Ayahs 68:1–8ترکیب : ن۔ قریٔ بادغام النون الثانیہ من ہجائھانی الواوقریٔ بالاظہار وبالفتح وبالکسر وبالضم اما الفتح فباضمار فعل والفتح علی اضمارا لقسم اولالتقاء الساکنین والضم علی النبائ۔ والقلم الواوللقسم وماموصولۃ یسطرون صلۃ والعائد محذوف والجملۃ معطوفۃ علی القلم ما انت الجملۃ جواب القسم وان لک الجملۃ معطوفۃ علی الجملۃ السابقۃ و انک ایضا معطوفۃ علیھا والجملات الثلاث جواب القسم۔ بایکم المفتون الباء زائدۃ ویمکن ان یکون المفتون مصدر امثل المعقول والمیسور ای بایکم الجنون۔
تفسیر : جمہور کے نزدیک یہ سورة بھی مکہ میں نازل ہوئی ہے۔ حسن و عکرمہ وعطاء کا بھی یہی قول ہے۔ ابن عباس ؓ سے منقول ہے کہ سب سے اول اقرء نازل ہوئی۔ پھر سورة نون، پھر مزمل، پھر مدثر اور عائشہ صدیقہ ؓ بھی یہی فرماتی ہیں کہ یہ سورة مکہ میں نازل ہوئی۔ بعض کہتے ہیں کہ کچھ مکہ اور کچھ مدینے میں نازل ہوئی۔ اس سورة کو سورة قلم بھی کہتے ہیں اور سورة ن بھی۔ کس لیے کہ نون بھی اس کے اول میں ہے اور قلم بھی ہے۔
اس سورة میں بھی بلحاظ تقدم نزول کے مسئلہ نبوت پر دلچسپ بحث ہے اور آنحضرت ﷺ کی ذات بابرکات میں جو مخالفین نبوت اپنے خیالات فاسدہ سے عیب ثابت کرتے تھے کہ آپ دیوانے ہیں اور ناحق دنیا سے لڑتے جھگڑتے ہیں، بدخلق ہیں، ان کی بدلائل تو یہ نفی کی ہے۔ اور یہ کچھ نئی بات نہ تھی نہ مستبعد کس لیے کہ ملک عرب اور اس کا مکہ شہر گمراہی اور ہلاکت کی اندھیریوں میں پڑا ہوا تھا ایسے وقت خدائے پاک کی توحید و عظمت بیان کرنا اور مکارم اخلاق کی تعلیم دینا اور ان بری باتوں کی ممانعت کرنا جو ان کی طبیعت میں خمیر ہوگئی تھیں اور صدیوں سے باپ دادا کو انہیں پر چلتے دیکھتے آئے تھے ایک نہایت حیرت خیز بات تھی جس کے قائل کو دیوانہ کہنا کچھ بڑی بات نہ تھی اور جابجا پردرد الفاظ میں منادی کرنا اور دردمندی سے ان ڈوبتوں کو بچانے کی کوشش کرنا ان کی طبیعت کے برخلاف کام تھا جس کو بدخلقی اور تعصب کہتے تھے اور آپ کے مساعی جمیلہ کا نتیجہ آپ کے حق میں مہلک خیال کرتے تھے اور آپ کو اس طریقہ سے پھیر کر اپنی طرف لانا آپ کے حق میں بہتر خیال کرتے تھے۔ ان سب باتوں کا رد ان آیات میں بڑی تسلی بخش الفاظ میں کیا گیا ہے۔ عرب میں دستور تھا کہ جھوٹی بات پر کم قسم کھاتے تھے اور یہ سمجھتے تھے کہ جو کوئی جھوٹ پر قسم کھائے گا برباد ہوجائے گا اس لیے خدائے پاک اپنے کلام کو جو آنحضرت ﷺ کی زبان سے ادا کرتا ہے قسم سے شروع کرتا ہے۔ فقال ن والقلم ومایسطرون کہ قسم ہے نون اور قلم سے لکھی ہوئی چیزوں کی ماانت الخ کہ تو اے محمد ﷺ ! فضلِ الٰہی سے دیوانہ نہیں جیسا کہ وہ کہتے ہیں۔
نون سے کیا مراد ہے ؟ : نون سے کیا مراد ہے ؟ اس کی پوری بحث سورة بقرہ کی تفسیر الم میں ہم کر آئے ہیں مگر یہاں اس قدر جان لینا کافی ہے۔ بعض علماء فرماتے ہیں کہ نون کسی کلمہ کا حرف ابتدائی یا اخیر حرف ہے جس سے آنحضرت ﷺ کو اطمینان دلایا جاتا ہے۔ ابتدائی حرف کی صورت میں بعض کہتے ہیں یہ ناصر یا ننصریانحن ننصر کا ابتدائی حرف ہے کہ اے محمد ﷺ ! کفار کے غلبہ و شوکت اور اپنے متبعین کے ضعف و قلت کا خیال نہ کر ہم اس دین کی مدد کریں گے اور غلبہ دیں گے۔ چناچہ غلبہ دیا اور وعدہ سچا کر دکھایا۔ بعض کہتے ہیں نور 1 ؎ کا ابتدائی حرف ہے کہ اے محمد ﷺ ! دنیا ظلمات سے بھر گئی ہے، اللہ نے اپنا نور ظاہر کیا جو تجھے بھیجا اور جہان کو روشن کرنے کے لیے مکہ کے پہاڑوں سے آفتاب ہدایت کو جلوہ گر کیا جس کی کرنیں تھوڑے سے دنوں میں زمین کے کناروں تک پھیل گئیں اور وہ کسی کے روکے سے نہ رکیں۔ واللہ متم نورہ۔ اور اخیر حرف کی صورت میں بعض کہتے ہیں الرحمن کی طرف اشارہ ہے کہ ہم رحمان ہیں، اپنی رحمت کاملہ سے دنیا میں نبی اور کتابیں بھیجی ہیں۔ بعض کہتے ہیں اس میں اس طرف اشارہ ہے کہ اس سورة کی آیات میں اخیر حرف نون ہے جیسا کہ بلغاء فصحاء اول ہی کہہ دیتے ہیں کہ لام یعنی لام کی ردیف ہوگی۔ ان سب صورتوں میں نون حروف میں سے ایک حرف تہجی مراد ہوگا۔ بعض کہتے ہیں کہ نون سے مراد مچھلی ہے۔ پھر بعض کہتے ہیں وہ مچھلی کہ جس نے حضرت یونس (علیہ السلام) کو لقمہ کیا تھا۔ بعض کہتے ہیں کہ وہ مچھلی جس کی پشت پر زمین ہے جس کا نام لہموتؔ یابلہوتؔ ہے۔ پھر اس کی تفصیل میں ایک روایت بیان کرتے ہیں کہ جب خدا نے آسمان اور زمین بنائے تو عرش سے فرشتہ بھیجا جس نے زمین کو اپنے مونڈھوں پر اٹھا لیا مگر فرشتہ کے پائوں ٹکنے کی جگہ نہ تھی خدا نے ایک بیل بھیجا جس کے چالیس ہزار سینگ تھے اور چالیس ہزار پائوں تھے۔ بیل کے کوہان پر زمرد کی چوکی رکھی اس پر فرشتہ نے پائوں رکھے مگر پھر بیل کے پائوں رکھنے کی جگہ نہ تھی اس لیے ایک بڑا پتھر پیدا کیا جس پر وہ بیل کھڑا ہوا اور بیل کے سینگ زمین میں سے باہر نکل آئے ہیں اور اس کے نتھنے سمندر میں ہیں۔ جب وہ سانس لیتا ہے تو سمندر کا پانی زیادہ ہوجاتا ہے اور کف بھی پیدا ہوتے ہیں اور جب دم کھینچتا ہے تو پانی سمٹ جاتا ہے یعنی مدوجزر اس کے سانس سے پیدا ہوتا ہے۔ اور وہ پتھر جس پر بیل کھڑا ہے ایک مچھلی پر ہے جس کا یہاں ذکر ہے اور مچھلی پانی پر ہے اور پانی ہوا پر ہے جس سے اشارہ ہے کہ جہان کی بنیاد ہوا پر ہے۔ پھر اس مچھلی اور بیل کی بابت عجائب وغرائب روایات مذکور ہیں۔ یہ روایت ابن المنذر و عبد بن حمید و ابن مردویہ نے کی ہیں اور مجاہد و سدی و مقاتل و مرہ ہمدانی و عطا خراسانی کلبی وغیرہ سے بھی منقول ہیں۔ یہ روایات محققین محدثین کے نزدیک بےاصل ہیں اس لیے انہوں نے ان روایات کو اپنی کتابوں میں لکھنا برا سمجھا۔ فن موضوعات 2 ؎ میں آئمہ جرح و تعدیل نے اس بات کا فیصلہ کردیا ہے۔
ا ؎ تب اس میں اس پیشین گوئی کی طرف اشارہ ہوگا جو عنقریب یسعیاہ (علیہ السلام) آنحضرت ﷺ کی بابت کر گئے تھے جس کا کتاب یسعیاہ کے ساٹھویں باب میں ذکر ہے۔ بقولہ ” اٹھ روشن ہو کر تیری روشنی آئی اور خداوند کے جلال نے تجھ پر طلوع کیا “۔ 12 منہ
2 ؎ یہ ایک حدیث کا فن ہے جس میں محدثین نے تحقیق و تدقیق سے جھوٹی اور لوگوں کی بنائی ہوی حدیثوں کو جداگانہ لکھ دیا ہے جیسا کہ ابن حنان و عقیل و ازوری کی تصنیف اور دارقطنی کے افراد اور خطیب کی تاریخ اور حاکم کی اور کامل بن عدی کی اور میزان ذہبی کی۔ ان بزرگوں نے ضعاف و موضعات کو چھانٹ لیا ہے اور بعض علماء نے خاص موضوعات کے لیے تصانیف کی ہیں جیسا کہ موضوعات ابن الجوزی و صفانی و جو زقانی و قزوینی۔ پھر مجدالدین فیروزآ بادی صاحب قاموس کا مختصر اور سخاوی کا مقاصد اور تمییز الطیب من الخبیب ربیع کی اور سیوطی نے ایک رسالہ بنام ذیل لکھا۔ ابن جوزی کے موضوعات پر اور دوسرا لآلی المضوعہ فی الاحادیث الموضوعۃ۔ اور عراقی نے احیاء العلوم پر تخریج لکھی اور طاہر ہندی نے تذکرہ لکھا اور ملاعلی قاری نے بھی ایک رسالہ لکھا ہے۔ پھر ان کے بعد شوکانی نے القوئد المجموعہ فی الاحادیث الموضوعۃ ایک جامع کتاب لکھی۔ 12 منہ
صوفیہ کرام کا مذہب : بعض صوفیہ کرام فرماتے ہیں کہ نون سے مراد نفس کلیہ اور قلم سے عقل کلی ہے۔ اول میں کنایہ ہے کلمہ کے اول حرف کے ساتھ اور دوم باب تشبیہ سے ہے کہ نفس میں صور موجودات تاثیر عقل سے منقش ہوجاتے ہیں جیسا کہ صورلوح پر قلم کی تاثیر سے منقش ہوتی ہیں۔ ومایسطرون سے مراد صور اشیاء اور ان کی ماہیات اور ان کے احوال جو صادر ہونے والے ہیں اور لکھنے والے عقول متوسط ارواح مقدسہ میں گرچہ کاتب ازلی حقیقت میں وہی ہے لیکن ان کی طرف مجازاً اس لیے منسوب کیا گیا ہے کہ وہ ذریعہ ہیں۔ (ازتفسیر علامہ محی الدین بن عربی) ۔
بعض کہتے ہیں نون سے ذات باری اور قلم سے صفات مراد ہیں۔ ومایسطرون سے وہ افعال و حالات جو الواح تقدیر پر لکھے جاتے ہیں۔ (عرائس)
صاف مطلب یہ ہے کہ ن ایک حرف ہے جو شروع کلام میں کسی خاص رمز کے لیے آیا ہے جس کو وہی خوب جانتا ہے جیسا کہ اور حروف سورتوں کے اوائل میں آئے ہیں۔ والقلم ومایسطرون سے قسم شروع ہوتی ہے کہ ہمیں قلم کی قسم اور اس کی جو لکھتے ہیں۔ قلم سے
کیا مراد ہے ؟ اب قلم سے خواہ وہ نورانی قلم مراد لو یعنی اندازہ الہٰیہ کہ جس نے ازل میں ہر شے کو الواح علمیہ پر ثابت کردیا جیسا کہ حدیث صحیح میں آیا ہے۔ جف القلم بماانت لاق رواہ البخاری۔ قلم کے خشک ہونے سے کنایہ ہے قلم الٰہی سے مقادیر لکھے جانے اور ان سے فارغ ہوجانے سے۔ ترمذی (رح) نے روایت کی ہے کہ اول خدا نے قلم کو پیدا کیا پھر اس سے کہا لکھ اس نے کہا کیا لکھوں، فرمایا تقدیر لکھ پھر جو ہوا اور اب تک ہوگا سب کچھ لکھا گیا۔ قلم اور لوح وہی تقدیر علمی اور مرتبہ و ثبوت فی علم اللہ ہے جو ازل میں تھا جس سے کسی کو بھی انکار نہیں ہوسکتا۔ اس نوشتہ ازلی کا ثبوت انجیل متی کے 26، باب 54 جملے سے بھی ہے۔ قولہ ” کیا تو نہیں جانتا کہ میں ابھی اپنے باپ سے مانگ سکتا ہوں اور وہ فرشتوں کے بارہ ثمن سے زیادہ میرے لیے حاضر کر دے گا “ 54۔ پر نوشتوں کی بات کہ یوں ہی ہونا ضرور ہے تب کیونکر پوری ہوگی۔ خواہ اس سے مراد وہ قلم اور وہ لکھنا ہو کہ جو ملائکہ انسان کے نیک و بدکام لکھتے ہیں جس میں منکرین نبوت کے لیے سرزنش ہے۔ خواہ دنیاوی لوگوں کے قلم اور ان کی تحریرات مراد ہوں۔ پھر عام ہے کہ ہر معاملہ و انتظام دنیا کی بابت ہوں کس لیے کہ یہ بھی انعامِ الٰہی ہے جس پر دنیا کے صدہا انتظام مربوط ہیں۔ خواہ علمائِ ربانیین کے قلم اور ان کی تحریر مقدس اور الہامی کتابوں کی بابت ہو جس کو قریش بھی عمدہ اور متبرک سمجھتے تھے یا عام علمی قلمیں اور ان کی تحریریں ہوں جس سے اشارہ ہے کہ اسی دنیا میں پہلے بھی انبیاء (علیہم السلام) بھیجے ہیں اور ان کے منہ کی الہامی باتیں لوگوں نے تحریر کی ہیں اور پھر ان کو بھی اس عہد کے جاہلوں نے دیوانہ بنایا ہے جس پر وہ عتاب الٰہی میں گرفتار ہوئے ہیں اور ان باتوں کو اہل قلم مؤرخین نے لکھا ہے ان سے پوچھو۔ دیکھو بہرحال ایک عمدہ اور اعلیٰ چیز کی قسم ہے کفار کے ابطال کے لیے کہ وہ نبوت محمد ﷺ کا انکار کرتے اور آپ کو دیوانہ کہتے تھے۔ اس بات کا رد کرنے میں نون اور قلم اور تحریر کی قسم سے ایک عمدہ مناسبت ہے۔ کس لیے کہ نبوت علوم کا سرچشمہ ہے جو ایک اعلیٰ ترین نور ہے جس کی فیوضات بعد میں یا اس کے روبرو مبارک ہاتھ لکھا کرتے ہیں اور مقدس صحائف میں درج ہیں اور وہ دنیا کی اصلاح و فلاح کا عمدہ ذریعہ ہوتے ہیں مگر جاہل دماغ جب ان باتوں کو قبول نہیں کرتے تو ایسے لوگوں کو دیوانہ کہہ دیا کرتے ہیں اسی طرح ہر معنی سے قسم اور مقسم بہ میں مناسبت ہے۔
اور پھر ان چیزوں کی قسم پہلی سورة تبارک سے کمال مناسبت رکھتی ہے کس لیے کہ اس سورة میں خدا تعالیٰ نے اپنی بادشاہی کا اظہار کیا تھا اور اس کے متعلق آسمانوں و زمین کا بلند اور وسیع مکان بنانا اور مطیع اور سرکشوں کے لیے دارالانعام اور جہنم کا قیدخانہ وغیرہ امور ذکر فرمائے تھے مگر دفتر شاہانہ کا ذکر نہ آیا تھا اس لیے یہاں نون اور قلم اور تحریر سے وہ بات بھی ثابت کردی۔ قلم کے فضائل یعنی علم کی خوبیاں اور قلم سے نبوت کی مناسبت کہ قلم جس طرح لکھنے والے کے ہاتھ میں مجبور ہے اسی طرح حضرات انبیاء علیھم السلام تابع الہام ہیں، آپ سے کچھ نہیں فرماتے وماینطق عن الہوٰی پر علماء نے بہت کچھ بیان کئے ہیں۔
کس لیے مجنون کہتے تھے ؟ : تین چیزوں کی قسم کھائی، ن، قلم، تحریر کی اور قسم کھا کر تین باتیں بیان فرمائیں۔ (1) ماانت بنعمۃ ربک بمجنون کہ تو اے نبی ! اپنے رب کی نعمت یعنی عنایت سے دیوانہ نہیں اور جملہ کو اسمیہ اور ما سے مؤکد کیا جو عین مقتضائے بلاغت تھا کس لیے کہ وہ آپ کو مجنوں بھی بڑے زور سے کہتے تھے اور وجہ مجنون کہنے کی وہی تعلیم توحید و مکارم اخلاق تھی مگر نیا ایک سبب اور بھی پیدا ہوگیا تھا وہ یہ کہ آنحضرت ﷺ کے اظہار نبوت کے بعد کہ جس سے تمام مکہ میں کھلبلی پڑگئی تھی۔ حضرت خدیجہ ؓ اور حضرت علی ؓ اور حضرت ابوبکر صدیق ؓ اور ام ایمن ؓ آپ کی لونڈی اور زید ؓ آپ کے متبنّٰی ایمان لائے تو آپ نے ان کو وضو اور نماز کے طریقے سکھائے جس سے اور بھی اہل مکہ کو نئی بات دیکھ کر حیرت ہوئی اور آپ کو دیوانہ کہنا شروع کردیا اور لطف یہ کہ آنحضرت ﷺ کی بےحد دانائی کے نبوت سے پہلے نہ صرف قریش مکہ بلکہ اور اطراف و جوانب کے لوگ بھی قائل تھے اور آپ کی زیر کی ضرب المثل تھی۔
(2) وانک لک لاجرا غیرممنون کہ آپ کے لیے بےانتہا اجر ہے۔ یہ گویا دلیل ہے پہلے جملے کی۔ کس لیے کہ دیوانے کی کوئی بات قابل مدح اور سبب اجر نہیں ہوتی کیونکہ اس کا کوئی کام عقل و ہوش سے نہیں ہوتا برخلاف اس کے آپ کو اجر ہے ان تمام مساعی جمیلہ کا اور اجر بھی کیسا ؟ بےانتہا کس لیے کہ دنیا میں توحید و خدا پرستی اور مکارم اخلاق کے (ان کے ہٹ جانے کے بعد) آپ ہی مروج اور معلوم ہیں جب تک دنیا میں یہ باتیں جاری رہیں گی آپ کو بھی برابر اجر ملتا رہے گا اور ہر ایک نیک کام کے بانی اور مروج کو بعد میں اجر ملا کرتا ہے۔ یہ اس کے باقیات الصاحات میں شمار ہوتا ہے اور ہمیشہ کے لیے دنیا میں گویا ایسے آدمی زندہ رہ کر نیک کام میں حصہ لینے والے شمار ہوتے ہیں اور زندہ تصور کئے جاتے ہیں۔
فائدہ : ممنون مقطوع کہتے ہیں مننت الحیل اذاقطعتہ غیرممنون غیرمقطوع کہ وہ کبھی منقطع نہ ہوگا اور یہی معنی ہیں۔
(3) و انک لعلٰی خلق عظیم اور بیشک تو بڑے خلق پر ہے۔ یہ بھی اسی جملے کی ایک دلیل قوی ہے۔ کس لیے کہ مجنون کے اخلاق اچھے نہیں ہوتے۔ برخلاف اس کے کہ آپ کے اخلاق حمیدہ اور افعال پسندیدہ کے وہ بھی بالاتفاق قائل تھے پھر دیوانہ کہنا دیوانہ پن ہے۔
خُلق کیا ہے : خلق ایک نفسانی ملکہ ہے جس کے سبب انسان عمدہ کام بآسانی کرسکتا ہے، اچھے کام کرنا اور بات ہے اور ان کو آسانی سے کرنا اور بات ہے۔ پس وہ حالت جس کی وجہ سے بسہولت نیک کاموں کو کرسکے اس کو خلق کہتے ہیں جس کی جمع اخلاق آتی ہے۔ خلق خلق بالضم وبالضمتین خوئے (صراح) خلق بخل اور لالچ اور غضب اور معاملات میں تشدد سے بچنا اور لوگوں سے معاملات میں نرمی، درگزر، مروت، سیرچشمی سے پیش آنا، انتقام سے درگزر کرنا، اقارب و احباب کے ساتھ سلوک کرنا بلکہ بدی کے مقابلے میں نیکی کرنا، کینہ اور حسد سے دور رہنا بھی خلق میں داخل ہے۔ حیا و شرم کرنا، سخت کلامی اور فحش گوئی اور طعنہ بازی سے بچنا اس کا ایک جز ہے۔ نبی کریم ﷺ کی ذات بابرکات میں یہ سب باتیں فطری طور پر خمیر کردی گئی تھیں۔ ان باتوں کو بتکلف عمل میں لانے کی حاجت نہ تھی بلکہ بےتکلف خودبخود آپ سے سرزد ہوتی تھیں۔ خلق محمدی دنیا میں مشہور ہے۔ حضرت ﷺ کی روح پاک میں معارفِ الٰہیہ حقہ کے قبول کرنے کی نہایت استعداد رکھی تھی اور بری باتوں ‘ غلط عقائد کے قبول کرنے کی مطلقاً استعداد نہ تھی اس لیے یہ ملکہ آپ میں تھا جس کو خلق سے تعبیر کیا۔
ابی الدرداء ؓ کہتے ہیں کہ میں نے عائشہ ؓ سے خلق رسول اللہ ﷺ دریافت کیا، فرمایا آپ کا خلق قرآن تھا جس سے وہ راضی اس سے آپ راضی ‘ جس سے وہ ناخوش اس سے آپ ناخوش تھے۔ (اخرجہ البیہقی فی الدلائل و ابن مردویہ وابن المنذر) اس قسم کی ایک روایت سعد بن ہشام ؓ سے مسلم و ابن المنذر و حاکم وغیرہم نے نقل کی ہے جس میں اس طرف اشارہ ہے کہ حضرت ﷺ کا نفس مقدس بالطبع عالم قدس کی طرف مائل اور اس کے ساتھ جس قدر چیزیں متعلق ہیں ان کی طرف راغب تھا اور لذات بدنیہ اور سعادت دنیویہ سے بالطبع آپ کو سخت نفرت تھی۔ وذلک فضل اللہ یؤتیہ من یشائ۔ عائشہ ؓ کہتی ہیں آپ سے زیادہ کوئی خوش خلق نہ تھا، جب کسی نے بلایا تو آپ نے یہ فرمایا، لبیک یعنی حاضر۔ نہ عمر بھر کسی کو مارا نہ گالی دی، نہ سخت کلامی سے پیش آئے۔ انس ؓ کہتے ہیں کہ دس برس تک میں حضرت ﷺ کی خدمت میں رہا، آپ نے کبھی مجھے کسی کام کے کرنے پر یہ نہ فرمایا کہ کیوں کیا اور نہ کرنے پر یہ نہ فرمایا کہ کیوں نہ کیا ؟ کتب شمائل اور سیر میں اس سے زیادہ آپ کے مکارم اخلاق مذکور ہیں۔
آج کل پھکڑبازی اور فحش گوئی اور بےجا دل لگی اور ہنسی کا نام خلق رکھا ہے۔ افسوس !
فائدہ : علی کا لفظ استعلاء کے لیے عرب میں مستعمل ہوتا ہے۔ علی خلق کہنے میں یہ اشارہ ہے کہ آپ ان اخلاق حمیدہ پر حاوی اور غالب ہیں اور عظیم کے لفظ نے اور بھی معنی میں وسعت پیدا کردی کس لیے کہ آنحضرت ﷺ کو اگلے انبیاء (علیہم السلام) کے اقتداء و اتباع کا حکم دیا گیا ہے۔ بقولہ اولئک الذین ھدھم اللہ فبہدائہم اقتدہ۔ اور یہ ظاہر کہ معرفتِ الٰہی اور احکام شرائع میں یہ اقتداء نہیں تو لامحالہ ان کے اخلاق میں اقتداء کرنا ہے تو جوہر ایک نبی (علیہ السلام) کے اخلاق تھے ان سب کا مجموعہ حضرت ﷺ میں قائم ہوا اس لیے آپ کا خلق عظیم تھا۔ کیا خوب کہا ہے خسرو علیہ الرحمہ نے ؎
انچہ خوباں ہمہ دارند توتنہا داری
یہ تین باتیں تین چیزوں کی قسم کھا کر بیان فرمائیں جن میں سے ہر ایک کو دوسری سے مناسبت تامہ ہے اور پھر ہر ایک کو ہر ایک چیز سے کہ جس کی قسم کھائی ہے عجب مناسبت ہے۔ اور مجموعہ کو مجموعہ سے مناسبت ہے۔ یہ کمال بلاغت ہے۔ اور لطف یہ ہے کہ یہ تینوں باتیں جداجدا بھی آنحضرت ﷺ کی نبوت کی دلیل ہیں اور مجموع مرکب ہو کر بھی جس کی تقریر اذہان صافیہ پر چھوڑتا ہے۔
پیشین گوئی : اس برہان قاطع کے بعد آنحضرت ﷺ کی صداقت کا آیندہ آنے والی نشانی سے پورا اطمینان دلاتا ہے اور ایک پیشین گوئی کرتا ہے جس کو اہل مکہ نے بہت جلد آنکھوں سے دیکھ لیا۔ فقال فستبصرو یبصرون کہ اے محمد ﷺ ! ابھی آپ بھی دیکھ لیں گے اور یہ لوگ بھی دیکھ لیں گے۔ کیا دیکھ لیں گے ؟ بعض علماء کہتے ہیں دنیا کی سزا جو بدر کے دن اور ایک قحط عظیم سے قریش کو ملی جس کے لیے آنحضرت ﷺ نے دعا کی تھی۔ بعض فرماتے ہیں، یہ عذاب آخرت کی طرف اشارہ ہے کہ مرنے کے بعد معلوم ہوجائے گا۔ مگر میں کہتا ہوں بایکم المفتون۔ یبصرون کا مفعول ہے بذریعہ ب تب یہ معنی ہوئے کہ ابھی معلوم ہوجائے گا کہ تم میں سے کون فتنے میں پڑا ہے، دیوانہ یا مقہور ہے چناچہ چند برسوں کے بعد جب آفتاب ہدایت اور بلند ہوا تو تمام عرب نے جان لیا کہ ہم گمراہی میں تھے ناحق پیغمبر خدا ﷺ کا مقابلہ کیا کرتے تھے۔ لونڈیاں اور غلام، بوڑھے اور بچے، شریف و وضیع سب کی آنکھوں میں ان کی وہ پہلی حالت جو بت پرستی اور ہر قسم کی بدکاری تھی مبتذل ہوگئی۔ یہ کوئی تھوڑی بات نہیں، کوئی شخص جو دراصل خدائے تعالیٰ کا فرستادہ نہ ہو اور اس کو اپنے نور باطن و تاثیر بےحد کا پورا بھروسہ نہ ہو ایسی جاہل ‘ بت پرست ‘ مغرور ‘ بدکار قوم کی نسبت یہ دعویٰ کرسکتا ہے ؟ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے قوم کی ایسی جلد کایا پلٹ دینے کا بیڑا اٹھایا اور نہ اٹھا سکتے تھے۔ اس اعجاز سے بڑھ کر دنیا میں کسی نبی نے کوئی معجزہ نہیں دکھایا۔ اس لیے اس کے بعد فرماتا ہے، ان ربک ھو اعلم بمن ضل عن سبیلہ وھو اعلم بالمہتدین۔ کہ تیرا رب خوب جانتا ہے کہ کون اس کے رستے سے بچلا ہوا اور کون راستے پر ہے ؟ جو گمراہ ہے اور گمراہی کو ہدایت جانتا ہے اس سے بڑھ کر کون دیوانہ ہے اور ہدایت پانے والے سے جو سیدھی راہ چلا جا رہا ہے کون عقلمند ہے ؟ اس میں اشارہ ہے کہ وہی گمراہ ہیں اور وہی دیوانے ہیں۔ ان کے دیوانہ پن کی دلیل ان کی گمراہی ہے اور آپ اور آپ کے متبعین کے عاقل ہونے کی دلیل ہدایت پر ہونا ہے۔ یا یوں کہو کہ وہ جو اپنے آپ کو عاقل اور آپ کو دیوانہ کہتے ہیں جھوٹے ہیں۔ کس لیے کہ تو ہدایت پر اور وہ گمراہی پر ہیں۔ اور امتیاز جو ہدایت و گمراہی سے حاصل ہو وہ اس امتیاز سے بہتر ہے جو عقل و جنون سے حاصل ہو۔ کس لیے کہ وہ سعادت و شقاوت ابدیہ کا ثمرہ ہے اور یہ سعادت و شقاوت دنیویہ کا نتیجہ ہے۔ پھر جب یہ دیوانے ہیں اور دیوانگی سے جھٹلاتے ہیں تو فلاتطع المکذبین۔ ان جھٹلانے والوں کا کہا نہ مان کیونکہ وہ تجھے اسی حالت خراب کی طرف بلا رہے ہیں جس میں وہ خود مبتلا ہیں۔ دنیا میں جو مذہب و ملت کا جھگڑا اور لڑائی ہے وہ اسی وجہ سے ہے کہ ہدایت پانے والا دوسرے گمراہ بھائی کو دیکھ رہا ہے کہ یہ ڈوبا جاتا ہے اس لیے اس کو بچانے کی کوشش کرتا ہے اور وہ اس کو ڈوبتا جان کر اس کے برخلاف کوشش کرتا ہے اور پھر ہر ایک فریق کو دوسرے سے رفتہ رفتہ رنج و عداوت بھی ہوجاتی ہے جس کا نتیجہ جنگ وجدال ہوتا ہے۔
Ayahs 68:9–16ترکیب : فیدھنون عطف علی تدھن داخل فی حیزلووھو مبتداء محذوف ای فھم یدھنون و جواب لومحذوف وکذا مفعول ودّوا ای ودوا اوھانک لوتدھن فیدھنون ویمکن ان یکون فیدھنون مع المبتداء المحذوف جواب لووالشرط والجزاء الجملۃ مفعول ودوا وفی بعض المصاحف فید ھنوا بحذف النون علی انہ جواب التمنی المفھوم من ودوا ان کان الخ بالفتح مصدریۃ متعلق بقولہ ولاتطع ای لاتطع من ھذہ مثالبہ لان کان متمولا مستظہرا بالبنین۔ ھذا قول الفراء والزجاج و قریٔ ان بالکسر علی الشرط دجواب الشرط محذوف دل علیہ اذاتتلٰی ای ان کان ذومال یکفراولاتطع ایھا المخاطب کل حلاف شارطایسارہ اذاشرط قال جوابہ۔
تفسیر : اول بار آنحضرت ﷺ کو کفار کی اطاعت سے منع کیا تھا۔ بقولہ فلاتطع المکذبین اب اسی بات کو اور مؤکد کرتا ہے۔ فقال ودوا کہ وہ کفار چاہتے ہیں لوتدھن کہ اگر آپ مداہنت کر جائیں، حق سے چشم پوشی کر جائیں اور بت پرستی کی برائی نہ کریں تو فیدھنون وہ بھی آپ سے تشد دنہ کریں۔ گول گول باتیں کہنے میں کچھ ممانعت نہ کریں۔ مفسرین نے ان آیات کے متعلق نقل کیا ہے کہ ابوجہل اسود بن عبدیغوث واخنس بن شریق وغیرہ مکہ کے رئوسا آنحضرت ﷺ کی خدمت مبارک میں حاضر ہو کر عرض کرنے لگے کہ اگر اس پندونصیحت سے آپ کی یہ غرض ہے کہ دنیا کی عیش و عشرت میسر آئے تو آپ فرمائیں ‘ اگر عورتوں سے رغبت ہے تو عمدہ سے عمدہ کنواری لڑکیاں آپ کے لیے حاضر کریں اور آپ جس سے فرمائیں نکاح کرا دیں۔ اگر دولت مقصود ہو تو ہم مال اور مواشی حاضر کریں۔ اگر سرداری مقصود ہے تو آپ ہماری قوم میں عالی نسب عقلمند ہیں، ہم آپ کو سردار بنا دیں۔ آپ نے فرمایا مجھے ان باتوں میں سے کوئی مطلوب نہیں، صرف تمہاری بھلائی مقصود ہے کہ تم ہلاکت میں نہ پڑو۔ اس پر انہوں نے کہا کہ اچھا آج تو آپ عبادت کیا کریں مگر بتوں کی مذمت اور ان کی پرستش سے منع نہ کریں۔ ہم بھی آپ پر طعن وتشنیع نہ کریں گے۔ آنحضرت ﷺ نے سکوت کیا تب یہ آیت نازل ہوئی۔ ودوا الوتدھن الخ۔
مگر ان سب کفار میں ولید بن المغیرہ بڑا بدذات تھا اس کی بدذاتی یہ تھی کہ جھوٹا، بات بات پر قسمیں کھانے والا، چغل خور، نیک کاموں سے روکنے والا، بدمزاج، سرکش حرامی تھا۔ مال و اولاد کا بڑا گھمنڈ تھا۔ وہ اپنی امارت و ریاست کے نشہ میں آنحضرت ﷺ اور مسلمانوں کو حقیر سمجھتا تھا اور اپنی حکومت کی کوشش کرتا تھا کہ میرا کہنا مانیں، عدول حکمی نہ کریں۔ اس توحید و خدا پرستی سے باز آجائیں اس لیے بالخصوص اس کی اطاعت سے آنحضرت ﷺ کو منع کیا گیا۔ آپ خود بھی اس کی اطاعت کرنے والے نہیں تھے مگر تاکیداً حکم دیا اور اس کا نام نہیں لیا۔ اس کے اوصاف رذیلہ بیان کردیے تاکہ لوگوں کو ایسے اوصاف سے نفرت اور ترک کریں اور یہ بھی ثابت ہوجائے کہ ایسے اوصاف کا شخص اس قابل نہیں کہ اس کی کوئی اطاعت کرے۔ فقال ولاتطع کل حلاف کہ آپ ہر ایک بہت قسمیں کھانے والے کی نہ مانیں، بات بات پر قسمیں کھانا رذالت و کاذب ہونے کی دلیل ہے۔ مہین ذلیل حقیر ‘ دنیاوی باتوں پر جھوٹ بولنا۔ قسمیں کھانا ذلیل کردیتا ہے جس سے اس کی پست ہمتی اور ہلکا پن ثابت ہوتا ہے۔ اس کے سوا وہ موذی بھی ہو۔ ھماز طعن کرنے والا، لوگوں کو برا کہنے والا، لوگوں کے حسب و نسب، اخلاق ‘ صورت ‘ سیرت میں طعنہ کر کے لوگوں کو ایذا دینے والا۔ مشاء بنمیم چغل خور ایک کو دوسرے سے لڑا دینے والا۔ مناع للخیر نیکی سے منع کرنے والا، اگر اس کی اولاد یا نوکروں میں سے کوئی آنحضرت ﷺ کے پاس آتا تو وہ دھمکاتا کہ کھانا بند کر دوں گا۔ معتد، ظالم، لوگوں کے حقوق تلف کرنے والا۔ مزدور سے کام لیا، مار پیٹ کر نکال دیا۔ اثیم بدکار شراب پینے والا، زنا لواطت کرنے والا، عتل سرکش ‘ اڑیل ‘ بدمزاج ‘ کسی کی بات خودپسندی سے نہ ماننے والا۔ بعدذلک ان سب عیبوں کے بعد زنیم ولدالزنا۔ حرام کا نطفہ پیشتر اخلاق رذیلہ کا سرچشمہ ہوتا ہے۔ ولید کو اٹھارہ برس کے بعد اس کے باپ نے کہا تھا کہ یہ میرے نطفہ سے ہے۔ حرامی اولاد میں خیروبرکت شجاع و حمیت کم ہوتی ہے۔ جن والیان ملک نے بیشمار عورتیں گھر میں ڈال کر حرامی اولاد جنوائی نہ ان میں شجاعت و عفت دکھائی دیتی ہے نہ ریاست و سیاست کی غیرت باقی ہے۔ مرد چھچھورے ‘ بدکار، کمینہ پرست، عورتیں فاحشہ خاندان برباد ہوا۔
نطفے میں ضرور ایک نیک و بد اثر ہوتا ہے۔ علاوہ صحت و مرض جسمانی کے حلالی حرامی ہونے کا بھی ایک اثر ضرور نمایاں ہوتا ہے۔ یہ مشاہدہ میں آچکا ہے۔ زنیم کے معنی شعبی نے شریر کے بھی بیان کئے ہیں۔ عکرمہ ابن عباس ؓ سے نقل کرتے ہیں کہ اس کے زنیم ہونے کے یہ معنی ہیں کہ اس کی گردن میں رسولی تھی جس سے وہ پہچانا جاتا تھا اور لغت میں زنمہ کے معنی زیادہ کے ہیں اور بکری کے کان چیر ڈالتے ہیں اور وہ سوکھ کر لٹک جاتے ہیں تو ان کو زنمۃ الشاۃ کہتے ہیں۔ معاذاللہ جس میں ان باتوں میں سے ایک بھی ہو وہ بھی قابل نفرت ہے اس کی اطاعت کیسی ! چہ جائیکہ اس میں اس قدر عیب ہوں۔ ان کان ذامال وبنین۔ اس لیے کہ وہ مال اور لڑکوں والا ہے مغرور اور نافرمان ہوا ہے اور اس نالائقی پر یہ نعمت پا کر شکرگزاری نہیں کرتا۔ بلکہ اذاتتلی علیہ ایتنا قال اساطیر الاولین۔ جب اس کو ہماری آیتیں سنائی جاتی ہیں کہ سن کر اپنے اخلاق درست کرے، ہماری طرف رجوع ہو وہ سن کر یہ کہہ دیتا ہے کہ یہ اگلے لوگوں کی کہانیاں ہیں، کلام الٰہی نہیں۔ اس لیے اس ناشکر کے لیے دنیا میں ہی ایسی سزا دی جائے گی کہ جو اس کے کبروغرور کو مٹا دے۔ وہ کیا سنسمہ علی الخرطوم کہ ہم ابھی اس کی ناک پر جو بڑی اور بےڈول ہونے کے سبب ہاتھی کی سونڈ جیسی ہے داغ اور نشان لگا دیں گے۔ چناچہ ایسا ہی ہوا کہ بدر کی لڑائی میں کسی انصاری کی تلوار سے اس کی ناک پر چرکا لگا۔ مکہ میں آ کر اس پر پھایا لگایا اچھا ہی نہ ہوا ایک داغ ہوگیا اور آخر اسی مرض میں سخت تلخی اٹھا کر سیدھا جہنم میں گیا۔
فوائد : (1) ۔ اس بدبخت نے نبی (علیہ السلام) کو دیوانہ کہا تھا جس سے مقصود نبوت کا ابطال تھا۔ اس کے جواب میں خدا تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کی نبوت بڑے واضح دلائل سے ثابت کی اور دلائل میں آپ کے اخلاق حمیدہ اور اجر آخرت ثابت کر کے نہ صرف جنون کی نفی کی بلکہ نبوت کی اور آپ کے خلق عظیم کے مقابلہ میں اس بدبخت کے دس عیب بیان فرمائے جس سے بالمقابل اخلاق حمیدہ کی شرح بھی ہوگئی اور آسمانی حکم کے مقابلہ کرنے والے کی دنیا و آخرت کی بربادی و خرابی کی توہین بھی کی گئی تاکہ اور لوگوں کو عبرت ہو۔
(2) جب آنحضرت ﷺ پر ایک عیب لگانے والے کے دس عیب واقعی بیان کئے گئے تو حضرت ﷺ کے ساتھ سلوک اور حسن خدمت سے پیش آنے والے کی بھی یہ حالت ہے کہ ایک بھلائی کرنے والے کو دس بھلائیاں دنیا اور آخرت میں ملتی ہیں اور کم از کم دس پشتوں تک اس کا صلہ ملتا ہے جس کی نظیر صحابہ کرام ؓ کی جانفشانیاں ہیں کہ ان کو بہت جلد سرسبز ملکوں کا مالک کردیا اور ابد تک وہ اور ان کی نسلیں برگزیدہ اور مبارک سمجھی جاتی ہیں۔ حدیث شریف میں آیا ہے کہ جو مجھ پر ایک بار درود بھیجے گا اللہ اس پر دس برکت بھیجے گا۔ اللھم صلی علی سیدنا محمد وآلہ وبارک وسلم۔
(3) اس متکبر کو اور بھی سزا دے سکتا تھا، ناک پر داغ لگانے کی سزا کیوں تجویز فرمائی گئی ؟ ناک ہی غرور و خودبینی کا نشان ہے اور عرف میں ناک عزت و آبرو کو بھی کہتے ہیں اس لیے اس غرور و خودبینی کے نشان پر داغ لگایا جانا خداوند جہان کے ساتھ سرتابی ‘ سرکشی کی مناسب سزا ہے۔ بعض کہتے ہیں اس میں کنایہ ہے اس کی عزت دنیاویہ بگاڑ دینے سے۔
(4) کیا ولید کی ناک بڑی اور سونڈ جیسی تھی ؟ مگر متکبر اور مغرور اپنی ناک بڑھایا کرتا ہے اور انبیاء (علیہم السلام) کے مقابلے میں ناک بڑھانا بلندی کے ساتھ نہیں ہوتا بلکہ پستی پیدا کرتا ہے۔ اس لیے اس کو سونڈ سے تعبیر کیا۔ اور ممکن ہے کہ دراصل اس بدبخت کی ناک ظاہری لمبی اور جھکی ہوئی ہو ادبار و ہلاکت کا نشان ہے اور ایسے کریہہ المنظر مغرور کی ناک کو خرطوم کہنا جو ہاتھی اور سور کی ناک کو کہتے ہیں اس کی پوری اہانت بھی ہے اور اس میں اس طرف بھی اشارہ ہے کہ اس نے اصحاب الفیل کا واقعہ دیکھا تھا ان کی لمبی ناک کا جو مآل کار ہوا اسے خیال کر کے باز آئے۔
(5) حضرات انبیاء (علیہم السلام) کو باوجود علم اور خلق کے کبھی ضرورت مجبور کرتی ہے کہ وہ مخالف سرکش کو سخت الفاظ سے یاد کریں۔ حضرت مسیح (علیہ السلام) نے یہودیوں کو سابیوں کا بچہ کہہ دیا تھا اور قرآن مجید نے تو کسی کا نام نہیں لیا۔ ایک اوصاف رذیلہ کی تصویر کھینچی ہے۔ اب اتفاق سے وہ اوصاف رذیلہ ولید میں ہوں یا کسی اور میں۔
Ayahs 68:17–33ترکیب : اذ تعلیلیۃ اوظرفیۃ بنوع تسمح لان الانقسام کان قبل ابتلائہم لیصرمنہا جواب القسم مصبحین حال من الفاعل فی یصرمنہا ولا یستثنون جملۃ مستانفہ لبیان ماوقع منھم وقیل حال فتنادوا معطوف علی اقسموا بینما اعتراض لبیان مانزل بتلک الجنۃ ان اغدوا ان مفسرۃ لان فی التنادی معنی القول او مصدریۃ ای اخرجواغدوۃً ان کنتم الخ جواب الشرط محذوف فاغدوا وھم یتخافتون الجملۃ حال من فاعل فانطلقوا ان لایدخلنہا ان مفسرۃ للتخافت المذکور لمافیہ من معنی القول علی حرد یتعلق بقادرین وقادرین حال وقیل خبر غدوا لا نھا حملت علی اصبحوا۔
تفسیر : اہل مکہ خصوص ولید وغیرہ ثروت و حشمت پر نازاں ہو کر کہتے تھے کہ ہم پر خدا کی نظر عنایت ہے جو دنیا میں ایسا دیا۔ وہ آخرت میں بھی اس سے بھی زیادہ دے گا۔ ایسے خیالات اکثر بےدین متمولوں کے دل میں گزرا کرتے ہیں اور دیندار مساکین کی دل شکنی اور شبہ کا باعث ہوتے ہیں اس لیے اللہ تعالیٰ اس تمول و شوکت کی وجہ بیان فرماتا ہے۔ فقال انا بلونہم کہ ہم نے جو ان کو یہ فراخ دستی اور عیش و آرام دے رکھے ہیں یہ ان کی آزمائش ہے۔ بدکار، منافق، فاجر کافر، بت پرستوں کو دنیا میں نعمتیں دی جاتی ہیں، آزمائش کے لئے، ان پر پھولنا نہیں چاہیے۔ یہ اور بھی ان کی غفلت و گمراہی و سرکشی کا سبب ہوجاتا ہے۔ آخرت میں سوال ہوگا کہ کیا شکرگزاری کی تھی ؟ اور نیز یہ نعمتیں فانیہ ہیں۔ یہ اور بھی ان کے دلوں کو فنا کے بعد صدمہ کا باعث ہوتی ہیں۔ کمابلونا اصحاب الجنۃ جیسا کہ ہم نے باغ والوں کو آزمایا تھا۔
قصہ اصحاب الجنۃ : باغ والے کون تھے اور کب تھے ؟ اور ان کی کیا آزمائش تھی ؟ اور مکہ کے کفار کے روبرو ان کا ذکر کیوں کیا گیا، کیا وہ اس بات سے واقف تھے ؟
(1) باغ کی نسبت مورخین نے یہ لکھا ہے کہ ملک یمن میں شہر صنعاء سے دو کوس کے قریب ایک شخص کا باغ تھا جس کا مالک بڑا باخدا شخص تھا۔ آمدنی میں سے فقراء و مساکین کے حصے مقرر کر رکھے تھے۔ باغ کے میوئوں میں بھی حصے مقرر تھے اور اس کے اندر جو کھیتی ہوتی تھی اس میں سے بھی حصے تھے اور یہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بعد کا ذکر ہے۔ پھر جب وہ مرد باخدا مرگیا تو اس کے بیٹے اس کے وارث ہوئے۔ ان کی نیت میں فرق آگیا۔ کہنے لگے ہم عیال دار ہیں، اگر باپ کی طرح لٹائیں گے تو کیا ٹھیک لگے گا۔ یہ شیطانی وسواس ان کے دلوں میں گھس آئے اور تجویز ٹھہری کی بڑے تڑکے اٹھ کر پھل توڑ کر گھر میں لے آئو۔ فقراء کے آنے سے پہلے مگر ان میں ایک بھائی خدا ترس بھی تھا، اس نے منع کیا کہ ایسا نہ کرو۔ فقراء و مساکین کو للہ دینے سے برکت ہوتی ہے اور ان کی دعائوں کے لشکر نگہبانی کیا کرتے ہیں۔ خدا تعالیٰ اپنی مخلوق پر رحم کرنے سے مہربان ہوتا ہے۔ اپنے خدائے پاک کو نہ بھولو، اپنی تدبیر پر ناز نہ کرو۔ وہی تدابیر کو درست کرتا ہے، وہی بگاڑ دیتا ہے۔ آخر اس کی بات نہ مانی اور بڑے سویرے اٹھ کر چلے۔ ادھر خدا کی طرف سے رات ہی میں ان کی نیت بدلنے سے اس تیار باغ پر مصیبت آگئی۔ کوئی لو کا ایسا جھونکا چلا کہ جس نے جلا کر برباد کردیا۔ جب باغ کے قریب پہنچے تو جھلسا ہوا دیکھتے ہیں۔ پہلے سمجھے کہ یہ ہمارا باغ نہیں ہم راہ بھول کر کسی اور کے اس برباد باغ میں آ نکلے۔ ہمارا باغ تو شاداب وتروتازہ ہے یعنی اس کی ایسی حیثیت بگڑ گئی تھی کہ یکایک پہچان بھی نہ سکے مگر جب خوب غور سے دیکھا تو معلوم ہوا کہ ہمارا ہی باغ ہے۔ اس پر آسمانی مصیبت آ پڑی۔ پھر تو باہم کڑھنے اور ایک دوسرے کو برابھلا کہنے لگے اور ایک دوسرے کو کہنے لگا تو نے یہ صلاح دی تھی۔ وہ کہنے لگا تو نے ہی تو کہا تھا۔ اس مرد باخدا نے کہا کیوں جی میں نے نہیں کہا تھا کہ خدا کو اور اس کی تسبیح و تقدیس کو نہ بھولو۔ پھر کہنے لگے بیشک ہم خطاوار تھے اور ہمارے رب کی پاک ذات ہے۔ ہم اسی کی طرف رجوع کرتے ہیں اور اپنے کئے پر نادم ہوتے ہیں۔ امید ہے کہ ہمارا خدا اس سے بہتر دے۔ چناچہ اس کے بعد خدا نے اس باغ میں بڑی برکت دی۔ ابوخالد یمانی کہتے ہیں کہ میں نے وہ باغ دیکھا ہے جس میں ایک خوشہ انگور کا ایسا تھا کہ جیسا سیاہ 1 ؎ آدمی کھڑا ہو۔
(2) اور آزمائش ان کی یہ تھی کہ انہوں نے اس نعمت کا شکر نہ کیا۔ نیت میں فتور آیا اس لیے اس پر بلا آگئی اور جب توبہ کی، نادم ہوئے تو
خدا نے پھر اس سے بہتر دیا اور کذلک العذاب کا فقرہ کہہ رہا ہے کہ جو کوئی خداوند تعالیٰ کی نعمت کا شکریہ ادا نہ کرے گا اور اس کو اس کے موقع پر صرف نہ کرے گا اس پر بلائے آسمانی کبھی نہ کبھی ضرور ٹوٹ پڑے گی۔ عمر اور جوانی اور تندرستی بھی ایک نعمت ہے۔ اس کو بیکار اور ناشائستہ افعال میں صرف کرنے والے آخر ایک روز مصیبت کا منہ دیکھتے ہیں۔ بیماری اور بےوقت پیری اور پست ہمتی وغیرہ کس قدر مصائب ان پر آپڑتی ہیں۔ کہیں آتشک میں سڑے پڑے ہیں، کہیں کثرت مے نوشی سے بدن میں رعشہ پڑگیا، دانت گر گئے۔ تیس برس کے اندر ہی اندر نکمے ہوگئے۔ گردن ہلنے لگی، بال پک گئے، چہرے کی تازگی جاتی رہی، ضعف معدہ ‘ درد گردہ ‘ سلسل البول ‘ دمہ، ضعف بصارت، کیا کیا آفات ہم اس وقت کے عیاش لوگوں میں دیکھتے ہیں۔ ابھی آخرت کا عذاب باقی ہے۔ مال اور ملک بھی ایک نعمت الٰہی ہے۔ اس میں عدل و انصاف ملحوظ نہ رکھنا ‘ غرباء فقراء کے ساتھ ہمدردی نہ کرنا ‘ بلکہ عیاشی اور فضول خرچی میں اڑانا ‘ حقداروں کو محروم کر کے رنڈیوں، بھانڈوں، مسخروں کو دینا بےبرکتی کا باعث ہوتا ہے۔ تھوڑے دنوں میں خزانہ خالی ‘ ملک میں ابتری، لشکر میں بےدلی اور ہر طرح کی بےامنی پیدا ہوجاتی ہے۔ موقع پا کر دشمن کھڑے ہوجاتے ہیں آخر ایک روز سب دولت و ملک چھوڑنا پڑتا ہے اور چہرہ پر برائیوں کا سیاہ داغ ابد تک باقی رہ جاتا ہے۔ دیکھو پچھلے عیاش بادشاہوں کو۔
(3) مکہ کے کفار اس قصے کو بخوبی جانتے تھے کس لیے کہ گرمی و سردی میں شام اور یمن جایا کرتے تھے اس کے سوا اس مضمون کو ان کے دل تسلیم کرتے تھے کہ خدا کی راہ میں دینا نیک پھل لاتا ہے اور سرکشی اور بخل برے نتائج دکھاتا ہے کیونکہ وہ دہریے نہ تھے جو خدا کو اور اس کی قدرتوں کو نہ مانتے ہوں وہ خدا تعالیٰ اور اس کی قدرتوں کو مانتے تھے مگر اپنے خیال فاسد میں اور لوگوں کو بھی ان امور میں شریک سمجھتے تھے کہ اس نے ان کو یہ اختیارات دے رکھے ہیں۔ ولید اور مکہ کے اور سردار اپنی دولت پر گھمنڈ کر کے پیغمبر (علیہ السلام) سے سرکشی کرتے تھے اور فقراء سے بےرحمی کرتے تھے۔ اس کے بدلے سات برس کے قحط میں مبتلا ہوئے۔ کتوں کو بھون بھون کر کھانے کی نوبت آئی اور پھر جب اسلام لائے اور توبہ کی تو خدا نے ان کو ملکوں کا مالک کردیا۔ یہ مناع للخیر کی شرح ہوئی۔
اب ہم الفاظ قرآنیہ کی تفسیر کرتے ہیں۔ لیصرمنہا یہ صرم یصرم کا مضارع ہے جمع مذکر غائب بانون ثقیلہ۔ اور ہاضمیر جنت کی طرف راجع ہے۔ صرم پھلوں اور کھیتی کا کاٹنا۔ انصرام انقطاع اصرام پھلوں کے کٹنے کا وقت آنا، اور مفلس ہوجانا اور تلوار کو صارم اسی لیے کہتے
ا ؎ انگور کا خوشہ لمبا ہوتا ہے پھر بعض سیاہ انگور کا خوشہ گز سواگز کا بھی ہوتا ہے لٹکا ہوا دور سے سیاہ آدمی کھڑا ہوا معلوم ہوتا ہے۔ 12 منہ
ہیں کہ وہ زیادہ کاٹنے والی ہے۔ صریم شب تاریک، وصبح، فاصبحت کالصریم، یعنی جل کر سیاہ ہوگیا۔ ولایستثنون۔ جمہور مفسرین کہتے ہیں اس کے معنی ہیں کہ وہ انشاء اللہ نہ کہتے تھے اور کسی آیندہ کام کرنے کا اظہار کرنا اور انشاء اللہ نہ کہنا بےبرکتی کا باعث ہے۔ بعض کہتے ہیں یہ معنی کہ مساکین و فقراء کو مستثنیٰ نہ کرتے تھے محرومی سے۔ طائف اسم فاعل ہے طیف سے یا طوف سے۔ علی الاول طائف کے معنی رات میں آنے والی چیز۔ یہاں مراد ہے، لو کا جھونکا جس نے جلا کر باغ کو سیاہ کردیا۔ حرثکم حرث کھیتی۔ اس سے مراد پھل اور کھیتی اور انگور سب ہیں کس لیے کہ باغ میں صرف ایک ہی چیز نہ تھی مگر پھلوں کا توڑنا زیادہ مقصود تھا اس لیے صارمین فرمایا۔ حرد آہنگ کردن وعع1 ک 2 (صراح) یعنی صبح کو اپنے ارادہ پر مضبوط ہو کر چلے اور اس کے معنی منع کرنے کے بھی ہیں کہ صبح کو مساکین کے منع کرنے کے لیے قادر ہو کر چلے۔ بعض کہتے ہیں حرد اس باغ کا نام تھا کہ اس باغ پر چلے، قادر ہو کر۔ انالضالون یہ اول بار دیکھ کر کہا جبکہ باغ پہچانا نہ گیا۔ بل نحن محرومون جب کہا کہ جب پہچان گئے کہ تقدیر پھوٹ گئی۔ باغ تو وہی ہے۔ اوسطہم سے مراد منجھلا نہیں بلکہ ان میں سے پہلا (اے اعدلھم وافضلھم وبینا وجھہ تفسیر قولہ امۃً وسطاً ) کبیر۔ لولاتسبحون۔ کیوں نہیں تسبیح کرتے یعنی اپنے رب کی پاکی نہیں بیان کرتے تھے ان ناپاک خیالات سے کہ ” اگر ہم دیں گے تو محتاج ہوجائیں گے پھر کون دیتا ہے خدا بدلہ اور برکت کیوں دینے لگا اور جو نہ دے تو ہم کیا کریں۔ “ ان خیالات سے روکنے کو تسبیح کرنے سے تعبیر کیا۔ نہ یہ مراد کہ زبانی تسبیح کیوں نہیں پڑھتے کس لیے کہ اس سے مساکین کو کیا فائدہ تھا ؟
جب مصیبت دیکھ چکے تو قالوا سبحان ربنا کہنے لگے کہ پاک ذات ہے ہمارے رب کی اس کے وعدے سچے ہیں۔ اناکنا ظالمین۔ ہماری بدگمانی بری تھی ہم نے اپنے اوپر آپ ظلم کیا۔ عسیٰ ربنا ان یبدلنا خیرامنہا اناالی ربناراغبون چونکہ خدا پرست کے بیٹے تھے اور خود بھی اچھے تھے۔ یہ ایک شیطانی وسوسہ آگیا تھا جس کے سبب مصیبت آ پڑی مگر پھر سمجھ گئے اور تائب ہوئے اور امید خیر کی اللہ سے رکھی اور ہر مصیبت کے بعد اگر اللہ کی طرف رجوع ورغبت کی جاتی ہے تو وہ راحت اور اس تلف شدہ چیز کا بدلہ دیتا ہے اسی لیے حدیث شریف میں آیا ہے کہ جب مومن پر کوئی مصیبت آئے تو اناللہ واناالیہ راجعون کہنا چاہیے تاکہ دنیا یا آخرت میں اس کا بدلہ ملے۔
اس تمام قصے کے بعد فرماتا ہے وکذلک العذاب کہ یوں آ پڑا کرتی ہے مصیبت اس سے کبھی نڈر نہ رہیے۔ لیکن عذاب آخرت اس سے بھی بڑھ کر ہے مگر یہ لوگ جانتے نہیں۔ اگر وہاں آنے والی مصیبت کا یقین ہوجائے تو یقینا اس کی فکر کریں جب کچھ بھی فکر نہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اس کا کچھ بھی یقین نہیں۔