Al-Qalam 68:13

Al-Qalam · from ayah 13

68:13

عُتُلٍّ بَعْدَ ذٰلِكَ زَنِیْمٍ ۟ۙعُتُلٍّ ۢ بَعۡدَ ذٰلِكَ زَنِيۡمٍۙ

سخت خو اور اس کے علاوہ بدذات ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Cruel, moreover, and an illegitimate pretender.

— Saheeh International

Juz 29 · Ruku 1 of surah · Ruku 3 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Qalam

All translations of 68:13

اور اَن سب عیوب کے ساتھ بد اصل ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

سخت خو اور اس کے علاوہ بدذات ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

گردن کش پھر ساتھ ہی بے نسب ہو

— مولانا محمد جوناگڑہی

بد مزاج ہے اور اس کے علاوہ نچلے نسب والا بھی۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

درشت خُو اس سب پر طرہ یہ کہ اس کی اصل میں خطا

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

(جو) بد مزاج درُشت خو ہے، مزید برآں بد اَصل (بھی) ہے٭، ٭ یہ آیات ولید بن مغیرہ کے بارے میں نازل ہوئیں۔ حضرت عبد اﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہما فرماتے ہیں کہ جتنے ذِلت آمیز اَلقاب باری تعالیٰ نے اس بدبخت کو دئیے آج تک کلامِ اِلٰہی میں کسی اور کے لئے استعمال نہیں ہوئے۔ وجہ یہ تھی کہ اُس نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شانِ اَقدس میں گستاخی کی، جس پر غضبِ اِلٰہی بھڑک اٹھا۔ ولید نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان میں گستاخی کا ایک کلمہ بولا تھا، جواباً باری تعالیٰ نے اُس کے دس رذائل بیان کیے اور آخر میں نطفۂ حرام ہونا بھی ظاہر کر دیا، اور اس کی ماں نے بعد ازاں اِس اَمر کی بھی تصدیق کر دی۔ (تفسیر قرطبی، رازی، نسفی وغیرھم)

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

سخت مزاج ہے، اس کے علاوہ بدنام ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

بڑا اجڈ ہے اور ان باتوں کے علاوہ بداصل بھی ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

حق مارنے والے، سنگدل مزید برآں بےنسب کی۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

جو جفا کار اور اس سب کے علاوہ وہ بد اصل بھی ہو

— مولانا اسحاق مدنی

بالکل گنوار ہے اس کے بعد یہ کہ بداصل بھی ہے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

سخت خو اور بد نام بھی

— محترمہ رفعت اعجاز

the coarse-grained, and above all mean and ignoble;

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

harsh, (and) after all that, notorious,

— Muhammad Taqi Usmani

harsh, (and) after all that, notorious,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

`Utul, and moreover Zanim.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Cruel, moreover, and an illegitimate pretender.

— Saheeh International

ill-mannered, and moraly corrupt or that because he may possess wealth and children.

— Muhammad Sarwar

Ignoble, besides all that, base-born;

— Muhammad Habib Shakir

Gross, and therewithal ignoble-

— Abdul Majid Daryabadi

Violent (and cruel),- with all that, base-born,-

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 68:13

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 8–16

زیادہ قسمیں کھانے والے زیادہ جھوٹ بولتے ہیں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ اے نبی ﷺ جو نعمتیں ہم نے تجھے دیں جو صراط مستقیم اور خلق عظیم ہم نے تجھے عطا فرمایا اب تجھے چاہئے کہ ہماری نہ ماننے والوں کی تو نہ مان، ان کی تو عین خوشی ہے کہ آپ ذرا بھی نرم پڑیں تو یہ کھل کھیلیں اور یہ بھی مطلب ہے کہ یہ چاہتے ہیں کہ آپ ان کے معبودان باطل کی طرف کچھ تو رخ کریں حق سے ذرا سا تو ادھر ادھر ہوجائیں، پھر فرماتا ہے کہ زیادہ قسمیں کھانے والے کمینے شخص کی بھی نہ مان چونکہ جھوٹے شخص کو اپنی ذلت اور کذب بیانی کے ظاہر ہوجانے کا ڈر رہتا ہے، اس لئے وہ قسمیں کھا کھا کر دوسرے کو اپنا یقین دلانا چاہتا ہے لگاتار قسموں…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْقَلَم 8 اصل میں لفظ عتل استعمال ہوا ہے جو عربی زبان میں ایسے شخص کے لیے بولا جاتا ہے جو خوب ہٹا کٹا اور بہت کھانے پینے والا ہو، اور اس کے ساتھ نہایت بد خلق، جھگڑالو اور سفاک ہو۔ سورة الْقَلَم 9 اصل میں لفظ زنیم استعمال ہوا ہے۔ کلام عرب میں یہ لفظ اس ولدالزنا کے لیے بولا جاتا ہے جو دراصل ایک خاندان کا فرد نہ ہو مگر اس میں شامل ہوگیا ہو۔ سعید بن جبیر اور شعبی کہتے ہیں کہ یہ لفظ اس شخص کے لیے بھی بولا جاتا ہے جو لوگوں میں اپنے شر کی وجہ سے معروف و مشہور ہو۔ ان آیات میں جس شخص کے یہ اوصاف بیان کیے گئے ہیں اس کے بارے میں مفسرین کے اقوال مختلف ہیں۔ کسی نے کہا ہے کہ یہ شخص ولید بن مغیرہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 10–16

وَلَا تُطِعْ كُلَّ حَلَّافٍ مَّهِيْنٍ 10 ۝ ۙهَمَّازٍ مَّشَّاۗءٍۢ بِنَمِيْمٍ 11 ۝ ۙمَّنَّاعٍ لِّلْخَيْرِ مُعْتَدٍ اَثِيْمٍ 12 ۝ ۙعُتُلٍّۢ بَعْدَ ذٰلِكَ زَنِيْم (آپ بات نہ مانیں ہر ایسے شخص کی جو بہت قسمیں کھانے والا ہو ذلیل ہو اور لوگوں پر عیب لگانے والا ہو غیبت کرنے والا ہو چغلخوری کرنے والا ہو، نیک کاموں سے لوگوں کو روکنے والا ظلم وجور میں حد سے بڑھنے والا ہو بکثرت گناہ کرنے والا اور بہت قسمیں کھانے والا کج خلق بخیل ہو اور ان سب صفات رذیلہ کے ساتھ وہ زنیم بھی ہو۔ زنیم کے معنے وہ شخص جس کا نسب کسی باپ سے ثابت نہ ہو۔ جس شخص کے یہ اوصاف بیان کئے گئے ہیں وہ ایسا ہی غیر ثابت النسب تھا۔ پہلی آیت…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

’عُتُلٍّ‘ کے معنی سخت دل اور بے مروت کے ہیں۔ جو شخص بخیل ہو گا وہ لازماً سنگ دل بھی ہو گا۔ یہ گویا اوپر کے بیان کردہ کردار کا باطنی پہلو ہے۔ انہی لوگوں کے باب میں ارشاد ہوا ہے: ’اَرَءَ یْتَ الَّذِیْ یُکَذِّبُ بِالدِّیْنِ فَذٰلِکَ الَّذِیْ یَدُعُّ الْیَتِیْمَ‘ (الماعون ۱۰۷: ۱-۲) (ذرا دیکھو تو اس کو جو جزاء کو جھٹلاتا ہے۔ وہی ہے جو یتیموں کو دھکے دیتا ہے)۔ ’زنیم‘: ’بَعْدَ ذٰلِکَ زَنِیْمٍ‘۔ ’زنیم‘ کی وضاحت اہل لغت نے یوں کی ہے: ’الملحق یقوم لیس منھم ولا یحتاجون الیہ‘ (وہ شخص جو کسی قوم کے نسب میں شریک بن بیٹھے درآنحالیکہ نہ وہ ان میں سے ہو اور نہ اہل قوم اس کی کوئی ضرورت محسوس کرتے ہوں) یہ لفظ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

13۔ 1 یہ ان کافروں کی اخلاقی پستیوں کا ذکر ہے جن کی خاطر پیغمبر کو خوش آمد کرنے سے روکا جا رہا ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 10–13

4: جو کافر لوگ آنحضرت ﷺ کی مخالفت میں پیش پیش تھے، اور آپ کو اپنے دین کی تبلیغ سے ہٹانا چاہتے تھے، ان میں سے کئی لوگ ایسے تھے جن میں وہ اخلاقی خرابیاں پائی جاتی تھیں جن کا تذکرہ آیات 10 تا 12 میں فرمایا گیا ہے۔ بعض مفسرین نے ایسے افراد کا نام بھی لیا ہے کہ وہ اخنس بن شریق، اسود بن عبد یغوث یا ولید بن مغیرہ تھے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 10–13

اب رسول اللہ ﷺ کو یہ حکم دیا جاتا ہے کہ ان میں سے ایک متعین شخص بڑاچرب زبان ہے ، اس کی کسی بات کو تسلیم نہ کریں۔ یہاں قرآن کریم نے اپنے مخصوص انداز میں اس کا نام نہیں لیا ، لیکن اس کی تمام گھٹیا صفات کو گنوادیا گیا ، جو اس شخص کے اندر پائی جاتی تھیں۔ اس شخص کو نہایت ذلت اور حقارت کے ساتھ دھمکی دی جاتی ہے : ولا تطع .................... الخرطوم (61) (86 : 01 تا 61) ” ہرگز نہ دبو کسی ایسے شخص سے جو بہت قسمیں کھانے والا بےوقعت آدمی ہے ، طعنے دیتا ہے ، چغلیاں کھاتا پھرتا ہے ، بھلائی سے روکتا ہے ، ظلم و زیادتی میں حد سے گزر جانے والا ہے ، سخت بداعمال ہے ، جفاکار ہے اور ان سب عیوب کے ساتھ بداصل ہے ،…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 11–13

11 یعنی ان خصلتوں کے ساتھ بدنام اور رسوائے عالم بھی ہے حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں " کہ یہ سب کافر کے وصف ہیں آدمی اپنے اندر دیکھے اور یہ خصلتیں چھوڑے۔ " (تنبیہ) " زنیم " کے معنی بعض سلف کے نزدیک ولد الزنا اور حرام زادے کے ہیں۔ جس کافر کی نسبت یہ آیتیں نازل ہوئیں اور ایسا ہی تھا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 13{ عُتُلٍّم بَعْدَ ذٰلِکَ زَنِیْمٍ۔ } ”بالکل گنوار ہے ‘ اس کے بعد یہ کہ بداصل بھی ہے۔“ یعنی مذکورہ بالا خصلتیں تو اس کی شخصیت میں ہیں ہی ‘ سب سے بڑی بات یہ کہ وہ بےنسب بھی ہے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

11 زنیم کا معنی ایسا شخص ہے جس کا نسب مشکوک ہو وہ خود کو کسی دوسرے قبیلے سے ملا رہا ہو، اسی لحاظ سے اس لفظ کا معنی بدذات بھی کیا جاتا ہے۔ بدنام بھی اور ولدالزنا بھی۔ عام مفسرین کا خیال ہے کہ یہ شخص ولید بن مغیرہ تھا۔ جو ابو جہل سے پہلے قریش مکہ کا رئیس تھا اور اس کے نسب کا اٹھارہ سال بعد پتہ چلا تھا۔ واللہ اعلم بالصواب

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 9–14

8۔ یعنی ایسا نہ ہونے پائے کہ آپ اس خیال سے کہ فلاں شخص سے اس بناء پر کہ وہ صاحب وجاہت اور صاحب اثر ہے، باوجود اس کی ان ساری خباثتوں کے اشتراک عمل کرلینا بھی مصلحت خیال کرنے لگیں۔ (آیت) ” ان کان “۔ ان الفاظ کا تعلق آیت ماقبل کے ابتدائی لفظ ولا تطع سے ہے۔ متعلق بقولہ ولا تطع (مدارک) بعض نے یہ ترکیب بھی صحیح قرار دی ہے کہ ان کان کے قبل یکفر یا یجحد محذوف ہے اور ان کان اس سے متعلق اس صورت میں معنی یہ ہوں گے کہ وہ خبیث کفر و انکار اسی گھمنڈ میں آکر کرتا ہے کہ وہ دولت مند اور صاحب اولاد کثیر ہے۔ آیت اپنے عموم مفہوم کے لحاظ سے تو ہر خبیث ورذیل خصائل والے کافر معاند کے حق میں عام ہے۔ لیکن شان نزول کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 10–16

ولاتطع کل حلاف مھین (الآیۃ) پہلی آیت میں عام کفار کی بات نہ ماننے اور دین کے معاملہ میں ان کی وجہ سے کوئی مداہنت نہ کرنے کا عام حکم تھا، اس آیت میں ایک خاص شریر کافر ولید بن مغیرہ کی صفات رذیلہ بیان کر کے اس سے اعراض کرنے اور اس کی بات نہ ماننے کا خصوصی حکم دیا گیا ہے، اس لئے کہ حق بات میں مداہنت، حکمت تبلیغ کے لئے سخت نقصان دہ ہے، مذکورہ آیت میں جو نو اوصاف رذیلہ بیان کئے گئے ہیں ان کے بارے میں راجح قول تو یہی ہے کہ یہ ولید بن مغیرہ کے اوصاف ہیں اس کے علاوہ بھی کئی اقوال ہیں، کسی نے ان اوصاف کا مصداق اسود بن عبد یغوث کو اور کسی نے اخنس بن شریق کو قرار دیا ہے، تفسیر زاہدی وغیرہ میں ہے کہ ولید…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

عتل . قاموس میں ہے عتل کا معنی ہے بہت کھانے والا ‘ مغرور ‘ بد خلق ‘ اکھڑ۔ بعد ذلک زنیم . بعد ذلک کا تعلق زنیم سے ہے بعد (یہاں قبل کے مقابل نہیں ہے بلکہ مع و ساتھ) کے معنی میں ہے یعنی مذکورہ بالابری باتوں کے ساتھ ساتھ وہ زنیم بھی ہے۔ زنیم کا معنی ہے ایسا شخص جو کسی قوم میں سے (بطور نسب) تو نہیں ہو بلکہ اس کو شامل کرلیا گیا ہو۔ زنیم دعی کو بھی کہتے ہیں اور دعی وہ شخص ہے جس کو تم بیٹا بنا لو یا وہ شخص جو حرامی ہونے میں متہم ہو۔ (قاموس) بیضاوی نے لکھا ہے کہ زنیم کا لفظ زنمتی الشاۃ سے ماخوذ ہے۔ بکری کے کان اور تھن اگر لٹکے ہوئے ہوں تو زنمتی الشاۃ کہلاتے ہیں۔ ولید بن مغیرہ کی عمر جب 18 سال ہوگئی تو…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 13–14

(13۔ 14) باطل پر سخٹ جھگڑنے والا ہو، یا یہ کہ بہت کھانے پینے والا، صحیح تندرست اور لالچی ہو، اور اس کے علاوہ حرام زادہ ہو، یا یہ کفر و شرک فسق و فجور اور شرارتوں میں مست ہو۔ وہ یہ کہتا ہے کہ آپ کی اطاعت نہ کرو اس وجہ سے کہ وہ مال والا اور اولاد والا ہے اور اس کے پاس نو ہزار مثقال چاندی تھی اور اس کے دس بیٹے تھے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

عُتُلٍّم بَعْدَ ذٰلِکَ زَنِیْمٍ :”عتل“ ”عتل یعتل“ (ن، ض) سختی سے گھسیٹنا، جیسے فرمایا :(خُذُوْہُ فَاعْتِلُوْہُ اِلٰی سَوَآئِ الْجَحِیْمِ) (الدخان : 47)”اسے پکڑو ، پھر سختی سے کھینچتے ہوئے اسے بھڑکتی آگ کے درمیان تک لے جاؤ“۔ ”عتل“ موٹے جسم ، موٹے دماغ اور سخت مزاج والا۔ ”زنیم“ کے دو معنی ہیں ، ایک یہ کہ جو کسی قوم سے نہ ہو مگر اس میں سے ہونے کا دعویٰ کرے اور دوسرا معنی لئیم ، جو کمینگی اور شرارت میں مشہور۔ ”بد نام“ کے لفظ میں دونوں مفہوم ادا ہورہے ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

حضرت زید بن اسلم اللہ تعالیٰ کے فرمان، عتل بعد ذلک زنیم۔ کی تفسیر میں کہتے ہیں (2) نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا :” آسمان اس آدمی کی حرکتوں سے روتا ہے اللہ تعالیٰ نے جس کے جسم کو دسرت کیا، اس کے پیٹ کو بڑا کیا اور دنیا میں سے بعض دیا تو وہ لوگوں پر ظلم کرتا ہے، پس وہی عتل زنیم ہے اور آسمان اس بدکار بوڑھے کی وجہ سے روتا ہے جس کو زمین اٹھائے ہوئے ہے۔ “ زنیم ہے اور آسمان سا بدکار بوڑھے کی وجہ سیر وتا ہے جس کو زمین ہوئے ہے۔ “ زنیم اسے کہتے ہیں جو کسی قوم کے ساتھ چسپاں کردیا گیا ہے اور جس کے بارے میں دعویٰ کیا یا ہو۔ یہ حضرت ابن عباس اور دوسرے علماء سے مروی ہے۔ شاعر نے کہا : زنیم تداعاہ الرجال…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

7۔ عبد بن حمید نے ابو امامہ ؓ سے روایت کیا کہ آیت عتل بعد ذلک زنیم۔ یہ خلق بعد اس کے بغیر باپ کی طرف منسوب۔ یعنی وہ فحش بکنے والا اور کمینہ بھی ہے۔ 8۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید نے حسن اور ابوالعالیہ رحمہما اللہ سے اسی طرح روایت کیا کہ۔ 9۔ عبد بن حمید وابن عساکر نے عکرمہ سے اور عکرمہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ” زنیم “ سے مراد ہے زنا سے پیدا ہونے والا جس کے بارے میں صرف دعویٰ کیا جائے کہ یہ فلاں کا ہے۔ کیا تو نے شاعر کا قول نہیں سنا۔ زنیم تداعاہ الرجال زیادۃ کما زید فی عرض الادیم اکارعہ ترجمہ : زنیم وہ ہوتا ہے جس کے بارے میں لوگ زیادتی اور اضافہ کے لیے دعویٰ کرتے ہیں جیسا کہ چمڑے کے سامان میں…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[عُتُلٍّۢ: بدمزاج ][ بَعْدَ ذٰلِكَ : اس کے بعد (ساتھ)][ زَنِيْمٍ : بدذات بھی ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 8–16

آپ کی تکذیب کرنے والوں کی بات نہ مانیے، وہ آپ سے مداہنت کے خواہاں ہیں یہ نو آیات کا ترجمہ ہے ان میں سے پہلی دو آیتوں میں یہ فرمایا کہ آپ تکذیب کرنے والوں کی بات نہ مانیے وہ چاہتے ہیں کہ آپ کچھ نرم پڑجائیں تو وہ بھی آپ کے معاملہ میں نرمی اختیار کرلیں، اہل باطل کا یہ طریقہ رہا ہے کہ خود تو حق کی طرف جھکتے نہیں ان کی پہلی کوشش یہ ہوتی ہے کہ داعیان حق کو دعوت دیں کہ تم اپنی دعوت چھوڑ دو اور ہمارے کفر و گمراہی میں شریک ہوجاؤ، جب اس پر قابو نہیں چلتا تو کہتے ہیں کہ اچھا آپ کچھ نرم پڑجائیں اپنی دعوت اور دعوت کے کاموں میں نرمی اختیار کرلیں ہم بھی اپنی مخالفت میں اور سختی میں کمی کردیں گے رسول اللہ ﷺ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–16

بیان عظمت رسول اکرم ﷺ وتلقین صبر و استقامت : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” ن والقلم وما یسطرون ........ الی .......... سنسمہ علی الخرطوم “۔ (ربط) گزشتہ سورت میں خداوند عالم کی خالقیت کے دلائل ذکر کئے گئے اور یہ کہ اس کی قدرت کائنات کو محیط ہے اس کے احاطہ علم وقدرت سے کوئی مجرم نہیں نکل سکتا تو اب اس سورت میں آنحضرت ﷺ کی رسالت ونبوت کو ثابت فرمایا گیا اور یہ کہ آپ ﷺ کی شان میں گستاخی کرنے والے مجرمین خدا کے عذاب سے ہرگز نہیں بچ سکتے اور جو کچھ وہ آپ ﷺ پر اعتراض کرتے ہیں وہ سب لغو اور بےہودہ باتیں ہیں کوئی صحیح العقل انسان ایسی بےہودہ باتیں تصور بھی نہیں کرسکتا ارشاد فرمایا۔ ن۔ خدا تعالیٰ ہی اس کی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 10–14

7:۔ ” ولا تطع کل حلاف “ اعادہ صیغہ نہی بعد عہد کی وجہ سے ہے۔ ” حلاف “ بات بات پر جھوٹی قسمیں کھانے والا دنیوی کاموں میں بھی اور دینی امور میں بھی مثلاً غیر اللہ کو پکارتا ہے اور پھر قسمیں کھاتا ہے کہ میں اپنے فلاں معبود کو پکارا تھا اس لیے میرا کام ہوگیا۔ ” مھین “ گھٹیاں اور پست ذہنیت رکھنے والا۔ ” ھماز “ اہل توحید کی عیب چینی کرنے والا۔ ” مشاء بنمیم “ اہل توحید کی چغلی کھانے والا۔ ” مناع للخیر “ بھلائی سے روکنے والا۔ ” معتد “ حد سے گذرنے والا۔ ” اثیم “ بہت بڑا مجرم۔ ” عتل “ بد زبان، کج خلق۔ ” یعد ذلک “ یعنی اس کے علاوہ ” زنیم “ شرو فساد میں معروف۔ من الروح والبیضاوی۔ یہ مکذبین کی صفات ہیں جن…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 8–16

گذشتہ سے پیوستہ (ربط) : جب اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کو نبوت اور رسالت عطا فرمائی اور آپ نے آپ کے ساتھیوں نے وضو کرنا شروع کیا ، نماز پڑھنا شروع کیا تو مکہ کے مشرک سرداروں نے یہ کہنا شروع کردیا کہ العیاذ باللہ یہ لوگ مجنون ہوگئے ہیں۔ پاگلوں کی سی حرکتیں کرتے ہیں۔ ان مشرکین میں ولید بن مغیرہ ، ابوجہل ، اخنس بن شرق وغیرہ زیادہ پیش پیش تھے۔ یہ حضور ﷺ کے بارے میں مجنون کا لافظ استعمال کرتے تھے کہ انکے دماغ ٹھکانے نہیں رہے۔ عجیب و غریب حرکتیں کرتے ہیں۔ شروع سورة میں اللہ تعالیٰ نے اس الزام کا جواب دیا اور ثابت کیا کہ حضور ﷺ اللہ کے فضل و احسان سے دیوانے نہیں ہے۔ بلکہ آپ تو بلند اخلاق پر ہیں۔ اور…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

عُتُلٍؚّبَعْدَ ذٰلِكَ زَنِيْمٍ۝ 13 ۙ عتل العَتْلُ : الأخذ بمجامع الشیء وجرّه بقهر، كَعَتْلِ البعیرِ. قال تعالی: فَاعْتِلُوهُ إِلى سَواءِ الْجَحِيمِ [ الدخان/ 47] ، والعُتُلُّ : الأَكُولُ المنوع الذي يَعْتِلُ الشیءَ عَتْلًا . قال : عُتُلٍّ بَعْدَ ذلِكَ زَنِيمٍ [ القلم/ 13] . ( ع ت ل ) العتل کسی چیز کو اس جگہ سے پکڑنا جہاں اس کے سارے سرے جمع ہوتے ہوں اور اسے بزور گھسیٹا جس طرح کہ اونٹ کی مہار پکڑ کر اسے نہایت بیدروی کے ساتھ کھینچا جاتا ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ فَاعْتِلُوهُ إِلى سَواءِ الْجَحِيمِ [ الدخان/ 47] اور اسے کھینچ کر دوزخ کے اندر لے جاؤ ۔ العتل بسیار خود وہ مال کو روک کر رکھنے والا جو کسی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 9–16

ترکیب : فیدھنون عطف علی تدھن داخل فی حیزلووھو مبتداء محذوف ای فھم یدھنون و جواب لومحذوف وکذا مفعول ودّوا ای ودوا اوھانک لوتدھن فیدھنون ویمکن ان یکون فیدھنون مع المبتداء المحذوف جواب لووالشرط والجزاء الجملۃ مفعول ودوا وفی بعض المصاحف فید ھنوا بحذف النون علی انہ جواب التمنی المفھوم من ودوا ان کان الخ بالفتح مصدریۃ متعلق بقولہ ولاتطع ای لاتطع من ھذہ مثالبہ لان کان متمولا مستظہرا بالبنین۔ ھذا قول الفراء والزجاج و قریٔ ان بالکسر علی الشرط دجواب الشرط محذوف دل علیہ اذاتتلٰی ای ان کان ذومال یکفراولاتطع ایھا المخاطب کل حلاف شارطایسارہ اذاشرط قال جوابہ۔ تفسیر : اول بار آنحضرت ﷺ کو کفار کی اطاعت سے منع…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 10–14

وَلاَ تُطِعْ کُلَّ حَلاَّ فٍ مَّھِیْنٍ ۔ ھَمَّازٍ مَّشَّآئٍ م بِنَمِیْمٍ ۔ مَّـنَّاعٍ لِّلْخَیْرِ مُعْتَدٍ اَثِیْمٍ ۔ عُتُلٍّ م بَعْدَ ذٰلِکَ زَنِیْمٍ ۔ اَنْ کَانَ ذَا مَالٍ وَّ بَنِیْنَ ۔ (القلم : 10 تا 14) (اور آپ ہرگز بات نہ سنیں بہت قسمیں کھانے والے ذلیل آدمی کی۔ اشارہ باز چغلیاں کھانے والے، لگائی بجھائی کرنے والے۔ بھلائی سے روکنے والے، حد سے تجاوز کرنے والے، حق مارنے والے کی۔ بہت سنگدل مزیدبرآں بداصل کی۔ اس وجہ سے کہ وہ بہت مال و اولاد والا ہے۔ ) مکذبین کی قیادت کا اصل چہرہ دکھایا گیا ہے وَلاَ تُطِعْ کُلَّ حَلاَّ فٍ مَّھِیْنٍ … اس سے پہلے سابقہ سے پیوستہ آیت میں آنحضرت ﷺ سے فرمایا گیا کہ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 10–16

فہم القرآن ربط کلام : اہل مکہ قرآن مجید کے دلائل کا جواب نہ پا کر آپ ﷺ کو مجنون کہتے تھے اس موقع پر ان کے اس الزام کا صرف یہ جواب دیا گیا کہ عنقریب وقت آئے گا کہ جب یہ دیکھ لیں گے کہ مجنون کون ہے۔ آپ ﷺ کو حقیقت بتلانے اور تسلی دینے کے لیے ارشاد ہوا کہ آپ کا رب خوب جانتا ہے کہ کون اس کے راستے سے بھٹک گیا اور کون ہدایت یافتہ ہے۔ لہٰذا آپ کو جھوٹے لوگوں کے پیچھے لگنے کی بجائے اپنا کام پوری مستعدی کے ساتھ جاری رکھنا چاہیے اور اس میں کسی قسم کی مداہنت اختیار نہیں کرنی چاہیے۔ مفسرین کا خیال ہے کہ یہ آیات ولید بن مغیرہ، اسود بن یغوث اور اخنس بن شریک میں سے کسی ایک کے بارے میں نازل ہوئیں کیونکہ قرآن…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

13 : عُتُلٍّم (سخت مزاج ہو) اکھڑ بدخلق بَعْدَذٰلِکَ (اس کے بعد) اس کے ان شمار کردہ معایب کے ساتھ زَنِیْمٍ (حرامی کی تہمت والا) منسوب۔ ولیدقریش کی طرف منسوب تھا۔ ان کے اصل میں سے نہ تھا جب اس کی عمر 18 سال کی ہوگئی تو تب اس کے باپ نے اس کے اپنا بیٹا ہونے کا اقرار کیا۔ ایک قول یہ ہے کہ اس کی ماں نے ارتکاب زنا کیا تھا۔ اس آیت کے نزول سے قبل ولید کو اس بات کا علم نہ تھا۔ جب نطفہ خبیث ہو تو اس شخص میں خباثتیں ہی ہونگی۔ روایت میں ہے کہ یہ اپنی ماں کے پاس گیا اور کہنے لگا کہ محمد (ﷺ) نے میری دس صفات بیان کی ہیں۔ نوؔ تو مجھ میں موجود ہیں دسویں صفت الزنیم ؔ اس کا مجھے علم نہیں ہے تو مجھے سچی بات بتلا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

12 ۔” مناع للخیر “ مال پر بخیل ہے۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں مناع للخیر “ یعنی اسلام سے اپنی اولاد اور خاندان کو روکتا ہے ۔ کہتا ہے اگر تم میں سے کوئی محمد ﷺ کے دین میں داخل ہوگیا تو میں اس کو کسی چیز کا نفع نہ دوں گا کبھی بھی۔ ” معتد “ بڑا ظالم حق سے تجاوز کرنے والا۔ ” اثیم “ فاجر۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 8–16

8۔ 16۔ اوپر ذکر تھا کہ مکہ کے مشرکوں میں سے کوئی شخص اگر آداب دنیا کے برخلاف کچھ کہے تو باقتضا حسن اخلاق اس سے درگزر بہتر ہے ان آیتوں میں اس کی صراحت فرمائی کہ یہ مشرک لوگ تو یہ چاہتے ہیں کہ ان کو شرک پر اڑے رہنے سے کوئی نہ روکے تو وہ بھی مسلمانوں کی ایذا کم کردیں لیکن اللہ تعالیٰ کو اصلاح دین منظور ہے اس لئے دین کی خرابی کی کوئی بات ان میں سے کوئی شخص کہے تو وہ ہرگز نہ سننی جائے اور اس کے سننے میں کسی طرح کی مدارات ان لوگوں کے ساتھ نہ برتی جائے وہ دین کی خرابی کی باتیں ایسی ہی ہیں جیسے ان لوگوں نے ایک یہ بات کہی تھی کہ کچھ دنوں تک مسلمان ہمارے بتوں کی بڑائی مان لیں تو ہم بھی اتنے ہی دنوں تک…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 13–16

(عتل بعد ذالک) یعنی درشت خو، بدخلق اور سخت طبیعت رکھنے والا جو حق کے سامنے سرتسلیم خم نہیں کرتا اس کے ساتھ ساتھ وہ (زنیم) بدذات ہے، یعنی مجہول النسب جس کی کوئی اصل ہے نہ ایسا مادہ کہ جس سے کوئی بھلائی منتج ہوتی ہے بلکہ اس کے اخلاق بدترین اخلاق ہیں۔ اس سے فلاح کی امید نہیں اور اس میں شر کی علامت ہے جس سے وہ پہچانا جاتا ہے۔ ان تمام آیات کریمہ کا حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر اس شخص کی اطاعت سے روکا ہے جو نہایت کثرت سے قسمین کھانے والا، سخت جھوٹا، خسیس النفس، نہایت بداخلاق، خاص طور پر وہ ایسے برے اخلاق کا مالک ہے جو خود پسند، مخلوق اور حق کے مقابلے اور حق کے مقابلے میں تکبر اور استکبار، غیبت،…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 13–52

قول باری ہے (عتل بعد ذلک زنیم، جفا کار اور ان سب عیوب کے ساتھ بداصل ہے) پہلے لفظ کے بارے میں ایک قول ہے کہ ہٹے کٹے اور بدخلق نیز سفاک انسان کو عتل کہا جاتا ہے۔ زنیم اس ولدالزنا کو کہا جاتا ہے جو دراصل ایک خاندان کا فرد نہ ہو مگر اس میں شامل ہوگیا ہو۔ ہمیں عبدالباقی بن قانع نے روایت بیان کی، انہیں حسین بن اسحاق التستری نے، انہیں الولیدبن عتبہ نے، انہیں الولید بن مسلم نے، انہیں ابو شیبہ ابراہیم بن عثمان نے عثمان بن عمیر البجلی سے، انہوں شہرین حوشب سے، انہوں نے حضرت شداد بن اوس سے کہ حضور ﷺ نے فرمایا (لا یدخل الجنۃ جو اظ ولا جعظری ولا عتل زنیم) میں نے دریافت کیا کہ جو اظ کسے کہتے ہیں۔ انہوں نے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 13–14

10 فساد کردار کے سبب کی نشاندہی کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس بناء پر کہ وہ مال اور اولاد والا ہے۔ اس صورت میں ان کان کا تعلق فلا تطع سے ہوگا اور مطلب یہ ہوگا کہ محض اس بناء پر اس کا کہنا نہیں ماننا کہ وہ مال اور اولاد والا ہے، کہ ایسے شخص کا مال و اولاد قیامت کے روز اس کے کچھ بھی کام نہ آسکے گا، جیسا کہ دوسرے مقام پر فرمایا گیا۔ " یوم لاینفع مال ولاینون الا من اتی اللہ بقلب سلیم " (الشعراء : 88) (کشاف، مراغی، محاسن اور معارف، وبیان القرآن وغیرہ) اور دوسرا احتمال اس میں یہ بھی ہے کہ اس کا تعلق اگلی آیت کریمہ سے ہو، اس صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ ایسا شخص محض اس بناء پر کہ وہ مال اور…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–16

رسول کریم ﷺ کا خلق عظیم اور کفار کی اطاعت سے بچنے کا حکم تشریح : جیسا کہ پہلے بھی سورتوں میں مختلف چیزوں کی قسم مختلف چیزوں کے صحیح ثابت کرنے کے لیے کھائی گئی ہے تو یہاں نبی پاک ﷺ کے حسن کردار اور صفات کے بلند پایہ ہونے کے لیے قلم و قرآن کی قسم کھائی گئی ہے۔ آپ ﷺ تو مجسم صفات ہیں قرآن و احادیث میں جگـہ جگہ آپ ﷺ کی جملہ صفات کا ذکر بڑے مستند حوالوں سے کیا گیا ہے۔ کیوں نہ ہو آپ ﷺ دنیا کے بہترین انسان اور پیغمبر ہیں آپ ﷺ رحمت حیا، جودوسخا، وفا، صبر، زہد وتقویٰ حسن سلوک اور حسن تادیب کے لحاظ سے بلکہ ہر لحاظ سے بےمثال ہیں آپ ﷺ کو انسان کامل ہونے کا رتبہ حاصل ہے۔ آپ ﷺ محسن انسانیت اور رحمۃ للعٰلمین…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–33

آیات 1 تا 23۔ اسرار ومعارف۔ قسم ہے قلم کی اور جو کچھ قلم سے لکھاجاتا ہے یعنی آپ ﷺ نے امی ہونے کے باوجود علم کے وہ دریابہائے کہ خود قلم اور اس کی تحریر آپ کے کامل عقل مند اور بےمثال صاحب خرد ہونے پر دال ہے۔ مجنون۔ جب آپ ﷺ نے اعلان نبوت فرما کر ساری انسانیت کو دعوت حق دے دی اور تمام انسانوں کے لیے ایک عقیدہ اور ایک نظام حیات تو مشرکین نے اسے معاذ اللہ پاگل پن قرار دیا کہ دنیا کی عظیم الشان حکومتیں ساری دنیا پہ ایک نظام رائج نہ کرسکیں۔ پھر آپ ﷺ امی ہیں ، اکیلے ہیں یا چند مسلمان جن کی بظاہر کوئی حیثیت نہیں پھر اقوام عالم کے مزاج الگ ، فکر الگ ، رنگ ونسل اپنی اپنی ، غذا الگ زبانیں الگ موسم اور…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 10–13

“6 ” یہ سب کافر کے وصف ہیں۔ آدمی اپنے اندر دیکھیے اور یہ خصلتیں چھوڑے۔ “ نیم “ (بد ذات) شاہ صاحب لکھتے ہیں ” بدنام یعنی بدی کرمشور “ یا جو غلط طور پر کسی خاندان کی طرف منسوب ہو اس لئے علمائے تفسیر نے اس کی تفسیر ” حرا مزادہ “ سے بھی کی ہے۔ روایات میں کئی لوگوں کے نام ہیں جنج کے بارے میں یہ آیات نازل ہوئیں (ابن کثیر)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(68:13) عتل : یہ عتل مصدر سے صفت کا صیغہ ہے بمعنی سخت مزاج ۔ گردن کش اجڈ۔ شوکانی کے نزدیک عتل وہ ہے جو جسم کا مضبوط اور اخلاق کا خراب ہو۔ عبد الرحمن بن غنم ؓ سے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ :۔ عتل : جو جسم کا مضبوط ہو، صحت مند ہو بڑا کھانے پینے والا ہو، جیسے کھانے پینے کو ملتا رہے۔ لوگوں پر بہت ظلم کرتا ہو اور توند اس کی بڑی ہو۔ بعد ذلک یعنی متذکرہ بالا صفات کے علاوہ (وہ زنیم بھی ہے) زنیم : الزنیم یا مزنم : اسے کہتے ہیں جو کسی قسم سے نسبتی تعلق تو نہ رکھتا ہو لیکن اس کے ساتھ یونہی ملحق ہو۔ جیسے کہ زنمتا الشاۃ یعنی گوشت کے دو زائد ٹکڑے جو بکری کے گلے یا کان سے نیچے لٹک رہے ہوں۔ زنیم…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–33

لغات القرآن۔ یسطرون۔ وہ لکھتے ہیں۔ ممنون۔ منقطع ہونے والا۔ ختم ہونے والا۔ تبصر۔ تو دیکھے گا۔ المفتون۔ دیوانہ۔ ودوا۔ وہ پسند کرتے ہیں۔ تدھن۔ تو خوشامد کرے۔ تو نمر پرے۔ حلاف۔ بہت قسمیں کھانے والا۔ مھین۔ ذلیل کمینہ۔ ھماز۔ طعنے دینے والا۔ مشائ۔ پھرنے والے۔ نیمیم۔ چغل خور۔ باتیں لگانے والے۔ مناع۔ روکنے والا۔ معتد۔ حد سے بڑھنے والا۔ اثیم۔ گناہ گار۔ عتل۔ اکھڑ۔ اجد۔ زنیم۔ بدنام۔ نسیم۔ ہم داغ دیں گے۔ الخرطوم۔ ناک۔ دم۔ سونڈ۔ تشریح : سورة القلم کا آغاز ” ن “ سے کیا گیا ہے جو حروف مقطعات میں سے ایک حروف ہے۔ اس کے کیا معنی ہیں ؟ اس کی تفصیل اس سے پہلی ابتدائی سورتوں میں آچکی ہے کہ ان حروف کے معنی اور مراد…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 11–13

(ف 4) یعنی ان خصلتوں کے ساتھ بدنام اور سوائے عالم بھی ہے ، حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں کہ سب کافر کے وصف ہیں آدمی اپنے اندر دیکھے اور یہ خصلتیں چھوڑے، جب یہ آیت نازل ہوئی تو ولید بن مغیرہ نے اپنی ماں سے جاکرکہا کہ محمد ﷺ نے میرے حق میں دس باتیں فرمائیں ہیں نوکوتو میں جانتا ہوں کہ مجھ میں موجود ہیں لیکن دسویں بات اصل میں خطا ہونے کی اس کا حال مجھے معلوم نہیں یا تو مجھے سچ سچ بتادے ورنہ میں تیری گردن ماردوں گا، اس پر اس کی ماں نے کہا تیراباپ نامرد تھا مجھے اندیشہ ہوا کہ وہ جائے تو اس کا مال غیر لے جائیں گے تو میں نے چرواہے کو بلالیا تو اس سے ہے۔ فائدہ : ولیدنے نبی کریم ﷺ کی شان میں ایک جھوٹا کلمہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 9–15

[5] یعنی کفار چاہتے ہیں کہ تم بت پرستی کو برا نہ کہو تو یہ بھی تمہارے دین کی اس قدر مخالفت نہ کریں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 13–16

زنیم کے معنے 1: ان آیات سے غرض یہ ہے ۔ کہ جب یہ واقعہ ہے ۔ کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو ذہن اور فکر کے کملات کے ساتھ حسن اخلاق سے بھی بدرجہ اتم نوازا ہے اور باوجود اس کے مکہ والے نہیں مانتے ۔ اور ذایل وخبائث سے آلودہ ہیں ۔ آپ ان کے خیالات کا قطعاً احترام نہکریں ۔ اور نہ ان کے جذبات کی ربابیت محلوظ رکھیں ۔ ان کی خواہش ہے ۔ کہ کس طرح آپ کو معاذ اللہ مداہنت پر آمادہ کرلیں ۔ اور اس چیز پر راضی کرلیں ۔ کہ آپ ان کے عقائد و افکار کی مدہیت نہ کریں ۔ اور اس ضمن میں کامل رواداری سے کام لیں ۔ مگر ہمارا فیصلہ ہے ۔ کہ آپ ان کے ایک ایک عیب کو کھلے بندوں بیان کردیں ۔ اور ان کو بتادیں ۔ ان اخلاق کے ساتھ یہ…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(13) سخت طبع، بدمزج گردن کش اور ان سب باتوں کے عالوہ اس کا نسب بھی صحیح نہ ہو یعنی والدالزنا اور حرام زادہ ہو۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 13–15

ف 2۔ زنیم لغت عرب میں اس شخص کو کہتے ہیں جو اپنے آپ کو کسی دوسری قوم یا خاندان کی طرف منسوب کرے یہ آیت ولید بن مغیرہ مخزومی کے بارے میں نازل ہوئی تھی جس میں دوسرے ذمائم کے علاوہ یہ برائی بھی تھی کہ اپنے آپ کو ایک اور خاندان کی طرف منسوب کرتا تھا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

بدزبان بھی ہو اور علاوہ ازیں بدنام بھی ہو 13 ؎ (عتل) سخت مزاج ، گردن کش ، اجڈ۔ اس کے معنی اس طرح نقل کئے گئے ہیں : (1) بسیار خور۔ (2) درشت خو۔ (3) ستم گر۔ (4) سخت گو اور یہ عتل سے صفت کا صیغہ ہے جس کے معنی کسی چیز کو پورے طور پر پکڑ کر سختی اور زبردستی کے ساتھ کھینچنے کے ہیں۔ (منتخب اللغات) اس جگہ مراد تند خو اور سخت مزاج کافر ہیں۔ ھو الشدید الخلق الفاحش الخلق (فتح القدیر ج 5 ص 261) ” عتل وہ ہے جو جسم کا مضبوط اور اخلاق کا خراب ہو۔ “ اس طرح کہا گیا ہے کہ ” وہ شخص جو جسم کا مضبوط ہو ، صحت مند ہو ، بڑا کھانے پینے والا ہو ، جسے کھانے پینے کے لئے وافر ملتا رہے اور وہ لوگوں پر بہت ظلم کرتا ہو اور…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 10–15

لَا تُطِعْ كُلَّ حَلَّافٍ مَّهِينٍ ﴿10﴾ هَمَّازٍ مَّشَّاءٍ بِنَمِيمٍ ﴿11﴾ مَّنَّاعٍ لِّلْخَيْرِ‌ مُعْتَدٍ أَثِيمٍ ﴿12﴾ عُتُلٍّ بَعْدَ ذَٰلِكَ زَنِيمٍ ﴿13﴾ (And do not obey any contemptible one who swears much, a slanderer who goes about with calumnies, one who prevents good, [ and who is ] transgressor, sinful, harsh, [ and ] after all that, notorious,.. _68:10-13) The word zanim refers to 'a person whose legitimate birth from a father is not proved'. The person referred to in this verse was of doubtful birth or his lineage was uncertain. The preceding verse prohibited any compromise with…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

9 The word zanim is used to describe a person of illegitimate birth, who does not, in fact, belong to a family but has joined it. Sa`id bin Jubair and Sha`bi say that this word is used for a person who is notorious among the people for his evildoing. The views of the commentators with regard to the person who has been described in these verses are different. Some one says it was Walid bin Mughirah; another one says it was Aswad bin `Abd-i Yaghuth, and still another has applied this description to Akhnas bin Shurayq, and some other people have pointed to some other persons. But the Qur'an has…

Read the full tafseer →