Al-Qalam 68:5

Al-Qalam · from ayah 5

68:5

فَسَتُبْصِرُ وَیُبْصِرُوْنَ ۟ۙفَسَتُبۡصِرُ وَيُبۡصِرُوۡنَۙ

سو عنقریب تم بھی دیکھ لو گے اور یہ (کافر) بھی دیکھ لیں گے

— Fateh Muhammad Jalandhari

So you will see and they will see

— Saheeh International

Juz 29 · Ruku 1 of surah · Ruku 3 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Qalam

All translations of 68:5

عنقریب تم بھی دیکھ لو گے اور وہ بھی دیکھ لیں گے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

سو عنقریب تم بھی دیکھ لو گے اور یہ (کافر) بھی دیکھ لیں گے

— مولانا فتح محمد جالندہری

پس اب تو بھی دیکھ لے گا اور یہ بھی دیکھ لیں گے

— مولانا محمد جوناگڑہی

چنانچہ تم بھی دیکھ لو گے اور یہ لوگ بھی دیکھ لیں گے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تو اب کوئی دم جاتا ہے کہ تم بھی دیکھ لو گے اور وہ بھی دیکھ لیں گے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

پس عنقریب آپ (بھی) دیکھ لیں گے اور وہ (بھی) دیکھ لیں گے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

پس جلد ہی تو دیکھ لے گا اور وہ بھی دیکھ لیں گے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

عنقریب آپ بھی دیکھ لیں گے اور وہ بھی دیکھ لیں گے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

پس تم بھی عنقریب دیکھ لو گے اور وہ بھی دیکھ لیں گے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

پس عنقریب آپ بھی خود دیکھ لیں گے اور یہ لوگ بھی خود دیکھ لیں گے

— مولانا اسحاق مدنی

عنقریب آپ بھی دیکھ لیں گے اور یہ لوگ بھی دیکھ لیں گے

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

تو عنقریب آپ ﷺ بھی دیکھ لیں گے اور وہ بھی دیکھ لیں گے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

سو عنقریب آپ بھی دیکھ لوگے اور یہ کافر بھی دیکھ لیں گے

— محترمہ رفعت اعجاز

So you will soon see, and they too will see,

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

So, you will see, and they will see

— Muhammad Taqi Usmani

So, you will see, and they will see

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

You will see, and they will see,

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

So you will see and they will see

— Saheeh International

You will see and they will also see

— Muhammad Sarwar

So you shall see, and they (too) shall see,

— Muhammad Habib Shakir

Anon thou wilt see and they will see:

— Abdul Majid Daryabadi

Tafseer of 68:5

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–7

نون وغیرہ جیسے حروف ہجا کا مفصل بیان سورة بقرہ کے شروع میں گذر چکا ہے اس لئے یہاں دوہرانے کی ضرورت نہیں، کہا گیا ہے کہ یہاں ان سے مراد وہ بڑی مچھلی ہے جو ایک محیط عالم پانی پر ہے جو ساتوں زمینوں کو اٹھائے ہوئے ہے، ابن عباس سے مروی ہے کہ سب سے پہلے اللہ نے قلم کو پیدا کیا اور اس سے فرمایا لکھ اس نے کہا کیا لکھوں ؟ فرمایا تقدیر لکھ ڈال پس اس دن سے لے کر قیامت تک جو کچھ ہونے والا ہے اس پر قلم جاری ہوگیا پھر اللہ تعالیٰ نے مچھلی پیدا کی اور پانی کے بخارات بلند کئے، جس سے آسمان بنے اور زمین کو اس مچھلی کی پیٹھ پر رکھا مچھلی نے حرکت کی جس سے زمین بھی ہلنے لگی پس زمین پر پہاڑ گاڑ کر اسے مضبوط اور…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 4–8

سورة الْقَلَم 4 اس مقام پر یہ فقرہ دو معنی دے رہا ہے۔ ایک یہ کہ آپ اخلاق کے بہت بلند مرتبے پر فائز ہیں اسی وجہ سے آپ ہدایت خلق کے کام میں یہ اذیتیں برداشت کر رہے ہیں ورنہ ایک کمزور اخلاق کا انسان یہ کام نہیں کرسکتا تھا۔ دوسرے یہ کہ قرآن کے علاوہ آپ کے بلند اخلاق بھی اس بات کا صریح ثبوت ہیں کہ کفار آپ پر دیوانگی کی جو تہمت رکھ رہے ہیں وہ سراسر جھوٹی ہے، کیونکہ اخلاق کی بلندی اور دیوانگی، دونوں ایک جگہ جمع نہیں ہو سکتیں۔ دیوانہ وہ شخص ہوتا ہے جس کا ذہنی توازن بگڑا ہوا ہو اور جس کے مزاج میں اعتدال باقی نہ رہا ہو۔ اس کے برعکس آدمی کے بلند اخلاق اس بات کی شہادت دیتے ہیں کہ وہ نہایت صحیح الدماغ اور…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 5–7

فَسَتُبْصِرُ وَيُبْصِرُوْنَ (عنقریب آپ بھی دیکھ لیں گے اور یہ کفار بھی دیکھ لیں گے تم میں کون مجنون ہے) مفتون اس جگہ بمعنے مجنون ہے۔ پچھلی آیات میں آپ کو مجنون کہنے والوں کے طعنہ کو دلائل سے رد کیا گیا تھا اس آیت نے پیش گوئی کے طور پر یہ بتلایا کہ یہ بات یوں ہی ڈھکی چھپی رہنے والی نہیں ہے قریب آنے والے وقت میں سب آنکھوں سے دیکھ لیں گے کہ معاذ اللہ آپ مجنون تھے یا آپ کو مجنون کہنے والے پاگل دیوانے تھے چناچہ تھوڑے ہی عرصہ میں یہ بات کھل کر دنیا کے سامنے آگئی اور انہیں مجنون کہنے والوں میں سے ہزاروں حلقہ بگوش اسلام ہو کر آپ کے اتباع و محبت کو سرمایہ سعادت سمجھنے لگے اور بہت سے اشقیاء جن کو توفیق…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

اہل ایمان کے لیے بشارت اور مخالفوں کے لیے وعید: یہ آنحضرت ﷺ کے لیے تسلی اور مخالفین کے لیے دھمکی ہے کہ اگر یہ تمہیں دیوانہ کہہ کر تمہاری باتوں کو بے وزن بنانا چاہتے ہیں تو کچھ دن صبر کرو۔ عنقریب تم بھی دیکھ لو گے اور یہ بھی دیکھ لیں گے کہ دونوں میں سے کس پارٹی کی باگ فتنہ میں پڑے ہوئے لیڈر کے ہاتھ میں ہے؟ اہل ایمان کی باگ، جن کی قیادت تم کر رہے یا قریش کی باگ جن کی قیادت ابولہب اور ابوجہل کر رہے ہیں؟ مطلب یہ ہے کہ اب فیصلہ کا وقت قریب ہے اور حقیقت کے ظاہر ہونے میں زیادہ دیر نہیں رہ گئی ہے۔ بہت جلد سب دیکھ لیں گے کہ کون لوگ شیطان کے فتنہ میں پڑے ہوئے تھے اور انھوں نے اپنی قوم کو تباہی کے کھڈ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 5–7

5۔ 1 یعنی جب حق واضح ہوجائے گا اور سارے پردے اٹھ جائیں گے اور یہ قیامت کے دن ہوگا بعض نے اسے جنگ بدر سے متعلق فرمایا ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 1–8

1: یہاں حرف نون انہی حروف مقطعات میں سے ہے جو مختلف قرآنی سورتوں کے شروع میں آئے ہیں، اور جن کے بارے میں سورة بقرہ کے شروع میں عرض کیا جا چکا ہے کہ ان کے ٹھیک ٹھیک معنی اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو بھی معلوم نہیں ہیں۔ 2: مکہ مکرمہ کے کافر لوگ آنحضرت ﷺ کو (معاذ اللہ) دیوانہ کہا کرتے تھے۔ اگلی آیت میں ان کی تردید فرمائی گئی ہے، اور اس سے پہلے اس آیت میں اس تردید پر یہ قسم کھائی گئی ہے۔ اس کی تفسیر میں بہت سے مفسرین نے فرمایا ہے کہ قلم سے مراد تقدیر کا قلم ہے اور ”وہ“ سے مراد فرشتے ہیں۔ یعنی قسم ہے تقدیر کے قلم کی، اور تقدیر کے ان فیصلوں کی جو فرشتے لکھتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ دیوانے نہیں ہیں۔ یعنی…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 5–7

فستبصر ............................ بالمھتد (7) (86 : 5 تا 7) ” عنقریب تم بھی دیکھ لوگے اور وہ بھی دیکھ لیں گے کہ تم میں سے کون گمراہی میں مبتلا ہے۔ تمہارا رب ان لوگوں کو بھی خوب جانتا ہے جو اس کی راہ سے بھٹکے ہوئے ہیں ، اور وہی ان کو بھی اچھی طرح جانتا ہے جو راہ راست پر ہیں “۔ المفتون (86 : 6) سے مراد ہے گمراہ۔ اللہ فرماتا ہے کہ اللہ ہدایت یافتہ لوگوں کو بھی جانتا ہے اور گمراہوں کو بھی۔ یا اس کے معنی ہیں وہ شخص جو آزمائش میں ڈال دیا گیا ہے اور جس کا نتیجہ نکلنے والا ہے۔ دونوں مفہوم قریب قریب ہیں۔ اس وعدے میں رسول اللہ اور مومنین کے لئے اطمینان ہے جبکہ مخالفین کے لئے دھمکی ہے۔ انہوں نے رسول…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 5–6

7 یعنی دل میں تو پہلے سمجھتے ہیں، لیکن عنقریب فریقین کو آنکھوں سے نظر آجائے گا دونوں میں سے کون ہوشیار اور عاقبت اندیش تھا اور کس کی عقل ماری گئی تھی جس کی وجہ سے پاگلوں کی طرح بچلی بچلی باتیں کرتا تھا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 5{ فَسَتُبْصِرُ وَیُبْصِرُوْنَ۔ } ”تو عنقریب آپ ﷺ بھی دیکھ لیں گے اور وہ بھی دیکھ لیں گے۔“ یہ بڑا پیارا اور ناصحانہ انداز ہے۔ جیسے کوئی بڑا کسی چھوٹے کو سمجھاتا ہے کہ آپ مخالفانہ باتوں پر آزردہ نہ ہوں ‘ کچھ ہی دنوں کی بات ہے ‘ اصل حقیقت بہت جلد کھل کر سامنے آجائے گی۔ پھر کسی کو کوئی شک و شبہ نہیں رہے گا :

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 4–5

5 آپ کا خلق عظیم :۔ آپ کے اخلاق کی بلندی یہ تھی کہ آپ طعن وتشنیع کرنے والوں، تمسخر اڑانے والوں، ایذا پہنچانے والوں حتیٰ کہ پتھر مارنے والوں کے حق میں دعائے خیر ہی کرتے رہے۔ پھر ایسے ہی لوگوں کی ہدایت پر آپ اتنے حریص واقع ہوئے تھے کہ اپنی جان تک اس کام میں ہلکان کر رہے تھے۔ سیدہ عائشہ ؓ فرماتی ہیں۔ کہ آپ نے کبھی کسی سے اپنی ذات کی خاطر انتقام نہیں لیا۔ پھر جب مکہ فتح ہوا، تو آپ کے سب جانی دشمن آپ کے سامنے بیٹھے ہوئے تھے۔ ان میں وہ بھی جنہوں نے آپ کو گھر بار چھوڑنے پر مجبور کردیا تھا اور آپ کی جان کی قیمت لگا دی تھی، پھر کئی بار چڑھ کر مدینہ آتے رہے تاکہ اسلام اور پیغمبر اسلام کو صفحہ ہستی سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 5–6

5۔ محمد رسول اللہ ﷺ کو جن کا نام رہتی دینا تک مشہور سے مشہور تر ہی ہوتا چلاجائے گا ؟ یا ابوجہل اور ابولہب اور عناد ومخالفت کے دوسرے بڑے بڑے لیڈروں کو ؟ (آیت) ” فستبصر “۔ یہ علم عنقریب ہوکر رہے گا۔ دنیا میں پوری طرح اور آخرت میں تو اس سے بھی زیادہ روشن ہو (آیت) ” بایکم “۔ ب زائد ہے اور مراد ایکم ہے یعنی تم میں سے کون۔ وقال اخرون الباء فیہ زائدۃ معناہ ایکم المفتون (معالم) انما دخلت الباء فی قولہ بایکم یقول علی تضمین العقل فی قولہ فستبصر ویبصرون (ابن کثیر) وھو قول الاخفش وابی عبیدہ وابن قتیبتۃ ان الباء صلۃ زائدۃ والمعنی ایکم المفتون (کبیر)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 5–7

فستبصرو یبصرون مکہ کے یہ بد باطن مشرکین عداوت کے جوش میں پاگل ہو کر جو حقیقت کو چھپانے اور نور حق کو بجھانے کی کوشش کر رہے ہیں جب عنقریب قیامت کے دن حق واضح ہوجائے گا اور سارے پردے اٹھ جائیں گے تو ساری دنیا دیکھ لے گی کہ کون دیوانہ تھا اور کون فرزانہ ؟ بعض مفسرن نے ظہور حقیقت کے دن سے یوم بدر مراد لیا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

فستبصر . سین تحقیق کے لیے ہے اور خطاب رسول اللہ ﷺ کو ہے۔ و یبصرون . یعنی قیامت کے دن آپ بھی دیکھ لیں گے اور کافر بھی کہ

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 4–6

(4۔ 6) اور آپ اللہ کے پاکیزہ مکرم دین پر ہیں یا یہ کہ آپ اخلاق حسنہ کے اعلی پیمانہ پر ہیں۔ نزول عذاب کے وقت عنقریب آپ دیکھ لیں اور یہ بھی دیکھ لیں گے کہ تم میں کون مجنون تھا۔ شان نزول : وَاِنَّكَ لَعَلٰى خُلُقٍ عَظِيْمٍ (الخ) ابو نعیم نے دلائل میں اور واحدی نے حضرت عائشہ سے روایت کیا ہے کہ رسول اکرم سے بڑھ کر کوئی بلند اخلاق نہیں تھا آپ اپنے ساتھیوں اور گھر والوں میں سے جس کو پکارتے تھے تو وہ آپ کی پکار پر لبیک کہتا تھا اسی لیے اللہ تعالیٰ نے یہ آیت مبارکہ نازل فرمائی ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 5–7

فَسَتُبْصِرُ وَیُبْصِرُوْنَ۔۔۔۔: آپ کے خلق عظیم کا تقاضا یہی ہے کہ ان کے مجنون کہنے اور دوسری تکلیف دہ باتوں پر صبر کریں۔”چند ہی“ سے مراد وہ موقع ہیں جن میں اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کی مختلف طریقوں سے مدد کی ، جن کا خلاصہ یہ ہے کہ آخر کار آپکے جانی دشمن فوج در فوج آپ پر ایمان لا کر آپ کے جاں نثار دوست بن گئے اور جو مخالف رہے وہ بدر واحد اور خندق و فتح مکہ وغیرہ میں مردار ہوئے یا ذلیل و خوار ہوئے اور تمام جزیرۂ عرب پر اسلام کی حکومت قائم ہوگئی۔ پھر قیامت تک آپ کی امت کے ہاتھوں ہونے والے فتوحات اور اسلام کی سر بلندی سے بھی واضح ہوگیا کہ پاگل کون تھا ؟ اس کے علاوہ ”جلد ہی“ سے مراد قیامت کا دن…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 5–6

فستبصر ویبصرون۔ حضرت ابن عباس نے کہا : اس کا معنی ہے آپ عنقریب جان لیں گے اور وہ بھی قیامت کے روز جان لیں گے (1) ایک قول یہ کیا گیا ہے : آپ عنقریب دیکھ لیں گے اور وہ بھی قیامت کے روز دیکھ لیں گے جب حق اور باطل واضح ہوجائے گا (2) بائیکم المفقتون (2) باء زائدہ ہے، تقدیر کلام یہ ہے فستبصر ویبصرون ایکم المفتون یعنی جسے جنون کے ساتھ آزمائش میں ڈالا گیا ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : تنبت بالدھن (المومن : 20) یثرب بھا عباد اللہ دونوں میں باء زائدہ ہے، یہ قتادہ، ابو عبیدہ اور رخفش کا قول ہے۔ راجز نے کہا : نحن بنو جعدہ اصحاب الفلج نضرب باسیف ونرجو بالفرج ہم بنو جعدہ ہیں جو فلج شہر والے ہیں۔ ہم…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

36۔ ابن المنذر نے ابن عباس رضی اللہما سے روایت کیا کہ آیت فستبصر ویبصرون۔ یعنی قیامت کے دن آپ بھی دیکھ لیں گے اور کافر بھی۔ یعنی آپ بھی جان لیں گے اور وہ بھی جان لیں گے قیامت کے دن۔ آیت بایکم المفتنون تم میں سے کون مفتون ہے۔ یعنی تم میں سے کون شیطان ہے اور وہ لوگ کہا کرتے تھے کہ وہ شیطان ہے اور مجنون ہے۔ 37۔ ابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت فستبصر ویبصرون بایکم المفتون۔ قیامت کے دن آپ بھی دیکھ لیں گے اور کافر بھی کہ کون تم میں سے دیوانہ تھا۔ یعنی تمہارے لیے مفتون ظاہر ہوجائے گا۔ 38۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے آیت فستبصر ویبصرون بایکم المفتون کے بارے میں روایت کیا کہ کون تم میں…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[فَسَتُبْصِرُ : پس آپ دیکھیں گے ][ وَيُبْصِرُوْنَ : اور یہ لوگ (بھی) دیکھ لیں گے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 5–6

﴿فَسَتُبْصِرُ وَ يُبْصِرُوْنَۙ005﴾ (سو آپ دیکھ لیں گے اور وہ لوگ بھی دیکھ لیں گے) ﴿ بِاَىيِّكُمُ الْمَفْتُوْنُ 006﴾ (کہ تم میں سے کسے جنون ہے) جو لوگ آپ کو دیوانہ کہتے تھے (العیاذ باللہ) پہلے دلائل سے ان کی تردید کی پھر فرمایا کہ عنقریب ہی آپ بھی دیکھ لیں گے اور یہ لوگ بھی دیکھ لیں گے کہ دیوانہ کون ہے ؟ حضرت ابن عباس ؓ سے اس کا مطلب یوں منقول ہے کہ یہ اہل باطل جو آپ کو دیوانہ بتا رہے ہیں روز قیامت ان کو پتہ چل جائے گا کہ یہ خود ہی دیوانہ تھے۔ اور بعض حضرات نے آیت کا یہ مطلب بتایا ہے کہ عنقریب ہی سب کے سامنے اسی دنیا میں بات آجائے گی کہ دیوانہ کون ہے، چناچہ رسول اللہ ﷺ کی بات پھیلی دعوت آگے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–16

بیان عظمت رسول اکرم ﷺ وتلقین صبر و استقامت : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” ن والقلم وما یسطرون ........ الی .......... سنسمہ علی الخرطوم “۔ (ربط) گزشتہ سورت میں خداوند عالم کی خالقیت کے دلائل ذکر کئے گئے اور یہ کہ اس کی قدرت کائنات کو محیط ہے اس کے احاطہ علم وقدرت سے کوئی مجرم نہیں نکل سکتا تو اب اس سورت میں آنحضرت ﷺ کی رسالت ونبوت کو ثابت فرمایا گیا اور یہ کہ آپ ﷺ کی شان میں گستاخی کرنے والے مجرمین خدا کے عذاب سے ہرگز نہیں بچ سکتے اور جو کچھ وہ آپ ﷺ پر اعتراض کرتے ہیں وہ سب لغو اور بےہودہ باتیں ہیں کوئی صحیح العقل انسان ایسی بےہودہ باتیں تصور بھی نہیں کرسکتا ارشاد فرمایا۔ ن۔ خدا تعالیٰ ہی اس کی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 5–6

4:۔ ” فستبصر ویبصورن “ یہ مشرکین پر زجر ہے۔ ” المفتون “ مصدر ہے۔ یعنی الفتنۃ بمعنی الجنون (روح) ۔ بہت جلد دنیا ہی میں جب اسلام کو غلبہ حاصل ہوجائے گا اور یہ صنادید کفر اور اراکین شرک مسلمانوں کے ہاتھوں مغلوب و مقہور ہوں گے تو ان کا سارا غرور خاک میں مل جائے گا اس وقت آپ بھی مشاہدہ کرلیں گے اور وہ خود بھی دیکھ لیں گے کہ حقیقت میں دیوانہ اور مجنون کون ہے ؟ حاصل یہ ہے کہ اس وقت انہیں معلوم ہوجائے گا کہ حقیقت میں دیوانے تو وہ خود ہیں۔ جنہوں نے دین حق سے اعراض کر کے دنیا اور آخرت میں ذلت و رسوائی مول لی اور اللہ کے سچے پیغمبر (علیہ السلام) کو جھوٹے طعنوں کا نشانہ بتاتے رہے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–7

وجہ تسمیہ اور کوائف : اس سور ۃ کی پہلی آیت میں قلم کا لفظ مذکور ہے۔ اور اسی وجہ سے اس سورة کا نام سورة قلم ہے اس سورة کی باون آیات ، تین سو الفاط اور ایک ہز اور دو سوچھپن حروف ہیں۔ اس سے پہلے سورة ملک کی تیس آیات تھیں اور اس کی باون آیتیں ہیں۔ مضامین سورة (ربطہ) : اس سے پہلی سورة میں توحید ذات خداوندی ، دلائل توحید ، جزائے اعمال اور ضمنا رسالت کا ذکر تھا۔ اس سورة میں زیادہ تر رسالت کا تذکرہ ہے۔ جزائے اعمال اور قیامت کا ذکر بھی ہے۔ پہلی سورة میں توحید کے دلائل زیادہ تھے اس میں نبوت اور رسالت پر اعتراضا کے جواب دیے گئے ہیں ان کا رد کیا گیا ہے۔ اور تبنیہ کی گئی ہے۔ خاص طور پر مکہ کے خوشحال لوگوں…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

فَسَتُبْصِرُ وَيُبْصِرُوْنَ۝ 5 ۙ بصر البَصَر يقال للجارحة الناظرة، نحو قوله تعالی: كَلَمْحِ الْبَصَرِ [ النحل/ 77] ، ووَ إِذْ زاغَتِ الْأَبْصارُ [ الأحزاب/ 10] ( ب ص ر) البصر کے معنی آنکھ کے ہیں جیسے فرمایا ؛کلمح البصر (54 ۔ 50) آنکھ کے جھپکنے کی طرح ۔ وَ إِذْ زاغَتِ الْأَبْصارُ [ الأحزاب/ 10] اور جب آنگھیں پھر گئیں ۔ نیز قوت بینائی کو بصر کہہ لیتے ہیں اور دل کی بینائی پر بصرہ اور بصیرت دونوں لفظ بولے جاتے ہیں قرآن میں ہے :۔ فَكَشَفْنا عَنْكَ غِطاءَكَ فَبَصَرُكَ الْيَوْمَ حَدِيدٌ [ ق/ 22] اب ہم نے تجھ پر سے وہ اٹھا دیا تو آج تیری نگاہ تیز ہے ۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 1–8

ترکیب : ن۔ قریٔ بادغام النون الثانیہ من ہجائھانی الواوقریٔ بالاظہار وبالفتح وبالکسر وبالضم اما الفتح فباضمار فعل والفتح علی اضمارا لقسم اولالتقاء الساکنین والضم علی النبائ۔ والقلم الواوللقسم وماموصولۃ یسطرون صلۃ والعائد محذوف والجملۃ معطوفۃ علی القلم ما انت الجملۃ جواب القسم وان لک الجملۃ معطوفۃ علی الجملۃ السابقۃ و انک ایضا معطوفۃ علیھا والجملات الثلاث جواب القسم۔ بایکم المفتون الباء زائدۃ ویمکن ان یکون المفتون مصدر امثل المعقول والمیسور ای بایکم الجنون۔ تفسیر : جمہور کے نزدیک یہ سورة بھی مکہ میں نازل ہوئی ہے۔ حسن و عکرمہ وعطاء کا بھی یہی قول ہے۔ ابن عباس ؓ سے منقول ہے کہ سب سے اول اقرء نازل…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 5–6

فَسَتُبْصِرُوَ یُبْصِرُوْنَ ۔ بِاَیِّـکُمُ الْمَفْتُوْنُ ۔ (القلم : 5، 6) (پس عنقریب تم بھی دیکھ لو گے اور وہ بھی دیکھ لیں گے۔ کہ تم میں سے کون جنون میں مبتلا ہے۔ ) آنحضرت ﷺ کے لیے تسلی اور مخالفین کے لیے تنبیہ یہ آنحضرت ﷺ کے لیے تسلی اور مخالفین کے لیے تنبیہ ہے۔ آنحضرت ﷺ سے کہا جارہا ہے کہ اگر یہ لوگ مختلف حربوں سے آپ ﷺ کی دعوت کو بےاثر کرنے کی کوشش میں ہیں اور مختلف طریقوں سے لوگوں کو آپ ﷺ سے بدگمان کرنا چاہتے ہیں اور ان کا گمان یہ ہے کہ شاید یہ اپنے مقصد میں اس طرح سے کامیاب ہوجائیں گے تو آپ ﷺ انھیں ان کے حال پر چھوڑ دیجیے۔ اپنی تبلیغی مساعی کو جاری رکھئے اور ان کی نامناسب باتوں پر صبر…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 5–9

فہم القرآن ربط کلام : آپ ﷺ کو یوانہ کہنے والوں کا انجام کفار قرآن مجید اور دعوت توحید کی مخالفت کی وجہ سے آپ ﷺ کو مجنون کہنے کے ساتھ یہ الزام بھی دیتے تھے کہ آپ راہ راست سے بھٹک گئے ہیں کیونکہ آپ جو انہیں دعوت دیتے تھے وہ انہوں نے پہلے نہیں سنی تھی۔ وہ اس دعوت کو اپنی مذہبی اور معاشرتی روایات کے خلاف سمجھتے تھے اس لیے پراپیگنڈہ کرتے کہ آپ صراط مستقیم سے بھٹک گئے ہیں۔ سورة یٰس کی ابتدائی آیات میں اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کی ذات اور قرآن کی قسم اٹھا کر فرمایا ہے کہ آپ ﷺ صراط مستقیم پر گامزن ہیں۔ یہاں یہ ارشاد فرمایا کہ آپ کا رب اچھی طرح جانتا ہے کہ کون اس کے راستے سے بھٹک چکا ہے اور کون سیدھے راستے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

5 : فَسَتُبْصِرُ وَ یُبْصِرُوْنَ (پس عنقریب آپ بھی دیکھ لیں گے اور یہ لوگ بھی دیکھ لیں گے) عنقریب آپ دیکھ لیں گے اور وہ دیکھ لیں گے یہ آپ کے ساتھ وعدہ اور کفار کے متعلق وعید ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

وانک لعلی خلق عظیم کی تفسیر 4 ۔” وانک لعلی خلق عظیم “ ابن عباس ؓ اور مجاہد (رح) فرماتے ہیں عظیم دین پر ہیں نہ اس سے زیادہ کوئی دین مجھے محبوب ہے اور نہ میرے ہاں پسندیدہ ہے اور وہ دین اسلام ہے اور حسن (رح) فرماتے ہیں وہ قرآن کے آداب ہیں۔ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے رسول اللہ ﷺ کے اخلاق کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا کہ آپ ﷺ کے اخلاق قرآن ہیں۔ قتادہ (رح) فرماتے ہیں وہ یہ ہے کہ اللہ کے اوامر کو بجا لاتے تھے اور اللہ کی نہی سے رکتے تھے اور معنی یہ ہے کہ بیشک آپ ﷺ ان اخلاق پر ہیں جس کا آپ ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے قرآن میں حکم دیا ہے۔ آپ ﷺ کے حسن خلق کے متعلق احادیث مبارکہ اور کہا گیا ہے اللہ تعالیٰ نے آپ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–7

1۔ 7۔ یہ سورة مکی ہے کیونکہ اس کی شروع کی آیتیں مکہ میں نازل ہوئی ہیں اور پھر مابعد کی کچھ آیتیں بعض مفسروں کے قول کے موافق مدنی ہیں لیکن جس سورة کا شروع کا حصہ مکی ہو امام المفسرین حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کے قول کے موافق وہ سورة مکی کہلاتی ہے۔ اسی واسطے حافظ ابن 1 ؎ کثیر نے اس سورة کو مکی قرار دیا ہے حروف مقطعات کی بحث سورة بقر میں گزر چکی ہے قلم اور قلم سے جو کچھ لکھا جائے اللہ تعالیٰ نے اس کی قسم کھا کر آگے کا مطلب بیان فرمایا ہے اس قلم میں وہ قلم بھی داخل ہے جس سے لوح محفوظ پر دنیا کی سب کائنات لکھی گئی ہے قلم کی کتابت میں لوح محفوظ کا نوشتہ بھی داخل ہے اللہ تعالیٰ نے عرش سے پہلے قلم کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 1–7

اللہ تبارک وتعالی، قلم، کی قسم کھاتا ہے۔ یہ اسم جنس ہے جو ان تمام اقلام کو شامل ہے جن کے ذریعے سے مختلف علوم کو علوم کو لکھا جاتا ہے اور جن کے ذریعے سے مختلف انواع کا کلام لکھا جاتا ہے، اللہ تعالیٰ کی عظیم نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے، جو اس امر کی مستحق ہے کہ محمد کی ان عیوب کے بارے میں براءت پر اس کی قسم کھائی جائے جو آپ کے دشمن آپ کی طرف منسوب کرتے ہیں یعنی جنون وغیرہ۔ پس آپ کے رب کی نعمت اور احسان سے ان عیوب کی آپ نفی کی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو عقل کامل، عمدہ رائے اور فصاحت و بلاغت سے لبریز کلام فیصل سے سرفراز فرمایا ہے جو بہترین کلام ہے جسے قلم لکھتے ہیں اور مخلوقات اسے قلم بند کرتی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 5–8

6 مکذبین و منکرین کی اطاعت و فرمانبرداری سے ممانعت کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا پس حق اور حقیقت کی وضاحت ہوگئی تو آپ بھی کہا نہیں ماننا جھٹلانے الوں کا جیسا کہ اب تک نہیں مانا کیونکہ حق اور باطل کا توافق اور جوڑ ممکن ہی نہیں، کہ باطل دوئی پسند ہے اور حق لاشریک، شرکت میانہ حق و باطل نہ کر قبول، سوس اس ارشاد میں بھی خطاب اگرچہ پیغمبر سے ہے لیکن سنانا دراصل آپ ﷺ کے انہی منکروں کو ہے، جو حق بات کو سننے اور ماننے کو تیار نہیں ہے۔ بلکہ اس کے برعکس اس طرح کی خبیث کوششوں میں لگے ہوئے تھے کہ کسی طرح آپ ﷺ ان کی باتوں میں آ کر، اور ان کا کہا مان کر ان کے طور طریقوں کو اپنا لیں، جیسا کہ آگے بھی آ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–16

رسول کریم ﷺ کا خلق عظیم اور کفار کی اطاعت سے بچنے کا حکم تشریح : جیسا کہ پہلے بھی سورتوں میں مختلف چیزوں کی قسم مختلف چیزوں کے صحیح ثابت کرنے کے لیے کھائی گئی ہے تو یہاں نبی پاک ﷺ کے حسن کردار اور صفات کے بلند پایہ ہونے کے لیے قلم و قرآن کی قسم کھائی گئی ہے۔ آپ ﷺ تو مجسم صفات ہیں قرآن و احادیث میں جگـہ جگہ آپ ﷺ کی جملہ صفات کا ذکر بڑے مستند حوالوں سے کیا گیا ہے۔ کیوں نہ ہو آپ ﷺ دنیا کے بہترین انسان اور پیغمبر ہیں آپ ﷺ رحمت حیا، جودوسخا، وفا، صبر، زہد وتقویٰ حسن سلوک اور حسن تادیب کے لحاظ سے بلکہ ہر لحاظ سے بےمثال ہیں آپ ﷺ کو انسان کامل ہونے کا رتبہ حاصل ہے۔ آپ ﷺ محسن انسانیت اور رحمۃ للعٰلمین…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–33

آیات 1 تا 23۔ اسرار ومعارف۔ قسم ہے قلم کی اور جو کچھ قلم سے لکھاجاتا ہے یعنی آپ ﷺ نے امی ہونے کے باوجود علم کے وہ دریابہائے کہ خود قلم اور اس کی تحریر آپ کے کامل عقل مند اور بےمثال صاحب خرد ہونے پر دال ہے۔ مجنون۔ جب آپ ﷺ نے اعلان نبوت فرما کر ساری انسانیت کو دعوت حق دے دی اور تمام انسانوں کے لیے ایک عقیدہ اور ایک نظام حیات تو مشرکین نے اسے معاذ اللہ پاگل پن قرار دیا کہ دنیا کی عظیم الشان حکومتیں ساری دنیا پہ ایک نظام رائج نہ کرسکیں۔ پھر آپ ﷺ امی ہیں ، اکیلے ہیں یا چند مسلمان جن کی بظاہر کوئی حیثیت نہیں پھر اقوام عالم کے مزاج الگ ، فکر الگ ، رنگ ونسل اپنی اپنی ، غذا الگ زبانیں الگ موسم اور…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 5–6

ف 3 یعنی قیامت کے روز جب حق واضح ہوگا اور ان دیکھی حقیقتوں سے پردہ اٹھے گا تو پتا چل جائے گا کہ حقیقت میں دیوانہ کون تھا۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(68:5) فستبصر :اور س کے لئے ملاحظہ ہو 67:29 متذکرۃ الصدر۔ تبصر مضارع واحد مذکر حاضر ابصار (افعال) مصدر۔ عنقریب تو (بھ) دیکھ لیگا۔ ویبصرون اور وہ (یعنی کافر لوگ بھی) دیکھ لیں گے۔ اس آیت کا ربط اگلی آیت سے ہے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–33

لغات القرآن۔ یسطرون۔ وہ لکھتے ہیں۔ ممنون۔ منقطع ہونے والا۔ ختم ہونے والا۔ تبصر۔ تو دیکھے گا۔ المفتون۔ دیوانہ۔ ودوا۔ وہ پسند کرتے ہیں۔ تدھن۔ تو خوشامد کرے۔ تو نمر پرے۔ حلاف۔ بہت قسمیں کھانے والا۔ مھین۔ ذلیل کمینہ۔ ھماز۔ طعنے دینے والا۔ مشائ۔ پھرنے والے۔ نیمیم۔ چغل خور۔ باتیں لگانے والے۔ مناع۔ روکنے والا۔ معتد۔ حد سے بڑھنے والا۔ اثیم۔ گناہ گار۔ عتل۔ اکھڑ۔ اجد۔ زنیم۔ بدنام۔ نسیم۔ ہم داغ دیں گے۔ الخرطوم۔ ناک۔ دم۔ سونڈ۔ تشریح : سورة القلم کا آغاز ” ن “ سے کیا گیا ہے جو حروف مقطعات میں سے ایک حروف ہے۔ اس کے کیا معنی ہیں ؟ اس کی تفصیل اس سے پہلی ابتدائی سورتوں میں آچکی ہے کہ ان حروف کے معنی اور مراد…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 4–5

(ف 2) یعنی اللہ تعالیٰ نے جن اعلی اخلاق و کمالات پر آپ کو پیدا کیا ہے کیا دیوانوں میں ان اخلاق و کمالات کا تصور کیا جاسکتا ہے ایک مجنون کے اقوال وافعال میں قطعا نظم وترتیب نہیں ہوتی نہ اس کا کلام اس کے کاموں پر منطبق ہوتا ہے برخلاف اس کے آپ کی زبان قرآن ہے اور آپ کے اعمال واخلاق قرآن کی خاموش تفاسیر۔ قرآن جس نیکی جس خوبی اور بھلاء کی طرف دعوت دیتا ہے وہ آپ میں فطرت موجود ہیں جس بدی وزشتی سے روکتا ہے آپ طبعا اس سے نفوذ بےزار ہیں ۔ پیدائشی طور پر آپ کی ساخت اور ترتیب اسیی وواقع ہوئی ہے کہ آپ کی کوئی حرکت اور کوئی چیز حد تناسب اعتدال سے ایک انچ ادھر ادھر ہٹنے نہیں پاتی۔ آپ کا حسن اخلاق اجازت نہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 4–8

[4] یعنی آپ ﷺ کا بلند اخلاق ہونا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ کفار کا آپ ﷺ کو مجنون کہنا سراسر جھوٹ ہے کیونکہ بلند اخلاق اور جنون ایک جگہ جمع نہیں ہوسکتے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 2–12

سورة القلم اور جنون وخرد 2: حضور ﷺ کے متعلق مکہ والوں کی رائے تھی ۔ کہ ان کو خلل دماغ ہے ۔ یورپ کے بعض متعصب مشنریوں نے بھی یہ کہا ہے ۔ کہ نبوت محض مرض ضرع کا دوسرا نام تھا ۔ معاذ اللہ مگر قرآن حکیم فرماتا ہے ۔ کہ قلم اور تحریر کا جتنا اندوختہ اس وقت فطرت نے محفوظ رکھا ہے ۔ اور جس قدر کہ اس میں اضافہ ہوسکتا ہے ۔ اس سارے ذخیرہ ادب و عظمت کو میزان کے چڑے میں رکھو ۔ اور اس کے بعد اس پیغام کو دوسرے پلڑے میں رکھو ۔ جس کو معاذ اللہ اس حکیم امی نے پیش فرمایا ہے ۔ جس کے متعلق موازنہ ، اس کے پیش کردہ پیغام کی برکات سے استفادہ کرتی رہے گی ۔ اور بس سرچشمہ معارف میں مکھی پیدا نہ ہوگی ۔ یہ کتنی بڑی فریب…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 4–5

ف 6۔ چناچہ ہر فعل آپ کا موصوف باعتدال اور قرین رضائے ایزو متعال ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

عنقریب آپ ﷺ بھی دیکھ لیں گے اور وہ بھی دیکھ لیں گے 5 ؎ جو کچھ وہ کہتے ہیں اے پیغمبر اسلام ! آپ ﷺ کے علم میں ہے ، یہی ناکہ وہ آپ ﷺ کو دیوانہ کہتے ہیں اور اس طرح کہہ کر وہ آپ ﷺ کی باتوں کو ہلکا اور بےوزن کرنا چاہتے ہیں لیکن کیا ان کے کہنے سے آپ ﷺ کی باتیں بےوزن ہوجائیں گی۔ آپ ﷺ تو وہی کچھ کہہ رہے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے کہنے کا حکم دیا ہے پھر جو آپ ﷺ کہہ رہے ہیں اس کا رزلٹ (Result) عنقریب ان کو دکھا دیا جائے گا اور جو کچھ وہ آپ ﷺ کے متعلق الٹی سیدھی ہانکتے ہیں اس کا انجام بھی عنقریب ان کو دیکھنا پڑے گا اور وہ دیکھیں گے۔ پھر غور کرو کہ کتنا عرصہ گزرا تھا کہ دونوں فریقوں نے اپنے اپنے کئے کا انجام…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 5–7

فَسَتُبْصِرُ‌ وَيُبْصِرُ‌ونَ بِأَييِّكُمُ الْمَفْتُونُ (So, you will see, and they will see which of you is demented....68:5-6]. The word maftun, in this context, means 'demented'. In the preceding verses, the Holy Prophet ', was accused of being an insane and demented. This verse turns tables upon the accusers of the Holy Prophet , and making a prophecy, tells them in challenging words that time will show whether it was he or they who suffered from insanity, or whether his claim to be Allah's Messenger ﷺ was the outpouring of heated brain, or whether they themselves were so demented as not…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 4–8

4 Here, this sentence gives two meanings: (1) "That you stand exalted to a high and noble character; that is why you are enduring all these hardships in your mission of guiding the people to the Right Way, otherwise a tnan of weak character could not have done so;" and (2) "that besides the Qur'an, your high and noble character also is a clear proof that the accusation of madness that the disbelievers bring against you is absolutely false, for high morals and madness cannot co-exist in one and the same person. " A madman is he whose balance of mind is upset, who has lost his temperamental…

Read the full tafseer →