متصرف و مختار ہے اور اسی کا حکم چلتا ہے۔ ” لتعلموا “ کا متعلق مقدر ہے ای اخبرتکم او اعلمتکم بذلک ولتعلموا (روح ج 28 ص 146) ۔ یعنی میں نے تمہیں یہ اس لیے بتایا ہے تاکہ تمہیں معلوم ہوجائے کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے اور اس کا علم کائنات کے ذرے ذرے پر حاوی ہے۔ لہذا وہی سب کا کارساز اور حاجت روا ہے۔ ” ومن الارض مثلھن “ جیسے آسمان سات ہیں اسی طرح زمینیں بھی سات ہیں لیکن سات آسمان تو تہ ت تہ ہی کیونکہ آسمانوں کے لیے قرآن میں طباقا وارد ہے لیکن زمینیں، اس طرح نہیں ہیں بلکہ اس سے روئے زمین کے سات حصے مراد ہیں مثلا ایشیا، یورپ، شمالی افریقہ، جنوبی افریقہ، امریکہ، نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا۔ سات منبسط زمینوں کا مراد ہونا حضرت ان عباس اور ابو صالح سے مروی ہے۔ قال ابو صالحھی فی کو نہا سبعا لا غیر فی سبع ارضین منبسطۃ لیس بعضہا فوق بعض یفرق بینھا البحار ویظل جمیعھا السماء وروی بذلک عن ابن عباس الخ (روح ج 28 ص 144) ۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔ سورة طلاق میں آیت توحید۔ اللہ الذی خلق سبع سموات۔ الایۃ۔ نفی شرک فی التصرف سورة طلاق ختم ہوئی