Explained with ayahs 1–7
نون وغیرہ جیسے حروف ہجا کا مفصل بیان سورة بقرہ کے شروع میں گذر چکا ہے اس لئے یہاں دوہرانے کی ضرورت نہیں، کہا گیا ہے کہ یہاں ان سے مراد وہ بڑی مچھلی ہے جو ایک محیط عالم پانی پر ہے جو ساتوں زمینوں کو اٹھائے ہوئے ہے، ابن عباس سے مروی ہے کہ سب سے پہلے اللہ نے قلم کو پیدا کیا اور اس سے فرمایا لکھ اس نے کہا کیا لکھوں ؟ فرمایا تقدیر لکھ ڈال پس اس دن سے لے کر قیامت تک جو کچھ ہونے والا ہے اس پر قلم جاری ہوگیا پھر اللہ تعالیٰ نے مچھلی پیدا کی اور پانی کے بخارات بلند کئے، جس سے آسمان بنے اور زمین کو اس مچھلی کی پیٹھ پر رکھا مچھلی نے حرکت کی جس سے زمین بھی ہلنے لگی پس زمین پر پہاڑ گاڑ کر اسے مضبوط اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–8
سورة الْقَلَم 4
اس مقام پر یہ فقرہ دو معنی دے رہا ہے۔ ایک یہ کہ آپ اخلاق کے بہت بلند مرتبے پر فائز ہیں اسی وجہ سے آپ ہدایت خلق کے کام میں یہ اذیتیں برداشت کر رہے ہیں ورنہ ایک کمزور اخلاق کا انسان یہ کام نہیں کرسکتا تھا۔ دوسرے یہ کہ قرآن کے علاوہ آپ کے بلند اخلاق بھی اس بات کا صریح ثبوت ہیں کہ کفار آپ پر دیوانگی کی جو تہمت رکھ رہے ہیں وہ سراسر جھوٹی ہے، کیونکہ اخلاق کی بلندی اور دیوانگی، دونوں ایک جگہ جمع نہیں ہو سکتیں۔ دیوانہ وہ شخص ہوتا ہے جس کا ذہنی توازن بگڑا ہوا ہو اور جس کے مزاج میں اعتدال باقی نہ رہا ہو۔ اس کے برعکس آدمی کے بلند اخلاق اس بات کی شہادت دیتے ہیں کہ وہ نہایت صحیح الدماغ اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–7
فَسَتُبْصِرُ وَيُبْصِرُوْنَ (عنقریب آپ بھی دیکھ لیں گے اور یہ کفار بھی دیکھ لیں گے تم میں کون مجنون ہے) مفتون اس جگہ بمعنے مجنون ہے۔ پچھلی آیات میں آپ کو مجنون کہنے والوں کے طعنہ کو دلائل سے رد کیا گیا تھا اس آیت نے پیش گوئی کے طور پر یہ بتلایا کہ یہ بات یوں ہی ڈھکی چھپی رہنے والی نہیں ہے قریب آنے والے وقت میں سب آنکھوں سے دیکھ لیں گے کہ معاذ اللہ آپ مجنون تھے یا آپ کو مجنون کہنے والے پاگل دیوانے تھے چناچہ تھوڑے ہی عرصہ میں یہ بات کھل کر دنیا کے سامنے آگئی اور انہیں مجنون کہنے والوں میں سے ہزاروں حلقہ بگوش اسلام ہو کر آپ کے اتباع و محبت کو سرمایہ سعادت سمجھنے لگے اور بہت سے اشقیاء جن کو توفیق…
Read the full tafseer →یہ اسی اوپر والے مضمون کی تائید و توثیق ہے کہ تمہارا رب نہ تو ان لوگوں سے بے خبر ہے جو اس کی راہ سے بھٹکے ہوئے ہیں اور نہ ان لوگوں سے ناواقف ہے جو ہدایت پر ہیں بلکہ وہ دونوں ہی سے اچھی طرح واقف ہے۔ وہ ان میں سے ہر ایک کے ساتھ وہی معاملہ کرے گا جس کا وہ مستحق ہو گا۔ نہ یہ ہو سکتا ہے کہ جو ذلت کے مستحق ہیں وہ ہمیشہ عزت سے سرفراز رہیں اور نہ یہ ہو سکتا کہ جو سرفرازی کے حق دار ہیں وہ برابر ظالموں کے ظلم کے ہدف بنے رہیں۔ یہ دنیا اندھیر نگری نہیں ہے بلکہ یہ ایک عظیم و خبیر خالق کی پیدا کی ہوئی دنیا ہے۔ ضروری ہے کہ اس کے لیے ایک روز انصاف آئے۔ مطلب یہ ہے کہ اپنے اس رب پر بھروسہ رکھو۔ وہ نیکوکاروں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–7
5۔ 1 یعنی جب حق واضح ہوجائے گا اور سارے پردے اٹھ جائیں گے اور یہ قیامت کے دن ہوگا بعض نے اسے جنگ بدر سے متعلق فرمایا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
1: یہاں حرف نون انہی حروف مقطعات میں سے ہے جو مختلف قرآنی سورتوں کے شروع میں آئے ہیں، اور جن کے بارے میں سورة بقرہ کے شروع میں عرض کیا جا چکا ہے کہ ان کے ٹھیک ٹھیک معنی اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو بھی معلوم نہیں ہیں۔
2: مکہ مکرمہ کے کافر لوگ آنحضرت ﷺ کو (معاذ اللہ) دیوانہ کہا کرتے تھے۔ اگلی آیت میں ان کی تردید فرمائی گئی ہے، اور اس سے پہلے اس آیت میں اس تردید پر یہ قسم کھائی گئی ہے۔ اس کی تفسیر میں بہت سے مفسرین نے فرمایا ہے کہ قلم سے مراد تقدیر کا قلم ہے اور ”وہ“ سے مراد فرشتے ہیں۔ یعنی قسم ہے تقدیر کے قلم کی، اور تقدیر کے ان فیصلوں کی جو فرشتے لکھتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ دیوانے نہیں ہیں۔ یعنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–7
فستبصر ............................ بالمھتد (7) (86 : 5 تا 7) ” عنقریب تم بھی دیکھ لوگے اور وہ بھی دیکھ لیں گے کہ تم میں سے کون گمراہی میں مبتلا ہے۔ تمہارا رب ان لوگوں کو بھی خوب جانتا ہے جو اس کی راہ سے بھٹکے ہوئے ہیں ، اور وہی ان کو بھی اچھی طرح جانتا ہے جو راہ راست پر ہیں “۔
المفتون (86 : 6) سے مراد ہے گمراہ۔ اللہ فرماتا ہے کہ اللہ ہدایت یافتہ لوگوں کو بھی جانتا ہے اور گمراہوں کو بھی۔ یا اس کے معنی ہیں وہ شخص جو آزمائش میں ڈال دیا گیا ہے اور جس کا نتیجہ نکلنے والا ہے۔ دونوں مفہوم قریب قریب ہیں۔ اس وعدے میں رسول اللہ اور مومنین کے لئے اطمینان ہے جبکہ مخالفین کے لئے دھمکی ہے۔ انہوں نے رسول…
Read the full tafseer →8 یعنی پوری طرح علم تو اللہ ہی کو ہے کہ کون لوگ راہ پر آنے والے ہیں اور کون بھٹکنے والے لیکن نتائج جب سامنے آئیں گے تو سب کو نظر آجائے گا کہ کون کامیابی کی منزل پر پہنچا اور کون شیطان کی رہزنی کی بدولت ناکام و نامراد رہا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
آیت 7{ اِنَّ رَبَّکَ ہُوَ اَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ عَنْ سَبِیْلِہٖ } ”یقینا آپ ﷺ کا رب خوب جانتا ہے کہ کون اس کی راہ سے بھٹک گیا ہے“
{ وَہُوَ اَعْلَمُ بِالْمُہْتَدِیْنَ۔ } ”اور وہ ان کو بھی خوب جانتا ہے جو ہدایت یافتہ ہیں۔“
یہ وہ آیات تھیں جو اکثر مفسرین کے نزدیک دوسری وحی میں نازل ہوئی تھیں۔ یہاں سے آگے نیا مضمون شروع ہو رہا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–8
6 یعنی یہ کوئی ایسی بات نہیں جس کا نتیجہ جلد از جلد سامنے نہ آئے۔ ایک شخص جو حکم دیتا ہے وہ نیکی اور بھلائی پر مبنی ہوتا ہے پھر وہ خود سب سے پہلے اس حکم پر عمل کرکے دکھاتا ہے۔ ہر برے کام سے اسے طبعاً نفرت ہے۔ وہ انتقام کی صورت میں بھی کوئی بری بات اپنانے کو تیار نہیں۔ فیاضی اور سماحت اس کی طبیعت میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے۔ اس کے مقابلہ میں جو لوگ ہیں انہیں طعن وتشنیع، ایذارسانی اور انتقامی کارروائیوں کے سوا کچھ سوجھتا ہی نہیں، جو بات وہ سوچتے ہیں بغض وعناد اور دوسروں کی جڑ کاٹ دینے کے لیے سوچتے ہیں۔ لہذا کوئی وجہ نہیں کہ جلد از جلد ان دونوں کا انجام ایک دوسرے کے سامنے نہ آجائے۔ اس وقت ہر ایک…
Read the full tafseer →6۔ (اس لئے فیصلہ اسی پر چھوڑے رہئے اس کے احاطہ علم سے کوئی بھی باہر نہیں وہی ایک کو جزاء وسزا بھی اس کے مناسب حال دے لے گا)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–7
فستبصرو یبصرون مکہ کے یہ بد باطن مشرکین عداوت کے جوش میں پاگل ہو کر جو حقیقت کو چھپانے اور نور حق کو بجھانے کی کوشش کر رہے ہیں جب عنقریب قیامت کے دن حق واضح ہوجائے گا اور سارے پردے اٹھ جائیں گے تو ساری دنیا دیکھ لے گی کہ کون دیوانہ تھا اور کون فرزانہ ؟ بعض مفسرن نے ظہور حقیقت کے دن سے یوم بدر مراد لیا ہے۔
Read the full tafseer →ان ربک ھو اعلم بمن ضل عن سبیلہ . ھو ضمیر فصل ہے۔ بمن ضل کا تعلق اعلم سے ہے یعنی اللہ بخوبی
بخوبی واقف ہے کہ کون اسکے راستے سے بہکا ہوا ہے۔ پس حقیقت میں کافر ہی دیوانہ ہے۔ راہ حق سے بہک جانا ‘ دیوانہ ہونے کی نشانی ہے۔
وھو اعلم بالمھتدین . یعنی خدا ہی ان لوگوں سے واقف ہے جو کمال عقلی کی وجہ سے کامیاب ہیں اور اللہ تعالیٰ
تک پہنچے ہوئے ہیں۔
Read the full tafseer →اور آپ کا رب ابو جہل کو بھی خوب جانتا ہے جو اس کے دین سے بھٹکا ہوا ہے اور وہ ابوبکر اور عمر سے بھی واقف ہے جو اس کے دین پر قائم ہیں۔ سو آپ مکہ کے سرداروں کا کہنا نہ مانیے جو کہ اللہ اور اس کی کتاب اور رسول کو جھٹلانے والے ہیں یہ تو اس بات کے خواہش مند ہیں کہ گر آپ ان کے ساتھ تبلیغ میں نرم ہوجائیں تو یہ بھی آپ کے بارے میں نرم ہوجائیں یا یہ کہ اگر آپ ان کی مطابقت کریں تو یہ بھی آپ کی مطابقت کریں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–7
فَسَتُبْصِرُ وَیُبْصِرُوْنَ۔۔۔۔: آپ کے خلق عظیم کا تقاضا یہی ہے کہ ان کے مجنون کہنے اور دوسری تکلیف دہ باتوں پر صبر کریں۔”چند ہی“ سے مراد وہ موقع ہیں جن میں اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کی مختلف طریقوں سے مدد کی ، جن کا خلاصہ یہ ہے کہ آخر کار آپکے جانی دشمن فوج در فوج آپ پر ایمان لا کر آپ کے جاں نثار دوست بن گئے اور جو مخالف رہے وہ بدر واحد اور خندق و فتح مکہ وغیرہ میں مردار ہوئے یا ذلیل و خوار ہوئے اور تمام جزیرۂ عرب پر اسلام کی حکومت قائم ہوگئی۔ پھر قیامت تک آپ کی امت کے ہاتھوں ہونے والے فتوحات اور اسلام کی سر بلندی سے بھی واضح ہوگیا کہ پاگل کون تھا ؟ اس کے علاوہ ”جلد ہی“ سے مراد قیامت کا دن…
Read the full tafseer →ان ربک ھو العلم بمن ضل عن سبیلہ جو آدمی اس کے دین سے بھٹکتا ہے اللہ تعالیٰ اسے خوب جانتا ہے۔ وھو اعلم بالمھتدین۔ جو ہدیات پر ہیں انہیں بھی خوب جانتا ہے، تو قیامت کے روز وہ ہر کسی کو اسی کے عمل کا بدلہ دے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–8
39۔ عبد بن حمیدوابن المنذر نے سعید بن جبیر اور ابن ابزی رحمہما اللہ سے روایت کیا کہ آیت بایکم المفتون یعنی کون تم میں سے مجنون ہے۔
40۔ عبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت بایکم المفتون یعنی کون تم میں سے مجنون ہے۔
41۔ عبد بن حمید نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ بایکم المفتون سے مراد ہے مجنون۔
42۔ عبد بن حمید نے ابوالجوزاء (رح) سے روایت کیا کہ آیت بایکم المفتون سے مراد ہے شیطان۔
43۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت بایکم المفتون سے مراد ہے کہ تم میں سے کون زیادہ قریب ہے شیطان کے۔
44۔ ابن المنذر نے حسن (رح) سے آیت فستبصر ویبصرون۔ بایکم المفتون۔ کے بارے میں روایت…
Read the full tafseer →[اِنَّ رَبَّكَ هُوَ اَعْلَمُ : بیشک آپ کا رب ہی خوب جاننے والا ہے ][ بِمَنْ ضَلَّ : اس کو جو بھٹک گیا ][ عَنْ سَبِيْلِهٖ : اس کے راستے سے ][ وَهُوَ اَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِيْنَ : اور وہ ہی خوب جاننے والا ہے ہدایت پانے والوں کو ]
Read the full tafseer →﴿ اِنَّ رَبَّكَ هُوَ اَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ عَنْ سَبِيْلِهٖ 1۪ وَ هُوَ اَعْلَمُ بالْمُهْتَدِيْنَ 007﴾ (بلاشبہ آپ کا رب اس شخص کو خوب جانتا ہے جو اس کی راہ سے بھٹکا ہوا ہے اور ہدایت پانے والوں کو بھی خوب جانتا ہے) ہر ایک کو اس کے مطابق جزا دے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–16
بیان عظمت رسول اکرم ﷺ وتلقین صبر و استقامت :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” ن والقلم وما یسطرون ........ الی .......... سنسمہ علی الخرطوم “۔
(ربط) گزشتہ سورت میں خداوند عالم کی خالقیت کے دلائل ذکر کئے گئے اور یہ کہ اس کی قدرت کائنات کو محیط ہے اس کے احاطہ علم وقدرت سے کوئی مجرم نہیں نکل سکتا تو اب اس سورت میں آنحضرت ﷺ کی رسالت ونبوت کو ثابت فرمایا گیا اور یہ کہ آپ ﷺ کی شان میں گستاخی کرنے والے مجرمین خدا کے عذاب سے ہرگز نہیں بچ سکتے اور جو کچھ وہ آپ ﷺ پر اعتراض کرتے ہیں وہ سب لغو اور بےہودہ باتیں ہیں کوئی صحیح العقل انسان ایسی بےہودہ باتیں تصور بھی نہیں کرسکتا ارشاد فرمایا۔
ن۔ خدا تعالیٰ ہی اس کی…
Read the full tafseer →5:۔ ” ان ربک “ اللہ تعالیٰ دونوں جماعتوں کو خوب جانتا ہے جو سیدھی راہ سے گمراہ ہیں ان کو بھی جانتا ہے اور جو لوگ سیدھی راہ پر گامزن ہیں ان کو بھی، وہ دنیا و آخرت میں ہر ایک کے ساتھ اس کے حال کے موافق معاملہ فرمائے گا۔ جو لوگ حق سے منحرف ہیں حقیقت میں وہی مجانین ہیں اور اہل ایمان کمال عقل سے متصف ہیں کیونکہ انہوں نے سیدھی راہ اختیار کی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
وجہ تسمیہ اور کوائف :
اس سور ۃ کی پہلی آیت میں قلم کا لفظ مذکور ہے۔ اور اسی وجہ سے اس سورة کا نام سورة قلم ہے اس سورة کی باون آیات ، تین سو الفاط اور ایک ہز اور دو سوچھپن حروف ہیں۔ اس سے پہلے سورة ملک کی تیس آیات تھیں اور اس کی باون آیتیں ہیں۔
مضامین سورة (ربطہ) :
اس سے پہلی سورة میں توحید ذات خداوندی ، دلائل توحید ، جزائے اعمال اور ضمنا رسالت کا ذکر تھا۔ اس سورة میں زیادہ تر رسالت کا تذکرہ ہے۔ جزائے اعمال اور قیامت کا ذکر بھی ہے۔ پہلی سورة میں توحید کے دلائل زیادہ تھے اس میں نبوت اور رسالت پر اعتراضا کے جواب دیے گئے ہیں ان کا رد کیا گیا ہے۔ اور تبنیہ کی گئی ہے۔ خاص طور پر مکہ کے خوشحال لوگوں…
Read the full tafseer →اِنَّ رَبَّكَ ہُوَاَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ عَنْ سَبِيْلِہٖ 0 ۠ وَہُوَاَعْلَمُ بِالْمُہْتَدِيْنَ 7
رب
الرَّبُّ في الأصل : التربية، وهو إنشاء الشیء حالا فحالا إلى حدّ التمام، يقال رَبَّهُ ، وربّاه ورَبَّبَهُ. وقیل : ( لأن يربّني رجل من قریش أحبّ إليّ من أن يربّني رجل من هوازن) فالرّبّ مصدر مستعار للفاعل، ولا يقال الرّبّ مطلقا إلا لله تعالیٰ المتکفّل بمصلحة الموجودات، نحو قوله : بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ [ سبأ/ 15]
( ر ب ب ) الرب ( ن )
کے اصل معنی تربیت کرنا یعنی کس چیز کو تدریجا نشونما دے کر حد کہال تک پہنچانا کے ہیں اور ربہ ورباہ وربیہ تنیوں ایک ہی معنی میں استعمال ہوتے ہیں ۔ کسی نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
ترکیب : ن۔ قریٔ بادغام النون الثانیہ من ہجائھانی الواوقریٔ بالاظہار وبالفتح وبالکسر وبالضم اما الفتح فباضمار فعل والفتح علی اضمارا لقسم اولالتقاء الساکنین والضم علی النبائ۔ والقلم الواوللقسم وماموصولۃ یسطرون صلۃ والعائد محذوف والجملۃ معطوفۃ علی القلم ما انت الجملۃ جواب القسم وان لک الجملۃ معطوفۃ علی الجملۃ السابقۃ و انک ایضا معطوفۃ علیھا والجملات الثلاث جواب القسم۔ بایکم المفتون الباء زائدۃ ویمکن ان یکون المفتون مصدر امثل المعقول والمیسور ای بایکم الجنون۔
تفسیر : جمہور کے نزدیک یہ سورة بھی مکہ میں نازل ہوئی ہے۔ حسن و عکرمہ وعطاء کا بھی یہی قول ہے۔ ابن عباس ؓ سے منقول ہے کہ سب سے اول اقرء نازل…
Read the full tafseer →اِنَّ رَبَّـکَ ھُوَ اَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ عَنْ سَبِیْلِـہٖ ص وَھُوَ اَعْلَمُ بِالْمُھْتَدِیْنَ ۔ (القلم : 7)
(بیشک آپ کا رب ان لوگوں کو خوب جانتا ہے جو اس کی راہ سے بھٹکے ہوئے ہیں اور وہ انھیں بھی جانتا ہے جو راہ راست پر ہیں۔ )
آنحضرت ﷺ کو مزید تسلی
آنحضرت ﷺ کو مزید تسلی دیتے ہوئے فرمایا کہ یہ کافر لوگ اپنے اور آپ کے بارے میں کیسے ہی الٹے سیدھے تصورات رکھیں لیکن اللہ تعالیٰ کی نگاہوں سے کوئی بات مخفی نہیں۔ وہ خوب جانتا ہے کہ آپ ﷺ کو ہم نے جو ہدایت دے کے بھیجا ہے اسے قبول کرنے والا، اس کے لیے قربانیاں دینے والا اور اس راستے پر چلنے والا کون ہے۔ اور وہ یہ بھی جانتا ہے کہ وہ کون لوگ ہیں جنھوں نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–9
فہم القرآن
ربط کلام : آپ ﷺ کو یوانہ کہنے والوں کا انجام
کفار قرآن مجید اور دعوت توحید کی مخالفت کی وجہ سے آپ ﷺ کو مجنون کہنے کے ساتھ یہ الزام بھی دیتے تھے کہ آپ راہ راست سے بھٹک گئے ہیں کیونکہ آپ جو انہیں دعوت دیتے تھے وہ انہوں نے پہلے نہیں سنی تھی۔ وہ اس دعوت کو اپنی مذہبی اور معاشرتی روایات کے خلاف سمجھتے تھے اس لیے پراپیگنڈہ کرتے کہ آپ صراط مستقیم سے بھٹک گئے ہیں۔ سورة یٰس کی ابتدائی آیات میں اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کی ذات اور قرآن کی قسم اٹھا کر فرمایا ہے کہ آپ ﷺ صراط مستقیم پر گامزن ہیں۔ یہاں یہ ارشاد فرمایا کہ آپ کا رب اچھی طرح جانتا ہے کہ کون اس کے راستے سے بھٹک چکا ہے اور کون سیدھے راستے…
Read the full tafseer →7 : اِنَّ رَبَّکَ ھُوَ اَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ عَنْ سَبِیْلِہٖ (آپ کا پروردگار اس شخص کو بھی خوب جانتا ہے جو اس کی راہ سے بھٹکا ہوا ہے) حقیقتاً وہ ان مجانین کو اچھی طرح جانتا ہے جو اس کی راہ سے بھٹک چکے ہیں۔ وَھُوَ اَعْلَمُ بِالْمُھْتَدِیْنَ ( اور وہ راہ پر چلنے والوں کو بھی خوب جانتا ہے) اور وہ عقلاء کو اچھی طرح جانتا ہے۔ اور وہی ہدایت یافتہ ہیں۔
Read the full tafseer →6 ۔” بایکم المفتون “ کہا گیا ہے اس کا معنی تم میں سے کون مجنون ہے۔ پس مفتون مفعول کے وزن پر مصدر کے معنی میں ہے جیسا کہ کہا جاتا ہے مابفلان مجلود و معقول یعنی سمجھ وعقل نہیں ہے اور یہ ضحاک (رح) کے قول کا معنی ہے اور عوفی کی ابن عباس ؓ سے روایت ہے اور کہا گیا ہے کہ باء فی کے معنی میں ہے اس کا مجاز ” فستبصرو یبصرون “ کہ دونوں فریقوں میں سے کون مجنون ہے آپ (علیہ السلام) کے فریق میں یا ان کے فریق میں اور کہا گیا ہے ” بایکم المفتون “ اور وہ شیطان ہے جنون کے ذریعے فتنہ میں ڈالتا ہے اور یہ مجاہد (رح) کا قول ہے اور دیگر حضرات نے کہا ہے باء اس میں زائد ہے اس کا معنی ” ایکم المفتون ؟ “ یعنی وہ جنون اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
1۔ 7۔ یہ سورة مکی ہے کیونکہ اس کی شروع کی آیتیں مکہ میں نازل ہوئی ہیں اور پھر مابعد کی کچھ آیتیں بعض مفسروں کے قول کے موافق مدنی ہیں لیکن جس سورة کا شروع کا حصہ مکی ہو امام المفسرین حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کے قول کے موافق وہ سورة مکی کہلاتی ہے۔ اسی واسطے حافظ ابن 1 ؎ کثیر نے اس سورة کو مکی قرار دیا ہے حروف مقطعات کی بحث سورة بقر میں گزر چکی ہے قلم اور قلم سے جو کچھ لکھا جائے اللہ تعالیٰ نے اس کی قسم کھا کر آگے کا مطلب بیان فرمایا ہے اس قلم میں وہ قلم بھی داخل ہے جس سے لوح محفوظ پر دنیا کی سب کائنات لکھی گئی ہے قلم کی کتابت میں لوح محفوظ کا نوشتہ بھی داخل ہے اللہ تعالیٰ نے عرش سے پہلے قلم کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
اللہ تبارک وتعالی، قلم، کی قسم کھاتا ہے۔ یہ اسم جنس ہے جو ان تمام اقلام کو شامل ہے جن کے ذریعے سے مختلف علوم کو علوم کو لکھا جاتا ہے اور جن کے ذریعے سے مختلف انواع کا کلام لکھا جاتا ہے، اللہ تعالیٰ کی عظیم نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے، جو اس امر کی مستحق ہے کہ محمد کی ان عیوب کے بارے میں براءت پر اس کی قسم کھائی جائے جو آپ کے دشمن آپ کی طرف منسوب کرتے ہیں یعنی جنون وغیرہ۔ پس آپ کے رب کی نعمت اور احسان سے ان عیوب کی آپ نفی کی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو عقل کامل، عمدہ رائے اور فصاحت و بلاغت سے لبریز کلام فیصل سے سرفراز فرمایا ہے جو بہترین کلام ہے جسے قلم لکھتے ہیں اور مخلوقات اسے قلم بند کرتی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–8
6 مکذبین و منکرین کی اطاعت و فرمانبرداری سے ممانعت کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا پس حق اور حقیقت کی وضاحت ہوگئی تو آپ بھی کہا نہیں ماننا جھٹلانے الوں کا جیسا کہ اب تک نہیں مانا کیونکہ حق اور باطل کا توافق اور جوڑ ممکن ہی نہیں، کہ باطل دوئی پسند ہے اور حق لاشریک، شرکت میانہ حق و باطل نہ کر قبول، سوس اس ارشاد میں بھی خطاب اگرچہ پیغمبر سے ہے لیکن سنانا دراصل آپ ﷺ کے انہی منکروں کو ہے، جو حق بات کو سننے اور ماننے کو تیار نہیں ہے۔ بلکہ اس کے برعکس اس طرح کی خبیث کوششوں میں لگے ہوئے تھے کہ کسی طرح آپ ﷺ ان کی باتوں میں آ کر، اور ان کا کہا مان کر ان کے طور طریقوں کو اپنا لیں، جیسا کہ آگے بھی آ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–16
رسول کریم ﷺ کا خلق عظیم اور کفار کی اطاعت سے بچنے کا حکم
تشریح : جیسا کہ پہلے بھی سورتوں میں مختلف چیزوں کی قسم مختلف چیزوں کے صحیح ثابت کرنے کے لیے کھائی گئی ہے تو یہاں نبی پاک ﷺ کے حسن کردار اور صفات کے بلند پایہ ہونے کے لیے قلم و قرآن کی قسم کھائی گئی ہے۔
آپ ﷺ تو مجسم صفات ہیں قرآن و احادیث میں جگـہ جگہ آپ ﷺ کی جملہ صفات کا ذکر بڑے مستند حوالوں سے کیا گیا ہے۔ کیوں نہ ہو آپ ﷺ دنیا کے بہترین انسان اور پیغمبر ہیں آپ ﷺ رحمت حیا، جودوسخا، وفا، صبر، زہد وتقویٰ حسن سلوک اور حسن تادیب کے لحاظ سے بلکہ ہر لحاظ سے بےمثال ہیں آپ ﷺ کو انسان کامل ہونے کا رتبہ حاصل ہے۔
آپ ﷺ محسن انسانیت اور رحمۃ للعٰلمین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–33
آیات 1 تا 23۔
اسرار ومعارف۔
قسم ہے قلم کی اور جو کچھ قلم سے لکھاجاتا ہے یعنی آپ ﷺ نے امی ہونے کے باوجود علم کے وہ دریابہائے کہ خود قلم اور اس کی تحریر آپ کے کامل عقل مند اور بےمثال صاحب خرد ہونے پر دال ہے۔
مجنون۔
جب آپ ﷺ نے اعلان نبوت فرما کر ساری انسانیت کو دعوت حق دے دی اور تمام انسانوں کے لیے ایک عقیدہ اور ایک نظام حیات تو مشرکین نے اسے معاذ اللہ پاگل پن قرار دیا کہ دنیا کی عظیم الشان حکومتیں ساری دنیا پہ ایک نظام رائج نہ کرسکیں۔ پھر آپ ﷺ امی ہیں ، اکیلے ہیں یا چند مسلمان جن کی بظاہر کوئی حیثیت نہیں پھر اقوام عالم کے مزاج الگ ، فکر الگ ، رنگ ونسل اپنی اپنی ، غذا الگ زبانیں الگ موسم اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
ف 4 ” کہا ماننے “ کی توضیح اگلی آیت میں آرہی ہے۔
Read the full tafseer →(68:7) ان ربک ھو اعلم بمن ضل عن سبیلہ : ھو ضمیر فصل ہے ملاحظہ ہو گرائمر عربی مئولفہ ڈبلیورائٹ حصہ دوم۔
یعنی اللہ بخوبی واقف ہے کہ کون اس کے راستہ سے بہکا ہوا ہے (تفسیر مظہری)
اعلم : علم سے (باب سمع) سے مصدر۔ افعل التفضیل کا صیغہ ، بمعنی خوب جاننے والا۔ بہتر جاننے والا۔ جلالین میں ہے کہ اعلم بمعنی عالم ہے۔
من موصولہ ہے ضل ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب۔ ضلال (باب ضرب) مصدر وہ گمراہ ہوا۔ وہ بہکا۔ وہ راہ سے دور جاپڑا۔ سبیلہ مضاف مضاف الیہ۔ اس کے راستہ سے ہ ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع رب ہے۔
وھو اعلم بالمھتدین۔ اس کا عطف جملہ سابقہ پر ہے اور وہ بخوبی جانتا ہے راہ ہدایت پانے والوں کو۔
مھتدین : اسم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–33
لغات القرآن۔
یسطرون۔ وہ لکھتے ہیں۔ ممنون۔ منقطع ہونے والا۔ ختم ہونے والا۔ تبصر۔ تو دیکھے گا۔ المفتون۔ دیوانہ۔ ودوا۔ وہ پسند کرتے ہیں۔ تدھن۔ تو خوشامد کرے۔ تو نمر پرے۔ حلاف۔ بہت قسمیں کھانے والا۔ مھین۔ ذلیل کمینہ۔ ھماز۔ طعنے دینے والا۔ مشائ۔ پھرنے والے۔ نیمیم۔ چغل خور۔ باتیں لگانے والے۔ مناع۔ روکنے والا۔ معتد۔ حد سے بڑھنے والا۔ اثیم۔ گناہ گار۔ عتل۔ اکھڑ۔ اجد۔ زنیم۔ بدنام۔ نسیم۔ ہم داغ دیں گے۔ الخرطوم۔ ناک۔ دم۔ سونڈ۔
تشریح : سورة القلم کا آغاز ” ن “ سے کیا گیا ہے جو حروف مقطعات میں سے ایک حروف ہے۔ اس کے کیا معنی ہیں ؟ اس کی تفصیل اس سے پہلی ابتدائی سورتوں میں آچکی ہے کہ ان حروف کے معنی اور مراد…
Read the full tafseer →(ف 1) یعنی پوری طرح علم تو اللہ ہی کو ہے کہ کون لوگ راہ پر آنے والے ہیں اور کون بھٹکنے والے لیکن نتائج جب سامنے آجائیں گے تو سب کو نظر آجائے گا کہ کون کامیابی کی منزل پر پہنچا اور کون شیطان کی راہ زنی کی بدولت ناکام ونامراد رہا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–8
[4] یعنی آپ ﷺ کا بلند اخلاق ہونا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ کفار کا آپ ﷺ کو مجنون کہنا سراسر جھوٹ ہے کیونکہ بلند اخلاق اور جنون ایک جگہ جمع نہیں ہوسکتے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–12
سورة القلم اور جنون وخرد
2: حضور ﷺ کے متعلق مکہ والوں کی رائے تھی ۔ کہ ان کو خلل دماغ ہے ۔ یورپ کے بعض متعصب مشنریوں نے بھی یہ کہا ہے ۔ کہ نبوت محض مرض ضرع کا دوسرا نام تھا ۔ معاذ اللہ مگر قرآن حکیم فرماتا ہے ۔ کہ قلم اور تحریر کا جتنا اندوختہ اس وقت فطرت نے محفوظ رکھا ہے ۔ اور جس قدر کہ اس میں اضافہ ہوسکتا ہے ۔ اس سارے ذخیرہ ادب و عظمت کو میزان کے چڑے میں رکھو ۔ اور اس کے بعد اس پیغام کو دوسرے پلڑے میں رکھو ۔ جس کو معاذ اللہ اس حکیم امی نے پیش فرمایا ہے ۔ جس کے متعلق موازنہ ، اس کے پیش کردہ پیغام کی برکات سے استفادہ کرتی رہے گی ۔ اور بس سرچشمہ معارف میں مکھی پیدا نہ ہوگی ۔ یہ کتنی بڑی فریب…
Read the full tafseer →(7) بلا شبہ آپ کا پروردگار ہی اس شخص کو خوب جانتا ہے جو اس کی راہ سے بھٹک گیا اور وہی ان کو بھی خوب جانتا ہے جو راہ یافتہ ہیں۔
یعنی چونکہ وہ گم کردہ راہ کو بھی جانتا ہے اور ہدایت پانے والوں کو بھی جانتا ہے اور وہ ہر ایک کو اس کے کئے کی سزا اور جزا دے گا اس وقت ان کافروں کو یہ بات کھل جائے گی کہ واقعی دیوانہ اور مفتون کون تھا۔
آگے نبی کریم ﷺ کو ارشاد ہے کہ ان تکذیب کرنے والوں سے ہوشیار رہیے اور ان کا کہا نہ مانئے چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–8
ف 7۔ یعنی جنون کی حقیقت ہے زوال عقل، اور عقل کی غایت ہے ادراک نفع و ضرر، اور نفع و ضرر معتدبہ وہ ہے جو ابدی ہو، پس قیامت میں ان کو یہی معلوم ہوجاوے گا کہ عاقل اہل حق تھے جنہوں نے اس نفع کو حاصل کیا، اور مجنون یہ خود تھے جو اس نفع سے محروم رہ کر ضرر ابدی میں مبتلا ہوئے۔
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے کہ کون راہ راست پر ہے اور کون بھٹکا ہوا ہے
7 ؎ جب باتیں بنانے والے باتیں بنا رہے تھے اور آپ ﷺ اللہ تعالیٰ کا پیغام ان کو سنا رہے تھے اس وقت بھی یہ بات اللہ تعالیٰ کے علم میں موجودتھی کہ اس کی راہ سے بھٹکا ہوا کون ہے اور ہدایت یافتہ کون ہے ؟ لیکن جوں جوں وقت گزرتا گیا تو سب کو معلوم ہوگیا اور کسی پر بھی بات پوشیدہ نہ رہی کہ گمراہ کون ہے اور ہدایت یافتہ کون ہے ؟ یاد رہے کہ علم کے معنی جاننے کے بھی ہیں اور ظاہر کرنے کے بھی جب اس کی نسبت انسانوں کی طرف ہو تو اس کے معنی جاننے ہی کے کئے جاتے ہیں لیکن جب علم کی نسبت اللہ رب کریم کی طرف ہو تو اس کے معنی جاننے کے نہیں ہوتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–7
فَسَتُبْصِرُ وَيُبْصِرُونَ بِأَييِّكُمُ الْمَفْتُونُ (So, you will see, and they will see which of you is demented....68:5-6]. The word maftun, in this context, means 'demented'. In the preceding verses, the Holy Prophet ', was accused of being an insane and demented. This verse turns tables upon the accusers of the Holy Prophet , and making a prophecy, tells them in challenging words that time will show whether it was he or they who suffered from insanity, or whether his claim to be Allah's Messenger ﷺ was the outpouring of heated brain, or whether they themselves were so demented as not…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–8
4 Here, this sentence gives two meanings: (1) "That you stand exalted to a high and noble character; that is why you are enduring all these hardships in your mission of guiding the people to the Right Way, otherwise a tnan of weak character could not have done so;" and (2) "that besides the Qur'an, your high and noble character also is a clear proof that the accusation of madness that the disbelievers bring against you is absolutely false, for high morals and madness cannot co-exist in one and the same person. " A madman is he whose balance of mind is upset, who has lost his temperamental…
Read the full tafseer →