68. Surah Al-Qalam

القلمThe Pen · 52 ayahsمعارف القرآن

Ayahs 68:34–52

اِنَّ لِلْمُتَّقِیْنَ عِنْدَ رَبِّهِمْ جَنّٰتِ النَّعِیْمِ Open ayah 68:34 in the Quran reader

پرہیزگاروں کے لیے ان کے پروردگار کے ہاں نعمت کے باغ ہیں

اَفَنَجْعَلُ الْمُسْلِمِیْنَ كَالْمُجْرِمِیْنَؕ Open ayah 68:35 in the Quran reader

کیا ہم فرمانبرداروں کو نافرمانوں کی طرح (نعمتوں سے محروم) کردیں گے ؟

مَا لَكُمْ١ٙ كَیْفَ تَحْكُمُوْنَۚ Open ayah 68:36 in the Quran reader

تمہیں کیا ہوگیا ہے ؟ کیسی تجویزیں کرتے ہو ؟

اَمْ لَكُمْ كِتٰبٌ فِیْهِ تَدْرُسُوْنَۙ Open ayah 68:37 in the Quran reader

کیا تمہارے پاس کوئی کتاب ہے جس میں (یہ) پڑھتے ہو۔

اِنَّ لَكُمْ فِیْهِ لَمَا تَخَیَّرُوْنَۚ Open ayah 68:38 in the Quran reader

کہ جو چیز تم پسند کرو گے وہ تم کو ضرور ملے گی ؟

اَمْ لَكُمْ اَیْمَانٌ عَلَیْنَا بَالِغَةٌ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ١ۙ اِنَّ لَكُمْ لَمَا تَحْكُمُوْنَۚ Open ayah 68:39 in the Quran reader

یا تم نے ہم سے قسمیں لے رکھی ہیں جو قیامت کے دن تک چلی جائیں گی کہ جس چیز کا تم حکم کرو گے وہ تمہارے لئے حاضر ہوگی

سَلْهُمْ اَیُّهُمْ بِذٰلِكَ زَعِیْمٌۚۛ Open ayah 68:40 in the Quran reader

ان سے پوچھو کہ ان میں سے اس کا کون ذمہ لیتا ہے

اَمْ لَهُمْ شُرَكَآءُ١ۛۚ فَلْیَاْتُوْا بِشُرَكَآئِهِمْ اِنْ كَانُوْا صٰدِقِیْنَ Open ayah 68:41 in the Quran reader

کیا اس قول میں ان کے اور بھی شریک ہیں ؟ اگر یہ سچے ہیں تو اپنے شریکوں کو سامنے لائیں

یَوْمَ یُكْشَفُ عَنْ سَاقٍ وَّ یُدْعَوْنَ اِلَى السُّجُوْدِ فَلَا یَسْتَطِیْعُوْنَۙ Open ayah 68:42 in the Quran reader

جس دن پنڈلی سے کپڑا اٹھا دیا جائیگا اور کفار سجدے کے لئے ہلائے جائیں کے تو سجدہ نہ کرسکیں گے

خَاشِعَةً اَبْصَارُهُمْ تَرْهَقُهُمْ ذِلَّةٌ١ؕ وَ قَدْ كَانُوْا یُدْعَوْنَ اِلَى السُّجُوْدِ وَ هُمْ سٰلِمُوْنَ Open ayah 68:43 in the Quran reader

ان کی آنکھیں جھکی ہوئی ہوں گی اور ان پر ذلت چھا رہی ہوگی۔ حالانکہ (اس وقت) سجدے کے لئے بلائے جاتے تھے جب کہ وہ صحیح سالم تھے

فَذَرْنِیْ وَ مَنْ یُّكَذِّبُ بِهٰذَا الْحَدِیْثِ١ؕ سَنَسْتَدْرِجُهُمْ مِّنْ حَیْثُ لَا یَعْلَمُوْنَۙ Open ayah 68:44 in the Quran reader

تو مجھ کو اس کلام کے جھٹلانے والوں کو سمجھ لینے دو ہم ان کو آہستہ آہستہ ایسے طریق سے پکڑیں گے کہ ان کو خبر بھی نہ ہوگی .

وَ اُمْلِیْ لَهُمْ١ؕ اِنَّ كَیْدِیْ مَتِیْنٌ Open ayah 68:45 in the Quran reader

اور میں ان کو مہلت دیے جاتا ہوں میری تدبیر قوی ہے

اَمْ تَسْئَلُهُمْ اَجْرًا فَهُمْ مِّنْ مَّغْرَمٍ مُّثْقَلُوْنَۚ Open ayah 68:46 in the Quran reader

کیا تم ان سے کچھ اجر مانگتے ہو کہ ان پر تاوان کا بوجھ پڑ رہا ہے ؟

اَمْ عِنْدَهُمُ الْغَیْبُ فَهُمْ یَكْتُبُوْنَ Open ayah 68:47 in the Quran reader

یا ان کے پاس غیب کی خبر ہے کہ (اس سے) لپٹے جاتے ہیں ؟

فَاصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ وَ لَا تَكُنْ كَصَاحِبِ الْحُوْتِ١ۘ اِذْ نَادٰى وَ هُوَ مَكْظُوْمٌؕ Open ayah 68:48 in the Quran reader

تو اپنے پروردگار کے حکم کے انتظار میں صبر کئے رہو اور مچھلی (کا لقمہ ہونے) والے (یونس) کی طرح نہ ہونا کہ انہوں نے خدا کو پکارا اور وہ غم و غصے میں بھرے ہوئے تھے

لَوْ لَاۤ اَنْ تَدٰرَكَهٗ نِعْمَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ لَنُبِذَ بِالْعَرَآءِ وَ هُوَ مَذْمُوْمٌ Open ayah 68:49 in the Quran reader

اگر تمہارے پروردگار کی مہربانی انکی آوری نہ کرتی تو وہ چٹیل میدان میں ڈال دیے جاتے اور ان کا حال ابتر ہوجاتا

فَاجْتَبٰىهُ رَبُّهٗ فَجَعَلَهٗ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 68:50 in the Quran reader

پھر پروردگار نے ان کو برگزیدہ کر کے نیکوکاروں میں کردیا

وَ اِنْ یَّكَادُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَیُزْلِقُوْنَكَ بِاَبْصَارِهِمْ لَمَّا سَمِعُوا الذِّكْرَ وَ یَقُوْلُوْنَ اِنَّهٗ لَمَجْنُوْنٌۘ Open ayah 68:51 in the Quran reader

اور کافر جب (یہ) نصیحت (کی کتاب) سنتے ہیں تو یوں لگتے ہیں کہ تم کو اپنی نگاہوں سے پھسلا دیں گے اور کہتے ہیں کہ یہ تو دیوانہ ہے

وَ مَا هُوَ اِلَّا ذِكْرٌ لِّلْعٰلَمِیْنَ۠ Open ayah 68:52 in the Quran reader

اور (لوگو) یہ (قرآن) اہل عالم کے لئے صحت ہے

بشارت اہل ایمان وتقوی بنعماء جنت وتذلیل وتوہین کفار ومشرکین درروز آخرت : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” ان للمتقین عندربھم .......... الی ........ الاذکر للعلمین “۔ (ربط) گذشتہ آیات میں ان منکرین ومکذبین کا ذکر تھا جو دولت کے نشہ میں مست ہو کر اللہ کی نافرمانی پر کمر بستہ ہوئے رسول خدا ﷺ کی توہین وتذلیل کی تو انکی نافرمانی اور غرور کا انجام ہلاکت ایک تاریخی واقعہ کی شکل میں بیان فرمایا گیا اب ان آیات میں اہل تقوی و ایمان کا اعزاز واکرام اور جنت میں حق تعالیٰ شانہ ان کو کیسی کیسی نعمتوں سے نوازے گا بیان فرمایا جارہا ہے پھر اسی کے ساتھ تنبیہ کے طور پر مجرمین ومنکرین کا قیامت کے روز کیسا برا انجام ہوگا ذکر فرمایا گیا اور اس ذلت و خواری کا منظر پیش کیا گیا جس میں وہ مبتلا ہوں گے۔ فرمایا بیشک تقوی والوں کے لئے ان کے پروردگار کے یہاں باغات ہوں گے نعمتوں کے یہ دنیا والے کیا اپنے باغ و بہار پر غرور وتکبر کرتے ہیں متقیوں کو آخرت میں جو باغات اور نعمتیں دی جائیں گی وہ تو کسی آنکھ نے دیکھ نہ کسی کان نے سنی اور نہ ہی کسی کے قلب و دماغ میں اس کا تصور گزرا ظاہر ہے کہ ان نعمتوں سے یہ کفار ومجرمین محروم ہوں گے اور کیوں نہ ہوں تو کیا ہم فرماں برداروں کو مجرمین کے برابر کردیں گے ؟ نہیں ہرگز نہیں اور یہی بات عقل سلیم اور فطرت صحیحہ کے مطابق ہے اور یہ کہ مسلم وفرماں بردار اور مجرم ونافرمان برابر ہوں عقل و فطرت کے خلاف ہے اگر اے کافرو ! تم اس قسم کا فیصلہ کرتے ہو تو بڑے ہی افسوس کی بات ہے کیا ہوگیا تم کو تم یہ کیسے فیصلے کرتے ہو کیا تمہارے پاس اس دعوے پر کوئی لکھی ہوئی چیز ہے جس کو تم بطور دلیل سنا سکو اور پڑھتے ہو یا ایسی کوئی قابل اعتبار کتاب ہے کہ جس کو بطور سند پیش کیا جاسکے کیا اس میں کوئی ایسی چیز ہے یقینی کہ تم اس کو اپنے واسطے پسند کرلو کہ تمہیں وہی ملے گا جو چاہو اور تمہاری من مانی خواہشات پوری ہوں اچھا تو کیا تمہارے واسطے ہم پر قسمیں ہیں اور تم نے ہم سے قسموں کے ساتھ کوئی عہد و پیمان لے رکھے ہیں جو قیامت تک پہنچنے والے ہوں اور ان قسموں کی وجہ سے ہم قیامت کے روز مجبور ہوں کہ وہ چیزیں تم کو دیں اور مطیعین وفرمانبرداروں کی طرح تم مجرمین کو بھی اپنے انعامات سے نوازیں اور اس کی رو سے تم کو وہی کچھ ملے جو تم فیصلہ کرو اور جس طرح تم دنیا میں عیش و عشرت میں ہو قیامت تک اسی حال میں رہو گے جو شخص اس قسم کا دعوی کرے اے ہمارے پیغمبر ! آپ ﷺ ان سے پوچھئے کون ہے ان میں سے ایسا جو اس کا ذمہ دار بنے ذرا ہم دیکھیں تو سہی وہ کون ہے اور کیسا ذمہ لیتا ہے ان لوگوں کے پاس دلیل تو کیا ہوتی نہ عقلی اور نہ نقلی محض جھوٹے معبودوں پر بھروسہ کر رکھا ہے ! تو ان کے واسطے کچھ شریک ہیں تو پھر انکو چاہئے کہ وہ اپنے شرکاء لیکر آئیں اگر وہ اپنی بات میں سچے ہیں ظاہر ہے جو معبود خود عاجز ہیں اور انکا وجود ہی ان کے عابدوں کی عنایت پر قائم ہے تو وہ کیا خاک اپنے عابدوں کی مدد کریں گے قیامت کے روز فریب کا یہ پردہ چاک ہوجائے گا اور مشرکین اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے کہ زندگی بھر جن معبودوں کی پرستش کی وہ بیکار اور عاجز محض ہیں اس دن کی عظمت وہیبت سے تو لوگوں کے ہوش و حواس اڑے ہوں گے۔ یہ دن وہ ہوگا جب کہ کشف ساق فرمایا جائے گا اور اس طرح اللہ رب العزت اپنی ایک خاص تجلی ظاہر فرماتا ہوتا اور انکو سجدہ کی طرف بلایا جائے گا تو یہ طاقت نہ رکھیں گے کہ سجدہ کرسکیں ہزار کوشش کریں گے کہ جھکیں اور تجلی الہی کے ظہور پر اس کے سامنے سربسجود ہوجائیں لیکن انکی کمریں ایک تختہ کی طرح ہونگی اور کسی طرح بھی سجدہ نہ کرسکیں گے اس حالت میں ان کی آنکھیں جھکی ہوئی ہوں گی ذلت و خواری انکو ڈھانکے ہوئے ہوگی حالانکہ ان کو سجدہ کی طرف بلایا جاتا رہا جب کہ وہ صحیح وسالم تھے دنیا کی زندگی میں اور قدرت رکھتے تھے کہ سجدہ کرلیں لیں عناد وبغاوت میں اس طرح بدمست رہے کہ کبھی خدا کو سجدہ نہ کیا اب روز قیامت جب کہ انکی پشت لکڑی کا تختہ ہوگی اور دل سے چاہیں گے کوشش کریں گے کہ سجدہ کرلیں مگر کر نہ سکیں گے یہی ایک بات عبرت وہدایت کے لئے کافی ہے کہ وہ پیغمبر خدا پر ایمان لے آئیں لیکن اس پر اگر وہ بدنصیب ایمان نہیں لاتے تو پھر اے ہمارے پیغمبر چھوڑ دو مجھ کو اور اس کو جو اس بات کو جھٹلا رہا ہے میں خود ایسے بدبختوں سے نمٹ لوں گا اور انکی نافرمانی کی سزا پوری طرح ان کو مل کر رہے گی ابھی تو ہم انکو مہلت دے رہے ہیں اس طرح کہ ان کو معلوم ہی نہیں کہ محض حکمت خداوندی سے انکو ڈھیل دی جارہی ہے اور میں انکو مہلت دے رہا ہوں اور یہ مہلت اس وجہ سے نہیں کہ ابھی انکو عذاب دینے کا سامان میرے پاس فراہم نہیں بلکہ یہ محض ایک حکمت ہے اور یہ قانون حکمت خداوند عالم نے پہلی قوموں میں جاری رکھا مگر جب بھی میں مجرموں کو پکڑوں گھا اس سے کوئی مجرم بچ نہیں سکے گا بیشک میری پکڑ بڑی ہی سخت ہے یہ تمام باتیں ایک صحیح الفطرت انسان کے سمجھنے اور پیغمبر خدا ﷺ پر ایمان لانے کے واسطے کافی ہیں مگر پھر بھی ان لوگوں کا ایمان نہ لانا قابل حیرت اور باعث افسوس ہے تو کیا آپ ان سے کوئی معاوضہ مانگ رہے ہیں کہ وہ اس تاوان سے بوجھ محسوس کررہے ہیں اور اس وجہ سے ایمان لانے کے واسطے تیار نہیں ہوتے نہیں ہرگز نہیں جیسا کہ ظاہر ہے تو پھر کیا ان کے پاس غیب کی خبر ہے کہ وہ اسکو لکھتے ہیں اور وحی الہی کی طرح اس کو محفوظ کرکے یہ ظاہر کرتے ہیں کہ انہیں ایمان لانے کی ضرورت نہیں اور اللہ کے پیغمبر پر نازل ہونے والی اس وحی اور کلام الہی سے مستفید اور بےنیاز ہیں آخر اس ہٹ دھرمی اور انکار کا کوئی اور سبب اور وجہ ہونی چاہئے لیکن ظاہر ہے کہ اس قسم کی وجوہ میں سے کوئی وجہ بھی ممکن نہیں (ایسی حالت میں اللہ کے پیغمبر پر بےچینی اور گھبراہٹ کا واقع ہونا امر طبعی تھا تو فرمایا جارہا ہے) تو بس آپ تو صبر کیجئے اپنے رب کے فیصلے کے وقت کا اور استقلال وہمت سے صبر کرتے ہوئے انتظار کیجئے کہ ایسے مجرموں کے واسطے خدا کا کیا فیصلہ نافذ ہوتا ہے اور نہ ہوجائیے مچھلی والے کی طرح بےچینی اور گھبراہٹ میں یاعجلت وجلد بازی میں یعنی حضرت یونس ﷺ ذوالنون کی طرح جب کہ وہ اپنی قوم کی مسلسل نافرمانی پر غم وغصہ کی حالت میں برداشت نہ کرتے ہوئے نکل کھڑے ہوئے اور قوم کے حق میں عذاب کی دعا بلکہ پیش گوئی بھی کربیٹھے تو قدرت خداوندی سے ایک مچھلی نے انکو نگل لیا تھا جب کہ اس نے اپنے رب کو پکارا (آیت) ” لاالہ الا انت سبحانک انی کنت من الظالمین “۔ کہتے ہوئے درآنحالیکہ وہ گھٹے ہوئے تھے غم وغصہ اور پریشانیوں کے ایک غم وغصہ تو قوم کی نافرمانی اور ان کی سرکشی اور ایمان نہ لانے کا ایک ایسے مجرموں سے عذاب ٹل جانے کا پھر بغیر خداوندعالم کی صریح اجازت اور وحی شہر چھوڑ دینے کا ان سب باتوں کے علاوہ مچھلی کے پیٹ میں محبوس ہوجانے کا تو مجموعی طور پر یہ کتنے غم اور کس قدر انواع و اقسام کی گھٹن تنگی اور ظلمتیں تھیں لیکن خداوند علام کس قدر کریم اور مہربان ہے کہ ان سب بےچینیوں اور گھبراہٹوں سے نجات دی یہ بلاشبہ اللہ کا عظیم انعام تھا تو اگر انکے رب کی طرف سے یہ نعمت ومہربانی انکو نہ سنبھالتی تو وہ پھینکے ہوئے ایک چٹیل میدان میں اس طرح کہ بہت ہی بدحال ہوتے یہ اللہ کا کس قدر انعام عظیم ہے کہ قبول تو بہ کے اپنی گراں قدر نعمتوں سے نوازا اور نہ تو مچھلی کے پیٹ سے نکل کر بڑی ہی بری حالت میں ایک چٹیل میدان میں پڑے ہوئے نہ کوئی کرامت ہوتی اور نہ کوئی فضل و کمال باقی رہتا لیکن ان کے رب نے انکو پھر نوازا اور انکو پھر بنادیا نیک اور برگزیدہ لوگوں میں سے اور اس ابتلاء یا آزمائش یا ان مشقتوں کو برداشت کرنے کی وجہ سے انکے مراتب ودرجات مزید بلند کردیئے۔ 1 حاشیہ 1 (اس واقعہ کی تفصیل مختلف اور متعدد موقعوں پر گزر چکی اور واقعہ کے اجزاء کچھ نہ کچھ تفصیل کے ساتھ حضرات قارئین کے سامنے آچکے۔ غالبا یہی وہ اجتباء اور کرامت کا مقام ہے جس کے پیش نظر حضور اکرم ﷺ کا ارشاد ہے لاتقولوا انا خیر من یونس بن متی کہ مت کہا کرو کہ میں یونس بن متی سے بہتر ہوں۔ 12) تو اسی طرح آپ ﷺ بھی صبرو برداشت کریں اور اپنے رب کے فیصلہ کا انتظار کریں اسے فیصلہ سے قبل کوئی بےچینی اور گھبراہٹ مقام نبوت کی عظمت وبلندی سے گری ہوئی چیز ہے رہا منکرین ومعاندین کا انکار ومقابلہ اور دشمنی تو ظاہر ہے کہ اس کا سلسلہ تو کبھی منقطع نہیں ہوسکتا اور ان کافروں کے غیظ وغضب کا یہ عالم ہے کہ قریب تھا کہ یہ کافر آپ کو پھسلا دیں اپنی نگاہوں سے جب کہ انہوں نے قرآن اور ذکر الہی کو سنا اور کہتے ہیں کہ یہ تو مجنون ہیں حالانکہ یہ قرآن تو ایک پیغام نصیحت ہی ہے تمام جہانوں کے لئے جس کی ایک ایک آیت حکمتوں اور خوبیوں سے لبریز ہے بھلا ایسے کلام کو پیش کرنے والا دیوانہ ہوسکتا ہے نہیں ہرگز نہیں یقیناً وہی سب سے بڑا پاگل اور دیوانہ ہے جو ایسا کہتا ہے۔ 2 حاشیہ 2 (لغت عربیہ میں زلق کے معنی پھسلادینے کے ہیں۔ اکثر مفسرین نے اس کا مفہوم یہ بیان کیا ہے کہ مشرکین مکہ اور منکرین کو قرآن کریم سے اس قدر عدوات تھی کہ سن کر غیظ وغضب سے مشتعل ہوجائے اور زھر آلود نگاہوں سے گھور گھور کر دیکھتے اور یہ امر طبعی ہے کہ ایسی غضب آلود نگاہوں کو دیکھ کر انسان متأثر یا خوف زادہ ہوجاتا ہے تو ایسی صورت میں امر رسالت کی تبلیغ اور احکام خدا وندی کے اظہار وبیان میں قدم ڈگمگادیں اور پھسلا دیں تو اس پر فرمایا گیا کہ کہ ایسی صورت میں آپ استقامت کے ساتھ اپنی جگہ پر جمے رہئے اور تنگ دل ہو کر کسی معاملہ میں عجلت وجلد بازی نہ کیجئے۔ بعض روایات مفسرین سے یہ بھی مفہوم ہوا جیسا کہ بیان کیا گیا کفار مکہ نے بعض لوگوں کو جو نظر لگانے میں مشہور تھے اس پر آمادہ کیا تھا کہ وہ آپ ﷺ کو نظر لگائیں چناچہ ان میں سے ایک آیا جس وقت کے آپ ﷺ قرآن کریم کی تلاوت فرما رہے تھے اور پوری قوت وہمت سے نظر لگانے کی کوشش کی آپ ﷺ نے فورا لا حول ولا قوۃ الا باللہ “۔ پڑھا اور وہ ناکام و ذلیل ہو کر واپس ہوگیا۔ شیخ الاسلام علامہ شبیر احمد عثمانی (رح) اپنے فوائد میں فرماتے ہیں نظر لگنے یا لگانے کے مسئلہ پر بحث کا یہ موقعہ نہیں اور آج جب کہ مسمریزم ایک باقاعدہ فن بن چکا ہے تو اس میں مزید رد وکد کرنا بیکار سا معلوم ہوتا ہے۔ کشف ساق اور تجلی خداوندی کے ظہور کا مفہوم : صحیح بخاری اور مسلم کی روایات میں ہے حق تعالیٰ میدان قیامت میں اپنی ساق (پنڈلی) ظاہر فرمائے گا اور اس وقت تمام لوگوں کو دعوت دی جائے گی کہ پروردگار کے سامنے سربسجود ہوجاؤ تو اس وقت صرف وہی سجدہ کرسکیں گے جو دنیا میں ایمان لا کر اللہ کو سجدہ کیا کرتے تھے لیکن کافر اور منافق کہ انکی پشت لکڑی کے تختہ کی طرح کردیجائے گی اور وہ چاہیں گے کہ سجدہ کریں لیکن نہ کرسکیں گے (بعض حدیث میں صرف منافق کا لفظ آیا ہے اور بعض سندوں سے کافر اور منافق دونوں منقول ہیں) یہ سب کچھ اس لئے ہوگا کہ میدان حشر میں اہل ایمان واخلاص کا ایمان واخلاص ظاہر ہوجائے اور منافق وریاکار کا ریاء کھل کر تمام انسانوں کے سامنے آجائے۔ لفظ ساق عربی میں پنڈلی کو کہا جاتا ہے اس مقام پر کشف ساق کا مفہوم اور اسکی حقیقت کیا ہے یہ حقیقت پر محمول ہے یا مجاز اور کنایہ ہے یہ عنوان اور صفت بھی صفات متشابہات میں سے ہے بعض لوگ جن کو فرقہ مشبہہ کہا جاتا ہے وہ حق تعالیٰ کے واسطے جسم جیسے احوال کو ثابت مانتے ہیں وہ اس کو حقیقت پر محمول کرتے ہیں مگر جمہور ائمہ متکلمین اشاعرہ اور ماترید یہ اس پر متفق ہیں کہ اللہ رب العزت ہر اس چیز اور حالت وصفت سے منزہ اور پاک ہے جو مخلوق اور اجسام کی صفات میں سے ہو تو اسکو بھی اور (آیت) ” الرحمن علی العرش استوی “۔ اور ایسی ہی دیگر صفات کو ظاہر پر محمول کرنیکے بجائے استعارہ پر محمول کرتے ہیں اور پھر اس میں متقدمین ظاہر پر ایمان ویقین کے ساتھ تشبیہ و تمثیل سے پرہیز کرتے ہیں یہ کہتے ہوئے۔ کما ھو یلیق بشانہ۔ کہ جس طرح اس کی شان کبریاء کے لائق ومناسب ہو اسی طرح لفظ ید (ہاتھ) وجہ (چہرہ) کا مفہوم مانتے ہیں اور بعض ائمہ ان شون واحوال کی تاویل کرلیا کرتے ہیں جیسا کہ بیان کیا جا چکا کہ استواء کا مفہوم غلبہ اور حکومت ہے تو یہاں بھی اسی طرح بلاکیف و تشبیہ ایمان ویقین کے ساتھ یہ معنی بیان کیے گئے کہ کشف ساق اللہ رب العزت کی ایک خاص تجلی کا ظہور ہے جس کو دیکھ کر تمام مومنین سربسجود ہوجائیں گے۔ عکرمہ ؓ حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کرتے ہیں فرمایا کشف ساق قیامت کے روز کا کرب اور وہ شدت وبے چینی ہے جو ہر ایک پر طاری ہوگی ابن جریر (رح) کشف ساق کے معنی امر عظیم اور ہیبت ناک حالت بیان کرتے تھے بعض دیگر روایات میں ابن عباس ؓ ہی سے دوسرے معنی یہ منقول ہیں جس وقت حقائق کھل جائیں گے اور ہر ایک انسان کا عمل روشن وظاہر ہوگا۔ حافظ عماد الدین ابن کثیر (رح)۔ حاشیہ (تفسیر ابن کثیر ج 4 تفسیر قرطبی) نے ابوبردہ بن ابی موسیٰ ؓ مرفوعا نبی کریم ﷺ سے روایت کیا ہے قال (آیت) ” یوم یکشف عن ساق “ یعنی عن نود عظیم۔ بعض روایات میں ہے کہ کسی نے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے اس کے معنی دریافت کئے تو آپ نے شدت اور کرب کی تفسیر کی اور فرمایا جب تم کو کسی لفظ قرآنی کے معنی واضح نہ ہوسکیں تو شعراء عرب کا اشعار اور اہل عرب کے محاورات کو دیکھ لیا کرو اور یہ ایک پڑھا۔ سن لنا قومک ضرب الاعناق وقامت الحرب بنا علی ساق : اسی طرح مجاہد (رح) نے بھی اس معنی کے ثبوت کے لئے ابوعبید اور جریر کے چند اشعار پڑھے ابن قتیبہ (رح) کہتے ہیں اسکی وجہ یہ ہے کہ جب انسان کسی کام پر ہمت باندھ کر محنت صرف کرنا چاہتا ہے تو پائنچے چڑھاتا ہے اور پنڈلی کھول دیتا ہے اسی وجہ سے شدت کے موقع پر کہا جاتا ہے، فلان کشف عن ساقہ ،۔ (قرطبی، روح المعانی) ائمہ متکلمین اور حضرات مفسرین کے کلام سے جو چیز ذہن میں آتی ہے وہ یہ ہے کہ حق تعالیٰ ذات واحد ہے وہ تو صرف ایک ہی ذات ہے جس میں تعدد اور کثرت کا امکان ہی نہیں اس کا ادراک ممکن نہیں جیسا کہ ارشاد خداوندی ہے (آیت) ” لا تدرکہ الابصار “ کہ نگاہیں اس کا ادراک نہیں کرسکتیں ذات خداوندی کے ساتھ صفات خداوندی ہیں جو صفات کمال ہیں وہ صفات کمال منفرد اور تنہا نہیں ہوتیں، بلکہ عالم میں انکا ظہور ایک دوسرے کے ساتھ مقرون اور مجمتع ہونے کی صورت میں ہوتا ہے مثلا صفت علم قدرت کے بغیر اور قدرت بغیر علم کے اور یہ دونوں بغیر حیات کے ظاہر نہیں ہوسکتیں اور یہ بھی ظاہر ہے کہ صفات تابع ذات ہیں ذات کے بغیر کسی صفت کا استقلال نہیں۔ ان دوچیزوں کے بعد جہات کمال کا درجہ ہے جن کو حقائق الہیہ بھی جاتا ہے وہ بین بین ہیں نہ صفات کی طرح تابع ذات اور محض غیر مستقل اور نہ ذات کی طرح محض مستقل، توجہات کمال کو اس عالم میں انسان کے اعضاء کے ساتھ مشابہت اور ایک خاص نسبت ہے کیونکہ انسان کے اعظاء اس کے ہاتھ پاؤں منہ پنڈلی وغیرہ نہ تو اسکے صفات کی طرح غیر مستقل محض ہیں اور نہ ذات انسان کی طرح مستقل محض بلکہ انسان کے کمالات کے مظہر ہیں کہ انسانی کمالات ان مظاہر سے ظہور پذیر ہوتے ہیں چناچہ شریعت نے کمالات الہیہ کو ظاہر وبیان کرنے کے لیے ان مظاہر کو متعدد نصوص میں ظاہر فرمایا آیات قرآنیہ اور احادیث میں وہ مظاہر وجہ، عین، ید، یمین، (صابع، حقو، ساق، قدم کے الفاظ بیان کئے گئے ہیں تو درحقیقت ان کلمات میں بطور استعارہ حقائق و کمالات الہیہ کو بیان کیا جارہا ہے باقی یہ سمجھ لینا کہ اللہ کے اللہ کے لئے چہرہ ہے اسکی آنکھ ہے اسکے واسطے انگلیاں، کمر، پنڈلی، اور قدم ہے غلطی ہے اور محض کم عقلی ہے جس ارتکاب مشبہہ اور ظاہر یہ نے کیا اور انکا انکار کردینا یا ایسی تاویل کرنا جو انکار ہی کے درجہ میں ہو جیسا کہ معتزلہ اور فلاسفہ نے کیا محض غلطی ہے اہل سنت اور علماء متکلمین نے افراط وتفریط سے بعید رہتے ہوئے ان حقائق وشؤن کو تسلیم بھی کیا اور ساتھ ساتھ یہ بھی متعین کردیا کہ ذات خداوندی مخلوق کے احوال واوصاف سے منزہ اور پاک ہے چناچہ کہا گیا کہ خداوند عالم سمیع ہے لیکن وہ ہماری قوت سامعہ کی طرح کسی آلہ کے ذریعہ سمیع نہیں وہ بصیر ہے لیکن وہ ہماری طرح بصیر ہونے میں آنکھ اور آنکھ کی پتلی اور شعاع بصریہ کا محتاج نہیں تو جس قدر بھی نصوص قرآن و حدیث میں ایسے عنوانات سے وارد ہوئیں اہل حق اور علماء متکلمین نے انکا یہی مفہوم اختیار کیا الغرض محشر میں اللہ رب العزت کی ایک خاص قسم کی تجلی ظاہر ہوگی جس کی حقیقت کے ادراک سے انسانی افکار وعقول عاجز ہیں جس کو کشف ساق سے تعبیر کیا گیا اور اس وقت ہر ایک کو سجدہ کے لئے پکارا جائے گا تو جب بندہ دنیاوی حیات میں ایمان واخلاص سے سجدہ کرتا تھا اسکو وہاں سجدہ نصیب ہوجائے گا اور جو دنیا میں نفاق وریاء کے ساتھ سجدہ کرتا تھا اس کو ممکن نہ ہوگا کہ وہ سجدہ کرسکے خواہ ہزار کوشش کرلے کیونکہ دنیا میں تو ظاہر و باطن کا اختلاف ہوسکتا ہے مگر آخرت میں یہ ممکن نہیں وہاں تو جو حقیقت ہوگی وہی ظاہر ہوسکے گی۔ حاشیہ (مقتبس من تحقیقات الائمۃ المفسرین والمتکلمین من الاشاعرۃ والماتریدیۃ وکذا ایفھم من کلام امام الحرمین (رح) وعبدالکریم (رح) شہر ستانی۔ 12)