68. Surah Al-Qalam

القلمThe Pen · 52 ayahsاسرار التنزیل

Ayahs 68:1–33

نٓ وَ الْقَلَمِ وَ مَا یَسْطُرُوْنَۙ Open ayah 68:1 in the Quran reader

نٓ ۔ قسم ہے قلم کی اور جو لکھتے ہیں (ان کی قسم)

مَاۤ اَنْتَ بِنِعْمَةِ رَبِّكَ بِمَجْنُوْنٍۚ Open ayah 68:2 in the Quran reader

کہ آپ اپنے پروردگار کے فضل سے دیوانے نہیں

وَ اِنَّ لَكَ لَاَجْرًا غَیْرَ مَمْنُوْنٍۚ Open ayah 68:3 in the Quran reader

اور بیشک آپ کے لئے ایسا صلہ ہے جو (کبھی) ختم ہونے والا نہیں

وَ اِنَّكَ لَعَلٰى خُلُقٍ عَظِیْمٍ Open ayah 68:4 in the Quran reader

اور بیشک آپ اخلاق حسنہ کے بلند ترین مقام پر ہیں

فَسَتُبْصِرُ وَ یُبْصِرُوْنَۙ Open ayah 68:5 in the Quran reader

سو عنقریب آپ دیکھ لیں گے اور یہ (کافر) بھی دیکھ لیں گے

بِاَىیِّكُمُ الْمَفْتُوْنُ Open ayah 68:6 in the Quran reader

کہ کون دیوانہ ہے

اِنَّ رَبَّكَ هُوَ اَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ عَنْ سَبِیْلِهٖ١۪ وَ هُوَ اَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِیْنَ Open ayah 68:7 in the Quran reader

بیشک آپ کا پروردگار اس کو بھی خوب جانتا ہے جو اس کی راہ سے بھٹک گیا اور ان کو بھی خوب جانتا ہے جو سیدھے راستے پر چل رہے ہیں

فَلَا تُطِعِ الْمُكَذِّبِیْنَ Open ayah 68:8 in the Quran reader

تو آپ جھٹلانے والوں کا کہا مت مانیئے

وَدُّوْا لَوْ تُدْهِنُ فَیُدْهِنُوْنَ Open ayah 68:9 in the Quran reader

یہ لوگ چاہتے ہیں کیا آپ نرمی اختیار کریں تو یہ بھی نرم ہوجائیں

وَ لَا تُطِعْ كُلَّ حَلَّافٍ مَّهِیْنٍۙ Open ayah 68:10 in the Quran reader

اور کسی ایسے شخص کا کہا مت مانیئے جو بہت قسمیں کھانے والا ذلیل ہو

هَمَّازٍ مَّشَّآءٍۭ بِنَمِیْمٍۙ Open ayah 68:11 in the Quran reader

طعن بھری اشارتیں کرنے والا ، چغلیاں لئے پھرنے والا ،

مَّنَّاعٍ لِّلْخَیْرِ مُعْتَدٍ اَثِیْمٍۙ Open ayah 68:12 in the Quran reader

مال میں بخل کرنے والا ، حد سے بڑھا ہوا ، بدکار

عُتُلٍّۭ بَعْدَ ذٰلِكَ زَنِیْمٍۙ Open ayah 68:13 in the Quran reader

سخت خو (اور) اس کے علاوہ بدنسب (حرام زادہ) بھی ہو

اَنْ كَانَ ذَا مَالٍ وَّ بَنِیْنَؕ Open ayah 68:14 in the Quran reader

اس لئے کہ مال اور بیٹے رکھتا ہے

اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِ اٰیٰتُنَا قَالَ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 68:15 in the Quran reader

جب اس کو ہماری آیات پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو کہتا ہے یہ اگلے لوگوں کی پرانی کہانیاں ہیں

سَنَسِمُهٗ عَلَى الْخُرْطُوْمِ Open ayah 68:16 in the Quran reader

ہم عنقریب اس کی ناک پر داغ لگادیں گے

اِنَّا بَلَوْنٰهُمْ كَمَا بَلَوْنَاۤ اَصْحٰبَ الْجَنَّةِ١ۚ اِذْ اَقْسَمُوْا لَیَصْرِمُنَّهَا مُصْبِحِیْنَۙ Open ayah 68:17 in the Quran reader

بیشک ہم نے ان لوگوں کو اس طرح آزمائش کی ہے جس طرح باغ والوں کی آزمائش کی تھی جب انہوں نے قسمیں کھا کر کہا کہ صبح ہوتے ہم ضرور اس کا پھل اتار لیں گے

وَ لَا یَسْتَثْنُوْنَ Open ayah 68:18 in the Quran reader

اور انہوں نے ان شاء اللہ نہیں کہا

فَطَافَ عَلَیْهَا طَآئِفٌ مِّنْ رَّبِّكَ وَ هُمْ نَآئِمُوْنَ Open ayah 68:19 in the Quran reader

سو اس پر آپ کے پروردگار کی طرف سے ایک عذاب پھر گیا اور وہ ابھی سو رہے تھے

فَاَصْبَحَتْ كَالصَّرِیْمِۙ Open ayah 68:20 in the Quran reader

تو وہ ایسا ہوگیا جیسے کٹی ہوئی کھیتی

فَتَنَادَوْا مُصْبِحِیْنَۙ Open ayah 68:21 in the Quran reader

تو صبح صبح وہ ایک دوسرے کو پکارنے لگے

اَنِ اغْدُوْا عَلٰى حَرْثِكُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰرِمِیْنَ Open ayah 68:22 in the Quran reader

اگر تم کو کاٹنا ہے تو اپنی کھیتی پر سویرے سویرے پہنچو

فَانْطَلَقُوْا وَ هُمْ یَتَخَافَتُوْنَۙ Open ayah 68:23 in the Quran reader

تو وہ چل پڑے اور وہ آپس میں سرگوشیاں کرتے جاتے تھے

اَنْ لَّا یَدْخُلَنَّهَا الْیَوْمَ عَلَیْكُمْ مِّسْكِیْنٌۙ Open ayah 68:24 in the Quran reader

کہ آج تمہارے پاس کوئی فقیر نہ آنے پائے

وَّ غَدَوْا عَلٰى حَرْدٍ قٰدِرِیْنَ Open ayah 68:25 in the Quran reader

اور کوشش کرکے سویرے ہی جا پہنچے (گویا اس پر) قادر ہیں

فَلَمَّا رَاَوْهَا قَالُوْۤا اِنَّا لَضَآلُّوْنَۙ Open ayah 68:26 in the Quran reader

پھر جب اسے دیکھا تو کہنے لگے ہم بھول گئے

بَلْ نَحْنُ مَحْرُوْمُوْنَ Open ayah 68:27 in the Quran reader

بلکہ ہماری قسمت ہی پھوٹ گئی

قَالَ اَوْسَطُهُمْ اَلَمْ اَقُلْ لَّكُمْ لَوْ لَا تُسَبِّحُوْنَ Open ayah 68:28 in the Quran reader

ان میں جو قدرے بہتر آدمی تھا کہنے لگا کیا میں نے تم سے کہا نہ تھا کہ تم تسبیح کیوں نہیں کرتے

قَالُوْا سُبْحٰنَ رَبِّنَاۤ اِنَّا كُنَّا ظٰلِمِیْنَ Open ayah 68:29 in the Quran reader

تو کہنے لگے ہمارا پروردگار (اللہ) پاک ہے بیشک ہم ہی قصور وار تھے

فَاَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلٰى بَعْضٍ یَّتَلَاوَمُوْنَ Open ayah 68:30 in the Quran reader

پھر ایک دوسرے کو مخاطب کرکے باہم الزام دینے لگے

قَالُوْا یٰوَیْلَنَاۤ اِنَّا كُنَّا طٰغِیْنَ Open ayah 68:31 in the Quran reader

کہنے لگے ہماری بدبختی ہم ہی حد سے نکلنے والے تھے

عَسٰى رَبُّنَاۤ اَنْ یُّبْدِلَنَا خَیْرًا مِّنْهَاۤ اِنَّاۤ اِلٰى رَبِّنَا رٰغِبُوْنَ Open ayah 68:32 in the Quran reader

ہوسکتا ہے ہمارا پروردگار اس سے اچھا باغ ہمیں بدلے میں عطا کردے بیشک ہم اپنے پروردگار کی طرف رجوع ہوتے ہیں

كَذٰلِكَ الْعَذَابُ١ؕ وَ لَعَذَابُ الْاٰخِرَةِ اَكْبَرُ١ۘ لَوْ كَانُوْا یَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 68:33 in the Quran reader

اس طرح عذاب ہوا کرتا ہے اور آخرت کا عذاب بہت بڑھ کر ہے اگر یہ (اس بات کو) جانتے ہوتے

آیات 1 تا 23۔ اسرار ومعارف۔ قسم ہے قلم کی اور جو کچھ قلم سے لکھاجاتا ہے یعنی آپ ﷺ نے امی ہونے کے باوجود علم کے وہ دریابہائے کہ خود قلم اور اس کی تحریر آپ کے کامل عقل مند اور بےمثال صاحب خرد ہونے پر دال ہے۔ مجنون۔ جب آپ ﷺ نے اعلان نبوت فرما کر ساری انسانیت کو دعوت حق دے دی اور تمام انسانوں کے لیے ایک عقیدہ اور ایک نظام حیات تو مشرکین نے اسے معاذ اللہ پاگل پن قرار دیا کہ دنیا کی عظیم الشان حکومتیں ساری دنیا پہ ایک نظام رائج نہ کرسکیں۔ پھر آپ ﷺ امی ہیں ، اکیلے ہیں یا چند مسلمان جن کی بظاہر کوئی حیثیت نہیں پھر اقوام عالم کے مزاج الگ ، فکر الگ ، رنگ ونسل اپنی اپنی ، غذا الگ زبانیں الگ موسم اور اوقات علیحدہ بھلاسب کے لیے ایک نظام جو دنیا میں مروج تمام نظاموں کو باطل قراردیتا ہے کیسے بنایا جاسکتا ہے اور بن جائے تو کیسے منوایا جاسکتا ہے یہ سب دیکھ کر انہوں نے کہا یہ محض جنون ہے کوئی صاحب عقل ایسی بات نہیں کہہ سکتا مگر خود کتاب اللہ اور پھر اسی کی تشریح سنت خیرالانام اس بات پر گواہ ہیں کہ آپ ہی کی دانش تمام جہانوں پر افضل ہے یہ آپ پر اللہ کا انعام ہے جس کا بدلہ یہ ہے کہ آپ کا اجر کبھی ختم نہ ہوگا۔ کہ روئے زمین پر جو بھی نیکی ہوگی اس کے بتانے والے آپ ہی ہیں لہذا آپ کا اجر ہمیشہ ارمسلسل اور بیشمار رہے گا۔ اور آپ ﷺ کے اخلاق عالی سب سے بلند ہیں کہ جو آپ کی مخالفت کرتے ہیں آپ ان کی بھی دوعالم کی بھلائی کے لیے فکرمند ہیں عنقریب آپ بھی دیکھ لیں گے اور یہ کفار بھی جان لیں گے کہ کون دھوکے میں ہے چناچہ تھوڑے ہی عرصے میں شرک کی شوکت ٹوٹ گئی حیات مبارکہ میں عرب پر عملا اسلام نافذ ہوگیا آپ کا پروردگار ہی خوب جانتا ہے کہ غلطی پہ کون ہے اور کون صحیح ہے لہذا جسے وہ درست فرمائے وہی درست ہے۔ مداہنت۔ آپ ﷺ کبھی ان جھوتی کی بات مت مانیے گا کہ یہ تو چاہتے ہیں کہ آپ نرمی کریں جس سے ان کی مراد ہے کہ آپ ان لوگوں کو ان کے حال پر چھوڑ دیں اور باطل کو باطل نہ کہیں تو یہ بھی نرمی کریں گے یعنی ایذادینے میں کمی کردیں گے مگر آپ ایسا ہرگز نہ کریں۔ مسئلہ۔ کفار کے ساتھ ایسا معاہدہ کہ تم ہمیں کچھ نہ کہو ہم تمہیں کچھ نہ کہیں گے دین میں مداہنت اور حرام ہے۔ (مظہری) ۔ اور کسی ایسے شخص کی بات نہ مانیں جو بہت قسمیں کھانے والا اور بےقدر ہو نیز طعنے باز اور چغل خور اور نیکی سے روکنے والا حد سے بڑھا ہوا بدکار ہو اور بالکل اجڈ ہو اور اس پر یہ کہ کسی باپ سے اس کا نسب ثابت نہ ہو۔ کفار کی طرف سے جو شخص یہ پیشکش لایاوہ ایسا ہی تھا۔ نبی ﷺ پر طعن کرنے والا۔ مگر پھر یہ اصول بن گیا کہ کافر بھی بات احترام سے کرتا ہے جو کوئی نبی (علیہ السلام) پر طعن کرتا ہے ذات عالی کے اعتبار سے ازواج مطہرات یا صحابہ کرام کے واسطے سے تو اور سب برائیاں تو اس میں ہوتی ہیں وہ صحیح النسب بھی نہیں ہوتا۔ اب ایسے آدمی کی کیا حیثیت خواہ وہ کتنا مالدا بھی ہو یا بہت بڑا کنبہ قبیلہ بھی رکھتا ہو ایسا بدنصیب کہ جب اللہ کی آیات سنائی جائیں تو کہنے کہ پرانی داستانیں ہیں اور گزرے وقت کی کہانیاں ہم حشر کو اس کی ناک داغ دیں گے کہ ایسوں کو رسوائی ظاہر ہو ہم نے انہیں بھی نعمتیں دے کر آزمایا جیسے ان لوگوں کو آزمایا تھا جن کے پاس باغات تھے اور ان میں خوب پھل آرہے تھے تو وہ عظمت الٰہی کو بھول کر اسے اپناکمال سمجھ بیٹھے اور فیصلہ کرلیا کہ علی الصبح اس کا پھل توڑیں گے مگر رات کو اللہ نے اس پر تباہی بھیج دی جبکہ وہ نیند کے مزے لیتے رہے اور وہ صبح تک ٹوٹ پھوٹ کر تباہ وبرباد ہوگیا۔ انہوں نے علی الصبح ایک دوسرے کو آواز دی کہ چلو سویرے سویرے پھل جمع کرنا شروع کردیں کہ پھر ایسانہ ہو کہ فقیر اور مانگنے والے بھی آجائیں اور وہ بھی پھل لے جائیں چناچہ بڑی تیزی سے بڑھے مگر جب دیکھا تو سٹپٹاگئے کہ شاید ہم کسی اور جگہ آگئے مگر نہیں جگہ تو ہی ہے ہماری ناشکری نے ہمیں تباہ کردیا اور ان میں سے کسی درمیانے نے کہا کہ تم نے کیوں اللہ کا شکرادانہ کیا تھا اور اسے ذاتی کمال سمجھ کر اللہ کے نام پر دینے سے بھی منکر ہو رہے تھے۔ برائی سے نہ روکنے والا بھی اس میں شامل ہوتا ہے۔ مگرچونکہ باوجود ایسی حرکت کو براسمجھنے کے اس نے نہ انہیں روکا اور نہ خود ان سے الگ ہواتو اس کا باغ بھی انہی کے ساتھ اجڑ گیا تو سب کہنے لگے کہ ہمارا رب پاک ہے جو کرتا ہے حق ہے ہم نے غلط سوچا اور اپنی ذات پر ظلم کیا پہلے تو ایک دوسرے کو ملامت کرنے لگے کہ تیری خطا ہے یا تیری غلطی ہے مگر پھر تسلیم کرلیا اور توبہ کی ہم سے گناہ ہوا اللہ ہمیں معاف کردے ہم مانتے ہیں کہ پہلی نعمت بھی اسی کی تھی اور اب بھی اس سے بہتر عطا کرنے پر قادر ہے لہذا ہم اس کی طرف رجوع کرتے ہیں یہ تو اتنی عقل بھی نہیں رکھتے کہ شدائد اور مصیبتوں کو دیکھ کر توبہ ہی کرلیں تواگران میں عقل ہوتوجان لیں کہ دنیا کی نسبت آخرت کے عذاب سے تو بہت ہی بڑے ہیں۔