بِاَیِّىكُمُ الْمَفْتُوْنُ ۟بِاَيِّٮكُمُ الۡمَفۡتُوۡنُ
کہ تم میں سے کون دیوانہ ہے
— Fateh Muhammad Jalandhari
Which of you is the afflicted [by a devil].
— Saheeh International
Juz 29 · Ruku 1 of surah · Ruku 3 of juz
بِاَیِّىكُمُ الْمَفْتُوْنُ ۟بِاَيِّٮكُمُ الۡمَفۡتُوۡنُ
کہ تم میں سے کون دیوانہ ہے
— Fateh Muhammad Jalandhari
Which of you is the afflicted [by a devil].
— Saheeh International
Juz 29 · Ruku 1 of surah · Ruku 3 of juz
Read the whole surah · Surah Al-Qalam
کہ تم میں سے کون جنون میں مبتلا ہے
کہ تم میں سے کون دیوانہ ہے
کہ تم میں سے کون فتنہ میں پڑا ہوا ہے
کہ تم میں سے کون دیوانگی میں مبتلا ہے۔
کہ تم میں کون مجنون تھا،
کہ تم میں سے کون دیوانہ ہے،
کہ تم میں سے کون فتنے میں ڈالا ہوا ہے۔
کہ تم میں سے کون جنون میں مبتلا ہے
کہ فتنہ میں پڑا ہوا تم میں سے کس گروہ کے ساتھ ہے۔
کہ تم میں سے جنوں کس کو ہے
کہ تم میں سے کس کو (واقعی) جنون تھا۔
کہ تم میں سے کون فتنے میں مبتلا تھا !
کہ تم میں سے کون دیوانہ ہے۔
which of you is afflicted with madness.
which of you is demented.
which of you is demented.
Which of you is afflicted with madness.
Which of you is the demented.
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
Which of you is the afflicted [by a devil].
which of you has been afflicted by insanity.
Which of you is afflicted with madness.
Which of you is afflicted with madness.
Which of you is afflicted with madness.
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 1–7
نون وغیرہ جیسے حروف ہجا کا مفصل بیان سورة بقرہ کے شروع میں گذر چکا ہے اس لئے یہاں دوہرانے کی ضرورت نہیں، کہا گیا ہے کہ یہاں ان سے مراد وہ بڑی مچھلی ہے جو ایک محیط عالم پانی پر ہے جو ساتوں زمینوں کو اٹھائے ہوئے ہے، ابن عباس سے مروی ہے کہ سب سے پہلے اللہ نے قلم کو پیدا کیا اور اس سے فرمایا لکھ اس نے کہا کیا لکھوں ؟ فرمایا تقدیر لکھ ڈال پس اس دن سے لے کر قیامت تک جو کچھ ہونے والا ہے اس پر قلم جاری ہوگیا پھر اللہ تعالیٰ نے مچھلی پیدا کی اور پانی کے بخارات بلند کئے، جس سے آسمان بنے اور زمین کو اس مچھلی کی پیٹھ پر رکھا مچھلی نے حرکت کی جس سے زمین بھی ہلنے لگی پس زمین پر پہاڑ گاڑ کر اسے مضبوط اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–8
سورة الْقَلَم 4 اس مقام پر یہ فقرہ دو معنی دے رہا ہے۔ ایک یہ کہ آپ اخلاق کے بہت بلند مرتبے پر فائز ہیں اسی وجہ سے آپ ہدایت خلق کے کام میں یہ اذیتیں برداشت کر رہے ہیں ورنہ ایک کمزور اخلاق کا انسان یہ کام نہیں کرسکتا تھا۔ دوسرے یہ کہ قرآن کے علاوہ آپ کے بلند اخلاق بھی اس بات کا صریح ثبوت ہیں کہ کفار آپ پر دیوانگی کی جو تہمت رکھ رہے ہیں وہ سراسر جھوٹی ہے، کیونکہ اخلاق کی بلندی اور دیوانگی، دونوں ایک جگہ جمع نہیں ہو سکتیں۔ دیوانہ وہ شخص ہوتا ہے جس کا ذہنی توازن بگڑا ہوا ہو اور جس کے مزاج میں اعتدال باقی نہ رہا ہو۔ اس کے برعکس آدمی کے بلند اخلاق اس بات کی شہادت دیتے ہیں کہ وہ نہایت صحیح الدماغ اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–7
فَسَتُبْصِرُ وَيُبْصِرُوْنَ (عنقریب آپ بھی دیکھ لیں گے اور یہ کفار بھی دیکھ لیں گے تم میں کون مجنون ہے) مفتون اس جگہ بمعنے مجنون ہے۔ پچھلی آیات میں آپ کو مجنون کہنے والوں کے طعنہ کو دلائل سے رد کیا گیا تھا اس آیت نے پیش گوئی کے طور پر یہ بتلایا کہ یہ بات یوں ہی ڈھکی چھپی رہنے والی نہیں ہے قریب آنے والے وقت میں سب آنکھوں سے دیکھ لیں گے کہ معاذ اللہ آپ مجنون تھے یا آپ کو مجنون کہنے والے پاگل دیوانے تھے چناچہ تھوڑے ہی عرصہ میں یہ بات کھل کر دنیا کے سامنے آگئی اور انہیں مجنون کہنے والوں میں سے ہزاروں حلقہ بگوش اسلام ہو کر آپ کے اتباع و محبت کو سرمایہ سعادت سمجھنے لگے اور بہت سے اشقیاء جن کو توفیق…
Read the full tafseer →’بِأَیْیِّکُمُ الْمَفْتُوْنُ‘ میں ’ب‘ بظاہر ’تُبْصِرُ‘ اور ’یُبْصِرُوْنَ‘ کے ساتھ بے جوڑ سی معلوم ہوتی ہے لیکن یہاں تضمین ہے یعنی ’یُبْصِرُوْنَ‘ متضمن ہے ’یَعْلَمُوْنَ‘ کے معنی پر۔ مجھے یاد پڑتا ہے کہ زمخشری کی رائے یہی ہے اور میرے نزدیک یہ رائے اصول عربیت کے مطابق ہے۔ ’بِأَیْیِّکُمُ‘ کے معنی ’بِاَیِّ الْحِزْبَیْنَ‘ کے ہیں۔ ’مَفْتُوْنٌ‘ کے معنی ’مَجْنُوْنٌ‘ کے نہیں ہیں، جیسا کہ بعض لوگوں نے سمجھا ہے، بلکہ ’مَفْتُوْنٌ‘ ہی کے ہیں۔ یعنی وہ شخص جو دنیا اور شیطان کے جال میں پھنسا ہوا ہو۔ یہاں ’مجنون‘ کے بجائے ’مفتون‘ کا لفظ استعمال کر کے قرآن نے یہ رہنمائی دی ہے کہ جو لوگ دنیا اور شیطان کے چکر میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–7
5۔ 1 یعنی جب حق واضح ہوجائے گا اور سارے پردے اٹھ جائیں گے اور یہ قیامت کے دن ہوگا بعض نے اسے جنگ بدر سے متعلق فرمایا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
1: یہاں حرف نون انہی حروف مقطعات میں سے ہے جو مختلف قرآنی سورتوں کے شروع میں آئے ہیں، اور جن کے بارے میں سورة بقرہ کے شروع میں عرض کیا جا چکا ہے کہ ان کے ٹھیک ٹھیک معنی اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو بھی معلوم نہیں ہیں۔ 2: مکہ مکرمہ کے کافر لوگ آنحضرت ﷺ کو (معاذ اللہ) دیوانہ کہا کرتے تھے۔ اگلی آیت میں ان کی تردید فرمائی گئی ہے، اور اس سے پہلے اس آیت میں اس تردید پر یہ قسم کھائی گئی ہے۔ اس کی تفسیر میں بہت سے مفسرین نے فرمایا ہے کہ قلم سے مراد تقدیر کا قلم ہے اور ”وہ“ سے مراد فرشتے ہیں۔ یعنی قسم ہے تقدیر کے قلم کی، اور تقدیر کے ان فیصلوں کی جو فرشتے لکھتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ دیوانے نہیں ہیں۔ یعنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–7
فستبصر ............................ بالمھتد (7) (86 : 5 تا 7) ” عنقریب تم بھی دیکھ لوگے اور وہ بھی دیکھ لیں گے کہ تم میں سے کون گمراہی میں مبتلا ہے۔ تمہارا رب ان لوگوں کو بھی خوب جانتا ہے جو اس کی راہ سے بھٹکے ہوئے ہیں ، اور وہی ان کو بھی اچھی طرح جانتا ہے جو راہ راست پر ہیں “۔ المفتون (86 : 6) سے مراد ہے گمراہ۔ اللہ فرماتا ہے کہ اللہ ہدایت یافتہ لوگوں کو بھی جانتا ہے اور گمراہوں کو بھی۔ یا اس کے معنی ہیں وہ شخص جو آزمائش میں ڈال دیا گیا ہے اور جس کا نتیجہ نکلنے والا ہے۔ دونوں مفہوم قریب قریب ہیں۔ اس وعدے میں رسول اللہ اور مومنین کے لئے اطمینان ہے جبکہ مخالفین کے لئے دھمکی ہے۔ انہوں نے رسول…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
7 یعنی دل میں تو پہلے سمجھتے ہیں، لیکن عنقریب فریقین کو آنکھوں سے نظر آجائے گا دونوں میں سے کون ہوشیار اور عاقبت اندیش تھا اور کس کی عقل ماری گئی تھی جس کی وجہ سے پاگلوں کی طرح بچلی بچلی باتیں کرتا تھا۔
Read the full tafseer →آیت 6{ بِاَیِّکُمُ الْمَفْتُوْنُ۔ } ”کہ تم میں سے کون فتنے میں مبتلا تھا !“ بہت جلد دنیا پر واضح ہوجائے گا کہ تم دونوں فریقوں میں سے کون فتنے میں مبتلا ہوگیا تھا اور کون راہ راست پر تھا۔ کیا محمد بن عبداللہ ﷺ کو جنون کا عارضہ لاحق ہوگیا تھا معاذ اللہ ! یا آپ ﷺ کے مخالفین جوشِ تعصب میں پاگل ہوگئے تھے ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–8
6 یعنی یہ کوئی ایسی بات نہیں جس کا نتیجہ جلد از جلد سامنے نہ آئے۔ ایک شخص جو حکم دیتا ہے وہ نیکی اور بھلائی پر مبنی ہوتا ہے پھر وہ خود سب سے پہلے اس حکم پر عمل کرکے دکھاتا ہے۔ ہر برے کام سے اسے طبعاً نفرت ہے۔ وہ انتقام کی صورت میں بھی کوئی بری بات اپنانے کو تیار نہیں۔ فیاضی اور سماحت اس کی طبیعت میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے۔ اس کے مقابلہ میں جو لوگ ہیں انہیں طعن وتشنیع، ایذارسانی اور انتقامی کارروائیوں کے سوا کچھ سوجھتا ہی نہیں، جو بات وہ سوچتے ہیں بغض وعناد اور دوسروں کی جڑ کاٹ دینے کے لیے سوچتے ہیں۔ لہذا کوئی وجہ نہیں کہ جلد از جلد ان دونوں کا انجام ایک دوسرے کے سامنے نہ آجائے۔ اس وقت ہر ایک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
5۔ محمد رسول اللہ ﷺ کو جن کا نام رہتی دینا تک مشہور سے مشہور تر ہی ہوتا چلاجائے گا ؟ یا ابوجہل اور ابولہب اور عناد ومخالفت کے دوسرے بڑے بڑے لیڈروں کو ؟ (آیت) ” فستبصر “۔ یہ علم عنقریب ہوکر رہے گا۔ دنیا میں پوری طرح اور آخرت میں تو اس سے بھی زیادہ روشن ہو (آیت) ” بایکم “۔ ب زائد ہے اور مراد ایکم ہے یعنی تم میں سے کون۔ وقال اخرون الباء فیہ زائدۃ معناہ ایکم المفتون (معالم) انما دخلت الباء فی قولہ بایکم یقول علی تضمین العقل فی قولہ فستبصر ویبصرون (ابن کثیر) وھو قول الاخفش وابی عبیدہ وابن قتیبتۃ ان الباء صلۃ زائدۃ والمعنی ایکم المفتون (کبیر)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–7
فستبصرو یبصرون مکہ کے یہ بد باطن مشرکین عداوت کے جوش میں پاگل ہو کر جو حقیقت کو چھپانے اور نور حق کو بجھانے کی کوشش کر رہے ہیں جب عنقریب قیامت کے دن حق واضح ہوجائے گا اور سارے پردے اٹھ جائیں گے تو ساری دنیا دیکھ لے گی کہ کون دیوانہ تھا اور کون فرزانہ ؟ بعض مفسرن نے ظہور حقیقت کے دن سے یوم بدر مراد لیا ہے۔
Read the full tafseer →بایکم المفتون . بایکم میں باء زائد ہے اور المفتون (اسم مفعول) بمعنی مجنون خبر ہے۔ یعنی تم میں سے کون دیوانہ تھا۔ یا المعقول اور المجلود کی طرح المفتون بھی مصدر ہے یعنی جنون۔ اس صورت میں المفتون مبتداء اور بایکم خبر مقدم ہوگی (یعنی تم میں سے کسی کو جنون تھا) یا یہ مراد ہے کہ دونوں فریقوں میں سے کسی کو جنون تھا ‘ مؤمنوں کے فرقہ کو یا کافروں کے فرقہ کو ‘ مجنون کہنا کس فریق کو زیبا ہے۔ حاصل مطلب یہ نکلا کہ کافروں کو ہی جنون ہے کیونکہ عقل کا تقاضا ہے کہ دو اختیاری چیزوں میں سے ایک کو انتخاب کرلینے کا اگر کسی کوا ختیار دیا جائے اور دو مصیبتوں میں سے کسی ایک مصیبت میں مبتلا ہونا لازم ہو تو جو چیز…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–6
(4۔ 6) اور آپ اللہ کے پاکیزہ مکرم دین پر ہیں یا یہ کہ آپ اخلاق حسنہ کے اعلی پیمانہ پر ہیں۔ نزول عذاب کے وقت عنقریب آپ دیکھ لیں اور یہ بھی دیکھ لیں گے کہ تم میں کون مجنون تھا۔ شان نزول : وَاِنَّكَ لَعَلٰى خُلُقٍ عَظِيْمٍ (الخ) ابو نعیم نے دلائل میں اور واحدی نے حضرت عائشہ سے روایت کیا ہے کہ رسول اکرم سے بڑھ کر کوئی بلند اخلاق نہیں تھا آپ اپنے ساتھیوں اور گھر والوں میں سے جس کو پکارتے تھے تو وہ آپ کی پکار پر لبیک کہتا تھا اسی لیے اللہ تعالیٰ نے یہ آیت مبارکہ نازل فرمائی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–7
فَسَتُبْصِرُ وَیُبْصِرُوْنَ۔۔۔۔: آپ کے خلق عظیم کا تقاضا یہی ہے کہ ان کے مجنون کہنے اور دوسری تکلیف دہ باتوں پر صبر کریں۔”چند ہی“ سے مراد وہ موقع ہیں جن میں اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کی مختلف طریقوں سے مدد کی ، جن کا خلاصہ یہ ہے کہ آخر کار آپکے جانی دشمن فوج در فوج آپ پر ایمان لا کر آپ کے جاں نثار دوست بن گئے اور جو مخالف رہے وہ بدر واحد اور خندق و فتح مکہ وغیرہ میں مردار ہوئے یا ذلیل و خوار ہوئے اور تمام جزیرۂ عرب پر اسلام کی حکومت قائم ہوگئی۔ پھر قیامت تک آپ کی امت کے ہاتھوں ہونے والے فتوحات اور اسلام کی سر بلندی سے بھی واضح ہوگیا کہ پاگل کون تھا ؟ اس کے علاوہ ”جلد ہی“ سے مراد قیامت کا دن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
فستبصر ویبصرون۔ حضرت ابن عباس نے کہا : اس کا معنی ہے آپ عنقریب جان لیں گے اور وہ بھی قیامت کے روز جان لیں گے (1) ایک قول یہ کیا گیا ہے : آپ عنقریب دیکھ لیں گے اور وہ بھی قیامت کے روز دیکھ لیں گے جب حق اور باطل واضح ہوجائے گا (2) بائیکم المفقتون (2) باء زائدہ ہے، تقدیر کلام یہ ہے فستبصر ویبصرون ایکم المفتون یعنی جسے جنون کے ساتھ آزمائش میں ڈالا گیا ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : تنبت بالدھن (المومن : 20) یثرب بھا عباد اللہ دونوں میں باء زائدہ ہے، یہ قتادہ، ابو عبیدہ اور رخفش کا قول ہے۔ راجز نے کہا : نحن بنو جعدہ اصحاب الفلج نضرب باسیف ونرجو بالفرج ہم بنو جعدہ ہیں جو فلج شہر والے ہیں۔ ہم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–8
39۔ عبد بن حمیدوابن المنذر نے سعید بن جبیر اور ابن ابزی رحمہما اللہ سے روایت کیا کہ آیت بایکم المفتون یعنی کون تم میں سے مجنون ہے۔ 40۔ عبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت بایکم المفتون یعنی کون تم میں سے مجنون ہے۔ 41۔ عبد بن حمید نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ بایکم المفتون سے مراد ہے مجنون۔ 42۔ عبد بن حمید نے ابوالجوزاء (رح) سے روایت کیا کہ آیت بایکم المفتون سے مراد ہے شیطان۔ 43۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت بایکم المفتون سے مراد ہے کہ تم میں سے کون زیادہ قریب ہے شیطان کے۔ 44۔ ابن المنذر نے حسن (رح) سے آیت فستبصر ویبصرون۔ بایکم المفتون۔ کے بارے میں روایت…
Read the full tafseer →[بِاَىيِّكُمُ : تمہارے کس کے ساتھ ][ الْمَفْتُوْنُ : مبتلائِ فتنہ (شخص) ہے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
﴿فَسَتُبْصِرُ وَ يُبْصِرُوْنَۙ005﴾ (سو آپ دیکھ لیں گے اور وہ لوگ بھی دیکھ لیں گے) ﴿ بِاَىيِّكُمُ الْمَفْتُوْنُ 006﴾ (کہ تم میں سے کسے جنون ہے) جو لوگ آپ کو دیوانہ کہتے تھے (العیاذ باللہ) پہلے دلائل سے ان کی تردید کی پھر فرمایا کہ عنقریب ہی آپ بھی دیکھ لیں گے اور یہ لوگ بھی دیکھ لیں گے کہ دیوانہ کون ہے ؟ حضرت ابن عباس ؓ سے اس کا مطلب یوں منقول ہے کہ یہ اہل باطل جو آپ کو دیوانہ بتا رہے ہیں روز قیامت ان کو پتہ چل جائے گا کہ یہ خود ہی دیوانہ تھے۔ اور بعض حضرات نے آیت کا یہ مطلب بتایا ہے کہ عنقریب ہی سب کے سامنے اسی دنیا میں بات آجائے گی کہ دیوانہ کون ہے، چناچہ رسول اللہ ﷺ کی بات پھیلی دعوت آگے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–16
بیان عظمت رسول اکرم ﷺ وتلقین صبر و استقامت : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” ن والقلم وما یسطرون ........ الی .......... سنسمہ علی الخرطوم “۔ (ربط) گزشتہ سورت میں خداوند عالم کی خالقیت کے دلائل ذکر کئے گئے اور یہ کہ اس کی قدرت کائنات کو محیط ہے اس کے احاطہ علم وقدرت سے کوئی مجرم نہیں نکل سکتا تو اب اس سورت میں آنحضرت ﷺ کی رسالت ونبوت کو ثابت فرمایا گیا اور یہ کہ آپ ﷺ کی شان میں گستاخی کرنے والے مجرمین خدا کے عذاب سے ہرگز نہیں بچ سکتے اور جو کچھ وہ آپ ﷺ پر اعتراض کرتے ہیں وہ سب لغو اور بےہودہ باتیں ہیں کوئی صحیح العقل انسان ایسی بےہودہ باتیں تصور بھی نہیں کرسکتا ارشاد فرمایا۔ ن۔ خدا تعالیٰ ہی اس کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
4:۔ ” فستبصر ویبصورن “ یہ مشرکین پر زجر ہے۔ ” المفتون “ مصدر ہے۔ یعنی الفتنۃ بمعنی الجنون (روح) ۔ بہت جلد دنیا ہی میں جب اسلام کو غلبہ حاصل ہوجائے گا اور یہ صنادید کفر اور اراکین شرک مسلمانوں کے ہاتھوں مغلوب و مقہور ہوں گے تو ان کا سارا غرور خاک میں مل جائے گا اس وقت آپ بھی مشاہدہ کرلیں گے اور وہ خود بھی دیکھ لیں گے کہ حقیقت میں دیوانہ اور مجنون کون ہے ؟ حاصل یہ ہے کہ اس وقت انہیں معلوم ہوجائے گا کہ حقیقت میں دیوانے تو وہ خود ہیں۔ جنہوں نے دین حق سے اعراض کر کے دنیا اور آخرت میں ذلت و رسوائی مول لی اور اللہ کے سچے پیغمبر (علیہ السلام) کو جھوٹے طعنوں کا نشانہ بتاتے رہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
وجہ تسمیہ اور کوائف : اس سور ۃ کی پہلی آیت میں قلم کا لفظ مذکور ہے۔ اور اسی وجہ سے اس سورة کا نام سورة قلم ہے اس سورة کی باون آیات ، تین سو الفاط اور ایک ہز اور دو سوچھپن حروف ہیں۔ اس سے پہلے سورة ملک کی تیس آیات تھیں اور اس کی باون آیتیں ہیں۔ مضامین سورة (ربطہ) : اس سے پہلی سورة میں توحید ذات خداوندی ، دلائل توحید ، جزائے اعمال اور ضمنا رسالت کا ذکر تھا۔ اس سورة میں زیادہ تر رسالت کا تذکرہ ہے۔ جزائے اعمال اور قیامت کا ذکر بھی ہے۔ پہلی سورة میں توحید کے دلائل زیادہ تھے اس میں نبوت اور رسالت پر اعتراضا کے جواب دیے گئے ہیں ان کا رد کیا گیا ہے۔ اور تبنیہ کی گئی ہے۔ خاص طور پر مکہ کے خوشحال لوگوں…
Read the full tafseer →بِاَىيِّكُمُ الْمَفْتُوْنُ 6 أيا أَيُّ في الاستخبار موضوع للبحث عن بعض الجنس والنوع وعن تعيينه، ويستعمل ذلک في الخبر والجزاء، نحو : أَيًّا ما تَدْعُوا فَلَهُ الْأَسْماءُ الْحُسْنى [ الإسراء/ 110] ، وأَيَّمَا الْأَجَلَيْنِ قَضَيْتُ فَلا عُدْوانَ عَلَيَّ [ القصص/ 28] ( ا ی ی ) ای ۔ جب استفہام کیلئے ہو تو جنس یا نوع کی تعیین اور تحقیق کے متعلق سوال کے لئے آتا ہے اور یہ خبر اور جزا کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے چناچہ فرمایا :۔ { أَيًّا مَا تَدْعُوا فَلَهُ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَى } ( سورة الإسراء 110) جس نام سے اسے پکارا اس کے سب نام اچھے ہیں { أَيَّمَا الْأَجَلَيْنِ قَضَيْتُ فَلَا عُدْوَانَ عَلَيَّ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
ترکیب : ن۔ قریٔ بادغام النون الثانیہ من ہجائھانی الواوقریٔ بالاظہار وبالفتح وبالکسر وبالضم اما الفتح فباضمار فعل والفتح علی اضمارا لقسم اولالتقاء الساکنین والضم علی النبائ۔ والقلم الواوللقسم وماموصولۃ یسطرون صلۃ والعائد محذوف والجملۃ معطوفۃ علی القلم ما انت الجملۃ جواب القسم وان لک الجملۃ معطوفۃ علی الجملۃ السابقۃ و انک ایضا معطوفۃ علیھا والجملات الثلاث جواب القسم۔ بایکم المفتون الباء زائدۃ ویمکن ان یکون المفتون مصدر امثل المعقول والمیسور ای بایکم الجنون۔ تفسیر : جمہور کے نزدیک یہ سورة بھی مکہ میں نازل ہوئی ہے۔ حسن و عکرمہ وعطاء کا بھی یہی قول ہے۔ ابن عباس ؓ سے منقول ہے کہ سب سے اول اقرء نازل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
فَسَتُبْصِرُوَ یُبْصِرُوْنَ ۔ بِاَیِّـکُمُ الْمَفْتُوْنُ ۔ (القلم : 5، 6) (پس عنقریب تم بھی دیکھ لو گے اور وہ بھی دیکھ لیں گے۔ کہ تم میں سے کون جنون میں مبتلا ہے۔ ) آنحضرت ﷺ کے لیے تسلی اور مخالفین کے لیے تنبیہ یہ آنحضرت ﷺ کے لیے تسلی اور مخالفین کے لیے تنبیہ ہے۔ آنحضرت ﷺ سے کہا جارہا ہے کہ اگر یہ لوگ مختلف حربوں سے آپ ﷺ کی دعوت کو بےاثر کرنے کی کوشش میں ہیں اور مختلف طریقوں سے لوگوں کو آپ ﷺ سے بدگمان کرنا چاہتے ہیں اور ان کا گمان یہ ہے کہ شاید یہ اپنے مقصد میں اس طرح سے کامیاب ہوجائیں گے تو آپ ﷺ انھیں ان کے حال پر چھوڑ دیجیے۔ اپنی تبلیغی مساعی کو جاری رکھئے اور ان کی نامناسب باتوں پر صبر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–9
فہم القرآن ربط کلام : آپ ﷺ کو یوانہ کہنے والوں کا انجام کفار قرآن مجید اور دعوت توحید کی مخالفت کی وجہ سے آپ ﷺ کو مجنون کہنے کے ساتھ یہ الزام بھی دیتے تھے کہ آپ راہ راست سے بھٹک گئے ہیں کیونکہ آپ جو انہیں دعوت دیتے تھے وہ انہوں نے پہلے نہیں سنی تھی۔ وہ اس دعوت کو اپنی مذہبی اور معاشرتی روایات کے خلاف سمجھتے تھے اس لیے پراپیگنڈہ کرتے کہ آپ صراط مستقیم سے بھٹک گئے ہیں۔ سورة یٰس کی ابتدائی آیات میں اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کی ذات اور قرآن کی قسم اٹھا کر فرمایا ہے کہ آپ ﷺ صراط مستقیم پر گامزن ہیں۔ یہاں یہ ارشاد فرمایا کہ آپ کا رب اچھی طرح جانتا ہے کہ کون اس کے راستے سے بھٹک چکا ہے اور کون سیدھے راستے…
Read the full tafseer →6 : بِاَیِّکُمُ الْمَفْتُوْنُ (کہ تم میں کس کو جنون تھا) مفتون مجنون کے معنی میں ہے یہ فتن سے لیا گیا کیونکہ وہ جنون کی مشقت میں ڈالا گیا باء زائدہ ہے۔ نمبر 2۔ المفتون مصدر ہے جیسا المعقول یعنی تم میں کس کو جنون ہے۔ قول الزجاج (رح) باء ؔ فی کے معنی میں ہے جیسا کہتے ہیں کنت ببلد کذا ای فی بلد کذا میں فلاں شہر میں تھا۔ اب تقدیر کلام یہ ہے فی ایکم المفتون یعنی کس فریق کو ہر دو فریق میں سے جنون تھا مؤمنوں کے فرقہ کو یا کفار کے گروہ کو۔
Read the full tafseer →5 ۔” فستبصرو یبصرون “ پس عنقریب اے محمد ! ( ﷺ ) آپ دیکھ لیں گے اور وہ یعنی اہل مکہ بھی دیکھ لیں گے جب ان پر عذاب اترے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
1۔ 7۔ یہ سورة مکی ہے کیونکہ اس کی شروع کی آیتیں مکہ میں نازل ہوئی ہیں اور پھر مابعد کی کچھ آیتیں بعض مفسروں کے قول کے موافق مدنی ہیں لیکن جس سورة کا شروع کا حصہ مکی ہو امام المفسرین حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کے قول کے موافق وہ سورة مکی کہلاتی ہے۔ اسی واسطے حافظ ابن 1 ؎ کثیر نے اس سورة کو مکی قرار دیا ہے حروف مقطعات کی بحث سورة بقر میں گزر چکی ہے قلم اور قلم سے جو کچھ لکھا جائے اللہ تعالیٰ نے اس کی قسم کھا کر آگے کا مطلب بیان فرمایا ہے اس قلم میں وہ قلم بھی داخل ہے جس سے لوح محفوظ پر دنیا کی سب کائنات لکھی گئی ہے قلم کی کتابت میں لوح محفوظ کا نوشتہ بھی داخل ہے اللہ تعالیٰ نے عرش سے پہلے قلم کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
اللہ تبارک وتعالی، قلم، کی قسم کھاتا ہے۔ یہ اسم جنس ہے جو ان تمام اقلام کو شامل ہے جن کے ذریعے سے مختلف علوم کو علوم کو لکھا جاتا ہے اور جن کے ذریعے سے مختلف انواع کا کلام لکھا جاتا ہے، اللہ تعالیٰ کی عظیم نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے، جو اس امر کی مستحق ہے کہ محمد کی ان عیوب کے بارے میں براءت پر اس کی قسم کھائی جائے جو آپ کے دشمن آپ کی طرف منسوب کرتے ہیں یعنی جنون وغیرہ۔ پس آپ کے رب کی نعمت اور احسان سے ان عیوب کی آپ نفی کی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو عقل کامل، عمدہ رائے اور فصاحت و بلاغت سے لبریز کلام فیصل سے سرفراز فرمایا ہے جو بہترین کلام ہے جسے قلم لکھتے ہیں اور مخلوقات اسے قلم بند کرتی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–8
6 مکذبین و منکرین کی اطاعت و فرمانبرداری سے ممانعت کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا پس حق اور حقیقت کی وضاحت ہوگئی تو آپ بھی کہا نہیں ماننا جھٹلانے الوں کا جیسا کہ اب تک نہیں مانا کیونکہ حق اور باطل کا توافق اور جوڑ ممکن ہی نہیں، کہ باطل دوئی پسند ہے اور حق لاشریک، شرکت میانہ حق و باطل نہ کر قبول، سوس اس ارشاد میں بھی خطاب اگرچہ پیغمبر سے ہے لیکن سنانا دراصل آپ ﷺ کے انہی منکروں کو ہے، جو حق بات کو سننے اور ماننے کو تیار نہیں ہے۔ بلکہ اس کے برعکس اس طرح کی خبیث کوششوں میں لگے ہوئے تھے کہ کسی طرح آپ ﷺ ان کی باتوں میں آ کر، اور ان کا کہا مان کر ان کے طور طریقوں کو اپنا لیں، جیسا کہ آگے بھی آ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–16
رسول کریم ﷺ کا خلق عظیم اور کفار کی اطاعت سے بچنے کا حکم تشریح : جیسا کہ پہلے بھی سورتوں میں مختلف چیزوں کی قسم مختلف چیزوں کے صحیح ثابت کرنے کے لیے کھائی گئی ہے تو یہاں نبی پاک ﷺ کے حسن کردار اور صفات کے بلند پایہ ہونے کے لیے قلم و قرآن کی قسم کھائی گئی ہے۔ آپ ﷺ تو مجسم صفات ہیں قرآن و احادیث میں جگـہ جگہ آپ ﷺ کی جملہ صفات کا ذکر بڑے مستند حوالوں سے کیا گیا ہے۔ کیوں نہ ہو آپ ﷺ دنیا کے بہترین انسان اور پیغمبر ہیں آپ ﷺ رحمت حیا، جودوسخا، وفا، صبر، زہد وتقویٰ حسن سلوک اور حسن تادیب کے لحاظ سے بلکہ ہر لحاظ سے بےمثال ہیں آپ ﷺ کو انسان کامل ہونے کا رتبہ حاصل ہے۔ آپ ﷺ محسن انسانیت اور رحمۃ للعٰلمین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–33
آیات 1 تا 23۔ اسرار ومعارف۔ قسم ہے قلم کی اور جو کچھ قلم سے لکھاجاتا ہے یعنی آپ ﷺ نے امی ہونے کے باوجود علم کے وہ دریابہائے کہ خود قلم اور اس کی تحریر آپ کے کامل عقل مند اور بےمثال صاحب خرد ہونے پر دال ہے۔ مجنون۔ جب آپ ﷺ نے اعلان نبوت فرما کر ساری انسانیت کو دعوت حق دے دی اور تمام انسانوں کے لیے ایک عقیدہ اور ایک نظام حیات تو مشرکین نے اسے معاذ اللہ پاگل پن قرار دیا کہ دنیا کی عظیم الشان حکومتیں ساری دنیا پہ ایک نظام رائج نہ کرسکیں۔ پھر آپ ﷺ امی ہیں ، اکیلے ہیں یا چند مسلمان جن کی بظاہر کوئی حیثیت نہیں پھر اقوام عالم کے مزاج الگ ، فکر الگ ، رنگ ونسل اپنی اپنی ، غذا الگ زبانیں الگ موسم اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
ف 3 یعنی قیامت کے روز جب حق واضح ہوگا اور ان دیکھی حقیقتوں سے پردہ اٹھے گا تو پتا چل جائے گا کہ حقیقت میں دیوانہ کون تھا۔
Read the full tafseer →(68:6) بایکم المفتون : اس میں ب زائدہ ہے اور المفتون، فتون مصدر سے اسم مفعول کا صیغہ واحد مذکر، فتنۃ میں ڈالا ہوا۔ فتنہ میں پڑا ہوا۔ دیوانہ، فریفتہ، مصیبت زدہ، آزمایا ہوا۔ فتن یفتن (باب ضرب) فتون وفتنۃ مصدر۔ ایکم ای استفہامیہ، مضاف کم ضمیر جمع مذکر حاضر، مضاف الیہ، تم میں سے کون۔ ترجمہ :۔ تم میں سے کون دیوانہ (مجنون) ہے
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–33
لغات القرآن۔ یسطرون۔ وہ لکھتے ہیں۔ ممنون۔ منقطع ہونے والا۔ ختم ہونے والا۔ تبصر۔ تو دیکھے گا۔ المفتون۔ دیوانہ۔ ودوا۔ وہ پسند کرتے ہیں۔ تدھن۔ تو خوشامد کرے۔ تو نمر پرے۔ حلاف۔ بہت قسمیں کھانے والا۔ مھین۔ ذلیل کمینہ۔ ھماز۔ طعنے دینے والا۔ مشائ۔ پھرنے والے۔ نیمیم۔ چغل خور۔ باتیں لگانے والے۔ مناع۔ روکنے والا۔ معتد۔ حد سے بڑھنے والا۔ اثیم۔ گناہ گار۔ عتل۔ اکھڑ۔ اجد۔ زنیم۔ بدنام۔ نسیم۔ ہم داغ دیں گے۔ الخرطوم۔ ناک۔ دم۔ سونڈ۔ تشریح : سورة القلم کا آغاز ” ن “ سے کیا گیا ہے جو حروف مقطعات میں سے ایک حروف ہے۔ اس کے کیا معنی ہیں ؟ اس کی تفصیل اس سے پہلی ابتدائی سورتوں میں آچکی ہے کہ ان حروف کے معنی اور مراد…
Read the full tafseer →(ف 3) اے محبوب یہ حال کہ کون دیوانہ ہے حق سے بیگانہ ہے عنقریب کھلاجاتا ہے اب عذاب اترتا ہے تم اور یہ سب کے سب جان لیں گے اور صاف ظاہر ہوگا کہ دونوں میں سے کون ہوشیار اور عاقبت اندیش تھا اور کون احمق مجنون تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–8
[4] یعنی آپ ﷺ کا بلند اخلاق ہونا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ کفار کا آپ ﷺ کو مجنون کہنا سراسر جھوٹ ہے کیونکہ بلند اخلاق اور جنون ایک جگہ جمع نہیں ہوسکتے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–12
سورة القلم اور جنون وخرد 2: حضور ﷺ کے متعلق مکہ والوں کی رائے تھی ۔ کہ ان کو خلل دماغ ہے ۔ یورپ کے بعض متعصب مشنریوں نے بھی یہ کہا ہے ۔ کہ نبوت محض مرض ضرع کا دوسرا نام تھا ۔ معاذ اللہ مگر قرآن حکیم فرماتا ہے ۔ کہ قلم اور تحریر کا جتنا اندوختہ اس وقت فطرت نے محفوظ رکھا ہے ۔ اور جس قدر کہ اس میں اضافہ ہوسکتا ہے ۔ اس سارے ذخیرہ ادب و عظمت کو میزان کے چڑے میں رکھو ۔ اور اس کے بعد اس پیغام کو دوسرے پلڑے میں رکھو ۔ جس کو معاذ اللہ اس حکیم امی نے پیش فرمایا ہے ۔ جس کے متعلق موازنہ ، اس کے پیش کردہ پیغام کی برکات سے استفادہ کرتی رہے گی ۔ اور بس سرچشمہ معارف میں مکھی پیدا نہ ہوگی ۔ یہ کتنی بڑی فریب…
Read the full tafseer →(6) کہ تم میں سے کون جنون میں مبتلا تھا۔ یعنی عذاب دنوی کے وقت یا مرنے کے بعد یا قیامت کے دن کا عذاب دیکھ کر یہ بات معلوم ہوجائے گی کہ درحقیقت مجنون کون تھا اور جنون کے فتنے میں کون مبتلا تھا کیونکہ جنون موجب ہے زوال عقل کا اور زوال عقل کا اثر یہ ہوتا ہے کہ ضرر سے بچتا نہیں اور نفع حاصل نہیں کرسکتا لہٰذا قیامت کے دن یہ بات آشکارا ہوجائے گی کہ کون نفع سے محروم رہ کر ضرر میں مبتلا ہوتا ہے اور اجروثواب سے محروم رہ کر عذاب میں گرفتار ہوتا ہے اس دن یہ بات آنکھوں سے بھی مجرم دیکھ لے گا اور دل سے بھی یقین کرلے گا جو اس دن کے ضرر سے محفوظ نہ رہ سکا اور اس دن کے نفع سے محروم رہا وہی دیوانہ تھا اور وہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–8
ف 7۔ یعنی جنون کی حقیقت ہے زوال عقل، اور عقل کی غایت ہے ادراک نفع و ضرر، اور نفع و ضرر معتدبہ وہ ہے جو ابدی ہو، پس قیامت میں ان کو یہی معلوم ہوجاوے گا کہ عاقل اہل حق تھے جنہوں نے اس نفع کو حاصل کیا، اور مجنون یہ خود تھے جو اس نفع سے محروم رہ کر ضرر ابدی میں مبتلا ہوئے۔
Read the full tafseer →معلوم ہوگیا کہ کون تم میں سے دیوانہ تھا 6 ؎ گزشتہ چھوٹے سے فقرہ میں جو بات کہی تھی اس کی مزید وضاحت بیان کردی کہ پھر وقت آنے پر سب نے دیکھ لیا کہ دیوانہ اور مجنون کون تھا ؟ جس کو کہا گیا وہ یا جن لوگوں نے کہا وہ دیوانہ تھے ؟ اور آج یہ بات کسی سے پوشیدہ نہیں ہے کہ جس کو انہوں نے دیوانہ ، شاعر اور کاہن وغیرہ کے الزام دیئے اس کا دعویٰ اللہ تعالیٰ کا رسول ہونے کا تھا اور وہ اپنے دعویٰ میں سچا نکلا اور جو جو باتیں اس نے اللہ کے حکم سے کہی تھیں ان میں سے ایک ایک صحیح اور درست نکلی اور آپ ﷺ پر اس طرح کے الزامات رکھنے والے حواس باختہ ہوگئے اور یہ بات فتح مکہ کے روز بالکل صاف ہوگئی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–7
فَسَتُبْصِرُ وَيُبْصِرُونَ بِأَييِّكُمُ الْمَفْتُونُ (So, you will see, and they will see which of you is demented....68:5-6]. The word maftun, in this context, means 'demented'. In the preceding verses, the Holy Prophet ', was accused of being an insane and demented. This verse turns tables upon the accusers of the Holy Prophet , and making a prophecy, tells them in challenging words that time will show whether it was he or they who suffered from insanity, or whether his claim to be Allah's Messenger ﷺ was the outpouring of heated brain, or whether they themselves were so demented as not…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–8
4 Here, this sentence gives two meanings: (1) "That you stand exalted to a high and noble character; that is why you are enduring all these hardships in your mission of guiding the people to the Right Way, otherwise a tnan of weak character could not have done so;" and (2) "that besides the Qur'an, your high and noble character also is a clear proof that the accusation of madness that the disbelievers bring against you is absolutely false, for high morals and madness cannot co-exist in one and the same person. " A madman is he whose balance of mind is upset, who has lost his temperamental…
Read the full tafseer →