Al-Qalam 68:2

Al-Qalam · from ayah 2

68:2

مَاۤ اَنْتَ بِنِعْمَةِ رَبِّكَ بِمَجْنُوْنٍ ۟ۚمَاۤ اَنۡتَ بِـنِعۡمَةِ رَبِّكَ بِمَجۡنُوۡنٍ‌ۚ

کہ (اے محمدﷺ) تم اپنے پروردگار کے فضل سے دیوانے نہیں ہو

— Fateh Muhammad Jalandhari

You are not, [O Muhammad], by the favor of your Lord, a madman.

— Saheeh International

Juz 29 · Ruku 1 of surah · Ruku 3 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Qalam

All translations of 68:2

تم اپنے رب کے فضل سے مجنوں نہیں ہو

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

کہ (اے محمدﷺ) تم اپنے پروردگار کے فضل سے دیوانے نہیں ہو

— مولانا فتح محمد جالندہری

تو اپنے رب کے فضل سے دیوانہ نہیں ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اپنے پروردگار کے فضل سے تم دیوانے نہیں ہو۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تم اپنے رب کے فضل سے مجنون نہیں

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

(اے حبیبِ مکرّم!) آپ اپنے رب کے فضل سے (ہرگز) دیوانے نہیں ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

کہ تو اپنے رب کی نعمت سے ہرگز دیوانہ نہیں ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

کہ آپ اللہ کے فضل سے دیوانہ نہیں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

کہ تم اپنے رب کے فضل سے کوئی دیوانے نہیں ہو

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

آپ (اے پیغمبر !) اپنے رب کے فضل سے مجنون نہیں ہیں

— مولانا اسحاق مدنی

کہ آپ اپنے پروردگار کے فضل سے مجنون نہیں ہیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

آپ اپنے رب کے فضل و کرم سے مجنون نہیں ہیں۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

کہ (اے نبی ﷺ !) تم اپنے رب کے فضل سے دیوانے نہیں ہو

— محترمہ رفعت اعجاز

By your Lord's Grace, you are not afflicted with madness,

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

with the grace of your Lord, you are not insane.

— Muhammad Taqi Usmani

with the grace of your Lord, you are not insane.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

You, by the grace of your Lord, are not insane.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Thou art not, for thy Lord's favour unto thee, a madman.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

You are not, [O Muhammad], by the favor of your Lord, a madman.

— Saheeh International

(Muhammad), you are not insane, thanks to the bounty of your Lord.

— Muhammad Sarwar

By the grace of your Lord you are not mad.

— Muhammad Habib Shakir

Thou art nor, through the grace of thy Lord, mad.

— Abdul Majid Daryabadi

Thou art not, by the Grace of thy Lord, mad or possessed.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 68:2

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–7

نون وغیرہ جیسے حروف ہجا کا مفصل بیان سورة بقرہ کے شروع میں گذر چکا ہے اس لئے یہاں دوہرانے کی ضرورت نہیں، کہا گیا ہے کہ یہاں ان سے مراد وہ بڑی مچھلی ہے جو ایک محیط عالم پانی پر ہے جو ساتوں زمینوں کو اٹھائے ہوئے ہے، ابن عباس سے مروی ہے کہ سب سے پہلے اللہ نے قلم کو پیدا کیا اور اس سے فرمایا لکھ اس نے کہا کیا لکھوں ؟ فرمایا تقدیر لکھ ڈال پس اس دن سے لے کر قیامت تک جو کچھ ہونے والا ہے اس پر قلم جاری ہوگیا پھر اللہ تعالیٰ نے مچھلی پیدا کی اور پانی کے بخارات بلند کئے، جس سے آسمان بنے اور زمین کو اس مچھلی کی پیٹھ پر رکھا مچھلی نے حرکت کی جس سے زمین بھی ہلنے لگی پس زمین پر پہاڑ گاڑ کر اسے مضبوط اور…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْقَلَم 2 یہ ہے وہ بات جس پر قلم اور کتاب کی قسم کھائی گئی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ قرآن جو کاتبین وحی کے ہاتھوں سے ثبت ہو رہا ہے، بجائے خود کفار کے اس بہتان کی تردید کے لیے کافی ہے کہ معاذ اللہ رسول اللہ ﷺ مجنون ہیں۔ حضور ﷺ کے دعوائے نبوت سے پہلے تو اہل مکہ آپ کو اپنی قوم کا بہترین آدمی مانتے تھے اور آپ کی دیانت و امانت اور عقل و فراست پر اعتماد رکھتے تھے۔ مگر جب آپ نے ان کے سامنے قرآن پیش کرنا شروع کیا تو وہ آپ کو دیوانہ قرار دینے لگے۔ اس کے معنی یہ تھے کہ قرآن ہی ان کے نزدیک وہ سبب تھا جس کی بنا پر انہوں نے آپ پر دیوانگی کی تہمت لگائی۔ اس لیے فرمایا گیا کہ قرآن ہی اس تہمت کی تردید کے لیے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–2

خلاصہ تفسیر ن (اس کے معنے اللہ ہی کو معلوم ہیں) قسم ہے قلم کی (جس سے مقادیر خلق لوح محفوظ پر لکھے گئے) اور (قسم ہے) ان (فرشتوں) کے لکھنے کی (جو کہ کاتب اعمال ہیں۔ حضرت ابن عباس نے قلم اور مایسطرون کی یہی تفسیر فرمائی ہے (در منشور) آگے جواب قسم ہے) کہ آپ اپنے رب کے فضل سے مجنون نہیں ہیں صجیسا منکرین نبوت کہتے ہیں (کذافی الدرعن ابن جریج فی سببب النزول) مطلب یہ کہ آپ بنی برحق ہیں اور یہ قسمیں اس مدعا کے نہایت مناسب ہی کیونکہ منجملہ مقادیر کے نزول قرآن بھی ہے پس اس آیت میں اشارہ ہے کہ نبوت آپ کی علم الٰہی میں پہلے ہی سے محقق و موکد ہے پس ثبوت اس کا متیقن ہوا اور اعمال لکھنے والے فرشتے مصدقین و…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

قسم کا مقسم علیہ: یہ مقسم علیہ ہے۔ یعنی تمام پچھلے آسمانی صحیفے اور یہ قرآن، جو لکھا جا رہا ہے، سب اس بات پر شاہد ہیں کہ تم اللہ کے فضل سے کوئی دیوانے نہیں ہو۔ بلکہ تم انہی باتوں سے لوگوں کو آگاہ کر رہے ہو جن سے آدم علیہ السلام سے لے کر مسیح علیہ السلام تک ہر نبی نے آگاہ کیا اور جن کی صداقت پر تاریخ گواہ ہے۔ اگر یہ مدعیان دانش اس جرم میں تمہیں دیوانہ کہہ رہے ہیں تو اس کا غم نہ کرو، تم دیوانے نہیں بلکہ اپنے رب کے سب سے بڑے فضل سے بہرہ مند ہو البتہ ان دانش فروشوں کی عقل ماری گئی ہے کہ یہ دیوانے اور فرزانے میں امتیاز سے قاصر ہیں۔ آنحضرت صلعم کو مجنون کہنے کی وجہ: آنحضرت ﷺ کو مجنون کہنے کی وجہ ہم…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

2۔ 1 یہ جواب قسم ہے، جس میں کفار کے قول کا رد ہے، وہ آپ کو مجنون (دیوانہ) کہتے تھے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 1–8

1: یہاں حرف نون انہی حروف مقطعات میں سے ہے جو مختلف قرآنی سورتوں کے شروع میں آئے ہیں، اور جن کے بارے میں سورة بقرہ کے شروع میں عرض کیا جا چکا ہے کہ ان کے ٹھیک ٹھیک معنی اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو بھی معلوم نہیں ہیں۔ 2: مکہ مکرمہ کے کافر لوگ آنحضرت ﷺ کو (معاذ اللہ) دیوانہ کہا کرتے تھے۔ اگلی آیت میں ان کی تردید فرمائی گئی ہے، اور اس سے پہلے اس آیت میں اس تردید پر یہ قسم کھائی گئی ہے۔ اس کی تفسیر میں بہت سے مفسرین نے فرمایا ہے کہ قلم سے مراد تقدیر کا قلم ہے اور ”وہ“ سے مراد فرشتے ہیں۔ یعنی قسم ہے تقدیر کے قلم کی، اور تقدیر کے ان فیصلوں کی جو فرشتے لکھتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ دیوانے نہیں ہیں۔ یعنی…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

دوسرے اس بات کی تردید کے لئے جو کفار الزام لگاتے تھے کہ حضور اکرم مجنون ہیں تو اللہ تعالیٰ یہاں تردید کرتا ہے کہ رب کے فضل وکرم سے آپ مجنون نہیں ہیں۔ ماانت ............ بمجنون (86 : 2) ” تم اپنے رب کے فضل سے مجنون نہیں ہو “۔ ایک مختصر سی آیت میں ایک بات کو ثابت کیا جاتا ہے اور ایک کی نفی کردی جاتی ہے۔ ثابت یہ کیا جاتا ہے کہ آپ پر اللہ کا فضل وکرم ہے۔ اور نفی اس بات کی جاتی ہے کہ آپ مجنون نہیں ہیں۔ اور اثبات رحمت نہایت ہی اپنائیت کے ساتھ ہے۔ ربک یعنی تمہارے رب کے فضل وکرم سے۔ جب انسان قبل نبوت کی سیرت کے واقعات پڑھتا ہے تو وہ متعجب ہوتا ہے کہ اس شخص پر یہ لوگ ایسا الزام لگاتے ہیں جس کے بارے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 1–2

4 مشرکین مکہ حضور ﷺ کو (العیاذ باللہ) دیوانہ کہتے تھے۔ کوئی کہتا کہ شیطان کا اثر ہے جو یک بیک تمام قوم سے الگ ہو کر ایسی باتیں کرنے لگے ہیں جن کو کوئی نہیں مان سکتا، حق تعالیٰ نے اس خیال باطل کی تردید اور آپ ﷺ کی تسلی فرما دی۔ یعنی جس پر اللہ تعالیٰ کے ایسے ایسے فضل و انعام ہوں جن کو ہر آنکھ والا مشاہدہ کر رہا ہے۔ مثلاً اعلیٰ درجہ کی فصاحت اور حکمت و دانائی کی باتیں۔ مخالف و موافق کے دل میں اس قدر قوی تاثیر اور اتنے بلند اور پاکیزہ اخلاق کیا اسے دیوانہ کہنا خود اپنی دیوانگی کی دلیل نہیں ؟ دنیا میں بہت دیوانے ہوئے ہیں اور کتنے عظیم الشان مصلحین گزرے ہیں جن کو ابتداء ً قوم نے دیوانہ کہہ کر…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 2–3

آیت 2 { مَـآ اَنْتَ بِنِعْمَۃِ رَبِّکَ بِمَجْنُوْنٍ۔ } ”آپ اپنے رب کے فضل و کرم سے مجنون نہیں ہیں۔“ اے نبی ﷺ ! جو لوگ آپ کو مجنون کہہ رہے ہیں وہ خود احمق ہیں جو یہ تک نہیں جانتے کہ مجنون کیسے ہوتے ہیں۔ کیا ان لوگوں کو آپ ﷺ کی پاکیزہ اور اعلیٰ اخلاق کی حامل سیرت نظر نہیں آتی ؟ کیا یہ لوگ واقعتا سمجھتے ہیں کہ مجنون لوگوں کی زندگی کا نقشہ بھی ایسا ہی ہوتا ہے ؟ تو اے نبی ﷺ ! آپ ان لوگوں کی فضول اور لایعنی باتوں سے رنجیدہ نہ ہوں۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

3 قریش کا آپ کو دیوانہ کہنا کن وجوہ کی بنا پر غلط ہے ؟ یہ سب صورتیں اس بات پر کھلی کھلی شہادت ہیں کہ آپ اللہ کے فضل سے دیوانہ نہیں ہیں اور قریش مکہ جو آپ کو اس لقب سے پکارتے ہیں تو یہ جھوٹے ہیں اور بکواس کرتے ہیں۔ کیونکہ دیوانے کے سامنے اپنی زندگی کا کوئی مقصد متعین نہیں ہوتا۔ جبکہ آپ برملا اللہ کی راہ کی طرف بلاتے ہیں۔ علاوہ ازیں دیوانے کے قول اور فعل میں کبھی مطابقت نہیں پائی جاتی۔ اس لئے کہ اسے اتنا ہوش نہیں ہوتا کہ وہ کہہ کیا چکا ہے اور کر کیا رہا ہے۔ تیسری یہ بات کہ دیوانہ ہمیشہ بےسروپا اور بہکی بہکی باتیں کرتا ہے۔ جبکہ آپ کو یہ لوگ صادق اور امین ہونے کا سرٹیفیکیٹ دے چکے ہیں۔ لہذا یہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

2۔ (جیسا کہ ان دشمنان دین ودشمنان عقل نے ٹھہرا لیا ہے بلکہ سب ہوشمندوں سے بڑھ کر ہوش مند اور دانا ترین ہیں) قسم کے مفہوم کیلئے ملاحظہ ہو پارہ 14 کے آخر میں ضمیمہ ” اقسام قرآن “ پر۔ آیت کا مطلب یہ ہے کہ کاتب قدرت کیلئے قلم اور روشنائی اور خود کتبات لوح کی گواہی یہی ہے جو آگے کی آیتوں میں آرہی ہے آپ ﷺ کے کمال دانائی کی شہادت تو سارے ہی صحائف تکوینی پیش کریں گے۔ کسی معاصر احمق و جاہل کی تکذیب وتعریض سے ہوتا کیا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 2–3

ما انت بنعمۃ ربک بمجنون یہ جواب قسم ہے جس میں کفار کے قول کو رد کیا گیا ہے کیونکہ وہ آپ ﷺ کو مجنون اور دیوانہ کہتے تھے، آپ ﷺ نے فریضہ نبوت کی ادائیگی میں جتنی زیادہ تکلیفیں برداشت کیں اور دشمنوں کی طعن وتشنیع سنیں ہیں اس پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے نہ ختم ہونے والا اجر ہے، من کے معنی ختم ہونے اور قطع کرنے کے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ما انت بنعمۃ ربک بمجنون . آپ اپنے رب کے فضل سے دیوانہ نہیں ہیں۔ بِنِعْمَۃِ رَبِّکَِ حال ہے یعنی فضل خدا کی موجودگی میں آپ دیوانہ نہیں ہیں۔ نعمت (فضل) سے مراد ہے نبوت ‘ شرافت ‘ کمال فہم و عقل ‘ عظمت مرتبہ ‘ علوم اور دوسرے مکارم۔ بغوی نے لکھا ہے کہ کافر کہتے تھے : یایھا الذی نزل علیہ الذکر انک لمجنون۔ اے وہ شخص جس پر قرآن اتارا گیا ہے حقیقت میں بلاشبہ تو دیوانہ ہے۔ کافروں کے اس قول کے جواب میں آیت مذکورہ نازل ہوئی۔ ابن منذر نے بھی ابن جریج کی روایت سے اس روایت کو نقل کیا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے رسالت کا دعویٰ کیا ‘ سب لوگوں کی مخالفت مول لی ‘ اس وقت آپ ﷺ تنگ دست بھی تھے اور کافروں کا غلبہ بھی تھا ‘…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 1–2

(1۔ 2) قسم ہے ن کی اور قلم کی اور ان کے لکھنے کی، نون یہ ایک مچھلی ہے جس نے ساتوں زمینوں کو اپنی پشت پر اٹھا رکھا ہے اور یہ پانی میں ہے۔ اور اس کے نیچے بیل ہے اور بیل کے نیچے پتھر ہے اور اس کے نیچے نرم مٹی ہے اور مٹی کی تہ میں کیا چیز ہے اس کا علم اللہ کے علاوہ اور کسی کو نہیں اور اس مچھلی کا نام لیواش ہے یا یہ کہ لوتیاہ اور بیل کا نام بھ موت ہے اور بعض تلہوت ذکر کیا ہے، یا یہ کہ لیوتا ہے اور یہ مچھلی سمندر میں ہے اسے عفواص کہا جاتا ہے اور جیسا کہ بڑے دریا میں چھوٹا بیل ہوتا ہے یہ اس کی طرح ہے اور یہ دریا جو فاء پتھر میں ہے اور اس پتھر میں چار ہزار شکنیں ہیں۔ ایک شکن سے پانی نکل کر زمین تک…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 2–4

مَآ اَنْتَ بِنِعْمَۃِ رَبِّکَ بِمَجْنُوْنٍ۔۔۔۔: اللہ تعالیٰ نے قلم کی اور اس چیز کی قسم کھائی جو لکھنے والے لکھتے ہیں اور اس کے جواب میں تین باتیں ارشاد فرمائیں ، پہلی یہ کہ آپ اللہ کے فضل سے مجنون (دیوانے) نہیں ہیں ، دوسری یہ کہ آپ کے لیے ایسا اجر ہے جو منقطع ہونے والا نہیں اور تیسری یہ کہ یقینا آپ خلق عظیم پر ہیں۔ قسم جواب قسم کی تاکید کے لیے کھائی جاتی ہے اور عام طور پر اس کے لیے شاہد اور دلیل ہوتی ہے ، یہاں قسم اور جواب قسم میں مناسبت یہ ہے کہ قلم اور قلم سے لکھنے والوں نے جو چھ لکھا ہے وہ اس بات کی شہادت دے رہا ہے کہ کفار کا یہ کہنا غلط ہے کہ آپ دیوانے ہیں۔ تقدیر کے قلم نے لوح محفوظ میں…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 1–3

ن والقلم ابوبکر، مفضل، ہبیرہ، ورش، ابن محیصن، ابن عامر، کسائی اور یعقوب نے دوسری نون کو وائو میں مدغم کیا ہے باقی قراء نے اظہار کیا ہے۔ عیسیٰ بن عمر نے اس کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے، گویا فعل کو مضمر مانا ہے۔ حضرت ابن عباس، نصر اور ابن ابی اسحاق نے حرف قسم کو مضمر ماننے کے ساتھ اسے مسکور پڑھا ہے۔ ہ اور ن، محمد بن سمیقع اور معاویہ بن قرہ نے مبنی ہونے کی وجہ سے ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ اپنے باپ سے وہ نبی کریم ﷺ سے مرفوع روایت نقل کرتے ہیں کہ فرمایا، ن نور کی ایک لوح ہے “ (2) ثابت بنانی نے روایت کیا ہے کہ ن سے مراد دوات ہے (3) یہ حضرت حسن بصری اور قتادہ کا قول ہے۔ ولید بن مسلم نے روایت کی ہے کہ مالک بن…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

20۔ ابن المنذر نے ابن جریر رحمہ سے روایت کیا کہ وہ لوگ نبی ﷺ کے بارے میں کہتے تھے کہ یہ مجنون ہے اور اس کے ساتھ شیطان ہے۔ تو یہ آیت نازل ہوئی آیت ماانت بنعمۃ ربک بمجنون آپ اپنے رب کی نعمت سے مجنون نہیں ہیں۔

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[مَآ انتَ بِنِعْمَةِ رَبِكَ : آپ اپنے رب کی نعمت کے سبب سے ][ بِمَجْنُوْن : کوئی مجنون نہیں ہیں ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 1–3

رسول اللہ ﷺ سے خطاب کہ آپ کے لیے بڑا اجر ہے جو کبھی ختم نہ ہوگا اور آپ صاحب خلق عظیم ہیں یہاں سے سورة ٴ القلم شروع ہو رہی ہے (ن ٓ) حروف مقطعات میں سے ہے جو متشابہات میں سے ہیں، اللہ تعالیٰ نے قلم کی اور فرشتے جو کچھ لکھتے ہیں اس کی قسم کھا کر فرمایا کہ اے محمد ﷺ آپ اپنے رب کے انعام کی وجہ سے مجنون نہیں ہیں، مشرکین جو بطور عناد رسول اللہ ﷺ کو العیاذ باللہ دیوانہ بتاتے تھے اس میں ان کی تردید فرمائی۔ مفسرین نے فرمایا ہے کہ قلم سے وہ قلم مراد ہے جس نے لوح محفوظ میں کائنات کے بارے میں اللہ کے حکم سے وہ سب کچھ لکھ دیا تھا جو آئندہ وجود میں آنے والا تھا اور ﴿وَ مَا يَسْطُرُوْنَۙ001﴾ سے ان فرشتوں کا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–16

بیان عظمت رسول اکرم ﷺ وتلقین صبر و استقامت : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” ن والقلم وما یسطرون ........ الی .......... سنسمہ علی الخرطوم “۔ (ربط) گزشتہ سورت میں خداوند عالم کی خالقیت کے دلائل ذکر کئے گئے اور یہ کہ اس کی قدرت کائنات کو محیط ہے اس کے احاطہ علم وقدرت سے کوئی مجرم نہیں نکل سکتا تو اب اس سورت میں آنحضرت ﷺ کی رسالت ونبوت کو ثابت فرمایا گیا اور یہ کہ آپ ﷺ کی شان میں گستاخی کرنے والے مجرمین خدا کے عذاب سے ہرگز نہیں بچ سکتے اور جو کچھ وہ آپ ﷺ پر اعتراض کرتے ہیں وہ سب لغو اور بےہودہ باتیں ہیں کوئی صحیح العقل انسان ایسی بےہودہ باتیں تصور بھی نہیں کرسکتا ارشاد فرمایا۔ ن۔ خدا تعالیٰ ہی اس کی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 1–2

2:۔ ” ن والقلم۔ تا۔ لعلی خلق عظیم “ تسلیہ برائے نبی کریم ﷺ ۔ والقلم معطوف قسم ہے اور ما انت بنعمۃ ربک بمجنون، جواب قسم ہے اور اس کے بعد کا مضمون مستانف ہے۔ مایسطرون سے مراد کراما کاتبین ہیں یا اہل علم مراد ہیں جو علوم دین کو قید تحریر میں لاتے ہیں۔ ای الحفظۃ الذین یکتبون اعمال بنی ادم او العلماء الذین یکتبون علوم الدین (مظہری ج 10 ص 30) قلم جس سے علوم دین لکھے جاتے ہیں نیز علماء دین اس پر گواہ ہیں کہ آپ بحمد اللہ تعالیٰ مجنون نہیں ہیں، کیونکہ آپ کی باتیں علم و حکمت سے لبریز ہوتی ہیں اور دیوانوں سے ایسی باتوں کا صدور نہیں ہوسکتا۔ نیز آپ نے جو قرآن پیش کیا ہے وہ علوم و معارف کا خزینہ اور اپنی…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–7

وجہ تسمیہ اور کوائف : اس سور ۃ کی پہلی آیت میں قلم کا لفظ مذکور ہے۔ اور اسی وجہ سے اس سورة کا نام سورة قلم ہے اس سورة کی باون آیات ، تین سو الفاط اور ایک ہز اور دو سوچھپن حروف ہیں۔ اس سے پہلے سورة ملک کی تیس آیات تھیں اور اس کی باون آیتیں ہیں۔ مضامین سورة (ربطہ) : اس سے پہلی سورة میں توحید ذات خداوندی ، دلائل توحید ، جزائے اعمال اور ضمنا رسالت کا ذکر تھا۔ اس سورة میں زیادہ تر رسالت کا تذکرہ ہے۔ جزائے اعمال اور قیامت کا ذکر بھی ہے۔ پہلی سورة میں توحید کے دلائل زیادہ تھے اس میں نبوت اور رسالت پر اعتراضا کے جواب دیے گئے ہیں ان کا رد کیا گیا ہے۔ اور تبنیہ کی گئی ہے۔ خاص طور پر مکہ کے خوشحال لوگوں…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

مَآ اَنْتَ بِنِعْمَۃِ رَبِّكَ بِمَجْنُوْنٍ۝ 2 ۚ ما مَا في کلامهم عشرةٌ: خمسة أسماء، وخمسة حروف . فإذا کان اسما فيقال للواحد والجمع والمؤنَّث علی حدّ واحد، ويصحّ أن يعتبر في الضّمير لفظُه مفردا، وأن يعتبر معناه للجمع . فالأوّل من الأسماء بمعنی الذي نحو : وَيَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ ما لا يَضُرُّهُمْ [يونس/ 18] ثمّ قال : هؤُلاءِ شُفَعاؤُنا عِنْدَ اللَّهِ [يونس/ 18] لمّا أراد الجمع، وقوله : وَيَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ ما لا يَمْلِكُ لَهُمْ رِزْقاً ... الآية [ النحل/ 73] ، فجمع أيضا، وقوله : بِئْسَما يَأْمُرُكُمْ بِهِ إِيمانُكُمْ [ البقرة/ 93] . الثاني : نكرة . نحو : نِعِمَّا يَعِظُكُمْ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 1–8

ترکیب : ن۔ قریٔ بادغام النون الثانیہ من ہجائھانی الواوقریٔ بالاظہار وبالفتح وبالکسر وبالضم اما الفتح فباضمار فعل والفتح علی اضمارا لقسم اولالتقاء الساکنین والضم علی النبائ۔ والقلم الواوللقسم وماموصولۃ یسطرون صلۃ والعائد محذوف والجملۃ معطوفۃ علی القلم ما انت الجملۃ جواب القسم وان لک الجملۃ معطوفۃ علی الجملۃ السابقۃ و انک ایضا معطوفۃ علیھا والجملات الثلاث جواب القسم۔ بایکم المفتون الباء زائدۃ ویمکن ان یکون المفتون مصدر امثل المعقول والمیسور ای بایکم الجنون۔ تفسیر : جمہور کے نزدیک یہ سورة بھی مکہ میں نازل ہوئی ہے۔ حسن و عکرمہ وعطاء کا بھی یہی قول ہے۔ ابن عباس ؓ سے منقول ہے کہ سب سے اول اقرء نازل…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 1–2

نٓ وَالْقَلَمِ وَمَا یَسْطُرُوْنَ ۔ مَآ اَنْتَ بِنِعْمَۃِ رَبِّکَ بِمَجْنُوْنٍ ۔ (القلم : 1، 2) (ن، قسم ہے قلم کی اور اس چیز کی جو وہ لکھتے ہیں۔ اور آپ اپنے رب کے فضل سے مجنون نہیں ہے۔ ) قَسم، جوابِ قسم اور قلم سے مراد ن، حروفِ مقطعات میں سے ہے اور اس سورة کا نام ہے اور ہم سورة کے تعارف میں اس کی وضاحت کرچکے ہیں۔ اس آیت کریمہ میں پروردگار نے دو قسمیں کھائی ہیں۔ انسانوں کے عام شیوہ مخاطبت میں قسم کا مقصد کسی بات کی تاکید ہوتا ہے، لیکن جب قرآن کریم میں پروردگار کسی بات کی قسم کھاتے ہیں تو کبھی تو اس کا مقصد تاکید ہی ہوتا ہے، لیکن کبھی وہ جوابِ قسم یا مقسم علیہ پر شہادت اور دلیل ہوتا ہے۔ اب سوال…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 2–4

فہم القرآن ربط کلام : قلم اور اس کے لکھنے والوں کی عظمت کا ذکر فرما کر کفار کے بدترین الزام کی تردید کی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کو صورت اور سیرت کے اعتبار سے سب سے ممتاز پیدا فرمایا تھا۔ اسی سورت کی آیت 4 میں آپ کے عظیم اخلاق کی تعریف فرمائی ہے۔ آپ ﷺ کی صورت و سیرت اور حسن اخلاق کو آپ کے بدترین دشمن بھی جانتے اور مانتے تھے مگر قرآن بالخصوص دعوت توحید کی وجہ سے لوگ نہ صرف آپ کے مخالف ہوئے بلکہ ہر قسم کی سچائی کا انکار کرتے ہوئے آپ کو مجنون کہتے تھے، حالانکہ وہ جانتے تھے کہ دیوانہ اس قسم کی حرکات اور باتیں نہیں کرتا لیکن پھر بھی آپ کو مجنون قراردیتے تھے۔ یہ آپ کی ذات پر بہت بڑا اور…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

2 : مَآ اَنْتَ بِنِعْمَۃِ رَبِّکَ بِمَجْنُوْنٍ (کہ آپ اپنے رب کے فضل سے مجنون نہیں ہیں) یہ جواب قسم ہے اپنے رب کے فضل کی موجودگی میں جو اس نے نبوت اور دیگر انعامات کی صورت میں آپ پر فرمایا۔ (دیوانہ نہیں ہیں) نحو : انت یہ ماؔ کا اسم ہے۔ بمجنون اس کی خبر ہے۔ اور بنعمۃؔ ربک یہ اسم و خبر کے درمیان جملہ معترضہ ہے۔ بنعمۃ کی باء محذوف کے متعلق ہے اور وہ حال ہونے کی بناء پر محلاً منصوب ہے۔ بمجنون اس میں عامل ہے۔ تقدیر کلام اس طرح ہے۔ مَا اَنْتَ بِمَجْنُوْن مَنعَمًا علَیْکَ بِذٰلِکَ باء اس سلسلہ میں رکاوٹ نہیں بن سکتی کہ مجنون اپنے ماقبل پر عمل کرے کیونکہ یہ باء زائدہ ہے جو تاکید نفی کیلئے ذکر کی گئی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

سب سے پہلے قلم کو پیدا کیا گیا 1 ۔” نٓ“ اس میں اختلاف ہوا ہے۔ پس ابن عباس ؓ فرماتے ہیں یہ وہ مچھلی ہے جس کی پیٹھ پر زمین ہے اور یہ مجاہد اور مقاتل ، سدی اور کلبی رحمہم اللہ کا قول ہے۔ ابو ظبیان نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے فرماتے ہیں پہلا وہ جس کو اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا وہ قلم ہے۔ پس وہ جاری ہوا ہر اس چیز کے ساتھ جو قیامت تک ہونے والی ہے پھر نون کو پیدا کیا، پھر زمین کو اس کی پیٹھ پر بچھادیا۔ پس نون نے حرکت کی تو زمین ڈگمگائی تو اس کو پہاڑوں کے ذریعے جمایا گیا اور بیشک پہاڑ زمین پر فخر کرتے ہیں۔ پھر ابن عباس ؓ نے پڑھا ” نٓ والقلم وما یسطرون “ اور اس کے اسم میں اختلاف ہوا ہے۔ پس کلبی اور…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–7

1۔ 7۔ یہ سورة مکی ہے کیونکہ اس کی شروع کی آیتیں مکہ میں نازل ہوئی ہیں اور پھر مابعد کی کچھ آیتیں بعض مفسروں کے قول کے موافق مدنی ہیں لیکن جس سورة کا شروع کا حصہ مکی ہو امام المفسرین حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کے قول کے موافق وہ سورة مکی کہلاتی ہے۔ اسی واسطے حافظ ابن 1 ؎ کثیر نے اس سورة کو مکی قرار دیا ہے حروف مقطعات کی بحث سورة بقر میں گزر چکی ہے قلم اور قلم سے جو کچھ لکھا جائے اللہ تعالیٰ نے اس کی قسم کھا کر آگے کا مطلب بیان فرمایا ہے اس قلم میں وہ قلم بھی داخل ہے جس سے لوح محفوظ پر دنیا کی سب کائنات لکھی گئی ہے قلم کی کتابت میں لوح محفوظ کا نوشتہ بھی داخل ہے اللہ تعالیٰ نے عرش سے پہلے قلم کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 1–7

اللہ تبارک وتعالی، قلم، کی قسم کھاتا ہے۔ یہ اسم جنس ہے جو ان تمام اقلام کو شامل ہے جن کے ذریعے سے مختلف علوم کو علوم کو لکھا جاتا ہے اور جن کے ذریعے سے مختلف انواع کا کلام لکھا جاتا ہے، اللہ تعالیٰ کی عظیم نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے، جو اس امر کی مستحق ہے کہ محمد کی ان عیوب کے بارے میں براءت پر اس کی قسم کھائی جائے جو آپ کے دشمن آپ کی طرف منسوب کرتے ہیں یعنی جنون وغیرہ۔ پس آپ کے رب کی نعمت اور احسان سے ان عیوب کی آپ نفی کی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو عقل کامل، عمدہ رائے اور فصاحت و بلاغت سے لبریز کلام فیصل سے سرفراز فرمایا ہے جو بہترین کلام ہے جسے قلم لکھتے ہیں اور مخلوقات اسے قلم بند کرتی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 1–2

3 پیغمبر (علیہ السلام) کی عظمت شان کا ذکر وبیان : سو قلم اور ومایسطرون کی قسموں کے مقسم بہ کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ آپ اے پیغمبر اپنے رب کے فضل سے مجنوں نہیں ہیں۔ جیسا کہ نور حق و ہدایت سے محروم ان بدبختوں کا کہنا ہے، جیسا کہ دوسری جگہ ارشاد فرمایا گیا۔ وقالوا یا ایھا الذی نزل علیہ الذکر انک لمجنون (الحجر۔ 6) پس یہ دراصل انہی بدبختوں کا رد ہے نہ کہ حضرت ختمی مرتبت ﷺ کو تسلی دینا، جیسا کہ بادی النظر میں محسوس ہوتا ہے کہ آپ (صلوات اللہ وسلامہ علیہ) کو اس طرح کی کوئی غلط فہمی نہیں تھی، کہ آپ ﷺ تو بہرحال اور قطعی طور پر حق پر تھے (انک لعلی ھدی مستقیم) (الحج ۔ 67) سو یہ خطاب اگرچہ آپ ﷺ سے ہے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–16

رسول کریم ﷺ کا خلق عظیم اور کفار کی اطاعت سے بچنے کا حکم تشریح : جیسا کہ پہلے بھی سورتوں میں مختلف چیزوں کی قسم مختلف چیزوں کے صحیح ثابت کرنے کے لیے کھائی گئی ہے تو یہاں نبی پاک ﷺ کے حسن کردار اور صفات کے بلند پایہ ہونے کے لیے قلم و قرآن کی قسم کھائی گئی ہے۔ آپ ﷺ تو مجسم صفات ہیں قرآن و احادیث میں جگـہ جگہ آپ ﷺ کی جملہ صفات کا ذکر بڑے مستند حوالوں سے کیا گیا ہے۔ کیوں نہ ہو آپ ﷺ دنیا کے بہترین انسان اور پیغمبر ہیں آپ ﷺ رحمت حیا، جودوسخا، وفا، صبر، زہد وتقویٰ حسن سلوک اور حسن تادیب کے لحاظ سے بلکہ ہر لحاظ سے بےمثال ہیں آپ ﷺ کو انسان کامل ہونے کا رتبہ حاصل ہے۔ آپ ﷺ محسن انسانیت اور رحمۃ للعٰلمین…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–33

آیات 1 تا 23۔ اسرار ومعارف۔ قسم ہے قلم کی اور جو کچھ قلم سے لکھاجاتا ہے یعنی آپ ﷺ نے امی ہونے کے باوجود علم کے وہ دریابہائے کہ خود قلم اور اس کی تحریر آپ کے کامل عقل مند اور بےمثال صاحب خرد ہونے پر دال ہے۔ مجنون۔ جب آپ ﷺ نے اعلان نبوت فرما کر ساری انسانیت کو دعوت حق دے دی اور تمام انسانوں کے لیے ایک عقیدہ اور ایک نظام حیات تو مشرکین نے اسے معاذ اللہ پاگل پن قرار دیا کہ دنیا کی عظیم الشان حکومتیں ساری دنیا پہ ایک نظام رائج نہ کرسکیں۔ پھر آپ ﷺ امی ہیں ، اکیلے ہیں یا چند مسلمان جن کی بظاہر کوئی حیثیت نہیں پھر اقوام عالم کے مزاج الگ ، فکر الگ ، رنگ ونسل اپنی اپنی ، غذا الگ زبانیں الگ موسم اور…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 2–3

ف 1 یعنی آپ غمگین نہ ہوں۔ ان کے دیوانہ کہنے اور آپ کے برداشت کرتے چلے جانے سے آپ کے اجر میں اضافہ ہوگا اور آپ کو یقینا بےانتہا اجر ملے گا۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(68:2) ما انت بنعمۃ ربک بمجنون۔ جملہ جواب قسم ہے باء ثانیہ زائدہ ہے تاکید نفی کا فائدہ دیتی ہے۔ مجنون خبر ہے ما کی۔ اور پہلی باء ملا بست کے لئے ہے ۔ اور جار مجرور خبر کی ضمیر سے موضع حال میں ہے۔ یعنی فضل خدا کی موجودگی میں آپ دیوانہ نہیں ہیں۔ نعمۃ سے مراد نبوت، شرافت۔ کمال فہم و عقل ، عظمت مرتبہ، علوم اور دوسرے مکارم ہیں۔ بغوی (رح) نے لکھا ہے کہ کافر کہتے تھے : یایھا الذی نزل علیہ الذکر انک لمجنون (15:6) اے وہ شخص جس پر نصیحت (کی کتاب) نازل ہوئی ہے تو تو دیوانہ ہے۔ کافروں کے اس قول کے جواب میں آیت مذکروہ ما انت بنعمۃ ربک بمجنون ۔۔ الخ نازل ہوئی۔ چونکہ کفار کا انکار شدید اور قوی تھا ان کے قول…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–33

لغات القرآن۔ یسطرون۔ وہ لکھتے ہیں۔ ممنون۔ منقطع ہونے والا۔ ختم ہونے والا۔ تبصر۔ تو دیکھے گا۔ المفتون۔ دیوانہ۔ ودوا۔ وہ پسند کرتے ہیں۔ تدھن۔ تو خوشامد کرے۔ تو نمر پرے۔ حلاف۔ بہت قسمیں کھانے والا۔ مھین۔ ذلیل کمینہ۔ ھماز۔ طعنے دینے والا۔ مشائ۔ پھرنے والے۔ نیمیم۔ چغل خور۔ باتیں لگانے والے۔ مناع۔ روکنے والا۔ معتد۔ حد سے بڑھنے والا۔ اثیم۔ گناہ گار۔ عتل۔ اکھڑ۔ اجد۔ زنیم۔ بدنام۔ نسیم۔ ہم داغ دیں گے۔ الخرطوم۔ ناک۔ دم۔ سونڈ۔ تشریح : سورة القلم کا آغاز ” ن “ سے کیا گیا ہے جو حروف مقطعات میں سے ایک حروف ہے۔ اس کے کیا معنی ہیں ؟ اس کی تفصیل اس سے پہلی ابتدائی سورتوں میں آچکی ہے کہ ان حروف کے معنی اور مراد…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

حضور ﷺ کی شان میں گستاخی کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ کا جواب۔ (ف 1) مشرکین مکہ حضور کو العیاذ بااللہ مجنون کہتے تھے کہ کوئی شیطان کا اثر ہے جو یک بیک تمام قوم سے الگ ہوکرایسی باتیں کرنے لگے ہیں جن کو کوئی نہیں مان سکتا، تو اللہ نے اس خیال باطل کی تردید اور آپ کی تسلی فرمائی کہ اس کالطف وکرم تمہارے شامل حال ہے اس نے تم پر انعام و احسان فرمائے نبوت اور حکمت عطا کی، فصاحت تامہ ، عقل کامل، پاکیزہ خصائل ، پسندیدہ اخلاق عطا فرمائے ، مخلوق کے لیے جس قدرکمالات امکان میں ہیں سب علی وجہ الکمال عطا فرمائے ہر عیب سے ذات عالی صفات کو پاک رکھا، جس پر اللہ تعالیٰ کے ایسے ایسے فضل وانعام ہوں جن کو ہر آنکھ…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 2–3

[3] یہ ہے وہ بات جس پر قلم اور قرآن مجید کی قسم کھائی گئی ہے۔ یہ اعلیٰ درجہ کا فصیح وبلیغ کلام جو بلند پایہ مضامین پر مشتمل ہے۔ اس بات کی دلیل ہے کہ محمد ﷺ پر خاص فضل ہوا ہے کجا کہ اسے اس امر کی دلیل بنا لیا ہے کہ آپ ﷺ معاذ اللہ دیوانے ہوگئے ہیں۔ نیز یہاں خطاب تو بظاہر نبی ﷺ سے ہے لیکن اصل مقصود کفار کو ان کی تہمت کا جواب دینا ہے۔ لہذا کسی شخص کو یہ شبہ نہ ہو کہ یہ آیت آپ ﷺ کو اطمینان دلانے کے لئے نازل ہوئی ہے کہ آپ ﷺ مجنوں نہیں ہیں۔ ظاہر ہے کہ آپ ﷺ کو اپنے متعلق تو ایسا کوئی شبہ نہ تھا کہ اسے دور کرنے کے لئے آپ ﷺ کو یہ اطمینان دلانے کی ضرورت ہوتی۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 2–12

سورة القلم اور جنون وخرد 2: حضور ﷺ کے متعلق مکہ والوں کی رائے تھی ۔ کہ ان کو خلل دماغ ہے ۔ یورپ کے بعض متعصب مشنریوں نے بھی یہ کہا ہے ۔ کہ نبوت محض مرض ضرع کا دوسرا نام تھا ۔ معاذ اللہ مگر قرآن حکیم فرماتا ہے ۔ کہ قلم اور تحریر کا جتنا اندوختہ اس وقت فطرت نے محفوظ رکھا ہے ۔ اور جس قدر کہ اس میں اضافہ ہوسکتا ہے ۔ اس سارے ذخیرہ ادب و عظمت کو میزان کے چڑے میں رکھو ۔ اور اس کے بعد اس پیغام کو دوسرے پلڑے میں رکھو ۔ جس کو معاذ اللہ اس حکیم امی نے پیش فرمایا ہے ۔ جس کے متعلق موازنہ ، اس کے پیش کردہ پیغام کی برکات سے استفادہ کرتی رہے گی ۔ اور بس سرچشمہ معارف میں مکھی پیدا نہ ہوگی ۔ یہ کتنی بڑی فریب…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(2) کہ آپ اپنے پروردگار کے فضل سے مجنون اور دیوانے نہیں ہیں۔ پیغمبر اسلام ﷺ کے متعلق دین حق کے منکر عجیب عجیب بےتکی اور سراپا لغو باتیں کہا کرتے تھے منجملہ ان کے آپ کو عام طور سے دیوانہ اور مجنون بھی کہتے ہیں۔ چنانچہ سورة حجر میں گزر چکا ہے یایھا الذی نزل علیہ الذکر انک لمجنون۔ حضرت حق جل مجدہ کافروں کے ان الفاظ کا رد فرماتا ہے اور تاکید کے طور پر قلم اور قلم سے لکھنے والے جو کچھ لکھتے ہیں اس کی قسم کھا کر کفار کے اس قول کی نفی فرماتا ہے کہ آپ ہرگز مجنون نہیں ہیں۔ قلم سے مراد وہ قلم ہے جس سے مقادیر خلق لوح محفوظ پر لکھے گے اور جس کو اول ماخلق اللہ القلم کا شرف حاصل ہوا وما یسطرون سے شاید ان…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 2–3

ف 5۔ مطلب یہ کہ آپ نبی برحق ہیں اور یہ قسمیں اس مدعا کے نہایت مناسب ہیں کیونکہ منجملہ مقادیر کے نزول قرآن بھی ہے، پس اس میں اشارہ ہے کہ نبوت آپ کی علم الہی میں پہلے ہی سے محقق و موکد ہے، پس ثبوت اس کا متعین ہوا اور کاتبان اعمال آپ کے مصدقین و منکرین کے اعمال کو لکھ رہے ہیں، پس انکار نبوت پر سزا ہوگی، اس سے ڈر کر ایمان لانا واجب ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

آپ ﷺ اپنے رب کے فضل و کرم سے مجنون نہیں ہیں 2 ؎ رسول اللہ ﷺ کو بعثت و نبوت سے پہلے لوگ ” الصادق “ اور ” الامین “ کے لقب سے یاد کرتے تھے یہ بات کتاب و سنت سے روز روشن کی طرح واضح ہے لیکن جونہی آپ ﷺ نے اللہ تعالیٰ کا پیغام لوگوں کو سنایا اور لوگوں کو توحید الٰہی کا درس دینا شروع کیا تو انہی لوگوں نے آپ ﷺ کو ” مجنون “ کہنا شروع کردیا اور اس طرح پروپیگنڈا کیا کہ وہی زبانیں جو کل تک ” الصادق “ اور ” الامین “ کے لقب سے یاد کرتی تھیں آج مجنون ، شاعر ، کاہن اور اسی طرح کے دوسرے ناموں سے یاد کرنے لگے اور جو نہایت پیار کے ساتھ محمد ﷺ کہتے تھے انہوں نے آپ ﷺ کو ” مذمم “ کے لقب سے یاد کرنا شروع کردیا۔ ان…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 1–2

Commentary Linkage of Surahs The preceding Surah dealt with the existence of Allah, His Oneness, and His knowledge and power, and adduced, as a positive proof of these attributes, was the fact that Allah is the Creator of death and life, and of the entire universe through whose component parts there runs the beautiful order that pervades the cosmos. He has created man to serve a sublime object and to achieve a noble goal. But man in his ingratitude has always rejected the Divine Message and consequently has been incurring Divine scourge. This is mentioned, in Surah Al-Mulk, with particular…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

1 The great commentator Mujahid says that by pen here is meant the Pen with which the Qur'an was being written down. From this it automatically follows that that which was being written implies the Holy Qur'an itself. 2 That is for which an oath has been sworn by the Pen and by the Book. It means that this Qur'an which is being inscribed by the hands of the writers of Revelation, is by itself enough to refute the slander of the disbelievers who say that the Holy Prophet (upon whom be peace) is, God forbid, a madman, Before his claim to the Prophethood, the people of Makkah looked upon him as…

Read the full tafseer →