Al-Qalam 68:12

Al-Qalam · from ayah 12

68:12

مَّنَّاعٍ لِّلْخَیْرِ مُعْتَدٍ اَثِیْمٍ ۟ۙمَّنَّاعٍ لِّلۡخَيۡرِ مُعۡتَدٍ اَثِيۡمٍۙ‏

مال میں بخل کرنے والا حد سے بڑھا ہوا بدکار

— Fateh Muhammad Jalandhari

A preventer of good, transgressing and sinful,

— Saheeh International

Juz 29 · Ruku 1 of surah · Ruku 3 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Qalam

All translations of 68:12

بھلائی سے روکتا ہے، ظلم و زیادتی میں حد سے گزر جانے والا ہے، سخت بد اعمال ہے، جفا کار ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

مال میں بخل کرنے والا حد سے بڑھا ہوا بدکار

— مولانا فتح محمد جالندہری

بھلائی سے روکنے واﻻ حد سے بڑھ جانے واﻻ گنہگار

— مولانا محمد جوناگڑہی

بھلائی سے روکنے والا، زیادتی کرنے والا، بد عمل ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

بھلائی سے بڑا روکنے والا حد سے بڑھنے والا گنہگار

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

(جو) بھلائی کے کام سے بہت روکنے والا بخیل، حد سے بڑھنے والا سرکش (اور) سخت گنہگار ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

خیر کو بہت روکنے والا، حد سے بڑھنے والا، سخت گناہ گار ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

بھلائی سے ہر دم روکنے والا، حد سے بڑھنے والا گنہگار ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

خیر سے روکنے والے، حد سے تجاوز کرنے والے ،

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

جو روکنے والا ہو خیر سے حد سے بڑھنے والا بڑا بدکار ہو

— مولانا اسحاق مدنی

خیر سے روکنے والا حد سے بڑھنے والا گنہگار۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

مال میں بخل کرنے والا حد سے بڑھا ہوا بد کار

— محترمہ رفعت اعجاز

the hinderer of good, the transgressor, the sinful;

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

one who prevents good, (and who is) transgressor, sinful,

— Muhammad Taqi Usmani

one who prevents good, (and who is) transgressor, sinful,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Hinderer of the good, transgressor, sinful,

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Hinderer of the good, transgressor, malefactor

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

A preventer of good, transgressing and sinful,

— Saheeh International

obstructing virtues, a sinful transgressor,

— Muhammad Sarwar

Forbidder of good, outstepping the limits, sinful,

— Muhammad Habib Shakir

Hinderer of the good, trespasser; sinner.

— Abdul Majid Daryabadi

(Habitually) hindering (all) good, transgressing beyond bounds, deep in sin,

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 68:12

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 8–16

زیادہ قسمیں کھانے والے زیادہ جھوٹ بولتے ہیں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ اے نبی ﷺ جو نعمتیں ہم نے تجھے دیں جو صراط مستقیم اور خلق عظیم ہم نے تجھے عطا فرمایا اب تجھے چاہئے کہ ہماری نہ ماننے والوں کی تو نہ مان، ان کی تو عین خوشی ہے کہ آپ ذرا بھی نرم پڑیں تو یہ کھل کھیلیں اور یہ بھی مطلب ہے کہ یہ چاہتے ہیں کہ آپ ان کے معبودان باطل کی طرف کچھ تو رخ کریں حق سے ذرا سا تو ادھر ادھر ہوجائیں، پھر فرماتا ہے کہ زیادہ قسمیں کھانے والے کمینے شخص کی بھی نہ مان چونکہ جھوٹے شخص کو اپنی ذلت اور کذب بیانی کے ظاہر ہوجانے کا ڈر رہتا ہے، اس لئے وہ قسمیں کھا کھا کر دوسرے کو اپنا یقین دلانا چاہتا ہے لگاتار قسموں…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْقَلَم 7 اصل میں مناع للخیر کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔ خیر عربی زبان میں مال کو بھی کہتے ہیں اور بھلائی کو بھی۔ اگر اس کو مال کے معنی میں لیا جائے تو مطلب یہ ہوگا کہ وہ سخت بخیل اور کنجوس آدمی ہے، کسی کو پھوٹی کوڑی دینے کا بھی روادار نہیں۔ اور اگر خیر کو نیکی اور بھلائی کے معنی میں لیا جائے تو اس کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ ہر نیک کام میں رکاوٹ ڈالتا ہے، اور یہ بھی کہ وہ اسلام سے لوگوں کو روکنے میں بہت سرگرم ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 10–16

وَلَا تُطِعْ كُلَّ حَلَّافٍ مَّهِيْنٍ 10 ۝ ۙهَمَّازٍ مَّشَّاۗءٍۢ بِنَمِيْمٍ 11 ۝ ۙمَّنَّاعٍ لِّلْخَيْرِ مُعْتَدٍ اَثِيْمٍ 12 ۝ ۙعُتُلٍّۢ بَعْدَ ذٰلِكَ زَنِيْم (آپ بات نہ مانیں ہر ایسے شخص کی جو بہت قسمیں کھانے والا ہو ذلیل ہو اور لوگوں پر عیب لگانے والا ہو غیبت کرنے والا ہو چغلخوری کرنے والا ہو، نیک کاموں سے لوگوں کو روکنے والا ظلم وجور میں حد سے بڑھنے والا ہو بکثرت گناہ کرنے والا اور بہت قسمیں کھانے والا کج خلق بخیل ہو اور ان سب صفات رذیلہ کے ساتھ وہ زنیم بھی ہو۔ زنیم کے معنے وہ شخص جس کا نسب کسی باپ سے ثابت نہ ہو۔ جس شخص کے یہ اوصاف بیان کئے گئے ہیں وہ ایسا ہی غیر ثابت النسب تھا۔ پہلی آیت…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

مناع، معتدی اور اثیم: اوپر کی آیات سے واضح ہوا کہ ان کی قیادت کی پوری عمارت جھوٹ، دوسروں کی تحقیر و توہین اور چغلی و نمامی پر قائم ہے۔ اب یہ واضح فرمایا جا رہا ہے کہ یہ نیکی کے کٹر دشمن، اللہ کے حدود کو توڑنے والے، بندوں کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے اور ان کو دبا بیٹھنے والے ہیں۔ ’مَنَّاعٍ لِّلْخَیْرِ‘ یوں تو عام ہے کہ وہ ہر نیکی اور بھلائی کی راہ میں ایک بھاری پتھر ہیں لیکن یہاں خاص اشارہ ان کی بخالت کی طرف ہے کہ وہ غرباء و مساکین کی امداد میں نہ خود کوڑی خرچ کرنے کا حوصلہ رکھتے اور نہ دوسروں کو خرچ کرتے دیکھ سکتے بلکہ چاہتے ہیں کہ دوسرے بھی انہی کی طرح مارگنج بنے بیٹھے رہیں تاکہ ان کی بخالت پر…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 9–12

9۔ 1 وہ چاہتے ہیں کہ تو ان کے معبودوں کے بارے میں نرم رویہ اختیار کرے تو وہ بھی تیرے بارے میں نرم رویہ اختیار کریں باطل پرست اپنی باطل پرستی کو چھوڑنے میں ڈھیلے ہوجائیں گے۔ اس لئے حق میں خوشامد، حکمت، تبلیغ اور کار نبوت کے لئے سخت نقصان دہ ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 10–13

4: جو کافر لوگ آنحضرت ﷺ کی مخالفت میں پیش پیش تھے، اور آپ کو اپنے دین کی تبلیغ سے ہٹانا چاہتے تھے، ان میں سے کئی لوگ ایسے تھے جن میں وہ اخلاقی خرابیاں پائی جاتی تھیں جن کا تذکرہ آیات 10 تا 12 میں فرمایا گیا ہے۔ بعض مفسرین نے ایسے افراد کا نام بھی لیا ہے کہ وہ اخنس بن شریق، اسود بن عبد یغوث یا ولید بن مغیرہ تھے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 10–13

اب رسول اللہ ﷺ کو یہ حکم دیا جاتا ہے کہ ان میں سے ایک متعین شخص بڑاچرب زبان ہے ، اس کی کسی بات کو تسلیم نہ کریں۔ یہاں قرآن کریم نے اپنے مخصوص انداز میں اس کا نام نہیں لیا ، لیکن اس کی تمام گھٹیا صفات کو گنوادیا گیا ، جو اس شخص کے اندر پائی جاتی تھیں۔ اس شخص کو نہایت ذلت اور حقارت کے ساتھ دھمکی دی جاتی ہے : ولا تطع .................... الخرطوم (61) (86 : 01 تا 61) ” ہرگز نہ دبو کسی ایسے شخص سے جو بہت قسمیں کھانے والا بےوقعت آدمی ہے ، طعنے دیتا ہے ، چغلیاں کھاتا پھرتا ہے ، بھلائی سے روکتا ہے ، ظلم و زیادتی میں حد سے گزر جانے والا ہے ، سخت بداعمال ہے ، جفاکار ہے اور ان سب عیوب کے ساتھ بداصل ہے ،…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 11–13

11 یعنی ان خصلتوں کے ساتھ بدنام اور رسوائے عالم بھی ہے حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں " کہ یہ سب کافر کے وصف ہیں آدمی اپنے اندر دیکھے اور یہ خصلتیں چھوڑے۔ " (تنبیہ) " زنیم " کے معنی بعض سلف کے نزدیک ولد الزنا اور حرام زادے کے ہیں۔ جس کافر کی نسبت یہ آیتیں نازل ہوئیں اور ایسا ہی تھا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 10–12

آیت 10{ وَلَا تُطِعْ کُلَّ حَلَّافٍ مَّہِیْنٍ۔ } ”اور آپ ﷺ مت مانیے کسی ایسے شخص کی بات جو بہت قسمیں کھانے والا انتہائی گھٹیا ہے۔“ ان دونوں خصوصیات کا آپس میں فطری تعلق ہے۔ اپنی شخصیت کے ہلکے پن کی تلافی کرنے کے لیے بات بات پر قسمیں کھانا ہر گھٹیا آدمی کی ضرورت ہوتی ہے۔ لفظ ”مَہِیْن“ ذلیل و حقیر اور گھٹیا آدمی کے لیے بولا جاتا ہے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

10 خیر کے معنی مال و دولت بھی ہے اور ہر بھلائی کا کام بھی۔ پہلی صورت میں معنی یہ ہوتا کہ وہ خود بھی کنجوس اور بخیل ہے اور دوسروں کو بھی ایسا ہی سبق دیتا ہے اور دوسرے معنی کے لحاظ سے اس کا مطلب یہ ہوگا کہ وہ ہر بھلائی کے کام سے خود بھی رکتا ہے دوسروں کو بھی روکتا رہتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 9–14

8۔ یعنی ایسا نہ ہونے پائے کہ آپ اس خیال سے کہ فلاں شخص سے اس بناء پر کہ وہ صاحب وجاہت اور صاحب اثر ہے، باوجود اس کی ان ساری خباثتوں کے اشتراک عمل کرلینا بھی مصلحت خیال کرنے لگیں۔ (آیت) ” ان کان “۔ ان الفاظ کا تعلق آیت ماقبل کے ابتدائی لفظ ولا تطع سے ہے۔ متعلق بقولہ ولا تطع (مدارک) بعض نے یہ ترکیب بھی صحیح قرار دی ہے کہ ان کان کے قبل یکفر یا یجحد محذوف ہے اور ان کان اس سے متعلق اس صورت میں معنی یہ ہوں گے کہ وہ خبیث کفر و انکار اسی گھمنڈ میں آکر کرتا ہے کہ وہ دولت مند اور صاحب اولاد کثیر ہے۔ آیت اپنے عموم مفہوم کے لحاظ سے تو ہر خبیث ورذیل خصائل والے کافر معاند کے حق میں عام ہے۔ لیکن شان نزول کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 10–16

ولاتطع کل حلاف مھین (الآیۃ) پہلی آیت میں عام کفار کی بات نہ ماننے اور دین کے معاملہ میں ان کی وجہ سے کوئی مداہنت نہ کرنے کا عام حکم تھا، اس آیت میں ایک خاص شریر کافر ولید بن مغیرہ کی صفات رذیلہ بیان کر کے اس سے اعراض کرنے اور اس کی بات نہ ماننے کا خصوصی حکم دیا گیا ہے، اس لئے کہ حق بات میں مداہنت، حکمت تبلیغ کے لئے سخت نقصان دہ ہے، مذکورہ آیت میں جو نو اوصاف رذیلہ بیان کئے گئے ہیں ان کے بارے میں راجح قول تو یہی ہے کہ یہ ولید بن مغیرہ کے اوصاف ہیں اس کے علاوہ بھی کئی اقوال ہیں، کسی نے ان اوصاف کا مصداق اسود بن عبد یغوث کو اور کسی نے اخنس بن شریق کو قرار دیا ہے، تفسیر زاہدی وغیرہ میں ہے کہ ولید…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

مناع للخیر . ایمان ‘ راہ خدا میں صرف ‘ نیک کام۔ غرض ہر چیز سے لوگوں کو روکنے والا۔ معتد . ظلم میں حد سے بڑھا ہوا۔ اثیم . بڑا گناہگار۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 8–12

(8۔ 12) اور آپ خصوصا ولید بن مغیرہ مخزومی کا کہنا نہ مانیے جو کہ بہت جھوٹی قسمیں کھانے والا وہ دین خداوندی میں ذلیل ہو، طعنہ دینے والا، آتے جاتے لوگوں سے غیبت کرنے والا، وہ لوگوں کے درمیان چغلیاں لگاتا پھرتا ہو تاکہ ان کے درمیان فساد برپا کرے۔ اپنی اولاد اور کنبہ قبیلہ کو دین اسلام سے روکتا ہو حق سے اعتدال کرنے والا اور ان پر ظلم کرنے والا ہو فاجر ہو، جھوٹ اور ؟ شان نزول : وَلَا تُطِعْ كُلَّ حَلَّافٍ مَّهِيْنٍ (الخ) ابن ابی حاتم نے سدی سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا ہے کہ یہ آیت اخنس بن شریق کے بارے میں اتری ہے۔ ابن منذر نے کلبی سے اسی طرح روایت کیا ہے۔ اور ابن ابی حاتم نے مجاہد سے روایت کیا…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

مَّنَّاعٍ لِّلْخَیْرِ مُعْتَدٍ اَثِیْمٍ : ظلم کی دو قسمیں ہیں ، پہلی قسم کسی کا حق جو آدمی کے ذمے ہو روک لینا ، ادا نہ کرنا اور دوسری قسم کسی پر زیادتی کرنا۔ ”مناع للخیر“ میں پہلی قسم مبالغے کے ساتھ پائی جاتی ہے اور ”معتد“ میں دوسری۔ ”اثیم“ کا ذکر اس کے ساتھ اس طرح ہے جس طرح ”ولا تعاونو ا علی الاثم والعدوان“ (اور گناہ اور زیادتی پر ایک دوسرے کی مدد نہ کرو) میں ہے۔ (دیکھئے مائدہ : 2)

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

امام شعبی، سدی اور ابن اسحاق کے قول میں احنس بن شریق مراد ہے (4) ۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : مراد اسود بن عبد یغوث یا عبدالرحمٰن بن اسود ہے، یہ مجاہد کا قول ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے، مراد ولید بن مغیرہ ہے (5) ۔ اس نے نبی کریم ﷺ کو ملا کی پیشکش کی اور اس نیق سم اٹھائی کہ اگر آپ ﷺ دین سے رجوع کرلیں تو وہ یہ مال انہیں دیگ ا، یہ مقاتل کا قول ہے۔ حضتر ابن عباس نے ہا، مراد ابوجہل بن ہشام ہے۔ حلا سے مراد بہت زیادہ قسمیں اٹھانے والا۔ مہین سے مراد جس کا دل کمزور ہو، یہ مجاہد سے مروی ہے۔ حضرت ابن عباس نے کہا، مراد سخت جھوٹا اور جھوٹ بولنے والا ذلیل ہوتا ہے (6) ایک قول یہ کیا گیا ہے، شر میں بہت زیادہ آگے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 11–12

6۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ولا تطع کل حلاف مہین میں مہین سے مراد ہے بہت فساد کرنے والا ” ہماز “ جو لوگوں کے گوشت کھاتا ہے یعنی چغل خور۔ آیت مناع للخیر۔ خیر سے روکنے والا جو خیر اور نیکی نہ کرتا ہو۔ معتد حسد سے بڑھا ہوا یعنی جو اپنے قول اور عمل میں حد سے تجاوز کرنے والا ہو۔” اثیم “ بڑا گنہگار اپنے رب کا ” عتل “ یعنی فاخر آدمی جو انتہائی کمینہ ہو اور ہم کو ذکر کیا گیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ قیامت قائم نہ ہوگی یہاں تک کہ فحش بات کرنے والا اور باتکلف فحش کہنے والا اور برا پڑوسی اور قطع رحمی ظاہر نہ ہوگی۔

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[مَّنَّاعٍ لِّلْخَيْرِ : بہت منع کرنے والا کسی بھی بھلائی سے ][ مُعْتَدٍ : زیادتی کرنے والا ][ اَثِيْمٍ : پکا گنہگار ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 8–16

آپ کی تکذیب کرنے والوں کی بات نہ مانیے، وہ آپ سے مداہنت کے خواہاں ہیں یہ نو آیات کا ترجمہ ہے ان میں سے پہلی دو آیتوں میں یہ فرمایا کہ آپ تکذیب کرنے والوں کی بات نہ مانیے وہ چاہتے ہیں کہ آپ کچھ نرم پڑجائیں تو وہ بھی آپ کے معاملہ میں نرمی اختیار کرلیں، اہل باطل کا یہ طریقہ رہا ہے کہ خود تو حق کی طرف جھکتے نہیں ان کی پہلی کوشش یہ ہوتی ہے کہ داعیان حق کو دعوت دیں کہ تم اپنی دعوت چھوڑ دو اور ہمارے کفر و گمراہی میں شریک ہوجاؤ، جب اس پر قابو نہیں چلتا تو کہتے ہیں کہ اچھا آپ کچھ نرم پڑجائیں اپنی دعوت اور دعوت کے کاموں میں نرمی اختیار کرلیں ہم بھی اپنی مخالفت میں اور سختی میں کمی کردیں گے رسول اللہ ﷺ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–16

بیان عظمت رسول اکرم ﷺ وتلقین صبر و استقامت : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” ن والقلم وما یسطرون ........ الی .......... سنسمہ علی الخرطوم “۔ (ربط) گزشتہ سورت میں خداوند عالم کی خالقیت کے دلائل ذکر کئے گئے اور یہ کہ اس کی قدرت کائنات کو محیط ہے اس کے احاطہ علم وقدرت سے کوئی مجرم نہیں نکل سکتا تو اب اس سورت میں آنحضرت ﷺ کی رسالت ونبوت کو ثابت فرمایا گیا اور یہ کہ آپ ﷺ کی شان میں گستاخی کرنے والے مجرمین خدا کے عذاب سے ہرگز نہیں بچ سکتے اور جو کچھ وہ آپ ﷺ پر اعتراض کرتے ہیں وہ سب لغو اور بےہودہ باتیں ہیں کوئی صحیح العقل انسان ایسی بےہودہ باتیں تصور بھی نہیں کرسکتا ارشاد فرمایا۔ ن۔ خدا تعالیٰ ہی اس کی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 10–14

7:۔ ” ولا تطع کل حلاف “ اعادہ صیغہ نہی بعد عہد کی وجہ سے ہے۔ ” حلاف “ بات بات پر جھوٹی قسمیں کھانے والا دنیوی کاموں میں بھی اور دینی امور میں بھی مثلاً غیر اللہ کو پکارتا ہے اور پھر قسمیں کھاتا ہے کہ میں اپنے فلاں معبود کو پکارا تھا اس لیے میرا کام ہوگیا۔ ” مھین “ گھٹیاں اور پست ذہنیت رکھنے والا۔ ” ھماز “ اہل توحید کی عیب چینی کرنے والا۔ ” مشاء بنمیم “ اہل توحید کی چغلی کھانے والا۔ ” مناع للخیر “ بھلائی سے روکنے والا۔ ” معتد “ حد سے گذرنے والا۔ ” اثیم “ بہت بڑا مجرم۔ ” عتل “ بد زبان، کج خلق۔ ” یعد ذلک “ یعنی اس کے علاوہ ” زنیم “ شرو فساد میں معروف۔ من الروح والبیضاوی۔ یہ مکذبین کی صفات ہیں جن…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 8–16

گذشتہ سے پیوستہ (ربط) : جب اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کو نبوت اور رسالت عطا فرمائی اور آپ نے آپ کے ساتھیوں نے وضو کرنا شروع کیا ، نماز پڑھنا شروع کیا تو مکہ کے مشرک سرداروں نے یہ کہنا شروع کردیا کہ العیاذ باللہ یہ لوگ مجنون ہوگئے ہیں۔ پاگلوں کی سی حرکتیں کرتے ہیں۔ ان مشرکین میں ولید بن مغیرہ ، ابوجہل ، اخنس بن شرق وغیرہ زیادہ پیش پیش تھے۔ یہ حضور ﷺ کے بارے میں مجنون کا لافظ استعمال کرتے تھے کہ انکے دماغ ٹھکانے نہیں رہے۔ عجیب و غریب حرکتیں کرتے ہیں۔ شروع سورة میں اللہ تعالیٰ نے اس الزام کا جواب دیا اور ثابت کیا کہ حضور ﷺ اللہ کے فضل و احسان سے دیوانے نہیں ہے۔ بلکہ آپ تو بلند اخلاق پر ہیں۔ اور…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

مَّنَّاعٍ لِّلْخَيْرِ مُعْتَدٍ اَثِيْمٍ۝ 12 ۙ منع المنع يقال في ضدّ العطيّة، يقال : رجل مانع ومنّاع . أي : بخیل . قال اللہ تعالی: وَيَمْنَعُونَ الْماعُونَ [ الماعون/ 7] ، وقال : مَنَّاعٍ لِلْخَيْرِ [ ق/ 25] ، ويقال في الحماية، ومنه : مكان منیع، وقد منع وفلان ذو مَنَعَة . أي : عزیز ممتنع علی من يرومه . قال تعالی: أَلَمْ نَسْتَحْوِذْ عَلَيْكُمْ وَنَمْنَعْكُمْ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ [ النساء/ 141] ، وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنْ مَنَعَ مَساجِدَ اللَّهِ [ البقرة/ 114] ، ما مَنَعَكَ أَلَّا تَسْجُدَ إِذْ أَمَرْتُكَ [ الأعراف/ 12] أي : ما حملک ؟ وقیل : ما الذي صدّك وحملک علی ترک ذلک ؟ يقال : امرأة منیعة…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 9–16

ترکیب : فیدھنون عطف علی تدھن داخل فی حیزلووھو مبتداء محذوف ای فھم یدھنون و جواب لومحذوف وکذا مفعول ودّوا ای ودوا اوھانک لوتدھن فیدھنون ویمکن ان یکون فیدھنون مع المبتداء المحذوف جواب لووالشرط والجزاء الجملۃ مفعول ودوا وفی بعض المصاحف فید ھنوا بحذف النون علی انہ جواب التمنی المفھوم من ودوا ان کان الخ بالفتح مصدریۃ متعلق بقولہ ولاتطع ای لاتطع من ھذہ مثالبہ لان کان متمولا مستظہرا بالبنین۔ ھذا قول الفراء والزجاج و قریٔ ان بالکسر علی الشرط دجواب الشرط محذوف دل علیہ اذاتتلٰی ای ان کان ذومال یکفراولاتطع ایھا المخاطب کل حلاف شارطایسارہ اذاشرط قال جوابہ۔ تفسیر : اول بار آنحضرت ﷺ کو کفار کی اطاعت سے منع…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 10–14

وَلاَ تُطِعْ کُلَّ حَلاَّ فٍ مَّھِیْنٍ ۔ ھَمَّازٍ مَّشَّآئٍ م بِنَمِیْمٍ ۔ مَّـنَّاعٍ لِّلْخَیْرِ مُعْتَدٍ اَثِیْمٍ ۔ عُتُلٍّ م بَعْدَ ذٰلِکَ زَنِیْمٍ ۔ اَنْ کَانَ ذَا مَالٍ وَّ بَنِیْنَ ۔ (القلم : 10 تا 14) (اور آپ ہرگز بات نہ سنیں بہت قسمیں کھانے والے ذلیل آدمی کی۔ اشارہ باز چغلیاں کھانے والے، لگائی بجھائی کرنے والے۔ بھلائی سے روکنے والے، حد سے تجاوز کرنے والے، حق مارنے والے کی۔ بہت سنگدل مزیدبرآں بداصل کی۔ اس وجہ سے کہ وہ بہت مال و اولاد والا ہے۔ ) مکذبین کی قیادت کا اصل چہرہ دکھایا گیا ہے وَلاَ تُطِعْ کُلَّ حَلاَّ فٍ مَّھِیْنٍ … اس سے پہلے سابقہ سے پیوستہ آیت میں آنحضرت ﷺ سے فرمایا گیا کہ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 10–16

فہم القرآن ربط کلام : اہل مکہ قرآن مجید کے دلائل کا جواب نہ پا کر آپ ﷺ کو مجنون کہتے تھے اس موقع پر ان کے اس الزام کا صرف یہ جواب دیا گیا کہ عنقریب وقت آئے گا کہ جب یہ دیکھ لیں گے کہ مجنون کون ہے۔ آپ ﷺ کو حقیقت بتلانے اور تسلی دینے کے لیے ارشاد ہوا کہ آپ کا رب خوب جانتا ہے کہ کون اس کے راستے سے بھٹک گیا اور کون ہدایت یافتہ ہے۔ لہٰذا آپ کو جھوٹے لوگوں کے پیچھے لگنے کی بجائے اپنا کام پوری مستعدی کے ساتھ جاری رکھنا چاہیے اور اس میں کسی قسم کی مداہنت اختیار نہیں کرنی چاہیے۔ مفسرین کا خیال ہے کہ یہ آیات ولید بن مغیرہ، اسود بن یغوث اور اخنس بن شریک میں سے کسی ایک کے بارے میں نازل ہوئیں کیونکہ قرآن…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

12 : مَّنَّاعٍ لِّلْخَیْرِ (نیک کام سے روکنے والا ہو) بخیل ہو۔ الخیر سے مال مراد ہے۔ نمبر 2۔ اپنے اہل کو نیکی سے بہت روکنے والا اس صورت میں خیرؔ سے مراد اسلام ہے۔ اور یہ ولید بن المغیرۃ، مخرومی ہے جمہور علماء کا قول یہی ہے۔ اس کے دو بیٹے تھے وہ ان کو کہا کرتا تھا۔ جو تم میں سے مسلمان ہوگا میں اس کا خرچہ بند کردونگا۔ مُعْتَدٍ (حد سے گزرنے والا ہو) ظلم میں حدود کو پھاندے والا۔ اَثِیْمٍ (گناہوں کا کرنے والاہو) بہت گناہ کرنے والا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

11 ۔” ھماز “ غیبت کرنے والا لوگوں کے گوشت عیب نکالنے اور غیبت کرنے کے ذریعے کھاتا ہے اور حسن (رح) فرماتے ہیں یہ وہ شخص جو اپنے بھائی کے بارے میں مجلس میں آنکھ سے اشارے کرتا ہے۔ جیسے اللہ تعالیٰ کا قول ” ھمزۃ “ ہے ۔ ” مشاء بنمیم “ چغل خور لوگوں کے درمیان چغلیاں لگاتا پھرتا ہے تاکہ ان کے درمیان فساد ڈال دے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 8–16

8۔ 16۔ اوپر ذکر تھا کہ مکہ کے مشرکوں میں سے کوئی شخص اگر آداب دنیا کے برخلاف کچھ کہے تو باقتضا حسن اخلاق اس سے درگزر بہتر ہے ان آیتوں میں اس کی صراحت فرمائی کہ یہ مشرک لوگ تو یہ چاہتے ہیں کہ ان کو شرک پر اڑے رہنے سے کوئی نہ روکے تو وہ بھی مسلمانوں کی ایذا کم کردیں لیکن اللہ تعالیٰ کو اصلاح دین منظور ہے اس لئے دین کی خرابی کی کوئی بات ان میں سے کوئی شخص کہے تو وہ ہرگز نہ سننی جائے اور اس کے سننے میں کسی طرح کی مدارات ان لوگوں کے ساتھ نہ برتی جائے وہ دین کی خرابی کی باتیں ایسی ہی ہیں جیسے ان لوگوں نے ایک یہ بات کہی تھی کہ کچھ دنوں تک مسلمان ہمارے بتوں کی بڑائی مان لیں تو ہم بھی اتنے ہی دنوں تک…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(مناع للخیر) بھلائی، یعنی نفقات واجبہ، کفارہ اور زکوۃ وغیرہ، جس کا قیام اس پر لازم تھا، سے منع کرنے والا ہے (معتد) مخلوق پر زیادتی کرنے والا، لوگوں کی جان ومال اور ان کی ناموس پر ظلم کرنے والا (اثیم) یعنی اللہ کے حقوق سے متعلق بہت زیادہ گناہوں کا ارتکاب کرنے والا۔

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 11–12

قول باری ہے (ھماز مشاء بنمیم، طعنے دیتا ہے، چغلیاں کھاتا پھرتا ہے) یعنی لوگوں کی عزت وآبرو کے بارے میں سخت زبان درازی کرنے والا اور ان پر ایسی باتوں کا عیب دھرنے والا جوان کے اندر موجود نہ ہوں۔ قول باری (مشاء بنمیم) سے وہ شخص مراد ہے، جو ایک کی بات دوسرے تک پہنچاتا ہو مقصد اس کا یہ ہو کہ اس طرح لگائی بجھائی کرکے لوگوں کو آپس میں لڑا دے۔ حضور ﷺ کا ارشاد ہے (لا یدخل الجنۃ قتات) چغلخور جنت میں داخل نہیں ہوگا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 11–12

9 ۔ خیر سے روکنے والے کی پیروی سے ممانعت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جو روکنے والا ہو خیر سے۔ الخیر کا لفظ چونکہ بھلائی کے لئے بھی آتا ہے اور مال کے لئے بھی، اور ایسا بےایمان و بےضمیر شخص چونکہ ان دونوں ہی سے روکتا ہے، اس لئے ہم نے ترجمہ کے اندر لفظ خیر ہی کو اختیار کیا ہے تاکہ وہ دونوں معنوں کو عام و شامل رہے، اہل بدعت کے ایک بڑے مشہور و معروف تحریف پسند نے اپنی بدعت پرستی اور تحریف پسندی کی بناء پر یہاں اس طرح گل فشانی کی ہے کہ آج بھی بعض لوگ جوئے شراب اور سینما سے نہیں روکتے ہاں میلاد شریف بزرگان دین کا ختم انہیں بہت کھٹکتا ہے، یہ ہے منع خیر (بلفظہ) فانا للہ وانا الیہ راجعون بدعت کے مارے ہوئے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–16

رسول کریم ﷺ کا خلق عظیم اور کفار کی اطاعت سے بچنے کا حکم تشریح : جیسا کہ پہلے بھی سورتوں میں مختلف چیزوں کی قسم مختلف چیزوں کے صحیح ثابت کرنے کے لیے کھائی گئی ہے تو یہاں نبی پاک ﷺ کے حسن کردار اور صفات کے بلند پایہ ہونے کے لیے قلم و قرآن کی قسم کھائی گئی ہے۔ آپ ﷺ تو مجسم صفات ہیں قرآن و احادیث میں جگـہ جگہ آپ ﷺ کی جملہ صفات کا ذکر بڑے مستند حوالوں سے کیا گیا ہے۔ کیوں نہ ہو آپ ﷺ دنیا کے بہترین انسان اور پیغمبر ہیں آپ ﷺ رحمت حیا، جودوسخا، وفا، صبر، زہد وتقویٰ حسن سلوک اور حسن تادیب کے لحاظ سے بلکہ ہر لحاظ سے بےمثال ہیں آپ ﷺ کو انسان کامل ہونے کا رتبہ حاصل ہے۔ آپ ﷺ محسن انسانیت اور رحمۃ للعٰلمین…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–33

آیات 1 تا 23۔ اسرار ومعارف۔ قسم ہے قلم کی اور جو کچھ قلم سے لکھاجاتا ہے یعنی آپ ﷺ نے امی ہونے کے باوجود علم کے وہ دریابہائے کہ خود قلم اور اس کی تحریر آپ کے کامل عقل مند اور بےمثال صاحب خرد ہونے پر دال ہے۔ مجنون۔ جب آپ ﷺ نے اعلان نبوت فرما کر ساری انسانیت کو دعوت حق دے دی اور تمام انسانوں کے لیے ایک عقیدہ اور ایک نظام حیات تو مشرکین نے اسے معاذ اللہ پاگل پن قرار دیا کہ دنیا کی عظیم الشان حکومتیں ساری دنیا پہ ایک نظام رائج نہ کرسکیں۔ پھر آپ ﷺ امی ہیں ، اکیلے ہیں یا چند مسلمان جن کی بظاہر کوئی حیثیت نہیں پھر اقوام عالم کے مزاج الگ ، فکر الگ ، رنگ ونسل اپنی اپنی ، غذا الگ زبانیں الگ موسم اور…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 10–13

“6 ” یہ سب کافر کے وصف ہیں۔ آدمی اپنے اندر دیکھیے اور یہ خصلتیں چھوڑے۔ “ نیم “ (بد ذات) شاہ صاحب لکھتے ہیں ” بدنام یعنی بدی کرمشور “ یا جو غلط طور پر کسی خاندان کی طرف منسوب ہو اس لئے علمائے تفسیر نے اس کی تفسیر ” حرا مزادہ “ سے بھی کی ہے۔ روایات میں کئی لوگوں کے نام ہیں جنج کے بارے میں یہ آیات نازل ہوئیں (ابن کثیر)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(68:12) مناع للخیر : مناع منع سے بالغہ کا صیغہ۔ نیکی سے بہت منع کرنے والا ہر کارخیر سے روکنے والا۔ معتد اعتداء سے (باب افتعال سے مصدر اسم فاعل سے صیغہ واحد مذکر۔ حد سے آگے بڑھنے والا اصل میں معتدی تھا۔ اعتداء حدود حق سے ہٹ جانا۔ تجاوز کرنا۔ اسی سے تعدی دوسرے کی طرف تجاوز کرنا۔ اثیم : اثم (باب سمع ( مصدر سے۔ بروزن فعیل بمعنی فاعل گنہگار۔ اثم (مصدر) بمعنی برا کام کرنا۔ ناجائز کام کرنا۔ گناہ کرنا۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–33

لغات القرآن۔ یسطرون۔ وہ لکھتے ہیں۔ ممنون۔ منقطع ہونے والا۔ ختم ہونے والا۔ تبصر۔ تو دیکھے گا۔ المفتون۔ دیوانہ۔ ودوا۔ وہ پسند کرتے ہیں۔ تدھن۔ تو خوشامد کرے۔ تو نمر پرے۔ حلاف۔ بہت قسمیں کھانے والا۔ مھین۔ ذلیل کمینہ۔ ھماز۔ طعنے دینے والا۔ مشائ۔ پھرنے والے۔ نیمیم۔ چغل خور۔ باتیں لگانے والے۔ مناع۔ روکنے والا۔ معتد۔ حد سے بڑھنے والا۔ اثیم۔ گناہ گار۔ عتل۔ اکھڑ۔ اجد۔ زنیم۔ بدنام۔ نسیم۔ ہم داغ دیں گے۔ الخرطوم۔ ناک۔ دم۔ سونڈ۔ تشریح : سورة القلم کا آغاز ” ن “ سے کیا گیا ہے جو حروف مقطعات میں سے ایک حروف ہے۔ اس کے کیا معنی ہیں ؟ اس کی تفصیل اس سے پہلی ابتدائی سورتوں میں آچکی ہے کہ ان حروف کے معنی اور مراد…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 11–13

(ف 4) یعنی ان خصلتوں کے ساتھ بدنام اور سوائے عالم بھی ہے ، حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں کہ سب کافر کے وصف ہیں آدمی اپنے اندر دیکھے اور یہ خصلتیں چھوڑے، جب یہ آیت نازل ہوئی تو ولید بن مغیرہ نے اپنی ماں سے جاکرکہا کہ محمد ﷺ نے میرے حق میں دس باتیں فرمائیں ہیں نوکوتو میں جانتا ہوں کہ مجھ میں موجود ہیں لیکن دسویں بات اصل میں خطا ہونے کی اس کا حال مجھے معلوم نہیں یا تو مجھے سچ سچ بتادے ورنہ میں تیری گردن ماردوں گا، اس پر اس کی ماں نے کہا تیراباپ نامرد تھا مجھے اندیشہ ہوا کہ وہ جائے تو اس کا مال غیر لے جائیں گے تو میں نے چرواہے کو بلالیا تو اس سے ہے۔ فائدہ : ولیدنے نبی کریم ﷺ کی شان میں ایک جھوٹا کلمہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 9–15

[5] یعنی کفار چاہتے ہیں کہ تم بت پرستی کو برا نہ کہو تو یہ بھی تمہارے دین کی اس قدر مخالفت نہ کریں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 2–12

سورة القلم اور جنون وخرد 2: حضور ﷺ کے متعلق مکہ والوں کی رائے تھی ۔ کہ ان کو خلل دماغ ہے ۔ یورپ کے بعض متعصب مشنریوں نے بھی یہ کہا ہے ۔ کہ نبوت محض مرض ضرع کا دوسرا نام تھا ۔ معاذ اللہ مگر قرآن حکیم فرماتا ہے ۔ کہ قلم اور تحریر کا جتنا اندوختہ اس وقت فطرت نے محفوظ رکھا ہے ۔ اور جس قدر کہ اس میں اضافہ ہوسکتا ہے ۔ اس سارے ذخیرہ ادب و عظمت کو میزان کے چڑے میں رکھو ۔ اور اس کے بعد اس پیغام کو دوسرے پلڑے میں رکھو ۔ جس کو معاذ اللہ اس حکیم امی نے پیش فرمایا ہے ۔ جس کے متعلق موازنہ ، اس کے پیش کردہ پیغام کی برکات سے استفادہ کرتی رہے گی ۔ اور بس سرچشمہ معارف میں مکھی پیدا نہ ہوگی ۔ یہ کتنی بڑی فریب…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(12) بھلے اور نیک کاموں سے روکنے والا ہو حد سے بڑھ جانے والا ہو گناہوں کا ارتکاب کرنے والا گنہگار ہو۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 9–12

ف 1۔ آپ کا ڈھیلا ہونا یہ کہ بت پرستی کی مذمت نہ کریں اور ان کا ڈھیلا ہونا یہ کہ آپ کی مخالفت نہ کریں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

نیک کاموں سے منع کرنے والا اور حد سے بڑھا ہوا ہے 12 ؎ (مناع) صیغہ مبالغہ منع مصدر۔ معنی ہیں نیکی سے روکنے والا۔ مال روک کر رکھنے والا۔ بخیل۔ (مناع للخیر) بھلائی اور بہتری کے کاموں سے منع کرنے والا۔ (معتد) اسم فاعل واحد مذکر۔ اصل میں معتدی تھا اور اعتداء مصدر۔ حدود حق سے ہٹ جانا۔ تجاوز کرنا۔ (اثیم) جس میں طرح طرح کے گناہ ہوں اور ایک سے بڑھ کر ایک پایا جاتا ہو۔ اور اس طرح اس کی اب تک بیان ہونے والی صفات کی گنتی آٹھ ہوچکی ہے اور دو کا ذکر آنے والی آیت میں کیا جا رہا ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 10–15

لَا تُطِعْ كُلَّ حَلَّافٍ مَّهِينٍ ﴿10﴾ هَمَّازٍ مَّشَّاءٍ بِنَمِيمٍ ﴿11﴾ مَّنَّاعٍ لِّلْخَيْرِ‌ مُعْتَدٍ أَثِيمٍ ﴿12﴾ عُتُلٍّ بَعْدَ ذَٰلِكَ زَنِيمٍ ﴿13﴾ (And do not obey any contemptible one who swears much, a slanderer who goes about with calumnies, one who prevents good, [ and who is ] transgressor, sinful, harsh, [ and ] after all that, notorious,.. _68:10-13) The word zanim refers to 'a person whose legitimate birth from a father is not proved'. The person referred to in this verse was of doubtful birth or his lineage was uncertain. The preceding verse prohibited any compromise with…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

7 Khayr in Arabic is used both for wealth and for good. If it is taken in the meaning of wealth the, meaning would be that he is miserly and stingy; he would not even spend a farthing on anyone; and if khayr is taken in the meaning of goodness and virtue, it would mean that he creates a hindrance in every good work as . ell as that he is very active in hindering the people from accepting Islam. 8 The word `utul is used for a person who is stout and strong and greedy in eating and drinking and is also ill-mannered, quarrelsome and cruel at the same tune.

Read the full tafseer →