Ayahs 67:1–5شان عظمت وقدرت خداوندی مع بیان جزائے اہل سعادت وتنبیہ وتہدید براہل شقاوت :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” تبرک الذی بیدہ الملک ......... الی ............. عذاب السعیر “۔
(ربط) سورة تحریم کا اختتام اس امر پر تھا کہ دین کی حفاظت کے لئے جہاد مع الکفار ضروری ہے اور ایمان وتقوی ہی انسان کی سعادت و کامیابی کی روح ہے تو اب اس مناسبت سے سورة تبارک الذی کی ابتداء حق تعالیٰ شانہ کی عظمت قدرت کے بیان سے ہورہی ہے اور یہ کہ اہل ایمان اور اہل سعادت کو کیسی کیسی نعمتوں سے نوازا جائے گا اور منکرین واشقیاء کیسے ہولناک عذاب میں مبتلا ہوں گے، اور یہ بھی اشارۃ ظاہر کیا جارہا ہے کہ اگر ایک گھر کا سرپرست اپنے اہل خانہ کی کسی بےاعتدالی سے اس قسم کی آذیت محسوس کرسکتا ہے اور قلب پر گرانی واقع ہوتی ہے تو کائنات کے رب کو اپنی مخلوق کی بےراہ روی اور خلاف ورزی سے کس قدر اذیت ہوتی ہوگی اس بنیاد کو پیش نظر رکھتے ہوئے ہر صاحب فہم انسان سعادت وشقاوت کا راز اور اس کا انجام بخوبی سمجھ سکتا ہے ارشاد فرمایا بڑی ہی عظمت و برکت والا ہے وہ پروردگار جس کے ہاتھ میں ہے سلطنت وحکمرانی تمام کائنات کی اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے نہ اس کے ملک سے کوئی نکل سکتا ہے اور نہ قدرت و گرفت سے بچ سکتا ہے اور نہ کوئی چیز اس کے علم سے دور ہوسکتی ہے وہی پروردگار ہے جس نے موت وحیات کو پیدا کیا تاکہ تم کو آزمائے کہ تم میں سے کون ہے بہتر اپنے عمل کے لحاظ سے موت وحیات کا یہ تمام سلسلہ اسی لئے ہے کہ انسان کی پہلی زندگی میں پتہ چل جائے کہ کس کے عمل اچھے ہیں اور کس کے برے اور پہلی زندگی کے اس امتحان کا نتیجہ دوسری زندگی میں مکمل طور پر دکھلادیا جائے حیات نہ ہوتی تو اچھے برے کا علم نہ ہوتا اور موت نہ ہوتی تو نیکی اور بدی کا نتیجہ ظاہر نہ ہوتا اور وہی بڑی عزت والا بخشش کرنے والا ہے کہ وہ اپنی عزت و غلبہ کی وجہ سے قادر ہے کہ بندوں پر جزاء وسزا جاری کرے اور وہ اسی کے ساتھ بڑی مغفرت بھی فرمانے والا ہے کہ بہت سے برے کاموں کی مغفرت بھی فرماتا رہتا ہے جس پروردگار نے سات آسمان پیدا کیے تہہ بر تہہ۔
حاشیہ (جیسا کہ حدیث صحیح میں ہے کہ ایک آسمان سے اوپر بفاصلہ دراز دوسرا آسمان ہے پھر اس سے اوپر، اس طرح اس سے اوپر اور آسمان یہاں تک کہ آپ ﷺ نے سات آسمان بیان فرمائے حدیث معراج میں ساتوں آسمان کا ذکر ہے اور اس تفصیل کے ساتھ کہ پہلے آسمان میں آدم (علیہ السلام) کو پایا چھٹے پر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اور ساتویں آسمان پر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو۔
بتا اے مخاطب کیا دیکھتا ہے تو رحمن کے بنانے میں کوئی فرق کہ ایک چیز اچھی بن گئی اور دوسری چیز کی تخلیق وتکوین میں کچھ کمی رہ گئی نہیں بلکہ جو بھی اس رحمن نے بنایا وہ اس کی عظیم شان خلاقی کا پیکر اور ثبوت ہے اگر ایک مرتبہ کے دیکھنے سے یہ خیال کرتا ہے کہ یہ سرسری نظر سے دیکھا تھا تو کچھ عیب نظر نہیں آیا تو پھر دوبارہ نگاہ کو لوٹا، اور خوب غور کر پھر بتا کہ کیا نظر آتی ہے تجھ کو کوئی دراڑ اور پھٹن ان آسمانوں میں اگر اس پر بھی ایمان ویقین کی کیفیت قلب و دماغ میں نہ رچے تو پھر دو دو بار لوٹا نگاہ کو کسی نہ کسی طرح اللہ کی مخلوق اور اس کے بنائے ہوئے ان آسمانوں میں اور ان میں جو کواکب وسیارات ہیں ان میں کوئی عیب نظر آجائے تو اس تلاش وتجسس کی بار بار نگاہ کو کچھ بھی کمی نہ آسکے گی اور نتیجہ یہ ہوگا کہ یہ نگاہ واپس لوٹے گی تیری طرف اس حال میں کہ وہ ذلیل ہوگی اور تھکی ہوئی ہوگی۔
حاشیہ (حضرت والد محترم قدس اللہ سرہ کے ایک قصیدہ کا شعر اسی آیت کا ترجمہ ہے فرمایا۔
لقد سافرت فیک العقول فما ربحت الا العنا والتحسرا۔
کہ اے پروردگار تیرے بارے میں انسانی عقول نے بہت ہی سفر کیا لیکن کچھ حاصل نہ ہوا سوائے تکان وعاجزی اور حسرت کے 12۔ )
دنیا کے مفکرین وفلاسفہ اور محققین ایک بار نہیں کئی کئی مرتبہ مدتوں بھی غور کرتے رہیں، دیکھتے رہیں لیکن اللہ کی پیدا کی ہوئی مخلوق آسمانوں، چاند، سورج اور ستاروں میں باوجود مرور مدت طویلہ کوئی بھی رخنہ اور کمی نہیں پائیں گے اور بیشک ہم نے مزین کردیا ہے آسمان دنیا کو اور نزدیک والے آسمان کو جو انسانوں کی نظروں کے سامنے ہے روشن چراغوں سے کہ نظر آنے والے ستاروں کی جگمگاہٹ کیسی حسین اور شاندار معلوم ہوتی ہے یہ قدرتی چراغ ہیں اور انکو بنایا ہے ہم نے پھینک مارنے کا ذریعہ شیاطین کے واسطے کہ بسا اوقات کوئی ستارہ ٹوٹ کر کسی شیطان کو جلاکرخاک کردیتا ہے جیسے کہ فرمایا (آیت) ” الا من استرق السمع فاتبعہ شہاب ثاقب “۔ اور ہم نے تیار کر رکھا ہے انکے واسطے دہکتی ہوئی آگ کا عذاب اسلیے مجرمین کو عذاب خداوندی سے بےفکر نہ ہونا چاہئے اور یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ خدا کے عذاب سے نہ شیاطین بچ سکتے ہیں اور نہ وہ لوگ جن کو شیاطین گمراہ کرتے ہیں۔
توحید ذات وصفات خداوندی ایمان کی اساس ہے :۔
اس سورة مبارکہ میں حق تعالیٰ شانہ کی عظمت وکبریائی اس کی قدرت وخالقیت کے ضمن میں اس کی وحدانیت والوہیت کو ثابت کیا گیا اور یہ کہ وہ اپنی ذات وصفات میں یکتا ہے اور اس کی قدرت قدرت کاملہ ہے وہی ہر چیز کا خالق ہے اسی کی بادشاہت وحکمرانی ساری کائنات میں چل رہی ہے قرآن کریم اور جملہ کتب سماویہ نے اسی مضمون کو بڑی ہی اہمیت کے ساتھ بیان فرمایا ہے اور یہی تمام انبیاء (علیہم السلام) کی اپنی قوموں کو دعوت رہی ہے (آیت) ” یقوم اعبدواللہ مالکم من الہ غیرہ “۔ اسی کے ساتھ آخرت کا مسئلہ بھی بیان کردیا گیا اور یہ کہ جزاء وسزا کا مرحلہ ہر انسان کو بلاشبہ پیش آنا ہے قرآن حکیم نے یہ مضامین از اول تا آخر بیان کئے لیکن یہ قرآن مجید کا اعجاز ہے کہ ہر مرتبہ ایک نئے اسلوب سے ان مضامین کو بیان کیا جاتا ہے واضح مثالوں عام محاورات اور مسلمہ واقعات کے ساتھ بیان کیا جاتا ہے تاکہ ہر شخص اپنے مذاق کے موافق ان حقائق کو ذہن نشین کرسکے جو مقصود بیان ہے اس موقعہ پر عالم موجودات ومحسوسات کا تذکرہ کرتے ہوئے (آیت) ” وھو علی کل شیء قدیر “۔ فرما کر یہ ظاہر کردیا کہ جو عالم انسانوں کے ادراک واحساس میں ہے اللہ تعالیٰ چاہے تو ایسے بیشمار عالم پیدا فرما سکتا ہے۔
لفظ (آیت) ” شیء “ کی بحث شروع میں گزر چکی، از روئے لغت ہر اس چیز کو (آیت) ” شیء “۔ کہا جائے گا جس کے وجود کا ارادہ کیا جائے گا لہذا اس سے حق تعالیٰ کی ذات اور اس کی صفات خارج رہیں گی اسی طرح اس کا اطلامحالات پر نہیں ہوسکتا اس لئے کہ ان میں مقدور ہونے کی صلاحیت نہیں لہذا جملہ ممکنات (آیت) ” شیء “۔ کا مصداق ہیں اور اس لحاظ سے یہ سوال ہی نہیں ہوسکتا کہ کیا ذات خداوندی اس کی صفات اور محالات بھی تحت القدرت آسکتے ہیں تو واجب وممتنع دونوں (آیت) ” شیء “۔ کا مصداق ہونے سے خارج ہیں۔
(آیت) ” خلق الموت والحیوۃ “۔ یعنی اس نے موت جو عالم عدم اور حیوۃ جو عالم موجود ہے کہ پیدا کیا گویا اس صفت کو ذکر کرکے تبارک الذی کی دلیل بیان فرمادی پہلی دلیل تو یہ تھی کہ اس کے ہاتھ میں تمام کائنات کی بادشاہت ہے اسی کا حکم اور تصرف کائنات پر جاری ہے دوسری دلیل ہر شی پر کمال قدرت کو بیان کرکے پیش کردی گئی تیسری دلیل اس کی عظمت وکبریائی کی ”(آیت) ” خلق الموت والحیوۃ “۔ سے ظاہر فرمائی گئی اس میں عالم آخرت کی نعمتوں کی طف بھی اشارہ معلوم ہوتا ہے جیسا کہ بعض مفسرین نے فرمایا کہ موت سے مراد دنیا کی موت اور حیات سے مراد حشر کی حیات ہے تو یہ کہا جاسکتا ہے کہ پہلے جملہ میں دنیا کی بادشاہت کا بیان تھا اب اس جملہ میں آخرت کی بادشاہت کا بیان تھا اب اس جملہ میں آخرت کی بادشاہت بھی بیان فرمادی تو جو ذات دونوں جہان کا بادشاہ ہو اس سے بڑھ کر برکت اور عظمت والی ذات کون ہوسکتی ہے لہذا ہر حالت میں انسان کو اللہ کی طرف ملتجی ہونا چاہیے اس تفسیر کی رو سے (آیت) ” خلق الموت والحیوۃ “۔ میں لفظ موت کو مقدم کرنے کی حکمت ظاہر ہوتی کہ موت دنیوی حیات اخروی سے مقدم ہے یا یوں کہہ لیجئے کہ برکات الہیہ میں سے یہ بھی ہے کہ حق تعالیٰ نے انسان کو اپنی صفات کا مظہر بنا کر علم وادراک سے مزین بنایا خلافت الہیہ کا شرف اس کو بخشا اور اس عظمت و برکت کی تکمیل اس طرح مقدر کی گئی کہ عالم باقی کے لئے وہ نیک کام کرے اور برے کاموں سے پرہیز کرے اس وجہ سے ضروری تھا کہ نیک کاموں پر آمادہ کرنے والی باتیں اور برے کاموں سے بچانے والی چیزیں نازل کی جائیں اور اسی کے لیے موت وزندگی بنائی اور اگر حیات سے دنیوی حیات مراد لی جائے تو پھر موت کی تقدیم اس غرض سے ہوسکتی ہے کہ اس کی فکر اور تیاری سے انسان غافل نہ ہو اور اس کی طرف پوری توجہ رکھے نیز اس وجہ سے بھی کہ حیات عارضی اور چند روزہ ہے اور موت ذاتی ہے تو انسان کو چاہئے کہ چند روزہ زندگی کو ہیچ سمجھے تو اس وجہ سے بھی موت کو حیات پر مقدم ہی کرنا چاہئے تھا کیونکہ ذاتی کو امر عارضی پر تقدم ہوتا ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ موت سے وہ حالت مراد لی جائے تو پھر موت کی تقدیم اس غرض سے ہوسکتی کہ اس کی فکر اور تیاری سے انسان غافل نہ ہو اور اس کی طرف پوری توجہ رکھے نیز اس وجہ سے بھی کہ حیات عارضی اور چند روزہ ہے اور موت ذاتی ہے تو انسان کو چاہئے کہ چند روزہ زندگی کو ہیچ سمجھے تو اس وجہ سے بھی موت کو حیات پر مقدم ہی کرنا چاہئے تھا کیونکہ ذاتی کو امر عارضی پر تقدم ہوتا ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ موت سے وہ حالت مراد لے جائے جو قبل از وجود ہے وہ حالت نطفہ ہے یہی وہ چیز ہے جو سورة بقرہ کی آیت میں فرمائی گئی ، (آیت) ” وکنتم وامواتا فاحیاکم ثم یمیتکم ثم یحییکم “۔ تو حالت موت کے بعد عطاء حیات کا ذکر کیا اور پھر اس حیات کے بعد موت کا اور پھر موت کے بعدحیات کا جو ظاہر ہے کہ آخری حیات حشر کی حیات ہے نیز اس لیے بھی یہاں موت کو مقدم اور حیات کو مؤخر فرمایا گیا یہاں مقصد کلام (آیت) ” لیبلوکم ایکم احسن عملا “۔ ہے اور اس آزمائش کا ثمرہ اور نتیجہ موت کے بعد اسی حیات میں ظاہر ہوگا جو حشر کی حیات ہے،
آسمانوں کے وجود پر قرآن کریم اور الہامی کتابوں کا فیصلہ اور حکماء یونان وفلاسفہ کے خیالات :
متعدد آیات قرآنیہ اور تمام آسمانی کتابوں سے آسمانوں کا وجود ثابت ہے اور یہ ستارے جو آسمان کی زینت بنائے گئے ان ہی کو مصابیح فرمایا گیا اور جو کام اللہ رب العزت ان سے لیتا ہے اس میں یہ بھی ہے کہ جنات و شیاطین پر ان کو پھینک کر انہیں جلایا جاتا ہے جیسے کہ اس آیت مبارکہ کی تفسیر میں گزر چکا، (آیت) ” انا زینا السمآء الدنیا بزینۃ ن الکواکب وحفظا من کل شیطن مارد لایسمعون الی الملاء الاعلی ویقذفون من کل جانب دحورا ولھم عذاب واصب الا من خطف الخطفۃ فاتبعہ شھاب ثاقب “۔ تو اس آیت میں ستاروں سے متعلق دو باتوں کا ذکر کیا گیا کہ آسمانوں کی زینت اور جو جنات و شیاطین ملاء اعلی کی طرف کان لگائیں ان کے واسطے شہاب ثاقب اور جلا کر خاک کردینے والے تیسری بات جو ستاروں سے متعلق ہے وہ آیۃ مبارکہ (آیت) ” وبالنجم ھم یھتدون “ میں فرما دی گئی۔
یہاں (آیت) ” جعلنا ھا “ کی ضمیر جنس مصابیح کی طرف راجع ہے نہ کہ عین مصابیح کی طرف حافظ ابن کثیر (رح) فرماتے ہیں یہ اس لیے کہ شیاطین پر یہ ستارے نہیں پھینکے جاتے جو آسمان پر ہیں تو اصل یہ ہے کہ لفظ مصابیح یا کو کب ونجوم ان ستاروں پر بھی بولا جاتا ہے جو آسمان پر ہیں اور ان ادخنہ اور شعاعوں کو بھی کہا جاتا ہے جو ستاروں کے ساتھ ہیں یہی ادخنہ اور شعاعیں ٹوٹتی ہیں اور ان ہی کی پھینکا جاتا ہے کو بھی کہا جاتا ہے جو ستاروں کے ساتھ ہیں یہی ادخنہ اور شعاعیں ٹوٹتی ہیں اور ان ہی کو پھینکا جاتا ہے زمین سے جو دخانی مادے اٹھ کر فضا میں اوپر چڑھ جاتے ہیں تو کرۂ نار کے قریب پہنچ کر ان میں آگ لگ جاتی ہے اور وہ ایسے ہی معلوم ہوتے ہیں جیسے کہ جلتا ہوا کوئی شعلہ پھینکا جارہا ہے یہ ادخنہ ستاروں ہی کی طرح ہوجاتے ہیں اس وجہ سے انکو بھی کواکب ونجوم کی جنس سے شمار کیا گیا مگر بہرکیف یہ سب کچھ اللہ کے حکم سے ہوتا ہے جس مادۂ دخانی کو اللہ تعالیٰ اپنے ارادہ سے اس طرح چلنے اور بکھرنے کا حکم دے گا وہی ایسا ہوگا ورنہ نہیں یعنی ان کا یہ ٹوٹنا اور بکھرنا خود ان کا کوئی طبعی تقاضا نہیں اور چونکہ یہ بھی ستاروں کی ایک قسم ہوگئے اس وجہ سے پھٹنے کے بعد زمین پر نہیں گرتے حالانکہ ان کا میل طبعی زمین کی طرف ہونا چاہئے تھا بلکہ ایک جانب سے دوسری جانب اس طرح بکھر جاتے ہیں جیسا کسی نے پھینک مارا اس قسم کے مشاہدوں سے یہ حقیقت واضح ہوجاتی ہے جو حق تعالیٰ نے ارشاد فرمائی (آیت) ” فاتبعہ شھاب ثاقب “۔ اور فرمایا (آیت) ” وجعلنھا رجوما للشیاطین “۔ الغرض قرآن کریم میں جگہ جگہ آسمانوں کے بنانے کا ذکر ہے جیسا کہ ارشاد ہے (آیت) ” والسمآء بنینھا باید وانا لموسعون “۔ اسی طرح فرمایا (آیت) ” انا زینا السمآء الدنیا بزینۃ ن الکواکب “۔ کہ ہم نے پہلے آسمان کو ستاروں سے زینت دی (آیت) ” افلم ینظروا الی السمآء فوقھم کیف بنینھا وزینھا ومالھا من فروج “۔ کیا نہیں دیکھا انہوں نے اپنے اوپر آسمان کو کس طرح بنایا ہم نے اس کو اور کیسی زینت دی اور ان میں کوئی درز بھی نہیں (آیت) ” الذی خلق سبع سموت طباقا ما تری فی خلق الرحمن من تفاوت فارجع البصر ھل تری من فطور ثم ارجع البصر کر تین ینقلب الیک البصر خاسئا وھو حسیر “۔ اس نے سات آسمانوں کو اوپر تلے بنایا اسے دیکھنے والے تجھ کو خدا کی پیدائش میں کچھ تفاوت نہ معلوم ہوگا دوبارہ نظر آسمانوں کی طرف پھرا تیری نگاہ تھک کر خیرہ ہو کر رہ جائے گی وغیرہا من الایات پس اس سے وہی اخیر معنے مراد ہیں کہ جس کو ہماری زبان میں آسمان کہتے ہیں اور ہر زبان میں اس کا نام ہے اور جس کو تمام عرب وعجم ہندو روم اہل یورپ قدیم زمانہ سے اب تک ایسا ہی سمجھتے ہیں کہ خدا نے آسمانوں کو بنایا ہے ہم ان کو دیکھتے ہیں ان میں کوئی شگاف نہیں کہ جو خدا کی صنعت میں قصور ثابت کرے اور یہ ستارے آسمان پر لگے ہوئے ہیں اگر کسی پڑھے ہوئے سے پوچھئے گا تو وہ بھی یہی کہے گا اور ان پڑھ بلکہ جنگل کے رہنے والے وحشیوں سے دریافت فرمائے گا تو وہ بھی یونہی کہیں گے جس سے معلوم ہوا کہ یہ مسئلہ بھی منجملہ ان مسائل کے ہے جس کا علم انسان کی فطرت اور جبلت میں یکساں رکھا گیا ہے اور اسی فطری علم پر خدائے تعالیٰ اپنے کلام میں انسان کو مخاطب کرکے اپنے عجائبات قدرت کی طرف متوجہ کرتا ہے اور تمام انبیاء (علیہم السلام) بھی اسی نہج پر کلام کرتے چلے آئے ہیں، چناچہ نورات اول کے پہلے باب میں یہ لکھا ہے ” ابتداء “ میں خدا نے آسمان و زمین کو پیدا کیا “ پھر اسی کتاب کے باب 7 میں طوفان نوح کے بیان میں یہ جملہ بھی ہے جب نوح کی عمر چھ سو برس کی ہوئی دوسرے مہینے کی سترہویں تاریخ کو اسی دن بڑے سمندر کی سب سوتیں پھوٹ کر نکلیں اور آسمان کی کھڑکیاں کھل گئیں اور 8 باب میں یہ جملہ ہے اور آسمان کی کھڑکیاں بند ہوگئیں اور آسمان سے مینہ تھم گیا انجیل متی کے باب 2 میں ہے کہ جب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) حضرت یحی (علیہ السلام) کے ہاتھ سے اصطباغ یعنی دریا یعنی دریا میں غوطہ لگا کر باہر آئے تو انکے لئے آسمان کھل گیا اور مکاشفات یوحنا کے باب 8 اور دیگر ابواب سے صاف آسمان پر ستاروں کا ہونا اور انکے دروازے کھلنا اور وہاں سے آواز آنا وغیرہ وہ باتیں مذکور ہیں کہ جو قرآن و حدیث کے مطابق ہیں اسی طرح ہنود کے وید اور پارسیوں کے دساتیر سے بھی آسمانوں کی بابت اس طرح کے مضامین مفہوم ہوتے ہیں الغرض ہزار ہا برس سے الہامی اور غیر الہامی کتابوں اور انبیاء (علیہم السلام) اوردیگر لوگوں کا اس امر میں اتفاق ہے لیکن یونان کے فلسفیوں نے جس طرح اور چیزوں کی حقیقت اور ماہیت دریافت کرنے میں عقل کے گھوڑے دوڑائے اور جو باتیں ان کو اپنے قیاس اور تخمین یا تجربہ اور آلات رصد وغیرہا سے دریافت ہوئیں تو انکو قلمبند کیا اور اس کا نام حکمت رکھا جس کی شاخیں ہیئت اور طبیعیات اور الہیات وغیرہا علوم ہیں کہ جن پر بہت سے کوتاہ بینوں کو ناز ہے مگر آسمانوں کی تحقیق میں انکے دو فریق ہوگئے ایک گروہ کے پیشوا کا نام ہے ” فیثا غورس “ وہ کہتے ہیں آسمانوں کا وجود نہیں یہ ستارے بذات خود قائم ہیں کسی میں جڑے ہوئے نہیں پھر خود اس فریق کے بھی دو قول ہیں بعض کہتے ہیں ستارے اور ثوابت متحرک نہیں صرف زمین حرکت کرتی ہے اس کی وجہ سے یہ چیزیں حرکت کرتی ہوئی دکھائی دیتی ہیں جس طرح کہ ریل گاڑی میں درخت اور پتھر حرکت کرتے معلوم ہوتے ہیں دوسرا گروہ کہتا ہے کہ زمین بھی متحرک ہے اور ستارے بھی، آفتاب کو مدار ٹھہرا کر اسکے گرد حرکت کرتے ہیں ہاں چھوٹے چھوٹے ستارے کہ جن کو ثوابت کہتے ہیں وہ حرکت نہیں کرتے انکی حرکت دوری کرتے ہیں اسی طرح زمین بھی اپنے بعد معین پر اس کے اردگرد پھرتی ہے اور ستارے صرف یہ (1) زحل ، (2) مشتری، (3) مریخ ، (4) عطارد، (4) زہرہ ، (5) شمس، (6) ، قمر (7) ہی نہیں انکے سوا اور بھی رصد سے ثابت ہوتے ہیں یہ مذہب فیثا غورس ایک مدت تک تو حکماء کے نزدیک اسکے دیگر اقوال کی طرح مردود اور بیقدر رہا مگر اس صدی میں اس نے یورپ میں بڑا رواج پایا اور یورپ کے بڑے بڑے محقق اسی مقلد ہو کر ان ہی باتوں کو الہامی اور لوح محفوظ کی باتیں سمجھنے لگے بلکہ اپنی تحقیقات سے اس پر اور کچھ بڑھایا اور چاند اور رسیاروں میں پہاڑ اور دیگر اجرام عنصری بلکہ حیوانات کے وجود کے بھی بعض لوگ قائل ہوگئے۔
دوسرے گروہ کے سر دفتر حکیم یطلیموس ہیں وہ کہتے ہیں کہ زمین گول کروی ہے کسی قدر یعنی تخمینا چوتھائی حصہ اس کا ناہمواری کی وجہ سے اوپر اٹھا ہوا ہے باقی اس کے گرد پانی لپٹا ہوا ہے جس کو سمندر کہتے ہیں پانی کے ارد گرد کرۂ ہوا لپٹا ہوا ہے اس کے اوپر آگ کوسوں تک ہر طرف سے لپٹی ہوئی ہے یہ چار کرے عناصر کے ہوتے اب یہ جس قدر زمین پانی سے اوپر اٹھی ہوئی ہے اس پر سب لوگ بستے ہیں ان چاروں کروں کے چو طرف پہلا آسمان ہے جس کو فلک القمر بھی کہتے ہیں یعنی اس آسمان میں چاند ہے جیسا کہ نیلے جسم پر ایک سفید گول نشان ہوجاتا ہے اسکے اوپر فلک العطارد ہے اس کے اوپر فلک زہرہ اس کے اوپر فلک شمس ہے یعنی چوتھا آسمان جہاں آفتاب ہے اسکے اوپر فلک مریخ کو جہاں مریخ ستارہ ہے اس کے اوپر فلک مشتری کہ جہاں مشتری ستارہ ہے اس کے اوپر فلک زحل کہ جہاں زحل ستارہ ہے اس کے اوپر فلک الثوابت کہ جہاں یہ سینکڑوں ان گنت ستارے ہیں کہ جو از خود حرکت کرتے معلوم نہیں ہوتے یعنی ایک جگہ ہمیشہ ثابت رہتے ہیں چونکہ نیچے کے آسمان بلکہ کل آسمان نہایت شفاف اور صاف ہیں وہ اوپر کے ستارے سب نظر آتے ہیں اس کے اوپر فلک الافلاک ہے کہ جس کو فلک اطلس کہتے ہیں یعنی سادہ اس پر کوئی تارہ نہیں وہ دن رات میں مشرق سے مغرب کی طرف ایک جگہ چرخہ کی طرح پھر کر دورہ تمام کرتا ہے اور اس کی وجہ سے سب آسمان اور تارے دورہ تمام کرتے ہیں کہ جس سے رات اور دن پیدا ہوتے ہیں یعنی جہاں سامنے آفتاب آگیا وہاں دن ہوگیا اور جہاں سامنے سے بالکل ہٹ گیا وہاں رات ہوگئی اور تمام ستارے از خود بھی ایک حرکت مغرب سے مشرق کی طرف کرکے دورہ تمام کرتے ہیں چاند تو مہینہ بھر میں اس دورہ کو تمام کرلیتا ہے دراصل گھٹتا بڑھتا نہیں بلکہ جس قدر وہ آفتاب کے مقابلہ میں آتا ہے اور اس قدر اس پر روشنی پڑتی ہے اتنا ہی ہم کو دکھائی دیتا ہے ورنہ وہ گول بڑا بھاری جسم ہے زمین سے کہیں زائد ہے اور آفتاب اپنے دورہ کو دائرہ منطقۃ البروج پر برس میں تمام کرتا ہے اسی لیے مختلف فصلیں سردی اور گرمی کی پیدا ہوتی ہیں یہ کل تیرہ (13) کرے ہوئے جن میں نو آسمان ہیں سات تو یہ کہ جن کو شرع نے سبع سموت کہا ہے اور دو وہ کہ جن کو عرش وکرسی کہا ہے کرسی فلک الثوابت عرش، فلک الافلاک ہے اس صورت۔ 1
حاشیہ (..........................)
پر اور آسمانوں کا کوئی رنگ نہیں کیونکہ اگر رنگ ہوتا تو اوپر کی چیزیں دکھائی نہ دیتیں اور یہ جو نیلگوں معلوم ہوتا ہے یہ آسمان کی مثفافی اور غبارات کی تیرگی سے پیدا ہوا ہے اور یہ قاعدہ ہے کہ جب سفیدی اور سیاہی ملتی ہیں تو نیلی رنگت پیدا ہوجاتی ہے یا یوں کہو کہ اجزاء شفاف میں اجزائے غباری جو کہ سیاہ ہیں انکے ملنے سے یہ نیلگونی پیدا ہوگئی یا یہ کہ ہوا کے اجزاء شفاف میں جب انکو دیکھتے ہیں تو نظر میں ایک تیرگی پیدا ہوتی ہے ان دونوں کے ملنے سے نیلگونی پیدا ہوتی ہے جیسا کہ سمندر کا پانی نیلا دکھائی دیتا ہے اسکے علاوہ اور بہت سے مسائل اس حکیم اور اس کی جماعت کے ہیں اور چونکہ یہ مسائل کسی قدر الہامی کتابوں کے موافق ہیں اس لئے اس حکمت کا جس طرح حکماء یونان میں رواج ہو اسی طرح جب حکمت یونانیہ عربی میں ترجمہ ہو کر آئی تو اہل اسلام نے بھی اسکو پسند کیا چناچہ اب تک شرح چغمینی اور تذکرہ وغیرہما اسی حکمت کی کتابیں درس میں داخل ہیں بلکہ ایشیائی ملکوں میں ہندو اور ایرانی وغیرہما سب لوگ اور قدیم عیسائی اور یہودی بھی انہی مسائل کے متعقد ہیں لیکن نہ اسلام کو اس ہیئت سے کچھ بحث ہے نہ اس سے کہ اگر یہ غلط ہوا تو اسلام کی صداقت میں کیا نقصان آتا ہے ؟ اور جو وہ سراسر غلط ہو تو کیا نقصان ہے البتہ آسمانوں کی بابت علی سبیل فکر آیات قدرت جو کچھ قرآن یا دیگر کتب الہامیہ میں مذکور ہے اس کے تمام بنی آدم قاتل ہیں وہ علم فطری ہے جب یطلیموس اور فیثا غورس نہ تھے جب بھی لوگ ان باتوں کو مانتے تھے بہرکیف الہامی کتابوں بالخصوص قرآن مجید سے یہ ثابت ہے کہ آسمان کوئی مجسم چیز ہے کہ جو قیامت کو پھٹ جاوے گی عام ہے کہ وہ کوئی جسم اور کسی قسم کا ہو قال اللہ تعالیٰ (آیت) ” اذا السمآء انفطرت “۔ وقال اللہ تعالیٰ (آیت) ” واذا السمآء کشطت۔۔۔۔ وقال اللہ تعالیٰ (آیت) ” اذا السمآء انشقت واذنت لربھا وحقت، وقال اللہ تعالیٰ (آیت) ” ولقد خلقنا السموت والارض وما بینھما فی ستۃ ایام “۔ الایۃ اگر آسمان فضا یا بعد موہوم کا نام ہوتا جیسا کہ بعض مقلدین یورپ کا قول ہے تو وہ ایک عدمی چیز ہوتا اس کا پھٹنا اور اس کے چھلکوں یعنی طبقات کا اکھڑنا اور اسکو پیدا کرنا اور بنانا جس طرح کہ زمین اور اس کی چیزیں بنائیں یا اس کی کھڑکیاں کھلنا جس کا کہ تورات میں ذکر ہے اس کو سقف محفوظ کہنا چہ معنی وارد البتہ حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ وغیرہ اکابر سے جو کچھ آسمان کے باہمی فاصلہ کی نسبت مروی ہے اور یہ کہ فلاں آسمان چاندی کا اور فلاں زبر جد کا اور فلاں اس کا اگر بسند صحیح ثابت ہے تو تشبیہ اور مجاز پر محمول ہے نہ حقیقت پر پھر اس پر اعتراض محض بیجا ہے۔
(کذافی تفسیر الحقانی ج 2 للعلامہ ابو محمد عبدالحق الحقانی الدہلوی (رح))
Ayahs 67:6–11عقوبت وتنبیہ برانکار توحید رب العالمین :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” وللذین کفروا بربھم ............ الی ........... فسحقا لاصحب السعیر “۔
(ربط) گذشتہ آیات میں خداوند کریم کی عظمت وکبریائی کا بیان تھا اور اس کی قدرت وخالقیت دلائل و شواہد سے ظاہر فرمائی گئی تو اب ان آیات میں ان لوگوں پر وعید ہے جو اسکی الوہیت سے انکار کرتے ہیں اور اسکی وحدانیت پر ایمان نہیں لائے فرمایا۔
اور جن لوگوں نے کفر کیا اپنے رب کا انکے واسطے عذاب جہنم ہے اور وہ بہت ہی برا ٹھکانا ہے جس کی شدت وہیبت اس سے معلوم ہوسکتی ہے کہ جب بھی یہ لوگ اس میں ڈالیں جائیں گے سنیں گے اس کے دھاڑنے کی آواز جو نہایت ہی ہولناک ہوگی اور وہ جہنم سمندر کی طوفانی موجوں کی طرح تھپیڑے مارتی ہوئی ہوگی قریب ہوگا کہ وہ جہنم اپنی لپٹوں اور بھاپ کی شدت سے ٹکڑے ٹکڑے ہوجائے اور پھٹ پڑے اس کے جوش اور شدت اشتعال کو دیکھ کر ایسا محسوس ہوگا کہ اب پھٹ پڑے گی جب بھی اس میں کسی گروہ کو ڈالا جائے گا تو اسکے داروغہ پوچھیں گے ان سے کہ کیا تمہارے پاس نہیں آیا تھا کوئی عذاب خداوندی سے ڈرانے والا کہ تم کو اس عذاب جہنم سے ڈراتا اور تم اب اس مصیبت میں مبتلا نہ ہوتے کہیں گے کیوں نہیں بیشک ہمارے پاس ڈرانے والا آیا مگر ہم نے اس کو جھٹلایا اور کہا کہ اللہ نے کوئی چیز نازل نہیں کی اور بجائے اس کے کہ ان کی تصدیق کرتے ان پر ایمان لاتے ہم تو اپنی بدبختی سے یہ کہنے لگے تم تو بڑی گمراہی میں پڑے ہوئے ہو اور وہ جہنمی یہ بھی کہیں گے نہایت ہی حسرت اور ملال کے ساتھ اے کاش اگر ہم سنتے ہوتے یا سمجھتے ہوئے اللہ کے پیغمبر کی باتوں اور ان کی نصیحتوں کو تو ہم نہ ہوتے جہنمیوں میں سے مگر نہ تو ہم نے کبھی کان لگا کر ان کی بات سنی اور نہ عقل سے سوچا نتیجہ یہ ہوا کہ اب ہم جہنم کے عذاب میں مبتلا ہوگئے تو اس طرح وہ اعتراف کریں گے اپنے جرم کا، لیکن اس وقت حسرت وافسوس اور اعتراف گناہ سے کچھ فائدہ نہ ہوگا اس لیے اعلان، ہوگا بس دھکے دو جہنم والوں کو اس طرح ملائکہ ان کو دھکیل کر اور گھیسٹ کر جہنم میں پھینک دیں گے سورة زمر میں ان مضامین کی تفصیل گزر چکی۔
اہل جہنم کے ساتھ اس طرح کی گفتگو صرف ان پر حجت قائم کرنے کے لئے ہوگی اور یہ بات ظاہر کرنے کے لیے کہ خداوند عالم کسی کو بغیر جرم کے عذاب نہیں دیتا اور جرم ایسا کہ خود مجرم بھی اس کا اعتراف کرلیں ابوالبختری الطائی (رح) بعض صحابہ کرام کرام ؓ سے نقل کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا۔
لن یھلک الناس حتی یعذ روا من انفسھم وفی حدیث اخر لا یدخل النا احد الا وھو یعلم ان النار اولی بہ من الجنۃ۔
حاشیہ 1 (تفسیر ابن کثیر ج 4)
ہرگز لوگ ہلاک نہیں ہوں گے جب تک ان کی طرف سے ان کا عذر ختم نہ کردیا جائے گا اور ایک روایت میں ہے ہرگز کوئی شخص جہنم میں داخل نہ ہوگا مگر اس طرح کہ وہ جان لے گا کہ واقعی جہنم ہی اس کے واسطے درست ہے،
(آیت) ” تکاد تمیز من الغیظ “۔ کے الفاظ جہنم کا منظر سمندر کی موجوں کی شکل میں پیش کررہے ہیں کہ جس طرح دیکھنے والا سمندر میں پانی کی موجیں اور تھپیڑے دیکھتا ہے بس یہی جہنم میں آگ کے تھپیڑوں کا ہوگا۔
(آیت) ” ان انتم الخ “۔ بعض مفسرین کی رائے ہے کہ کلمہ (آیت) ” ان انتم الا فی ضلال کبیر “۔ جہنم کے داروغہ اور فرشتوں کا ہوگا جو اہل جہنم کو تو بیخ اور دھمکی کے طور پر کہتے ہوں گے ،
(آیت) ” فکذبنا “ کی تفسیر وہی ہے جو سورة یسین میں (آیت) ” یحسرۃ علی العباد “۔ کی گزر چکی اور تکذیب کو صرف رسول ہی کی تکذیب تک محدود رکھنے کی ضرورت نہیں بلکہ اس میں ان ہادیان امت کی تکذیب بھی شامل ہے جو امت کی جزاء و سزاء کی باتیں سنائیں اللہ اور اس کے رسول کا پیغام پہنچائیں لیکن ان کی بات ماننے کی بجائے کفر ونافرمانیوں پر قائم رہنا بدکاریوں کفر وشرک جیسے کاموں میں مبتلا رہنا عملا تکذیب ہے اس طرح قرآن کریم کے بیان کردہ حقائق اور زمانہ کے انقلابات سے عبرت حاصل نہ کرنا بھی تکذیب ہے عالم جاودانی سے غفلت و لاپرواہی اور عالم محسوس یعنی دنیا کی لذتوں اور نفس کی خواہشات پر مفتون ہوجانا روح کے تقاضوں کو فراموش کردینا غرض یہ سب شعبے تکذیب ہی کے ہیں فرق صرف یہ ہے کہ ایسے افراد زبان سے تو دعوی کرتے ہیں کہ ہم مانتے ہیں اور ان کا عمل اس کی تردید وتکذیب کرتا ہے گویا ان لوگوں کی عملی زندگی بنی اسرائیل اور یہود کی طرز زندگی کا پیکر ہوتی ہے (آیت) ” سمعنا وعصینا “ کہ سن لیا ہے ہم نے مگر ہم نافرمانی ہی کریں گے۔
(آیت) ” قدجآء نا نذیر “ میں موت کے مناظر بھی دیکھنا ہے کہ مرنے والوں کو مرتے ہوئے دیکھ کر بھی ہمیں آخرت کی فکر نہ ہوتی تھی اور اسی طرح دنیا میں منہمک رہتے تھے،۔
Ayahs 67:12–22بیان انعام براہل تقوی واحاطہ علم خداوندی باحوال فریقین “۔
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” ان الذین یخشون ربھم .......... الی ........... صراط مستقیم “۔
(ربط) گذشتہ آیات میں منکرین ومجرمین پر عذاب خداوندی کا بیان تھا اور یہ کہ روز قیامت جب کفار، عذاب خداوندی کا مشاہدہ کریں گے تو ان پر کس طرح حسرت وملال ہوگا اب ان آیات میں اہل ایمان وتقوی اور رب العالمین سے خشیت رکھنے والوں کی جزاء اور انعام کا بیان ہے ارشاد فرمایا۔
بیشک جو لوگ اپنے پروردگار سے ڈرتے رہتے ہیں غیب کی حالت میں ان کے واسطے مغفرت ہے اور اجر عظیم ہے کہ جنہوں نے دنیا میں رہتے ہوئے جب کہ وہ عالم آخرت سے دور تھے جنت و جہنم بھی نظروں سے اوجھل تھی پھر بھی ایمان وتقوی اختیار کیا بلاشبہ وہ انعامات اور اعزات کے مستحق ہیں یہی خشیت بحالت غیب “ کام آنے والی چیز ہے ورنہ خدا کی بارگاہ میں حاضری پر اور جنت و جہنم کا جب انسان مشاہدہ کرنے لگے تو ہر ایک ہی ڈرے گا اور عذاب جہنم سے کانپے گا لیکن ظاہر ہے کہ اس وقت کا ڈر اور خشیت کسی صورت میں بھی کام نہ آئے گی اس وقت یہ فرمان خداوندی جاری ہوگا اور اے لوگو ! تم خواہ کو جاننے والا ہے اور سوچنا چاہئے کیا وہ پروردگار نہیں جانے گا جس نے پیدا کیا وہ تو بہت ہی لطیف باریک بین اور مخلوقات کے احوال سے پورا باخبر ہے اس لیے کہ وہ مخلوقات کا خالق ہے اور یہ کیسے ممکن ہے کہ خالق کو اپنی مخلوق کا علم نہ ہو دلی خیالات بھی مخلوق ہیں گو وہ دل میں چھپے ہوئے ہیں مگر وہ تو چونکہ لطیف ہے اور لطافت دلیل ہے علم وانکشاف کی لہذا وہ دل کے خیالات سے بھی باخبر ہے حکماء نے متعدد دلائل سے ثابت کیا ہے اور یہ بات غور کرنے پر سمجھ میں بھی آتی ہے کہ جسمانیت ایک حجاب ہے بہت سی چیزوں کے علم وادراک سے یہی جسمانیت وکثافت مانع بنتی ہے اسی لیے ملائکہ چونکہ اجسام نوریہ اور لطیف ہیں اور ان میں روحانیت ولطافت ہے انکے بعد جنات جو مخلوق ناری ہیں اور نار میں بھی لطافت ہے گونور سے کم ہو اس وجہ سے ملائکہ اور جن ان چیزوں کا ادراک کرلیتے ہیں جو ہمارے علم اور حواس سے بعید ہوتی ہیں اسی پر خواب کو بھی محمول کرلیا جائے کہ اس میں انسان بسا اوقات وہ چیزیں دیکھ لیتا ہے جو بیداری میں نہیں دیکھ سکتا اسی بناء پر حضرات متکلمین نے بحالت خواب جنت و جہنم کو دیکھنا اور دیدار خداوندی کو تسلیم کیا ہے کیونکہ بحالت خواب جسمانی حجابات کمزور ہوجاتے ہیں اور مدرکات حسیہ کے بجائے قلب کے مدرکات کام کرنے لگتے ہیں تو جب نفس خواب میں انسان کو ان باتوں کا انکشاف ہوجاتا ہے جن کا بحالت بیداری مشاہدہ نہیں کرسکتا تو ظاہر ہے کہ قیامت کے روز جب عالم مادیت سے بالکل ہی منقطع ہوچکا ہوگا اور مادی حجابات مرتفع ہوچکے ہوں گے نہ معلوم وہ کیا کچھ دیکھے گا جس کا دنیا میں تصور بھی نہیں کرسکتا تھا تو انسان جب تک دنیا میں ہے گویا وہ عالم غیب میں ہے اور احوال آخرت میں سے اس کے حواس بیخبر ہیں تو اس عالم میں خدا سے خوف و خشیت ایمان ہے ورنہ آخرت میں تو سب کچھ نظر آنے لگے گا اور ہر ایک ہی خدا کی عظمت وکبریائی سے کانپتا ہوگا۔
وہی پروردگار ہے جس نے تمہارے واسطے زمین کو مسخر بنا دیا کہ اس پر جس طرح چاہو تصرف کرو چلو پھرو مکانات کارخانے تعمیر کرو یا نزم بنا دیا جس پر تم بیٹھ سکتے ہو اس کو کھودسکتے ہو ایسا سخت سنگ خارا نہیں کہ انسان سے نہ بیٹھا جائے نہ اس پر چلا جائے اور نہ کھودا جاسکے پھر عجیب قدرت ہے کہ اس نرمی کے باوجود ناخن سے کرید لو اس قدر مضبوط اور قوی کہ بڑے سے بڑے وزن سے نہ دبے اور نہ پھٹے تو چلو اے لوگو ! تم اس کے کاندھوں یعنی راستوں میں۔
حاشیہ (” مناکب “ کا ترجمہ راستوں سے کیا چلنے کی مناسبت سے مقصود تو یہ ہے کہ زمین کو اللہ نے انسانوں کے لئے مسخرکئے جانے کے معنی میں مستعمل ہوتا ہے، قتادہ (رح) ضحاک (رح) اور ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ زمین کے کاندھے پہاڑ اور ٹیلے ہیں انکی بلندی کی وجہ سے انکو مناکب الارض کہا جاتا ہے۔ 12)
اور کھاؤ خدا کے رزق سے جو اس نے زمین سے پیدا کیا اور یہ رزق اور جملہ نعمتوں کو کھا پی کر خدا کا شکر بھی ادا کرو اور یہ یاد رکھو کہ اسی کی طرف دوبارہ زندہ ہو کر لوٹنا اور جمع ہونا ہے میدان حشر میں خدا کی پیدا کی ہوئی روزی اور نعمتوں سے مغرور نہ بنو اور ہرگز یہ خیال نہ کرو کہ بس یہی دنیا کی زندگی ہے مرنے کے بعد پھر زندہ ہونا نہیں ہے تم اس حشر ونشر اور بعث بعد الموت کو زمین سے اگنے والی کھیتیوں کو دیکھ کر سمجھ سکتے ہو کہ کس طرح یہ تخم اور بیج زمین میں دبانے کے بعد پھر زمین سے ابھر رہے ہیں جب کہ یہ مٹی میں مل کر خاک بن گئے تھے اور پھر کچھ عرصہ بعداسی شکل و صورت میں رونماہو رہے ہیں جیسے کہ پہلے تھی تو حشر اور بعث بعد الموت کا یہ نمونہ دنیا کی نظروں کے سامنے ہے جس طرح کہ انسان کو حشر ونشر اور آخرت سے بےخوف نہ ہونا چاہئے اسی طرح اس بات سے بھی بےفکر نہ ہونا چاہئے کہ انسان کی بداعمالیوں اور نافرمانیوں پر کسی وقت بھی عذاب نازل ہوسکتا ہے تو اس کے لئے فرمایا ،
کیا تم نڈر ہوگئے ہو اس ذات سے کہ جو آسمان میں ہے اس چیز سے کہ تمہیں زمین میں دھنسا دے جب کہ وہ زلزلہ سے لرزنے لگے تو وہی زمین جو تمہارے واسطے مسخر تھی تم اس سے منافع حاصل کرتے تھے اسی سے تم کو رزق ملتا تھا وہی زمین تمہارے واسطے عذاب وقہر بن جائے گی اور تم اس میں دھنسادیئے جاؤ گے پھر کیا تم بےخوف ہوگئے اس سے جو آسمان میں ہے اس بات سے کہ وہ ایک سخت آندھی تم پر چھوڑ دے جو پتھر برسانے والی ہو غرض اس طرح زمین و آسمان سے عذاب خداوندی واقع ہوگا پھر تم جان لوگے کہ کیسا ہے میرا ڈرانا اور دنیا کی نعمتوں اور نفس کی لذتوں نے تم کو فکر آخرت اور خوف خدا سے جو دور کردیا ہے یہ سب ختم ہوجائے گا اور چاہو گے تو اس وقت ایمان لے آؤ لیکن ظاہر ہے عذاب خداوندی نازل ہونے پر ایمان لانا معتبر نہیں انسان کو اس امر سے کسی بھی وقت غافل نہ ہونا چاہئے کہ خدا اور اس کے رسول کی بات جھٹلانے کا کیسا انجام ہوتا ہے چناچہ ظاہر ہے اور بہت سی قوموں نے ان سے پہلے جھٹلایا اللہ کی باتوں کو تو پھر کیسا ہوا میرا انکار کرنا اور اس پر کیسا ہولناک عذاب نازل ہوا جیسے کہ قوم عاد وثمود کی تاریخ اہل عرب کے سامنے موجود ہے خداوندعالم کی شان کبریائی اور اس کی قدرت آسمان و زمین میں ظاہر ہونے کے ساتھ فضا میں اڑتے ہوئے پرندے بھی اس کی قدرت و عظمت کی گواہی دے رہے ہیں تو کیا انہوں نے نہیں دیکھا پرندوں کو کہ ان کے اوپر کس طرح پر کھولے ہوتے ہیں اور پر جھپکتے بھی ہیں کوئی نہیں ہے ان کو روکے ہوئے بجز رحمن کے وہی پروردگار رحمن ورحیم اپنی قدرت سے انکو فضا میں معلق روکے ہوئے ہے پرندوں کی یہ حالت خدا وندعالم کی کبریائی بڑی ہی عظیم دلیل ہے۔
بیشک وہ پروردگار جس نے یہ سب کچھ پیدا کیا ہر چیز کو خوب دیکھنے والا ہے۔
حاشیہ (استاذ محترم حضرت شیخ الاسلام علامہ شبیر احمد عثمانی (رح) اپنے فوائد قرآن میں فرماتے ہیں شاید پرندوں کی مثال بیان کرنے سے یہاں اس بات کی طرف بھی اشارہ ہو کہ اللہ تعالیٰ آسمان سے عذاب بھیجنے پر قادر ہے اور کفار اپنے کفر وشرارت سے اس کے مستحق بھی ہیں لیکن جس طرح رحمن کی رحمت نے پرندوں کو ہوا میں روک رکھا ہے عذاب بھی اس کی رحمت سے رکا ہوا ہے “ کوئی بعید نہیں اسی لطیف اشارہ کے باعث اس موقعہ پر اللہ کی صفت رحمن ذکر فرمائی گئی ہو حالانکہ یہ امر قدرت سے متعلق ہے تو ظاہر کا تقاضا ہوسکتا تھا کہ صفت قدرت و عظمت کا ذکر ہوتا۔ )
بھلا وہ کون ہے جو لشکر مددگار ہو کر آجائے تمہارے واسطے رحمن کے سوا مدد کرے اور کسی بھی عذاب ومصیبت سے تم کو بچا لے ہرگز ایسا ممکن نہیں کافر تو بس دھوکہ ہی میں پڑے ہوئے ہیں انکو یہ دھوکہ لگا ہوا ہے کہ اگر کوئی عذاب نازل ہوا جس سے ڈرایا جارہا ہے تو ان کے یہ معبود عذاب سے بچا لیں گے یہ ان کا کھلا ہوا دھوکہ ہے سوچنا چاہئے، بھلا وہ کون ہے جو تم کو روزی دے اگر وہ پروردگار اپنا رزق روک لے، دنیا کی طاقت مل کر بھی ایک دانہ زمین سے پیدا نہیں کرسکتی یہ سب باتیں ہر صاحب فہم انسان بڑی سہولت سے سمجھ سکتا ہے لیکن یہ لوگ نہیں سمجھتے بلکہ یہ تو اور زیادہ مضبوطی سے چمٹے رہے اپنی سرکشی پر اور خدا کی اطاعت سے بدکنے پر یقیناً اس گمراہی اور سرکشی کا انجام ہلاکت وتباہی کے سوا کیا ہوسکتا ہے بھلا کیا وہ شخص جو چل رہا ہو اوندھا منہ اپنے سر کے بل راہ راست پر ہے یا وہ شخص جو چل رہا ہے ٹھیک ٹھیک ایک ایسے راستہ پر جو نہایت ہی سیدھا ہے ظاہر ہے کہ صراط مستقیم پر سیدھا چلنے والا انسان ہی کامیاب ہے اور حق پر ہے اور جو اوندھے منہ سر کے بل گھسٹ رہا ہو وہ کیونکر فلاح وسعادت کی منزل تک پہنچ سکتا ہے اسی سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ جو شخص قانون الہی اور نبی کریم ﷺ کے اسوۂ مبارکہ کی پیروی کرے گا وہی منزل مقصود کو پہنچے گا اور وہی مومن صالح ہے اور جو شخص ہوائے نفس میں پھنس کر اللہ اور اس کے رسول سے باغی ہوجائے وہ ٹھوکریں کھاتا رہے گا اور ایک خار دار راستہ پر چلتے ہوئے ایسے عمیق اور گہرے گڑھے میں گرے گا کہ اس سے نکلنے کی کوئی امید نہیں کی جاسکتی۔
Ayahs 67:23–30دلائل قدرت رب العلمین وتنبیہ وتہدید پر مجرمین ومنکرین :
قال اللہ تعالیٰ ، (آیت) ” قل ھو الذی انشاکم ......... الی .......... فمن یاتیکم بمآء معین “۔
(ربط) گزشتہ آیات میں اہل ایمان وتقوی پر انعامات خداوندی کا بیان تھا اور یہ کہ مومنین مطیعین اور کفار ومجرمین ہر دو فریق کا خداوند عالم کو پورا پورا علم ہے انکا کوئی قول وعمل اللہ سے مخفی نہیں کوئی بھی اس کے احاطہ علم وقدرت سے باہر نہیں ہوسکتا تو اب ان آیات میں مزید دلائل قدرت بیان کیے جارہے ہیں اور یہ کہ جب خداوند تعالیٰ نے انسان کو عقل و شعور عطا کیا آنکھیں دیکھنے کے لئے دیں اور کان سننے کے واسطے تو پھر یہ بات فطرت سے بعید ہے کہ انسان نہ عقل وفکر سے کام لے نہ آنکھوں سے دلائل قدرت کا مشاہدہ کرے اور نہ کانوں سے حق وہدایت کی بات سنے، ارشاد فرمایا۔
کہہ دیجئے وہی ہے خداوند عالم وحدہ لاشریک کہ جس نے تم کو پیدا کیا اور اس کی خالقیت کی بیشمار دلیلیں خود انسان وجود میں ودیت رکھی ہوتی ہیں اور تمہارے واسطے کان بنائے اور آنکھیں تاکہ آنکھوں سے دیکھو اور کانوں سے رشد وہدایت کی باتوں کو سنو اور دل تاکہ عقل و فطرت کے تقاضے دلوں میں سمانے والی باتوں کو قبول کرو لیکن اے انسانو ! افسوس کہ تم میں سے بہت سوں نے ان چیزوں سے کام نہ لیا تو بہت ہی کم ہو کہ تم اللہ کا شکر ادا کرو اگر اس پر بھی یہ منکرین تو جہ نہیں کرتے اور قبول حق کی طرف مائل نہیں ہوتے پھر کہہ دیجئے کہ وہی تو ہے جس نے زمین میں بکھیرا اور اپنی قدرت سے کس طرح تم کو زمین کے مختلف خطوں اور علاقوں میں آباد کیا اور کس طرح اسباب معیشت اور سامان راحت پیدا کیا اور یہ سب چیزیں اپنے تغیروانقلاب اور وجود وفنا اور بقاء وزوال سے اس امر کا واضح ثبوت ہیں کہ تم سب اسی کی طرف اٹھائے جاؤ گے، ان حقائق و دلائل اور مشاہدات کا تقاضا تو یہ تھا کہ یہ لوگ خدا پر ایمان لاتے مگر ذرہ برابر بھی ان پر اثر نہیں اور بلکہ یہ کہتے ہیں یہ وعدۂ قیامت کب پورا ہوگا اگر تم سچے ہو کب ہم زندہ ہوں گے اور کب قیامت آئے گی تو آپ ﷺ کہہ دیں اس کا علم تو بس اللہ ہی کے پاس ہے اور میں تو صرف ڈرانے ہی والا ہوں کھلم کھلا خدا کے عذاب سے اور روز قیامت کے واقع ہونے سے یہ ایک ایسی حقیقت ہے کہ اس کو کوئی بھی ٹلانے والا نہیں چناچہ جب وہ لوگ دیکھیں گے اس کو قریب کہ عذاب خداوندی سامنے ہے قیامت برپا ہورہی ہے تو بگڑ جائیں گے کافروں کے چہرے شدت غم اور بدحواسی کی وجہ سے اور کہا جائے گا یہی تو ہے وہ جس کو تم طلب کرتے تھے اور اللہ کے پیغمبر اور اہل ایمان سے کہا کرتے تھے کہ اچھا اگر کافروں پر خدا کا عذاب آنے والا ہے تو لے آؤ کہاں ہے وہ عذاب تو اس طرح یہ منکر اس عذاب کو دیکھ لیں گے جس کا وہ بطور استہزاء مطالبہ اور جلدی کرتے تھے اور جوں ہی وہ عذاب قریب آئے گا بڑے بڑے سرکشوں کے منہ بگڑ جائیں گے اور چہروں پر ہوائیاں اڑنے لگیں گی ،
خداوندعالم کے عذاب کو کون ٹلا سکتا ہے اس کے قہر و جلال کا تو یہ عالم ہے کہ اے ہمارے پیغمبر ان کو کہہ دیجئے بھلا دیکھو تو اور مجھے یہ بتاؤ اگر بالفرض خدا مجھے ہلاک کرے اور ان کو جو میرے ساتھ ہیں یا ہم پر رحم کرے جیسا کہ وہ ہر چیز پر قادر مطلق ہے تو وہ کون ہے جو منکروں کو درد ناک عذاب سے بچا لے ؟ یقیناً کسی میں جرأت نہیں کہ خدا کی کسی بھی بات کو ٹلا سکے اس لئے اس کا وہ عذاب جو کافروں اور منکروں پر واقع ہونے والا ہے اس کو کوئی دفع نہیں کرسکتا اور اسکی وہ عنایات ورحمتیں جو اسکے رسول ﷺ پر اور رسول ﷺ کے ساتھیوں پر ہونے والی ہیں انکو کوئی نہیں روک سکتا اس شان عظمت وکبریائی کا ادراک ومشاہدہ کرنے والوں کو کہہ دیجئے کہ وہی رحمن ہے جس پر ہم ایمان لائے اور اسی پر ہم نے بھروسہ کیا اور اللہ تعالیٰ پر ایمان اور اس پر بھروسہ ہی ہدایت و کامیابی ہے اور اے کافرو ! تم ان دونوں سے محروم ہو نہ ایمان ہے نہ توکل اس وجہ سے بس عنقریب تم جان لوگے کہ کون ہے وہ جو کھلی گمراہی میں پڑا ہوا ہے ہم یا تم ! آخر اے منکرو ! کہاں تک تم خدا کی قدرت وخالقیت کا انکار کرتے رہو گے تو کہہ دو بھلا بتاؤ اگر تمہارا یہ پانی خشک ہوجائے تو کون لائے گا تمہارے پاس چشموں سے بہتا ہوا صاف ستھرا پانی، وہ پانی جس پر ہر جاندار کی زندگی اور ہر چیز کا بقاء موقوف ہے چشموں کنوؤں اور نہروں سے خشک ہوجائے تو یہ موتی کی طرف صاف ستھرے قطرے لے آنے کی کسی میں قدرت نہیں۔
حاشیہ (شیخ الاسلام حضرت علامہ شبیر احمد عثمانی (رح) اپنے فوائد میں فرماتے ہیں یہیں سے یہ بھی سمجھ لو کہ جب ہدایت کے سب چشمے خشک ہوچکے اس وقت ہدایت ومعرفت کا خشک نہ ہونے والا چشمہ محمد ﷺ کی (بعثت کی) صورت میں جاری کردینا بھی اسی رحمان مطلق کا کام ہوسکتا ہے جس نے اپنے فضل وانعام سے تمام جانداروں کی ظاہری وباطنی زندگی کے سامان پیدا کیے۔
اگر بفرض محال یہ چشمہ خشک ہوجائے جیسا کہ اشقیاء کی تمنا ہے تو کون ہے جو مخلوق کے لئے ایسا پاک وصاف نتھرا پانی مہیا کرسکے “ حضرات مفسرین نے بیان کیا کہ اس آیت کو بعض متکبرین نے سنا تو بڑی ہی گستاخی سے کہا ” ہم زمین سے کھود کر نکال لیں گے “ اسی وقت خدا نے انکی آنکھوں کی رطوبت اور پانی جذب کرلیا اور غیب سے ندا سنائی دی اے گستاخ تو زمین کی تہوں سے پانی کیا نکال کر لائے گا تو اپنی آنکھ ہی کا پانی لے آ العیاذ باللہ شان خداوندی میں گستاخی سے اللہ رب العزت محفوظ رکھے، آمین یا رب العالمین۔ )
تم بحمد اللہ سورة الملک :