Al-Qalam 68:10

Al-Qalam · from ayah 10

68:10

وَلَا تُطِعْ كُلَّ حَلَّافٍ مَّهِیْنٍ ۟ۙوَلَا تُطِعۡ كُلَّ حَلَّافٍ مَّهِيۡنٍۙ

اور کسی ایسے شخص کے کہے میں نہ آجانا جو بہت قسمیں کھانے والا ذلیل اوقات ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And do not obey every worthless habitual swearer

— Saheeh International

Juz 29 · Ruku 1 of surah · Ruku 3 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Qalam

All translations of 68:10

ہرگز نہ دبو کسی ایسے شخص سے جو بہت قسمیں کھانے والا بے وقعت آدمی ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور کسی ایسے شخص کے کہے میں نہ آجانا جو بہت قسمیں کھانے والا ذلیل اوقات ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور تو کسی ایسے شخص کا بھی کہا نہ ماننا جو زیاده قسمیں کھانے واﻻ

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور کسی بھی ایسے شخص کی باتوں میں نہ آنا جو بہت قسمیں کھانے والا، بےوقعت شخص ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور ہر ایسے کی بات نہ سننا جو بڑا قسمیں کھانے والا ذلیل

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور آپ کسی ایسے شخص کی بات نہ مانیں جو بہت قَسمیں کھانے والا اِنتہائی ذلیل ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور تو کسی بہت قسمیں کھانے والے ذلیل کا کہنا مت مان۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور ہر قسمیں کھانے والے ذلیل کی بات نہ مانئے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور تم بات نہ سنو ہر جھوٹی قسمیں کھانے والے ،

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور نہ ہی کبھی کہا ماننا کسی ایسے (بد بخت) کا جو بہت قسمیں کھانے والا گھٹیا انسان ہو

— مولانا اسحاق مدنی

طعنہ باز ہے چلتا پھرتا چغل خور ہے

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور آپ ﷺ مت مانیے کسی ایسے شخص کی بات جو بہت قسمیں کھانے والا انتہائی گھٹیا ہے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور کسی ایسے شخص کے کہے میں نہ آجانا جو قسمیں کھانے والا بےوقعت آدمی ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

And do not yield to any contemptible swearer,

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

And do not obey any contemptible one who swears much,

— Muhammad Taqi Usmani

And do not obey any contemptible one who swears much,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And do not obey every Hallaf Mahin.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Neither obey thou each feeble oath-monger,

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And do not obey every worthless habitual swearer

— Saheeh International

Do not yield to one persistent in swearing,

— Muhammad Sarwar

And yield not to any mean swearer

— Muhammad Habib Shakir

And obey not: thou any swearer ignominous.

— Abdul Majid Daryabadi

Heed not the type of despicable men,- ready with oaths,

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 68:10

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 8–16

زیادہ قسمیں کھانے والے زیادہ جھوٹ بولتے ہیں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ اے نبی ﷺ جو نعمتیں ہم نے تجھے دیں جو صراط مستقیم اور خلق عظیم ہم نے تجھے عطا فرمایا اب تجھے چاہئے کہ ہماری نہ ماننے والوں کی تو نہ مان، ان کی تو عین خوشی ہے کہ آپ ذرا بھی نرم پڑیں تو یہ کھل کھیلیں اور یہ بھی مطلب ہے کہ یہ چاہتے ہیں کہ آپ ان کے معبودان باطل کی طرف کچھ تو رخ کریں حق سے ذرا سا تو ادھر ادھر ہوجائیں، پھر فرماتا ہے کہ زیادہ قسمیں کھانے والے کمینے شخص کی بھی نہ مان چونکہ جھوٹے شخص کو اپنی ذلت اور کذب بیانی کے ظاہر ہوجانے کا ڈر رہتا ہے، اس لئے وہ قسمیں کھا کھا کر دوسرے کو اپنا یقین دلانا چاہتا ہے لگاتار قسموں…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 10–11

سورة الْقَلَم 6 اصل میں لفظ مھین استعمال ہوا ہے جو حقیر و ذلیل اور گھٹیا آدمی کے لیے بولا جاتا ہے۔ درحقیقت یہ بہت قسمیں کھانے والے آدمی کی لازمی صفت ہے۔ وہ بات بات پر اس لیے قسم کھاتا ہے اسے خود یہ احساس ہوتا ہے کہ لوگ اسے جھوٹا سمجھتے ہیں اور اس کی بات پر اس وقت تک یقین نہیں کریں گے جب تک وہ قسم نہ کھائے۔ اس بنا پر وہ اپنی نگاہ میں خود بھی ذلیل ہوتا ہے اور معاشرے میں بھی اس کی کوئی وقعت نہیں ہوتی۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 10–16

وَلَا تُطِعْ كُلَّ حَلَّافٍ مَّهِيْنٍ 10 ۝ ۙهَمَّازٍ مَّشَّاۗءٍۢ بِنَمِيْمٍ 11 ۝ ۙمَّنَّاعٍ لِّلْخَيْرِ مُعْتَدٍ اَثِيْمٍ 12 ۝ ۙعُتُلٍّۢ بَعْدَ ذٰلِكَ زَنِيْم (آپ بات نہ مانیں ہر ایسے شخص کی جو بہت قسمیں کھانے والا ہو ذلیل ہو اور لوگوں پر عیب لگانے والا ہو غیبت کرنے والا ہو چغلخوری کرنے والا ہو، نیک کاموں سے لوگوں کو روکنے والا ظلم وجور میں حد سے بڑھنے والا ہو بکثرت گناہ کرنے والا اور بہت قسمیں کھانے والا کج خلق بخیل ہو اور ان سب صفات رذیلہ کے ساتھ وہ زنیم بھی ہو۔ زنیم کے معنے وہ شخص جس کا نسب کسی باپ سے ثابت نہ ہو۔ جس شخص کے یہ اوصاف بیان کئے گئے ہیں وہ ایسا ہی غیر ثابت النسب تھا۔ پہلی آیت…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

قریش کی پوری قیادت کی اخلاقی تصویر: یہ اسی ’فَلَا تُطِعِ الْمُکَذِّبِیْنَ‘ پر عطف کر کے تاکید کے ساتھ پھر تنبیہ فرمائی کہ تم ہر لپاٹیے ذلیل کی باتوں پر کان نہ دھرو۔ یہ اشارہ کسی خاص شخص کی طرف نہیں ہے، جیسا کہ عام طور پر لوگوں نے سمجھا ہے، بلکہ قریش کی پوری قیادت کی اخلاقی پستی کی تصویر آگے کی چند آیتوں میں کھینچ دی گئی ہے اور مقصود اس سے یہ دکھانا ہے کہ ایک طرف پیغمبر کا وہ بے مثال ’خلق عظیم‘ ہے جس کا آیت ۴ میں حوالہ ہے اور دوسری طرف قریش کے لیڈروں۔۔۔ ابولہب، ولید بن مغیرہ، ابوجہل، اخنس بن شریق۔۔۔ وغیرہ کا یہ کردار ہے جو بیان ہو رہا ہے۔ ان دونوں کو سامنے رکھ کر ہر منصف فیصلہ کر سکتا ہے کہ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 9–12

9۔ 1 وہ چاہتے ہیں کہ تو ان کے معبودوں کے بارے میں نرم رویہ اختیار کرے تو وہ بھی تیرے بارے میں نرم رویہ اختیار کریں باطل پرست اپنی باطل پرستی کو چھوڑنے میں ڈھیلے ہوجائیں گے۔ اس لئے حق میں خوشامد، حکمت، تبلیغ اور کار نبوت کے لئے سخت نقصان دہ ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 10–13

4: جو کافر لوگ آنحضرت ﷺ کی مخالفت میں پیش پیش تھے، اور آپ کو اپنے دین کی تبلیغ سے ہٹانا چاہتے تھے، ان میں سے کئی لوگ ایسے تھے جن میں وہ اخلاقی خرابیاں پائی جاتی تھیں جن کا تذکرہ آیات 10 تا 12 میں فرمایا گیا ہے۔ بعض مفسرین نے ایسے افراد کا نام بھی لیا ہے کہ وہ اخنس بن شریق، اسود بن عبد یغوث یا ولید بن مغیرہ تھے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 10–13

اب رسول اللہ ﷺ کو یہ حکم دیا جاتا ہے کہ ان میں سے ایک متعین شخص بڑاچرب زبان ہے ، اس کی کسی بات کو تسلیم نہ کریں۔ یہاں قرآن کریم نے اپنے مخصوص انداز میں اس کا نام نہیں لیا ، لیکن اس کی تمام گھٹیا صفات کو گنوادیا گیا ، جو اس شخص کے اندر پائی جاتی تھیں۔ اس شخص کو نہایت ذلت اور حقارت کے ساتھ دھمکی دی جاتی ہے : ولا تطع .................... الخرطوم (61) (86 : 01 تا 61) ” ہرگز نہ دبو کسی ایسے شخص سے جو بہت قسمیں کھانے والا بےوقعت آدمی ہے ، طعنے دیتا ہے ، چغلیاں کھاتا پھرتا ہے ، بھلائی سے روکتا ہے ، ظلم و زیادتی میں حد سے گزر جانے والا ہے ، سخت بداعمال ہے ، جفاکار ہے اور ان سب عیوب کے ساتھ بداصل ہے ،…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

10 یعنی جس کے دل میں خدا کے نام کی عظمت نہیں، جھوٹی قسم کھا لینا ایک معمولی بات سمجھتا ہے اور چونکہ لوگ اس کی باتوں پر اعتبار نہیں کرتے۔ اس لیے یقین دلانے کے لیے بار بار قسمیں کھا کر بےقدر اور ذلیل ہوتا ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 10–12

آیت 10{ وَلَا تُطِعْ کُلَّ حَلَّافٍ مَّہِیْنٍ۔ } ”اور آپ ﷺ مت مانیے کسی ایسے شخص کی بات جو بہت قسمیں کھانے والا انتہائی گھٹیا ہے۔“ ان دونوں خصوصیات کا آپس میں فطری تعلق ہے۔ اپنی شخصیت کے ہلکے پن کی تلافی کرنے کے لیے بات بات پر قسمیں کھانا ہر گھٹیا آدمی کی ضرورت ہوتی ہے۔ لفظ ”مَہِیْن“ ذلیل و حقیر اور گھٹیا آدمی کے لیے بولا جاتا ہے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

8 زیادہ قسمیں کھانے والا انسان ذلیل ہوتا ہے :۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ایک مسلمہ اصول بیان فرمایا کہ جو شخص بات بات پر قسمیں کھاتا ہے۔ یا اسے قسمیں اٹھانے کی ضرورت پیش آتی ہے تو اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ اسے اپنی کسی بات پر نہ خود اعتماد ہوتا ہے اور نہ دوسروں کو اعتماد ہوتا ہے۔ وہ اپنی نظروں میں بھی ذلیل اور دوسروں کی نظروں میں بھی ذلیل ہوتا ہے۔ لہذا ایسے شخص کی بات ماننے کا کچھ فائدہ نہ ہوگا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 9–14

8۔ یعنی ایسا نہ ہونے پائے کہ آپ اس خیال سے کہ فلاں شخص سے اس بناء پر کہ وہ صاحب وجاہت اور صاحب اثر ہے، باوجود اس کی ان ساری خباثتوں کے اشتراک عمل کرلینا بھی مصلحت خیال کرنے لگیں۔ (آیت) ” ان کان “۔ ان الفاظ کا تعلق آیت ماقبل کے ابتدائی لفظ ولا تطع سے ہے۔ متعلق بقولہ ولا تطع (مدارک) بعض نے یہ ترکیب بھی صحیح قرار دی ہے کہ ان کان کے قبل یکفر یا یجحد محذوف ہے اور ان کان اس سے متعلق اس صورت میں معنی یہ ہوں گے کہ وہ خبیث کفر و انکار اسی گھمنڈ میں آکر کرتا ہے کہ وہ دولت مند اور صاحب اولاد کثیر ہے۔ آیت اپنے عموم مفہوم کے لحاظ سے تو ہر خبیث ورذیل خصائل والے کافر معاند کے حق میں عام ہے۔ لیکن شان نزول کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 10–16

ولاتطع کل حلاف مھین (الآیۃ) پہلی آیت میں عام کفار کی بات نہ ماننے اور دین کے معاملہ میں ان کی وجہ سے کوئی مداہنت نہ کرنے کا عام حکم تھا، اس آیت میں ایک خاص شریر کافر ولید بن مغیرہ کی صفات رذیلہ بیان کر کے اس سے اعراض کرنے اور اس کی بات نہ ماننے کا خصوصی حکم دیا گیا ہے، اس لئے کہ حق بات میں مداہنت، حکمت تبلیغ کے لئے سخت نقصان دہ ہے، مذکورہ آیت میں جو نو اوصاف رذیلہ بیان کئے گئے ہیں ان کے بارے میں راجح قول تو یہی ہے کہ یہ ولید بن مغیرہ کے اوصاف ہیں اس کے علاوہ بھی کئی اقوال ہیں، کسی نے ان اوصاف کا مصداق اسود بن عبد یغوث کو اور کسی نے اخنس بن شریق کو قرار دیا ہے، تفسیر زاہدی وغیرہ میں ہے کہ ولید…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ولا تطع کل حلاف . عموی نہی کے بعد خصوصی ممانعت فرمائی (پہلے تمام مکذبین کی) اطاعت سے ممانعت کی تھی اب خصوصیت کے ساتھ ” حلاف “۔ ” حماز “ وغیرہ کی اطاعت سے بازداشت فرمائی) قتادہ نے فرمایا : یہ آیت ولید بن مغیرہ کے متعلق نازل ہوئی۔ منذر نے بروایت کلبی اور ابن ابی حاتم نے بروایت سعدی بیان کیا کہ اس آیت کا نزول اخنس بن شریق کے متعلق ہوا۔ بغوی نے عطاء کا بھی یہی قول نقل کیا ہے لیکن حسب نقل ابن ابی حاتم مجاہد قائل تھے کہ اس کا نزول اسود بن یغوث کے متعلق ہوا۔ ایک شبہ کُلَّ حَلاَّفٍ کا معنی ہے سب جھوٹی قسمیں کھانے والے۔ بظاہر مطلب یہ ہوا کہ سب جھوٹی قسمیں کھانے والوں کی بات نہ مانو تو کیا بعض جھوٹی…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 8–12

(8۔ 12) اور آپ خصوصا ولید بن مغیرہ مخزومی کا کہنا نہ مانیے جو کہ بہت جھوٹی قسمیں کھانے والا وہ دین خداوندی میں ذلیل ہو، طعنہ دینے والا، آتے جاتے لوگوں سے غیبت کرنے والا، وہ لوگوں کے درمیان چغلیاں لگاتا پھرتا ہو تاکہ ان کے درمیان فساد برپا کرے۔ اپنی اولاد اور کنبہ قبیلہ کو دین اسلام سے روکتا ہو حق سے اعتدال کرنے والا اور ان پر ظلم کرنے والا ہو فاجر ہو، جھوٹ اور ؟ شان نزول : وَلَا تُطِعْ كُلَّ حَلَّافٍ مَّهِيْنٍ (الخ) ابن ابی حاتم نے سدی سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا ہے کہ یہ آیت اخنس بن شریق کے بارے میں اتری ہے۔ ابن منذر نے کلبی سے اسی طرح روایت کیا ہے۔ اور ابن ابی حاتم نے مجاہد سے روایت کیا…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَلَا تُطِعْ کُلَّ حَلَّافٍ مَّہِیْنٍ :”حلاف“”حلف یحلف“ (ض) سے مبالغہ ہے ، بہت قسمیں کھانے والا۔”مھین“”مھن یمھن مھانۃ“ (ک) (حقیر ، ذلیل ہونا) سے ”فعیل“ کے وزن پر ہے ، حقیر ، ذلیل۔ دونوں صفتیں ایک دوسرے کو لازم ہیں ، زیادہ قسمیں کھانے سے آدمی لوگوں کی نظر میں ذلیل ہوجاتا ہے اور لوگوں کی نگاہوں میں ذلیل اور بےاعتبار ہونے ہی کی وجہ سے وہ زیادہ قسمیں کھاتا ہے ، تا کہ اپنی بات کا یقین دلائے ، کیونکہ وہ خود سمجھتا ہے کہ لوگوں کے دل میں نہ اس کی عزت ہے نہ اعتبار۔ 2۔ ان چھ آیات (10 تا 15) میں مذکور بری خصلتوں والے شخص سے بعض مفسرین نے ایک خاص شخص مراد لیا ہے ، مگر آیت کے الفاظ عام ہیں :(ولا تطع کل…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 9–11

حضرت ابن عباس عطیہ، ضحاک اور سدی نے کہا : انہوں نے پسند کیا کا شچ تم کفر کرتے تو وہ اپنے کفر میں مزید آگے بڑھ جاتے۔ حضرت ابن عباس نے یہ بھی کہا : انہوں نے پسند کیا کہ اگر آپ ﷺ انہیں رخصت دیں تو وہ بھی آپ ﷺ کو رخصت دیں گے (1) فراء اور کلبی نے کہا : اگر آپ نرمی کریں تو وہ بھی نرمی کریں گے۔ ادھان سے مراد اس کے لئے نرمی کرتا ہے جس کے لئے نرمی کرنا مناسب نہ ہو، یہ فراء کا قول ہے۔ مجاہد نے کہا، معنی ہے انہوں نے چاہا اگر آپ ﷺ کی طرف مائل ہوں اور آپ حق کو چھوڑ دیں تو وہ بھی آپ ﷺ کی طرف مئال ہوں گے۔ ربیع بن انس نے کہا، انہوں نے چاہا اگر آپ جھوٹ بولیں تو وہب ھی جھوٹ بولیں گے (2) قتادہ نے کہا : انہوں نے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

1۔ ابن مردویہ نے ابو عثمان النہدی (رح) سے روایت کیا کہ مروان بن الحکم (رح) نے کہا جب لوگوں نے یزید کی بیعت کی ابوبکر وعمر ؓ کی سنت سمجھ کر تو عبدالرحمن بن ابی بکر ؓ نے کہا یہ ابوبکر وعمر ؓ کی سنت نہیں ہے لیکن یہ ہرقل کی سنت ہے۔ مروان نے کہا یہ وہی ہے کہ جس کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی آیت والذی قال لوالدیہ اف لکما (الاحقاف : آیت 17) اور جس نے اپنے ماں باپ سے کہا کہ تم پر تف ہے۔ فرمایا میں نے عائشہ ؓ سے سنا کہ انہوں نے فرمایا کہ یہ آیت عبدالرحمن کے بارے میں نازل نہیں ہوئی۔ لیکن تیرے باپ کے بارے میں نازل ہوئی۔ آیت ولا تطع کل حلاف مہین۔ ہماز مشاء بنمیم۔ اور ہر قسمیں کھانے والا ذلیل کا کہنا نہ…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَلَا تُطِعْ : تو آپ کہنا مت مانیں ][ كُلَّ حَلَّافٍ : کسی بھی بہت قسم کھانے والے کا ][ مَّهِيْنٍ : کسی بےوقعت کا ] نوٹ۔ 2: آیت۔ 10 ۔ کو سابقہ آیت فَلَا تُطِعِ الْمُکَنِّہ بِیْنَ پر عطف کر کے تاکید کے ساتھ پھر تنبیہہ فرمائی کہ تم ہر لپاٹیے ذلیل کی باتوں پر کان نہ دھرو۔ یہ اشارہ کسی خاص شخص کی طرف نہیں ہے بلکہ قریش کی پوری قیادت کی اخلاقی پستی کی تصویر آگے کی چند آیتوں میں کھینچ دی گئی ہے اور مقصود یہ دکھانا ہے کہ ایک طرف پیغمبر کا بےمثال خلق عظیم ہے اور دوسری طرف قریش کے لیڈروں کا یہ کردار ہے جو بیان ہو رہا ہے۔ ان دونوں کو سامنے رکھ کر ہر منصف مزاج فیصلہ کرسکتا ہے کہ کون کس انجام سے دوچار…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 8–16

آپ کی تکذیب کرنے والوں کی بات نہ مانیے، وہ آپ سے مداہنت کے خواہاں ہیں یہ نو آیات کا ترجمہ ہے ان میں سے پہلی دو آیتوں میں یہ فرمایا کہ آپ تکذیب کرنے والوں کی بات نہ مانیے وہ چاہتے ہیں کہ آپ کچھ نرم پڑجائیں تو وہ بھی آپ کے معاملہ میں نرمی اختیار کرلیں، اہل باطل کا یہ طریقہ رہا ہے کہ خود تو حق کی طرف جھکتے نہیں ان کی پہلی کوشش یہ ہوتی ہے کہ داعیان حق کو دعوت دیں کہ تم اپنی دعوت چھوڑ دو اور ہمارے کفر و گمراہی میں شریک ہوجاؤ، جب اس پر قابو نہیں چلتا تو کہتے ہیں کہ اچھا آپ کچھ نرم پڑجائیں اپنی دعوت اور دعوت کے کاموں میں نرمی اختیار کرلیں ہم بھی اپنی مخالفت میں اور سختی میں کمی کردیں گے رسول اللہ ﷺ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–16

بیان عظمت رسول اکرم ﷺ وتلقین صبر و استقامت : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” ن والقلم وما یسطرون ........ الی .......... سنسمہ علی الخرطوم “۔ (ربط) گزشتہ سورت میں خداوند عالم کی خالقیت کے دلائل ذکر کئے گئے اور یہ کہ اس کی قدرت کائنات کو محیط ہے اس کے احاطہ علم وقدرت سے کوئی مجرم نہیں نکل سکتا تو اب اس سورت میں آنحضرت ﷺ کی رسالت ونبوت کو ثابت فرمایا گیا اور یہ کہ آپ ﷺ کی شان میں گستاخی کرنے والے مجرمین خدا کے عذاب سے ہرگز نہیں بچ سکتے اور جو کچھ وہ آپ ﷺ پر اعتراض کرتے ہیں وہ سب لغو اور بےہودہ باتیں ہیں کوئی صحیح العقل انسان ایسی بےہودہ باتیں تصور بھی نہیں کرسکتا ارشاد فرمایا۔ ن۔ خدا تعالیٰ ہی اس کی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 10–14

7:۔ ” ولا تطع کل حلاف “ اعادہ صیغہ نہی بعد عہد کی وجہ سے ہے۔ ” حلاف “ بات بات پر جھوٹی قسمیں کھانے والا دنیوی کاموں میں بھی اور دینی امور میں بھی مثلاً غیر اللہ کو پکارتا ہے اور پھر قسمیں کھاتا ہے کہ میں اپنے فلاں معبود کو پکارا تھا اس لیے میرا کام ہوگیا۔ ” مھین “ گھٹیاں اور پست ذہنیت رکھنے والا۔ ” ھماز “ اہل توحید کی عیب چینی کرنے والا۔ ” مشاء بنمیم “ اہل توحید کی چغلی کھانے والا۔ ” مناع للخیر “ بھلائی سے روکنے والا۔ ” معتد “ حد سے گذرنے والا۔ ” اثیم “ بہت بڑا مجرم۔ ” عتل “ بد زبان، کج خلق۔ ” یعد ذلک “ یعنی اس کے علاوہ ” زنیم “ شرو فساد میں معروف۔ من الروح والبیضاوی۔ یہ مکذبین کی صفات ہیں جن…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 8–16

گذشتہ سے پیوستہ (ربط) : جب اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کو نبوت اور رسالت عطا فرمائی اور آپ نے آپ کے ساتھیوں نے وضو کرنا شروع کیا ، نماز پڑھنا شروع کیا تو مکہ کے مشرک سرداروں نے یہ کہنا شروع کردیا کہ العیاذ باللہ یہ لوگ مجنون ہوگئے ہیں۔ پاگلوں کی سی حرکتیں کرتے ہیں۔ ان مشرکین میں ولید بن مغیرہ ، ابوجہل ، اخنس بن شرق وغیرہ زیادہ پیش پیش تھے۔ یہ حضور ﷺ کے بارے میں مجنون کا لافظ استعمال کرتے تھے کہ انکے دماغ ٹھکانے نہیں رہے۔ عجیب و غریب حرکتیں کرتے ہیں۔ شروع سورة میں اللہ تعالیٰ نے اس الزام کا جواب دیا اور ثابت کیا کہ حضور ﷺ اللہ کے فضل و احسان سے دیوانے نہیں ہے۔ بلکہ آپ تو بلند اخلاق پر ہیں۔ اور…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَلَا تُطِعْ كُلَّ حَلَّافٍ مَّہِيْنٍ۝ 10 ۙ حلف الحِلْف : العهد بين القوم، والمُحَالَفَة : المعاهدة، وجعلت للملازمة التي تکون بمعاهدة، وفلان حَلِفُ کرم، وحَلِيف کرم، والأحلاف جمع حلیف، قال الشاعر وهو زهير : تدارکتما الأحلاف قد ثلّ عرشها أي : كاد يزول استقامة أمورها، وعرش الرجل : قوام أمره . والحَلِفُ أصله الیمین الذي يأخذ بعضهم من بعض بها العهد، ثمّ عبّر به عن کلّ يمين، قال اللہ تعالی: وَلا تُطِعْ كُلَّ حَلَّافٍ مَهِينٍ [ القلم/ 10] ، أي : مکثار للحلف، وقال تعالی: يَحْلِفُونَ بِاللَّهِ ما قالوا[ التوبة/ 74] ، يَحْلِفُونَ بِاللَّهِ إِنَّهُمْ لَمِنْكُمْ وَما هُمْ مِنْكُمْ [ التوبة/ 56] ،…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 9–16

ترکیب : فیدھنون عطف علی تدھن داخل فی حیزلووھو مبتداء محذوف ای فھم یدھنون و جواب لومحذوف وکذا مفعول ودّوا ای ودوا اوھانک لوتدھن فیدھنون ویمکن ان یکون فیدھنون مع المبتداء المحذوف جواب لووالشرط والجزاء الجملۃ مفعول ودوا وفی بعض المصاحف فید ھنوا بحذف النون علی انہ جواب التمنی المفھوم من ودوا ان کان الخ بالفتح مصدریۃ متعلق بقولہ ولاتطع ای لاتطع من ھذہ مثالبہ لان کان متمولا مستظہرا بالبنین۔ ھذا قول الفراء والزجاج و قریٔ ان بالکسر علی الشرط دجواب الشرط محذوف دل علیہ اذاتتلٰی ای ان کان ذومال یکفراولاتطع ایھا المخاطب کل حلاف شارطایسارہ اذاشرط قال جوابہ۔ تفسیر : اول بار آنحضرت ﷺ کو کفار کی اطاعت سے منع…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 10–14

وَلاَ تُطِعْ کُلَّ حَلاَّ فٍ مَّھِیْنٍ ۔ ھَمَّازٍ مَّشَّآئٍ م بِنَمِیْمٍ ۔ مَّـنَّاعٍ لِّلْخَیْرِ مُعْتَدٍ اَثِیْمٍ ۔ عُتُلٍّ م بَعْدَ ذٰلِکَ زَنِیْمٍ ۔ اَنْ کَانَ ذَا مَالٍ وَّ بَنِیْنَ ۔ (القلم : 10 تا 14) (اور آپ ہرگز بات نہ سنیں بہت قسمیں کھانے والے ذلیل آدمی کی۔ اشارہ باز چغلیاں کھانے والے، لگائی بجھائی کرنے والے۔ بھلائی سے روکنے والے، حد سے تجاوز کرنے والے، حق مارنے والے کی۔ بہت سنگدل مزیدبرآں بداصل کی۔ اس وجہ سے کہ وہ بہت مال و اولاد والا ہے۔ ) مکذبین کی قیادت کا اصل چہرہ دکھایا گیا ہے وَلاَ تُطِعْ کُلَّ حَلاَّ فٍ مَّھِیْنٍ … اس سے پہلے سابقہ سے پیوستہ آیت میں آنحضرت ﷺ سے فرمایا گیا کہ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 10–16

فہم القرآن ربط کلام : اہل مکہ قرآن مجید کے دلائل کا جواب نہ پا کر آپ ﷺ کو مجنون کہتے تھے اس موقع پر ان کے اس الزام کا صرف یہ جواب دیا گیا کہ عنقریب وقت آئے گا کہ جب یہ دیکھ لیں گے کہ مجنون کون ہے۔ آپ ﷺ کو حقیقت بتلانے اور تسلی دینے کے لیے ارشاد ہوا کہ آپ کا رب خوب جانتا ہے کہ کون اس کے راستے سے بھٹک گیا اور کون ہدایت یافتہ ہے۔ لہٰذا آپ کو جھوٹے لوگوں کے پیچھے لگنے کی بجائے اپنا کام پوری مستعدی کے ساتھ جاری رکھنا چاہیے اور اس میں کسی قسم کی مداہنت اختیار نہیں کرنی چاہیے۔ مفسرین کا خیال ہے کہ یہ آیات ولید بن مغیرہ، اسود بن یغوث اور اخنس بن شریک میں سے کسی ایک کے بارے میں نازل ہوئیں کیونکہ قرآن…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

ولید کے متعلق یہ آیت اتری : 10 : وَلَا تُطِعْ کُلَّ حَلَّافٍ مَّھِیْنٍ (اور آپ کسی ایسے شخص کا کہنا نہ مانیں جو بہت زیادہ قسمیں اٹھانے والابے وقعت ہو) حلافؔ جو جھوٹی سچی بہت قسمیں اٹھائے۔ اس آیت میں بہت زیادہ قسمیں کھانے والوں کو خوب ڈانٹ پلائی گئی ہے۔ مھینؔ۔ نمبر 1۔ جو رائے اور تمیز میں کمی رکھتا ہو۔ یہ المھانۃ سے لیا گیا۔ وہ قلت و حقارت پر بولتے ہیں۔ نمبر 2۔ جھوٹا کیونکہ وہ بھی لوگوں میں ذلیل ہوتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

9 ۔” ودوا لو تدھن فیدھنون “ ضحاک (رح) فرماتے ہیں اگر آپ (علیہ السلام) کافر ہوجائیں (نعوذ باللہ) تو وہ بھی کافر ہوجائیں اور کلبی (رح) فرماتے ہیں اگر آپ (علیہ السلام) ان کے لئے نرم ہوجائیں تو وہ آپ (علیہ السلام) کے لئے نرم ہوجائیں۔ حسن (رح) فرماتے ہیں اگر آپ ان سے اپنے دین میں نرمی کریں تو وہ اپنے دین میں نرمی کریں گے۔ زید بن اسلم (رح) فرماتے ہیں اگر آپ ” لو تنافق وترائی فینافقون “ ابن قتیبہ (رح) فرماتے ہیں انہوں نے ارادہ کیا کہ کچھ عرصہ آپ (علیہ السلام) ان کے معبودوں کی عبادت کریں اور وہ کچھ عرصہ اللہ کی عبادت کریں۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 8–16

8۔ 16۔ اوپر ذکر تھا کہ مکہ کے مشرکوں میں سے کوئی شخص اگر آداب دنیا کے برخلاف کچھ کہے تو باقتضا حسن اخلاق اس سے درگزر بہتر ہے ان آیتوں میں اس کی صراحت فرمائی کہ یہ مشرک لوگ تو یہ چاہتے ہیں کہ ان کو شرک پر اڑے رہنے سے کوئی نہ روکے تو وہ بھی مسلمانوں کی ایذا کم کردیں لیکن اللہ تعالیٰ کو اصلاح دین منظور ہے اس لئے دین کی خرابی کی کوئی بات ان میں سے کوئی شخص کہے تو وہ ہرگز نہ سننی جائے اور اس کے سننے میں کسی طرح کی مدارات ان لوگوں کے ساتھ نہ برتی جائے وہ دین کی خرابی کی باتیں ایسی ہی ہیں جیسے ان لوگوں نے ایک یہ بات کہی تھی کہ کچھ دنوں تک مسلمان ہمارے بتوں کی بڑائی مان لیں تو ہم بھی اتنے ہی دنوں تک…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(ولا تطع کل حلاف) اور کسی ایسے شخص کی بات نہ ماننا جو بہت قسمیں کھانے والا ہو۔ کیونکہ اتنی زیادہ قسمیں کھانے والا جھوٹا ہی ہوسکتا ہے اور آدمی جھوٹا نہیں ہوسکتا جب تک وہ (مھین) خسیس النفس اور دانائی سے تہی دست نہ ہو اور اسے بھلائی میں کوئی رغبت نہ ہو بلکہ اس کا ارادہ اس کے خسیس نفس کی شہوات پر مرتکز ہو۔

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

زیادہ قسمیں کھانے والے سے دبنے کی ضرورت نہیں قول باری ہے (ولا تطع کل حلاف مھین، ہرگز نہ دبو کسی ایسے شخص سے جو بہت قسمیں کھانے والا بےوقعت آدمی ہے) ایک قول کے مطابق حلاف وہ شخص ہے جو اللہ کا نام لے کر جھوٹی قسمیں کھاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسے مہین کا نام دیا کیونکہ جھوٹ کو جائز سمجھتا اور جھوٹی قسموں کو روا رکھتا تھا۔ حلاف اس شخص کو کہتے ہیں جو کثرت سے جھوٹی سچی قسمیں کھاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس سے منع فرمایا ہے چناچہ ارشاد باری ہے (ولا تجعلوا اللہ عرضۃ لا یمانکم، اور تم اللہ کی ذات کو اپنی قسموں کا نشانہ نہ بنائو)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

8 بدکردار شخص کی بات ماننے سے ممانعت کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا اور نہ ہی کہا ماننا کسی ایسے شخص کا جو بہت قسمیں اٹھانے والا ہو کہ وہ عقیدہ و ایمان کے ثقل و وزن اور اخلاق و کردار کے جوہر سے عاری ہوتا ہے اور یہ دراصل حلاف (بہت قسمیں کھانے والے شخص) کا ایک وصف لازم ہوتا ہے کہ وہ اپنے اندر سے خود اپنے آپ کو بےحقیقت اور بےاعتبار سمجھ رہا ہوتا ہے اسی لئے وہ قسمیں کھا کھا کر دوسروں کو یقین دلانے کی کوشش کرتا ہے، پس ایسے کسی شخص کی بات پر کان نہیں دھرنا، سو یہاں پر اخلاق و کردار کے دو بالکل مختلف نمونے پیش فرما دیئے گئے، کہ ایک طرف تو پیغمبر کے اخلاق عالیہ کا نمونہ ہے جو آپ کی صداقت و حقانیت…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–16

رسول کریم ﷺ کا خلق عظیم اور کفار کی اطاعت سے بچنے کا حکم تشریح : جیسا کہ پہلے بھی سورتوں میں مختلف چیزوں کی قسم مختلف چیزوں کے صحیح ثابت کرنے کے لیے کھائی گئی ہے تو یہاں نبی پاک ﷺ کے حسن کردار اور صفات کے بلند پایہ ہونے کے لیے قلم و قرآن کی قسم کھائی گئی ہے۔ آپ ﷺ تو مجسم صفات ہیں قرآن و احادیث میں جگـہ جگہ آپ ﷺ کی جملہ صفات کا ذکر بڑے مستند حوالوں سے کیا گیا ہے۔ کیوں نہ ہو آپ ﷺ دنیا کے بہترین انسان اور پیغمبر ہیں آپ ﷺ رحمت حیا، جودوسخا، وفا، صبر، زہد وتقویٰ حسن سلوک اور حسن تادیب کے لحاظ سے بلکہ ہر لحاظ سے بےمثال ہیں آپ ﷺ کو انسان کامل ہونے کا رتبہ حاصل ہے۔ آپ ﷺ محسن انسانیت اور رحمۃ للعٰلمین…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–33

آیات 1 تا 23۔ اسرار ومعارف۔ قسم ہے قلم کی اور جو کچھ قلم سے لکھاجاتا ہے یعنی آپ ﷺ نے امی ہونے کے باوجود علم کے وہ دریابہائے کہ خود قلم اور اس کی تحریر آپ کے کامل عقل مند اور بےمثال صاحب خرد ہونے پر دال ہے۔ مجنون۔ جب آپ ﷺ نے اعلان نبوت فرما کر ساری انسانیت کو دعوت حق دے دی اور تمام انسانوں کے لیے ایک عقیدہ اور ایک نظام حیات تو مشرکین نے اسے معاذ اللہ پاگل پن قرار دیا کہ دنیا کی عظیم الشان حکومتیں ساری دنیا پہ ایک نظام رائج نہ کرسکیں۔ پھر آپ ﷺ امی ہیں ، اکیلے ہیں یا چند مسلمان جن کی بظاہر کوئی حیثیت نہیں پھر اقوام عالم کے مزاج الگ ، فکر الگ ، رنگ ونسل اپنی اپنی ، غذا الگ زبانیں الگ موسم اور…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 10–13

“6 ” یہ سب کافر کے وصف ہیں۔ آدمی اپنے اندر دیکھیے اور یہ خصلتیں چھوڑے۔ “ نیم “ (بد ذات) شاہ صاحب لکھتے ہیں ” بدنام یعنی بدی کرمشور “ یا جو غلط طور پر کسی خاندان کی طرف منسوب ہو اس لئے علمائے تفسیر نے اس کی تفسیر ” حرا مزادہ “ سے بھی کی ہے۔ روایات میں کئی لوگوں کے نام ہیں جنج کے بارے میں یہ آیات نازل ہوئیں (ابن کثیر)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(68:10) ولا تطع : واؤ عاطفہ لاتطع فعل نہی واحد مذکر حاضر، اطعۃ (افعال) مصدر۔ تو اطاعت نہ کر۔ تو کہنے میں نہ آ۔ کل : ہر ۔ تمام۔ سب۔ مضاف۔ حلاف ۔ ھماز ۔ مشاء ۔ مناع، معتد ، اثیم ، عتل ، زنیم۔ مضاف الیہ، یعنی ان صفات کے مالک سب لوگ۔ یہ تمام لاتطع کے مفعول ہیں۔ یعنی ان تمام لوگوں کی اطاعت نہ کر۔ ان کے کہنے میں نہ آ۔ حلاف مھین : حلاف بڑا قسمیں کھانے والا۔ حلف سے بروزن فعال مبالغہ کا صیغہ ہے۔ مھین ذلیل و خوار۔ حقیر۔ مھانۃ سے صفت مشبہ کا صیغہ واحد مذکر ، حلاف مھین بہت قسمیں کھانے والا حقیر و ذلیل شخص۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–33

لغات القرآن۔ یسطرون۔ وہ لکھتے ہیں۔ ممنون۔ منقطع ہونے والا۔ ختم ہونے والا۔ تبصر۔ تو دیکھے گا۔ المفتون۔ دیوانہ۔ ودوا۔ وہ پسند کرتے ہیں۔ تدھن۔ تو خوشامد کرے۔ تو نمر پرے۔ حلاف۔ بہت قسمیں کھانے والا۔ مھین۔ ذلیل کمینہ۔ ھماز۔ طعنے دینے والا۔ مشائ۔ پھرنے والے۔ نیمیم۔ چغل خور۔ باتیں لگانے والے۔ مناع۔ روکنے والا۔ معتد۔ حد سے بڑھنے والا۔ اثیم۔ گناہ گار۔ عتل۔ اکھڑ۔ اجد۔ زنیم۔ بدنام۔ نسیم۔ ہم داغ دیں گے۔ الخرطوم۔ ناک۔ دم۔ سونڈ۔ تشریح : سورة القلم کا آغاز ” ن “ سے کیا گیا ہے جو حروف مقطعات میں سے ایک حروف ہے۔ اس کے کیا معنی ہیں ؟ اس کی تفصیل اس سے پہلی ابتدائی سورتوں میں آچکی ہے کہ ان حروف کے معنی اور مراد…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

(ف 3) یعنی جس کے دل میں خدا کے نام کی عظمت نہیں جھوٹی قسم کھالینا ایک معمولی بات سمجھتا ہے اور چونکہ لوگ اس کی باتوں پر اعتبار نہیں کرتے اس لیے یقین دلانے کے لیے بارہا قسمیں کھاکر بےقدر اور ذلیل ہوتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 9–15

[5] یعنی کفار چاہتے ہیں کہ تم بت پرستی کو برا نہ کہو تو یہ بھی تمہارے دین کی اس قدر مخالفت نہ کریں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 2–12

سورة القلم اور جنون وخرد 2: حضور ﷺ کے متعلق مکہ والوں کی رائے تھی ۔ کہ ان کو خلل دماغ ہے ۔ یورپ کے بعض متعصب مشنریوں نے بھی یہ کہا ہے ۔ کہ نبوت محض مرض ضرع کا دوسرا نام تھا ۔ معاذ اللہ مگر قرآن حکیم فرماتا ہے ۔ کہ قلم اور تحریر کا جتنا اندوختہ اس وقت فطرت نے محفوظ رکھا ہے ۔ اور جس قدر کہ اس میں اضافہ ہوسکتا ہے ۔ اس سارے ذخیرہ ادب و عظمت کو میزان کے چڑے میں رکھو ۔ اور اس کے بعد اس پیغام کو دوسرے پلڑے میں رکھو ۔ جس کو معاذ اللہ اس حکیم امی نے پیش فرمایا ہے ۔ جس کے متعلق موازنہ ، اس کے پیش کردہ پیغام کی برکات سے استفادہ کرتی رہے گی ۔ اور بس سرچشمہ معارف میں مکھی پیدا نہ ہوگی ۔ یہ کتنی بڑی فریب…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(10) اور اے پیغمبر آپ خاص طور پر کسی ایسے شخص کا کہا نہ مانیے اور اس کی اطاعت نہ کیجئے جو بہت قسمیں کھانے والاہو بےقدر اور ذلیل ہو۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 9–12

ف 1۔ آپ کا ڈھیلا ہونا یہ کہ بت پرستی کی مذمت نہ کریں اور ان کا ڈھیلا ہونا یہ کہ آپ کی مخالفت نہ کریں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

آپ ﷺ کسی بھی قسمیں کھانے والے ذلیل شخص کی بات نہ مانیں 10 ؎ آیت 8 کی طرح دوبارہ تنبیہہ اور تلقین کی جا رہی ہے کہ آپ ﷺ کسی بھی ایسے شخص کی باتوں کا اثر قبول نہ کریں جو اپنی باتوں کو منوانے کے لئے جھوٹ موٹ کی قسمیں کھانے کا عادی ہوچکا ہے اور اس کی رسوائی سے بچہ بچہ واقف ہے۔ اگرچہ کوئی بڑے سے بڑا آدمی بھی اس کے منہ پر اس کو کچھ نہ کہے اور اس کی جرأت نہ کرے لیکن اس کے کردار سے سارے لوگ اچھی طرح واقف ہیں اور اس کا نام آتے ہی سب کو ہنسی آجاتی ہے کہ یہ شخص کہتا کیا ہے اور کرتا کیا ہے۔ (حلاف) بہت قسمیں کھانے والا اور اس بات کی پرواہ کئے بغیر قسمیں کھانے والا کہ اس کی بات سچی ہے یا جھوٹی (مھین) ذلیل…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 10–15

لَا تُطِعْ كُلَّ حَلَّافٍ مَّهِينٍ ﴿10﴾ هَمَّازٍ مَّشَّاءٍ بِنَمِيمٍ ﴿11﴾ مَّنَّاعٍ لِّلْخَيْرِ‌ مُعْتَدٍ أَثِيمٍ ﴿12﴾ عُتُلٍّ بَعْدَ ذَٰلِكَ زَنِيمٍ ﴿13﴾ (And do not obey any contemptible one who swears much, a slanderer who goes about with calumnies, one who prevents good, [ and who is ] transgressor, sinful, harsh, [ and ] after all that, notorious,.. _68:10-13) The word zanim refers to 'a person whose legitimate birth from a father is not proved'. The person referred to in this verse was of doubtful birth or his lineage was uncertain. The preceding verse prohibited any compromise with…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 10–11

6 The word mahin is used for a contemptible, degraded and mean person. This is indeed a necessary quality of a person who swears many oaths. He swears an oath for every minor thing because he himself has the feeling that the people take him for a liar and would not believe him until he swore an oath. For this reason he is not only degraded in his own eyes but commands no respect in society either.

Read the full tafseer →