Al-Qalam 68:14

Al-Qalam · from ayah 14

68:14

اَنْ كَانَ ذَا مَالٍ وَّبَنِیْنَ ۟ؕاَنۡ كَانَ ذَا مَالٍ وَّبَنِيۡنَؕ‏

اس سبب سے کہ مال اور بیٹے رکھتا ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Because he is a possessor of wealth and children,

— Saheeh International

Juz 29 · Ruku 1 of surah · Ruku 3 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Qalam

All translations of 68:14

اِس بنا پر کہ وہ بہت مال و اولاد رکھتا ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اس سبب سے کہ مال اور بیٹے رکھتا ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اس کی سرکشی صرف اس لیے ہے کہ وه مال واﻻ اور بیٹوں واﻻ ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

صرف اس وجہ سے کہ وہ بڑے مال اور اولاد والا ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اس پر کہ کچھ مال اور بیٹے رکھتا ہے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اِس لئے (اس کی بات کو اہمیت نہ دیں) کہ وہ مال دار اور صاحبِ اَولاد ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اس لیے کہ وہ مال اور بیٹوں والا رہا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اس بنا پر کہ وہ مالدار ہے اور بیٹوں والا ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

یہ کردار اس وجہ سے ہوا کہ وہ مال و اولاد والا ہے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

(اور وہ بھی محض اس لئے) کہ وہ مال اور اولاد والا ہے

— مولانا اسحاق مدنی

اس نظر سے کہ وہ مال اور اولاد والا ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

صرف اس گھمنڈ پر کہ وہ مال و دولت اور بیٹوں والا ہے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اس واسطے کہ مال اور بیٹے رکھتا ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

(who so acts) simply because he has wealth and sons,

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

(do not obey such a person merely) because he is a man of wealth and sons.

— Muhammad Taqi Usmani

(do not obey such a person merely) because he is a man of wealth and sons.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

(He was so) because he had wealth and children.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

It is because he is possessed of wealth and children

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Because he is a possessor of wealth and children,

— Saheeh International

When Our revelations are recited to him,

— Muhammad Sarwar

Because he possesses wealth and sons.

— Muhammad Habib Shakir

Because he is owner of riches and children.

— Abdul Majid Daryabadi

Because he possesses wealth and (numerous) sons.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 68:14

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 8–16

زیادہ قسمیں کھانے والے زیادہ جھوٹ بولتے ہیں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ اے نبی ﷺ جو نعمتیں ہم نے تجھے دیں جو صراط مستقیم اور خلق عظیم ہم نے تجھے عطا فرمایا اب تجھے چاہئے کہ ہماری نہ ماننے والوں کی تو نہ مان، ان کی تو عین خوشی ہے کہ آپ ذرا بھی نرم پڑیں تو یہ کھل کھیلیں اور یہ بھی مطلب ہے کہ یہ چاہتے ہیں کہ آپ ان کے معبودان باطل کی طرف کچھ تو رخ کریں حق سے ذرا سا تو ادھر ادھر ہوجائیں، پھر فرماتا ہے کہ زیادہ قسمیں کھانے والے کمینے شخص کی بھی نہ مان چونکہ جھوٹے شخص کو اپنی ذلت اور کذب بیانی کے ظاہر ہوجانے کا ڈر رہتا ہے، اس لئے وہ قسمیں کھا کھا کر دوسرے کو اپنا یقین دلانا چاہتا ہے لگاتار قسموں…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 14–15

سورة الْقَلَم 10 اس فقرے کا تعلق اوپر کے سلسلہ کلام سے بھی ہوسکتا ہے اور بعد کے فقرے سے بھی۔ پہلی صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ ایسے آدمی کی دھونس اس بنا پر قبول نہ کرو کہ وہ بہت مال اولاد رکھتا ہے۔ دوسری صورت میں معنی یہ ہوں گے کہ بہت مال اولاد والا ہونے کی بنا پر وہ مغرور ہوگیا ہے، جب ہماری آیات اس کو سنائی جاتی ہیں تو کہتا ہے یہ اگلے وقتوں کے افسانے ہیں۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 10–16

وَلَا تُطِعْ كُلَّ حَلَّافٍ مَّهِيْنٍ 10 ۝ ۙهَمَّازٍ مَّشَّاۗءٍۢ بِنَمِيْمٍ 11 ۝ ۙمَّنَّاعٍ لِّلْخَيْرِ مُعْتَدٍ اَثِيْمٍ 12 ۝ ۙعُتُلٍّۢ بَعْدَ ذٰلِكَ زَنِيْم (آپ بات نہ مانیں ہر ایسے شخص کی جو بہت قسمیں کھانے والا ہو ذلیل ہو اور لوگوں پر عیب لگانے والا ہو غیبت کرنے والا ہو چغلخوری کرنے والا ہو، نیک کاموں سے لوگوں کو روکنے والا ظلم وجور میں حد سے بڑھنے والا ہو بکثرت گناہ کرنے والا اور بہت قسمیں کھانے والا کج خلق بخیل ہو اور ان سب صفات رذیلہ کے ساتھ وہ زنیم بھی ہو۔ زنیم کے معنے وہ شخص جس کا نسب کسی باپ سے ثابت نہ ہو۔ جس شخص کے یہ اوصاف بیان کئے گئے ہیں وہ ایسا ہی غیر ثابت النسب تھا۔ پہلی آیت…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

فاسد کردار کا سبب: یہ سبب بیان ہوا ہے اس بات کا کہ ان کے اندر یہ کردار کیوں پیدا ہوا۔ فرمایا کہ اس وجہ سے پیدا ہوا کہ یہ مال و اولاد والے ہوئے۔ یہ فقرہ نہایت بلیغ ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جب اللہ نے ان کو مال و اولاد والا بنایا تو ہونا تو یہ تھا کہ یہ اپنے رب کے شکرگزار، فرماں برداراور اس کے نازل کیے ہوئے حق کے علم بردار بن کر اٹھتے لیکن یہ اس کے برعکس بالکل ناشکرے اور ناہنجار بن کر اٹھے۔ قرآن میں یہ حقیقت جگہ جگہ مختلف اسلوبوں سے واضح فرمائی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ اس دنیا میں جن کو اپی نعمتوں سے بہرہ مند فرماتا ہے وہ ان کا امتحان کرتا ہے کہ دیکھے اس کی نعمتیں پا کر وہ اس کے شکرگزار بنتے ہیں یا غرور…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 14–15

14۔ 1 یعنی مذکورہ اخلاقی قباحتوں کا ارتکاب اس لئے کرتا ہے کہ اللہ نے اسے مال اور اولاد کی نعمتوں سے نوازا ہے یعنی وہ شکر کی بجائے کفران نعمت کرتا ہے، یعنی جس شخص کے اندر یہ خرابیاں ہوں، اس کی بات صرف اس لئے مان لی جائے کہ وہ مال اور اولاد رکھتا ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 14–15

5: یعنی صرف مال دار اور بڑے خاندان والا ہونے کی وجہ سے ایسے آدمی کی باتوں میں نہیں آنا چاہیے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 14–15

اس کے بعد یہ بتایا جاتا ہے کہ ان ذاتی صفات کے علاوہ اس نے دین اسلام کے خلاف یہ موقف جو اختیار کررکھا ہے یہ اس لئے ہے کہ اللہ نے اس کو مال و دولت اور اولاد دی ہے۔ ان کان .................... الاولین (51) (86 : 41۔ 51) ” اس بنا پر کہ وہ بہت مال اور اولاد رکھتا ہے “۔ جب ہماری آیات اس کو سنائی جاتی ہیں تو کہتا ہے یہ تو اگلے وقتوں کے افسانے ہیں۔ کیا ہی بری بات ہے کہ ایک انسان کو اللہ مال و دولت دے اور وہ اس کے بدلے میں ، اللہ کی آیات کے ساتھ استہزا کرے۔ اور اللہ کے رسول کے ساتھ مذاق کرے۔ اور اللہ کے دین پر دست درازی کرے صرف یہی ایک صفت مذکورہ بالا تو صفات سے زیادہ بھاری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سخت توہین…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

12 یعنی ایک شخص اگر دنیا میں طالع مند اور خوش قسمت نظر آتا ہے، مثلاً مال و اولاد وغیرہ رکھتا ہے تو محض اتنی بات سے اس لائق نہیں ہوجاتا کہ اس کی بات مانی جائے۔ اصل چیز انسان کے اخلاق و عادات ہیں، جس شخص میں شرافت اور خوش اخلاقی نہیں اللہ والوں کا کام نہیں کہ اس کی ابلہ فریب باتوں کی طرف التفات کریں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 14–15

آیت 14{ اَنْ کَانَ ذَا مَالٍ وَّبَنِیْنَ۔ } ”صرف اس گھمنڈ پر کہ وہ مال و دولت اور بیٹوں والا ہے۔“ اللہ تعالیٰ نے ولید بن مغیرہ کو کثیر مال و دولت کے علاوہ بہت سے بیٹوں سے بھی نواز رکھا تھا۔ اور بیٹے بھی ایسے کہ ان میں سے ایک کو قبول اسلام کے بعد ”سَیْفٌ مِنْ سُیُوْفِ اللّٰہِ“ کا مرتبہ ملا۔ یعنی حضرت خالد بن ولید رض !

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 14–15

12 یعنی ان تمام تر قباحتوں کے باوجود کیا صرف اس لئے اس کی بات مان لیجائے کہ وہ خاصا مال دار اور صاحب اولاد ہے۔ صاحب مال اور اولاد ہونا کوئی ایسی صفات نہیں کہ ایسے شخص کی اطاعت کی جائے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 9–14

8۔ یعنی ایسا نہ ہونے پائے کہ آپ اس خیال سے کہ فلاں شخص سے اس بناء پر کہ وہ صاحب وجاہت اور صاحب اثر ہے، باوجود اس کی ان ساری خباثتوں کے اشتراک عمل کرلینا بھی مصلحت خیال کرنے لگیں۔ (آیت) ” ان کان “۔ ان الفاظ کا تعلق آیت ماقبل کے ابتدائی لفظ ولا تطع سے ہے۔ متعلق بقولہ ولا تطع (مدارک) بعض نے یہ ترکیب بھی صحیح قرار دی ہے کہ ان کان کے قبل یکفر یا یجحد محذوف ہے اور ان کان اس سے متعلق اس صورت میں معنی یہ ہوں گے کہ وہ خبیث کفر و انکار اسی گھمنڈ میں آکر کرتا ہے کہ وہ دولت مند اور صاحب اولاد کثیر ہے۔ آیت اپنے عموم مفہوم کے لحاظ سے تو ہر خبیث ورذیل خصائل والے کافر معاند کے حق میں عام ہے۔ لیکن شان نزول کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 10–16

ولاتطع کل حلاف مھین (الآیۃ) پہلی آیت میں عام کفار کی بات نہ ماننے اور دین کے معاملہ میں ان کی وجہ سے کوئی مداہنت نہ کرنے کا عام حکم تھا، اس آیت میں ایک خاص شریر کافر ولید بن مغیرہ کی صفات رذیلہ بیان کر کے اس سے اعراض کرنے اور اس کی بات نہ ماننے کا خصوصی حکم دیا گیا ہے، اس لئے کہ حق بات میں مداہنت، حکمت تبلیغ کے لئے سخت نقصان دہ ہے، مذکورہ آیت میں جو نو اوصاف رذیلہ بیان کئے گئے ہیں ان کے بارے میں راجح قول تو یہی ہے کہ یہ ولید بن مغیرہ کے اوصاف ہیں اس کے علاوہ بھی کئی اقوال ہیں، کسی نے ان اوصاف کا مصداق اسود بن عبد یغوث کو اور کسی نے اخنس بن شریق کو قرار دیا ہے، تفسیر زاہدی وغیرہ میں ہے کہ ولید…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ان کان ذامال و بنین . ابن عامر ‘ حمزہ ‘ ابوبکر ؓ اور یعقوب (رح) کی قراءت میں ہمزہ استفہام بھی ہے یعنی اَ اَنْ کَان باقی لوگوں کی قراءت حسب مذکور بغیر استفہام کے ہے۔ ثانی قراءت پر لام محذوف ہے لَاِنْ کَان تھا۔ یعنی اس وجہ سے تم اس کا کہنا نہ مان لینا کہ وہ مالدار اور بیٹوں والا ہے۔ مال و دولت والے کا کہنا ماننا عام لوگوں کا دستور ہی ہے۔ اوّل تقدیر پر استفہام انکاری ہے یعنی کیا تم اس کی بات اس لیے مان لو گے کہ وہ مالدار ہے اور بیٹوں والا ہے یا یوں کہا جائے کہ جملۂ آئندہ کے مدلول سے اس کا تعلق ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اس نے کفر کیا اور قرآن کی تکذیب کی ‘ اس لیے اس میں مالدار ہونے کی وجہ سے غرور اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 13–14

(13۔ 14) باطل پر سخٹ جھگڑنے والا ہو، یا یہ کہ بہت کھانے پینے والا، صحیح تندرست اور لالچی ہو، اور اس کے علاوہ حرام زادہ ہو، یا یہ کفر و شرک فسق و فجور اور شرارتوں میں مست ہو۔ وہ یہ کہتا ہے کہ آپ کی اطاعت نہ کرو اس وجہ سے کہ وہ مال والا اور اولاد والا ہے اور اس کے پاس نو ہزار مثقال چاندی تھی اور اس کے دس بیٹے تھے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 14–15

اَنْ کَانَ ذَا مَالٍ وَّبَنِیْنَ :”ان کان“ سے پہلے لام محذوف ہے ، یعنی ”لان کان“ یہ ”لا تطع“ کے متعلق ہے ، یعنی مض اس لیے آپ اس کا کہنانہ مانیں کہ وہ مال اور بیٹوں والا ہے۔ دوسرا معنی یہ ہے کہ وہ ہماری آیات کو پہلے لوگوں کی کہانیاں کہہ کر محض اس لیے جھٹلاتا ہے کہ وہ مال اور بیٹوں والا ہے ، اگر ہم اسے مال اور بیٹے عطاء نہ کرتے تو ایسا تکبر اور ایسی سرکشی اختیار نہ کرتا۔ اس صورت میں یہ بعد والی آیت سے متعلق ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 14–15

ان کان ذا مال وبنین۔ ابو جعفر، ابن عامر، ابوحیوہ، مغیرہ اور اعرج نے ان کان ایک ہمزہ ممدودہ کے ساتھ پڑھا ع ہے کہ یہ کلام استفہامیہ ہے۔ مفضل، ابوبکر اور حمزہ نے ان کان دو ہمزوں کے ساتھ جو اپنی جگہ پر ثابت ہیں کے ساتھ پڑھا ہے باقی قراء نے ایک ہمزہ کے ساتھ پڑھا ہے اس بنا پر کہ یہ کلام استفہامیہ نہیں جس نے ایک ہمزہ ممدودہ یا دو ہمزہ محققہ کے ساتھ پڑھا ہے تو اس صورت میں کلام استفہامیہ ہوگی۔ اس سے مراد تو بیخ ہے اس کے لئے اچھا ہوگا کہ وہ زنیم پر وقف کرے اور ان کان سے کلام کا آغاز کرے معنی یہ بنے گا کیا اس لئے کہ وہ صاحب مال اور صاحب اولاد ہے آپ ﷺ اس کی اطاعت کرتے ہیں۔ یہ تقدیر کلام بھی جائز ہے الان…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 14–15

41۔ عبد بن حمید نے عاصم (رح) سے روایت کیا اس کو یوں پڑھا آیت ان کان ذامال وبنین دو ہمزوں کے ساتھ جن میں ایک ہمزہ استفہامیہ ہے۔ 42۔ ابن ابی حاتم والطبرانی وابن مردویہ والبیہقی نے شعب الایمان میں عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا جو شخص اس حال میں مرگیا کہ وہ لوگوں میں غیب کرنے والا نکتہ چینی کرنے والا اور عیب تلاش کرنے والا مشہور تھا۔ تو قیامت کے دن اس کی یہ علامت ہوگی کہ اللہ تعالیٰ اس کی ناک پر داغ لگادیں گے ناک کے دونوں کناروں سے۔

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ااَنْ كَانَ : (اس لیے) کہ وہ ہوا ][ ذَا مَالٍ وَّبَنِيْنَ : مال اور بیٹوں والا ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 8–16

آپ کی تکذیب کرنے والوں کی بات نہ مانیے، وہ آپ سے مداہنت کے خواہاں ہیں یہ نو آیات کا ترجمہ ہے ان میں سے پہلی دو آیتوں میں یہ فرمایا کہ آپ تکذیب کرنے والوں کی بات نہ مانیے وہ چاہتے ہیں کہ آپ کچھ نرم پڑجائیں تو وہ بھی آپ کے معاملہ میں نرمی اختیار کرلیں، اہل باطل کا یہ طریقہ رہا ہے کہ خود تو حق کی طرف جھکتے نہیں ان کی پہلی کوشش یہ ہوتی ہے کہ داعیان حق کو دعوت دیں کہ تم اپنی دعوت چھوڑ دو اور ہمارے کفر و گمراہی میں شریک ہوجاؤ، جب اس پر قابو نہیں چلتا تو کہتے ہیں کہ اچھا آپ کچھ نرم پڑجائیں اپنی دعوت اور دعوت کے کاموں میں نرمی اختیار کرلیں ہم بھی اپنی مخالفت میں اور سختی میں کمی کردیں گے رسول اللہ ﷺ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–16

بیان عظمت رسول اکرم ﷺ وتلقین صبر و استقامت : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” ن والقلم وما یسطرون ........ الی .......... سنسمہ علی الخرطوم “۔ (ربط) گزشتہ سورت میں خداوند عالم کی خالقیت کے دلائل ذکر کئے گئے اور یہ کہ اس کی قدرت کائنات کو محیط ہے اس کے احاطہ علم وقدرت سے کوئی مجرم نہیں نکل سکتا تو اب اس سورت میں آنحضرت ﷺ کی رسالت ونبوت کو ثابت فرمایا گیا اور یہ کہ آپ ﷺ کی شان میں گستاخی کرنے والے مجرمین خدا کے عذاب سے ہرگز نہیں بچ سکتے اور جو کچھ وہ آپ ﷺ پر اعتراض کرتے ہیں وہ سب لغو اور بےہودہ باتیں ہیں کوئی صحیح العقل انسان ایسی بےہودہ باتیں تصور بھی نہیں کرسکتا ارشاد فرمایا۔ ن۔ خدا تعالیٰ ہی اس کی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 10–14

7:۔ ” ولا تطع کل حلاف “ اعادہ صیغہ نہی بعد عہد کی وجہ سے ہے۔ ” حلاف “ بات بات پر جھوٹی قسمیں کھانے والا دنیوی کاموں میں بھی اور دینی امور میں بھی مثلاً غیر اللہ کو پکارتا ہے اور پھر قسمیں کھاتا ہے کہ میں اپنے فلاں معبود کو پکارا تھا اس لیے میرا کام ہوگیا۔ ” مھین “ گھٹیاں اور پست ذہنیت رکھنے والا۔ ” ھماز “ اہل توحید کی عیب چینی کرنے والا۔ ” مشاء بنمیم “ اہل توحید کی چغلی کھانے والا۔ ” مناع للخیر “ بھلائی سے روکنے والا۔ ” معتد “ حد سے گذرنے والا۔ ” اثیم “ بہت بڑا مجرم۔ ” عتل “ بد زبان، کج خلق۔ ” یعد ذلک “ یعنی اس کے علاوہ ” زنیم “ شرو فساد میں معروف۔ من الروح والبیضاوی۔ یہ مکذبین کی صفات ہیں جن…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 8–16

گذشتہ سے پیوستہ (ربط) : جب اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کو نبوت اور رسالت عطا فرمائی اور آپ نے آپ کے ساتھیوں نے وضو کرنا شروع کیا ، نماز پڑھنا شروع کیا تو مکہ کے مشرک سرداروں نے یہ کہنا شروع کردیا کہ العیاذ باللہ یہ لوگ مجنون ہوگئے ہیں۔ پاگلوں کی سی حرکتیں کرتے ہیں۔ ان مشرکین میں ولید بن مغیرہ ، ابوجہل ، اخنس بن شرق وغیرہ زیادہ پیش پیش تھے۔ یہ حضور ﷺ کے بارے میں مجنون کا لافظ استعمال کرتے تھے کہ انکے دماغ ٹھکانے نہیں رہے۔ عجیب و غریب حرکتیں کرتے ہیں۔ شروع سورة میں اللہ تعالیٰ نے اس الزام کا جواب دیا اور ثابت کیا کہ حضور ﷺ اللہ کے فضل و احسان سے دیوانے نہیں ہے۔ بلکہ آپ تو بلند اخلاق پر ہیں۔ اور…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اَنْ كَانَ ذَا مَالٍ وَّبَنِيْنَ۝ 14 ۭ ذو ذو علی وجهين : أحدهما : يتوصّل به إلى الوصف بأسماء الأجناس والأنواع، ويضاف إلى الظاهر دون المضمر، ويثنّى ويجمع، ويقال في المؤنّث : ذات، وفي التثنية : ذواتا، وفي الجمع : ذوات، ولا يستعمل شيء منها إلّا مضافا، قال : وَلكِنَّ اللَّهَ ذُو فَضْلٍ [ البقرة/ 251] ، وقال : ذُو مِرَّةٍ فَاسْتَوى [ النجم/ 6] ، وَذِي الْقُرْبى [ البقرة/ 83] ، وَيُؤْتِ كُلَّ ذِي فَضْلٍ فَضْلَهُ [هود/ 3] ، ذَوِي الْقُرْبى وَالْيَتامی [ البقرة/ 177] ، إِنَّهُ عَلِيمٌ بِذاتِ الصُّدُورِ [ الأنفال/ 43] ، وَنُقَلِّبُهُمْ ذاتَ الْيَمِينِ وَذاتَ الشِّمالِ [ الكهف/ 18] ، وَتَوَدُّونَ أَنَّ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 9–16

ترکیب : فیدھنون عطف علی تدھن داخل فی حیزلووھو مبتداء محذوف ای فھم یدھنون و جواب لومحذوف وکذا مفعول ودّوا ای ودوا اوھانک لوتدھن فیدھنون ویمکن ان یکون فیدھنون مع المبتداء المحذوف جواب لووالشرط والجزاء الجملۃ مفعول ودوا وفی بعض المصاحف فید ھنوا بحذف النون علی انہ جواب التمنی المفھوم من ودوا ان کان الخ بالفتح مصدریۃ متعلق بقولہ ولاتطع ای لاتطع من ھذہ مثالبہ لان کان متمولا مستظہرا بالبنین۔ ھذا قول الفراء والزجاج و قریٔ ان بالکسر علی الشرط دجواب الشرط محذوف دل علیہ اذاتتلٰی ای ان کان ذومال یکفراولاتطع ایھا المخاطب کل حلاف شارطایسارہ اذاشرط قال جوابہ۔ تفسیر : اول بار آنحضرت ﷺ کو کفار کی اطاعت سے منع…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 10–14

وَلاَ تُطِعْ کُلَّ حَلاَّ فٍ مَّھِیْنٍ ۔ ھَمَّازٍ مَّشَّآئٍ م بِنَمِیْمٍ ۔ مَّـنَّاعٍ لِّلْخَیْرِ مُعْتَدٍ اَثِیْمٍ ۔ عُتُلٍّ م بَعْدَ ذٰلِکَ زَنِیْمٍ ۔ اَنْ کَانَ ذَا مَالٍ وَّ بَنِیْنَ ۔ (القلم : 10 تا 14) (اور آپ ہرگز بات نہ سنیں بہت قسمیں کھانے والے ذلیل آدمی کی۔ اشارہ باز چغلیاں کھانے والے، لگائی بجھائی کرنے والے۔ بھلائی سے روکنے والے، حد سے تجاوز کرنے والے، حق مارنے والے کی۔ بہت سنگدل مزیدبرآں بداصل کی۔ اس وجہ سے کہ وہ بہت مال و اولاد والا ہے۔ ) مکذبین کی قیادت کا اصل چہرہ دکھایا گیا ہے وَلاَ تُطِعْ کُلَّ حَلاَّ فٍ مَّھِیْنٍ … اس سے پہلے سابقہ سے پیوستہ آیت میں آنحضرت ﷺ سے فرمایا گیا کہ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 10–16

فہم القرآن ربط کلام : اہل مکہ قرآن مجید کے دلائل کا جواب نہ پا کر آپ ﷺ کو مجنون کہتے تھے اس موقع پر ان کے اس الزام کا صرف یہ جواب دیا گیا کہ عنقریب وقت آئے گا کہ جب یہ دیکھ لیں گے کہ مجنون کون ہے۔ آپ ﷺ کو حقیقت بتلانے اور تسلی دینے کے لیے ارشاد ہوا کہ آپ کا رب خوب جانتا ہے کہ کون اس کے راستے سے بھٹک گیا اور کون ہدایت یافتہ ہے۔ لہٰذا آپ کو جھوٹے لوگوں کے پیچھے لگنے کی بجائے اپنا کام پوری مستعدی کے ساتھ جاری رکھنا چاہیے اور اس میں کسی قسم کی مداہنت اختیار نہیں کرنی چاہیے۔ مفسرین کا خیال ہے کہ یہ آیات ولید بن مغیرہ، اسود بن یغوث اور اخنس بن شریک میں سے کسی ایک کے بارے میں نازل ہوئیں کیونکہ قرآن…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

14 : اَنْ کَانَ ذَا مَالٍ وَّ بَنِیْنَ (اس سبب سے کہ وہ مال و اولاد والا ہو) یہ ولا تطع سے متعلق ہے یعنی ان معایب کے ہوتے ہوئے اس کی اتباع اس بنا پر مت کرو کہ وہ مالی وسعت رکھتا ہے۔ نمبر 2۔ اور یہ بھی درست ہے کہ یہ مابعد سے متعلق ہو۔ اس وجہ سے کہ وہ مال و اولاد والا تو ہماری آیات کی تکذیب کرتا ہے۔ اس پر اذا تتلٰی دلالت کر رہا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

عتل کی مختلف تفاسیر 13 ۔” عتل “ العتل سخت مزاج ظالم۔ حسن (رح) فرماتے ہیں فحش گو بد اخلاق۔ فراء (رح) فرماتے ہیں وہ باطل میں سخت جھگڑنے والا۔ کلبی (رح) فرماتے ہیں اپنے کفر میں سخت اور ہر سخت چیز عرب کے نزدیک عتل ہے اور اس کی اصل العتل سے ہے وہ سختی کے ساتھ دفع کرنا۔ عبید بن عمیر کہتے ہیں العتل بہت زیادہ کھانے پینے والا سخت طاقتور میزان میں ایک جو کے برابر وزن نہ رکھے گا۔ فرشتہ ان لوگوں میں سے ستر ہزار کو ایک دھکے سے جہنم میں ڈال دے گا۔ ” بعد ذلک “ اس کے ساتھ یعنی جو ہم نے بیان کیا اس کے ساتھ۔ ” زنیم “ اور وہ نسب میں شبہ کی وجہ سے کسی قوم کے ساتھ نسب ملایا گیا ہو۔ حالانکہ ان میں سے نہ ہو۔ زنیم…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 8–16

8۔ 16۔ اوپر ذکر تھا کہ مکہ کے مشرکوں میں سے کوئی شخص اگر آداب دنیا کے برخلاف کچھ کہے تو باقتضا حسن اخلاق اس سے درگزر بہتر ہے ان آیتوں میں اس کی صراحت فرمائی کہ یہ مشرک لوگ تو یہ چاہتے ہیں کہ ان کو شرک پر اڑے رہنے سے کوئی نہ روکے تو وہ بھی مسلمانوں کی ایذا کم کردیں لیکن اللہ تعالیٰ کو اصلاح دین منظور ہے اس لئے دین کی خرابی کی کوئی بات ان میں سے کوئی شخص کہے تو وہ ہرگز نہ سننی جائے اور اس کے سننے میں کسی طرح کی مدارات ان لوگوں کے ساتھ نہ برتی جائے وہ دین کی خرابی کی باتیں ایسی ہی ہیں جیسے ان لوگوں نے ایک یہ بات کہی تھی کہ کچھ دنوں تک مسلمان ہمارے بتوں کی بڑائی مان لیں تو ہم بھی اتنے ہی دنوں تک…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 13–16

(عتل بعد ذالک) یعنی درشت خو، بدخلق اور سخت طبیعت رکھنے والا جو حق کے سامنے سرتسلیم خم نہیں کرتا اس کے ساتھ ساتھ وہ (زنیم) بدذات ہے، یعنی مجہول النسب جس کی کوئی اصل ہے نہ ایسا مادہ کہ جس سے کوئی بھلائی منتج ہوتی ہے بلکہ اس کے اخلاق بدترین اخلاق ہیں۔ اس سے فلاح کی امید نہیں اور اس میں شر کی علامت ہے جس سے وہ پہچانا جاتا ہے۔ ان تمام آیات کریمہ کا حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر اس شخص کی اطاعت سے روکا ہے جو نہایت کثرت سے قسمین کھانے والا، سخت جھوٹا، خسیس النفس، نہایت بداخلاق، خاص طور پر وہ ایسے برے اخلاق کا مالک ہے جو خود پسند، مخلوق اور حق کے مقابلے اور حق کے مقابلے میں تکبر اور استکبار، غیبت،…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 13–52

قول باری ہے (عتل بعد ذلک زنیم، جفا کار اور ان سب عیوب کے ساتھ بداصل ہے) پہلے لفظ کے بارے میں ایک قول ہے کہ ہٹے کٹے اور بدخلق نیز سفاک انسان کو عتل کہا جاتا ہے۔ زنیم اس ولدالزنا کو کہا جاتا ہے جو دراصل ایک خاندان کا فرد نہ ہو مگر اس میں شامل ہوگیا ہو۔ ہمیں عبدالباقی بن قانع نے روایت بیان کی، انہیں حسین بن اسحاق التستری نے، انہیں الولیدبن عتبہ نے، انہیں الولید بن مسلم نے، انہیں ابو شیبہ ابراہیم بن عثمان نے عثمان بن عمیر البجلی سے، انہوں شہرین حوشب سے، انہوں نے حضرت شداد بن اوس سے کہ حضور ﷺ نے فرمایا (لا یدخل الجنۃ جو اظ ولا جعظری ولا عتل زنیم) میں نے دریافت کیا کہ جو اظ کسے کہتے ہیں۔ انہوں نے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 13–14

10 فساد کردار کے سبب کی نشاندہی کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس بناء پر کہ وہ مال اور اولاد والا ہے۔ اس صورت میں ان کان کا تعلق فلا تطع سے ہوگا اور مطلب یہ ہوگا کہ محض اس بناء پر اس کا کہنا نہیں ماننا کہ وہ مال اور اولاد والا ہے، کہ ایسے شخص کا مال و اولاد قیامت کے روز اس کے کچھ بھی کام نہ آسکے گا، جیسا کہ دوسرے مقام پر فرمایا گیا۔ " یوم لاینفع مال ولاینون الا من اتی اللہ بقلب سلیم " (الشعراء : 88) (کشاف، مراغی، محاسن اور معارف، وبیان القرآن وغیرہ) اور دوسرا احتمال اس میں یہ بھی ہے کہ اس کا تعلق اگلی آیت کریمہ سے ہو، اس صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ ایسا شخص محض اس بناء پر کہ وہ مال اور…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–16

رسول کریم ﷺ کا خلق عظیم اور کفار کی اطاعت سے بچنے کا حکم تشریح : جیسا کہ پہلے بھی سورتوں میں مختلف چیزوں کی قسم مختلف چیزوں کے صحیح ثابت کرنے کے لیے کھائی گئی ہے تو یہاں نبی پاک ﷺ کے حسن کردار اور صفات کے بلند پایہ ہونے کے لیے قلم و قرآن کی قسم کھائی گئی ہے۔ آپ ﷺ تو مجسم صفات ہیں قرآن و احادیث میں جگـہ جگہ آپ ﷺ کی جملہ صفات کا ذکر بڑے مستند حوالوں سے کیا گیا ہے۔ کیوں نہ ہو آپ ﷺ دنیا کے بہترین انسان اور پیغمبر ہیں آپ ﷺ رحمت حیا، جودوسخا، وفا، صبر، زہد وتقویٰ حسن سلوک اور حسن تادیب کے لحاظ سے بلکہ ہر لحاظ سے بےمثال ہیں آپ ﷺ کو انسان کامل ہونے کا رتبہ حاصل ہے۔ آپ ﷺ محسن انسانیت اور رحمۃ للعٰلمین…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–33

آیات 1 تا 23۔ اسرار ومعارف۔ قسم ہے قلم کی اور جو کچھ قلم سے لکھاجاتا ہے یعنی آپ ﷺ نے امی ہونے کے باوجود علم کے وہ دریابہائے کہ خود قلم اور اس کی تحریر آپ کے کامل عقل مند اور بےمثال صاحب خرد ہونے پر دال ہے۔ مجنون۔ جب آپ ﷺ نے اعلان نبوت فرما کر ساری انسانیت کو دعوت حق دے دی اور تمام انسانوں کے لیے ایک عقیدہ اور ایک نظام حیات تو مشرکین نے اسے معاذ اللہ پاگل پن قرار دیا کہ دنیا کی عظیم الشان حکومتیں ساری دنیا پہ ایک نظام رائج نہ کرسکیں۔ پھر آپ ﷺ امی ہیں ، اکیلے ہیں یا چند مسلمان جن کی بظاہر کوئی حیثیت نہیں پھر اقوام عالم کے مزاج الگ ، فکر الگ ، رنگ ونسل اپنی اپنی ، غذا الگ زبانیں الگ موسم اور…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(68:14) ان کان ذامال وبنین : ان مصدریہ ہے اس سے قبل لا تعلیل محذوف ہے ای لان کان ذامال ۔۔ الخ۔ یعنی اس وجہ سے اس کا کہنا نہ مان لینا کہ وہ مالدار اور بیٹوں والا ہے ذامال خبر ہے کان کی، وبنین اس کا عطف ذامالپر ہے اور یہ خبر دوم ہے کان کی

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–33

لغات القرآن۔ یسطرون۔ وہ لکھتے ہیں۔ ممنون۔ منقطع ہونے والا۔ ختم ہونے والا۔ تبصر۔ تو دیکھے گا۔ المفتون۔ دیوانہ۔ ودوا۔ وہ پسند کرتے ہیں۔ تدھن۔ تو خوشامد کرے۔ تو نمر پرے۔ حلاف۔ بہت قسمیں کھانے والا۔ مھین۔ ذلیل کمینہ۔ ھماز۔ طعنے دینے والا۔ مشائ۔ پھرنے والے۔ نیمیم۔ چغل خور۔ باتیں لگانے والے۔ مناع۔ روکنے والا۔ معتد۔ حد سے بڑھنے والا۔ اثیم۔ گناہ گار۔ عتل۔ اکھڑ۔ اجد۔ زنیم۔ بدنام۔ نسیم۔ ہم داغ دیں گے۔ الخرطوم۔ ناک۔ دم۔ سونڈ۔ تشریح : سورة القلم کا آغاز ” ن “ سے کیا گیا ہے جو حروف مقطعات میں سے ایک حروف ہے۔ اس کے کیا معنی ہیں ؟ اس کی تفصیل اس سے پہلی ابتدائی سورتوں میں آچکی ہے کہ ان حروف کے معنی اور مراد…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

(ف 1) یعنی یہ باتیں اسی گھمنڈ اور غرور میں کرتا ہے کہ مال اور اولاد والا ہے ، نوہزار مثقال چاندی اس کا مال محفوظ تھا دس لڑکے تھے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 9–15

[5] یعنی کفار چاہتے ہیں کہ تم بت پرستی کو برا نہ کہو تو یہ بھی تمہارے دین کی اس قدر مخالفت نہ کریں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 13–16

زنیم کے معنے 1: ان آیات سے غرض یہ ہے ۔ کہ جب یہ واقعہ ہے ۔ کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو ذہن اور فکر کے کملات کے ساتھ حسن اخلاق سے بھی بدرجہ اتم نوازا ہے اور باوجود اس کے مکہ والے نہیں مانتے ۔ اور ذایل وخبائث سے آلودہ ہیں ۔ آپ ان کے خیالات کا قطعاً احترام نہکریں ۔ اور نہ ان کے جذبات کی ربابیت محلوظ رکھیں ۔ ان کی خواہش ہے ۔ کہ کس طرح آپ کو معاذ اللہ مداہنت پر آمادہ کرلیں ۔ اور اس چیز پر راضی کرلیں ۔ کہ آپ ان کے عقائد و افکار کی مدہیت نہ کریں ۔ اور اس ضمن میں کامل رواداری سے کام لیں ۔ مگر ہمارا فیصلہ ہے ۔ کہ آپ ان کے ایک ایک عیب کو کھلے بندوں بیان کردیں ۔ اور ان کو بتادیں ۔ ان اخلاق کے ساتھ یہ…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 13–15

ف 2۔ زنیم لغت عرب میں اس شخص کو کہتے ہیں جو اپنے آپ کو کسی دوسری قوم یا خاندان کی طرف منسوب کرے یہ آیت ولید بن مغیرہ مخزومی کے بارے میں نازل ہوئی تھی جس میں دوسرے ذمائم کے علاوہ یہ برائی بھی تھی کہ اپنے آپ کو ایک اور خاندان کی طرف منسوب کرتا تھا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

ایسا اس لئے ہوتا ہے کہ یہ لوگ مالدار اور صاحب اولاد ہوتے ہیں 14 ؎ ایسے ذلیل اور رسوائے زمانہ مشہور و معروف لوگ ہمیشہ وہی ہوتے ہیں جنہوں نے حکومت کے خزانہ سے حیلوں بہانوں کے ساتھ لاکھوں ، اربوں ، کھربوں روپیہ بٹورا ہوتا ہے اور ان کے اس طرح روپیہ بٹورنے کے عجیب عجیب ڈھنگ ہیں اور مختلف طریقوں سے یہ مال کو جمع کرتے اور سمیٹتے رہتے ہیں اور عوام کی آنکھوں میں اس طرح دھول جھونکتے ہیں کہ عوام ان کو نہایت شریف اور وضع دار لوگ تصور کرتے ہیں اور ان کو اپنا لیڈر اور راہنما ماننے پر مجبور ہوتے ہیں۔ ان کے بڑے بڑے پنتھ ہیں ، کبھی یہ لوگ عوام کی نگاہ میں ظالم ہوتے ہیں اور کبھی مظلوم اور یہ ساری ان کی سحرکاری…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 10–15

لَا تُطِعْ كُلَّ حَلَّافٍ مَّهِينٍ ﴿10﴾ هَمَّازٍ مَّشَّاءٍ بِنَمِيمٍ ﴿11﴾ مَّنَّاعٍ لِّلْخَيْرِ‌ مُعْتَدٍ أَثِيمٍ ﴿12﴾ عُتُلٍّ بَعْدَ ذَٰلِكَ زَنِيمٍ ﴿13﴾ (And do not obey any contemptible one who swears much, a slanderer who goes about with calumnies, one who prevents good, [ and who is ] transgressor, sinful, harsh, [ and ] after all that, notorious,.. _68:10-13) The word zanim refers to 'a person whose legitimate birth from a father is not proved'. The person referred to in this verse was of doubtful birth or his lineage was uncertain. The preceding verse prohibited any compromise with…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 14–15

10 This sentence may be connected with the preceding theme as well as with the following sentence. In the first case, it would mean: "Do not yield to the influence of such a person just because he has plenty of wealth and children. " In the second: "He has become proud because he possesses abundance of wealth and children; so when Our Revelations are recited to him, he says, "These are tales of ancient times."

Read the full tafseer →