Explained with ayahs 1–7
نون وغیرہ جیسے حروف ہجا کا مفصل بیان سورة بقرہ کے شروع میں گذر چکا ہے اس لئے یہاں دوہرانے کی ضرورت نہیں، کہا گیا ہے کہ یہاں ان سے مراد وہ بڑی مچھلی ہے جو ایک محیط عالم پانی پر ہے جو ساتوں زمینوں کو اٹھائے ہوئے ہے، ابن عباس سے مروی ہے کہ سب سے پہلے اللہ نے قلم کو پیدا کیا اور اس سے فرمایا لکھ اس نے کہا کیا لکھوں ؟ فرمایا تقدیر لکھ ڈال پس اس دن سے لے کر قیامت تک جو کچھ ہونے والا ہے اس پر قلم جاری ہوگیا پھر اللہ تعالیٰ نے مچھلی پیدا کی اور پانی کے بخارات بلند کئے، جس سے آسمان بنے اور زمین کو اس مچھلی کی پیٹھ پر رکھا مچھلی نے حرکت کی جس سے زمین بھی ہلنے لگی پس زمین پر پہاڑ گاڑ کر اسے مضبوط اور…
Read the full tafseer →سورة الْقَلَم 3
یعنی آپ کے لیے اس بات پر بےحساب اور لازوال اجر ہے کہ آپ خلق خدا کی ہدایت کے لیے جو کوششیں کر رہے ہیں ان کے جواب میں آپ کو ایسی ایسی اذیت ناک باتیں سننی پڑ رہی ہیں اور پھر بھی آپ اپنے اس فرض کو انجام دیے چلے جا رہے ہیں۔
Read the full tafseer →آگے مضمون مذکور کی مزید تائید کے لئے فرمایا،
(آیت) وَاِنَّ لَكَ لَاَجْرًا غَيْرَ مَمْنُوْنٍ (اور بیشک آپ کے لئے اجر عظیم ہے جو کبھی منقطع ہونے والا نہیں) مطلب یہ ہے کہ آپ کے جس کام کو یہ دیوانی جنون کہہ رہے ہیں وہ تو اللہ کے نزدیک سب سے بڑا مقبول عمل ہے اس پر آپ کو اجر عظیم ملنے والا ہے اور اجر بھی ایسا جو دائمی ہے کبھی منقطع نہیں ہوگا۔ کہیں کسی مجنون کے عمل پر بھی مجنون کو اجر ملا کرتا ہے۔ آگے اسی مضمون کی مزید تائید و تاکید سا جملے سے فرما دی۔
Read the full tafseer →رسول کے لیے ابدی فیروز مندی کی بشارت:
یہ اسی بات کی وضاحت مثبت پہلو سے ہے کہ احمق ہیں وہ جو تمہیں دیوانہ سمجھ کر تمہارے لیے گردش روزگار کے منتظر ہیں جو ان کے خیال میں تمہیں تباہ کر دے گی۔ تباہی تمہارے لیے نہیں بلکہ خود ان کے لیے مقدر ہے۔ تمہارے لیے تو کبھی نہ ختم ہونے والا اجر ہے اور مغروروں کو جو دنیا ملی ہے اور جس پر یہ نازاں ہیں یہ اب عذاب کی زد میں ہے اور بہت جلد یہ اس کا انجام دیکھ لیں گے لیکن تمہیں تمہاری حق پرستی کا جو صلہ ملنے والا ہے وہ ابدی ہے جس کے لیے کبھی زوال نہیں ہے۔
’غَیْْرَ مَمْنُوۡنٍ‘ کے معنی غیر منقطع کے ہیں۔ بعض لوگوں نے اس کے معنی اس سے مختلف بھی لیے ہیں لیکن وہ عربیت اور…
Read the full tafseer →3۔ 1 فریضہ نبوت کی ادائیگی میں جتنی زیادہ تکلیفیں برداشت کیں اور دشمنوں کی باتیں سنی ہیں اس پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے نہ ختم ہونے والا اجر ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
1: یہاں حرف نون انہی حروف مقطعات میں سے ہے جو مختلف قرآنی سورتوں کے شروع میں آئے ہیں، اور جن کے بارے میں سورة بقرہ کے شروع میں عرض کیا جا چکا ہے کہ ان کے ٹھیک ٹھیک معنی اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو بھی معلوم نہیں ہیں۔
2: مکہ مکرمہ کے کافر لوگ آنحضرت ﷺ کو (معاذ اللہ) دیوانہ کہا کرتے تھے۔ اگلی آیت میں ان کی تردید فرمائی گئی ہے، اور اس سے پہلے اس آیت میں اس تردید پر یہ قسم کھائی گئی ہے۔ اس کی تفسیر میں بہت سے مفسرین نے فرمایا ہے کہ قلم سے مراد تقدیر کا قلم ہے اور ”وہ“ سے مراد فرشتے ہیں۔ یعنی قسم ہے تقدیر کے قلم کی، اور تقدیر کے ان فیصلوں کی جو فرشتے لکھتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ دیوانے نہیں ہیں۔ یعنی…
Read the full tafseer →وان لک ................ ممنون (86 : 3) ” اور یقینا تمہارے لئے ایسا اجر ہے جس کا سلسلہ کبھی ختم ہونے والا نہیں ہے۔ “ یعنی آپ کے لئے دائمی اور مسلسل اجر کا انتظام ہے۔ یہ سلسلہ کبھی منقطع نہ ہوگا ، نہ انتہا کو پہنچے گا۔ تمہارے رب نے تجھے نبوت عطا کی ہے اور یہ ایک بہت بڑا اعزاز ہے۔ یہ ایک نہایت بڑی اور حقیقی تسلی ہے اور نہایت ہی بھرپور ہے۔ اس کے بعد انسان کوئی محرومی ، کوئی ظلم ، کسی بہتان کی کوئی پرواہ نہیں کرتا۔ جب رب تعالیٰ یہ فرمارہا ہے کہ تمہارے لئے ایسا مسلسل اجر ہے ، جس کا سلسلہ منقطع ہونے والا نہیں ہے تو ظاہر ہے کہ پھر انسان اس راہ میں آنے والی کسی مشکل کی کوئی پرواہ نہیں کرتا خصوصاً جبکہ…
Read the full tafseer →5 یعنی آپ غمگین نہ ہوں۔ ان کے دیوانہ کہنے سے آپ کا اجر بڑھتا ہے اور غیر محدود فیض ہدایت بنی نوع انسان کو آپ کی ذات سے پہنچنے والا ہے اس کا بےانتہاء اجرو ثواب آپ ﷺ کو یقیناً ملنے والا ہے کیا دیوانوں اور پاگلوں کا مستقبل ایسا پائدار اور شاندار کسی نے دیکھا ہے ؟ یا کسی مجنون کی اسکیم اس طرح کامیاب ہوتے سنی ہے ؟ پھر جس کا رتبہ اللہ کے ہاں اتنا بڑا ہو اس کو چند احمقوں کے دیوانہ کہنے کی کیا پروا ہونی چاہیے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
آیت 2 { مَـآ اَنْتَ بِنِعْمَۃِ رَبِّکَ بِمَجْنُوْنٍ۔ } ”آپ اپنے رب کے فضل و کرم سے مجنون نہیں ہیں۔“
اے نبی ﷺ ! جو لوگ آپ کو مجنون کہہ رہے ہیں وہ خود احمق ہیں جو یہ تک نہیں جانتے کہ مجنون کیسے ہوتے ہیں۔ کیا ان لوگوں کو آپ ﷺ کی پاکیزہ اور اعلیٰ اخلاق کی حامل سیرت نظر نہیں آتی ؟ کیا یہ لوگ واقعتا سمجھتے ہیں کہ مجنون لوگوں کی زندگی کا نقشہ بھی ایسا ہی ہوتا ہے ؟ تو اے نبی ﷺ ! آپ ان لوگوں کی فضول اور لایعنی باتوں سے رنجیدہ نہ ہوں۔
Read the full tafseer →4 یعنی اگر یہ لوگ آپ کو دیوانہ کہتے ہیں تو اس سے آپ غمگین اور ملول نہ ہوں۔ اللہ اس کے عوض آپ کو اتنا اجر عطا فرماوے گا جو لامتناہی، غیر محدود اور غیر منقطع ہے اور اس کے تسلسل میں کبھی فرق نہ آئے گا۔ اس اجر سے مراد دنیا کی زندگی میں بھی ایسا اجر ہوسکتا ہے جو فی الواقع آپ کو عطا کردیا گیا تھا اور اخروی اجر تو بہرحال یقینی ہے۔ غور فرمائیے کہ کسی دیوانے یا پاگل کا مستقبل بھی ایسا شاندار ہوسکتا ہے۔ پھر جس کا رتبہ اللہ کے ہاں اتنا بڑا ہو اسے چند احمقوں کے دیوانہ کہنے کی پروا نہ کرنا چاہیے۔
Read the full tafseer →3۔ (اس لئے آپ ان مطاعن کو چندے صبر کے ساتھ برداشت کرلیجئے) (آیت) ” لاجر ا “۔ یہ اجربے نہایت ادائے فرائض نبوت پر ملے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
ما انت بنعمۃ ربک بمجنون یہ جواب قسم ہے جس میں کفار کے قول کو رد کیا گیا ہے کیونکہ وہ آپ ﷺ کو مجنون اور دیوانہ کہتے تھے، آپ ﷺ نے فریضہ نبوت کی ادائیگی میں جتنی زیادہ تکلیفیں برداشت کیں اور دشمنوں کی طعن وتشنیع سنیں ہیں اس پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے نہ ختم ہونے والا اجر ہے، من کے معنی ختم ہونے اور قطع کرنے کے ہیں۔
Read the full tafseer →وان لک لاجرا . یعنی دکھ برداشت کرنے اور احکام رسالت پہنچانے کا آپ کے لیے بڑا اجر ہے۔ اجراً میں
تنوین عظمت اجر کو ظاہر کر رہی ہے۔ (بڑا ثواب)
غیر ممنون . غیر منقطع (ثواب) یا ایسا ثواب جس کے لیے لوگوں کا احسان مند نہ ہونا پڑے یعنی محض خداداد اور
احسانِ الٰہی۔
Read the full tafseer →اور آپ کو جنت میں نبوت و اسلام کی وجہ سے ایسا اجر ملنے والا ہے جو کبھی ختم ہونے والا نہیں اور نہ وہ اس کا آپ پر احسان فرمائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–4
مَآ اَنْتَ بِنِعْمَۃِ رَبِّکَ بِمَجْنُوْنٍ۔۔۔۔: اللہ تعالیٰ نے قلم کی اور اس چیز کی قسم کھائی جو لکھنے والے لکھتے ہیں اور اس کے جواب میں تین باتیں ارشاد فرمائیں ، پہلی یہ کہ آپ اللہ کے فضل سے مجنون (دیوانے) نہیں ہیں ، دوسری یہ کہ آپ کے لیے ایسا اجر ہے جو منقطع ہونے والا نہیں اور تیسری یہ کہ یقینا آپ خلق عظیم پر ہیں۔ قسم جواب قسم کی تاکید کے لیے کھائی جاتی ہے اور عام طور پر اس کے لیے شاہد اور دلیل ہوتی ہے ، یہاں قسم اور جواب قسم میں مناسبت یہ ہے کہ قلم اور قلم سے لکھنے والوں نے جو چھ لکھا ہے وہ اس بات کی شہادت دے رہا ہے کہ کفار کا یہ کہنا غلط ہے کہ آپ دیوانے ہیں۔ تقدیر کے قلم نے لوح محفوظ میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
ن والقلم ابوبکر، مفضل، ہبیرہ، ورش، ابن محیصن، ابن عامر، کسائی اور یعقوب نے دوسری نون کو وائو میں مدغم کیا ہے باقی قراء نے اظہار کیا ہے۔ عیسیٰ بن عمر نے اس کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے، گویا فعل کو مضمر مانا ہے۔ حضرت ابن عباس، نصر اور ابن ابی اسحاق نے حرف قسم کو مضمر ماننے کے ساتھ اسے مسکور پڑھا ہے۔ ہ اور ن، محمد بن سمیقع اور معاویہ بن قرہ نے مبنی ہونے کی وجہ سے ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ اپنے باپ سے وہ نبی کریم ﷺ سے مرفوع روایت نقل کرتے ہیں کہ فرمایا، ن نور کی ایک لوح ہے “ (2) ثابت بنانی نے روایت کیا ہے کہ ن سے مراد دوات ہے (3) یہ حضرت حسن بصری اور قتادہ کا قول ہے۔ ولید بن مسلم نے روایت کی ہے کہ مالک بن…
Read the full tafseer →21۔ عبد بن حمیدوابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت وان لک لا اجرا غیر ممنون اور آپ کے لیے غیر منقطع اجر ہوگا۔ یعنی آپ کے لیے بغیر حساب کے اجر ہے۔
Read the full tafseer →[وَاِنَّ لَكَ : اور بیشک آپ کے لیے ][ لَاَجْرًا : یقینا ایک ایسا اجر ہے جو ][ غَيْرَ مَمْنُوْنٍ : منقطع ہونے والا نہیں ہے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
رسول اللہ ﷺ سے خطاب کہ آپ کے لیے بڑا اجر ہے جو کبھی ختم نہ ہوگا اور آپ صاحب خلق عظیم ہیں
یہاں سے سورة ٴ القلم شروع ہو رہی ہے (ن ٓ) حروف مقطعات میں سے ہے جو متشابہات میں سے ہیں، اللہ تعالیٰ نے قلم کی اور فرشتے جو کچھ لکھتے ہیں اس کی قسم کھا کر فرمایا کہ اے محمد ﷺ آپ اپنے رب کے انعام کی وجہ سے مجنون نہیں ہیں، مشرکین جو بطور عناد رسول اللہ ﷺ کو العیاذ باللہ دیوانہ بتاتے تھے اس میں ان کی تردید فرمائی۔ مفسرین نے فرمایا ہے کہ قلم سے وہ قلم مراد ہے جس نے لوح محفوظ میں کائنات کے بارے میں اللہ کے حکم سے وہ سب کچھ لکھ دیا تھا جو آئندہ وجود میں آنے والا تھا اور ﴿وَ مَا يَسْطُرُوْنَۙ001﴾ سے ان فرشتوں کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–16
بیان عظمت رسول اکرم ﷺ وتلقین صبر و استقامت :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” ن والقلم وما یسطرون ........ الی .......... سنسمہ علی الخرطوم “۔
(ربط) گزشتہ سورت میں خداوند عالم کی خالقیت کے دلائل ذکر کئے گئے اور یہ کہ اس کی قدرت کائنات کو محیط ہے اس کے احاطہ علم وقدرت سے کوئی مجرم نہیں نکل سکتا تو اب اس سورت میں آنحضرت ﷺ کی رسالت ونبوت کو ثابت فرمایا گیا اور یہ کہ آپ ﷺ کی شان میں گستاخی کرنے والے مجرمین خدا کے عذاب سے ہرگز نہیں بچ سکتے اور جو کچھ وہ آپ ﷺ پر اعتراض کرتے ہیں وہ سب لغو اور بےہودہ باتیں ہیں کوئی صحیح العقل انسان ایسی بےہودہ باتیں تصور بھی نہیں کرسکتا ارشاد فرمایا۔
ن۔ خدا تعالیٰ ہی اس کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
3:۔ ” وان لک “ آپ اپنے کام میں ثابت قدم رہیں، راہ حق اور تبلیغ توحید میں آپ نے جو شدائد برداشت کیے ہیں ان کا آپ کو ایسا اجر وثواب ملے گا جو کبھی ختم نہیں ہوگا۔ ای ثوابا ما تحملت من اثقالا لنبوۃ (قرطبی ج 18 ص 226) ۔ ” وانک لعلی خلق عظیم “ خلق سے اخلاق و عادات مراد ہیں آپ کے خلق کو ” عظیم “ فرمایا کیونکہ آپ کی ذات گرامی میں تمام مکارم اخلاق علی وجہ الاتم موجود تھے اور آپ قرآنی اخلاق و آداب کا مجسم نمونہ تھے۔ حضرت عائشہ ؓ سے جب آپ کے خلق کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا ” کان خلقہ القران “ کہ آپ کا خلق قرآن ہے یعنی آپ کے تمام اعمال و افعال اور اخلاق و عادات قرآنی تعلیم کے عین مطابق تھے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
وجہ تسمیہ اور کوائف :
اس سور ۃ کی پہلی آیت میں قلم کا لفظ مذکور ہے۔ اور اسی وجہ سے اس سورة کا نام سورة قلم ہے اس سورة کی باون آیات ، تین سو الفاط اور ایک ہز اور دو سوچھپن حروف ہیں۔ اس سے پہلے سورة ملک کی تیس آیات تھیں اور اس کی باون آیتیں ہیں۔
مضامین سورة (ربطہ) :
اس سے پہلی سورة میں توحید ذات خداوندی ، دلائل توحید ، جزائے اعمال اور ضمنا رسالت کا ذکر تھا۔ اس سورة میں زیادہ تر رسالت کا تذکرہ ہے۔ جزائے اعمال اور قیامت کا ذکر بھی ہے۔ پہلی سورة میں توحید کے دلائل زیادہ تھے اس میں نبوت اور رسالت پر اعتراضا کے جواب دیے گئے ہیں ان کا رد کیا گیا ہے۔ اور تبنیہ کی گئی ہے۔ خاص طور پر مکہ کے خوشحال لوگوں…
Read the full tafseer →وَاِنَّ لَكَ لَاَجْرًا غَيْرَ مَمْنُوْنٍ 3 ۚ
إِنَّ وأَنَ
إِنَّ أَنَّ ينصبان الاسم ويرفعان الخبر، والفرق بينهما أنّ «إِنَّ» يكون ما بعده جملة مستقلة، و «أَنَّ» يكون ما بعده في حکم مفرد يقع موقع مرفوع ومنصوب ومجرور، نحو : أعجبني أَنَّك تخرج، وعلمت أَنَّكَ تخرج، وتعجّبت من أَنَّك تخرج . وإذا أدخل عليه «ما» يبطل عمله، ويقتضي إثبات الحکم للمذکور وصرفه عمّا عداه، نحو : إِنَّمَا الْمُشْرِكُونَ نَجَسٌ
[ التوبة/ 28] تنبيها علی أنّ النجاسة التامة هي حاصلة للمختص بالشرک، وقوله عزّ وجل : إِنَّما حَرَّمَ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةَ وَالدَّمَ [ البقرة/ 173] أي : ما حرّم ذلك إلا تنبيها علی أنّ أعظم المحرمات من…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
ترکیب : ن۔ قریٔ بادغام النون الثانیہ من ہجائھانی الواوقریٔ بالاظہار وبالفتح وبالکسر وبالضم اما الفتح فباضمار فعل والفتح علی اضمارا لقسم اولالتقاء الساکنین والضم علی النبائ۔ والقلم الواوللقسم وماموصولۃ یسطرون صلۃ والعائد محذوف والجملۃ معطوفۃ علی القلم ما انت الجملۃ جواب القسم وان لک الجملۃ معطوفۃ علی الجملۃ السابقۃ و انک ایضا معطوفۃ علیھا والجملات الثلاث جواب القسم۔ بایکم المفتون الباء زائدۃ ویمکن ان یکون المفتون مصدر امثل المعقول والمیسور ای بایکم الجنون۔
تفسیر : جمہور کے نزدیک یہ سورة بھی مکہ میں نازل ہوئی ہے۔ حسن و عکرمہ وعطاء کا بھی یہی قول ہے۔ ابن عباس ؓ سے منقول ہے کہ سب سے اول اقرء نازل…
Read the full tafseer →وَاِنَّ لَکَ لَاَجْرًا غَیْرَمَمْنُوْنٍ ۔ (القلم : 3)
(اور یقینا آپ کے لیے ایک کبھی ختم نہ ہونے والا اجر ہے۔ )
غَیْرَمَمْنُوْنٍ … کا معنی ہے غیرمنقطع، یعنی ختم نہ ہونے والا۔
آنحضرت ﷺ کو تسلی اور پروپیگنڈے کا جواب
ہم سورة الملک میں پڑھ چکے ہیں اور ہم سورة الطور سے مثال بھی پیش کرچکے ہیں کہ کافروں کا گمان یہ تھا کہ نبی کریم ﷺ بڑی تندہی سے جس دین کی دعوت میں لگے ہوئے ہیں خطرہ ہے کہیں اس کے اثرات سے انقلاب برپا نہ ہوجائے۔ اس کے اثر سے بچانے کے لیے اشرافِ قریش عوام کو یہ کہہ کر اطمینان دلاتے تھے کہ تم ہرگز اس کی فکر نہ کرو، یہ شاعر آدمی ہے چند دنوں تک اس کے اثرات ہوں گے اس کے بعد یہ سب کچھ ہوا میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–4
فہم القرآن
ربط کلام : قلم اور اس کے لکھنے والوں کی عظمت کا ذکر فرما کر کفار کے بدترین الزام کی تردید کی گئی ہے۔
اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کو صورت اور سیرت کے اعتبار سے سب سے ممتاز پیدا فرمایا تھا۔ اسی سورت کی آیت 4 میں آپ کے عظیم اخلاق کی تعریف فرمائی ہے۔ آپ ﷺ کی صورت و سیرت اور حسن اخلاق کو آپ کے بدترین دشمن بھی جانتے اور مانتے تھے مگر قرآن بالخصوص دعوت توحید کی وجہ سے لوگ نہ صرف آپ کے مخالف ہوئے بلکہ ہر قسم کی سچائی کا انکار کرتے ہوئے آپ کو مجنون کہتے تھے، حالانکہ وہ جانتے تھے کہ دیوانہ اس قسم کی حرکات اور باتیں نہیں کرتا لیکن پھر بھی آپ کو مجنون قراردیتے تھے۔ یہ آپ کی ذات پر بہت بڑا اور…
Read the full tafseer →3 : وَاِنَّ لَکَ (اور بیشک آپ کے لئے) ان باتوں کے برداشت کرنے اور صبر میں لَاَجْرًا (ایسا اجر ہے) اجرثواب کے معنی میں ہے۔ غَیْرَ مَمْنُوْنٍ (جو ختم ہونے والا نہیں) غیرمنقطع ہے نمبر 2۔ ایسا ثواب ہے جس پر دوسرے لوگوں کا احسان مند نہ ہونا پڑے۔ محض احسان الٰہی ہے۔
Read the full tafseer →2 ۔” ماانت بنعمۃ “ نبوت کی۔ ” ربک بمجنون “ یہ ان کے قول ” یایھا الذی نزل علیہ الذکر انک لمجنون “ کا جواب ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے نون اور قلم کی قسم کھائی ہے اور جو اعمال لکھے جاتے ہیں۔ پس فرمایا ” ماانت بنعمۃ ربک “ تیرے رب کی نبوت کے ساتھ۔ ” بمجنون “ یہ جواب قسم ہے۔ یعنی بیشک آپ مجنون نہیں ہوسکتے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آپ (علیہ السلام) پر نبوت و حکمت کا انعام کیا ہے اور کہا گیا ہے آپ کے رب کی عصمت کی وجہ سے۔ اور کہا گیا ہے کہ یہ اس طرح ہے جو کہا جاتا ہے ” ما انت بمجنون والحمد للہ “ اور کہا گیا ہے اس کا معنی ” ماانت بمجنون “ آپ (علیہ السلام) مجنون نہیں ہیں اور نعمت آپ کے رب کے لئے ہے۔ جیسے ان کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
1۔ 7۔ یہ سورة مکی ہے کیونکہ اس کی شروع کی آیتیں مکہ میں نازل ہوئی ہیں اور پھر مابعد کی کچھ آیتیں بعض مفسروں کے قول کے موافق مدنی ہیں لیکن جس سورة کا شروع کا حصہ مکی ہو امام المفسرین حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کے قول کے موافق وہ سورة مکی کہلاتی ہے۔ اسی واسطے حافظ ابن 1 ؎ کثیر نے اس سورة کو مکی قرار دیا ہے حروف مقطعات کی بحث سورة بقر میں گزر چکی ہے قلم اور قلم سے جو کچھ لکھا جائے اللہ تعالیٰ نے اس کی قسم کھا کر آگے کا مطلب بیان فرمایا ہے اس قلم میں وہ قلم بھی داخل ہے جس سے لوح محفوظ پر دنیا کی سب کائنات لکھی گئی ہے قلم کی کتابت میں لوح محفوظ کا نوشتہ بھی داخل ہے اللہ تعالیٰ نے عرش سے پہلے قلم کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
اللہ تبارک وتعالی، قلم، کی قسم کھاتا ہے۔ یہ اسم جنس ہے جو ان تمام اقلام کو شامل ہے جن کے ذریعے سے مختلف علوم کو علوم کو لکھا جاتا ہے اور جن کے ذریعے سے مختلف انواع کا کلام لکھا جاتا ہے، اللہ تعالیٰ کی عظیم نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے، جو اس امر کی مستحق ہے کہ محمد کی ان عیوب کے بارے میں براءت پر اس کی قسم کھائی جائے جو آپ کے دشمن آپ کی طرف منسوب کرتے ہیں یعنی جنون وغیرہ۔ پس آپ کے رب کی نعمت اور احسان سے ان عیوب کی آپ نفی کی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو عقل کامل، عمدہ رائے اور فصاحت و بلاغت سے لبریز کلام فیصل سے سرفراز فرمایا ہے جو بہترین کلام ہے جسے قلم لکھتے ہیں اور مخلوقات اسے قلم بند کرتی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
5 پیغمبر (علیہ السلام) کا اخلاق و کردار اور ان کی صداقت و حقانیت کی دلیل : سو ارشاد فرمایا گیا اور کلمات تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ بلاشبہ آپ ﷺ اخلاق کے بہت بڑے مرتبے پر ہیں۔ اتنے بڑے مرتبے پر جس کی نظیر و مثال چشم فلک نے نہ اس سے پہلے کبھی دیکھی اور نہ آئندہ قیامت تک کبھی دیکھ سکے گی۔ صلوات اللہ وسلامہ علیہ علی آلہ وصحبہ ومن والاہ وبھداہ اھتدی اور آپ ﷺ کے اخلاق کی یہ بلندی اور پاکیزگی ان لوگوں کے خلاف سب سے بڑی حجت ہے جو آپ ﷺ کو دیوانہ یا کاہن یا شاعر کہہ کرو العیاذ باللہ اپنے دلوں کی بھڑاس نکالتے ہیں اور اس طرح وہ اپنی بدبختی کے داغ کو اور پکا کرتے ہیں اور اس طرح وہ اپنے آپ کو اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–16
رسول کریم ﷺ کا خلق عظیم اور کفار کی اطاعت سے بچنے کا حکم
تشریح : جیسا کہ پہلے بھی سورتوں میں مختلف چیزوں کی قسم مختلف چیزوں کے صحیح ثابت کرنے کے لیے کھائی گئی ہے تو یہاں نبی پاک ﷺ کے حسن کردار اور صفات کے بلند پایہ ہونے کے لیے قلم و قرآن کی قسم کھائی گئی ہے۔
آپ ﷺ تو مجسم صفات ہیں قرآن و احادیث میں جگـہ جگہ آپ ﷺ کی جملہ صفات کا ذکر بڑے مستند حوالوں سے کیا گیا ہے۔ کیوں نہ ہو آپ ﷺ دنیا کے بہترین انسان اور پیغمبر ہیں آپ ﷺ رحمت حیا، جودوسخا، وفا، صبر، زہد وتقویٰ حسن سلوک اور حسن تادیب کے لحاظ سے بلکہ ہر لحاظ سے بےمثال ہیں آپ ﷺ کو انسان کامل ہونے کا رتبہ حاصل ہے۔
آپ ﷺ محسن انسانیت اور رحمۃ للعٰلمین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–33
آیات 1 تا 23۔
اسرار ومعارف۔
قسم ہے قلم کی اور جو کچھ قلم سے لکھاجاتا ہے یعنی آپ ﷺ نے امی ہونے کے باوجود علم کے وہ دریابہائے کہ خود قلم اور اس کی تحریر آپ کے کامل عقل مند اور بےمثال صاحب خرد ہونے پر دال ہے۔
مجنون۔
جب آپ ﷺ نے اعلان نبوت فرما کر ساری انسانیت کو دعوت حق دے دی اور تمام انسانوں کے لیے ایک عقیدہ اور ایک نظام حیات تو مشرکین نے اسے معاذ اللہ پاگل پن قرار دیا کہ دنیا کی عظیم الشان حکومتیں ساری دنیا پہ ایک نظام رائج نہ کرسکیں۔ پھر آپ ﷺ امی ہیں ، اکیلے ہیں یا چند مسلمان جن کی بظاہر کوئی حیثیت نہیں پھر اقوام عالم کے مزاج الگ ، فکر الگ ، رنگ ونسل اپنی اپنی ، غذا الگ زبانیں الگ موسم اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
ف 1 یعنی آپ غمگین نہ ہوں۔ ان کے دیوانہ کہنے اور آپ کے برداشت کرتے چلے جانے سے آپ کے اجر میں اضافہ ہوگا اور آپ کو یقینا بےانتہا اجر ملے گا۔
Read the full tafseer →(68:3) وان لک لاجرا غیر ممنون۔ یہ آیت بھی جواب قسم میں ہے۔
لاجرا لام تاکید کے لئے ہے اجرا میں تنوین عظمت اجر کو ظاہر کر رہی ہے۔
ممنون اسم مفعول واحد مذکر من (باب نصر) مصدر۔ م ن ن حروف مادہ کم کیا ہوا۔ قطع کیا ہوا۔ غیر ممنون یعنی اجر نہ کم ہوگا۔ نہ منقطع اور ختم ہوگا۔ یعنی اے حبیب آپ نے بنوت کے بارگراں کو جس خوبی سے اٹھایا ہے اور احکام رسالت کو جس تندہی و خوش اسلوبی سے لوگوں کے اذہان اور دلوں میں راسخ کردیا ہے اس کا اجر آپ کو ہمیشہ ہمیشہ ملتا رہے گا اور کبھی منقطع نہ ہوگا۔
اور اگر منت (بھاری) احسان سے مشتق ہے تو معنی ہوسکتے ہیں کہ :۔ آپ کے لئے وہ اجر مقدر ہے جس کیلئے آپ کسی کے منت کش احسان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–33
لغات القرآن۔
یسطرون۔ وہ لکھتے ہیں۔ ممنون۔ منقطع ہونے والا۔ ختم ہونے والا۔ تبصر۔ تو دیکھے گا۔ المفتون۔ دیوانہ۔ ودوا۔ وہ پسند کرتے ہیں۔ تدھن۔ تو خوشامد کرے۔ تو نمر پرے۔ حلاف۔ بہت قسمیں کھانے والا۔ مھین۔ ذلیل کمینہ۔ ھماز۔ طعنے دینے والا۔ مشائ۔ پھرنے والے۔ نیمیم۔ چغل خور۔ باتیں لگانے والے۔ مناع۔ روکنے والا۔ معتد۔ حد سے بڑھنے والا۔ اثیم۔ گناہ گار۔ عتل۔ اکھڑ۔ اجد۔ زنیم۔ بدنام۔ نسیم۔ ہم داغ دیں گے۔ الخرطوم۔ ناک۔ دم۔ سونڈ۔
تشریح : سورة القلم کا آغاز ” ن “ سے کیا گیا ہے جو حروف مقطعات میں سے ایک حروف ہے۔ اس کے کیا معنی ہیں ؟ اس کی تفصیل اس سے پہلی ابتدائی سورتوں میں آچکی ہے کہ ان حروف کے معنی اور مراد…
Read the full tafseer →(ف 1) اے محبوب ﷺ تم کو تو اس تبلیغ احکام و اشاعت اسلام کے عوض میں اتنا ثواب اعلی جنت میں ملے گا جو ہرگز ممنون یعنی کبھی منقطع نہ ہوگا تم پر احسان نہ جتایاجائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
[3] یہ ہے وہ بات جس پر قلم اور قرآن مجید کی قسم کھائی گئی ہے۔ یہ اعلیٰ درجہ کا فصیح وبلیغ کلام جو بلند پایہ مضامین پر مشتمل ہے۔ اس بات کی دلیل ہے کہ محمد ﷺ پر خاص فضل ہوا ہے کجا کہ اسے اس امر کی دلیل بنا لیا ہے کہ آپ ﷺ معاذ اللہ دیوانے ہوگئے ہیں۔ نیز یہاں خطاب تو بظاہر نبی ﷺ سے ہے لیکن اصل مقصود کفار کو ان کی تہمت کا جواب دینا ہے۔ لہذا کسی شخص کو یہ شبہ نہ ہو کہ یہ آیت آپ ﷺ کو اطمینان دلانے کے لئے نازل ہوئی ہے کہ آپ ﷺ مجنوں نہیں ہیں۔ ظاہر ہے کہ آپ ﷺ کو اپنے متعلق تو ایسا کوئی شبہ نہ تھا کہ اسے دور کرنے کے لئے آپ ﷺ کو یہ اطمینان دلانے کی ضرورت ہوتی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–12
سورة القلم اور جنون وخرد
2: حضور ﷺ کے متعلق مکہ والوں کی رائے تھی ۔ کہ ان کو خلل دماغ ہے ۔ یورپ کے بعض متعصب مشنریوں نے بھی یہ کہا ہے ۔ کہ نبوت محض مرض ضرع کا دوسرا نام تھا ۔ معاذ اللہ مگر قرآن حکیم فرماتا ہے ۔ کہ قلم اور تحریر کا جتنا اندوختہ اس وقت فطرت نے محفوظ رکھا ہے ۔ اور جس قدر کہ اس میں اضافہ ہوسکتا ہے ۔ اس سارے ذخیرہ ادب و عظمت کو میزان کے چڑے میں رکھو ۔ اور اس کے بعد اس پیغام کو دوسرے پلڑے میں رکھو ۔ جس کو معاذ اللہ اس حکیم امی نے پیش فرمایا ہے ۔ جس کے متعلق موازنہ ، اس کے پیش کردہ پیغام کی برکات سے استفادہ کرتی رہے گی ۔ اور بس سرچشمہ معارف میں مکھی پیدا نہ ہوگی ۔ یہ کتنی بڑی فریب…
Read the full tafseer →(3) اور بیشک آپ کے لئے ایسا اجر ہے جو کبھی ختم ہونے والا نہیں۔ یعنی دین حق کے منکر جو آپ کی شان میں ہرزہ سرائی کرتے ہیں اور آپ اس پر صبر کرتے ہیں اس پر آپ کو ایسا اجر ملنے والا ہے جو کبھی ختم ہونے والا نہیں جس طرح آپ کی مقدس تعلیم اور آپ کا دین قائم اور دائم رہنے والا ہے اسی طرح آپ کے اجر کو بھی زوال نہیں اور وہ اجر اور آپ کے مراتب کی بلندی اور برتری کی بھی کوئی انتہا نہیں۔
ممنون کے ایک معنی یہ بھی ہیں کہ احسان رکھا گیا اس تقدیر پر مطلب یہ ہوگا کہ ایسا اجر عطا ہوگا کہ جو بغیر کسی احسان جتانے کے عطا کیا جائیگا یعنی اس اجر کا آپ پر کوئی احسان نہیں دکھا جائے گا۔ آگی آپ کیا خلاق عظیمہ کا ذکر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
ف 5۔ مطلب یہ کہ آپ نبی برحق ہیں اور یہ قسمیں اس مدعا کے نہایت مناسب ہیں کیونکہ منجملہ مقادیر کے نزول قرآن بھی ہے، پس اس میں اشارہ ہے کہ نبوت آپ کی علم الہی میں پہلے ہی سے محقق و موکد ہے، پس ثبوت اس کا متعین ہوا اور کاتبان اعمال آپ کے مصدقین و منکرین کے اعمال کو لکھ رہے ہیں، پس انکار نبوت پر سزا ہوگی، اس سے ڈر کر ایمان لانا واجب ہے۔
Read the full tafseer →آپ ﷺ کے لئے ایسا اجر مقرر کیا جا چکا ہے جو کبھی ختم ہونے والا نہیں ہے
3 ؎ یہ بیوقوف جو کہتے ہیں کہتے رہیں ، ان کے کہنے سے کیا ہوگا۔ آپ ﷺ نے جس بار گراں کو اٹھایا ہے اور دین اسلام کی تبلیغ جس شاندار طریقہ سے شروع کی ہے اور جس استقامت اور عزیمت کا مظاہرہ آپ ﷺ نے کیا ہے وہ آپ ﷺ ہی کا حق تھا اور آپ ﷺ ہی کرسکتے تھے اس لئے آپ ﷺ ہی کر رہے ہیں۔ اگر ان لوگوں کو گردش زمانہ کا انتظار ہے تو عنقریب یہ گردش زمانہ کے پھیر میں آنے والے ہیں۔ ہمیں معلوم ہے کہ یہ اس طرح کی باتیں کیوں بناتے ہیں محض اس لئے کہ یہ اس دنیا کے سروسامان پر ریجھ گئے ہیں اور اس کو انہوں نے معیار حسن اخلاق سمجھل یا ہے حالانکہ حقیقت بالکل…
Read the full tafseer →وَإِنَّ لَكَ لَأَجْرًا غَيْرَ مَمْنُونٍ (And you will definitely have a reward that will never end....68:3). The verse exposes the absurdity of the charge of madness. It purports to say that the actions of a madman produce no useful result, but the Holy Prophet will eminently succeed in fulfilling the object of his Divine mission, and in bringing about a wonderful revolution in the lives of his degenerate and demented people. This is the significance of the words in the verse 'and for you is a reward that will never end.' No insane person is ever rewarded for his actions. The next verse…
Read the full tafseer →3 That is, "You will get an unlimited and continuous reward, for although you have to hear discouraging and disturbing things in response to the efforts that you are making for the instruction and guidance of the people, yet you are steadfastly performing your Mission of calling them to the Right Way."
Read the full tafseer →