Explained with ayahs 8–16
زیادہ قسمیں کھانے والے زیادہ جھوٹ بولتے ہیں
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ اے نبی ﷺ جو نعمتیں ہم نے تجھے دیں جو صراط مستقیم اور خلق عظیم ہم نے تجھے عطا فرمایا اب تجھے چاہئے کہ ہماری نہ ماننے والوں کی تو نہ مان، ان کی تو عین خوشی ہے کہ آپ ذرا بھی نرم پڑیں تو یہ کھل کھیلیں اور یہ بھی مطلب ہے کہ یہ چاہتے ہیں کہ آپ ان کے معبودان باطل کی طرف کچھ تو رخ کریں حق سے ذرا سا تو ادھر ادھر ہوجائیں، پھر فرماتا ہے کہ زیادہ قسمیں کھانے والے کمینے شخص کی بھی نہ مان چونکہ جھوٹے شخص کو اپنی ذلت اور کذب بیانی کے ظاہر ہوجانے کا ڈر رہتا ہے، اس لئے وہ قسمیں کھا کھا کر دوسرے کو اپنا یقین دلانا چاہتا ہے لگاتار قسموں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
سورة الْقَلَم 6
اصل میں لفظ مھین استعمال ہوا ہے جو حقیر و ذلیل اور گھٹیا آدمی کے لیے بولا جاتا ہے۔ درحقیقت یہ بہت قسمیں کھانے والے آدمی کی لازمی صفت ہے۔ وہ بات بات پر اس لیے قسم کھاتا ہے اسے خود یہ احساس ہوتا ہے کہ لوگ اسے جھوٹا سمجھتے ہیں اور اس کی بات پر اس وقت تک یقین نہیں کریں گے جب تک وہ قسم نہ کھائے۔ اس بنا پر وہ اپنی نگاہ میں خود بھی ذلیل ہوتا ہے اور معاشرے میں بھی اس کی کوئی وقعت نہیں ہوتی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–16
وَلَا تُطِعْ كُلَّ حَلَّافٍ مَّهِيْنٍ 10 ۙهَمَّازٍ مَّشَّاۗءٍۢ بِنَمِيْمٍ 11 ۙمَّنَّاعٍ لِّلْخَيْرِ مُعْتَدٍ اَثِيْمٍ 12 ۙعُتُلٍّۢ بَعْدَ ذٰلِكَ زَنِيْم (آپ بات نہ مانیں ہر ایسے شخص کی جو بہت قسمیں کھانے والا ہو ذلیل ہو اور لوگوں پر عیب لگانے والا ہو غیبت کرنے والا ہو چغلخوری کرنے والا ہو، نیک کاموں سے لوگوں کو روکنے والا ظلم وجور میں حد سے بڑھنے والا ہو بکثرت گناہ کرنے والا اور بہت قسمیں کھانے والا کج خلق بخیل ہو اور ان سب صفات رذیلہ کے ساتھ وہ زنیم بھی ہو۔ زنیم کے معنے وہ شخص جس کا نسب کسی باپ سے ثابت نہ ہو۔ جس شخص کے یہ اوصاف بیان کئے گئے ہیں وہ ایسا ہی غیر ثابت النسب تھا۔
پہلی آیت…
Read the full tafseer →’ھَمَّازٌ‘ ’ھمز‘ سے مبالغہ ہے جس کے معنی اشارہ باز کے ہیں۔ اشارہ بازی اور پھبتی اس قسم کے لوگوں کا خاص شیوہ ہوتا ہے جو کسی کو دوسروں کی نگاہوں سے گرانے کے درپے ہوں۔ یہ اشارہ بازی حرکات اور چشم و ابرو سے بھی ہوتی ہے، الفاظ اور فقروں سے بھی۔ نبی ﷺ اور غریب مسلمانوں کو قریش کے مستکبرین جس قسم کے اشاروں اور فقروں کا ہدف بناتے تھے اس کی مثالیں قرآن مجید میں موجود ہیں اوران کی وضاحت ان کے محل میں ہو چکی ہے۔ ’وَیْلٌ لِّکُلِّ ھُمَزَۃٍ لُّمَزَۃٍ‘ (اللھمزۃ ۱۰۴: ۱) میں اسی کردار کی طرف اشارہ ہے۔ مستکبرین کے پاس دلیل کی قوت نہیں ہوتی اس وجہ سے وہ اسی اوچھے ہتھیار سے حق کو شکست دینے کی کوشش کرتے ہیں لیکن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–12
9۔ 1 وہ چاہتے ہیں کہ تو ان کے معبودوں کے بارے میں نرم رویہ اختیار کرے تو وہ بھی تیرے بارے میں نرم رویہ اختیار کریں باطل پرست اپنی باطل پرستی کو چھوڑنے میں ڈھیلے ہوجائیں گے۔ اس لئے حق میں خوشامد، حکمت، تبلیغ اور کار نبوت کے لئے سخت نقصان دہ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–13
4: جو کافر لوگ آنحضرت ﷺ کی مخالفت میں پیش پیش تھے، اور آپ کو اپنے دین کی تبلیغ سے ہٹانا چاہتے تھے، ان میں سے کئی لوگ ایسے تھے جن میں وہ اخلاقی خرابیاں پائی جاتی تھیں جن کا تذکرہ آیات 10 تا 12 میں فرمایا گیا ہے۔ بعض مفسرین نے ایسے افراد کا نام بھی لیا ہے کہ وہ اخنس بن شریق، اسود بن عبد یغوث یا ولید بن مغیرہ تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–13
اب رسول اللہ ﷺ کو یہ حکم دیا جاتا ہے کہ ان میں سے ایک متعین شخص بڑاچرب زبان ہے ، اس کی کسی بات کو تسلیم نہ کریں۔ یہاں قرآن کریم نے اپنے مخصوص انداز میں اس کا نام نہیں لیا ، لیکن اس کی تمام گھٹیا صفات کو گنوادیا گیا ، جو اس شخص کے اندر پائی جاتی تھیں۔ اس شخص کو نہایت ذلت اور حقارت کے ساتھ دھمکی دی جاتی ہے :
ولا تطع .................... الخرطوم (61) (86 : 01 تا 61) ” ہرگز نہ دبو کسی ایسے شخص سے جو بہت قسمیں کھانے والا بےوقعت آدمی ہے ، طعنے دیتا ہے ، چغلیاں کھاتا پھرتا ہے ، بھلائی سے روکتا ہے ، ظلم و زیادتی میں حد سے گزر جانے والا ہے ، سخت بداعمال ہے ، جفاکار ہے اور ان سب عیوب کے ساتھ بداصل ہے ،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–13
11 یعنی ان خصلتوں کے ساتھ بدنام اور رسوائے عالم بھی ہے حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں " کہ یہ سب کافر کے وصف ہیں آدمی اپنے اندر دیکھے اور یہ خصلتیں چھوڑے۔ " (تنبیہ) " زنیم " کے معنی بعض سلف کے نزدیک ولد الزنا اور حرام زادے کے ہیں۔ جس کافر کی نسبت یہ آیتیں نازل ہوئیں اور ایسا ہی تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–12
آیت 10{ وَلَا تُطِعْ کُلَّ حَلَّافٍ مَّہِیْنٍ۔ } ”اور آپ ﷺ مت مانیے کسی ایسے شخص کی بات جو بہت قسمیں کھانے والا انتہائی گھٹیا ہے۔“
ان دونوں خصوصیات کا آپس میں فطری تعلق ہے۔ اپنی شخصیت کے ہلکے پن کی تلافی کرنے کے لیے بات بات پر قسمیں کھانا ہر گھٹیا آدمی کی ضرورت ہوتی ہے۔ لفظ ”مَہِیْن“ ذلیل و حقیر اور گھٹیا آدمی کے لیے بولا جاتا ہے۔
Read the full tafseer →9 آیت نمبر 10 سے 13 تک چار آیات میں کافروں کے ایک رئیس کی اخلاقی حالت کو رسول اللہ کے مقابلہ میں پیش کیا گیا ہے اور اس کا نام لینے کی ضرورت اس لئے پیش نہیں آئی کہ ان صفات والا کردار صرف ایک ہی تھا۔ اور اس کی یہ صفات پڑھ کر ہر ایک کو معلوم ہوجاتا تھا کہ ان آیات کا روئے سخن کس طرف ہے اور یہ قرآن کی انتہائی حکمت کی دلیل ہے کہ کسی برے شخص کا نام لیے بغیر محض صفات سے ہی اس کی نشاندہی کردی جائے اور ہر ایک کو معلوم ہوجائے کہ جس شخص میں یہ اور یہ صفات پائی جاتی ہوں وہ ایسے اخلاق کا مالک ہوتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–14
8۔ یعنی ایسا نہ ہونے پائے کہ آپ اس خیال سے کہ فلاں شخص سے اس بناء پر کہ وہ صاحب وجاہت اور صاحب اثر ہے، باوجود اس کی ان ساری خباثتوں کے اشتراک عمل کرلینا بھی مصلحت خیال کرنے لگیں۔ (آیت) ” ان کان “۔ ان الفاظ کا تعلق آیت ماقبل کے ابتدائی لفظ ولا تطع سے ہے۔ متعلق بقولہ ولا تطع (مدارک) بعض نے یہ ترکیب بھی صحیح قرار دی ہے کہ ان کان کے قبل یکفر یا یجحد محذوف ہے اور ان کان اس سے متعلق اس صورت میں معنی یہ ہوں گے کہ وہ خبیث کفر و انکار اسی گھمنڈ میں آکر کرتا ہے کہ وہ دولت مند اور صاحب اولاد کثیر ہے۔ آیت اپنے عموم مفہوم کے لحاظ سے تو ہر خبیث ورذیل خصائل والے کافر معاند کے حق میں عام ہے۔ لیکن شان نزول کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–16
ولاتطع کل حلاف مھین (الآیۃ) پہلی آیت میں عام کفار کی بات نہ ماننے اور دین کے معاملہ میں ان کی وجہ سے کوئی مداہنت نہ کرنے کا عام حکم تھا، اس آیت میں ایک خاص شریر کافر ولید بن مغیرہ کی صفات رذیلہ بیان کر کے اس سے اعراض کرنے اور اس کی بات نہ ماننے کا خصوصی حکم دیا گیا ہے، اس لئے کہ حق بات میں مداہنت، حکمت تبلیغ کے لئے سخت نقصان دہ ہے، مذکورہ آیت میں جو نو اوصاف رذیلہ بیان کئے گئے ہیں ان کے بارے میں راجح قول تو یہی ہے کہ یہ ولید بن مغیرہ کے اوصاف ہیں اس کے علاوہ بھی کئی اقوال ہیں، کسی نے ان اوصاف کا مصداق اسود بن عبد یغوث کو اور کسی نے اخنس بن شریق کو قرار دیا ہے، تفسیر زاہدی وغیرہ میں ہے کہ ولید…
Read the full tafseer →ھماز . عیب جو ‘ غیبت کرنے والا یا لوگوں کے عیوب کی طرف آنکھ اور ابرو سے اشارہ کرنے والا۔
مشاء بنمیم . چغلی کے طور پر باتیں بنانے والا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–12
(8۔ 12) اور آپ خصوصا ولید بن مغیرہ مخزومی کا کہنا نہ مانیے جو کہ بہت جھوٹی قسمیں کھانے والا وہ دین خداوندی میں ذلیل ہو، طعنہ دینے والا، آتے جاتے لوگوں سے غیبت کرنے والا، وہ لوگوں کے درمیان چغلیاں لگاتا پھرتا ہو تاکہ ان کے درمیان فساد برپا کرے۔ اپنی اولاد اور کنبہ قبیلہ کو دین اسلام سے روکتا ہو حق سے اعتدال کرنے والا اور ان پر ظلم کرنے والا ہو فاجر ہو، جھوٹ اور ؟
شان نزول : وَلَا تُطِعْ كُلَّ حَلَّافٍ مَّهِيْنٍ (الخ)
ابن ابی حاتم نے سدی سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا ہے کہ یہ آیت اخنس بن شریق کے بارے میں اتری ہے۔ ابن منذر نے کلبی سے اسی طرح روایت کیا ہے۔ اور ابن ابی حاتم نے مجاہد سے روایت کیا…
Read the full tafseer →ہَمَّازٍ مَّشَّآئٍم بِنَمِیْمٍ :”ھماز مشاء بنیم :”ھماز“ ”ھمز یھمزھمزا“ (ن) سے مبالغے کا صیغہ ہے ، بہت طعنہ دینے والا ، عیب لگانے والا۔ ”مشاء“ ”مشی یمشی مشیا“ (ض) (چلنا) سے مبالغے کا صیغہ ہے ، بہت چلنے والا ، بہت دوڑدھوپ کرنے والا۔ ”نمیم“ چغلی ، خرابی ڈالنے کی نیت سے کسی کی بات دوسرے شخص تک پہنچانا۔ ان دونوں صفتوں کا خلاصہ دوسروں پر عیب لگانا ہے۔ ”ھماز“ وہ جو دوسرے کے منہ پر عیب لگاتا اور طعنہ دیتا ہے۔ ”مشاء بنیم“ وہ جو پیٹھ پیچھے چغلی کرتا ہے۔ یعنی بس چلے تو جرأت سے منہ پر طعنہ زنی اور عیب جوئی کرتا ہے اور بس نہ چلے تو پیٹھ پیچھے دوڑ دھوپ جاری رکھتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–11
حضرت ابن عباس عطیہ، ضحاک اور سدی نے کہا : انہوں نے پسند کیا کا شچ تم کفر کرتے تو وہ اپنے کفر میں مزید آگے بڑھ جاتے۔ حضرت ابن عباس نے یہ بھی کہا : انہوں نے پسند کیا کہ اگر آپ ﷺ انہیں رخصت دیں تو وہ بھی آپ ﷺ کو رخصت دیں گے (1) فراء اور کلبی نے کہا : اگر آپ نرمی کریں تو وہ بھی نرمی کریں گے۔ ادھان سے مراد اس کے لئے نرمی کرتا ہے جس کے لئے نرمی کرنا مناسب نہ ہو، یہ فراء کا قول ہے۔ مجاہد نے کہا، معنی ہے انہوں نے چاہا اگر آپ ﷺ کی طرف مائل ہوں اور آپ حق کو چھوڑ دیں تو وہ بھی آپ ﷺ کی طرف مئال ہوں گے۔ ربیع بن انس نے کہا، انہوں نے چاہا اگر آپ جھوٹ بولیں تو وہب ھی جھوٹ بولیں گے (2) قتادہ نے کہا : انہوں نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
6۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ولا تطع کل حلاف مہین میں مہین سے مراد ہے بہت فساد کرنے والا ” ہماز “ جو لوگوں کے گوشت کھاتا ہے یعنی چغل خور۔ آیت مناع للخیر۔ خیر سے روکنے والا جو خیر اور نیکی نہ کرتا ہو۔ معتد حسد سے بڑھا ہوا یعنی جو اپنے قول اور عمل میں حد سے تجاوز کرنے والا ہو۔” اثیم “ بڑا گنہگار اپنے رب کا ” عتل “ یعنی فاخر آدمی جو انتہائی کمینہ ہو اور ہم کو ذکر کیا گیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ قیامت قائم نہ ہوگی یہاں تک کہ فحش بات کرنے والا اور باتکلف فحش کہنے والا اور برا پڑوسی اور قطع رحمی ظاہر نہ ہوگی۔
Read the full tafseer →[هَمَّازٍ : کسی کثرت سے طعنہ دینے والے کا ][ مَّشَّاۗءٍۢ: بہت چلنے والا ][ بِنَمِيْمٍ : چغلی کے ساتھ ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–16
آپ کی تکذیب کرنے والوں کی بات نہ مانیے، وہ آپ سے مداہنت کے خواہاں ہیں
یہ نو آیات کا ترجمہ ہے ان میں سے پہلی دو آیتوں میں یہ فرمایا کہ آپ تکذیب کرنے والوں کی بات نہ مانیے وہ چاہتے ہیں کہ آپ کچھ نرم پڑجائیں تو وہ بھی آپ کے معاملہ میں نرمی اختیار کرلیں، اہل باطل کا یہ طریقہ رہا ہے کہ خود تو حق کی طرف جھکتے نہیں ان کی پہلی کوشش یہ ہوتی ہے کہ داعیان حق کو دعوت دیں کہ تم اپنی دعوت چھوڑ دو اور ہمارے کفر و گمراہی میں شریک ہوجاؤ، جب اس پر قابو نہیں چلتا تو کہتے ہیں کہ اچھا آپ کچھ نرم پڑجائیں اپنی دعوت اور دعوت کے کاموں میں نرمی اختیار کرلیں ہم بھی اپنی مخالفت میں اور سختی میں کمی کردیں گے رسول اللہ ﷺ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–16
بیان عظمت رسول اکرم ﷺ وتلقین صبر و استقامت :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” ن والقلم وما یسطرون ........ الی .......... سنسمہ علی الخرطوم “۔
(ربط) گزشتہ سورت میں خداوند عالم کی خالقیت کے دلائل ذکر کئے گئے اور یہ کہ اس کی قدرت کائنات کو محیط ہے اس کے احاطہ علم وقدرت سے کوئی مجرم نہیں نکل سکتا تو اب اس سورت میں آنحضرت ﷺ کی رسالت ونبوت کو ثابت فرمایا گیا اور یہ کہ آپ ﷺ کی شان میں گستاخی کرنے والے مجرمین خدا کے عذاب سے ہرگز نہیں بچ سکتے اور جو کچھ وہ آپ ﷺ پر اعتراض کرتے ہیں وہ سب لغو اور بےہودہ باتیں ہیں کوئی صحیح العقل انسان ایسی بےہودہ باتیں تصور بھی نہیں کرسکتا ارشاد فرمایا۔
ن۔ خدا تعالیٰ ہی اس کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–14
7:۔ ” ولا تطع کل حلاف “ اعادہ صیغہ نہی بعد عہد کی وجہ سے ہے۔ ” حلاف “ بات بات پر جھوٹی قسمیں کھانے والا دنیوی کاموں میں بھی اور دینی امور میں بھی مثلاً غیر اللہ کو پکارتا ہے اور پھر قسمیں کھاتا ہے کہ میں اپنے فلاں معبود کو پکارا تھا اس لیے میرا کام ہوگیا۔ ” مھین “ گھٹیاں اور پست ذہنیت رکھنے والا۔ ” ھماز “ اہل توحید کی عیب چینی کرنے والا۔ ” مشاء بنمیم “ اہل توحید کی چغلی کھانے والا۔ ” مناع للخیر “ بھلائی سے روکنے والا۔ ” معتد “ حد سے گذرنے والا۔ ” اثیم “ بہت بڑا مجرم۔ ” عتل “ بد زبان، کج خلق۔ ” یعد ذلک “ یعنی اس کے علاوہ ” زنیم “ شرو فساد میں معروف۔ من الروح والبیضاوی۔ یہ مکذبین کی صفات ہیں جن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–16
گذشتہ سے پیوستہ (ربط) :
جب اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کو نبوت اور رسالت عطا فرمائی اور آپ نے آپ کے ساتھیوں نے وضو کرنا شروع کیا ، نماز پڑھنا شروع کیا تو مکہ کے مشرک سرداروں نے یہ کہنا شروع کردیا کہ العیاذ باللہ یہ لوگ مجنون ہوگئے ہیں۔ پاگلوں کی سی حرکتیں کرتے ہیں۔ ان مشرکین میں ولید بن مغیرہ ، ابوجہل ، اخنس بن شرق وغیرہ زیادہ پیش پیش تھے۔ یہ حضور ﷺ کے بارے میں مجنون کا لافظ استعمال کرتے تھے کہ انکے دماغ ٹھکانے نہیں رہے۔ عجیب و غریب حرکتیں کرتے ہیں۔ شروع سورة میں اللہ تعالیٰ نے اس الزام کا جواب دیا اور ثابت کیا کہ حضور ﷺ اللہ کے فضل و احسان سے دیوانے نہیں ہے۔ بلکہ آپ تو بلند اخلاق پر ہیں۔ اور…
Read the full tafseer →ہَمَّازٍ مَّشَّاۗءٍؚبِنَمِيْمٍ 11 ۙ
همز
الْهَمْزُ کالعصر . يقال : هَمَزْتُ الشیء في كفّي، ومنه : الْهَمْزُ في الحرف، وهَمْزُ الإنسان : اغتیابه . قال تعالی: هَمَّازٍ مَشَّاءٍ بِنَمِيمٍ [ القلم/ 11] يقال : رجل هَامِزٌ ، وهَمَّازٌ ، وهُمَزَةٌ. قال تعالی: وَيْلٌ لِكُلِّ هُمَزَةٍ لُمَزَةٍ [ الهمزة/ 1] وقال الشّاعر : وإن اغتیب فأنت الْهَامِزُ اللُّمَزَهْ وقال تعالی: وَقُلْ رَبِّ أَعُوذُ بِكَ مِنْ هَمَزاتِ الشَّياطِينِ [ المؤمنون/ 97] .
( ھ م ز ) الھمز کے آصل معنی کسی چیز کو دبا کر نچوڑ نے کے ہیں چناچہ محاورہ ہے : ۔ ھمزت الشئی فی کفی میں نے فلاں چیز کو اپنی ہتھیلی میں دبا کر نچوڑ اور اس سے حرف ہمزہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–16
ترکیب : فیدھنون عطف علی تدھن داخل فی حیزلووھو مبتداء محذوف ای فھم یدھنون و جواب لومحذوف وکذا مفعول ودّوا ای ودوا اوھانک لوتدھن فیدھنون ویمکن ان یکون فیدھنون مع المبتداء المحذوف جواب لووالشرط والجزاء الجملۃ مفعول ودوا وفی بعض المصاحف فید ھنوا بحذف النون علی انہ جواب التمنی المفھوم من ودوا ان کان الخ بالفتح مصدریۃ متعلق بقولہ ولاتطع ای لاتطع من ھذہ مثالبہ لان کان متمولا مستظہرا بالبنین۔ ھذا قول الفراء والزجاج و قریٔ ان بالکسر علی الشرط دجواب الشرط محذوف دل علیہ اذاتتلٰی ای ان کان ذومال یکفراولاتطع ایھا المخاطب کل حلاف شارطایسارہ اذاشرط قال جوابہ۔
تفسیر : اول بار آنحضرت ﷺ کو کفار کی اطاعت سے منع…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–14
وَلاَ تُطِعْ کُلَّ حَلاَّ فٍ مَّھِیْنٍ ۔ ھَمَّازٍ مَّشَّآئٍ م بِنَمِیْمٍ ۔ مَّـنَّاعٍ لِّلْخَیْرِ مُعْتَدٍ اَثِیْمٍ ۔ عُتُلٍّ م بَعْدَ ذٰلِکَ زَنِیْمٍ ۔ اَنْ کَانَ ذَا مَالٍ وَّ بَنِیْنَ ۔ (القلم : 10 تا 14)
(اور آپ ہرگز بات نہ سنیں بہت قسمیں کھانے والے ذلیل آدمی کی۔ اشارہ باز چغلیاں کھانے والے، لگائی بجھائی کرنے والے۔ بھلائی سے روکنے والے، حد سے تجاوز کرنے والے، حق مارنے والے کی۔ بہت سنگدل مزیدبرآں بداصل کی۔ اس وجہ سے کہ وہ بہت مال و اولاد والا ہے۔ )
مکذبین کی قیادت کا اصل چہرہ دکھایا گیا ہے
وَلاَ تُطِعْ کُلَّ حَلاَّ فٍ مَّھِیْنٍ … اس سے پہلے سابقہ سے پیوستہ آیت میں آنحضرت ﷺ سے فرمایا گیا کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–16
فہم القرآن
ربط کلام : اہل مکہ قرآن مجید کے دلائل کا جواب نہ پا کر آپ ﷺ کو مجنون کہتے تھے اس موقع پر ان کے اس الزام کا صرف یہ جواب دیا گیا کہ عنقریب وقت آئے گا کہ جب یہ دیکھ لیں گے کہ مجنون کون ہے۔ آپ ﷺ کو حقیقت بتلانے اور تسلی دینے کے لیے ارشاد ہوا کہ آپ کا رب خوب جانتا ہے کہ کون اس کے راستے سے بھٹک گیا اور کون ہدایت یافتہ ہے۔ لہٰذا آپ کو جھوٹے لوگوں کے پیچھے لگنے کی بجائے اپنا کام پوری مستعدی کے ساتھ جاری رکھنا چاہیے اور اس میں کسی قسم کی مداہنت اختیار نہیں کرنی چاہیے۔
مفسرین کا خیال ہے کہ یہ آیات ولید بن مغیرہ، اسود بن یغوث اور اخنس بن شریک میں سے کسی ایک کے بارے میں نازل ہوئیں کیونکہ قرآن…
Read the full tafseer →1 1 : ھَمَّا زٍ (طعنہ زن) عیب جو، طعنہ مارنے والا۔ غیبت کرنے والے۔ مَّشَّآئٍم بِنَمِیْمٍ (چغلیاں لگاتا پھرتا ہو) ایک قوم کی بات دوسرے لوگوں کو فساد و چغلی کے طور پر نقل کرنے والا۔ النمیم والنمیمہ دونوں کا معنی چغلی ہے۔
Read the full tafseer →10 ۔” ولا تطع کل حلاف “ کثرت سے جھوٹی قسمیں اٹھانے والا۔ مقاتل (رح) فرماتے ہیں یعنی ولید بن مغیرہ۔ اور کہا گیا ہے اسود بن عبدیغوث اور عطا (رح) فرماتے ہیں اخنس بن شریق ” مھین “ کمزور حقیر۔ کہا گیا ہے وہ فعیل کا وزن ہے ” مھانۃ “ سے اور وہ کم رائے اور کم تمیز والا ہونا۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں بڑا جھوٹا۔ اور یہ پہلے کے قریب ہے اس لئے کہ انسان اپنے آپ کو ذلیل کرنے کے لئے جھوٹ بولتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–16
8۔ 16۔ اوپر ذکر تھا کہ مکہ کے مشرکوں میں سے کوئی شخص اگر آداب دنیا کے برخلاف کچھ کہے تو باقتضا حسن اخلاق اس سے درگزر بہتر ہے ان آیتوں میں اس کی صراحت فرمائی کہ یہ مشرک لوگ تو یہ چاہتے ہیں کہ ان کو شرک پر اڑے رہنے سے کوئی نہ روکے تو وہ بھی مسلمانوں کی ایذا کم کردیں لیکن اللہ تعالیٰ کو اصلاح دین منظور ہے اس لئے دین کی خرابی کی کوئی بات ان میں سے کوئی شخص کہے تو وہ ہرگز نہ سننی جائے اور اس کے سننے میں کسی طرح کی مدارات ان لوگوں کے ساتھ نہ برتی جائے وہ دین کی خرابی کی باتیں ایسی ہی ہیں جیسے ان لوگوں نے ایک یہ بات کہی تھی کہ کچھ دنوں تک مسلمان ہمارے بتوں کی بڑائی مان لیں تو ہم بھی اتنے ہی دنوں تک…
Read the full tafseer →(ھماز) یعنی جو لوگوں کی بہت زیادہ عیب چینی کرتا ہے اور غیبت اور استہزا کے ذریعے سے طعنہ زنی کرتا ہے۔ (مشآء بنمیم) یعنی لوگوں کے درمیان چغل خوری کرتا پھرتا ہے، چغل خوری یہ ہے کہ لوگوں کے درمیان فساد ڈالنے اور عداوت اور بغض پیدا کرنے کی غرض سے ایک کی بات دوسرے تک پہنچائی جائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
قول باری ہے (ھماز مشاء بنمیم، طعنے دیتا ہے، چغلیاں کھاتا پھرتا ہے) یعنی لوگوں کی عزت وآبرو کے بارے میں سخت زبان درازی کرنے والا اور ان پر ایسی باتوں کا عیب دھرنے والا جوان کے اندر موجود نہ ہوں۔ قول باری (مشاء بنمیم) سے وہ شخص مراد ہے، جو ایک کی بات دوسرے تک پہنچاتا ہو مقصد اس کا یہ ہو کہ اس طرح لگائی بجھائی کرکے لوگوں کو آپس میں لڑا دے۔ حضور ﷺ کا ارشاد ہے (لا یدخل الجنۃ قتات) چغلخور جنت میں داخل نہیں ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
9 ۔ خیر سے روکنے والے کی پیروی سے ممانعت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جو روکنے والا ہو خیر سے۔ الخیر کا لفظ چونکہ بھلائی کے لئے بھی آتا ہے اور مال کے لئے بھی، اور ایسا بےایمان و بےضمیر شخص چونکہ ان دونوں ہی سے روکتا ہے، اس لئے ہم نے ترجمہ کے اندر لفظ خیر ہی کو اختیار کیا ہے تاکہ وہ دونوں معنوں کو عام و شامل رہے، اہل بدعت کے ایک بڑے مشہور و معروف تحریف پسند نے اپنی بدعت پرستی اور تحریف پسندی کی بناء پر یہاں اس طرح گل فشانی کی ہے کہ آج بھی بعض لوگ جوئے شراب اور سینما سے نہیں روکتے ہاں میلاد شریف بزرگان دین کا ختم انہیں بہت کھٹکتا ہے، یہ ہے منع خیر (بلفظہ) فانا للہ وانا الیہ راجعون بدعت کے مارے ہوئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–16
رسول کریم ﷺ کا خلق عظیم اور کفار کی اطاعت سے بچنے کا حکم
تشریح : جیسا کہ پہلے بھی سورتوں میں مختلف چیزوں کی قسم مختلف چیزوں کے صحیح ثابت کرنے کے لیے کھائی گئی ہے تو یہاں نبی پاک ﷺ کے حسن کردار اور صفات کے بلند پایہ ہونے کے لیے قلم و قرآن کی قسم کھائی گئی ہے۔
آپ ﷺ تو مجسم صفات ہیں قرآن و احادیث میں جگـہ جگہ آپ ﷺ کی جملہ صفات کا ذکر بڑے مستند حوالوں سے کیا گیا ہے۔ کیوں نہ ہو آپ ﷺ دنیا کے بہترین انسان اور پیغمبر ہیں آپ ﷺ رحمت حیا، جودوسخا، وفا، صبر، زہد وتقویٰ حسن سلوک اور حسن تادیب کے لحاظ سے بلکہ ہر لحاظ سے بےمثال ہیں آپ ﷺ کو انسان کامل ہونے کا رتبہ حاصل ہے۔
آپ ﷺ محسن انسانیت اور رحمۃ للعٰلمین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–33
آیات 1 تا 23۔
اسرار ومعارف۔
قسم ہے قلم کی اور جو کچھ قلم سے لکھاجاتا ہے یعنی آپ ﷺ نے امی ہونے کے باوجود علم کے وہ دریابہائے کہ خود قلم اور اس کی تحریر آپ کے کامل عقل مند اور بےمثال صاحب خرد ہونے پر دال ہے۔
مجنون۔
جب آپ ﷺ نے اعلان نبوت فرما کر ساری انسانیت کو دعوت حق دے دی اور تمام انسانوں کے لیے ایک عقیدہ اور ایک نظام حیات تو مشرکین نے اسے معاذ اللہ پاگل پن قرار دیا کہ دنیا کی عظیم الشان حکومتیں ساری دنیا پہ ایک نظام رائج نہ کرسکیں۔ پھر آپ ﷺ امی ہیں ، اکیلے ہیں یا چند مسلمان جن کی بظاہر کوئی حیثیت نہیں پھر اقوام عالم کے مزاج الگ ، فکر الگ ، رنگ ونسل اپنی اپنی ، غذا الگ زبانیں الگ موسم اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–13
“6 ” یہ سب کافر کے وصف ہیں۔ آدمی اپنے اندر دیکھیے اور یہ خصلتیں چھوڑے۔ “ نیم “ (بد ذات) شاہ صاحب لکھتے ہیں ” بدنام یعنی بدی کرمشور “ یا جو غلط طور پر کسی خاندان کی طرف منسوب ہو اس لئے علمائے تفسیر نے اس کی تفسیر ” حرا مزادہ “ سے بھی کی ہے۔ روایات میں کئی لوگوں کے نام ہیں جنج کے بارے میں یہ آیات نازل ہوئیں (ابن کثیر)
Read the full tafseer →(68:11) ھماز : ھمز مصدر (باب نصر، ضرب) سے ۔ بڑا عیب گو۔ عیب جو، طعن کرنے والا۔ بطور طعن آنکھ سے اشارہ کرنا۔ ھمز الشیطین شیطانی وسوسہ۔ ھامز عیب چین۔ چغل خور۔
مشاء بہت چلنے والا۔ مشی سے مبالغہ کا صیغہ۔
بنمیم : ب تعدیہ کا۔ نمیم مصدر واسم ۔ چغلی کھانا۔ مشاء بنمیم وہ شخص وج بڑی تندہی اور زور شور سے ادھر اور ادھر کی ادھر چغلی کھاتا پھرے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–33
لغات القرآن۔
یسطرون۔ وہ لکھتے ہیں۔ ممنون۔ منقطع ہونے والا۔ ختم ہونے والا۔ تبصر۔ تو دیکھے گا۔ المفتون۔ دیوانہ۔ ودوا۔ وہ پسند کرتے ہیں۔ تدھن۔ تو خوشامد کرے۔ تو نمر پرے۔ حلاف۔ بہت قسمیں کھانے والا۔ مھین۔ ذلیل کمینہ۔ ھماز۔ طعنے دینے والا۔ مشائ۔ پھرنے والے۔ نیمیم۔ چغل خور۔ باتیں لگانے والے۔ مناع۔ روکنے والا۔ معتد۔ حد سے بڑھنے والا۔ اثیم۔ گناہ گار۔ عتل۔ اکھڑ۔ اجد۔ زنیم۔ بدنام۔ نسیم۔ ہم داغ دیں گے۔ الخرطوم۔ ناک۔ دم۔ سونڈ۔
تشریح : سورة القلم کا آغاز ” ن “ سے کیا گیا ہے جو حروف مقطعات میں سے ایک حروف ہے۔ اس کے کیا معنی ہیں ؟ اس کی تفصیل اس سے پہلی ابتدائی سورتوں میں آچکی ہے کہ ان حروف کے معنی اور مراد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–13
(ف 4) یعنی ان خصلتوں کے ساتھ بدنام اور سوائے عالم بھی ہے ، حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں کہ سب کافر کے وصف ہیں آدمی اپنے اندر دیکھے اور یہ خصلتیں چھوڑے، جب یہ آیت نازل ہوئی تو ولید بن مغیرہ نے اپنی ماں سے جاکرکہا کہ محمد ﷺ نے میرے حق میں دس باتیں فرمائیں ہیں نوکوتو میں جانتا ہوں کہ مجھ میں موجود ہیں لیکن دسویں بات اصل میں خطا ہونے کی اس کا حال مجھے معلوم نہیں یا تو مجھے سچ سچ بتادے ورنہ میں تیری گردن ماردوں گا، اس پر اس کی ماں نے کہا تیراباپ نامرد تھا مجھے اندیشہ ہوا کہ وہ جائے تو اس کا مال غیر لے جائیں گے تو میں نے چرواہے کو بلالیا تو اس سے ہے۔
فائدہ : ولیدنے نبی کریم ﷺ کی شان میں ایک جھوٹا کلمہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–15
[5] یعنی کفار چاہتے ہیں کہ تم بت پرستی کو برا نہ کہو تو یہ بھی تمہارے دین کی اس قدر مخالفت نہ کریں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–12
سورة القلم اور جنون وخرد
2: حضور ﷺ کے متعلق مکہ والوں کی رائے تھی ۔ کہ ان کو خلل دماغ ہے ۔ یورپ کے بعض متعصب مشنریوں نے بھی یہ کہا ہے ۔ کہ نبوت محض مرض ضرع کا دوسرا نام تھا ۔ معاذ اللہ مگر قرآن حکیم فرماتا ہے ۔ کہ قلم اور تحریر کا جتنا اندوختہ اس وقت فطرت نے محفوظ رکھا ہے ۔ اور جس قدر کہ اس میں اضافہ ہوسکتا ہے ۔ اس سارے ذخیرہ ادب و عظمت کو میزان کے چڑے میں رکھو ۔ اور اس کے بعد اس پیغام کو دوسرے پلڑے میں رکھو ۔ جس کو معاذ اللہ اس حکیم امی نے پیش فرمایا ہے ۔ جس کے متعلق موازنہ ، اس کے پیش کردہ پیغام کی برکات سے استفادہ کرتی رہے گی ۔ اور بس سرچشمہ معارف میں مکھی پیدا نہ ہوگی ۔ یہ کتنی بڑی فریب…
Read the full tafseer →(11) طعن اور تشنیع کرنے والا ہو اور چغل خوری اور چغلیاں کھاتا پھرتا ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–12
ف 1۔ آپ کا ڈھیلا ہونا یہ کہ بت پرستی کی مذمت نہ کریں اور ان کا ڈھیلا ہونا یہ کہ آپ کی مخالفت نہ کریں۔
Read the full tafseer →ایسا شخص لوگوں کو طعنے دیتا ہے اور چغلیاں کھاتا ہے
11 ؎ پہلی دو صفتوں کے ساتھ دو صفات کا اور ذکر کیا جا رہا ہے کہ وہ نہ صرف پہلی دو صفتوں کا حامل ہے بلکہ اس کے ساتھ وہ طعنہ زنی کرنے والا بھی ہے اور چغلی کھانے کی عادت بھی اس میں موجود ہے اور اس طرح بہت سی عادتیں اور بھی اس میں پائی جاتی ہیں جیسے (ھماز) صیغہ مبالغہ ھمز سے مصدر۔ بڑا عیب گو ، طعن وتشنیع کرنے والا۔ ھمز بطور طعن آنکھ سے اشارہ کرنا ، نچوڑنا ، چبھونا ، عیب گوئی کرنا ، دور کرنا ، مارنا ، کاٹنا ، توڑنا ، زمین پر پٹخنا ، ھمز ال شیطان شیطانی وسوسہ ، دیوانگی ھمزۃ لوگوں کے عیب کو ڈھونڈنا۔ ھامز عیب چیں ، چغل خور۔ (مشاء) اسم مبالغہ مشی مصدر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–15
لَا تُطِعْ كُلَّ حَلَّافٍ مَّهِينٍ ﴿10﴾ هَمَّازٍ مَّشَّاءٍ بِنَمِيمٍ ﴿11﴾ مَّنَّاعٍ لِّلْخَيْرِ مُعْتَدٍ أَثِيمٍ ﴿12﴾ عُتُلٍّ بَعْدَ ذَٰلِكَ زَنِيمٍ ﴿13﴾
(And do not obey any contemptible one who swears much, a slanderer who goes about with calumnies, one who prevents good, [ and who is ] transgressor, sinful, harsh, [ and ] after all that, notorious,.. _68:10-13)
The word zanim refers to 'a person whose legitimate birth from a father is not proved'. The person referred to in this verse was of doubtful birth or his lineage was uncertain.
The preceding verse prohibited any compromise with…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
6 The word mahin is used for a contemptible, degraded and mean person. This is indeed a necessary quality of a person who swears many oaths. He swears an oath for every minor thing because he himself has the feeling that the people take him for a liar and would not believe him until he swore an oath. For this reason he is not only degraded in his own eyes but commands no respect in society either.
Read the full tafseer →