Ayahs 65:1–3احکام طلاق وعدت نفیقہ وسکنی وتاکید تقوی وتنبیہ برتجاوز از حدود خداوندی :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” یایھا النبی اذا طلقتم النسآء ....... الی ....... لکل شیء قدرا “۔
(ربط) گزشتہ چند سورتوں میں عقائد و ایمانیات کا ذکر تھا، اللہ رب العزت کی عظمت و پاکی بیان کی گئی اور اس کی ذات وصفات کا مختلف اسلوبوں سے تعارف کرایا گیا جس کے ساتھ کچھ احکام عبادات سے بھی متعلق بیان کیئے گئے تو اب اس سورت میں معاملات ومعاشرت کے بعض اہم اصول و احکام ذکر فرمائے جارہے ہیں، اور اس میں شبہ نہیں کہ خاندانی منازعت اور جھگڑے بسا اوقات طلاق کی نوبت تک پہنچ جاتے ہیں اور اس طرح کی خصومت اور جھگڑے انسان کے دین اور ایمان کو تباہ وبرباد کردینے والی چیز ہیں اس بناء پر بالخصوص اس سورة مبارکہ میں احکام طلاق وعدت اہمیت سے بیان کئے گئے تاکہ معاشرہ ان برائیوں سے پاک رہے فرمایا۔
اے ہمارے نبی ﷺ ! جب تم اور تمہاری امت کے لوگ طلاق دو اپنی عورتوں کو تو طلاق دیا کرو انکو۔ 1
حاشیہ 1 (عدت طلاق کا عنوان دو معنی پر مشتمل ہے ایک طلاق دینے کا وقت یعنی جس وقت اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے طلاق دینے کی اجازت دی ہے نہ کہ ایسا وقت کہ اس میں طلاق دینے سے منع کیا گیا اور وہ زمانہ حیض ہے کہ کوئی شخص اپنی بیوی کو ایام حیض میں طلاق دے، ایام حیض میں طلاق دینا خلاف سنت اور معصیت ہے (جس کی تفصیل فقہ کی کتابوں میں ہے ایام طہر میں طلاق دینے کا زمانہ اس وجہ سے متعین کیا گیا کہ یہ ظاہر ہوجائے کہ واقعۃ طلاق مجبوری ہی کی بناء پر دی گئی یہ نہیں کہ کوئی وقتی جذبہ مثلا ایام حیض کا ہونا اس میں دخیل ومؤثر ہے، یہ تو عدت کا مفہوم ہوا طلاق دینے کے لحاظ سے دوسرا مفہوم عدت کا وہ زمانہ عدت ہے جس کو سورة بقرہ میں بیان فرمایا گیا (آیت) ” والمطلقات یتربصن بانفسھن ثلثۃ قروء ٓ “۔ وہ عدت طلاق حضرات حنفیہ کے نزدیک تین حیض ہیں تو اس صورت میں ان تین حیضوں یعنی عدت طلاق کا احصاء (احاطہ و تحفظ) اسی صورت سے ہوسکتا ہے کہ حیض سے پہلے طہر میں طلاق دی جائے تب ہی تو وہ پورا شمار ہوسکتا ہے ورنہ اگر حیض میں طلاق دی گئی تو تین حیض کی تحدید واحصاء ممکن نہ ہوسکے گا، کیونکہ اگر اس حیض کو بھی شمار کیا گیا تو لامحالہ تین مکمل حیض سے کم زمانہ رہ جائے گا اور اگر اس کے علاوہ تین حیض مزید شمار کیے گئے تو یقیناً عدت تین حیض سے زیادہ ہوجائیگی تو اس طرح عدت کی حفاظت صرف اسی صورت سے ہوگی کہ طلاق طہر میں دی جائے اور یہی طلاق سنی ہے تو (آیت) ” فطلقوھن لعدتھن “ میں اگر لام کو ظرفیت پر محمول کرو تو ترجمہ یہ ہوگا “ طلاق دو ان عورتوں کو طلاق دینے کے وقت اور اگر لام کو اجلیہ یعنی بیان وجہ کے معنی پر محمول کرو تو ترجمہ اس طرح کیا جائے گا طلاق دو ان عورتوں کو (طہر میں) عدت میں احاطہ اور اس کے شمار کی وجہ سے (تاکہ وہ پورے تین حیض ہوسکیں)
شریعت کے نزدیک طلاق انتہائی مبغوض اور قابل نفرت چیز ہے اس وجہ سے اس پر حدود اور قیود ایسی نازل کی گئیں کہ حتے الامکان اس کی نوبت نہ آسکے۔
احادیث میں ہے کہ ابلیس اپنا تخت پانی پر بچھاتا ہے اور اپنی ذریت کو دنیا کے گمراہ کرنے کے لیے بھیجتا ہے، جب اس کی ذریت دنیا کو مختلف طریقوں سے گمراہ کرکے واپس آتی ہے اور ہر ایک ابلیس اعظم کو اپنی رپورٹ پیش کرتا ہے تو ہر ایک کی کاروائی سن کر ابلیس کوئی خاص خوشی کا اظہار نہیں کرتا، اخیر میں ایک شطونگڑا جو اپنے بارے میں یہ سمجھ کر ایک کنارہ پر تھا کہ میں نے کوئی خاص کام انجام نہیں دیا نہ چوری کرائی نہ قتل وبدکاری جب اس نے اخیر میں یہ کہا کہ میں ایک عورت اور مرد کے درمیان پڑگیا ان میں لڑائی کرائی حتے کہ طلاق تک نوبت پہنچا دی تو اس سے فارغ ہو کر اب آیا ہوں تو آنحضرت ﷺ نے فرمایا ابلیس اعظم اس شیطان کو فرط مسرت سے اپنے ساتھ چمٹا لے گا اور کہے گا ” نعم انت “ کہ تو بہت اچھا ہے یا اگر اس لفظ کو ’ نعم انت پڑھیں تو معنی یہ کہ ہاں بس شیطان تو ہی ہے۔ 12)
ان کی عدت پر اور اس وقت پر جو طلاق دینے کا وقت متعین کیا گیا ہے اور احاطہ کرو عدت کا، اس کی حفاظت کرتے ہوئے اور اس کو مکمل طور پر گنتی میں پورا کرتے ہوئے۔
اور اسے مسلما نو ! ڈرو اللہ سے جو تمہارا پروردگار ہے طلاق دینے میں اور عدت کے معاملہ میں اس لیے نہ تو حیض میں طلاق دو اور نہ تین طلاقیں بیک وقت دو اللہ سے ڈرتے ہوئے احکام شریعت کی پابندی کرو اور نہ نکالو تم ان مطلقہ عورتوں کو اپنے گھروں سے کہ ان پر زیادتی کرو یا ان کے نان ونفقہ کی تکمیل نہ کرو جس کے باعث وہ گھروں سے نکلنے پر مجبور ہوں اور ظاہر ہے کہ ان کے گھر خاوند ہی کے گھر ہیں اور عدت چونکہ احکام نکاح سے متعلق ایک حکم ہے اسی وجہ سے زمانہ عدت میں عورت دوسرا نکاح نہیں کرسکتی اور نہیں نکلیں گی یہ عورتیں اپنے گھروں سے مگر یہ کہ یہ ارتکاب کریں گی ایک کھلی بےحیائی کا، کیونکہ ایام عدت میں عورت پر لازم ہے کہ گھر ہی میں رہے لہذا اس کا باہر نکلنا خدا کے صریح حکم کی نافرمانی کرنا ہوگا، جو ایک کھلی ہوئی بےحیائی ہے، اور یہ بھی ہے کہ سکنی محض حق العبد نہیں کہ جس طرح انسان اپنی مرضی سے اپنے حقوق ساقط کرسکتا ہے قرضہ معاف کرسکتا ہے اسی طرح کوئی عورت اپنی مرضی سے یہ سمجھے کہ میرے واسطے گنجائش ہے کہ میں اپنا حق ساقط کردوں نہیں بلکہ یہ حق اللہ ہی کا ہے اور اس کو نظر انداز کردینا بلاشبہ اللہ کی معصیت ونافرمانی بھی ہے۔ 1
حاشیہ (یہ ترجمہ اور توضیح قاضی ابوبکر جصاص (رح) کی تحقیق کی مطابق ہے بعض مفسرین اس لفظ فاحشہ کو بدکاری وغیرہ جیسے معنی پر محمول کرکے یہ تاویل کرتے ہیں کہ باعتبارامکان یہ کہا گیا کہ ممکن ہے کہ باہر کی آمد ورفت اگر آزاد ہو اور ادھر یہ کہ خاوند موجود نہیں مطلقہ ہوچکی ہے تو اس امر کا امکان ہے تو یأتین کا ذکر محض امکان واحتمال کی تقدیر پر ہے لیکن اس معنی پر محمول کرنا تکلف سے خالی نہیں اسی وجہ سے پہلے ہی مفہوم کو ترجمہ کے توضیحی کلمات میں متعین کردیا گیا بعض مفسرین کی رائے ہے کہ (آیت) ” الا ان یاتین بفاحشۃ مبینۃ “۔ کا استثناء (آیت) ” ولا یخرجن “۔ کے مضمون سے ہے اور فاحشہ سے عرفی فاحشہ مراد نہیں بلکہ بدزبانی، مزاج کی تیزی اور لڑائی جھگڑا مراد ہے جیسا کہ بعض عورتوں کا مزاج ہوتا ہے تو اس تقدیر پر معنی یہ ہوں گے وہ عورتیں گھروں سے باہر نہ نکلیں بلکہ ان کا یہ استحقاق ہوگا اور ان کے لیے یہ ضروری ہوگا کہ وہ اپنے خاوند ہی کے گھر میں عدت گزاری ہاں البتہ اگر وہ بدکلامی اور بدمزاجی کا ارتکاب کریں اور لڑائی جھگرا کرنے لگیں تو پھر ان کے واسطے سکنی اور ایام عدت میں رہائش کا مسئلہ زوج کے ذمہ ضروری نہ رے گا یہ تو اسی صورت میں ہے کہ مطلقہ عورت کوئی لڑائی جھگڑا یا بدکلامی اور بداخلاقی کی مرتکب نہ ہوں تو اب، اتیان بفاحشۃ “ کی ہی صورت ہوگی، 12)
اور یہ اللہ کی مقرر کی ہوئی حدود ہیں جن کی پابندی لازم ہے اور جو شخص اللہ کی باندھی ہوئی حدوں سے آگے بڑھا تو بیشک اس نے اپنے اوپر بڑا ہی ظلم کیا وہ نہیں جانتا۔ 2
حاشیہ 2 (لاتدری کو صیغہ مخاطب پر محمول کرنا مناسب نہیں بلکہ لاتدری کی ضمیر نفس کی طرف راجع ہے اور مراد یہ ہے کہ کوئی بھی ظالم نفس نہیں جانتا ہے کہ اس کے بعد اس کے واسطے کیا صورت ظاہر ہونے والی ہے یہ تو قضا وقدرت کا طے کردہ نظام ہے، تفسیر معالم التننزیل اور تفسیر خازن میں ”۔ لعل اللہ یحدث بعد ذلک امر ا “۔ کی تفسیر میں یہ بیان کیا۔ ای لووقع فی قلب الزوج مراجع تھا بعد الطلقۃ والطلقتین وھذا یدل علی ان المستحب ان یفرق الطلاق الثلث ولا یوقع الثلث دفعۃ واحدۃ حتی اذا نادم امکنہ المراجعۃ، یعنی اس کے بعد اللہ کی طرف سے کسی امر کے پیدا ہونے کی توقع کی صورت یہ ہے کہ اللہ اس کے دل میں اپنی مطلقہ بیوی سے رجوع کا خیال ڈال دے جب کہ وہ ایک یا دو طلاق دے چکا ہے اور یہ بات اس چیز پر دلالت کرتی ہے کہ مستحب یہی ہے کہ تین طلاقیں ایک دفعہ نہ دی جائیں بلکہ ان کو متفرق اوقات میں ایک ایک کرکے دیا جائے، تاکہ وقتی جذبات کے دور ہونے پر اگر وہ نادم ہو تو رجوع کرنا ممکن رہے۔
امام بغوی (رح) کی اس تفسیر سے اور قرآن کریم کے الفاظ کی صریح دلالت سے یہ ظاہر ہوا کہ تین طلاقیں دینے سئے تین واقع ہوتی ہیں۔ اگر تین طلاقیں دینے سے ایک ہی واقع ہوتی تو طلاق رجعی کی طرح اس سے بھی رجوع ہوجاتا اور اس صورت میں ندامت اور پچھتانے کا کوئی مسئلہ نہ پیدا ہوتا بہرکیف تین طلاقوں کے بعد کا قطعی طور پر شوہر پر حرام ہوجانا ایک اجماعی مسئلہ ہے جس پر کل صحابہ اور ائمہ تابعین کا اتفاق ہے اور یہ کہ جب تک کسی اور سے نکاح کر کے مطلقہ نہ ہوجائے یا ایسی صورت ہو کہ اس مطلقہ ثلثہ نے جب شخص سے نکاح کیا اس کی وفات ہوجائے تو پھر عدت کے بعد پہلے خاوند سے دوبارہ نکاح کرسکتی ہے جیسا کہ احادیث میں اس کی تصریح ہے اور اس کی کی تفصیل سورة بقرہ میں گزر چکی۔ 12)
جبکہ وہ کسی داعیہ اور تقاضہ کے باعث اللہ کی حدوں سے آگے بڑھ رہا ہے شاید اللہ اس کے واسطے اس طلاق دے دینے کے بعد کوئی اور صورت پیدا کردے اس لیے یہ بات درست نہیں کہ حدود خداوندی کی خلاف ورزی کرے بلکہ اس کو چاہئے کہ احکام شریعت کی اتباع کرے خواہ اس میں کسی بھی قسم کی تکلیف کا وقتی طور پر سامنا کرنا پڑے اور اس کے ساتھ انتظار کرے اللہ کی طرف سے پیدا ہونے والی کسی اور صورت کا پھر جب وہ عورتیں پہنچ جائیں اپنی مدت کو ایام عدت پورے ہوجانے کی وجہ سے تو رکھ لو ان کو بھلے طریقہ سے اگر طلاق رجعی ہونے کی صورت میں ان سے رجوع کرنا چاہتے ہو۔ یا ان کو چھوڑ دو بہتر طریقہ سے کہ نہ روکنے میں ستانے کی صورت ہو اور نہ چھوڑنے میں ظلم وتعدی ہو اور گواہ بنالیا کرو و عادل شخصوں کو اپنے میں سے تاکہ کسی قسم کی تہمت یازیادتی کا امکان نہ رہے، رجوع کرنا ہو تو اس پر گواہ بنالو جس کے بعد اس مطلقہ رجعیہ کو رکھنے پر کوئی شخص معترج نہ ہو اور اگر بائنہ کردیا تو اس پر گواہ بنالو تاکہ عورت عدت کے بعد جب دوسرا نکاح کرنا چاہے تو کوئی رکاوٹ نہ پیش آئے۔
اور صحیح قائم رکھو شہادت کو اللہ کے واسطے اس لیے گواہ جب واقعہ کی گواہی دیں تو صداقت اور صفائی سے اصل واقعہ پیش کریں اے مسلمانو ! یہ ہے بات جس کے ذریعے نصیحت کی جارہی ہے ہر اس شخص کو جو اللہ پر اور روز آخرت پر ایمان رکھتا ہے اور جو شخص اللہ سے ڈرے گا اللہ پیدا کردے گا اس کے واسطے مشکلات وشدائد سے نکلنے کا راستہ اور رزق دے گا اس کو ایسے طریقہ سے کہ اس کو گمان بھی نہ ہوگا، اب اس کے سامنے نہ شدائد ومشکلات باقی رہیں گی بلکہ ہر مشققت و دشواری دور ہوتی چلی جائے گی اور اس کے علاوہ انعامات خداوندی کا یہ مقام ہوگا کہ روزی کے دروازے اس پر کھل جائیں گے اور ایسے راستوں سے اس کو رزق ملے گا کہ اس کو خیال بھی نہ ہوسکتا تھا، اور جو بھی کوئی اللہ پر بھروسہ کرے بس اللہ اس کو کافی ہے بیشک اللہ اپنے کام کی انتہاء کو پہنچنے والا ہے اس کا کوئی کام ادھورا اور ناقص نہیں رہ سکتا، جس کام کا وہ ارادہ کرے گا اس کو پورا ہی کرکے چھوڑے گا، اللہ نے ہر کام کے واسطے ایک اندازہ رکھا ہے، چناچہ وہ اسی کے مطابق ہوا کرتا ہے، اس کی حکمت وتقدیر نے اگر کسی کام کی تاخیر مقدر کردی تو وہ اسی تاخیر سے ہوگا اور اگر ناگہاں اور فوری طور پر کس چیز کو اللہ نے مقدر فرمادیا تو وہ ناگہاں رونماہوجائے گی، یہ اللہ کی مصلحتیں اور حکمتیں ہیں بہرکیف جس طرح اس نے فیصلہ کیا، اسی طرح ہر کام کا ہونا ضروری ہے اس لیے یہ روش ٹھیک نہیں کہ ہم اللہ کے فیصلوں میں تاخیر وتعجیل کا شکوہ کرتے رہیں، ایمان وتفویض کا تقاضا ہے کہ اللہ کی تقدیر پر رضاوتسلیم کا مقام حاصل ہو،
امام بخاری (رح) و دیگر ائمہ محدثین نے عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے اپنی بیوی کو حالت حیض میں طلاق دے دی تو عمر فاروق ؓ نے آنحضرت ﷺ سے اس کا ذکر کیا تو آپ ﷺ کو غصہ آیا اور فرمایا اس کو کہو کہ اس طلاق سے رجوع کرے پھر روکے رکھے یہاں تک کہ طہر کا زما نہ آجائے پھر ایام حیض آجائیں اور پھر طہر آئے تو اس وقت اگر وہ ضرورت سمجھے تو طلاق دے طہر کی حالت میں قبل اس کے کہ اس سے قربت کرے آپ ﷺ نے فرمایا یہی تو وہ وقت ہے جس پر اللہ نے حکم فرمایا ہے کہ طلاق دی جائے (اگر طلاق دینا ضروری ہی ہے) ایک سند سے اس روایت کے مضمون میں یہ بھی آیا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی، آجائے (آیت) ” یایھا النبی اذا طلقتم النسآء فطلقوھن لعدتھن واحصوا العدۃ “۔ ابن عباس ؓ سے بھی یہی منقول ہے فرمایا عدت پر طلاق دینے کا مطلب یہی ہے کہ حالت طہر میں طلاق دی جائے حضرات فقہاء نے اسی آیت سے طلاق بدعی اور طلاق سنی کے احکام مستنبط فرمائے ہیں۔
زمانہ جاہلیت میں عورت کی بےبسی اور اسلام و قرآن کے اس کے حقوق کا محافظ ہونا :
زمانہ جاہلیت میں عورتوں پر طرح طرح کے ظلم وستم ڈھائے جاتے تھے ان کو جانوروں سے بھی زیادہ حقیر اور ذلیل بلکہ قیدیوں کی طرح مجبور وبے بس رکھا جاتا تھا بعض لوگ عورت کو سو سو مرتبہ طلاق دے دیتے تھے پھر بھی اس کی مصیبت کا خاتمہ نہ ہوتا تھا اسلام اور حضور اکرم ﷺ نے ان وحشیانہ مظالم کو جڑوں سے اکھاڑ پھینکا، قرآن کریم نے ان کے حقوق متعین کردیئے اور احکام نکاح و طلاق وخلع نازل کرکے ان کے حقوق کا پورا پورا تحفظ کیا اور حدود متعین کردی گئیں اور ان کی خلاف ورزی پر وعید وتنبیہ فرمائی گئی، جہاں اور حکیمانہ ہدایات ونصیحتیں فرمائیں ان میں ایک جامع راہنما اصول یہ بھی فرمادیا گیا (آیت) ” فامسکوھن بمعروف او فارقوھن بمعروف “۔ کہ اگر رکھو تو معقول طریقہ سے رکھو اور اگر چھوڑنا ہی ہے تو معقول طریقہ اور حسن اسلوب سے چھوڑو، گویا کسی بھی حالت میں ظلم وتعدی ہرگز نہ ہو خدا پر ایمان اور آخرت کا یقین ہی انسان کو ظلم وعدوان سے بچاسکتا ہے اس لیے فرما دیا کہ یہ زریں نصیحتیں ان لوگوں کے لئے کارآمد ہیں جو خوف خدا اور آخرت کا یقین رکھتے ہوں پھر ساتھ تقوی کے بہترین ثمرات اور برکتوں سے آگاہ فرما دیا (آیت) ” ومن یتق اللہ یجعل لہ مخرجہ ویرزقہ من حیث لایحتسب “۔ کی اللہ کا ڈر دارین کی سعادت اور خزانوں کی کنجی اور تمام کامیابیوں کا ذریعہ ہے اسی سے مشکلیں آسان ہوتی ہیں، بےقیاس وبے گمان روزی بھی ملتی ہے اور ایک عجیب قلبی سکون نصیب ہوتی ہے جس کے بعد نہ سختی سختی رہتی ہے اور نہ پریشانی، پریشانی رہتی ہے، حضرت عبداللہ بن عباس ؓ فرمایا کرتے تھے کہ مجھے ایک آیت معلوم ہے جو سارے عالم (یعنی سارے عالم کی مشکلات) کے لئے کافی ہے دریافت کیا گیا اے عبداللہ وہ کون سی آیت ہے تو آپ نے یہی تلاوت فرمائی (آیت) ” ومن یتق اللہ یجعل لہ مخرجہ ویرزقہ من حیث لایحتسب “۔
امام احمد بن حنبل (رح) نے عبداللہ بن عباس ؓ سے بیان کیا کہ وہ ایک روز آنحضرت ﷺ کی سواری پر آپ ﷺ کے پیچھے بیٹھے جارہے تھے کہ آپ ﷺ نے فرمایا۔
یا غلام انی معلمک کلمات احفظ اللہ یحفظک احفظ اللہ یحفظک احفظ اللہ تجدہ تجاھک واذا سالت فاسال اللہ واذا استعنت فاستعن باللہ واعلم ان لامۃ لواجتمعواعلی ان ینفعوک لم ینفعوک الا بشیء کتبہ اللہ لک ولو اجتمعوا علی ان یضروک لم یضروک الا بشیء قد کتبہ اللہ علیک۔ رفعت الاقلام وجفت الصحف۔
اے بچے میں تجھے چند کلمات سکھاتا ہوں (وہ یہ ہیں) تو اللہ کی (حدود کی) حفاظت کر اللہ تیری حفاظت کرے گا اللہ کا لحاظ کر تو اللہ کو (اور اس کی رحمتوں اور عنایتوں کو) اپنے سامنے پائے گا اور جب تجھے کوئی چیز مانگنی ہو تو اللہ سے مانگ اور جب تو مدد طلب کرے تو اللہ ہی سے مدد طلب کر اور یہ بات خوب سمجھ لے کہ اگر ساری دنیا جمع ہوجائے اس چیز پر کہ تجھے کچھ نفع پہنچائے تو دنیا کے تمام انسان تجھے نفع نہیں پہنچا سکتے مگر صرف وہی جو اللہ نے تیرئے واسطے لکھ دیا ہے اور اگر دنیا کے سب لوگ جمع ہوجائیں اس پر کہ تجھے کچھ نقصان پہنچا دین تو ہرگز کچھ نقصان نہیں پہنچا سکتے مگر وہی جو اللہ نے تجھ پر لکھ دیا ہے (اے لڑکے) تقدیر کے قلم (انسان تقادیر لکھ کر) فارغ ہوگئے اور صحیفے قضاء وقدر کے جو طے کردیئے گئے ہیں وہ خشک ہوچکے اس لیے جو بھی کچھ ہوگا وہ اللہ کی تقدیر اور اسی کی مشیت کے مطابق ہوگا۔
Ayahs 65:4–7ذکر احکام بعض مطلقات مع بیان حق سکنی ونفقہ ومسئلہ رضاعت :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” والی ٓ ء یئسن من المحیض ...... الی ..... سیجعل اللہ بعد عسریسرا “۔
(ربط) گزشتہ آیات میں طلاق کی عدت اور طلاق واقع کرنے کے بعض احکام بیان فرمائے گئے تھے اور ان امور میں اللہ کے تقوی اور حدود شریعت کی پابندی کے لئے تاکید فرمائی گئی تھی اب ان آیات میں بعض مطلقہ عورتوں کے خصوصی احکام اور ان کے حقوق کا بیان ہے بالخصوص وہ مطلقہ عورتیں جن کو حیض نہ آتا ہو یا وہ حاملہ ہوں ان کی عدت اور متعلقہ احکام اہمیت کے ساتھ بیان کیے گئے، فرمایا۔
اور جو عورتیں ناامید ہوچکی ہوں حیض سے تمہاری عورتوں میں سے اگر تم کسی قسم کا شبہ کرو تو ان کی عدت تین مہینے ہے اور اسی طرح وہ عورتیں بھی جن کو حیض نہیں آیا، خواہ بچپن کی وجہ سے یا کسی اور علت کے باعث تو ان کی عدت بھی تین ماہ ہے اور وہ عورتیں جو حاملہ ہیں تو ان کی عدت یہ ہے کہ وہ اپنا حمل وضع لیں اور جو بچہ پیٹ میں ہے وہ جن لیں اور جو بھی اللہ سے ڈرتا ہے اللہ اس کے واسطے اس کے کام میں سہولت پیش کردیتا ہے اور وہ خود مشاہدہ کرلیتا ہے کہ کس طرح قدرت کی طرف سے اس کے کاموں میں سہولت پیدا ہوتی ہے، اور کس طرح اس کے مسائل ومشکلات کا حل نکلتا ہے، یہ اللہ کا حکم ہے جو اس نے تمہاری طرف اتارا ہے اور جو شخص بھی اللہ سے ڈرتا ہے تو اس کی برائیاں مٹا دیتا ہے اور اس کے اجر وثواب کو بہت بڑا کرتا ہے اس لئے ایمان والوں کو چاہئے کہ زندگی کے ہر مرحلہ پر اللہ کا تقوی اختیار کریں انسان کو بیشک اپنے خانگی معاملات اور زندگی کے معاملات میں بہت سی مشکلات پیش آتی ہیں بہت کچھ تکالیف اور وقتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو ان سب احوال میں اللہ کا تقوی ہی اس کو مصائب سے نکالنے پریشانیوں کو دور کرنے، مشکلات کو آسان کرنے کا ذریعہ ہے اور پھر اس وصف تقوی سے متقی شخص کے لئے حق تعالیٰ کی طرف سے یہ بھی انعام ہے کہ اس کی جو برائیاں اور کو تاہیاں ہیں ان کو نور تقوی دور کردیتا ہے اور اجر وثواب بھی خوب ملتا ہے بہرکیف عورتوں کے معاملات بالخصوص وہ عورتیں جو طلاق دے دی گئیں ضروری ہے کہ ان کے حقوق ادا کرنے کے لیے خدا وند عالم کا تقوی اختیار کیا جائے اور ڈرنا چاہئے کہ کسی طرح بھی ان پر کوئی ظلم وتعدی نہ ہو اسی سلسلہ میں یہ بھی حکم ہے، ان مطلقہ اور معتدہ عورتوں کو گھروں میں رہنے کے ٹھکانا مہیاکرو، جہاں تم سکونت اختیار کرتے ہو اپنی قدرت و طاقت کے موافق کہ حق سکنی کی وجہ سے وہ مستحق ہیں کہ تمہارے گھروں میں رہیں اور ظاہر ہے کہ رہائش کی ضروریات میں نفقہ بھی ان کا مہیا کرنا چاہئے اور تم ان کو مشقت میں مت ڈالوں اس طرح کہ تم ان پر تنگی کر دو اور ان کی زندگی ان پر تنگ ہوجائے۔
عام حالات میں تو عدت کا زمانہ تین حیض یاتین ماہ میں پورا ہوجائے گا اور اگر وہ حاملہ ہوں تو پھر یہ نہیں کہ تم وضع حمل کی مدت کا انتظار نہ کرو بسا اوقات اس کے طویل ہوجانے کی وجہ سے بلکہ تم ان پر خرچ کرو یہاں تک کہ وہ اپنا حمل وضع کرلیں، وضع حمل پر مطلقہ عورت کی عدت تو ختم ہوجائے گی اور عدت کے بعد وہ عورتیں دودھ پلائیں تو ان کو اس کا بدلہ ادا کرو اور طے کرلو آپس میں اپنے معاملات بھلے طریقہ سے اس طرح کہ نہ تو کوئی جھگڑا ہو اور نہ ہی کوئی کسی کی حق تلفی کرے اور اگر آپس میں تم دشواری محسوس کرو اور کسی چیز پر دونوں متفق نہ ہوسکو تو پھر بہتر ہے کہ کوئی دوسری عورت دودھ پلانے والی دودھ پلائے تاکہ باہمی منازعت اور خصومت کی نوبت نہ آئے بچہ کی تربیت پر بہر کیف خرچ کرنا باپ کے ذمہ ہے تو چاہئے کہ وسعت والا اپنی واسعت وفراخی کے مطابق خرچ کرے اور جس کسی پر رزق کی تنگی ہو تو خرچ کرے جو کچھ اللہ نے اس کو دیا ہے اللہ کسی کو بھی پابند نہیں بناتا مگر اسی مقدار کا جو اللہ نے اس کو عطا کیا ہے اس سے زائد کا مکلف نہیں بنایا جاتا اور اگر کسی کو تنگی ہو تو اس سے انسان کو حقوق ادا کرنے میں رکاوٹ نہ کرنی چاہئے اللہ پر بھروسہ کرنا چاہئے وہی رحمت اور فراخی کے دروازے کھولنے والا ہے۔
مطلقہ عورتوں کی عدت کے بعض احکام :
سورة بقرہ میں آیت “۔ والذین یتوفون منکم ویذرون ازواجا یتربصن بانفسھن اربعۃ اشھروعشرا “۔ میں واضح طور پر بیان کیا گیا تھا کہ جن عورتوں کے خاوند انتقال کرجائیں تو ان عورتوں کی عدت شوہر کی موت کے بعد چار ماہ اور دس دن ہے یہ حکم مطلق تھا اس میں قید نہ تھی کہ وہ کون سی عورتوں کا حکم ہے، حاملہ ہوں یا غیرحاملہ تو اس آیت نے یہ واضح کردیا کہ وہ حکم غیر حاملہ عورتوں کا تھا اور حاملہ عورتوں کا حکم ہر قسم کی عدت میں یہ ہے کہ وضع حمل تک ان کی عدت باقی رہے گی تو اس صورت میں کسی بھی آیت کو منسوخ قرار دینے کی نوعیت نہیں رہتی بلکہ ہر نوع کا حکم علیحدہ ہر ایک آیت نے بیان کردیا پھر یہ کہ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ فرمایا کرتے تھے یہ آیت جو سورة طلاق میں نازل ہوئی سورة بقرہ کی آیت سے بعد میں نازل ہوئی، ابتداء میں بعض صحابہ کا خیال تھا کہ عدت وفات کی صورت میں عورت اگر حاملہ ہو تو عدت کا زمانہ وہ قرار دیا جائے گا جو زائد ہو، وضع حمل یا چار ماہ دس دن یعنی اگر وضع حمل خاوند کے انتقال کے بعد جلد ہی ہوجائے تو پھر چار ماہ دس دن کا انتظار کیا جائے گا اور اگر چار ماہ دس دن گزر جائیں اور وضع حمل نہ ہو تو پھر وضع حمل کی عدت کو انتہا قرار دیا جائے جیسا کہ حضرت علی ؓ اور عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت کیا گیا۔
جمہور صحابہ اور ائمہ فقہاء کا مسلک یہی ہے کہ خاوند کے انتقال کے بعد اگر چندلمحے ہی گزرنے پر بچہ جن دے تو پاک ہونے پر اس کی عدت پوری ہوجائے گی، چناچہ صحیح بخاری میں ابو سلمہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کے پاس آیا اور اس وقت ابوہریرہ ؓ بھی وہیں بیٹھے تھے اور اس نے کہا کہ اے عبداللہ بن عباس ؓ میں ایک عورت کے بارے میں آپ سے فتوی دریافت کرنا چاہتا ہوں کہ ایک حاملہ عورت ہے اس نے اپنے شوہر کے انتقال کے چالیس روز بعد بچہ جنا ہے (تو اب وہ عورت کس طرح شمار کرے) ابن عباس ؓ نے جواب دیا کہ دونوں مدتوں میں سے جو طویل مدت ہے وہی عدت ہوتی ہے یعنی اب اس صورت میں چار ماہ دس دن عدت کے گزارنے ہوں گے بیان کرتے ہیں کہ میں نے عرض کیا (آیت) ” واولات الاحمال اجلھن ان یضعن حملھن “۔ (آیت قرآنیہ ہے جس سے تو یہی سمجھا جاسکتا ہے کہ بس وضع حمل پر عدت پوری ہوجائے) اس پر ابوہریرہ ؓ کہنے لگے کہ میں تو اپنے بھتیجے یعنی ابو سلمہ ؓ کے ساتھ ہوں (اور ان کی موافقت کرتا ہوں) حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے اپنا غلام حضرت ام سلمہ ام ال مومنین ؓ نے فرمایا کہ آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں ایک واقعہ پیش آیا تھا کہ سبیعہ اسلیمیہ ؓ کے شوہر قتل کردیئے گئے تھے اور وہ اس وقت حاملہ تھیں سبیعہ ؓ نے اپنے خاوند کی موت کے چالیس دن بعد بچہ جنا جب وہ پاک ہوئیں تو ان کے واسطے پیغام نکاح آیا، بعض اقرباء کے اعتراض و انکار پر) انہوں نے آنحضرت ﷺ سے مسئلہ معلوم کیا تو آنحضرت ﷺ نے ان کو نکاح کی اجازت دیدی (امام بخاری (رح) اور امام مسلم (رح) و دیگر ائمہ محدثین نے اس قصہ کو اجمال و تفصیل کے ساتھ ذکر کیا ہے)
حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ بھی اس بات کی تردید فرمایا کرتے تھے کہ ایسی عورت کے لئے ابعد الاجلین کو عدت قرار دیا جائے گا، اور سورة طلاق کی اس آیت کو فرمایا کرتے تھے کہ اس کے بعد تو کوئی آیت ہی اس مسئلہ میں نازل نہیں ہوئی حضرت مسروق ؓ بیان کرتے ہیں کہ جب عبداللہ بن مسعود ؓ کو معلوم ہوا کہ حضرت علی ؓ ابعد الاجلین کے قائل ہیں تو بڑی سختی سے ان کا رد فرمایا اور فرمایا میں اس پر ملاعنہ کرنے کو تیار ہوں کہ یہ آیت سورة بقرہ کے بعد نازل ہوئی ہے۔ 1
حاشیہ (رواہ ابوداؤد وابن ماجہ من حدیث ابی معاویۃ عن الاعمش “۔ 12)
بعض روایت میں یہ بھی وضاحت ہے کہ ابی بن کعب ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا کہ (آیت) ” واولات الاحمال “۔ مطلقہ ثلث کے بارے میں ہے یا اس عورت کے حق میں جس کے خاوند کا انتقال ہوگیا ہو فرمایا یہ دونوں کے بارے میں ہے یہ روایت اگرچہ سند ضعیف سے مروی ہے لیکن یہی مضمون متعدد سندوں سے مروی ہونے کے باعث اصول حدیث کی رو سے قابل اعتماد اور حجت ہے مگر سبیعہ اسلمیہ ؓ کی روایت جس کو بخاری ومسلم اور دیگر ائمہ حدیث نے تخریج کیا وہ متفق علیہ ہے اور حجت کے لیے کافی ہے۔
معتدہ عورت کے لئے نفقہ اور سکنی :
عدت احکام نکاح اور متعلقات حقوق نکاح سے ہے شریعت کے اس بنیادی ضابطہ کے پیش نظر یہ بات واضح ہے کہ مطلقہ عورت کے لیے عدت کا زمانہ گزارنے کے واسطے مرد کے ذمہ یہ ضروری ہو کہ مکان دے جس کو شریعت کی اصطلاح میں سکنی کہا جاتا ہے اور جب عورت ازروئے سخن شرع حالت عدت میں مکان سے باہر نہیں نکل سکتی تو لامحالہ نفقہ بھی مرد کے ذمہ لازم ہوگا، قرآن کریم کے یہ الفاظ (آیت) ” اسکنوھن من حیث سکنتم من وجدکم “۔ اسی بات پر دلالت کررہے ہیں کہ عورت کے لیے حتی المقدور یہ انتظام کرنا ضروری ہوگا اور حتی المقدور رہائش کا بندوبست مکان نفقہ اور کپڑوں پر دلالت کررہا ہے بعض محدثین نے عبداللہ بن مسعود ؓ کے مصحف سے بیان کیا کہ وہ اس موقعہ پر لفظ (آیت) ” وانفقوا علیھن “۔ بھی پڑھا کرتے تھے (جس کو ان کے تلامیذنے ان کے مصحف میں بطور حاشیہ یا کلمات بین السطور لکھ بھی دیا تھا)
امام ابوحنیفہ (رح) اور امام مالک (رح) کے نزدیک نفقہ کا حکم عام ہے ہر قسم کی مطلقہ عورتوں کے متعلق ہے جیسا کہ آئسہ، صغیرہ اور حاملہ کی عدت کا مسئلہ کہ اس میں کوئی تخصیص نہیں اسی طرح نفقہ کے حکم میں بھی کوئی تخصیص نہیں۔
فاطمہ بنت قیس ؓ جن کو تین طلاقیں دی گئی تھی ان کی روایت میں یہ ذکر کیا جانا ان ہی الفاظ وکلمات میں کہ ” رسول اللہ ﷺ نے میرے واسطے نفقہ اور سکنی کا حکم نہیں فرمایا “ نفقہ کے وجوب کی دلیل نہیں بن سکتا، فقہاء اور ائمہ محدثین کی تحقیق اور روایات کے تتبع سے یہ معلوم ہوا ہے کہ یہ عورت چونکہ بدزبان تھیں اور جھگڑتی تھیں تو خاوند کے گھر ان کے خاندان کے لوگوں سے ان کا نباہ مشکل ہورہا تھا اس وجہ سے یہ صورت ہونی کہ ان کو سکنی نہیں دیا گیا تو مطلب یہ ہوا کہ یہ اپنے مزاج کے لحاظ سے شوہر کے گھر جب نہ رہ سکیں تو ان کو دوسری جگہ منتقل کیا گیا چناچہ سنن کی روایات میں اس کی تصریح ملتی ہے۔ 1
حاشیہ (سنن ابودادرحمۃ اللہ علیہ، بیہقی (رح))
اور جب سکنی کا مسئلہ نہ رہا تو نفقہ بھی نہ رہا، جیسے کہ ناشرہ عورت کے بارے میں حکم ہے، جو عورت نافرمانی کرکے شوہر کے گھر سے نکل جائے تو اس کا نفقہ ساقط ہوجاتا ہے۔
حاشیہ (احکام القرآن للجصاصرحمۃ اللہ علیہ)
نیز جامع ترمذی و دیگر سنن کی روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کو نفقہ دیا گیا تھا ان کے خاوند نے وکیل کے ذریعے وہ نفقہ بھیجا تھا مگر اس عورت نے زائد کا مطالبہ کیا جو آنحضرت ﷺ نے منظور نہ فرمایا اور یہ فرمایا بس تیرے واسطے اتنا ہی نفقہ کافی ہے (آیت) ” الا ان کونی حاملا “۔ ہاں البتہ اگر توحاملہ ہوتی اور مدت حمل طویل ہوتی تو ایسی صورت میں بیشک تیرا نفقہ زائد کیا جاسکتا تھا تو دراصل اسی مقدار زائد کے انکار کو یہ عورت فاطمہ بنت قیس ؓ کہا کرتی تھی کہ اس کے واسطے نفقہ اور سکنی کا فیصلہ نہیں فرمایا مگر فاطمہ ؓ کے اس بیان اور اس قسم کے اظہار کو حضرات صحابہ حتی کہ ام ال مومنین حضرت عائشہ ؓ اور امیر ال مومنین عمر فاروق ؓ پسند نہیں فرمایا کرتے تھے حضرت عائشہ فرماتی تھی کہ ما الفاطمۃ لا تتقی اللہ، تقول ان رسول اللہ ﷺ لم یجعل لھا نفقۃ ولا سکنی کہ کیا ہوگیا فاطمہ ؓ کو یہ اللہ سے نہیں ڈرتی یہ کہتے ہوئے کہ رسول اللہ ﷺ نے اس کے واسطے نفقہ اور سکنی کا فیصلہ نہیں فرمایا اور حضرت عمر فاروق ؓ فرمایا کرتے کہ۔ واللہ لا ندع کتاب ربنا ولا سنۃ نبینا لقول امراۃ جھلت اونسیت۔ “
خدا کی قسم ہم کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ ﷺ کو ہرگز نہیں چھوڑ سکتے محض ایک عورت کے قول پر معلوم نہیں اس نے صحیح بات سمجھی یا نہیں یا کوئی چیز بھلادی۔
جس سے صاف واضح ہوا کہ مطلقہ کے لیے نفقہ اور سکنی فاروق اعظم ؓ کے نزدیک کتاب اللہ کا حکم تھا اور رسول اللہ ﷺ کی سنت تھی طحاوی میں حضرت عمر ؓ سے اس کا سنت رسول اللہ ہونا ثابت ہے اور اسی طرح دار قطنی میں حضرت جابر ؓ کی ایک روایت میں بھی اس کی تصریح ہے، حضرات اہل علم مراجعت فرمالیں۔
طلاق ثلث باجماع امت تین طلاق ہیں :
نص قرآنی نے یہ فیصلہ کردیا کہ تین طلاق کے بعد حرمت قطعیہ واقع ہوجاتی ہے، اور رجوع کا امکان باقی نہیں رہتا جس کی تفصیل سورة بقرہ کی (آیت) ” فان طلقھا فلا تحل لہ “۔ میں گزر چکی، خواہ تین طلاقیں متفرقا اور علیحدہ علیحدہ دی ہوں یا بیک وقت، اس اجماعی فیصلہ میں کسی کا اختلاف نہیں البتہ ظاہر یہ اور بعض حنابلہ سے اختلاف نقل کیا گیا، مگر خود امام احمد بن حنبل (رح) اس کے قائل نہیں، امام ابوحنیفہ (رح)، امام مالک (رح)، امام شافعی (رح)، اور احمد بن حنبل (رح)، کا یہی فتوی ہے اور امت کے کل فقہاء محدثین ومفسرین اسی کے قائل ہیں، چناچہ امام بخاری (رح) نے بھی اس پر ایک باب باندھا ہے فرمایا۔ باب من اجاز الطلاق الثلث بقولہ تعالیٰ الطلاق مرتن “۔
امام قرطبی (رح) (تفسیر قرطبی ج 3 ص 129) فرماتے ہیں کہ تمام ائمہ کا اس پر اتفاق ہے کہ ایک دفعہ ایک ہی زبان سے تین طلاق کہہ دینے سے تین طلاق واقع ہوجاتی ہیں، البتہ طاؤس (رح) اور بعض ظاہریہ کہتے ہیں کہ ایک دفعہ ایک کلمہ سے تین طلاق دینے سے ایک شمار کی جائے گی، اس کے بعد امام قرطبی (رح) نے تمام شکوک وادہام کا جواب دیا (اصل کی مراجعت فرمائی جائے)
روایات سے ثابت ہے کہ عمر فاروق ؓ کے خلافت میں تمام صحابہ کرام ؓ اور فقہاء کے مشورہ سے یہ فتوی دیا گیا کہ جو شخص تین طلاق دے گا اس کو تین ہی شمار کیا جائے گا، اور کسی نے اگر اس کی خلاف ورزی کی تو اس کے درے لگائے جائیں گے، حضرت عثمان غنی ؓ اور حضرت علی ؓ سے بھی یہی فتوی نقل کیا گیا ہے۔
محلی ابن حزم، زاد المعاد، اغاثۃ اللہ فان لابن القیم اور سنن بیہقی میں حضرت عمر وعثمان اور علی کرام ؓ کا یہ فتوی باسانید صحیحہ نقل کیا گیا ہے شیخ ابن ہمام (رح) نے خلفائے ثلثہ اور عبادلہ سے صراحۃ اسی بات کو نقل کیا کہ بیک وقت بھی تین طلاق دینے سے عورت مغلظہ بائنہ ہوجاتی ہے علامہ زرقانی (رح) نے شرح مؤطا میں حافظ ابن عبدالبررحمۃ اللہ علیہ قاضی ابوبکر جصاص (رح)۔ امام طحاوی (رح) اور حافظ عسقلانی (رح) نے اس اجماعی فتوی کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اس کی مخالفت ناقابل التفات اور ناقابل اعتبار ہے۔
حاشیہ (فتح الباری ج 9 ص 319۔ )
حافظ ابن تیمیہ (رح) نے اگرچہ اس میں اختلاف کیا مگر ان کے خاص رفیق اور زندگی بھرساتھ دینے والے امام حافظ ابن رجب حنبلی (رح) نے بڑی شدت سے ابن تیمیہ (رح) کا رد فرمایا۔
حاشیہ (ملاحظہ فرمائیں معارف القرآن جلد 1 ص 434 تا 441۔ )
مسئلہ طلاق ثلث میں حدیث عبداللہ بن عباس ؓ کی تحقیق :
اس اجماعی مسئلہ میں اختلاف کرنے والے اس روایت کا سہارا لیتے ہیں جو حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے منقول ہے جس کا مضمون یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں اور ابوبکر ؓ کے زمانہ میں اور عمر فاروق ؓ کے زمانہ خلافت میں دو سال تک تین طلاقیں ایک شمار کی جاتی تھیں مگر پھر عمر فاروق ؓ نے تین طلاقیں جاری کردیں تو بعض ظاہریہ نے اس سے استدلال کیا کہ اصل تو تین طلاقیں بیک وقت ایک ہی شمار ہوتی ہٰں، ان کو تین کی حیثیت سے جاری ونافذ کرنا یہ عمر فاروق ؓ کا کسی حکمت اور مصلحت کے باعث عمل اور فیصلہ تھا تو اس سلسلہ میں اولا تو یہ بات سمجھ لینی چاہئے کہ یہ حدیث سند کے لحاظ سے ضعیف اور ناقابل اعتبار ہے۔
چناچہ امام احمد بن حنبل (رح)، ابن عبدالبررحمۃ اللہ علیہ، قرطبی (رح)، ابوبکر رازی (رح)، جصاص (رح) و دیگر ائمہ محدثین اس کی تضعیف کرتے ہیں اس حدیث کی سند میں ایک راوی صہیب ابو الصہباء بکر ہی واقع ہے جس کو ابو زرعہ (رح) نے ثقہ بتایا ہے لیکن امام نسائی اس کو ضعیف فرماتے ہیں، بہرکیف راوی متکلم فیہ ہے اسی وجہ سے بخاری نے اس کی روایت نہیں تخریج کی، حافظ مار دینی (رح) الجوہر النقی 337 ج 3 میں لکھتے ہیں۔
وابو الصہباء ممن روی عنھم مسلم دون البخاری وتکلموا فیہ قال المذھبی فی الکاشف قال النسائی ضعیف فعلی ھذا یحتمل ان البخاری ترک ھذا الحدیث لاجل ابی الصھباء اس کے برعکس امام بخاری (رح) نے باب میں اجاز الطلاق الثلاث لقول اللہ عزوجل الطلاق مرتن فامساک بمعروف او تصریح باحسان “۔ منعقد کرکے طلاق ثلث کے جواز کو آیات قرآنیہ اور احادیث نبویہ سے ثابت کیا کہ عہد رسالت میں تین طلاقیں لازم اور نافذ تھیں۔
اس کے علاوہ سند اور متن میں اضطراب ہے، فی اسناد عن عبداللہ بن طاؤس عن طاؤس وفی اسناد آکرعن طاؤس عن عبداللہ بن عباس ؓ اور متن کا اضطراب یہ ہے کہ کسی روایت کے متن میں یہ ہے کہ خود ابن عباس ؓ عام طور پر یہ کہتے تھے کہ آنحضرت ﷺ اور ابوبکر ؓ کے عہد میں اور حضرت عمر فاروق ؓ کے زمانہ خلافت میں دو سال تک تین طلاقیں ایک ہی طلاق تھی، الخ اور کسی روایت میں ہے کہ ابو الصہباء نے اس ایک طلاق کو غیر مدخولہ کے حق میں سمجھ کر ابن عباس ؓ سے سوال کیا کہ کیا آپ کو معلوم نہیں کہ جب آدمی اپنی عورت کو صحبت سے پہلے طلاقیں دے دیتا ہے تو رسول خدا ﷺ اور ابوبکر ؓ کے زمانہ اور عمر فاروق ؓ کے ابتدائی دور خلافت میں اس کو ایک ہی جانا جاتا تھا۔ ابن عباس ؓ نی بھی اس کو غیر مدخولہ کے حق میں سمجھ کریہی فرمایا کہ ہاں ایسا ہی ہے جب آدمی اپنی عورت کو صحبت سے پہلے تین طلاقیں دیتا تو رسول اللہ ﷺ وابوبکر ؓ کے زمانہ میں اور عمر فاروق ؓ کے ابتدائی دور خلافت میں لوگ اس کو ایک ہی جانا کرتے تھے تو اس حقیقت کے پیش نظر مسئلہ کی نوعیت قطعا ہی بدل گئی۔
حافظ ابن قیم (رح) نے بھی اغاثۃ اللہ فان میں اس اضطراب کو تسلیم کیا ہے، دیکھو عمدۃ الابحاث ص 77، مزید برآں یہ حدیث شاذ ہے جیسا کہ بیہقی (رح) اور ابوبکر بن عربی (رح) سے منقول ہے کیونکہ ابن عباس ؓ سے اس کا راوی صرف طاؤس (رح) سے اور طاؤس کے علاوہ ابن عباس ؓ کے کبار تلامذہ واصحاب مجاہد (رح) سعید بن جبیر (رح) اور عطاء بن ابی رباح (رح)، عمر و بن دینار (رح) اور مالک بن الحارث (رح) وغیرھم یہ نہیں بیان کرتے۔
ابن عباس ؓ کا فتوی تمام کتب سنن میں مذکور ہے، احمد بن حنبل (رح) سے دریافت کیا گیا کہ آپ کس بناء پر حدیث ابن عباس ؓ رد کرتے ہیں تو احمد بن حنبل (رح) نے یہ غذر کیا کہ ابن عباس ؓ کے تمام شاگرد طاؤس کے خلاف ان سے روایت کرتے ہیں۔
وقال الاثرم سالت ابا عبداللہ احمد بن حنبل عن حدیث ابن عباس کان الطلاق علی عہد رسول اللہ ﷺ وابوبکر وعمر واحدۃ فبای شیء تدفعہ فقال بروایت الناس عن ابن عباس انھا ثلث کذا فی المغنی (اعلاء لسنن ص 526 ج 11)
قال الجوز جانی ھو حدیث شاذ وقد عنیت بھذا الحدیث فی قدیم الدھر فلم اجدلہ اصلا وقال القاضی اسماعیل فی احکام القرآن طاوس مع فضلہ وصلاحہ یروی اشیاء منکرۃ فمنھا ھذا الحدیث وقال ابن رجب کان علماء مکۃ ینکرون علی طاؤس ماینفرد بہ من شواذ الاقاویل۔ (اعلاء السنن ص 532 ج 11)
قاضی ابوبکر جصاص (رح) بیان کرتے ہیں کہ یہ حدیث منکر ہے، وبہ قال اما ردینی فی الجوھرۃ وذکر صاحب الاسئذ کار عن ابن عبدال بران ھذہ الروایۃ وھم وغلط لم یعرج علیھا احد من العلماء۔
بہرکیف اس تمام تفصیل سے یہ بات بخوبی واضح ہوگئی کہ یہ حدیث اپنی سند کے لحاظ سے قابل اعتبار اور حجت نہیں اس وجہ سے اجماع امت اور نص کتاب اللہ کے خلاف اس حدیث ابن عباس ؓ سے تین طلاق کو ایک قرار نہیں دیا جاسکتا ان اقوال ونقول کے بعد اس کے جواب کی کوئی ضرورت تو نہیں رہتی تاہم اگر چاہیں تو یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ حکم غیر مدخولہ کا ہے اس کی تین طلاقیں آنحضرت ﷺ ابوبکر ؓ اور عمر ؓ کے ابتدائی زمانہ خلافت میں ایک سمجھی جاتی تھیں چناچہ صحیح مسلم کی گزشتہ روایت سنن ابی داؤد میں بایں الفاظ مروی ہے (عمدۃ الابحاث ص 10)
امام نسائی (رح) نے اپنی سنن میں باب الطلاق الثلث المتفرقۃ قبل الدخول بالزوجۃ منعقد کرکے اس حدیث کو غیر مدخولہ عورت کے حق میں شمار کیا ہے بہرکیف اس تفصیل وتحقیق کے بعد اس تاویل کی کوئی ضرورت نہیں رہتی جو بعض علماء سے منقول ہے۔
ابتدائی زمانہ میں کوئی شخص، انت طالق، انت طالق، انت طالق، کہتا تو اس کی نیت صرف تاکید ہوتی تھی نہ کہ استیناف لیکن لوگ جب کثرت سے حضرت عمر ؓ کے زمانہ میں یہ صیغہ استعمال کرنے لگے اور قرائن کی دلالت سے یہ معلوم ہوگیا کہ لوگ استیناف کا ارادہ رکھتے ہیں تو غالب اور متعارف کو ملحوظ رکھتے ہوئے تین طلاقیں شمار کی گئیں آنحضرت ﷺ کا زمانہ خیرالقرون تھا تو لوگ اس تکرار سے تاکید کا ارادہ کرتے تھے اور جو دل میں نیت کرتے تھے وہ صاف صاف زبان سے ظاہر کردیتے تھے، اس وقت تک طبائع میں مکرر فریب اور حیلہ ودجل نہیں تھا لیکن عمر فاروق ؓ نے تین کو نافذ کر فرما دیا اور یہ گنجائش نہ رکھی کہ کسی وقت بھی کوئی شخص ایسا اقدام کرنے کے بعد پھر یہ حیلہ کرنے لگے کہ میں نے تو تین نہیں بلکہ ایک ہی کا تکرار بطور تاکید کیا تھا، مگر سند کی تحقیق بالخصوص امام نسائی (رح) کی اس وضاحت کے بعد ” باب الطلاق الثلاث المتفرقۃ قبل الدخول بالزوجۃ “ اس طرح کی کسی تاویل یا جواب کی ضرورت باقی نہیں رہتی، واللہ اعلم بالصواب۔
حاشیہ (اس مسئلہ کی تحقیق و تفصیل حضرت والد محترم مولانا محمد ادریس صاحب کاندھلوی (رح) کے حصہ تفسیر میں سورة بقرہ کی (آیت) ” فان طلقھا فلا تحل لہ “ کی شرح میں ملاحظہ فرمائیں۔ 12)