66. Surah At-Tahrim

التحريمThe Prohibition · 12 ayahsمعارف القرآن

Ayahs 66:1–3

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَاۤ اَحَلَّ اللّٰهُ لَكَ١ۚ تَبْتَغِیْ مَرْضَاتَ اَزْوَاجِكَ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 66:1 in the Quran reader

اے پیغمبر جو چیز خدا نے تمہارے لئے جائز کی ہے تم اس سے کنارہ کشی کیوں کرتے ہو ؟ کیا اس سے اپنی بیبیوں کی خوشنودی چاہتے ہو اور خدا بخشنے والا مہربان ہے

قَدْ فَرَضَ اللّٰهُ لَكُمْ تَحِلَّةَ اَیْمَانِكُمْ١ۚ وَ اللّٰهُ مَوْلٰىكُمْ١ۚ وَ هُوَ الْعَلِیْمُ الْحَكِیْمُ Open ayah 66:2 in the Quran reader

خدا نے تم لوگوں کے لئے تمہاری قسموں کا کفارہ مقرر کرد یا ہے اور خدا ہی تمہارا کا رساز ہے اور وہ دانا (اور) حکمت والا ہے

وَ اِذْ اَسَرَّ النَّبِیُّ اِلٰى بَعْضِ اَزْوَاجِهٖ حَدِیْثًا١ۚ فَلَمَّا نَبَّاَتْ بِهٖ وَ اَظْهَرَهُ اللّٰهُ عَلَیْهِ عَرَّفَ بَعْضَهٗ وَ اَعْرَضَ عَنْۢ بَعْضٍ١ۚ فَلَمَّا نَبَّاَهَا بِهٖ قَالَتْ مَنْ اَنْۢبَاَكَ هٰذَا١ؕ قَالَ نَبَّاَنِیَ الْعَلِیْمُ الْخَبِیْرُ Open ayah 66:3 in the Quran reader

اور (یاد کرو) جب پیغمبر نے اپنی ایک بی بی سے ایک بھید کی بات کہی تو (اس نے دوسری کو بتادی) جب اس نے اسکو افشا کیا اور خدا نے اس (حال) سے پیغمبر کو آگاہ کردیا تو پیغمبر نے (ان بی بی کو وہ بات) کچھ تو بتائی اور کچھ نہ بتائی تو جب وہ ان کو جتائی تو پوچھنے لگیں کہ آپ کو یہ کس نے بتایا ؟ انہوں نے کہا کہ مجھے اس نے بتایا ہے جو جاننے والا خبردار ہے .

تعلیم صبر و استقامت وعدل و انصاف در حقوق و امور معاشرت : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” یایھا النبی لم تحرم ...... الی ...... انما تجزون ما کنتم تعملون “۔ (ربط) گزشتہ سورت میں طلاق وعدت کے بعض اہم احکام کا بیان تھا اب اس سورت میں بعض ایسے جذبات طبعیہ کا بیان ہے جن کے باعث خانگی زندگی کا اعتدال و توازن ختم ہوسکتا ہے اور اس سے تفریق وجدائی کی بھی نوبت آسکتی ہے، اور ایک خاص واقعہ بھی حضور اکرم ﷺ کی ازواج کی طرف سے پیش آیا تھا تو اس کی مناسبت سے بعض خصوصی احکام وہدایات بھی بیان فرمائی جارہی ہیں۔ صحیحین و دیگر کتب حدیث میں اس سورت کا شان نزول یہ بیان کیا گیا ہے، حضرت عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں آنحضرت ﷺ کچھ دیر حضرت زینب بنت جحش کے پاس ٹھیر جایا کرتے تھے (جبکہ آپ ﷺ کا معمول تھا کہ عصر کے بعد تمام ازواج کے حجروں میں تشریف لے جاتے تاکہ ان کے احوال کا علم ہو، اور ازواج مطہرات کے لیے آپ ﷺ کی زیارت وتشریف آوری موجب برکت و راحت ہو) اس وقت حضرت زینب ؓ کے پاس شہد آیا ہوا تھا تو انہوں نے آنحضرت ﷺ کو پلایا تو دو چار روز اس کے نوش فرمانے میں دیر لگی اور حضرت عائشہ ؓ اور حفصہ ؓ نے باہمی مشورہ سے یہ طے کیا کہ ہم میں سے جس کسی کے پاس رسول اللہ ﷺ تشریف لائیں تو ہم یہ کہیں کہ یا رسول اللہ آپ ﷺ کے منہ سے تو مغافیر (ایک قسم کے گوند کو کہا جاتا ہے) کی بدبو آرہی ہے تاکہ آپ ﷺ اس چیز کو ترک کردیں، چناچہ ایسا ہی کیا گیا بیان کرتی ہیں جب آنحضرت ﷺ تشریف لائے تو میں نے کہا میں تو آپ ﷺ کے منہ سے مغافیر کی بدبو محسوس کررہی ہوں آپ ﷺ نے مغافیر کھایا ہے، اس کے بعد آپ ﷺ حفصہ ؓ کے یہاں گئے تو انہوں نے بھی اسی طرح کہا۔ آپ ﷺ نے فرمایا نہیں میں نے تو شہد پیا ہے، اس پر آپ ﷺ نے طبعی ناگواری کے ساتھ فرمایا خدا کی قسم میں اب شہد نہیں پیوں گا تو اس طرح آپ ﷺ نے اپنی قسم کے ذریعے ایک حلال چیز کو اپنے اوپر حرام کرلیا، اس کے متعلق یہ سورت نازل ہوئی اور اس سلسلہ میں جو بعض باتیں پیش آئیں ان کی طرف بھی اشارہ فرمایا گیا یہی شان نزول صحیح ہے اگرچہ مفسرین نے ایک دوسرا واقعہ بھی ذکر کیا ہے، ارشاد فرمایا۔ اے ہمارے پیغمبر کیوں حرام کرتے ہو وہ چیز جو اللہ نے آپ کے واسطے حلال کی ہے اگرچہ مصلحتا کسی حلال چیز سے عملا پرہیز کرنا کوئی ممنوع فعل نہیں جب کہ عقیدۃ انسان حلال چیز کو حلال ہی سمجھتا رہے مگر پھر بھی وہ آنحضرت ﷺ کی شان رفیع کے مناسب نہ تھی تو فرمایا چاہتے ہیں آپ اپنی بعض ازواج کی خوشنودی، خوش خلقی اور ازواج کی خوشنودی بےاچھی چیز ہے، لیکن جس حد تک اس کی ضرورت نہ ہو یا کسی کی خوشنودی دوسری کے لیے دل شکنی اور رنج کا ذریعہ بنے یہ آپ کے مقام عالی کے مناسب نہیں تو اس پر درگزر ہے اور اللہ غفور رحیم ہے وہ اس قسم کی غیر مناسب یا خلاف اولی باتوں کو درگزر فرماتا ہے اور اپنی رحمت ومہربانی سے نوازتا ہے بیشک اللہ نے مقرر کردیا ہے تمہارے واسطے تمہاری قسموں کا حلال کرنا کہ کسی حلال چیز سے رکے رہنے کے بجائے قسم کا کفارہ دے کر اس حلال کو اختیار کرو نہ یہ کہ عملا اس سے اس طرح پرہیز کرتے ہو، جیسا کہ حرام چیز سے پرہیز کیا جاتا ہے اور اللہ ہی تمہارا مولی ہے وہی سب کچھ جاننے والا صاحب حکمت ہے چناچہ ایسا ہی مقدر ہوا اور نبی کریم ﷺ نے محض اس وجہ سے دیگر ازواج کے لیے کسی قسم کی رنجیدگی کا باعث نہ ہو قسم کھالی کہ میں اب آئندہ شہد نہ پیوں گا اور جب چھپا کر کہی پیغمبر نے ایک بات اپنی ازواج میں سے کسی ایک کو اور ان سے یہ بھی کہہ دیا کہ کسی اور سے مت بتانا تاکہ کسی کو رنج نہ پہنچے لیکن پھر جب اس نے خبر کردی اس بات کی ازواج میں کسی اور کو بھی چناچہ حضرت عائشہ ؓ نے یہ بات حفصہ ؓ کو بتا دی کہ دیکھو حضور ﷺ نے شہد اپنے اوپر حرام کرلیا ہے اور اب آپ ﷺ زینب ؓ کے ہاں زیادہ دیر نہ رک سکیں گے اور اللہ نے اس پر اپنے پیغمبر کو مطلع کردیا تو اللہ کے پیغمبر نے کچھ بات بتلا دی اور کچھ سے اعراض کیا اس مصلحت سے کہ اس بیوی کو کسی قسم کا رنج یا بدگمانی نہ ہو تو جب پیغمبر نے یہ بات ظاہر کی اس بیوی سے تو اس نے پوچھا کس نے خبر دی ہے آپ کو اس بات کی کہ میں نے یہ راز کسی کو بتایا ہے، جواب دیا، بتا دیا مجھ کو اس بڑے علم رکھنے والے خبردار نے کہ جس پروردگار کے علم میں ہر چھوٹی بڑی چیز ہے، اللہ رب العزت جب کسی بات کو ظاہر کرنا چاہے تو اسے کوئی نہیں چھپا سکتا تو آنحضرت ﷺ نے حسن معاشرت اور وسعت اخلاق کے بارے میں چاہا کہ یہ شہید پینے کے معاملہ کو بھی ترک کردوں تاکہ وہ ازواج جو حضور ﷺ کے غایت تعلق کی وجہ سے آپ ﷺ کی تشریف آوری اور زیارت کے لیے بےچین رہتیں اور اگر ذرا چند لمحوں کی بھی ہوئی تو وہ دیر انکو دو بھر گذری ادھر یہ بھی چاہا کہ جو بیوی اس تعلق اور جذبہ سے آپ ﷺ کی ایک مرغوب چیز (شہد) سے تواضع کرتی تھیں ان کو اس کا علم نہ ہو کیونکہ ان کو معلوم ہونے سے یقیناً رنج پہنچے گا اس وجہ سے یہ صورت کی کہ شہد حرام کرلیا اور اس کی قسم کھانے کے بارے میں یہ بھی تاکید کردی کہ کسی کی خبر نہ کی جائے لیکن عائشہ ؓ بہرکیف عورت تھیں اور عورت کے مزاج میں ضعف ہوتا ہے تو اس کو چھپا نہ سکیں اور حفصہ ؓ کو خبر کردی ظاہر ہے کہ اس صورت حال کے پیش آنے پر ان دونوں کا قصور ظاہر ہوا تو حق تعالیٰ نے ان دونوں کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا اگر تم دونوں اللہ کی طرف تائب ہوجاؤ تو اچھا ہے کیونکہ تمہارے دل جھک پڑے تھے ان میں میلان اور ٹیڑھا پن آگیا تھا اور جادۂ اعتدال سے جھک کر ایک طرف مائل ہوچکے تھے اور اے عائشہ ؓ اور حفصہ ؓ اگر تم دونوں پیغمبر خدا پر کوئی غلبہ حاصل کرنے کا ارادہ کروگی تو پھر سمجھ لو کہ اللہ بھی ان کا مولی ہوگا اور جبریل بھی اور صالحین مومنین بھی یہ سب خدا کے پیغمبر کی مدد کے لیے ہوں گے اور یہ ہی نہیں بلکہ فرشتے بھی اس کے بعد مددگار ہوں گے، تو خدا اس طرح اپنے پیغمبر کو بےیار ومدد گار نہیں چھوڑے گا۔ اور ایسی صورت میں کہ خدا اس کے فرشتے جبریل امین (علیہ السلام) اور صالحین۔ حاشیہ (بعض مفسرین نے صالح ال مومنین کی تفسیر میں حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عمر فاروق ؓ کا نام بیان کیا ہے اور ان ناموں کا ذکر کرنا حضرت عائشہ وحضرت حفصہ ؓ کے پیش نظر نہایت ہی لطیف اور مناسب ہے، 12) مومنین مددگار ہوں تو کوئی تدبیر اور حیلہ کارگر نہیں ہوسکتا پیغمبر خدا ﷺ کی ازواج کو پیغمبر کی تکلیف اور رنج سے ڈرنا چاہئے خدا اپنے پیغمبر کو ہر قسم کی ذہنی الجھن سے پاک اور محفوظ فرمانے پر بڑا ہی قادر ہے اس وجہ سے اے ازواج رسول اللہ ﷺ سن لو بہت قریب ہے یہ بات کہ اگر یہ نبی تم کو طلاق دے دیں تو پھر ان کا رب ان کو دوسری بیویاں دے دے تمہارے بجائے جو تم سے بہتر ہوں فرمانبردار ہوں ایمان ویقین رکھنے والیاں خدا کی مطیع توبہ کرنے والی عبادت گزار روزہ دار ہوں، بیوہ ہوں اور دو شیزہ لہذا کسی کو یہ دھوکہ نہ لگے اور نہ ہی یہ تصور پیدا ہو کہ ہم سے بہتر پیغمبر کو اور کوئی نہیں مل سکتا، پیغمبر کے لیے اللہ جب کی بھی زوجیت مقرر فرمادے گا وہ اعلی سے اعلیٰ ہوگی اور اس میں ایمان ویقین اور باطنی کمالات وخوبیوں کے ساتھ جسمانی محاسن بھی پیغمبر کا رب ان میں جمع کردیگا۔ انسان کی زندگی میں ایسے گھریلو واقعات اور ناگوار خاطر امور پیش آہی جایا کرتے ہیں اس وجہ سے اے ایمان والوں تمہیں خاص تاکید کے ساتھ یہ ہدایت ہے کہ بچاؤ اپنی جانوں کو اور اپنے گھر والوں کو جہنم کی ایسی آگ سے جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہیں۔ اس کے عذاب اور گرفت سے نہ کوئی بچ سکتا ہے اور نہ نکل سکتا ہے، جس پر فرشتے سخت مزاج نہایت مضبوط نگران ہیں جو نافرمانی نہیں کرتے اللہ کے حکم کی جو بھی اللہ ان کو حکم دے اور وہی کرتے ہیں جو ان کو حکم ہوتا ہے تو جس جہنم پر ایسے فرشتے نگران ہوں گے کہ ان کو مجرموں پر نہ ترس آئے گا اور نہ وہ نرم دل ہوں گے یقیناً اس کے عذاب سے کوئی مجرم نہیں بچ سکتا اور انسان کو چاہئے کہ اپنی ذمہ داری کے ساتھ افراد خانہ اور اہل و عیال کی بھی اصلاح کی فکر میں لگا رہے اور یہ سب کام انسان دنیا کی زندگی ہی میں کرسکتا ہے یہ زندگی دارالعمل ہے اور روز آخرت دارالعمل نہیں رہے گا بلکہ وہ روز جزاء ہوگا جیسا کہ حضور ﷺ کا ارشاد مبارک ہے، یایھا الناس انکم الیوم فی دار العمل ولا حساب وانتم غدا فی دار اجزاء والا عمل “ کہ اے لوگو ! تم آج دار العمل میں ہو جہاں حساب و کتاب نہیں مگر کل آنے والے دن اس جگہ ہوگے، جہاں حساب ہی حساب ہوگا نہ کہ عمل تو ایسے ہیبت ناک دن اعلان ہوگا اے کافروں ! مت عذر پیش کرو آج کے دن اب تو بس تمہیں بدلہ دیا جائے گا ان اعمال کا جو تم کرتے تھے تو جب روز قیامت جہنم سامنے ہوگی اور اس کا دہکتا ہوا عذاب نظر آرہا ہوگا اور مجرموں پر یہ تنبیہ ہوگی کہ اب عذر اور بہانوں کی گنجائش نہیں تو بلاشبہ ایسے دن سے پہلے انسان اپنی اور اپنے گھروں کی اصلاح کرلے تو بہتر ہے اور بعض دفعہ معمولی جھگڑے بھی بڑی مصیبت کا سبب بن جاتے ہیں تو اس وجہ سے گھریلومنازعات اور باہمی رنجش کی باتوں سے بڑا ہی محتاط رہنا چاہئے اور ان سب باتوں کے لیے بنیادی چیز اپنے طبعی جذبات کو قابو میں رکھنا ہے ساتھ حلم اور درگزر بھی چاہئے جیسا کہ بیان کردہ واقعہ میں پیغمبر خدا ﷺ کے اسوۂ مبارکہ سے معلوم ہوا۔
Ayahs 66:4–7

اِنْ تَتُوْبَاۤ اِلَى اللّٰهِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوْبُكُمَا١ۚ وَ اِنْ تَظٰهَرَا عَلَیْهِ فَاِنَّ اللّٰهَ هُوَ مَوْلٰىهُ وَ جِبْرِیْلُ وَ صَالِحُ الْمُؤْمِنِیْنَ١ۚ وَ الْمَلٰٓئِكَةُ بَعْدَ ذٰلِكَ ظَهِیْرٌ Open ayah 66:4 in the Quran reader

اگر تم دونوں خدا کے آگے توبہ کرو (تو بہتر ہے کیونکہ) تمہارے دل کج ہوگئے ہیں اور اگر پیغمبر (کی ایذا) پر باہم اعانت کرو گی تو خدا اور جبرئیل اور نیک کردار مسلمان ان کے حامی (اور دوستدار) ہیں اور (انکے علاوہ اور) فرشتے بھی مددگار ہیں

عَسٰى رَبُّهٗۤ اِنْ طَلَّقَكُنَّ اَنْ یُّبْدِلَهٗۤ اَزْوَاجًا خَیْرًا مِّنْكُنَّ مُسْلِمٰتٍ مُّؤْمِنٰتٍ قٰنِتٰتٍ تٰٓئِبٰتٍ عٰبِدٰتٍ سٰٓئِحٰتٍ ثَیِّبٰتٍ وَّ اَبْكَارًا Open ayah 66:5 in the Quran reader

اگر پیغمبر تم کو طلاق دیدیں تو عجب نہیں ان کا بروردگا رتمہارے بدلے ان کو تم سے بہتر بیبیاں دیدے مسلمان صاحب ایمان ' فرنبردار ' توبہ کرنے والیاں ' عبادت گزار ' روزہ رکھنے والیاں ' بن شوہر اور کنواریاں۔

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قُوْۤا اَنْفُسَكُمْ وَ اَهْلِیْكُمْ نَارًا وَّ قُوْدُهَا النَّاسُ وَ الْحِجَارَةُ عَلَیْهَا مَلٰٓئِكَةٌ غِلَاظٌ شِدَادٌ لَّا یَعْصُوْنَ اللّٰهَ مَاۤ اَمَرَهُمْ وَ یَفْعَلُوْنَ مَا یُؤْمَرُوْنَ Open ayah 66:6 in the Quran reader

مومنو ! اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو آتش (جہنم) سے بچاو جس کا ایندھن آدمی اور پتھر ہیں اور جس پر تند خو اور سخت مزاج فرشتے (مقرر ہیں) جو ارشاد خدا انکو فرماتا ہے اس کی نافرمانی نہیں کرتے اور جو حکم ان کو ملتا ہے اسے بجا لاتے ہیں

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَا تَعْتَذِرُوا الْیَوْمَ١ؕ اِنَّمَا تُجْزَوْنَ مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 66:7 in the Quran reader

کافرو ! آج بہانے مت بناؤ جو عمل تم کیا کرتے تھے انہی کا تم کو بدلہ دیا جائے گا

خطاب خاص برائے ازواج مطہرات : (آیت) ” ان تتوبا الی اللہ “۔ کی تفسیر میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے منقول ہے فرمایا کہ میں ایک عرصہ دراز تک اس فکر میں رہا اور یہ چاہتا تھا کہ عمر فاروق ؓ سے یہ معلوم کروں کہ یہ دونوں کون ہیں آنحضرت ﷺ کی ازواج میں سے جن کو یہ خطاب فرمایا گیا کہ اگر تم دونوں اللہ کی طرف تائب ہوجاؤ تو بہتر ہے کیونکہ تمہارے دلوں میں ٹیڑھا پن پیدا ہوگیا ہے، یہاں تک کہ ایک مرتبہ جب عمر فاروق ؓ حج کے لئے تشریف لے جا رہے تھے میں بھی ان کے ہمراہ حج کے لیے روانہ ہوا۔ (اور ہمت نہ ہوتی تھی کہ دریافت کروں) ایک دن جب وہ کسی منزل پر ٹھیرے ہوئے تھے اور ایک جانب کسی ضرورت کو گئے اور جب واپس فارغ ہو کر آئے اور میں وضو کرانے لگا تو عرض کیا اے امیر ال مومنین یہ دو عورتیں کون ہیں جن کے بارے میں قرآن کریم نے فرمایا (آیت) ” ان تتوبا الی اللہ “۔ فرماتے ہیں میں نے یہ لفط منہ سے نکالا ہی تھا کہ فرمایا تعجب کی بات ہے اے بھتیجے (کہ تم کو اب تک اس کا علم نہیں) یہ تو عائشہ ؓ اور حفصہ ؓ ہیں، یہ کہہ کر پھر تفصیل سے یہ قصہ سنانا شروع کردیا کہ ہم قریش کے لوگ عورتوں پر غالب تھے جب مدینہ منورہ آئے تو یہاں کے لوگوں کو پایا کہ ان کی عورتیں ان پر غالب ہیں، تو ہماری عورتیں بھی مدینہ آکر ان کی باتیں سیکھنے اور اختیار کرنے لگیں، اور فرمایا میرا مکان عوالی مدینہ میں دار امیہ بن زید میں تھا ایک روز میں اپنی اہلیہ پر کچھ ناراض ہوا اور غصہ میں کچھ کہا تو ناگہاں میں دیکھتا ہوں کہ وہ مجھے الٹ کر جواب دے رہی ہے مجھے حیرت ہوئی اور میں نے اس کو کہا کہ اچھا تو مجھے جواب دے رہی ہے اس پر وہ کہنے لگی اے عمر ؓ تمہیں اس بارے میں کیوں تعجب ہورہا ہے کہ میں تمہیں جواب دے رہی ہوں خدا کی قسم رسول اللہ ﷺ کی ازواج تو رسول خدا سے مراجعت کررہی ہیں یہاں تک نوبت پہنچ گئی کہ رسول اللہ ﷺ ان سے ناراض ہو کر صبح سے شام تک علیحدہ بیٹھے ہوئے ہیں یہ سن کر میں فورا حفصہ ؓ کے پاس پہنچا اور کہا کیا تم رسول اللہ ﷺ سے مقابلہ کرتی ہو، انہوں نے کہا ہاں اس قسم کی بات ہے میں نے کہا کیا رسول اللہ ﷺ تم سے ناراض صبح وشام تم سے علیحدہ رہتے ہیں جاب دیا جی ہاں ! ایسا ہی ہے میں نے کہا یقیناً تم میں سے ہو ہلاک وتباہ ہوئی جس نے ایسا کیا، کیا تم اس بات سے مطمئن ہو کر خدا ناراض نہ ہوگا تم سے اپنے رسول ﷺ کے غصہ اور ناراضگی کی وجہ سے۔ تو پوری تفصیل سے قصہ نقل کرتے ہوئے آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضری دی اور گفتگو کا واقعہ بیان کیا، اہل علم صحیح بخاری ومسلم کی مراجعت فرمائیں۔ روایات میں ہے کہ مسروق (رح) نے شعبی (رح) سے بیان کیا کہ آنحضرت ﷺ سے ازواج مطہرات نے جب نفقہ کی زیادتی کا مطالبہ کیا تو ایک ماہ کے لیے ایلاء فرما لیا تھا اس پر آپ ﷺ کو کفارہ کا حکم ہوا اور آپ نے اپنی قسم کا کفارہ ادا فرمایا : وہ ایک واقعہ ازواج مطہرات کی طرف سے نفقہ کی زیادتی کی فرمائش پر تھا وہ ایک قسم تھی ازواج مطہرات سے ایک ماہ تک ملاقات نہ کرنے کہ اسی کے ساتھ یہ دوسرا واقعہ تھا جس میں شہد نہ پہینے کے لیے قسم تھی مطالبہ نفقہ پر آیت تخییر سورة احزاب کی نازل ہوئی، اور شہد کی حرمت پر یہ سورة تحریم نازل ہوئی۔ (تفصیل کیلئے کتب سیرت و تفسیر کی مراجعت فرمائی جائے) انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ عمر فاروق ؓ نے بیان کیا کہ جس وقت ازواج رسول اللہ ﷺ ایک معاملہ میں جب باہم جمع ہوگئیں حمیت و غیرت کے جذبہ میں آکر تو میں نے ان سے کہا (آیت) ” عسی ربہ ان طلقکن ان یبدلہ ازواجا خیرا منکن “۔ تو (کچھ ہی دیر بعد) یہی الفاظ قرآن کریم میں نازل ہوگئے تو یہ آیت بھی عمر فاروق ؓ کی موافقات میں سے ہے جس طرح (آیت) ” واتخذوا من مقام ابرھیم مصلی “۔ اور (آیت) ” حجاب ان کی موافقات میں سے ہے سبحان اللہ کیا مقام ہے قرآن کریم کی آیات لوح محفوظ سے اترنے سے پہلے ہی فاروق اعظم ؓ کے قلب و دماغ میں القاء کی جارہی ہیں اور ان کی زبان قبل از نزول ہی ان کا تلفظ کررہی ہیں۔
Ayahs 66:8–9

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا تُوْبُوْۤا اِلَى اللّٰهِ تَوْبَةً نَّصُوْحًا١ؕ عَسٰى رَبُّكُمْ اَنْ یُّكَفِّرَ عَنْكُمْ سَیِّاٰتِكُمْ وَ یُدْخِلَكُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ۙ یَوْمَ لَا یُخْزِی اللّٰهُ النَّبِیَّ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ١ۚ نُوْرُهُمْ یَسْعٰى بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ بِاَیْمَانِهِمْ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَاۤ اَتْمِمْ لَنَا نُوْرَنَا وَ اغْفِرْ لَنَا١ۚ اِنَّكَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 66:8 in the Quran reader

مومنو ! خدا کے آگے صاف دل سے توبہ کرو امید ہے کہ وہ تمہارے گناہ تم سے دور کر دے گا اور تم کو باغہائے بہشت میں جن کے تلے نہریں بہہ رہی ہیں داخل کرے گا۔ اس دن خدا پیغمبر کو اور ان لوگوں کو جو ان کے ساتھ ایمان لائے ہیں رسوا نہیں کریگا۔ بلکہ ان کا نور ایمان ان کے آگے اور داہنی طرف (روشنی کرتا ہوا) چل رہا ہوگا اور وہ خدا سے التجا کرینگے کہ اے ہمارے پروردگار ہمارا نور ہمارے لئے پورا کر اور ہمیں معاف فرما بیشک تو ہر چیز پر قادر ہے۔

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ جَاهِدِ الْكُفَّارَ وَ الْمُنٰفِقِیْنَ وَ اغْلُظْ عَلَیْهِمْ١ؕ وَ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ١ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ Open ayah 66:9 in the Quran reader

اے پیغمبر کافروں اور منافقوں سے لڑو اور ان پر سختی کرو ان کا ٹھکانہ دوزخ ہے اور وہ بہت بری جگہ ہے

حکم توبہ وانابت الی اللہ باخلاص قلب ووعدۂ معافی خطایاوبشارت حصول نعمتہائے جنت : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” یایھا الذین امنوا ...... الی ..... وبئس المصیر “۔ (ربط) گذشتہ آیات میں انسانی زندگی کے لیے ایسی ہدایات تھیں کہ ان پر عمل کرنے سے انسان اس قسم کی برائیوں سے محفوظ رہ سکتا ہے جو مزاجی عدم اعتدال یا گھریلو منازعات کی وجہ سے پیش آتی ہیں اب ان آیات میں اللہ کی طرف رجوع اور توبہ کا حکم ہے کہ مسلمان کو چاہئے کہ اپنی کوتاہی پر نادم وشرمندہ ہو کر خدا کی طرف رجوع کرے اور توبہ و استغفار صدق دل سے کرے اسی سے اس کی نجات و کامیابی ہے، ارشاد فرمایا۔ اے ایمان والو رجوع کرو اللہ کی طرف سچے دل سے توبہ کرتے ہوئے اپنے کیے پر نادم وشرمندہ ہوتے ہوئے اور اخلاص دل سے یہ وعدہ کرتے ہوئے کہ پھر آئندہ ایسی غلطی نہ کروں گا اور اس عقیدہ کے ساتھ کہ اللہ بڑا ہی غفور رحیم ہے اور وہ قادر مطلق ہے گناہ پر گرفت فرما سکتا ہے اور چاہے تو معاف بھی فرمانے والا ہے، امید ہے تمہارا پروردگار تمہاری برائیاں مٹا دے گا اپنے فضل وکرم سے اور داخل کرے گا تم کو ایسے باغوں میں جن کے محلات کے نیچے نہریں بیتی ہوں گی جن میں ہر قسم کی راحت اور ہر نوع کی نعمت موجود ہوگی جس دن کہ اللہ شرمندہ نہیں کرے گا اپنے پیغمبر کو اور ان لوگوں کو جو اس پیغمبر کے ساتھ ایمان لائے بلکہ بڑے ہی اعزاز واکرام بلند سے بلند تر مناصب اور مقام عطا فرمائے گا، ان اہل ایمان کا نور دوڑتا ہوگا ان کے آگے اور ان کی داہنی جانبوں میں کہتے ہوں گے، غایت فرحت و سرور سے اور اللہ کے انعامات کا شکر ادا کرتے ہوئے، اے ہمارے پروردگار پوری کردے ہمارے واسطے ہماری روشنی اور معاف کردے ہماری وہ تمام کو تاہیاں اور غلطیاں جو ہم نے تیرا حق ادا کرنے میں کیں بیشک تو ہر چیز پر پوری طرح قدرت رکھنے والا ہے ، جہاں ایک طرف ان گزشتہ واقعات میں صبر وحلم اور عفو و درگزر کی تعلیم دی گئی اسی کے ساتھ یہ بھی فرمایا جارہا ہے کہ کافروں اور منافقوں کے ساتھ ضرورت ہے کہ سختی اور قوت کا استعمال کیا جائے ان کا مجرمانہ کردار اسی کا متقاضی ہے کہ سزا اور سر کو بی کا عمل ان کے ساتھ کیا جائے، برخلاف گھریلوزندگی کے کہ اس میں نرمی اخلاق اور صبر وحلم ہی زیب دیتا ہے تو فرمایا اے نبی ﷺ جہاد کیجئے کافروں اور منافقوں سے اور ان پر سختی کیجئے اور وہ اس قابل ہی نہیں کہ ان پر نرمی کی جائے کیونکہ ان کا ٹھکانہ جہنم ہے، اور یہ بہت ہی برا ٹھکانہ ہے تو جو لوگ اللہ کے اور اس کے رسول کے دشمن ہیں اور مجرم ہیں، خدا نے انکے واسطے شدت و سختی اور عذاب جہنم طے کردیا ہے تو ظاہر ہے کہ ان کے ساتھ نرمی برتنے کا کوئی مطلب نہیں وہ بلاشبہ اسی کے مستحق ہیں کہ ان پر سختی کی جائے اور جہاد کے ذریعے سرکوبی ہو، کیونکہ ان کے کفر ونافرمانی سے عالم کا امن تباہ ہوگا اور ایسے مفسدوں اور فتنہ انگیزوں کی سرکوبی ہی عالم کے لئے امن و عافیت کا موجب ہے تو پیغمبر ﷺ خدا کی ایسے مجرموں کے ساتھ یہ سختی بھی دنیا میں بسنے والے انسانوں کے واسطے رحمت ومہربانی ہوگی۔ توبۃ نصوحا کی تفسیر : حافظ ابن جریر (رح) نے نعمان بن بشیر ؓ سے روایت کیا ہے فرماتے تھے کہ میں نے حضرت عمر بن الخطاب ؓ کو خطبہ دیتے ہوئے سنا فرما رہے تھے (آیت) ” یایھا الذین امنوا توبوا الی اللہ توبۃ نصوحا “۔ کہ توبہ نصوح یہ ہے کہ انسان گناہ کرلے تو اس سے تائب ہو اور اس طرح کہ پھر وہ گناہ دوبارہ نہ کرے، سفیان ثوری (رح) فرماتے ہیں کہ اس عزم اور ارادہ کے ساتھ توبہ کرے کہ پھر یہ گناہ نہیں کرے گا اس طرح کبار تابعین وائمہ سے منقول ہے اور ظاہر ہے کہ یہ عزم اور پختہ ارادہ اسی وقت ہوسکتا ہے جب انسان کو کئے ہوئے گناہ پر ندامت ہو اسی وجہ سے بعض روایات میں ہے۔ (آیت) ” التوبۃ “۔ الندم “ کہ توبہ ندامت کا نام ہے۔ حسن بصری (رح) فرمایا کرتے تھے توبۃ نصوح یہ ہے کہ تم گناہ سے توبہ کے بعد گناہ سے اتنی ہی نفرت کرنے لگو جس قدر تم کو اس سے پہلے اس گناہ کی رغبت تھی اور جب اس گناہ کا خیال آئے اس سے بارگاہ خداوندی میں استغفار کرو، احادیث صحیحہ میں ہے توبہ انسان کے گناہوں کو اس طرح مٹاتی ہے جس طرح کہ اسلام اس سے قبل کے گناہوں اور خطاؤں کو مٹاتا ہے، احادیث میں سیدالاستغفار کے کلمات اسی حقیقت کو واضح کررہے ہیں، بندہ حق تعالیٰ کی ربوبیت کا اقرار واعتراف کرتے ہوئے ایک طرف اس کے انعامات کا تصور کرے دوسری طرف اپنی خطاؤں اور تقصیرات کو دیکھے یقیناً اس پر ایک ندامت و شرمندگی کی کیفیت قلب میں پیدا ہوگی، اس ندامت کے ساتھ اپنے گناہوں کی معافی طلب کرنا اور آئندہ کے لیے اپنے رب سے عہد کرنا کہ پھر آئندہ ...... میں حتی الامکان اس طرح کی غلطی نہ کروں گا اور اس پر خدا سے مدد مانگے اور اپنی ہمت و کوشش اسی پر صرف کرے تو انشاء اللہ یہ توبہ نصوح ہوگی اور امید ہے اس پر وہی ثمرات مرتب ہوں گے جن کا وعدہ حق تعالیٰ شانہ نے فرمایا (آیت) ” وما ذلک علی اللہ بعزیز، ربنا علیک توکلنا والیک انبنا والیک المصیر، ربنا اغفرلنا ذنوبنا وکفر عنا سیئاتنا وتوفنا مع الابرار۔ میدان حشر میں اہل ایمان کا نور : (آیت) ” نورھم یسعے بین ایدیھم “۔ یہ اہل ایمان کے نور کا بیان ہے جو قیامت کے روز پل صراط پر بھی ہوگا ان کے آگے اور ان کے دائیں جانب یہ نور دراصل اسی نور کا ثمرہ ہوگا، جو روز عہد الست اولاد آدم جب حضرت آدم (علیہ السلام) کی پشت سے نکالی گئی تو ان پر اللہ نے اپنا نور ڈالا جس کسی کو وہاں وہ نور پہنچ گیا دنیا میں اس کو نور ہدایت حاصل ہوا، اسی نور کو ان الفاظ میں تعبیر فرمایا گیا۔ (آیت) ” اللہ ولی الذین امنوا یخرجھم من الظلمت الی النور “۔ اور یہی وہ حقیقت ہے جس کو فرمایا گیا۔ (آیت) ” افمن شرح اللہ صدرہ للاسلام فھو علی نور من ربہ “۔ یہی نور مومن کی قبر میں ہوگا اور پھر یہی نور میدان حشر میں اس کے ساتھ ہوگا جس کو اس آیت مبارکہ میں بیان فرمایا گیا گویا بدء تخلیق سے لے کر عالم حشر تک نور ہدایت کا سلسلہ اس طرح مربوط ہے حضرت ابوالدرداء ؓ بیان فرماتے ہیں آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا۔ انا اول من یؤذن لہ بالسجود یوم القیمۃ واول من یوزن لہ برفع راسہ فانظر بین یدی فاعرف امتی بین الامم وانظر عن یمینی فاعرف امتی بین الامم، وانظر عن شمال فاعرف امتی من بین الامم فقال رجل یارسول اللہ کیف تعرف امتک من بین الامم قال غر محجلون من اثار الوضوء ولا یکون احد من الامم کذلک غیرھم واعرفھم یوتون کتبھم بایمانھم واعرفھم سیماھم فی وجوھھم من اثر السجود واعرفھم بنورھم یسعی بین ایدیھم۔ اللہم اجعلنا منھم بفضلک وکرمک یا اکرم الاکرمین وارزقنا شفاعۃ حبیبک ونبیک سید الانبیاء والمرسلین سیدنا ومولینا محمد والیہ و اصحابہ اجمعین “۔ کہ قیامت کے روز میں ہی سب سے پہلا وہ شخص ہوں گا جس کو سجدہ کا اجازت دی جائیگی اور میں ہی وہ پہلا شخص ہوگا جس کو سجدہ سے سرا ٹھانے کی اجازت دی جائے گی تو پھر میں دیکھوں گا اپنے سامنے تو اپنی امت کو پہچانوں گا دوسری تمام امتوں کے دمیان، پھر دائیں طرف دیکھوں گا تو بھی تمام امتوں کے درمیان اپنی امت کو پہچان لوں گا پھر اپنے بائیں جانب دیکھوں گا تب بھی اپنی امت کو دوسری تمام امتوں کے درمیان پہچان لوں گا تو ایک شخص نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ آپ کس طرح تمام امتوں کے درمیان پہچانیں گے آپ ﷺ نے فرمایا میری امت کے لوگ روشن پیشانیوں اور سفید قدم والے ہوں گے وضو کے آثار سے، اس قسم کی شان کسی بھی قوم کی نہ ہوگی تمام امتوں میں سے اور میں ان کو اس طرح بھی پہچانوں گا کہ ان کے دائیں ہاتھ میں ان کے نامہ ہائے اعمال دیئے جائیں گے اور اسطرح بھی پہچانوں گا کر انکی پیشانیوں پر سجدوں کے نشان ہو نگے اور میں ان کو اس طرح بھی پہچانوں گا کہ ان کا نور ان کے آگے آگے ہوگا۔
Ayahs 66:10–12

ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوا امْرَاَتَ نُوْحٍ وَّ امْرَاَتَ لُوْطٍ١ؕ كَانَتَا تَحْتَ عَبْدَیْنِ مِنْ عِبَادِنَا صَالِحَیْنِ فَخَانَتٰهُمَا فَلَمْ یُغْنِیَا عَنْهُمَا مِنَ اللّٰهِ شَیْئًا وَّ قِیْلَ ادْخُلَا النَّارَ مَعَ الدّٰخِلِیْنَ Open ayah 66:10 in the Quran reader

خدا نے کافروں کے لئے نوح کی بیوی اور لوط کی بیوی کی مثال بیان فرمائی ہے۔ دونوں ہمارے دو نیک بندوں کے گھر میں تھیں اور دونوں نے انکی خیانت کی تو وہ خدا کے مقابلے میں ان عورتوں کے کچھ بھی کام نہ آئے اور ان کو حکم دیا گیا کہ اور داخل ہونیوالوں کے ساتھ تم بھی دوزخ میں داخل ہوجاؤ

وَ ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوا امْرَاَتَ فِرْعَوْنَ١ۘ اِذْ قَالَتْ رَبِّ ابْنِ لِیْ عِنْدَكَ بَیْتًا فِی الْجَنَّةِ وَ نَجِّنِیْ مِنْ فِرْعَوْنَ وَ عَمَلِهٖ وَ نَجِّنِیْ مِنَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَۙ Open ayah 66:11 in the Quran reader

اور مومنوں کے لئے (ایک) مثال (تو) فرعون کی بیوی کی بیان فرمائی کہ اس نے خدا سے التجا کی کہ اے میرے پروردگار میرے لئے بہشت میں اپنے پاس ایک گھر بنا اور مجھے فرعون اور اس کے اعمال سے نجات بخش اور ظالم لوگوں کے ہاتھ سے مجھ کو مخلصی عطا فرما۔

وَ مَرْیَمَ ابْنَتَ عِمْرٰنَ الَّتِیْۤ اَحْصَنَتْ فَرْجَهَا فَنَفَخْنَا فِیْهِ مِنْ رُّوْحِنَا وَ صَدَّقَتْ بِكَلِمٰتِ رَبِّهَا وَ كُتُبِهٖ وَ كَانَتْ مِنَ الْقٰنِتِیْنَ۠ Open ayah 66:12 in the Quran reader

اور (دوسری) عمران کی بیٹی مریم کی جنہوں نے اپنی شرمگاہ کو محفوظ رکھا تو ہم نے اس میں اپنی روح پھونک دی اور وہ اپنے پروردگار کے کلام اور اس کی کتابوں کو برحق سمجھتی تھیں اور فرماں برداروں میں سے تھیں۔

نمونہ ایمان وکفر وہدایت وشقاوت برائے خواتین عالم : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” ضرب اللہ مثلا ......... الی ........... وکانت من القنتین “۔ (ربط) گزشتہ آیات میں تو بہ کا حکم اور قلب کی تطہیر و پاکی کا بیان تھا اور یہ کہ اللہ رب العزت اپنے پیغمبر اور ان کے ساتھ ہوجانے والوں کو قیامت کے روز ذلت اور شرمندگی سے بچائے گا، اب ان آیات میں یہ ظاہر فرمایا جارہا ہے کہ پیغمبر خدا کے ساتھ وہ نسبت جو آخرت میں کام آتی ہے وہ اس کے ساتھ ایمانی رشتہ ہے، اسی رشتہ پر نجات آخرت کا ثمرہ مرتب ہوتا ہے اگر اللہ کے پیغمبر پر ایمان نہ ہو تو کوئی بھی قرابت اور رشتہ کام نہیں آتا، اس مضمون کو ثابت کرنے کے لئے ایک طرف حضرت نوح (علیہ السلام) اور حضرت لوط (علیہ السلام) کی بیویوں کا ذکر ہے دوسری طرف امراءۃ فرعون اور ساتھ ہی حضرت مریم (علیہ السلام) کا بھی ذکر ہے اصل تقابل تو امرأۃ نوح ولوط کے ساتھ فرعون کی بیوی کا تھا لیکن ایمانی معرفت اور استقامت وتقوی کے وصف میں شریک ہونے کے باعث مریم بنت عمران کا ایمانی شرف اور فضل و کمال بھی بیان کردیا اور ان دونوں کو بحیثیت نمونہ ایمان وہدایت ہونے کے پیش کیا گیا، اور ان دونوں نمونوں کو بیان کرکے اسی حقیقت پر آگاہ کرنا ہے فرمایا۔ مقرر کردیا ہے اللہ نے مثال اور نمونہ کافروں کے لیے نوح کی بیوی اور لوط کی بیوی کو جو زوجیت میں تھیں دو بندوں کی ہمارے نیک بندوں میں سے بجائے اس کے کہ وہ دونوں اللہ کے ان نیک بندوں اور صالح بندوں اور پیغمبروں پر ایمان لائیں، انہوں نے ان دونوں سے خیانت کی تو یہ دونوں ان عورتوں کو اللہ کے عذاب سے بچانے کے لیے کچھ کام نہ آئے اور کہہ دیا گیا ان کو داخل ہوجاؤ تم آگ میں انہیں لوگوں کے ساتھ جو جہنم میں داخل ہونے والے حالانکہ یہ دونوں بیویاں تھیں مگر چونکہ ایمان کے رشتہ اور تعلق سے محروم تھیں تو یہ نسبی۔ 1 حاشیہ (مقصد یہ کہ پیغمبروں کے ساتھ یہ رشتہ بھی ایمان کے بغیر بیکار رہا، حضرت شاہ صاحب (رح) اپنے فوائد میں فرماتے ہیں یعنی ” اپنا ایمان درست کرو نہ خاوند بچاسکے نہ جو رو یہ قانون سب کو سنا دیا “۔ بہرحال حضرت نوح (علیہ السلام) اور لوط (علیہ السلام) کی بیویوں کو جو منافق تھیں جہنم میں دھکیل دیا گیا ان کے برعکس فرعون کی بیوی آسیہ بنت مزاحم (علیہ السلام) پکی ایماندار عورت اور ولی کامل تھی اور اس کا شوہر فرعون تھا مگر ایمان کی بدولت جنت کی بشارت دنیا ہی میں انکو مل گئی، 12) رشتہ اور علاقہ کچھ کام نہ آیا اور اس نفاق کی بدولت عام کفار کے ساتھ جہنم میں دھکیل دی گئیں۔ اور اس کے بالمقابل ایک نمونہ ایمان والی عورتوں کا ہے جس کو اللہ نے مثال بنادیا ہے ایمان والوں کے واسطے فرعون کی بیوی۔ 2 حاشیہ 2 (روایات سے یہ ثابت ہے کہ فرعون کی یہ بیوی وہ تھی جس نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی پرورش کی جب کہ ان کو دریا میں بہتے ہوئے تابوت سے نکالا گیا جس کی تفصیل سورة قصص میں گذر چکی، فرعون کو جب یہ معلوم ہوا کہ یہ ایمان لے آئیں تو طرح طرح سے ستانا شروع کیا، ایسی ایذائیں دیں کہ انسان تصور بھی نہیں کرسکتا، مثلا چومیخا کردینا، آخر فرعون نے ان کو قتل کرڈالا، آنحضرت ﷺ نے کے کامل الایمان ہونے کی شہادت دی ، نیز حضرت مریم (علیہ السلام) کا واقعہ تفصیل کے ساتھ سورة آل عمران اور سورة مریم میں گزر چکا انکی عفت و پاکدامنی اور ایمان وتقوی پر مشتمل آیات کی تفسیر گزر چکی ہے۔ 12) کو جب کہ اس نے اپنے پر ورگار سے التجا کرتے ہوئے کہا اے میرے پروردگار بنا دے میرے واسطے ایک گھر اپنے پاس بہشت میں اور نجات دیدے مجھ کو فرعون سے اور اس کے عمل کفر سے اور نجات دے مجھے ظالم قوم سے جس وقت کہ فرعون کو ان کے ایمان کا علم ہوا تو سخت ترین عذاب دینا شروع کیا چاروں ہاتھوں پاؤں میں میخیں ٹھونک کر ایذائیں دیں اس حالت کرب میں کمال استقامت پر ایمان پر قائم رہتے ہوئے اپنے رب سے آخرت کی نعمتیں مانگتی رہیں، اور مثال بنادیا ہے اللہ نے مریم عمران کی بیٹی کو جس نے پاک رکھا اپنی شہوت کی جگہ کو بغیر اس کے کہ کوئی بشر اس کو چھوئے، پھر ہم نے فرشتہ کے ذریعے پھونکا اس میں اپنی روح میں سے ایک روح کو اور سچائی تسلیم کی اس نے اپنے رب کے کلمات کی اور اس کی کتابوں کی اور وہ تھی عبادت گزار بندیوں میں سے تو اس طرح یہ دو عورتیں دنیا میں ایماندار عورتوں کے واسطے نمونہ ہیں، ان کے ایمان وتقوی کو دنیا کے سامنے مثال بنا کر پیش کیا جاسکتا ہے اور دنیا کی عورتوں کو دعوت دی جاسکتی ہے کہ تم مریم بنت عمران اور آسیہ امرأۃ فرعون جیسا ایمان وتقوی اور پختگی اختیار کرو اور یہ بھی ظاہر ہے کہ فرعون کی بیوی اگرچہ ظاہری رشتہ میں اس کی بیوی تھی لیکن جب وہ ایمان لے آئی تو اب اس کا کوئی تعلق فرعون سے نہ رہا اور فرعون کے کفر وسرکشی کے آثار ونتائج سے اس پر کوئی ثمرہ عذاب کا تو کیا مرتب ہوتا اس کو بحالت زندگی ہی جنت کی بشارت دی گئی اور جنت کا وہ محلا دکھا دیا گیا جو اس کے واسطے اللہ نے مخصوص فرمایا تھا تاکہ اس محل کو اور آخرت کی راحتوں کو دیکھ کر سب سختیاں آسان ہوجائیں۔ آسیہ (علیہ السلام) امرأۃ فرعون کے ایمان کا واقعہ : حافظ ابن کثیر (رح) نے اپنی تفسیر میں فرعون کی بیوی کے ایمان بیان کرتے ہوئے ابوالعالیہ (رح) کی ایک روایت بیان کی ہے بیان کیا کہ اس کا ایمان لانا اس کے محل کی ایک نگران یا خازن کی عورت کی وجہ سے ہوا کہ وہ ایک روز بیٹھی فرعون کی ایک بیٹی کے سر میں کنگھا کررہی کہ ہاتھ سے کنگھا گرگیا تو وہ بولی تعس من کفرباللہ یعنی ہلاک ہو وہ جو اللہ کا کفر کرے، فرعون کی بیٹی یہ سن کر بولی اور کیا کوئی رب ہے، میرے باپ کے علاوہ ؟ اس نے جواب دیا، ہاں، وہ میرا رب ہے، اور تیرے باپ کا بھی رب ہے اور کائنات کی ہر چیز کا رب ہے، اور میں تو صرف اسی کی عبادت کرتی ہوں اس پر فرعون کی بیٹی نے اس باندی کے منہ پر چپت مارا اور اپنے باپ فرعون کو اس کی خبر کی، فرعون نے اس کو بلایا اور کہا کیا تو میرے سوا کسی کی عبادت کرتی ہے جواب دیا ہاں ! میں عبادت کرتی ہوں اپنے رب کی اور تیرے بھی رب کی اور ہر چیز کے رب کی اور میں تو صرف اسی کی عبادت کروں گی فرعون نے اس کو طرح طرح کے عذاب دینے شروع کئے حتی کہ اس کے ہاتھ پاؤں میں میخیں ٹھونکیں اس پر سانپ بھی چھوڑے، غرض طرح طرح سے ستایا اسی طرح ایذاؤں کا سلسلہ جاری رکھا، یہاں تک کہ فرعون نے ایک روز آک راس کو دھمکی دی اور کہا کیا تو باز نہیں آئے گی اس نے جواب دیا، ربی وربک ورب کل شیء اللہ “۔ (کہ میرا رب اور تیرا رب اور ہر چیز کا رب صرف اللہ ہی ہے) فرعون نے کہا میں تیرا بچہ تیرے منہ میں ذبح کروں گا اگر تو باز نہ آئی اس پر باندی نے جواب دیا (آیت) ” فاقض ما انت قاض “۔ کہ کر گزر جو کچھ بھی تو کرسکتا ہے۔ فرعون نے اس کا بیٹا اس کے منہ میں ذبح کرڈالا حتی کہ خود خازن کی بیوی کو بھی شہید کردیا۔ اسی طرح فرعون کی بیوی ایمان لے آئی اور فرعون جس قدر ستاتا، ایذائیں پہنچاتا ان کے ایمان میں اور اضافہ ہوتا اس حالت میں جب کہ فرعون کی ایذائیں حد سے بڑھ چکی تھیں تو آسیہ (علیہ السلام) کی زبان پر یہ کلمات جاری ہوئے (آیت) ” رب ابن لی عندک بیتا فی الجنۃ ونجنی من فرعون وعملہ ونجنی من القوم الظالمین “۔ بیان کیا جاتا ہے کہ جس وقت فرعون ان کے ہاتھ اور پاؤں میں میخیں پیوست کررہا تھا اللہ رب العزت نے آسیہ (علیہ السلام) کا وہ محل جو جنت میں ان کے واسطے تھا وہ ظاہر کردیا جس کو دیکھتے ہی فرط مسرت سے ہنسنے لگیں اس پر کمبخت فرعون کہنے لگا ! دیکھو یہ کیسی دیوانی عورت ہے میں اس کو عذاب دے رہا ہوں اور یہ ہنس رہی ہے ابوالعالیہ (رح) بیان کرتے ہیں اللہ نے انکی روح اس طرح قبض کی کہ وہ جنت میں تھیں، ؓ ۔ مرۃ الہمدانی (رح) ابوموسی اشعری ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا۔ کمل من الرجال کثیر ولم یکمل من النساء الا اسیۃ امرأۃ فرعون ومریم ابنۃ عمران وخدیجۃ بنت خویلد۔ کہ مردوں میں سے تو بہت سے لوگ باکمال ہوئے لیکن عورتوں میں کمال اور ایمانی عظمت حاصل کرنے والی صرف آسیہ فرعون کی بیوی اور مریم بنت عمران اور ام ال مومنین حضرت خدیجہ بنت خویلد کرام ؓ اجمعی نہیں۔ وللہ الحمد والمنۃ قدتم تفسیر سورة التحریم۔ الحمد للہ اٹھائیسواں پارہ مکمل ہوا :