68. Surah Al-Qalam

القلمThe Pen · 52 ayahsمعارف القرآن

Ayahs 68:1–16

نٓ وَ الْقَلَمِ وَ مَا یَسْطُرُوْنَۙ Open ayah 68:1 in the Quran reader

ن قلم کی اور جو (اہل قلم) لکھتے ہیں اس کی قسم

مَاۤ اَنْتَ بِنِعْمَةِ رَبِّكَ بِمَجْنُوْنٍۚ Open ayah 68:2 in the Quran reader

کہ (اے محمد ﷺ تم اپنے پروردگار کے فضل سے دیوانے نہیں ہو

وَ اِنَّ لَكَ لَاَجْرًا غَیْرَ مَمْنُوْنٍۚ Open ayah 68:3 in the Quran reader

اور تمہارے لئے بےانتہا اجر ہے۔

وَ اِنَّكَ لَعَلٰى خُلُقٍ عَظِیْمٍ Open ayah 68:4 in the Quran reader

اور تمہارے اخلاق بہت (عالی) ہیں

فَسَتُبْصِرُ وَ یُبْصِرُوْنَۙ Open ayah 68:5 in the Quran reader

سو عنقریب تم بھی دیکھ لو گے اور یہ (کافر) بھی دیکھ لینگے۔

بِاَىیِّكُمُ الْمَفْتُوْنُ Open ayah 68:6 in the Quran reader

کہ تم میں سے کون دیوانہ ہے

اِنَّ رَبَّكَ هُوَ اَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ عَنْ سَبِیْلِهٖ١۪ وَ هُوَ اَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِیْنَ Open ayah 68:7 in the Quran reader

تمہارا پروردگار اس کو بھی خوب جانتا ہے جو اسکے راستے سے بھٹک گیا۔ اور انکو بھی خوب جانتا ہے جو اسکے راستہ پر چل رہے ہیں

فَلَا تُطِعِ الْمُكَذِّبِیْنَ Open ayah 68:8 in the Quran reader

تو تم جھٹلانے والوں کا کہا نہ ماننا۔

وَدُّوْا لَوْ تُدْهِنُ فَیُدْهِنُوْنَ Open ayah 68:9 in the Quran reader

یہ لوگ چاہتے ہیں کہ تم نرمی اختیار کرو تو بھی نرم ہوجائیں

وَ لَا تُطِعْ كُلَّ حَلَّافٍ مَّهِیْنٍۙ Open ayah 68:10 in the Quran reader

اور کسی ایسے شخص کے کہے میں نہ آجانا جو بہت قسمیں کھانے والا ذلیل اوقات ہے۔

هَمَّازٍ مَّشَّآءٍۭ بِنَمِیْمٍۙ Open ayah 68:11 in the Quran reader

طعن آمیز اشارتیں کرنیوالا چغلیاں لئے پھرنے والا

مَّنَّاعٍ لِّلْخَیْرِ مُعْتَدٍ اَثِیْمٍۙ Open ayah 68:12 in the Quran reader

مال میں بخل کرنیوالا حد سے بڑھا ہوا بدکار

عُتُلٍّۭ بَعْدَ ذٰلِكَ زَنِیْمٍۙ Open ayah 68:13 in the Quran reader

سخت خو اور اسکے علاوہ بد ذات ہے

اَنْ كَانَ ذَا مَالٍ وَّ بَنِیْنَؕ Open ayah 68:14 in the Quran reader

اس سبب سے کہ مال اور بیٹے رکھتا ہے۔

اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِ اٰیٰتُنَا قَالَ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 68:15 in the Quran reader

جب اس کو ہماری آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو کہتا ہے یہ اگلے لوگوں کے افسانے ہیں

سَنَسِمُهٗ عَلَى الْخُرْطُوْمِ Open ayah 68:16 in the Quran reader

ہم عنقریب اس کی ناک پر داغ لگائیں گے

بیان عظمت رسول اکرم ﷺ وتلقین صبر و استقامت : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” ن والقلم وما یسطرون ........ الی .......... سنسمہ علی الخرطوم “۔ (ربط) گزشتہ سورت میں خداوند عالم کی خالقیت کے دلائل ذکر کئے گئے اور یہ کہ اس کی قدرت کائنات کو محیط ہے اس کے احاطہ علم وقدرت سے کوئی مجرم نہیں نکل سکتا تو اب اس سورت میں آنحضرت ﷺ کی رسالت ونبوت کو ثابت فرمایا گیا اور یہ کہ آپ ﷺ کی شان میں گستاخی کرنے والے مجرمین خدا کے عذاب سے ہرگز نہیں بچ سکتے اور جو کچھ وہ آپ ﷺ پر اعتراض کرتے ہیں وہ سب لغو اور بےہودہ باتیں ہیں کوئی صحیح العقل انسان ایسی بےہودہ باتیں تصور بھی نہیں کرسکتا ارشاد فرمایا۔ ن۔ خدا تعالیٰ ہی اس کی مراد۔ یہی مسلک اہل حق اور محققین کا ہے اگرچہ بعض عارفین اس حرف نون کو ” ناصر “ یا ننصر “ کا مخفف وقرار دیکر یہ معنی بیان کرتے ہیں کہ یہ تسلی ہے آنحضرت ﷺ کو کہ ہم آپ کے مددگار ہیں یا ہم آپ ﷺ کی مدد کریں گے بعض مفسرین نے اور بھی معانی بیان کئے ہیں۔ واللہ اعلم۔ 12) بخوبی جانتا ہے قسم ہے قلم کی اور قسم ہے ان کی جو لکھتے ہیں آپ نہیں ہیں اپنے رب کے فضل سے دیوانہ بلکہ دنیا کے انسانوں میں سب سے زیادہ علم و حکمت اور عقل و دانائی کے مالک ہیں جس توحید اور مکارم اخلاق کی دنیا کو تعلیم دی وہ اس کا واضح ثبوت ہے کہ دنیا کے سارے حکماء اور فلاسفہ کو حکمت و دانائی آپ ﷺ کے چشم فیض سے ملی ہے آپ کی حکمت و دانائی اہل مکہ کے نزدیک کوئی عجب چیز نہیں قریش اور ان کے علاوہ اطراف و اکناف عرب میں اس کا چرچہ تھا یہ بات تو کیسے ممکن ہے کہ آپ دیوانہ ہوں بلکہ اور اس سے بڑھ کر یہ کہ آپ کے واسطے تو ایسا اجر عظیم ہے کہ جو کبھی بھی منقطع ہونے والا نہیں کیونکہ آپ ﷺ کی ذات سے دنیا میں توحید ومکارم اخلاق رواج پائیں گے خدا پرستی جب مشرق ومغرب میں پھیلے گی تو بلاشبہ اس سب کا اجر وثواب آپ ہی کو ملتا رہے گا اور بیشک آپ تو بڑے ہی اچھے اور بلند پایہ خلق پر ہیں۔ حاشیہ (خلق خاء اور لام کے ضمہ کے ساتھ عادت کو کہا جاتا ہے اچھی عادت کو خلق حسن اور بری عادت کو خلق سوء یعنی بداخلاقی سے تعبیر کریں گے تو خلق حسن یا خلق عظیم انسان میں اس طبعی ملکہ کو کہا جاتا ہے جس کے باعث انسان پسندیدہ کام سہولت سے کرسکتا ہے، بہرکیف عملی اور اخلاقی ہیئت عملیہ کو خلق کے لفظ سے تعبیر کیا جاتا ہے مثلا حیاء کرم، سخاوت، شجاعت، ہمدردی واعانت، وصلہ رحمی، صبر وحلم، اور ہر بری بات اور بےہودہ خصلت سے پرہیز اور نفرت کرنا تو اس طرح کا وصف انسان کی فطرت میں رچا ہوا ہو کہ یہ تمام باتیں بےتکلف اس سے واقع ہوتی رہی تو آنحضرت ﷺ ان جملہ حسنہ اور پسندیدہ خصلتوں سے نہ صرف یہ کہ متصف ہیں بلکہ دنیا نے ان باتوں کو صرف آپ ﷺ سے ہی سیکھا۔ ابوالدرداء ؓ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے دریافت کیا گیا کہ آپ ﷺ کا خلق کیا تھا جو اب دیا آپ ﷺ کا خلق قرآن کریم تھا ام ال مومنین حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ آپ سے زیادہ دنیا میں کوئی خوش خلق نہ تھا جب بھی کسی نے کام کے لیے بلایا آپ نے اس کا کام کردیا عمر بھر آپ نے کسی کو گالی نہ دی نہ برا بھلا کہا انس بن مالک ؓ فرمایا کبھی مجھے کسی کام کے نہ کرنے پر یہ نہیں فرمایا ” کہ کیوں نہیں کیا اور اگر کوئی کام غلط کرلیا تو یہ نہیں فرمایا کہ “ یہ کیوں کیا “ 12) ایسے اخلاق حمیدہ اور پسندیدہ اخلاق کہ دنیا میں ان اخلاق و اعمال نے مسلمانوں کو عزت و حکومت اور سربلندی عطا کی۔ تو عنقریب آپ بھی دیکھ لیں گے اور وہ بھی دیکھ لیں گے کہ کون تم میں سے وہ ہے جو بھٹک رہا ہے اور کون وہ ہے جو پیکر علم و حکمت اور عقل و فراست ہے کون عاقبت اندیش ہے اور کس کی عقل ماری گئی ہے جس کی وجہ سے وہ پاگلوں جیسی باتیں اور حرکتیں کرتا ہے بلاشبہ آئندہ کی تاریخ اس کا فیصلہ کردے گی بیشک آپ کا رب ہی خوب جانتا ہے اس کو کہ جو بھٹکا ہوا ہے اسکے راستہ سے اور وہی خوب جانتا ہے ان کو بھی جو راہ راست پر ہیں اس کا علم ہر عمل اور ہر عامل کو محیط ہے اس وجہ سے ہدایت اور نیکی پر چلنے والوں کا انجام فلاح و کامیابی اور عزت و غلبہ ہوگا اور گمراہوں کا انجام ہلاکت وتباہی ہے کفار ومشرکین تو اسی کوشش میں لگے رہیں گے کہ آپ ﷺ دعوت وتبلیغ کے معامل میں ان کی کچھ رعایت کریں اور کفر وگمراہی اور معبودان باطلہ کے رد میں سخت رویہ کو ترک کردیں، جس کا نتیجہ ظاہر ہے یہی ہوسکتا ہے کہ حق و باطل اور توحید وشرک میں امتیاز ہی ختم ہوجائے گا اس لیے آپ کو تاکید ہے ہرگز ان جھٹلانے والوں کی بات نہ مانئے وہ تو یہ چاہتے ہیں کہ آپ نرمی اخیتار کرلیں تو پھر وہ بھی آپ کے ساتھ نرمی برتیں ہرگز آپ ﷺ ایسا نہ کریں، انکو نرمی اور خوش خلقی کی طمع میں احقاق حق اور تردید باطل میں کسی طرح کی نرمی اور کمزوری مقام رسالت کے ساتھ زیب نہیں دیتی ایمان وحق پرستی کا تقاضا یہی ہے یہ کہ حق کی آواز بلاجھجک کے بلند کی جائے دشمن خواہ سختی اختیار کریں یا برا بھلا کہیں ہے اور آپ ہرگز بات نہ مانیں کسی ایسے شخص کی جو خوب قسمیں کھانے والا حقیر و ذلیل انسان ہو۔ طعن وتشنیع کرنے والا ہو چغل خوری کرتا پھرتا ہو ہر بھلے کام سے لوگوں کو روکتا ہو حد سے زیادہ سرکش بڑا ہی گناہگار ہو نہایت ہی بدخو و بےہودہ ان سب باتوں کے بعد بدنام۔ حاشیہ (رسوائے زمانہ اور ” بدنام ‘ لفظ ’ زنیم “ کا ترجمہ ہے جس کو حضرت شیخ الہند (رح) نے اپنے ترجمہ میں اختیار فرمایا بعض حضرات سلف اور اہل لغت نے زنیم کے معنی ولدالزنا اور ” حرام زادے “ کے کئے ہیں اور جس کافر کے بارے میں یہ آیات نازل ہوتیں وہ اہل مکہ میں اسی حیثیت کے ساتھ معروف تھا اور وہ ولید بن مغیرہ تھا۔ 12) رسوائے زمانہ بھی ہو یہ (اس شخص کا غرور وتکبر اور سرکشی اور ہر خیر سے لوگوں کو روکنا) اس وجہ سے تھا کہ وہ بہت مالدار اور بیٹوں والا تھا وہ اپنی سرکشی اور غرور میں اس حد تک پہونچا کہ جب اس کے سامنے ہماری آیتیں تلاوت کی جائیں تو کہے یہ تو پہلے گزرے ہوتے لوگوں کہانیاں ہیں اس مغرور ومتکر کو اس بات کا احساس تک نہ رہا کہ دنیا میں کسی شخص کا دولت مندیا صاحب اولاد ہونا اس بات کی دلیل نہیں کہ اسکی بات حق ہے اور وہی کا میاب بھی ہے اصل عزت و کامیابی تو انسان کے اخلاق و عادات اور کردار کی خوبی اور شرافت وخوش اسلوبی پر موقوف ہے تو ظاہر ہے کہ ایسے ابلہ فریب انسان کی باتوں کی طرف نہ کوئی التفات کو کرنا چاہئے اور نہ ہی اس سے متاثر ہونا چاہئے۔ ایسے نالائق اور بدبخت انسان کے لیے تو ہم نے یہ طے کرلیا ہے اور ہم داغ دیں گے اس کی سونڈ پر اس کی وہ ناک جو سونڈ کی طرح ہے نہایت ہی بےڈول اور چوڑی بڑی بھدی نظر آتی ہے یہ شخص قریش کا ایک سردار ولید بن مغیرہ تھا جس میں یہ تمام اوصاف بتمام و کمال موجود تھے اور ناک پر داغ میں ذلت ورسوائی کا داغ تھا جو اس پر لگ کر رہاعلاوہ ازیں حسی طور پر بھی دنیا میں یہ لگ کر رہا جسکی صورت یہ ہوئی کہ بدر کی لڑائی میں ایک انصاری کی تلوار کا اس کی ناک پر چرکا لگا اور اس سے وہ زخمی ہوئی مکہ مکرمہ آکر اس کی مرہم پٹی کی مگر یہ زخم کسی طرح اچھا نہ ہوا بلکہ ایک نمایاں داغ پڑگیا اور اس زخم کی سختی اور تلخی سے نجات نہ پاسکا حتی کہ اسی حالت میں جہنم رسید ہوگیا ، ناک ہی انسان کے غرور وتکبر کا نشان ہے عرف میں ناک عزت وآبرو کو کہتے ہیں اور ذلت ورسوائی کو محاروات میں ناک کٹ جانا کہتے ہیں تو اس لحاظ سے غرور وکود بینی کے نشان پر داغ لگایا جانا تکبر اور سرتابی کی مناسب سزا ہوئی اس میں ایک لطیف رمز اور اشارہ یہ بھی ہے اللہ کے گھر کی بےحرمتی کرنے والے ہاتھیوں کے لشکر کا انجام قریش مکہ نے دیکھ بھی لیا تھا اب یہ ہاتھی جیسی ناک والا بھی اپنی ذلت وہلاکت کا انجام دیکھ لے گا۔ قلم اور تحریر قلم تاریخ عالم میں حضور اکرم ﷺ کی عظمت وحقانیت کا ثبوت اعظم : دنیا میں علوم کے نقل اور اشاعت کا ذریعہ قلم ہے، اور قلم کے ذریعہ علم ومعرفت کے خزانے ایک قرن سے دوسرے قرن اور ایک قلب سے دوسرے قلب تک منتقل کیئے جاتے ہیں یہی وجہ ہے کہ آغاز وحی پر جب آنحضرت ﷺ کو (آیت) ” اقرا “ کا خطاب ہوا اور آپ ﷺ نے فرمایا ” ما انا بقاری “ کہ میں تو ایسا نہیں ہوں کہ پڑھا ہوا ہوں توقراءت اور علم و حکمت کے حصول کے اس واسطہ اور ذریعہ کا اس طرح ذکر فرمایا گیا۔ (آیت) ” اقرا وربک الاکرم الذی علم بالقلم۔ علم الانسان مالم یعلم “۔ کہ قلم کے ذریعے انسان تک وہ علوم پہنچتے ہیں جن کو وہ پہلے نہیں جانتا ہوتا ہے یہ بھی ممکن ہے کہ قلم سے تقدیر الہی کا قلم مراد ہو جیسے کہ عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے فرمایا اللہ رب العزت نے سب سے اول قلم پیدا فرمایا اور پھر اس کو فرمایا ” اکتب “ یعنی لکھ اے قلم، قلم نے کہا اے پروردگار کیا لکھوں جواب ملالکھ لے ہر وہ چیز جو موجود ہے اور وہ بھی جو قیامت تک ہونے والا ہے بہرکیف قلم کی عظمت ظاہر ہے اور اسی عظمت کے پیش نظر قلم اور قلم سے لکھے جانے والے علوم ومعارف کی قسم کھائی گئی چونکہ قسم اور جواب قسم میں ایک خاص ربط اور مناسبت ہوتی ہے تو (آیت) ” ماانت بن بنعمۃ ربک بمجنون “۔ یعنی اس اعلان ” کہ آپ ﷺ اپنے پروردگار کے فضل وانعام کی وجہ سے مجنون یا دیوانہ نہیں ہیں “ کے ثابت کرنے کے لئے قلم اور قلم سے تحریر کئے جانے والے علوم کی قسم کھائی کیونکہ علوم اور حکمتیں لکھی جاتی ہیں اور ایسی حکمتیں کہ دنیا کے حکماء ان پر حیران ہوں ان اسرار وحکم سے لوگوں کو فہم و شعور کا ایک حصہ ملے تو بلاشبہ اس قسم پر یہ مضمون مرتب کرنا اور کفار مکہ کے اس بےہودوہ ولغو اعتراض کا جواب نہایت ہی لطیف ہوا جیسے کہ کسی تاریکی اور ظلمت کے الزام کو رد کرنے کے لئے سورج اور سورج کی تابناک شعاعوں کی قسم کھائی جائے اسی وجہ سے اس اعتراض کے بالمقابل آنحضرت ﷺ کا وصف خلق عظیم کا ذکر فرمایا جو دنیا کی تمام حکمتوں اور دانائی کے رموز کے لئے ایک جامع اساس ہے کہ کہاں ان بےہودہ لوگوں کا یہ کہنا کہ آپ ﷺ مجنون ہیں اور کہاں آپ ﷺ کا یہ مقام کہ (آیت) ” لعلی خلق عظیم “ ، کہ جملہ کمالات عقلیہ وعملیہ کا سرچشمہ ہیں انس بن مالک ؓ بیان فرمایا کرتے تھے کہ نبی کریم ﷺ دنیا کے انسانوں میں سب سے زیادہ بہترین اخلاق والے تھے (فرمایا) اور میں نے کبھی کوئی ریشم ودیباج آنحضرت ﷺ کے کف مبارک (ہتھیلی) سے زائد خوشبودار نہیں پایا۔ حاشیہ (صحیح بخاری جلد 2۔ ) ایک روایت میں براء بن عازب ؓ سے مروی ہے فرمایا آنحضرت ﷺ احسن وجھا واحسن الناس خلقا تھے یعنی جس طرح آپ ظاہر جسم چہرے کے لحاظ سے پیکر حسن و جمال تھے باطنی اخلاق کے لحاظ سے حسن خلق کا پیکر اعظم تھے انس بن مالک ؓ کی حدیث میں ریشم اور مشک وعنبر کا ذکر اس بات کی طرف اشارہ کررہا ہے آپ کے اخلاق کی نرمی ولطافت کے سامنے ریشم کی نرمی ہیچ تھی اور آپ ﷺ کے اخلاق مبارکہ کی مہک اور خوشبو خوشبو کے سامنے ہر عطر اور مشک وعنبر شرماتے تھے۔ شیخ الاسلام حضرت علامہ عثمانی (رح) اپنے فوائد قرآن کریم میں فرماتے ہیں ” دنیا میں بہت دیوانے ہوئے ہیں اور کتنے عظیم الشان مصلحین گزرے ہیں ابتداء قوم نے دیوانہ کہہ کر پکارا ہے مگر قلم نے تاریخی معلومات کا جو ذخیرہ بطون اوراق میں جمع کیا ہے وہ ببانگ دہل شہادت دیتا ہے کہ واقعی دیوانوں اور ان دیوانہ کہلانے والوں کے حالات میں کس قدر زمین و آسمان کا تفاوت ہے آج آپ ﷺ کو (العیاذ باللہ) مجنون کے لقب سے یا د کرنا بالکل وہی رنگ رکھتا ہے جس رنگ میں دنیا کے جلیل القدر اور اولو العزم مصلحین کو ہر زمانہ کے شریروں اور بےعقلوں نے یاد کیا لیکن جس طرح تاریخ نے ان مصلحین کے اعلی کارناموں پر بقاء و دوام کی مہر ثبت کردی اور ان مجنون کہنے والوں کا نام ونشان باقی نہ چھوڑا قریب ہے کہ قلم اور اسکے ذریعہ لکھی ہوئی تحریریں آپ ﷺ کے ذریعہ لکھی ہوئی تحریریں آپ ﷺ کے ذکر خیر اور آپ کے بےمثال کارناموں اور علوم ومعارف کو، ہمیشہ کے لئے روشن رکھیں گے اور آپ کو دیوانہ بتلانے والوں کو وجود صفحہ ہستی سے حرف غلط کی طرح مٹ جائے گا ایک وقت آئے گا جب ساری دنیا آپ کی حکمت و دانائی کی داد دے گی اور آپ کے کامل ترین انسان ہونے کو بطور ایک اجتماعی عقیدہ کے تسلیم کرلے گی ، بھلا خداوند قدوس جس کی فضیلت و برتری کو ازل الآزال میں اپنے قلم نور سے لوح محفوظ کی تختی پر نقش کرچکا کسی کی طاقت ہے کہ محض مجنون ومفتون کی پھبتیاں کس کر اس کے ایک شوشہ کو مٹا سکے جو ایسا خیال رکھتا ہو وہ پرلے درجے کے مجنون یا جاہل ہے۔ حاشیہ (فوائدعثمانی (رح)) حضور اکرم ﷺ کی یہ شان علم و حکمت اور محاسن اخلاق کا سرچشمہ ہونے کے بیان کے لئے (آیت) ” لعلی خلق عظیم “۔ لفظ علی کے ساتھ اختیار فرمایا گیا عربی زبان میں لفظ علی استعلاء اور غلبہ کے بیان کے لیے استعمال کیا جاتا ہے تو اشارہ فرمایا گیا کہ آپ ﷺ صرف یہی نہیں کہ صاحب خلق عظیم ہوں بلکہ آپ ﷺ تو ان اخلاق حمیدہ پر ماوی اور غالب ہیں اور عظیم کے لفظ نے اور بھی وسعت پیدا کردی۔ اہل مکہ یا ولید بن مغیرہ جیسے بدبختوں کی اس بےہودہ بات ” کہ آپ ﷺ مجنون ہیں “ رد کرنے کے لیے یہاں حق تعالیٰ شانہ نے تین باتیں ذکر فرمائیں یا یہ کہ تین طرح اس کی تردید کی ایک تو یہ فرمایا (آیت) ” ما انت بنعمۃ ربک بمجنون “ ، جس میں اشارہ ہوا کہ جس ہستی پر خدا کی نعمت بےپایاں ہو وہ کیسے دیوانہ ومجنون ہوسکتا ہے دوسری بات یہ فرمائی (آیت) ” وان لک لاجرا “۔ یعنی دیوانگی تو درکنار آپ کو مقام عظمت تو یہ ہے کہ آپ کا اجروثواب کبھی منقطع ہی نہیں ہوسکتا کیونکہ آپ کے علوم ومعارف اور ہدایات سے تو دنیا قیامت تک مستفید ہوتی رہے گی تو جو ہستی اس مقام و مرتبہ کی ہو کہ اس کی ہدایات وعلوم سے دنیا قیامت تک مستفید ہو اور اس طرح اس کا اجر کبھی بھی منقطع نہ ہوسکتا ہو تو بھلا کیا کوئی عقل والا انسان ایسے کو مجنون و دیوانہ کہہ سکتا ہے پھر تیسری بات یہ فرمائی کہ (آیت) ” انک لعلی خلق عظیم “۔ تو خلق عظیم سے متصف ہونا تو کمال عقل و دانائی ہے تو پھر کون وہ پاگل ہے جو ایسی ہستی کو مجنون و دیوانہ کہہ رہا ہے یا یہ کہہ لیجئے کہ کفار مکہ کے بےہودہ اور نہایت ہی بھونڈی بات کی تردید مسلسل اور پے درپے تین دلیلوں اور اس کے برعکس تین عظیم کمالات (جو علم و حکمت اور عقل و دانائی کا پیکر ہیں) کے بیان سے کی گئی۔ فائدہ : حضرات مفسرین اگرچہ ان آیات کو ولید بن مغیرہ کے بارے میں بیان کرتے ہیں لیکن قرآن کریم کے مضامین خواہ وہ کسی بھی جزوی واقعہ یا شخصی مسئلہ کے لئے نازل ہوں مگر ان کا مفہوم ایک قانون کلی اور عمومی مفہوم کے درجہ میں ہوتا ہے کہ جو بھی ان احوال سے متصف ہو یہ آیات اسی پر منطبق ہیں۔
Ayahs 68:17–33

اِنَّا بَلَوْنٰهُمْ كَمَا بَلَوْنَاۤ اَصْحٰبَ الْجَنَّةِ١ۚ اِذْ اَقْسَمُوْا لَیَصْرِمُنَّهَا مُصْبِحِیْنَۙ Open ayah 68:17 in the Quran reader

ہم نے ان لوگوں کی اس طرح آزمائش کی ہم جس طرح باغ والوں کی آزمائش کی تھی جب انہوں نے قمسیں کھا کھا کر کہا کہ صبح ہوتے ہوتے ہم اس کا میوہ توڑ لیں گے

وَ لَا یَسْتَثْنُوْنَ Open ayah 68:18 in the Quran reader

اور انشاء اللہ نہ کہا

فَطَافَ عَلَیْهَا طَآئِفٌ مِّنْ رَّبِّكَ وَ هُمْ نَآئِمُوْنَ Open ayah 68:19 in the Quran reader

سو وہ ابھی سو ہی رہے تھے کہ تمہارے پروردگار کی طرف سے (راتوں رات) اس پر ایک آفت پھر گئی

فَاَصْبَحَتْ كَالصَّرِیْمِۙ Open ayah 68:20 in the Quran reader

تو وہ ایسا ہوگیا جسے کٹی ہوئی کھیتی

فَتَنَادَوْا مُصْبِحِیْنَۙ Open ayah 68:21 in the Quran reader

جب صبح ہوئی تو وہ لوگ ایک دوسرے کو پکارنے لگے

اَنِ اغْدُوْا عَلٰى حَرْثِكُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰرِمِیْنَ Open ayah 68:22 in the Quran reader

کہ اگر تم کو کاٹنا ہے تو اپنی کھیتی پر سویرے ہی جا پہنچو

فَانْطَلَقُوْا وَ هُمْ یَتَخَافَتُوْنَۙ Open ayah 68:23 in the Quran reader

تو وہ چل پڑے اور آپس میں چپکے چپکے کہتے جاتے تھے

اَنْ لَّا یَدْخُلَنَّهَا الْیَوْمَ عَلَیْكُمْ مِّسْكِیْنٌۙ Open ayah 68:24 in the Quran reader

کہ آج یہاں تمہارے پاس کوئی فقیر نہ آنے پائے

وَّ غَدَوْا عَلٰى حَرْدٍ قٰدِرِیْنَ Open ayah 68:25 in the Quran reader

اور کوشش کیساتھ سویرے ہی جا پہنچے (گویا کھیتی پر) قادر (ہیں)

فَلَمَّا رَاَوْهَا قَالُوْۤا اِنَّا لَضَآلُّوْنَۙ Open ayah 68:26 in the Quran reader

جب باغ کو دیکھا تو (ویران) کہنے لگے کہ ہم راستہ بھول گئے ہیں

بَلْ نَحْنُ مَحْرُوْمُوْنَ Open ayah 68:27 in the Quran reader

نہیں بلکہ ہم (برگشتہ) بےنصیب ہیں

قَالَ اَوْسَطُهُمْ اَلَمْ اَقُلْ لَّكُمْ لَوْ لَا تُسَبِّحُوْنَ Open ayah 68:28 in the Quran reader

ایک جو ان میں فرزانہ تھا بولا کہ میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ تم تسبیح کیوں نہیں کرتے ؟

قَالُوْا سُبْحٰنَ رَبِّنَاۤ اِنَّا كُنَّا ظٰلِمِیْنَ Open ayah 68:29 in the Quran reader

(تب) وہ کہنے لگے کہ ہمارا پروردگار پاک ہے بیشک ہم ہی قصوروار تھے

فَاَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلٰى بَعْضٍ یَّتَلَاوَمُوْنَ Open ayah 68:30 in the Quran reader

پھر لگے ایک دوسرے کو رو در رو ملامت کرنے

قَالُوْا یٰوَیْلَنَاۤ اِنَّا كُنَّا طٰغِیْنَ Open ayah 68:31 in the Quran reader

کہنے لگے ہائے شامت ہم ہی حد سے بڑھ گئے تھے

عَسٰى رَبُّنَاۤ اَنْ یُّبْدِلَنَا خَیْرًا مِّنْهَاۤ اِنَّاۤ اِلٰى رَبِّنَا رٰغِبُوْنَ Open ayah 68:32 in the Quran reader

امید ہے کہ ہمارا پروردگار اس کے بدلے میں ہمیں اس سے بہتر باغ عنایت کرے ہم اپنے پروردگار کی طرف رجوع لاتے ہیں

كَذٰلِكَ الْعَذَابُ١ؕ وَ لَعَذَابُ الْاٰخِرَةِ اَكْبَرُ١ۘ لَوْ كَانُوْا یَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 68:33 in the Quran reader

(دیکھو) عذاب یوں ہوتا ہے اور آخرت کا عذاب اس سے کہیں بڑھ کر ہے۔ کاش یہ لوگ جانتے ہوتے۔

عبرتناک انجام غرور وتکبر بردولت دنیا و محرومی از سعادت وآخرت : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” انا بلونھم کما بلون آ اصحب الجنۃ ....... الی ...... لو کانوا یعلمون “۔ (ربط) گزشتہ آیات میں اہل مکہ کے ان مغرور ومتکبر انسانوں کا ذکر تھا جنہوں نے محض اپنے مال و دولت اور اولاد وخاندان کے نشہ میں رسول خدا ﷺ کی توہین کی انکار وکفر کے مرتکب ہوئے تو اب ان آیات میں ایک باغ والوں کا قصہ بیان کرکے بتایا جارہا ہے کہ انسان کو دنیا کے مال ومنال پر بھروسہ کرکے مغرور ومتکبر نہ ہونا چاہئے دنیا کی حقیقت بس اتنی ہی ہے اور غرور کا انجام ایسا ہی ہے جیسے کہ اس باغ کی تباہی اور باغ والوں کی بربادی سے ظاہر ہورہا ہے یہ باغ والے چند بھائی تھے جنہوں نے اپنے باپ کے مرنے کے بعد یہ ارادہ کیا کہ اس باغ کی آمدنی اور پیداوار کو صدقہ و خیرات کرکے ضائع نہیں کرنا چاہئے اور باپ کی یہ روش کہ وہ غریبوں اور یتیموں کو خوب صدقہ کرتا تھا ہم باقی نہیں رکھیں گے تو یہ باغ کس طرح قہر خداوندی سے جل خاک ہوگیا اور یہ لوگ حسرت وافسوس ہی کرتے رہ گئے تو ارشاد فرمایا۔ بیشک ہم نے انکو آزمایا ہے، جیسا کہ آزمایا تھا ہم نے باغ والوں کو جب کہ انہوں نے اپنے باپ کے مرنے کے بعد مال کی محبت میں صدقہ و خیرات اور اللہ کی راہ میں خرچ کرنے سے بخل کیا اور اس کی یہ عادت کہ باغ کا پھل توڑنے پر غریبوں پر پہلے صدقہ کرتا ان لوگوں کو ناگوار گزری اور اس وجہ سے یہ طے کیا اور سب نے قسمیں کھائیں کہ ہم ضرور بالضرور اس باغ کا پھل توڑیں گے صبح ہوتے وقت اور انشاء اللہ نہیں کہہ رہے تھے حالانکہ انہیں چاہئے تھا کہ یہ کہتے ” اگر اللہ نے چاہا ” کیونکہ خدا کے ارادہ کے بغیر انسان کوئی کام نہیں کرسکتا تو گھوم گئی اس باغ پر ایک گھوم جانے والی چیز آپ کے رب کی طرف سے جو آگ کے شعلے برسانے والی ہوا تھی اور وہ سوئے ہوئے تھے تو وہ باغ صبح تک ایک چورا کی ہوئی کھیتی کاٹنا چاہتے ہو اور پھل توڑنا چاہئے ہو چناچہ یہ لوگ روانہ ہوئے اور حال یہ ہوجائے اور تدبیر یہ ہونی چاہئے کہ ہرگز کوئی مسکین آہی نہ سکے اور یہ باتیں آہستہ کررہے تھے کہ کہیں کوئی مسکین سن ہی نہ لے اور صبح ہی صبح چلے لپکتے ہوئے اس یقین کے ساتھ اب سب کچھ اپنے قبضہ میں کرلینے والے ہوں گے اور قادر ہوں گے اس پر کہ سارا پھل اور کھیتی اپنے قبضہ میں لے لیں اور کسی مسکین کو باغ کے قریب بھی نہ آنے دیں لیکن جب وہاں پہنچے اور اس باغ کو دیکھا تو یہ سوچ کر کہ ہمارا باغ تو نہایت ہی سرسبز و شاداب تھا یہ تو ہمارا باغ نہیں ہوسکتا ہم راستہ بھٹک کر کسی اور جگہ آگئے ہیں تو کہنے لگے ہم تو راستہ بھٹک گئے ہیں مگر کچھ قرائن اور محل وقوع اسی طرح دوسری نشانیوں کو دیکھ کر یہ یقین کرلیا کہ نہیں یہ تو ہمارا ہی باغ ہے جو جل کر خاک ہوگیا تو بولے نہیں بلکہ ہماری تو قسمت ہی پھوٹ گئی اور ہم اپنی بدنصیبی کی وجہ سے محروم ہوگئے ہیں ان میں سے درمیانہ۔ حاشیہ (یہ لفظ بڑھا کر اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ یہ بھائی صرف باعتبار عمر ہی کے درمیانہ نہ تھا اور نہ اس معنی کو قطعی سمجھنا چاہئے بلکہ بہت ممکن ہے کہ اس کو اوسط اسکے اعتدال اور میانہ روی کے باعث کہا گیا وہ ابن عباس ؓ مجاہد (رح) اور سعید بن جبیر (رح) سے یہی منقول ہے۔ اور درمیانہ درجہ اس وجہ سے کہ نہ تو یہ ان بھائیوں کی طرح مسکینوں پر صدقہ و خیرات سے بچ رہا تھا اور نہ ہی اس میں اس قدر ہمت وقدرت تھی کہ اپنے بھائیوں کی غلط روش کا مقابلہ کرتا اس لئے یہ درمیانہ درجہ کا ہوا۔ ) اور معتدل درجہ کا بھائی بولا کیا میں نے نہیں کہا تھا تم سے کیوں نہیں تم اللہ کی پاکی بیان کرتے اور اسکی حمد وثناء اور تسبیح زبان وعمل سے کیوں نہیں ادا کرتے یعنی میں تم کو پہلے ہی کہتا تھا کہ اپنے رب سے غافل نہ ہو اس کا شکر ادا کرتے رہو اور اس کے ساتھ اپنی زندگی کا رابطہ اس کی نعمتوں کا حق ادا کرتے ہوئے باقی رکھو لیکن افسوس کہ تم نے میری بات نہ مانی اس پر وہ شرمندہ ہو کر خدا کی طرف متوجہ ہوئے اور کہنے لگے پاکی ہے ہمارے پروردگار کی بیشک ہم بڑے ہی ظالم ہیں پھر ایک دوسرے کی طرف رخ کرکے ملامت کرنے لگے اور کہتے تھے ہائے ہماری بربادی، بیشک ہم تو بہت ہی سرکشی اور تعدی کرنے والے ہوگئے کہ اسکی کوئی حدا ہی نہ رہی ہم نے اپنے آپ کو بھی فراموش کیا اور خدا کے احکامات کو بھی نہیں پہچانا اب ہم ندامت و شرمندگی کے ساتھ تائب ہوئے اور اپنے خدا ہی کی طرف رجوع کرتے ہیں امید ہے کہ ہمارا رب ہمیں اس باغ کے بدلے اس سے بہتر کوئی نعمت عطا کردے بس ہم تو اپنے رب کی طرف رغبت و آرزو قائم کرچکے ہیں وہی ہماری آرزؤں کا ماوی وملجاء اور اسی کی طرف ہماری آس ہے اے سننے والو ! سن لو بس اسی طرح ہے خدا کا عذاب جب آتا ہے تو دنیا میں بھی انسان کو تباہ وبرباد کر ڈالتا ہے اور یقیناً عذاب آخرت تو اس سے بھی بڑھ کر ہے جس کا دنیا میں کوئی شخص تصور بھی نہیں کرسکتا کاش کہ یہ نافرمان لوگ اس حقیقت کو جان لیں کہ یہ دنیا کے عذاب کا ایک چھوٹا سا نمونہ تھا جس کو کوئی طاقت اور تدبیر ٹلا نہ سکی تو عذاب آخرت کو کون ٹلا سکتا ہے جس کی ہیبت و عظمت سے آسمان و زمین کانپتے ہیں۔ غرور وتکبر سے سر سبز و شاداب باغ کی تباہی : حافظ ابن کثیر (رح) قرطبی (رح) اور علامہ آلوسی (رح) نے بیان کیا ہے کہ یہ باغ والے جن کا ذکر قرآن کریم نے کیا ہے اہل یمن میں سے تھے سعید بن جبیر (رح) بیان کرتے ہیں کہ صنعاء میں یمن سے تقریبا چھ میل دوری کی مسافت پر ایک قصبہ خروان تھا یہاں کے باشندے اصل میں حبشہ کے تھے وہاں ایک شخص نہایت ہی کریم النفس اور سخی تھا جس کا یہ باغ تھا مذہبا یہ اہل کتاب تھا نہایت ہی خدا ترس، اس شخص نے اپنے باغ اور کھیت کی آمدنی سے غرباء و مساکین یتیموں اور بیواؤں کے حصے اور وظیفے مقرر کر رکھے تھے یہ زمانہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بعد کا تھا اس شخص کے انتقال کے بعد اسکے بیٹوں نے ان تمام باتوں کو قطعا ترک کرڈالا ان کے دل میں نفس اور شیطان نے یہ ڈالا کہ ہم تو عیال دار ہیں اخراجات اور مصارف ہی پورے نہیں ہوتے ہم نے اگر باپ کی طرح غرباء و مساکین کو دینا شروع کردیا تو ہم کہاں سے کھائیں گے اور جب فصل کٹنے یا پھلوں کے توڑنے کا وقت آیا تو ان سب نے باہم مشورہ کیا اور یہ طے کیا کہ پھلوں کو توڑنے کے لئے ہم صبح سے پہلے اندھیرے اندھیرے پہنچ جائیں اور ان مسکینوں کے آنے سے پہلے جو باپ کے زمانہ میں پھل توڑنے کے وقت آتے تھے سارے پھل گھر لے آئیں تاکہ انکو کچھ دینا نہ پڑے ان میں سے ایک بھائی تو جس کو قرآن کریم نے (آیت) ” قال اوسطھم “۔ فرمایا ہے انکو سمجھاتا رہا اور منع کرنے لگا کہ ایسا نہ کرو بلکہ مساکین پر خرچ کرنے اور اللہ کی راہ میں صدقہ سے تو اور برکت ہوتی ہے اسکی مزید رحمتیں اور عنایات واقع ہوتی ہیں مگر اس کی کسی نے نہ سنی اور نہ مانی اور جس طرح طے کیا تھا صبح سے پہلے اندھیرے وقت باغ کی طرف چلے وہاں جاکر دیکھا تو خدا کے قہر و عذاب نے اسکو جلا کر خاک کرڈالا تھا جس پر حسرت وملال سے ہاتھ ملتے رہ گئے اس حسرت وملال کی کیفیت کو قرآن کریم نے تفصیل سے بیان کیا۔ یہ قصہ چونکہ اہل عرب میں مشہور ہوچکا تھا حتی کہ عوام و خواص میں قرنا بعد قرن اس کو بیان کیا جاتا تھا اس وجہ سے قرآن کریم نے کفار مکہ کی عبرت وتنبیہ کیلئے ذکر فرمایا اور یہ کہ انسان کو دنیا کے مال و دولت پر ہرگز غرور نہ کرنا چاہئے ، امام بیہقی (رح) نے جعفر بن محمد (رح) کی سند سے ایک روایت نقل کی ہے جس میں آنحضرت ﷺ سے یہ بیان کیا کہ آپ ﷺ نے منع فرمایا ہے کہ کوئی شخص رات میں اپنی کھیتی کاٹے یا باغ کے پھل توڑے بظاہر حضور اکرم ﷺ کا یہ ارشاد اسی قصہ کے پیش نظر ہے کیونکہ مجرمین کی مشابہت سے بھی انسان کو بچنا چاہئے۔ عبداللہ بن مسعود ؓ نبی کریم ﷺ کا فرمان مبارک بیان کرتے ہیں فرمایا ،۔ ایاکم والمعاصی ان العبد لیذنب ذنبا فیحرم بہ رزقا قد کان ھیئا لہ “۔ یعنی اے لوگو ! تم معاصی اور گناہوں سے بچو بیشک بسا اوقات یہ ہوتا ہے کہ ایک بندہ کوئی گناہ کرتا ہے جس کی وجہ سے وہ اس رزق سے محروم ہوجاتا ہے جو اسکو اللہ رب العزت کی طرف سے عطا کیا گیا پھر آنحضرت ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی (آیت) ” فطاف علیھا طآئف من ربک وھم نآئمون “۔ حق تعالیٰ شانہ اپنی نعمتوں کا حق اور شکر ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ناشکری کی نحوست سے بچائے۔ رب اوزعنا ان نشکر نعمتک التی انعمت علینا وان نعمل صالحاترضاہ وادخلنا برحمتک فی عبادک الصالحین امین یا رب العلمین :۔