Ayah 68:1(68:1) ن والقلم وما یسطرون ۔ : ن : حرف مقطعات میں سے ہے۔ والقلم میں واؤ قسمیہ ہے ۔ القلم مقسم علیہ۔ قسم ہے قلم کی
وما یسطرون : اس کا عطف القلم پر ہے ما موصولہ یسطرون اس کا صلی دونوں مل کر مقسم علیہ۔ اور قسم ہے (اس کی) جو کچھ وہ لکھتے ہیں۔
Ayah 68:2(68:2) ما انت بنعمۃ ربک بمجنون۔ جملہ جواب قسم ہے باء ثانیہ زائدہ ہے تاکید نفی کا فائدہ دیتی ہے۔ مجنون خبر ہے ما کی۔ اور پہلی باء ملا بست کے لئے ہے ۔ اور جار مجرور خبر کی ضمیر سے موضع حال میں ہے۔ یعنی فضل خدا کی موجودگی میں آپ دیوانہ نہیں ہیں۔
نعمۃ سے مراد نبوت، شرافت۔ کمال فہم و عقل ، عظمت مرتبہ، علوم اور دوسرے مکارم ہیں۔ بغوی (رح) نے لکھا ہے کہ کافر کہتے تھے : یایھا الذی نزل علیہ الذکر انک لمجنون (15:6) اے وہ شخص جس پر نصیحت (کی کتاب) نازل ہوئی ہے تو تو دیوانہ ہے۔ کافروں کے اس قول کے جواب میں آیت مذکروہ ما انت بنعمۃ ربک بمجنون ۔۔ الخ نازل ہوئی۔ چونکہ کفار کا انکار شدید اور قوی تھا ان کے قول کے مقابلہ میں اللہ تعالیٰ نے آیت مذکورہ کو قسم کے ساتھ مؤکد کیا اور خبر (مجنون) پر باء کو داخل کرکے نفی کو محکم کردیا۔
Ayah 68:3(68:3) وان لک لاجرا غیر ممنون۔ یہ آیت بھی جواب قسم میں ہے۔
لاجرا لام تاکید کے لئے ہے اجرا میں تنوین عظمت اجر کو ظاہر کر رہی ہے۔
ممنون اسم مفعول واحد مذکر من (باب نصر) مصدر۔ م ن ن حروف مادہ کم کیا ہوا۔ قطع کیا ہوا۔ غیر ممنون یعنی اجر نہ کم ہوگا۔ نہ منقطع اور ختم ہوگا۔ یعنی اے حبیب آپ نے بنوت کے بارگراں کو جس خوبی سے اٹھایا ہے اور احکام رسالت کو جس تندہی و خوش اسلوبی سے لوگوں کے اذہان اور دلوں میں راسخ کردیا ہے اس کا اجر آپ کو ہمیشہ ہمیشہ ملتا رہے گا اور کبھی منقطع نہ ہوگا۔
اور اگر منت (بھاری) احسان سے مشتق ہے تو معنی ہوسکتے ہیں کہ :۔ آپ کے لئے وہ اجر مقدر ہے جس کیلئے آپ کسی کے منت کش احسان نہیں ہوں گے۔ یعنی اللہ تعالیٰ خاص اپنی جناب سے آپ کو اجر دے گا۔
Ayah 68:4(68:4) وانک لعلی خلق عظیم : اور بیشک آپ عظیم خلق کے مالک ہیں۔ یہ جملہ بھی جواب قسم میں سے ہے۔ مطلب یہ ہے کہ آپ بڑے اخلاق کے مالک ہیں کیونکہ آپ ایسی ایذا رساں اور توہین آمیز باتیں برداشت کرلیتے ہیں جو کہ دوسرے لوگ برداشت نہیں کرسکتے۔ اسی لئے رسول کریم ﷺ کا ارشاد گرامی ہے :۔ اللہ کے راستہ میں جو دکھ مجھے دیا گیا وہ کسی کو نہیں دیا گیا۔
حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ خلق عظیم سے مراد دین عظیم ہے یعنی دین اسلام ہے اس سے زیادہ پسندیدہ اور محبوب مجھے کوئی مذہب نہیں ہے (تفسیر مظہری) ۔
Ayah 68:5(68:5) فستبصر :اور س کے لئے ملاحظہ ہو 67:29 متذکرۃ الصدر۔
تبصر مضارع واحد مذکر حاضر ابصار (افعال) مصدر۔ عنقریب تو (بھ) دیکھ لیگا۔
ویبصرون اور وہ (یعنی کافر لوگ بھی) دیکھ لیں گے۔ اس آیت کا ربط اگلی آیت سے ہے۔
Ayah 68:6(68:6) بایکم المفتون : اس میں ب زائدہ ہے اور المفتون، فتون مصدر سے اسم مفعول کا صیغہ واحد مذکر، فتنۃ میں ڈالا ہوا۔ فتنہ میں پڑا ہوا۔ دیوانہ، فریفتہ، مصیبت زدہ، آزمایا ہوا۔ فتن یفتن (باب ضرب) فتون وفتنۃ مصدر۔
ایکم ای استفہامیہ، مضاف کم ضمیر جمع مذکر حاضر، مضاف الیہ، تم میں سے کون۔ ترجمہ :۔ تم میں سے کون دیوانہ (مجنون) ہے
Ayah 68:7(68:7) ان ربک ھو اعلم بمن ضل عن سبیلہ : ھو ضمیر فصل ہے ملاحظہ ہو گرائمر عربی مئولفہ ڈبلیورائٹ حصہ دوم۔
یعنی اللہ بخوبی واقف ہے کہ کون اس کے راستہ سے بہکا ہوا ہے (تفسیر مظہری)
اعلم : علم سے (باب سمع) سے مصدر۔ افعل التفضیل کا صیغہ ، بمعنی خوب جاننے والا۔ بہتر جاننے والا۔ جلالین میں ہے کہ اعلم بمعنی عالم ہے۔
من موصولہ ہے ضل ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب۔ ضلال (باب ضرب) مصدر وہ گمراہ ہوا۔ وہ بہکا۔ وہ راہ سے دور جاپڑا۔ سبیلہ مضاف مضاف الیہ۔ اس کے راستہ سے ہ ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع رب ہے۔
وھو اعلم بالمھتدین۔ اس کا عطف جملہ سابقہ پر ہے اور وہ بخوبی جانتا ہے راہ ہدایت پانے والوں کو۔
مھتدین : اسم فاعل کا صیغہ جمع مذکر بحالت نصب۔ مھتدی کی جمع اھتداء (افتعال) مصدر۔ ہدایت پانے والے۔
Ayah 68:8(68:8) فلا تطع المکذین :سببیہ ہے۔ یعنی جب یہ بات کھل گئی کہ آپ ہدایت پر ہیں اور آپ کو جھوٹا قرار دینے والے بھٹکے ہوئے ہیں ۔ تو اب ان کے کہنے پر نہ چلئے۔ لاتطع : فعل نہی واحد مذکر حاضر۔ اطاعۃ (افعال) مصدر۔ تو اطاعت مت کر۔ تو کہا مت مان۔ المکذبین اسم فاعل صیغہ جمع مذکر۔ تکذیب (تفعیل) مصدر سے، جھٹلانئے والے۔
Ayah 68:9(68:9) ودوا۔ ماضی جمع مذکر غائب ود ومودۃ (باب سمع) مصدر۔ انہوں نے دل سے چاپا۔ انہوں نے تمنا کی۔ اسی سے الودود مبالغہ کا صیغہ ہے۔ بہت محبت کرنے والا۔ ثواب دینے والا۔ اللہ تعالیٰ کے اسماء حسنی میں سے ہے۔ ودوا کا فاعل آیت سابقہ میں المکذبین ہے۔
لو تدھن فیہ ھنون : لو حرف شرط۔ لوتدھن جملہ شرط ہے۔جواب شرط کے لئے ہے۔ فیدھنون جملہ جواب شرط۔ شرط و جواب شرط مل کر ودوا کا مفعول ہے ۔ تدھن مضارع کا صیغہ واحد مذکر حاضر۔ ادھان (افعال) مصدر بمعنی تدھین یعنی چکنا کرنے اور تیل ڈالنے کے ہیں۔ دھن بمعنی تیل۔ مگر مراد اس سے مدارات، ملائمت اور سستی لی جاتی ہے۔
یدھنون مضارع جمع مذکر غائب۔ ادھان (افعال) مصدر ۔ تیل ڈالنا۔ مکھن لگانا۔ نرمی کرنا ۔ ڈھیل دینا۔ ترجمہ : یہ لوگ چاہتے ہیں کہ اگر تم نرمی کرو تو یہ بھی نرم ہوجائیں گے۔
Ayah 68:10(68:10) ولا تطع : واؤ عاطفہ لاتطع فعل نہی واحد مذکر حاضر، اطعۃ (افعال) مصدر۔ تو اطاعت نہ کر۔ تو کہنے میں نہ آ۔
کل : ہر ۔ تمام۔ سب۔ مضاف۔
حلاف ۔ ھماز ۔ مشاء ۔ مناع، معتد ، اثیم ، عتل ، زنیم۔ مضاف الیہ، یعنی ان صفات کے مالک سب لوگ۔ یہ تمام لاتطع کے مفعول ہیں۔ یعنی ان تمام لوگوں کی اطاعت نہ کر۔ ان کے کہنے میں نہ آ۔
حلاف مھین : حلاف بڑا قسمیں کھانے والا۔ حلف سے بروزن فعال مبالغہ کا صیغہ ہے۔ مھین ذلیل و خوار۔ حقیر۔ مھانۃ سے صفت مشبہ کا صیغہ واحد مذکر ، حلاف مھین بہت قسمیں کھانے والا حقیر و ذلیل شخص۔
Ayah 68:11(68:11) ھماز : ھمز مصدر (باب نصر، ضرب) سے ۔ بڑا عیب گو۔ عیب جو، طعن کرنے والا۔ بطور طعن آنکھ سے اشارہ کرنا۔ ھمز الشیطین شیطانی وسوسہ۔ ھامز عیب چین۔ چغل خور۔
مشاء بہت چلنے والا۔ مشی سے مبالغہ کا صیغہ۔
بنمیم : ب تعدیہ کا۔ نمیم مصدر واسم ۔ چغلی کھانا۔ مشاء بنمیم وہ شخص وج بڑی تندہی اور زور شور سے ادھر اور ادھر کی ادھر چغلی کھاتا پھرے۔
Ayah 68:12(68:12) مناع للخیر : مناع منع سے بالغہ کا صیغہ۔ نیکی سے بہت منع کرنے والا ہر کارخیر سے روکنے والا۔
معتد اعتداء سے (باب افتعال سے مصدر اسم فاعل سے صیغہ واحد مذکر۔ حد سے آگے بڑھنے والا اصل میں معتدی تھا۔ اعتداء حدود حق سے ہٹ جانا۔ تجاوز کرنا۔ اسی سے تعدی دوسرے کی طرف تجاوز کرنا۔
اثیم : اثم (باب سمع ( مصدر سے۔ بروزن فعیل بمعنی فاعل گنہگار۔ اثم (مصدر) بمعنی برا کام کرنا۔ ناجائز کام کرنا۔ گناہ کرنا۔
Ayah 68:13(68:13) عتل : یہ عتل مصدر سے صفت کا صیغہ ہے بمعنی سخت مزاج ۔ گردن کش اجڈ۔ شوکانی کے نزدیک عتل وہ ہے جو جسم کا مضبوط اور اخلاق کا خراب ہو۔
عبد الرحمن بن غنم ؓ سے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ :۔ عتل : جو جسم کا مضبوط ہو، صحت مند ہو بڑا کھانے پینے والا ہو، جیسے کھانے پینے کو ملتا رہے۔ لوگوں پر بہت ظلم کرتا ہو اور توند اس کی بڑی ہو۔
بعد ذلک یعنی متذکرہ بالا صفات کے علاوہ (وہ زنیم بھی ہے)
زنیم : الزنیم یا مزنم : اسے کہتے ہیں جو کسی قسم سے نسبتی تعلق تو نہ رکھتا ہو لیکن اس کے ساتھ یونہی ملحق ہو۔ جیسے کہ زنمتا الشاۃ یعنی گوشت کے دو زائد ٹکڑے جو بکری کے گلے یا کان سے نیچے لٹک رہے ہوں۔
زنیم دعی (جمع ادعیائ) بمعنی لے پالک، غیر باپ کی طرف منسوب کو بھی کہتے ہیں۔ اور دعی وہ شخص ہے جو کہ تم اس کو بیٹا بنالو۔ یا وہ جو حرامی ہونے میں متہم ہو۔ اس سلسہ میں تین کافروں کا نام لیا جاتا ہے جن میں مندرجہ ذیل بالا صفات کے علاوہ زنیم کی بھی صفت پائی جاتی تھی۔ مثلا :۔
(1) ولیدین مغیرہ کہ وہ 18 سال کا تھا جب اس کے باپ نے اس کے بیٹے ہونے کا اقرار کیا اس کے گلے میں ایک لٹکاؤ بھی تھا جس سے اس کی شناخت ہوجاتی تھی۔
(2) اخنس بن شریق کہ اصل میں ثقفی تھا لیکن اس کا شمار بنی زہرہ میں سے کیا جاتا تھا۔
(3) اسود بن عبد یغوث۔
اکثر کے نزدیک شخص مذکور سے مراد ولید بن مغیرہ ہے۔ علامہ پانی پتی فرماتے ہیں :۔
میں کہتا ہوں کہ شاید زنیم ہونے کی صفت مذکورہ بالا قبائح سے زیادہ بری تھی اسی لئے تو چند قبائح کا ذکر کرنے کے بعد زنیم کو ذکر کیا۔ یعنی مذکورہ بالا قبائح کے علاوہ وہ زنیم بھی ہے۔
Ayah 68:14(68:14) ان کان ذامال وبنین : ان مصدریہ ہے اس سے قبل لا تعلیل محذوف ہے ای لان کان ذامال ۔۔ الخ۔ یعنی اس وجہ سے اس کا کہنا نہ مان لینا کہ وہ مالدار اور بیٹوں والا ہے ذامال خبر ہے کان کی، وبنین اس کا عطف ذامالپر ہے اور یہ خبر دوم ہے کان کی
Ayah 68:15(68:15) اذا تتلی علیہ ایتنا : جملہ شرط ہے قال اساطیر الاولین جواب شرط ہے تتلی مضارع مجہول واحد مؤنث غائب ۔ تلاوۃ (باب نصر) مصدر۔ وہ پڑھی جاتی ہے اس کی تلاوت کی جاتی ہے۔ یعنی جب اس کو ہماری آیات پڑھ کر سنائی جاتی ہیں (یعنی قرآن مجید کی آیات) ۔ اساطیر الاعلین : مضاف مضاف الیہ۔ اساطیر کہانیاں ۔ من گھڑت لکھی ہوئی باتیں۔ اسطورۃ کی جمع وہ جھوٹی خبر جس کے متعلق اعتقاد ہو کہ وہ جھوٹ گھڑ کر لکھ دی گئی ہے۔ الاولین اول کی جمع۔ بحالت نصب، پہلے لوگ، اگلے لوگ۔
Ayah 68:16(68:16) سنسمہ : س مضارع پر داخل ہو کر مستقبل قریب کے معنی میں کردیتا ہے (ملاحظہ ہو 67:29) نسم مضارع واحد متکلم وسم باب ضرب مصدر سے اصل میں نوسم تھا۔ مثال واوی وعد یعد کی طرح وسم یسم ہے مصدر بمعنی داغ لگانا۔ نشان بنانا۔ ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب۔ ہم اس کو داغ لگا دیں گے۔
علی الخرطوم : جار مجرور۔ خرطوم سونڈ۔ تھوتھنی۔ ہاتھی کی سونڈ۔ خنزیر کی تھوتھنی، کو خرطوم کہتے ہیں یہاں مراد ناک ہے۔ نفرت کے اظہار کے لئے خرطوم استعمال ہوا ہے یعنی ہم عنقریب ہی اس کی ناک کو داغ دیں گے۔
کہتے ہیں کہ ولید بن مغیرہ کی ناک بڑی اور بےڈول ہونے کی وجہ سے ہاتھی کی سونڈ جیسی تھی بدر کی لڑائی میں کسی انصاری کی تلوار سے اس کی ناک پر چرکا لگا باوجود علان کے اچھا نہ ہوا ایک داغ ہوگیا۔ اور آخر اسی مرض میں سخت تلخی اٹھا کر سیدھا جہنم میں گیا (تفسیر حقانی)
Ayah 68:17(68:17) انا بلونھم : بلونا ماضی جمع متکلم ۔ بلاء وبلو (باب نصر) مصدر جس کا معنی آزمانے کے ہیں۔ ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب کا مرجع کفار مکہ ہیں۔ ہم نے ان کو آزمایا ہم ان کو آزما رہے ہیں۔ کفار مکہ کی اس آزمائش کے متعلق مختلف اقوال ہیں :۔
(1) علامہ پانی پتی لکھتے ہیں :۔ انا بلونھم یعنی قحط اور بھوک سے ہم نے اہل مکہ کی آزمائش کی۔ جب رسول اللہ ﷺ نے مکہ والوں کے لئے بددعا کی تھی کہ الٰہی ان پر زمانہ یوسف جیسا قحط ڈال دے تو اللہ نے ان کو قحط میں مبتلا کردیا۔ یہ ان تک کہ لوگ مردار اور ہڈیاں کھا گئے۔ (تفسیر مظہری)
(2) صاحب روح المعانی رقمطراز ہیں :۔ انا بلونھم : ای اصبنا اہل مکۃ ببلیۃ وہی القحط بدعوۃ رسول اللہ ﷺ ۔ رسول اللہ ﷺ کی بددعا پر ہم نے ان پر بلا یعنی قحط نازل کردیا۔
(3) صاحب تفسیر حقانی لکھتے ہیں کہ :۔ انا بلونھم۔ ہم نے ان کو یہ فراخ دستی اور عیش و آرام دے رکھے ہیں یہ ان کی آزمائش ہے (تفسیر حقانی)
(4) مولانا اشرف علی تھانوی (رح) لکھتے ہیں :۔ ہم نے جو اہل مکہ کو سامان عیش دے رکھا ہے (کہ دیکھیں یہ نعمتوں کے شکر میں ایمان لاتے ہیں یا ناشکری و بےقدری کرتے ہیں) بیان القرآن وغیرہ۔
کما بلونا اصحب الجنۃ ک تشبیہ کا ما موصولہ اور اس کے بعد آنے والا جملہ اس کا صلہ الجنۃ میں الف لام عہد کا ہے یعنی جس کا متکلم اور مخاطب کو علم ہو۔ یعنی یہ خاص باغ تھا جس کا علم کفار مکہ اور دیگران کو تھا۔
ہم نے ان کی آزمائش کر رکھی ہے جیسا کہ ہم نے باغوالوں کی آزمائش کی تھی۔ (مولانا اشرف علی تھانوی (رح))
باغ کے متعلق مولانا ممدوح (رح) رقمطراز ہیں :۔ یہ باغ بقول ابن عباس ؓ حبشہ میں تھا۔ اور بقول سعید بن جبیر ؓ یمن میں تھا کذا فی الدر۔ اور یہ قصہ اہل مکہ کو معلوم تھا۔ اور جن باغ والوں کا یہ قصہ ہے ان کے باپ کا اپنے وقت میں معمول تھا کہ ایک بڑا حصہ باغ کے پھل کا مساکین میں صرف کیا کرتا تھا۔ جب وہ مرگیا تو ان لوگوں نے کہا کہ ہمارا باپ احمق تھا کہ اس قدر آمدنی مسکینوں کو دے دیتا تھا اگر یہ سب گھر آوے تو کس قدر فراغت ہو۔ چناچہ ان آیتوں میں ان کا بقیہ قصہ مذکور ہے۔
اذا اقسموا : اذا طرفیہ ہے بمعنی جب۔ جس وقت۔
اقسموا۔ ماضی جمع مذکر غائب۔ اقسام (افعال) مصدر۔ انہوں نے قسمیں کھائیں۔ یعنی ہم نے اصحب الجنۃ کو قحط میں اس وقت مبتلا کیا جب انہوں نے قسمیں کھا کر کہا کہ لیصر منھا مصبحین : کہ صبح ہوتے ہی (مسکینوں کو اطلاع ہونے سے پہلے ہی) ہم باغ کے پھل توڑ لیں گے۔
لیصومنھا مصبحین : جواب قسم ، لام تاکید کا۔ یصر من مضارع تاکید بانون ثقیلہ جمع مذکر غائب۔ صوم (باب نصر) مصدر۔ بمعنی کاٹنا۔ توڑنا۔ (پھل) کاٹنا۔ (کھیتی) کاٹنا۔ صریم کٹا ہوا غلہ، صارم کاٹنے والا۔ کاٹ دینے والا۔
ھا ضمیر مفعول جس کا مرجع الجنۃ ہے۔ مصبحین اسم فاعل جمع مذکر بحالت نصبی۔ صبح کے وقت کو پانے والے۔ صبح کرنے والے۔ اصباح (افعال) مصدر سے۔ یصرمن کے فاعل سے حال ہے۔
Ayahs 68:18–19(68:18) ولا تستثنون : مضارع منفی جمع مذکر غائب، استثناء (استفعال) مصدر۔ حکایت حال ماضی (فعل مضارع جو کسی گزشتہ بات کو بیان کرنے کے لئے فعل ماضی کی بجائے استعمال کیا جائے) انہوں نے انشاء اللہ نہیں کیا۔ ثنی مادہ۔
اقسموا کے فاعل سے حال ہے یا یہ علیحدہ علیحدہ مستانفہ ہے۔
Ayah 68:20(68:20) فاصبحت :نتیجہ کی ہے اصبحت ماضی کا صیغہ واحد مؤنث غائب ۔ اصباح (افعال) مصدر ۔ وہ ہوگئی۔ مؤنث کا صیغہ الجنۃ کے لئے آیا ہے۔ یعنی (باغ) ہوگیا ۔ اصبحت ای صارت۔
کالصریم : کاف تشبیہ کا۔ الصریم کٹا ہوا۔ ٹوٹا ہوا۔ صرم سے جس کے معنی کاٹنے کے ہیں۔ بروزن فعیل بمعنی مفعول یعنی مصروم ہے۔ اصل معنی تو صریم کے یہی ہیں ۔ کٹا ہوا۔ ٹوٹا ہوا۔ جدا کیا ہوا۔ چونکہ صبح رات سے کٹی ہوئی ہے اور رات صبح سے کٹی ہوئی ہوتی ہے۔ اس لئے کبھی صریم کا استعمال صبح کے معنی میں ہوتا ہے اور کبھی رات کے معنی میں۔ اسی طرح اس ذرہ ریگ کو صریم کہا جاتا ہے جو تودہ ریگ سے جدا ہوگیا ہو۔ چناچہ الصریم کی تفسیر میں یہ سارے قول بیان کئے گئے ہیں۔ کہ باغ سوکھ کر ایسا سفید ہوگیا جیسے کہ دن ہوتا ہے یا جل کر اتنا سیاہ ہوگیا جیسی کہ رات ہوتی ہے۔ یا اس طرح ٹوٹ ٹوٹ کے ذرہ ذرہ ہوگیا کہ جس طرح ذرہ ہائے ریگ تودہ ریگ سے اذ کر منتشر ہوجاتے ہیں۔
Ayah 68:21(68:21) فتنادوا :عطف کا ۔ پھر۔ تنادوا ماضی جمع مذکر غائب تنادی (تفاعل) مصدر سے۔ انہوں نے ایک دوسرے کو آواز دی۔ (نداء کی) انہوں نے ایک دوسرے کو پکارا۔ جملہ معطوف ہے جس کا عطف اقسموا پر ہے۔ دونوں جملوں کے درمیان کلام معترضہ ہے ، جو اس باغ پر جو گزری اس کا بیان ہے۔
مصبحین : اصباح (افعال) مصدر سے اسم فاعل کا صیغہ جمع مذکر۔ صبح کرنے والے یعنی انہوں نے صبح کے وقت ایک دوسرے کو پکارا۔
Ayah 68:22(68:22) ان اغدوا علی حرثکم : ان مصدریہ۔ اغدوا فعل امر جمع مذکر حاضر۔ غدو (باب نصر) مصدر سے بمعنی تم سویرے چلو۔
اغدوا (فعل امر) فعل ناقص ہے علی حرثکم اس کی خبر ہے۔ یعنی صبح سویرے اپنی کھیتی پر پہنچ جاؤ۔ یہ جملہ جواب شرط ہے اور شرط سے مقدم آیا ہے۔
ان کنتم صارمین۔ جملہ شرط ہے۔ صارمین اسم فاعل جمع مذکر بحالت نصب کاٹنے والے۔ ترجمہ ہوگا :۔ اگر تم اپنی کھیتی کو کاٹنا چاہتے ہو تو صبح سویرے اپنی کھیتی پر پہنچ جاؤ۔
Ayah 68:23(68:23) فانطلقوا :عاطفہ۔ انطلقوا ماضی جمع مذکر غائب ۔ انطلاق (افتعال) مصدر۔ پس وہ چلے۔
وھم یتخافتون۔ جملہ حالیہ ہے یتخافتون : مضارع جمع مذکر غائب۔ تخافت (تفاعل) مصدر۔ خفیہ چپکے چپکے آپس میں بات کہنا۔ پھر وہ باہم چپکے چپکے یہ کہتے ہوئے چلے۔
Ayah 68:24(68:24) ان لایدخلنھا الیوم علیکم مسکین : ان بمعنی کہ، یہ کہ، ان مفسرہ ہے۔
فائدہ : ان مفسرہ ہمیشہ اس فعل کے بعد آتا ہے جس میں کہنے کے معنی پائے جائیں خواہ کہنے کے معنی پر اس فعل کی دلالت لفظی ہو جیسے کہ او حینا الیہ ان اصنع الفلک (23:27) پھر ہم نے اس کو حکم بھیجا یہ کہ تو کشتی بنا۔
یا دلالت معنوی جیسے وانطلق الملا منھم ان امشوا (38:6) اور ان میں سے کئی بنچ چل کھڑے ہوئے کہ چلو۔ یعنی ان کے اٹھ کر چلنے کا مطلب گویا یہ کہنا ہے کہ تم بھی چلو۔ اور آیت زیر غور میں ہے ان سے قبل فعل یتخافتوں آیا ہے بمعنی وہ چپکے چپکے کہتے تھے۔
لا یدخلنھا۔ مضارع نفی تاکید بانو ن ثقیلہ، صیغہ واحد مذکر غائب۔ ھا ضمیر مفعول واحد مؤنث غائب کا مرجع الجنۃ ہے۔ الیوم آج۔ علیکم تمہارے پاس۔ ترجمہ ہوگا :۔ کہ آج کوئی مسکین (محتاج) تمہارے پاس باغ میں ہرگز داخل نہ ہو وے۔
Ayah 68:25(68:25) وغدوا علی حرد قادرین۔ واؤ عاطفہ۔ غدوا ماضی جمع مذکر غائب غدو (باب نصر) مصدر سے ۔ وہ صبح کے وقت چلے۔ غدو صبح کے وقت سفر کرنا۔ غداۃ صبح کا وقت ۔ تڑکا۔
اور جگہ قرآن مجید میں ہے :۔ واصبر نفسک مع الذین یدعون ربھم بالغداۃ والعشی (18:28) اور جو لوگ صبح و شام اپنے پروردگار کو پکارتے ہیں ۔ ان کے ساتھ صبر کرتے رہو۔
اور جگہ فرمایا :۔ یسبح لہ بالغدو والاصال (24:36) (اور) ان میں صبح و شام اس کی تسبیح کرتے ہیں ۔
حرد۔ اس کے معانی میں مختلف اققوال ہیں ۔ لیکن عام فہم اور موقع محل کے مطابق وہ معانی قابل ترجیح ہیں جو کہ صاحب ضیاء القرآن نے اختیار کئے ہیں۔ لکھتے ہیں :۔
حرد کا معنی قصد اور ارادہ ہے یعنی انہوں نے جو یہ ارادہ کیا تھا کہ آج کسی غریب کو باغ میں ہم داخل نہیں ہونے دیں گے اور باغ کا پھل کاٹ لائیں گے وہ یہ خیال کر رہے تھے کہ جو ارادہ اور قصد ہم نے کیا ہے اس کو عملی جامعہ پہنانے کی قدرت رکھتے ہیں۔
قادرین۔ اسم فاعل جمع مذکر۔ قدرۃ (باب ضرب) مصدر سے ۔ قدرت رکھنے والے۔ یہ غدوا کی خبر ہے۔ حرد متعلق بہ قادرین ہے۔
Ayah 68:26(68:26) فلما :تعقیب کا ہے۔ لما جب (حرف ظرف) پھر ، جب ۔
راوھا : راوا ماضی جمع مذکر غائب رؤیۃ (رای ، یری) باب فتح مصدر سے رای مادہ راوا اصل میں رأیوا تھا۔ ی متحرک ماقبل اس کا مفتوح اس کو الف سے بدلا۔ اب الف اور واؤ دو ساکن جمع ہوئے الف کو حذف کردیا۔ راوا ہوگیا۔ انہوں نے دیکھا۔ ھا ضمیر مفعول واحد مؤنث۔ الجنۃ کے لئے ہے۔
پھر جب انہوں نے اس کو (یعنی اپنے باغ کو) دیکھا۔ قالوا کہنے لگے ۔۔ لضالون : لام تاکید کا ہے ضالون گمراہ، بہکے ہوئے۔ راہ بھولے ہوئے۔ ضلال سے اسم فاعل کا صیغہ جمع مذکر۔ ہم ضرور راہ بھول گئے ہیں۔
Ayah 68:27(68:27) بل نحن محرومون ۔ بل حرف اضراب ہے۔ ماقبل کی نفی اور مابعد کی تائید کے لئے آیا ہے۔ نہیں نہیں ہم راستہ نہیں بھولے (باغ وہی ہے) بلکہ ہم اس کے پھل سے محروم ہوگئے ہیں۔
Ayah 68:28(68:28) قال اوسطھم۔ مضاف مضاف الیہ۔ ان میں سے کا درمیانہ۔ اس سے مراد یا تو ان کا منجھلا بھائی ہے یا بمعنی اعقلہم ہے ان میں سب سے زیادہ عقلمند۔ زیرک۔
الم اقل لکم : جملہ استفہام تقریری ہے ہمزہ استفہامیہ۔ لو اقل مضارع نفی جحد بلم صیغہ واحد متکلم۔ کیا میں نے تم کو نہیں کہا تھا
لولا تسبحون : لولا کیوں نہیں۔ تسبحون : مضارع جمع مذکر غائب ۔ تسبیح (تفعیل) مصدر۔ تم تسبیح کرتے ہو۔ تم پاکی بیان کرتے ہو۔ یہاں آیت زیر غور میں مراد ہے تم انشاء اللہ کہتے ہو۔ لو لا تسبحون۔ تم انشاء اللہ کیوں نہیں کہتے۔ یہاں انشاء اللہ کہنے کو تسبیح قرار دیا ہے اس لئے کہ انشاء اللہ کہنے میں اللہ تعالیٰ کی تعظیم اور اس بات کا اقرار ہوتا ہے کہ اللہ کی مشیت کے بغیر کسی کو کسی بات پر قدرت نہیں ہوتی (یہی تسبیح کا مفہوم ہے) ۔
ابو صالح نے کہا ہے کہ وہ لوگ انشاء اللہ کہنے کے موقع پر سبحان اللہ کہا کرتے تھے اسی لئے انشاء اللہ کی جگہ تسبحون کہا ہے۔
Ayah 68:29(68:29) قالوا سبحان ربنا۔ بولے ہمارا رب پاک ہے۔ اس جملہ میں اس امر کا اقرار ہے کہ اللہ ظاہم ہونے سے پاک ہے یعنی وہ ظالم نہیں ہے۔ انا کنا ظلمین۔ (بلکہ) ہم ہی ظلم کرنے والے ہیں ۔ یعنی ہم نے مسکینوں کا حق رکھ کر (اپنے اوپر) ظلم کیا۔
Ayah 68:30(68:30) اقبل۔ ماضی واحد مذکر غائب اقبال (افعال) مصدر اس نے رخ کیا۔ اقبل علی والی : وہ متوجہ ہوا۔ اقبل بعضھم علی بعض : وہ ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہوئے ۔ یتلاومون ۔ مضارع جمع مذکر غائب ۔ تلاوم (تفاعل) مصدر سے ایک دوسرے کو ملامت کرنا۔ یتلاومون اقبل کے مفعول اور فاعل سے حال ہے جیسے بولا جاتا ہے لقیہ راکبین وہ اسے اس حالت میں ملا کہ وہ دونوں سوار تھے۔ یہاں ترجمہ ہوگا :۔ وہ ایک دوسرے کو ملامت کرتے باہم متوجہ ہوئے۔
Ayah 68:31(68:31) یویلنا : یا کلمہ ندا۔ ویلنا مضاف مضاف الیہ ۔ ویل ہلاکت، موت، بدبختی، جہنم میں ایک کنویں کا نام ۔ ویلنا۔ کلمہ حسرت و ندامت ہے۔ بمعنی ہائے ہماری موت و ہائے ہماری بدبختی۔ ہائے افسوس۔
طغین۔ اسم فاعل جمع مذکر۔ طغیان (باب نصر، سمع) مصدر سے۔ طغی یطغی اس نے سرکشی کی۔ اس نے سر اٹھایا۔ اس نے حد سے تجاوز کیا۔ پانی کی حد سے نکل جانا ۔ طغیانی کہلاتا ہے ۔ طغین۔ سرکش۔ حد سے نکلنے والے۔ شریر۔ طاغی کی جمع۔
Ayah 68:32(68:32) عسی ربنا ان یبدلنا خیرا منھا : عسی بمعنی ممکن ہے۔ توقع ہے، امید ہے ، اندیشہ ہے۔ فعل جامد ہے۔ اس کی گردان نہیں آتی۔ صرف فعل ماضی مستعمل ہے ربنا مضاف مضاف الیہ۔ ہمارا رب، عسی ربنا۔ امید ہے کہ ہمارا رب ۔۔ یا ہمیں اپنے رب سے امیر ہے کہ ۔۔ ان مصدریہ۔ خیرا فعل التفضیل کا صیغہ ۔ منھا میں ھا ضمیر کا مرجع الجنۃ ہے۔ امید ہے کہ ہمارا رب بدلے میں ہمیں اس (باغ) سے بہتر (باغ) عطا کرے۔
انا الی ربنا راغبون : انا بیشک ہم۔ الی انتہاء رغبت کے لئے ہے راغبون جمع ہے راغب کی۔ رغبۃ سے اسم فاعل کا صیغہ ہے رغبت کرنے والے۔ یہاں صفت مشبہ کے مفعول میں استعمال ہوا ہے اور دوام کا مفہوم ادا کرتا ہے۔
رغبت رجوع کے معنی کو بھی متضمن ہے۔ لہٰذا ترجمہ ہوگا :۔ ہم اب ہمیشہ ہمیشہ کے لئے اپنے رب کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ یعنی ہم اپنی غلطی کا اعتراف کرتے ہیں اور رب العزت کی پاکی بیان کرتے ہیں اور اپنے ظالم ہونے کا اعتراف کرتے ہیں اور اپنے کئے پر نادم ہیں۔ ہمیں اپنی سرکشی کا بھی اعتراف ہے اور اب ہم سچے دل سے توبہ کرتے ہوئے اپنے رب کی طرف دوامی طور پر رجوع کرتے ہیں
لہٰذا امید ہے کہ رب تعالیٰ ہماری توبہ قبول کرتے ہوئے اس سوختہ باغ سے بہتر ہمیں کوئی دوسرا باغ عطا فرما دے گا۔
انا الی ربنا راغبون علت ہے انعام الٰہی کی کہ ان یبدلنا خیرا منھا۔
Ayah 68:33(68:33) کذلک العذاب : العذاب : مبتدا مؤخر۔ کذلک اس کی خبر مقدم : ک تشبیہ کا ذلک : وہ (عذاب ) جس کا اوپر ذکر ہوا۔ جو باغ والوں کو ان کی سرکشی کے بدلے میں ملا۔ مطلب یہ ہے کہ جو باغی ہوتا ہے اس کو ہم ایسا عذاب دیتے ہیں (اور آخرت کا عذاب اس دنیاوی عذاب سے بہت سخت ہے) ۔
لو کانوا یعلمون : لو حرف تمنائی ہے کاش وہ اسے جانتے ۔ لو شرطیہ بھی ہوسکتا ہے۔ اور لوکانوا یعلمون جملہ شرطیہ۔ اس صورت میں گزشتہ کلام کا مفہوم ہی جزاء پر دلالت کرتا ہے جدید جزاء کی ضرورت نہیں ۔ ای ما فعلوا ذلک اگر وہ جانتے تو ایسا کام کیوں کرتے۔
Ayah 68:34(68:34) جنت النعیم مضاف مضاف الیہ۔ راحت کے باغ۔ یعنی ایسے باغ جن کے اندر آسائش کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔ النعیم۔ اسم معرفہ، نعمت، راحت۔ عیش۔
Ayah 68:35(68:35) افنجعل المسلمین کالمجرمین : کیا ہم فرمانبرداروں کا حال مجرموں جیسا کردیں گے ؟ استفہام انکاری ہے۔ مسلمانوں کے برابر مجرموں کو قرار دینے کا انکار ہے جس سے مسلمانوں پر مجرموں کی فضیلت کا انکار بطریق اولی مستفاد ہوتا ہے۔ اس جملہ کا عطف جملہ محذوف پر ہے۔ اصل کلام یوں تھا :۔ کیا ہم مسلمانوں کو مجروموں پر فضیلت نہیں دیں گے اور کیا مسلمانوں کو مجرموں کی طرح کردیں گے ؟
Ayah 68:36(68:36) مالکم : تم کو کیا ہوا ہے۔ تم کو کیا ہوگیا ہے۔ تم کیسے ہو ؟ اور جگہ قرآن مجید میں ہے :۔
وقالوا مال ھذا الرسول یا کل الطعام ویمشی فی الاسواق (65:7) اور کہتے ہیں کہ یہ کیسا پیغمبر ہے کہ کھانا کھاتا ہے اور بازاروں میں چلتا پھرتا ہے۔
کیف تحکمون ۔ کیف حرف استفہام ہے۔ بمعنی کیسے۔ کس طرح، کیونکر تحکمون : مضارع جمع مذکر حاضر۔ حکم (باب نصر) مصدر سے تم حکم کرتے ہو۔ تم فیصلہ کرتے ہو ؟ آیت کا ترجمہ :۔ تم کو کیا ہوگیا ہے کیسے فیصلے کر رہے ہو۔
Ayah 68:37(68:37) ام لکم کتب فیہ تدرسون ۔ ام حرف عطف ہے۔ بعنی یاء خواہ ، کیا۔ استفہام کے معنی دیتا ہے۔ کبھی بمعنی بل : یعنی بلکہ : اور کبھی بمعنی ہمزہ استفہام آتا ہے۔ اور کبھی زائدہ ہوتا ہے۔
یہاں ام منقطعہ ہے۔ یعنی پہلی بات سے اعراض ہے اور بمعنی بل ہے۔ یعنی اگر تمہارے پاس کوئی عقلی دلیل نہیں ہے جیسا کہ اوپر معلوم ہوا کہ یہ بات بعیداز عقل ہے کہ مسلمانوں اور مجرموں کو ایک ہی طرح کا کردیں۔ تو کہا تمہارے پاس اور کوئی نقلی دلیل ہے ؟ یعنی کوئی آسمانی کتاب جو تمہارے خیال کی تائید میں ہو۔
کتب بمعنی آسانی کتاب ۔ منزل من اللہ، اللہ تعالٰ کی طرف سے نازل شدہ فیہ ای فی ذلک الکتب اس کتاب میں۔
تدرسون۔ مضارع کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ درس (باب نصر) مصدر سے۔ تم پڑھتے ہو۔
Ayahs 68:38–39(68:38) ان لکم فیہ لما تخیرون : ان محل مفعول میں ہے اس لئے بالکسر نہیں ہونا چاہیے بلکہ ان بالفتح ہونا چاہیے عبارت کو اصل میں یوں ہونا چاہیے ان لکم فیہ ما تخیرون (بفتح ھمزہ ان و ترک اللام فی خبرھا) جب لام کو تخیرون پر لایا گیا تو ہمزہ مکسور ہوگیا۔ اس کی دوسری صورت یہ ہے کہ قول محذوف ہے یعنی تم اس کتاب میں یہ قول پڑھتے ہو۔
کلام یوں ہو :۔ ام لکم کتب فیہ تدرسون فولا ان لکم فیہ لما تخیرون ۔ یا تمہارے پاس کوئی آسمانی کتاب ہے جس میں تم یہ قول پڑھتے ہو۔ تمہارے لئے وہاں (آخرت میں) وہی چیزیں ہوں گی جنہیں تم پسند کروگے۔
فیہ میں ضمیر ہ روز قیامت کے لئے ہے۔ الضمیر لیوم القیامۃ (روح البیان) تخیرون مضارع جمع مذکر حاضر۔ تخیر (تفعل) مصدر۔ تم پسند کرتے ہو۔ تم پسند کروگے۔ تم اختیار کرو گے ؟
Ayah 68:40(68:40) سلہم : سل فعل امر واحد مذکر حاضر سؤال (باب فتح) مصدر۔ تو سوال کر تو پوچھ لے۔ تو دریافت کرلے ۔ تو مانگ لے : س و ل حروف مادہ۔ ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب کا مرجع مشرکین ہے۔ سلہم ای المشرکین (مدارک التنزیل)
ایہم : ای استفہامیہ ہے۔ مضاف ہے۔ ہم ضمیر جمع مذکر غائب مضاف الیہ۔ ان میں سے کون ؟
ذلک : کا اشارہ اس عہد و پیمان کی طرف ہے جو اوپر آیت 39 میں مذکور ہوا۔
زعیم : ضامن ، ذمہ دار۔ زعامۃ (باب فتح، نصر) مصدر سے جس کے معنی ضامن بننا یا کفیل ہونا۔
سلہم ایہم بذلک زعیم : (ای محمد ﷺ ) ان (مشرکین سے) پوچھئیے کہ ان میں سے کون اس بات کا ضامن ہے یا اس کی ذمہ داری لیتا ہے کہ ان کا اللہ سے کوئی عہد و پیمان ہے کہ ان کو وہی ملے گا جس کو وہ چاہیں گے۔ اور جگہ قرآن مجید میں ہے وانا بہ زعیم (12:72) اور میں ہی اس کا ضامن ہوں ۔