وَاِنَّكَ لَعَلٰی خُلُقٍ عَظِیْمٍ ۟وَاِنَّكَ لَعَلٰى خُلُقٍ عَظِيۡمٍ
اور اخلاق تمہارے بہت (عالی) ہیں
— Fateh Muhammad Jalandhari
And indeed, you are of a great moral character.
— Saheeh International
Juz 29 · Ruku 1 of surah · Ruku 3 of juz
وَاِنَّكَ لَعَلٰی خُلُقٍ عَظِیْمٍ ۟وَاِنَّكَ لَعَلٰى خُلُقٍ عَظِيۡمٍ
اور اخلاق تمہارے بہت (عالی) ہیں
— Fateh Muhammad Jalandhari
And indeed, you are of a great moral character.
— Saheeh International
Juz 29 · Ruku 1 of surah · Ruku 3 of juz
Read the whole surah · Surah Al-Qalam
اور بیشک تم اخلاق کے بڑے مرتبے پر ہو
اور اخلاق تمہارے بہت (عالی) ہیں
اور بیشک تو بہت بڑے (عمده) اخلاق پر ہے
اور یقینا تم اخلاق کے اعلی درجے پر ہو۔
اور بیشک تمہاری خُو بُو (خُلق) بڑی شان کی ہے
اور بے شک آپ عظیم الشان خلق پر قائم ہیں (یعنی آدابِ قرآنی سے مزّین اور اَخلاقِ اِلٰہیہ سے متّصف ہیں)،
اور بلاشبہ یقینا تو ایک بڑے خلق پر ہے۔
اور آپ یقینا اخلاق کے بڑے بلند مرتبہ پر ہیں
اور تم ایک اعلیٰ کردار پر ہو۔
اور بلاشبہ آپ اخلاق کے بہت بڑے مرتبے پر ہیں
اور بیشک آپ اخلاق کے اعلی مرتبہ پر ہیں۔
اور آپ ﷺ یقینا اخلاق کے بلند ترین مرتبے پر فائز ہیں۔
اور آپ کے اخلاق بڑے بلند ہیں
and you are certainly on the most exalted standard of moral excellence.
And you are surely on an excellent standard of character.
And you are surely on an excellent standard of character.
And verily, you are on an exalted character.
And lo! thou art of a tremendous nature.
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
And indeed, you are of a great moral character.
You have attained a high moral standard.
And most surely you conform (yourself) to sublime morality.
And verily thou art of a high and noble disposition.
And thou (standest) on an exalted standard of character.
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 1–7
نون وغیرہ جیسے حروف ہجا کا مفصل بیان سورة بقرہ کے شروع میں گذر چکا ہے اس لئے یہاں دوہرانے کی ضرورت نہیں، کہا گیا ہے کہ یہاں ان سے مراد وہ بڑی مچھلی ہے جو ایک محیط عالم پانی پر ہے جو ساتوں زمینوں کو اٹھائے ہوئے ہے، ابن عباس سے مروی ہے کہ سب سے پہلے اللہ نے قلم کو پیدا کیا اور اس سے فرمایا لکھ اس نے کہا کیا لکھوں ؟ فرمایا تقدیر لکھ ڈال پس اس دن سے لے کر قیامت تک جو کچھ ہونے والا ہے اس پر قلم جاری ہوگیا پھر اللہ تعالیٰ نے مچھلی پیدا کی اور پانی کے بخارات بلند کئے، جس سے آسمان بنے اور زمین کو اس مچھلی کی پیٹھ پر رکھا مچھلی نے حرکت کی جس سے زمین بھی ہلنے لگی پس زمین پر پہاڑ گاڑ کر اسے مضبوط اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–8
سورة الْقَلَم 4 اس مقام پر یہ فقرہ دو معنی دے رہا ہے۔ ایک یہ کہ آپ اخلاق کے بہت بلند مرتبے پر فائز ہیں اسی وجہ سے آپ ہدایت خلق کے کام میں یہ اذیتیں برداشت کر رہے ہیں ورنہ ایک کمزور اخلاق کا انسان یہ کام نہیں کرسکتا تھا۔ دوسرے یہ کہ قرآن کے علاوہ آپ کے بلند اخلاق بھی اس بات کا صریح ثبوت ہیں کہ کفار آپ پر دیوانگی کی جو تہمت رکھ رہے ہیں وہ سراسر جھوٹی ہے، کیونکہ اخلاق کی بلندی اور دیوانگی، دونوں ایک جگہ جمع نہیں ہو سکتیں۔ دیوانہ وہ شخص ہوتا ہے جس کا ذہنی توازن بگڑا ہوا ہو اور جس کے مزاج میں اعتدال باقی نہ رہا ہو۔ اس کے برعکس آدمی کے بلند اخلاق اس بات کی شہادت دیتے ہیں کہ وہ نہایت صحیح الدماغ اور…
Read the full tafseer →(آیت) وَاِنَّكَ لَعَلٰى خُلُقٍ عَظِيْمٍ ، اس میں رسول اللہ میں جو انسان کو عزت و شرف بخشتی ہیں مدی الدھر ان اللہ اقسم بالقلم کے اخلاق فاضلہ کاملہ میں غور کرنے کی ہدایت فرمائی گئی ہے کہ دیوانو ذرا تو دیکھو کہیں مجنونوں دیوانوں کے ایسے اخلاق و اعمال ہوا کرتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ کا خلق عظیم۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ خلق عظیم سے مراد دین عظیم ہے کہ اللہ کے نزدیک اس دین اسلام سے زیادہ کوئی محبوب دین نہیں۔ حضرت عائشہ نے فرمایا کہ آپ کا خلق خود قرآن ہی یعنی قرآن کریم جن اعلیٰ اعمال و اخلاق کی تعلیم دیتا ہے آپ ان سب کا عملی نمونہ ہیں۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے فرمایا کہ خلق عظیم سے مراد آداب القرآن…
Read the full tafseer →رسول کا کردار اس کے دعوے پر عظیم حجت ہے: یعنی حضرات انبیاء علیہم کی تاریخ نے اعلیٰ کردار کے جو نمونے پیش کیے ہیں تم اسی کی ایک نہایت شان دار مثال ہو اور تمہارا یہ کردار ان لوگوں کے خلاف سب سے بڑی حجت ہے جو تمہیں دیوانہ یا کاہن یا شاعر کہہ کر اپنے کو اور اپنے عوام کو یہ باور کرا رہے ہیں کہ تمہاری یہ باتیں ہوا میں اڑ جائیں گی۔ قرآن مجید میں جگہ جگہ نبی ﷺ کے اعلیٰ کردار کو آپ کے دعوے کی صداقت کی دلیل کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ سورۂ شعراء میں نہایت تفصیل سے کاہنوں اور شاعروں کے اخلاق کی پستی، ان کی فکری ہرزہ گردی اور ان کے قول و عمل کی بے ربطی کا حوالہ دے کر ان لوگوں کو ملامت کی گئی ہے جو نبی ﷺ کو…
Read the full tafseer →4۔ 1 خلق عظیم سے مراد اسلام، دین یا قرآن ہے مطلب ہے کہ تو اس خلق پر ہے جس کا حکم اللہ نے تجھے قرآن میں یا دین میں دیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
1: یہاں حرف نون انہی حروف مقطعات میں سے ہے جو مختلف قرآنی سورتوں کے شروع میں آئے ہیں، اور جن کے بارے میں سورة بقرہ کے شروع میں عرض کیا جا چکا ہے کہ ان کے ٹھیک ٹھیک معنی اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو بھی معلوم نہیں ہیں۔ 2: مکہ مکرمہ کے کافر لوگ آنحضرت ﷺ کو (معاذ اللہ) دیوانہ کہا کرتے تھے۔ اگلی آیت میں ان کی تردید فرمائی گئی ہے، اور اس سے پہلے اس آیت میں اس تردید پر یہ قسم کھائی گئی ہے۔ اس کی تفسیر میں بہت سے مفسرین نے فرمایا ہے کہ قلم سے مراد تقدیر کا قلم ہے اور ”وہ“ سے مراد فرشتے ہیں۔ یعنی قسم ہے تقدیر کے قلم کی، اور تقدیر کے ان فیصلوں کی جو فرشتے لکھتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ دیوانے نہیں ہیں۔ یعنی…
Read the full tafseer →اس کے بعد ایک عظیم شہادت آپ کے حق میں آتی ہے۔ یہ ایک بہت بڑا اعزاز ہے۔ وانک ................ عظیم (86 : 4) ” اور بیشک تم اخلاق کے بڑے مرتبے پر ہو “۔ نبی کریم ﷺ پر اس تعریف وثنا میں پوری کائنات شریک ہوجاتی ہے اور اس پوری کائنات کی روح کے اندر یہ بات ثابت ہوجاتی ہے کہ آپ خلق عظیم کے مالک تھے۔ کسی قلم میں یہ قوت نہیں ہے کہ وہ آپ کے مناقب بیان کرسکے ، کسی شخص میں یہ قوت نہیں ہے کہ وہ آپ کے اخلاق کا تصور کرسکے۔ اور اس عظیم سرٹیفکیٹ کی تشریح کرسکے۔ یہ عظیم کلمات رب عظیم کی طرف سے ہیں۔ اور رب تعالیٰ اپنی اس عظیم شہادت کی تشریح کرسکتا ہے۔ اللہ کے ہاں عظمت کے کیا پیمانے ہیں ، اس کا بندہ کس قدر عظیم…
Read the full tafseer →6 یعنی اللہ تعالیٰ نے جن اعلیٰ اخلاق و ملکات پر آپ ﷺ کو پیدا فرمایا، کیا دیوانوں میں ان اخلاق و ملکات کا تصور کیا جاسکتا ہے۔ ایک دیوانے کے اقوال و افعال میں قطعاً نظم و ترتیب نہیں ہوتی، نہ اس کا کلام اس کے کاموں پر منطبق ہوتا ہے برخلاف اس کے آپ ﷺ کی زبان قرآن ہے اور آپ ﷺ کے اعمال و اخلاق قرآن کی خاموش تفسیر۔ قرآن جس نیکی، جس خوبی اور بھلائی کی طرف دعوت دیتا ہے وہ آپ ﷺ میں فطرۃً موجود، اور جس بدی وزشتی سے روکتا ہے آپ طبعاً اس سے نفوروبیزار ہیں۔ پیدائشی طور پر آپ ﷺ کی ساخت اور تربیت ایسی واقع ہوئی ہے کہ آپ کی کوئی حرکت اور کوئی چیز حد تناسب و اعتدال سے ایک انچ ادھر ادھر ہٹنے نہیں پاتی۔ آپ ﷺ کا…
Read the full tafseer →آیت 4{ وَاِنَّکَ لَعَلٰی خُلُقٍ عَظِیْمٍ۔ } ”اور آپ ﷺ یقینا اخلاق کے بلند ترین مرتبے پر فائز ہیں۔“ آپ ﷺ اپنے اخلاق اور کردار کے بلند ترین معیار کے باعث پہلے سے ہی معراجِ انسانیت کے مقام پر فائز تھے ‘ جبکہ اب آپ ﷺ معراجِ نبوت و رسالت کے سفر کا آغاز کر رہے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
5 آپ کا خلق عظیم :۔ آپ کے اخلاق کی بلندی یہ تھی کہ آپ طعن وتشنیع کرنے والوں، تمسخر اڑانے والوں، ایذا پہنچانے والوں حتیٰ کہ پتھر مارنے والوں کے حق میں دعائے خیر ہی کرتے رہے۔ پھر ایسے ہی لوگوں کی ہدایت پر آپ اتنے حریص واقع ہوئے تھے کہ اپنی جان تک اس کام میں ہلکان کر رہے تھے۔ سیدہ عائشہ ؓ فرماتی ہیں۔ کہ آپ نے کبھی کسی سے اپنی ذات کی خاطر انتقام نہیں لیا۔ پھر جب مکہ فتح ہوا، تو آپ کے سب جانی دشمن آپ کے سامنے بیٹھے ہوئے تھے۔ ان میں وہ بھی جنہوں نے آپ کو گھر بار چھوڑنے پر مجبور کردیا تھا اور آپ کی جان کی قیمت لگا دی تھی، پھر کئی بار چڑھ کر مدینہ آتے رہے تاکہ اسلام اور پیغمبر اسلام کو صفحہ ہستی سے…
Read the full tafseer →4۔ اور وہ بھی اس مرتبہ پر کہ آپ ﷺ کی سیرت تو نظیر اور نمونہ کا کام دے گی زندگی کے ہر ہر شعبہ میں اور وہ بھی کسی ایک قوم، کسی ایک زمانہ کے لئے نہیں، ہر ملک، ہر قوم، ہر زمانہ کے لئے عدیم النظیر سیرت والے کی جانب جنون کی نسبت دینا خود اپنے پاگل پن کا ڈھنڈورا پیٹنا ہے۔
Read the full tafseer →وانک لعلی خلق عظیم، خلق عظیم سے مراد اسلام، دین یا قرآن ہے، مطلب یہ ہے کہ آپ ﷺ تو اس خلق پر ہیں کہ جس کا حکم اللہ نے قرآن میں دیا ہے، یا اس سے مراد تہذیب و شائستگی نرمی و شفقت، امانت و صداقت، حلم و کرم اور دیگر اخلاقی خوبیاں ہیں، جن میں آپ ﷺ نبوت سے پہلے بھی ممتاز تھے اور نبوت کے بعد ان میں مزید اور وسعت آئی، اسی لئے جب حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے آپ ﷺ کے خلق کے بارے میں سوال کیا گیا تو فرمایا کان خلقہ القرآن (صحیح مسلم) بلند اخلاقی اس بات کا صریح ثبوت ہے کہ کفار آپ ﷺ پر دیوانگی اور جنون کی جو تہمت رکھ رہے ہیں وہ سراسر جھوٹی ہے کیونکہ اخلاق کی بلندی اور دیوانگی دونوں ایک جگہ جمع نہیں ہوسکتیں،…
Read the full tafseer →وانک لعلی خلق عظیم . بلاشبہ آپ بڑے اخلاق کے مالک ہیں۔ کیونکہ آپ ﷺ ایسی (ایذا رساں ‘ توہین آگیں) باتیں برداشت کرلیتے ہیں جو دوسرے لوگ نہیں برداشت کرسکتے۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : اللہ کے راستہ میں جو دکھ مجھے دیا گیا ہے وہ کسی کو نہیں دیا گیا۔ (ابو نعیم فی الحلیۃ بروایت حضرت انس ؓ ابن عساکر نے حضرت جابر ؓ کی روایت بھی اسی طرح نقل کی ہے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ نے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ مشرکوں کے لیے بددعا کردیجئے۔ فرمایا : مجھے لعنت گر بنا کر نہیں بھیجا گیا بلکہ محض رحمت بنا کر بھیجا گیا ہے۔ (مسلم) کافروں نے رسول اللہ ﷺ پر دیوانہ ہونے کی تہمت لگائی اور دیوانہ کسی اجر کا مستحق نہیں ہوتا ‘ بہرحال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–6
(4۔ 6) اور آپ اللہ کے پاکیزہ مکرم دین پر ہیں یا یہ کہ آپ اخلاق حسنہ کے اعلی پیمانہ پر ہیں۔ نزول عذاب کے وقت عنقریب آپ دیکھ لیں اور یہ بھی دیکھ لیں گے کہ تم میں کون مجنون تھا۔ شان نزول : وَاِنَّكَ لَعَلٰى خُلُقٍ عَظِيْمٍ (الخ) ابو نعیم نے دلائل میں اور واحدی نے حضرت عائشہ سے روایت کیا ہے کہ رسول اکرم سے بڑھ کر کوئی بلند اخلاق نہیں تھا آپ اپنے ساتھیوں اور گھر والوں میں سے جس کو پکارتے تھے تو وہ آپ کی پکار پر لبیک کہتا تھا اسی لیے اللہ تعالیٰ نے یہ آیت مبارکہ نازل فرمائی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–4
مَآ اَنْتَ بِنِعْمَۃِ رَبِّکَ بِمَجْنُوْنٍ۔۔۔۔: اللہ تعالیٰ نے قلم کی اور اس چیز کی قسم کھائی جو لکھنے والے لکھتے ہیں اور اس کے جواب میں تین باتیں ارشاد فرمائیں ، پہلی یہ کہ آپ اللہ کے فضل سے مجنون (دیوانے) نہیں ہیں ، دوسری یہ کہ آپ کے لیے ایسا اجر ہے جو منقطع ہونے والا نہیں اور تیسری یہ کہ یقینا آپ خلق عظیم پر ہیں۔ قسم جواب قسم کی تاکید کے لیے کھائی جاتی ہے اور عام طور پر اس کے لیے شاہد اور دلیل ہوتی ہے ، یہاں قسم اور جواب قسم میں مناسبت یہ ہے کہ قلم اور قلم سے لکھنے والوں نے جو چھ لکھا ہے وہ اس بات کی شہادت دے رہا ہے کہ کفار کا یہ کہنا غلط ہے کہ آپ دیوانے ہیں۔ تقدیر کے قلم نے لوح محفوظ میں…
Read the full tafseer →اس میں دو مسئلہ ہیں : وانک تعلی خلق عظیم۔ ” بیشک آپ عظیم الشان خلق کے مالک ہیں۔ “ اس میں دو مسئلے ہیں : خلق سے مراد مسئلہ نمبر 1۔ وانک لعلی خلق عظیم۔ حضرت ابن عباس اور مجاہد نے کہا : علق خلق سے مراد ہے دنیوں میں سے عظیم دین پر۔ اللہ تعالیٰ کو اس دین سے بڑھ کر کوئی دین محبوب اور پسندیدہ نہیں۔ صحیح مسلم میں حضرت عائشہ صدیقہ سے روایت مروی ہے : آپ کا خلق قرآن ہے (1) حضرت علی شیر خدا اور عطیہ نے کہا، اس سے مراد ادب قرآن ہے (2) ایک قول یہ کیا گیا ہے : مراد آپ ﷺ کا اپنی امت کے لئے نرم دل ہونا اور ان کو اکرام سے نوازنا ہے۔ قتادہ نے کہا : مراد ہے اللہ تعالیٰ جس کا حکم دے اس کو بجا لانا ہے اور جس سے…
Read the full tafseer →رسول اللہ ﷺ اعلیٰ اخلاق کے مالک تھے 22۔ ابن مردویہ وابو نعیم نے الدلائل میں اور الواحدی نے عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ سے بڑھ کر کوئی اچھے اخلاق والا نہیں تھا آپ کے اصحاب میں سے اور آپ کے گھر والوں میں سے کوئی آپ کو بلاتا تو آپ نے فرمایا لبیک یعنی میں حاضر ہوں۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ آیت وانک لعلی خلق عظیم۔ بلاشبہ آپ بڑے اخلاق کے مالک ہیں۔ 23۔ ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید ومسلم وابن المنذر والحاکم وابن مردویہ نے سعد بن ہشام (رح) سے روایت کیا کہ میں عائشہ ؓ کے پاس آیا اور میں نے کہا اے ام المومنین ! مجھے رسول اللہ ﷺ کے اخلاق کے بارے میں بتائیے۔ تو انہوں نے فرمایا آپ کا…
Read the full tafseer →[وَاِنَّكَ : اور بیشک آپ ][ لَعَلٰى خُلُقٍ عَظِيْمٍ : یقینا عظیم اخلاقیات پر ہیں ] نوٹ۔ 1: رسول کریم ﷺ کے وجود میں حق تعالیٰ نے تمام ہی اخلاق فاضلہ بدرجۂ کمال جمع فرما دیئے تھے۔ خود آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ مجھے اس کام کے لیے بھیجا گیا ہے کہ میں اعلیٰ اخلاق کی تکمیل کروں۔ حضرت انس فرماتے ہیں کہ میں نے دس سال رسول اللہ ﷺ کی خدمت کی اس پوری مدت میں جو کام میں نے کیا، آپ ﷺ نے کبھی یہ نہیں فرمایا کہ ایسا کیوں کیا اور جو کام نہیں کیا اس پر کبھی یہ نہیں فرمایا کہ یہ کام کیوں نہیں کیا۔ بی بی عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے کبھی اپنے ہاتھ سے کسی کو نہیں مارا بجز جہاد فی سبیل اللہ کے۔ ورنہ آپ نے…
Read the full tafseer →پھر فرمایا ﴿ وَ اِنَّكَ لَعَلٰى خُلُقٍ عَظِيْمٍ 004﴾ اور بیشک آپ بڑے اخلاق والے ہیں۔ اس میں رسول اللہ ﷺ کی خلق عظیم کی تعریف بھی ہے اور آپ کے دشمنوں کی تردید بھی ہے آپ کو اللہ تعالیٰ نے اخلاق فاضلہ کاملہ سے نوازا ہے آپ کے اخلاق ان لوگوں کی تردید کر رہے ہیں جو آپ کو مجنون کہتے تھے۔ آپ کے اخلاق کریمانہ کی ایک جھلک دیکھنا چاہیں تو احادیث شریفہ میں جو آپ کے مکارم اخلاق اور معاشرت و معاملات کے واقعات لکھے ہیں ان کا مطالعہ کرلیا جائے توراۃ شریف تک میں آپ کے اخلاق فاضلہ کا ذکر پہلے ہی سے موجود تھا۔ (دیکھو صحیح بخاری صفحہ 185) آپ صاحب خلق عظیم تھے اپنی امت کو بھی اخلاق حسنہ کی تعلیم دیتے تھے موطا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–16
بیان عظمت رسول اکرم ﷺ وتلقین صبر و استقامت : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” ن والقلم وما یسطرون ........ الی .......... سنسمہ علی الخرطوم “۔ (ربط) گزشتہ سورت میں خداوند عالم کی خالقیت کے دلائل ذکر کئے گئے اور یہ کہ اس کی قدرت کائنات کو محیط ہے اس کے احاطہ علم وقدرت سے کوئی مجرم نہیں نکل سکتا تو اب اس سورت میں آنحضرت ﷺ کی رسالت ونبوت کو ثابت فرمایا گیا اور یہ کہ آپ ﷺ کی شان میں گستاخی کرنے والے مجرمین خدا کے عذاب سے ہرگز نہیں بچ سکتے اور جو کچھ وہ آپ ﷺ پر اعتراض کرتے ہیں وہ سب لغو اور بےہودہ باتیں ہیں کوئی صحیح العقل انسان ایسی بےہودہ باتیں تصور بھی نہیں کرسکتا ارشاد فرمایا۔ ن۔ خدا تعالیٰ ہی اس کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
3:۔ ” وان لک “ آپ اپنے کام میں ثابت قدم رہیں، راہ حق اور تبلیغ توحید میں آپ نے جو شدائد برداشت کیے ہیں ان کا آپ کو ایسا اجر وثواب ملے گا جو کبھی ختم نہیں ہوگا۔ ای ثوابا ما تحملت من اثقالا لنبوۃ (قرطبی ج 18 ص 226) ۔ ” وانک لعلی خلق عظیم “ خلق سے اخلاق و عادات مراد ہیں آپ کے خلق کو ” عظیم “ فرمایا کیونکہ آپ کی ذات گرامی میں تمام مکارم اخلاق علی وجہ الاتم موجود تھے اور آپ قرآنی اخلاق و آداب کا مجسم نمونہ تھے۔ حضرت عائشہ ؓ سے جب آپ کے خلق کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا ” کان خلقہ القران “ کہ آپ کا خلق قرآن ہے یعنی آپ کے تمام اعمال و افعال اور اخلاق و عادات قرآنی تعلیم کے عین مطابق تھے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
وجہ تسمیہ اور کوائف : اس سور ۃ کی پہلی آیت میں قلم کا لفظ مذکور ہے۔ اور اسی وجہ سے اس سورة کا نام سورة قلم ہے اس سورة کی باون آیات ، تین سو الفاط اور ایک ہز اور دو سوچھپن حروف ہیں۔ اس سے پہلے سورة ملک کی تیس آیات تھیں اور اس کی باون آیتیں ہیں۔ مضامین سورة (ربطہ) : اس سے پہلی سورة میں توحید ذات خداوندی ، دلائل توحید ، جزائے اعمال اور ضمنا رسالت کا ذکر تھا۔ اس سورة میں زیادہ تر رسالت کا تذکرہ ہے۔ جزائے اعمال اور قیامت کا ذکر بھی ہے۔ پہلی سورة میں توحید کے دلائل زیادہ تھے اس میں نبوت اور رسالت پر اعتراضا کے جواب دیے گئے ہیں ان کا رد کیا گیا ہے۔ اور تبنیہ کی گئی ہے۔ خاص طور پر مکہ کے خوشحال لوگوں…
Read the full tafseer →وَاِنَّكَ لَعَلٰى خُلُقٍ عَظِيْمٍ 4 خُلُق [ والخلق يقال في معنی المخلوق، والخَلْقُ والخُلْقُ في الأصل واحد، کا لشّرب والشّرب، والصّرم والصّرم، لکن خصّ الخلق بالهيئات والأشكال والصّور المدرکة بالبصر، وخصّ الخلق بالقوی والسّجایا المدرکة بالبصیرة ] قال تعالی: وَإِنَّكَ لَعَلى خُلُقٍ عَظِيمٍ [ القلم/ 4] ، وقرئ : إِنْ هذا إِلَّا خُلُقُ الْأَوَّلِينَ خلق اور خلق اصل میں دونوں ایک ہی ہیں جیسے شرب وشرب وصوم وصوم یعنی اس شکل و صورت پر بولا جاتا ہے جس کا تعلق ادراک بصر سے ہوتا ہے اور خلق کا لفظ قویٰ باطنہ عادات خصائل کے معنی میں استعمال ہوتا ہے جن کا تعلق بصیرت سے ہے قرآن میں ہے :۔ وَإِنَّكَ لَعَلى…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
ترکیب : ن۔ قریٔ بادغام النون الثانیہ من ہجائھانی الواوقریٔ بالاظہار وبالفتح وبالکسر وبالضم اما الفتح فباضمار فعل والفتح علی اضمارا لقسم اولالتقاء الساکنین والضم علی النبائ۔ والقلم الواوللقسم وماموصولۃ یسطرون صلۃ والعائد محذوف والجملۃ معطوفۃ علی القلم ما انت الجملۃ جواب القسم وان لک الجملۃ معطوفۃ علی الجملۃ السابقۃ و انک ایضا معطوفۃ علیھا والجملات الثلاث جواب القسم۔ بایکم المفتون الباء زائدۃ ویمکن ان یکون المفتون مصدر امثل المعقول والمیسور ای بایکم الجنون۔ تفسیر : جمہور کے نزدیک یہ سورة بھی مکہ میں نازل ہوئی ہے۔ حسن و عکرمہ وعطاء کا بھی یہی قول ہے۔ ابن عباس ؓ سے منقول ہے کہ سب سے اول اقرء نازل…
Read the full tafseer →وَاِنَّـکَ لَعَلٰی خُلُقٍ عَظِیْمٍ ۔ (القلم : 4) (بیشک آپ اخلاق کے سب سے بڑے مرتبے پر فائز ہیں۔ ) خلقِ عظیم کا مفہوم جنون کوئی ایسا مرض نہیں جو کسی خاص علاقے یا خاص زمانے کے ساتھ مخصوص ہو۔ ہم آج بھی اپنے دائیں بائیں اس بیماری میں مبتلا لوگوں کو دیکھ سکتے ہیں۔ اس لیے ہر شخص اس بات کی گواہی دے سکتا ہے کہ جو شخص اختلالِ دماغ کا شکار ہو وہ نہ تو بلند اخلاق کا حامل ہوسکتا ہے اور نہ اس کے مزاج میں اعتدال ہوسکتا ہے اور نہ لوگوں کے ساتھ اس کے معاملات میں ٹھہرائو، وقار، تحمل اور بردباری ہوسکتی ہے، لیکن آنحضرت ﷺ میں نہ صرف یہ صفات پائی جاتی تھیں بلکہ آپ ﷺ اس کا مظہراتم تھے۔ قرآن کریم میں اوامرو نواہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–4
فہم القرآن ربط کلام : قلم اور اس کے لکھنے والوں کی عظمت کا ذکر فرما کر کفار کے بدترین الزام کی تردید کی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کو صورت اور سیرت کے اعتبار سے سب سے ممتاز پیدا فرمایا تھا۔ اسی سورت کی آیت 4 میں آپ کے عظیم اخلاق کی تعریف فرمائی ہے۔ آپ ﷺ کی صورت و سیرت اور حسن اخلاق کو آپ کے بدترین دشمن بھی جانتے اور مانتے تھے مگر قرآن بالخصوص دعوت توحید کی وجہ سے لوگ نہ صرف آپ کے مخالف ہوئے بلکہ ہر قسم کی سچائی کا انکار کرتے ہوئے آپ کو مجنون کہتے تھے، حالانکہ وہ جانتے تھے کہ دیوانہ اس قسم کی حرکات اور باتیں نہیں کرتا لیکن پھر بھی آپ کو مجنون قراردیتے تھے۔ یہ آپ کی ذات پر بہت بڑا اور…
Read the full tafseer →4 : وَاِنَّکَ لَعَلٰی خُلُقٍ عَظِیْمٍ (بلاشبہ آپ اخلاق کے اعلیٰ پیمانہ پر ہیں) ایک قول یہ ہے اس میں اسی بات کا تذکرہ ہے جس کا دوسرے مقام پر حکم دیا خُذِ الْعَفْوَ وَاْمُرْ بِالْعُرْفِ وَاَعْرِضْ عَنِ الْجَاہِلِیْن َ ] الاعراف : 199[ اخلاقِ نبوت : حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ آپ کا اخلاق قرآن تھا یعنی قرآن میں جو مکارم اخلاق ہیں۔ وہ سب آپ کی طبیعت ثانیہ تھے۔ آپ کے اخلاق کو عظیم قرار دیا کیونکہ آپ کو نین پر بخشش وسخاوت فرمانے والے اور کونین کے خالق پر کامل بھروسہ والے تھے۔ ] مسلم : 746، نسائی 3/199[
Read the full tafseer →3 ۔” وان لک لاجرا غیر ممنون “ یعنی کم نہ ہوگا اور نہ ختم ہوگا آپ ﷺ کے ان کی افتراء پردازی پر صبر کی وجہ سے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
1۔ 7۔ یہ سورة مکی ہے کیونکہ اس کی شروع کی آیتیں مکہ میں نازل ہوئی ہیں اور پھر مابعد کی کچھ آیتیں بعض مفسروں کے قول کے موافق مدنی ہیں لیکن جس سورة کا شروع کا حصہ مکی ہو امام المفسرین حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کے قول کے موافق وہ سورة مکی کہلاتی ہے۔ اسی واسطے حافظ ابن 1 ؎ کثیر نے اس سورة کو مکی قرار دیا ہے حروف مقطعات کی بحث سورة بقر میں گزر چکی ہے قلم اور قلم سے جو کچھ لکھا جائے اللہ تعالیٰ نے اس کی قسم کھا کر آگے کا مطلب بیان فرمایا ہے اس قلم میں وہ قلم بھی داخل ہے جس سے لوح محفوظ پر دنیا کی سب کائنات لکھی گئی ہے قلم کی کتابت میں لوح محفوظ کا نوشتہ بھی داخل ہے اللہ تعالیٰ نے عرش سے پہلے قلم کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
اللہ تبارک وتعالی، قلم، کی قسم کھاتا ہے۔ یہ اسم جنس ہے جو ان تمام اقلام کو شامل ہے جن کے ذریعے سے مختلف علوم کو علوم کو لکھا جاتا ہے اور جن کے ذریعے سے مختلف انواع کا کلام لکھا جاتا ہے، اللہ تعالیٰ کی عظیم نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے، جو اس امر کی مستحق ہے کہ محمد کی ان عیوب کے بارے میں براءت پر اس کی قسم کھائی جائے جو آپ کے دشمن آپ کی طرف منسوب کرتے ہیں یعنی جنون وغیرہ۔ پس آپ کے رب کی نعمت اور احسان سے ان عیوب کی آپ نفی کی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو عقل کامل، عمدہ رائے اور فصاحت و بلاغت سے لبریز کلام فیصل سے سرفراز فرمایا ہے جو بہترین کلام ہے جسے قلم لکھتے ہیں اور مخلوقات اسے قلم بند کرتی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
5 پیغمبر (علیہ السلام) کا اخلاق و کردار اور ان کی صداقت و حقانیت کی دلیل : سو ارشاد فرمایا گیا اور کلمات تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ بلاشبہ آپ ﷺ اخلاق کے بہت بڑے مرتبے پر ہیں۔ اتنے بڑے مرتبے پر جس کی نظیر و مثال چشم فلک نے نہ اس سے پہلے کبھی دیکھی اور نہ آئندہ قیامت تک کبھی دیکھ سکے گی۔ صلوات اللہ وسلامہ علیہ علی آلہ وصحبہ ومن والاہ وبھداہ اھتدی اور آپ ﷺ کے اخلاق کی یہ بلندی اور پاکیزگی ان لوگوں کے خلاف سب سے بڑی حجت ہے جو آپ ﷺ کو دیوانہ یا کاہن یا شاعر کہہ کرو العیاذ باللہ اپنے دلوں کی بھڑاس نکالتے ہیں اور اس طرح وہ اپنی بدبختی کے داغ کو اور پکا کرتے ہیں اور اس طرح وہ اپنے آپ کو اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–16
رسول کریم ﷺ کا خلق عظیم اور کفار کی اطاعت سے بچنے کا حکم تشریح : جیسا کہ پہلے بھی سورتوں میں مختلف چیزوں کی قسم مختلف چیزوں کے صحیح ثابت کرنے کے لیے کھائی گئی ہے تو یہاں نبی پاک ﷺ کے حسن کردار اور صفات کے بلند پایہ ہونے کے لیے قلم و قرآن کی قسم کھائی گئی ہے۔ آپ ﷺ تو مجسم صفات ہیں قرآن و احادیث میں جگـہ جگہ آپ ﷺ کی جملہ صفات کا ذکر بڑے مستند حوالوں سے کیا گیا ہے۔ کیوں نہ ہو آپ ﷺ دنیا کے بہترین انسان اور پیغمبر ہیں آپ ﷺ رحمت حیا، جودوسخا، وفا، صبر، زہد وتقویٰ حسن سلوک اور حسن تادیب کے لحاظ سے بلکہ ہر لحاظ سے بےمثال ہیں آپ ﷺ کو انسان کامل ہونے کا رتبہ حاصل ہے۔ آپ ﷺ محسن انسانیت اور رحمۃ للعٰلمین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–33
آیات 1 تا 23۔ اسرار ومعارف۔ قسم ہے قلم کی اور جو کچھ قلم سے لکھاجاتا ہے یعنی آپ ﷺ نے امی ہونے کے باوجود علم کے وہ دریابہائے کہ خود قلم اور اس کی تحریر آپ کے کامل عقل مند اور بےمثال صاحب خرد ہونے پر دال ہے۔ مجنون۔ جب آپ ﷺ نے اعلان نبوت فرما کر ساری انسانیت کو دعوت حق دے دی اور تمام انسانوں کے لیے ایک عقیدہ اور ایک نظام حیات تو مشرکین نے اسے معاذ اللہ پاگل پن قرار دیا کہ دنیا کی عظیم الشان حکومتیں ساری دنیا پہ ایک نظام رائج نہ کرسکیں۔ پھر آپ ﷺ امی ہیں ، اکیلے ہیں یا چند مسلمان جن کی بظاہر کوئی حیثیت نہیں پھر اقوام عالم کے مزاج الگ ، فکر الگ ، رنگ ونسل اپنی اپنی ، غذا الگ زبانیں الگ موسم اور…
Read the full tafseer →ف 2 یہ آنحضرت کا ” خلق عظیم “ تھا کہ آپ کافروں کے ہاتھوں اور ان کی زبان سے طرح طرح کی تکلیفیں اٹھاتے تھے لیکن ان کے لئے بد دعا کا کوئی کلمہ زبان پر نہ لاتے تھے۔ حدیث میں ہے کہ آنحضرت نے کسی سے اپنی ذات کے لئے اتنقام نہیں لیا۔ ہاں اگر کوئی شخص اللہ تعالیٰ کی حرمتوں کو پامال کرتا تو اسے اللہ کے لئے انتقام لیتے۔ ایک دوسری حدیث میں آنحضرت نے اپنی بعثت کا مقصد ہی عمدہ اخلاق کی تکمیل بتایا ہے کتاب الشمائل عام ترمذی اخلاق نبوی کے بیان پر بہترین مرقع ہے۔ (ابن کثیر)
Read the full tafseer →(68:4) وانک لعلی خلق عظیم : اور بیشک آپ عظیم خلق کے مالک ہیں۔ یہ جملہ بھی جواب قسم میں سے ہے۔ مطلب یہ ہے کہ آپ بڑے اخلاق کے مالک ہیں کیونکہ آپ ایسی ایذا رساں اور توہین آمیز باتیں برداشت کرلیتے ہیں جو کہ دوسرے لوگ برداشت نہیں کرسکتے۔ اسی لئے رسول کریم ﷺ کا ارشاد گرامی ہے :۔ اللہ کے راستہ میں جو دکھ مجھے دیا گیا وہ کسی کو نہیں دیا گیا۔ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ خلق عظیم سے مراد دین عظیم ہے یعنی دین اسلام ہے اس سے زیادہ پسندیدہ اور محبوب مجھے کوئی مذہب نہیں ہے (تفسیر مظہری) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–33
لغات القرآن۔ یسطرون۔ وہ لکھتے ہیں۔ ممنون۔ منقطع ہونے والا۔ ختم ہونے والا۔ تبصر۔ تو دیکھے گا۔ المفتون۔ دیوانہ۔ ودوا۔ وہ پسند کرتے ہیں۔ تدھن۔ تو خوشامد کرے۔ تو نمر پرے۔ حلاف۔ بہت قسمیں کھانے والا۔ مھین۔ ذلیل کمینہ۔ ھماز۔ طعنے دینے والا۔ مشائ۔ پھرنے والے۔ نیمیم۔ چغل خور۔ باتیں لگانے والے۔ مناع۔ روکنے والا۔ معتد۔ حد سے بڑھنے والا۔ اثیم۔ گناہ گار۔ عتل۔ اکھڑ۔ اجد۔ زنیم۔ بدنام۔ نسیم۔ ہم داغ دیں گے۔ الخرطوم۔ ناک۔ دم۔ سونڈ۔ تشریح : سورة القلم کا آغاز ” ن “ سے کیا گیا ہے جو حروف مقطعات میں سے ایک حروف ہے۔ اس کے کیا معنی ہیں ؟ اس کی تفصیل اس سے پہلی ابتدائی سورتوں میں آچکی ہے کہ ان حروف کے معنی اور مراد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
(ف 2) یعنی اللہ تعالیٰ نے جن اعلی اخلاق و کمالات پر آپ کو پیدا کیا ہے کیا دیوانوں میں ان اخلاق و کمالات کا تصور کیا جاسکتا ہے ایک مجنون کے اقوال وافعال میں قطعا نظم وترتیب نہیں ہوتی نہ اس کا کلام اس کے کاموں پر منطبق ہوتا ہے برخلاف اس کے آپ کی زبان قرآن ہے اور آپ کے اعمال واخلاق قرآن کی خاموش تفاسیر۔ قرآن جس نیکی جس خوبی اور بھلاء کی طرف دعوت دیتا ہے وہ آپ میں فطرت موجود ہیں جس بدی وزشتی سے روکتا ہے آپ طبعا اس سے نفوذ بےزار ہیں ۔ پیدائشی طور پر آپ کی ساخت اور ترتیب اسیی وواقع ہوئی ہے کہ آپ کی کوئی حرکت اور کوئی چیز حد تناسب اعتدال سے ایک انچ ادھر ادھر ہٹنے نہیں پاتی۔ آپ کا حسن اخلاق اجازت نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–8
[4] یعنی آپ ﷺ کا بلند اخلاق ہونا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ کفار کا آپ ﷺ کو مجنون کہنا سراسر جھوٹ ہے کیونکہ بلند اخلاق اور جنون ایک جگہ جمع نہیں ہوسکتے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–12
سورة القلم اور جنون وخرد 2: حضور ﷺ کے متعلق مکہ والوں کی رائے تھی ۔ کہ ان کو خلل دماغ ہے ۔ یورپ کے بعض متعصب مشنریوں نے بھی یہ کہا ہے ۔ کہ نبوت محض مرض ضرع کا دوسرا نام تھا ۔ معاذ اللہ مگر قرآن حکیم فرماتا ہے ۔ کہ قلم اور تحریر کا جتنا اندوختہ اس وقت فطرت نے محفوظ رکھا ہے ۔ اور جس قدر کہ اس میں اضافہ ہوسکتا ہے ۔ اس سارے ذخیرہ ادب و عظمت کو میزان کے چڑے میں رکھو ۔ اور اس کے بعد اس پیغام کو دوسرے پلڑے میں رکھو ۔ جس کو معاذ اللہ اس حکیم امی نے پیش فرمایا ہے ۔ جس کے متعلق موازنہ ، اس کے پیش کردہ پیغام کی برکات سے استفادہ کرتی رہے گی ۔ اور بس سرچشمہ معارف میں مکھی پیدا نہ ہوگی ۔ یہ کتنی بڑی فریب…
Read the full tafseer →(4) اور یقینا آپ بڑے بلند اخلاق کے مالک ہیں۔ ہم نے محاورے کا ترجمہ کیا ہے یہ بھی مجنون کہنے والوں کا جواب ہے کہ جس میں خلق بلند ہے اور جو اخلاق عظیم کا مالک ہے اور جس ک وخلق عظیم کا ملکہ حاصل ہے وہ بھلا کہیں مجنون ہوسکتا ہے اور دیوانوں میں جب عقل ہی نہیں ہوتی توخلق کہاں ہوگا۔ نبی کریم ﷺ کے اخلاق سے کب سیرواحدیث لبریز اور بھری ہوئی ہیں حضور ﷺ نے فرمایا بعثت لا تعم مکارم الاخلاق یعنی انبیائے سابقین میں جو اخلاق بزرگیاں اور بڑائیاں تھیں ان سب کی تکمیل اور ان کے اتمام کے لئے بھیجا گیا ہوں۔ جب آیت خذ العفو وامربالعرف واعرض عن الجاھلین نازل ہوئی تو حضور اکرم ﷺ نے جبرئیل (علیہ السلام) سے دریافت کیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
ف 6۔ چناچہ ہر فعل آپ کا موصوف باعتدال اور قرین رضائے ایزو متعال ہے۔
Read the full tafseer →بلاشبہ آپ ﷺ کا خلق نہایت ہی عظیم الشان ہے 4 ؎ (خلق) عادت ، خصلت ، خو ، خلق جمع اخلاق۔ عقائد و عبادات کے بعد تعلیمات نبوی کا تیسرا باب اخلاق ہے۔ اخلاق سے متقصود باہم بندوں کے حقوق و فرائض کے وہ تعلقات ہیں جن کو ادا کرنا ہر انسان کے لئے مناسب بلکہ ضروری ہے۔ انسان جب اس دنیا میں آتا ہے تو اس دنیا کی ہر شے سے تھوڑا بہت اس کا تعلق پیدا ہوجاتا ہے۔ اس تعلق کے فرض کو بحسن و خوبی انجام دینا اخلاق ہے۔ اس کے اپنے ماں باپ ، اہل و عیال ، عزیز و رشتہ دار ، دوست و احباب سب سے تعلقات ہیں بلکہ ہر اس انسان کے ساتھ اس کا تعلق ہے جس سے وہ محلہ ، وطن ، قومیت ، جنسیت یا اور کسی نوع کا علاقہ رکھتا ہے بلکہ اس سے آگے…
Read the full tafseer →وَإِنَّكَ لَعَلَىٰ خُلُقٍ عَظِيمٍ (And you are surely on exalted quality of character 68:4). In this verse, the demented people are invited to think carefully about the lofty morals of the Holy Prophet ﷺ . The Holy Prophet's Exalted Quality of Character Sayyidna Ibn ` Abbas ؓ has said that 'exalted quality of character' signifies a 'great religion, and it is Islam, a religion dearest to Allah'. Sayyidah ` A'ishah ؓ was asked about the Holy Prophet's ﷺ character. She replied: "The Holy Prophet's ﷺ character was the Qur'an itself'. In other words, he is the living example of the Qur'an that…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–8
4 Here, this sentence gives two meanings: (1) "That you stand exalted to a high and noble character; that is why you are enduring all these hardships in your mission of guiding the people to the Right Way, otherwise a tnan of weak character could not have done so;" and (2) "that besides the Qur'an, your high and noble character also is a clear proof that the accusation of madness that the disbelievers bring against you is absolutely false, for high morals and madness cannot co-exist in one and the same person. " A madman is he whose balance of mind is upset, who has lost his temperamental…
Read the full tafseer →