Explained with ayahs 8–16
زیادہ قسمیں کھانے والے زیادہ جھوٹ بولتے ہیں
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ اے نبی ﷺ جو نعمتیں ہم نے تجھے دیں جو صراط مستقیم اور خلق عظیم ہم نے تجھے عطا فرمایا اب تجھے چاہئے کہ ہماری نہ ماننے والوں کی تو نہ مان، ان کی تو عین خوشی ہے کہ آپ ذرا بھی نرم پڑیں تو یہ کھل کھیلیں اور یہ بھی مطلب ہے کہ یہ چاہتے ہیں کہ آپ ان کے معبودان باطل کی طرف کچھ تو رخ کریں حق سے ذرا سا تو ادھر ادھر ہوجائیں، پھر فرماتا ہے کہ زیادہ قسمیں کھانے والے کمینے شخص کی بھی نہ مان چونکہ جھوٹے شخص کو اپنی ذلت اور کذب بیانی کے ظاہر ہوجانے کا ڈر رہتا ہے، اس لئے وہ قسمیں کھا کھا کر دوسرے کو اپنا یقین دلانا چاہتا ہے لگاتار قسموں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–15
سورة الْقَلَم 10
اس فقرے کا تعلق اوپر کے سلسلہ کلام سے بھی ہوسکتا ہے اور بعد کے فقرے سے بھی۔ پہلی صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ ایسے آدمی کی دھونس اس بنا پر قبول نہ کرو کہ وہ بہت مال اولاد رکھتا ہے۔ دوسری صورت میں معنی یہ ہوں گے کہ بہت مال اولاد والا ہونے کی بنا پر وہ مغرور ہوگیا ہے، جب ہماری آیات اس کو سنائی جاتی ہیں تو کہتا ہے یہ اگلے وقتوں کے افسانے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–16
وَلَا تُطِعْ كُلَّ حَلَّافٍ مَّهِيْنٍ 10 ۙهَمَّازٍ مَّشَّاۗءٍۢ بِنَمِيْمٍ 11 ۙمَّنَّاعٍ لِّلْخَيْرِ مُعْتَدٍ اَثِيْمٍ 12 ۙعُتُلٍّۢ بَعْدَ ذٰلِكَ زَنِيْم (آپ بات نہ مانیں ہر ایسے شخص کی جو بہت قسمیں کھانے والا ہو ذلیل ہو اور لوگوں پر عیب لگانے والا ہو غیبت کرنے والا ہو چغلخوری کرنے والا ہو، نیک کاموں سے لوگوں کو روکنے والا ظلم وجور میں حد سے بڑھنے والا ہو بکثرت گناہ کرنے والا اور بہت قسمیں کھانے والا کج خلق بخیل ہو اور ان سب صفات رذیلہ کے ساتھ وہ زنیم بھی ہو۔ زنیم کے معنے وہ شخص جس کا نسب کسی باپ سے ثابت نہ ہو۔ جس شخص کے یہ اوصاف بیان کئے گئے ہیں وہ ایسا ہی غیر ثابت النسب تھا۔
پہلی آیت…
Read the full tafseer →غرور و استکبار کی تصویر:
یہ اس غرور و استکبار کی تصویر ہے جس میں یہ لوگ مبتلا ہوئے۔ فرمایا کہ جب ان قوموں کی سرگزشتیں سنائی جاتی ہیں جو انہی کی طرح غرور و استکبار میں مبتلا ہوئیں اور اس کے نتیجہ میں تباہ کر دی گئیں تو ان سے سبق لینے کے بجائے ان کا مذاق اڑاتے ہیں کہ یہ تو پچھلی قوموں کے فسانے ہیں، ان کو حاضر سے کیا تعلق! مطلب یہ ہے کہ اس قسم کے قصے سنانے والوں کو نہ ہم نبی ماننے کے لیے تیار ہیں اور نہ ان افسانوں سے ہم مرعوب ہی ہونے والے ہیں۔ اس امر کو کسی کی تصدیق یا تکذیب سے کیا تعلق!
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–15
14۔ 1 یعنی مذکورہ اخلاقی قباحتوں کا ارتکاب اس لئے کرتا ہے کہ اللہ نے اسے مال اور اولاد کی نعمتوں سے نوازا ہے یعنی وہ شکر کی بجائے کفران نعمت کرتا ہے، یعنی جس شخص کے اندر یہ خرابیاں ہوں، اس کی بات صرف اس لئے مان لی جائے کہ وہ مال اور اولاد رکھتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–15
5: یعنی صرف مال دار اور بڑے خاندان والا ہونے کی وجہ سے ایسے آدمی کی باتوں میں نہیں آنا چاہیے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–15
اس کے بعد یہ بتایا جاتا ہے کہ ان ذاتی صفات کے علاوہ اس نے دین اسلام کے خلاف یہ موقف جو اختیار کررکھا ہے یہ اس لئے ہے کہ اللہ نے اس کو مال و دولت اور اولاد دی ہے۔
ان کان .................... الاولین (51) (86 : 41۔ 51) ” اس بنا پر کہ وہ بہت مال اور اولاد رکھتا ہے “۔ جب ہماری آیات اس کو سنائی جاتی ہیں تو کہتا ہے یہ تو اگلے وقتوں کے افسانے ہیں۔ کیا ہی بری بات ہے کہ ایک انسان کو اللہ مال و دولت دے اور وہ اس کے بدلے میں ، اللہ کی آیات کے ساتھ استہزا کرے۔ اور اللہ کے رسول کے ساتھ مذاق کرے۔ اور اللہ کے دین پر دست درازی کرے صرف یہی ایک صفت مذکورہ بالا تو صفات سے زیادہ بھاری ہے۔
یہی وجہ ہے کہ سخت توہین…
Read the full tafseer →13 یعنی اللہ کی باتوں کو یہ کہہ کر جھٹلاتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–15
آیت 14{ اَنْ کَانَ ذَا مَالٍ وَّبَنِیْنَ۔ } ”صرف اس گھمنڈ پر کہ وہ مال و دولت اور بیٹوں والا ہے۔“
اللہ تعالیٰ نے ولید بن مغیرہ کو کثیر مال و دولت کے علاوہ بہت سے بیٹوں سے بھی نواز رکھا تھا۔ اور بیٹے بھی ایسے کہ ان میں سے ایک کو قبول اسلام کے بعد ”سَیْفٌ مِنْ سُیُوْفِ اللّٰہِ“ کا مرتبہ ملا۔ یعنی حضرت خالد بن ولید رض !
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–15
12 یعنی ان تمام تر قباحتوں کے باوجود کیا صرف اس لئے اس کی بات مان لیجائے کہ وہ خاصا مال دار اور صاحب اولاد ہے۔ صاحب مال اور اولاد ہونا کوئی ایسی صفات نہیں کہ ایسے شخص کی اطاعت کی جائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
9۔ یعنی اس کے کفر خبیثانہ کی پاداش میں اس کے چہرہ اور ناک کو داغدار کردیں گے۔ (آیت) ” الخرطوم “ خرطوم ہاتھی کی سونڈ کو کہتے ہیں۔ انسان کی ناک یا چہرہ کے لئے اس کا استعمال محل ذم وتحقیر پر ہے۔ قال المبرد الخرطوم ھھنا الانف وانما ذکر ھذا اللفظ علی سبیل الا ستخفاف بہ (کبیر) والخرطوم انف الفیل فسمی انفہ خرطوما استقباحالہ (راغب) (آیت) ” سنسمہ “۔ س یعنی ” عنقریب “ کو حشر سے متعلق سمجھا گیا ہے۔ قال ابو العالیۃ و مجاھد اے نسود وجھہ فنجعل لہ علما فی الاخرۃ یعرف بہ (معالم) منھم من قال ھذا الوسم یحصل فی الاخرۃ (کبیر) بعض اقوال اس دنیا سے متعلق بھی ہیں۔ قال ابن عباس سنخطمہ بالسیف وقد فعل ذلک یوم بدر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–16
ولاتطع کل حلاف مھین (الآیۃ) پہلی آیت میں عام کفار کی بات نہ ماننے اور دین کے معاملہ میں ان کی وجہ سے کوئی مداہنت نہ کرنے کا عام حکم تھا، اس آیت میں ایک خاص شریر کافر ولید بن مغیرہ کی صفات رذیلہ بیان کر کے اس سے اعراض کرنے اور اس کی بات نہ ماننے کا خصوصی حکم دیا گیا ہے، اس لئے کہ حق بات میں مداہنت، حکمت تبلیغ کے لئے سخت نقصان دہ ہے، مذکورہ آیت میں جو نو اوصاف رذیلہ بیان کئے گئے ہیں ان کے بارے میں راجح قول تو یہی ہے کہ یہ ولید بن مغیرہ کے اوصاف ہیں اس کے علاوہ بھی کئی اقوال ہیں، کسی نے ان اوصاف کا مصداق اسود بن عبد یغوث کو اور کسی نے اخنس بن شریق کو قرار دیا ہے، تفسیر زاہدی وغیرہ میں ہے کہ ولید…
Read the full tafseer →اذا تتلی علیہ ایاتنا قال اساطیر الاولین . جب اس کے سامنے اللہ کا کلام پڑھا جاتا ہے تو وہ کہتا ہے
کہ یہ تو پرانے لوگوں کے جھوٹے قصے لوگوں نے لکھ رکھے ہیں۔ اساطیر : بےتکی باتیں۔ (قاموس)
Read the full tafseer →جب قرآن پاک کی آیات اس کے سامنے پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو وہ کہتا ہے کہ یہ بےبنیاد باتیں ہیں جو پرانے لوگوں سے منقول چلی آتی ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–15
اَنْ کَانَ ذَا مَالٍ وَّبَنِیْنَ :”ان کان“ سے پہلے لام محذوف ہے ، یعنی ”لان کان“ یہ ”لا تطع“ کے متعلق ہے ، یعنی مض اس لیے آپ اس کا کہنانہ مانیں کہ وہ مال اور بیٹوں والا ہے۔ دوسرا معنی یہ ہے کہ وہ ہماری آیات کو پہلے لوگوں کی کہانیاں کہہ کر محض اس لیے جھٹلاتا ہے کہ وہ مال اور بیٹوں والا ہے ، اگر ہم اسے مال اور بیٹے عطاء نہ کرتے تو ایسا تکبر اور ایسی سرکشی اختیار نہ کرتا۔ اس صورت میں یہ بعد والی آیت سے متعلق ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–15
ان کان ذا مال وبنین۔ ابو جعفر، ابن عامر، ابوحیوہ، مغیرہ اور اعرج نے ان کان ایک ہمزہ ممدودہ کے ساتھ پڑھا ع ہے کہ یہ کلام استفہامیہ ہے۔ مفضل، ابوبکر اور حمزہ نے ان کان دو ہمزوں کے ساتھ جو اپنی جگہ پر ثابت ہیں کے ساتھ پڑھا ہے باقی قراء نے ایک ہمزہ کے ساتھ پڑھا ہے اس بنا پر کہ یہ کلام استفہامیہ نہیں جس نے ایک ہمزہ ممدودہ یا دو ہمزہ محققہ کے ساتھ پڑھا ہے تو اس صورت میں کلام استفہامیہ ہوگی۔ اس سے مراد تو بیخ ہے اس کے لئے اچھا ہوگا کہ وہ زنیم پر وقف کرے اور ان کان سے کلام کا آغاز کرے معنی یہ بنے گا کیا اس لئے کہ وہ صاحب مال اور صاحب اولاد ہے آپ ﷺ اس کی اطاعت کرتے ہیں۔ یہ تقدیر کلام بھی جائز ہے الان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–15
41۔ عبد بن حمید نے عاصم (رح) سے روایت کیا اس کو یوں پڑھا آیت ان کان ذامال وبنین دو ہمزوں کے ساتھ جن میں ایک ہمزہ استفہامیہ ہے۔
42۔ ابن ابی حاتم والطبرانی وابن مردویہ والبیہقی نے شعب الایمان میں عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا جو شخص اس حال میں مرگیا کہ وہ لوگوں میں غیب کرنے والا نکتہ چینی کرنے والا اور عیب تلاش کرنے والا مشہور تھا۔ تو قیامت کے دن اس کی یہ علامت ہوگی کہ اللہ تعالیٰ اس کی ناک پر داغ لگادیں گے ناک کے دونوں کناروں سے۔
Read the full tafseer →[اِذَا تُتْلٰى عَلَيْهِ : جب بھی پڑھ کر سنائی جاتی ہیں اس کو ][ اٰيٰتُنَا : ہماری آیتیں ][ قَالَ : تو وہ کہتا ہے ][ اَسَاطِيْرُ الْاَوَّلِيْنَ : پہلے لوگوں کی داستانیں ہیں ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–16
آپ کی تکذیب کرنے والوں کی بات نہ مانیے، وہ آپ سے مداہنت کے خواہاں ہیں
یہ نو آیات کا ترجمہ ہے ان میں سے پہلی دو آیتوں میں یہ فرمایا کہ آپ تکذیب کرنے والوں کی بات نہ مانیے وہ چاہتے ہیں کہ آپ کچھ نرم پڑجائیں تو وہ بھی آپ کے معاملہ میں نرمی اختیار کرلیں، اہل باطل کا یہ طریقہ رہا ہے کہ خود تو حق کی طرف جھکتے نہیں ان کی پہلی کوشش یہ ہوتی ہے کہ داعیان حق کو دعوت دیں کہ تم اپنی دعوت چھوڑ دو اور ہمارے کفر و گمراہی میں شریک ہوجاؤ، جب اس پر قابو نہیں چلتا تو کہتے ہیں کہ اچھا آپ کچھ نرم پڑجائیں اپنی دعوت اور دعوت کے کاموں میں نرمی اختیار کرلیں ہم بھی اپنی مخالفت میں اور سختی میں کمی کردیں گے رسول اللہ ﷺ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–16
بیان عظمت رسول اکرم ﷺ وتلقین صبر و استقامت :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” ن والقلم وما یسطرون ........ الی .......... سنسمہ علی الخرطوم “۔
(ربط) گزشتہ سورت میں خداوند عالم کی خالقیت کے دلائل ذکر کئے گئے اور یہ کہ اس کی قدرت کائنات کو محیط ہے اس کے احاطہ علم وقدرت سے کوئی مجرم نہیں نکل سکتا تو اب اس سورت میں آنحضرت ﷺ کی رسالت ونبوت کو ثابت فرمایا گیا اور یہ کہ آپ ﷺ کی شان میں گستاخی کرنے والے مجرمین خدا کے عذاب سے ہرگز نہیں بچ سکتے اور جو کچھ وہ آپ ﷺ پر اعتراض کرتے ہیں وہ سب لغو اور بےہودہ باتیں ہیں کوئی صحیح العقل انسان ایسی بےہودہ باتیں تصور بھی نہیں کرسکتا ارشاد فرمایا۔
ن۔ خدا تعالیٰ ہی اس کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
8:۔ ” اذا تتلی علیہ “ یہ شکوی ہے، جب ایسے ذمیم اور بہر بدی موصوف کے سامنے ہماری آیتیں پڑھی جاتی ہیں تو کہہ دیتا ہے کچھ نہیں یہ تو محض گذشتہ لوگوں کے قصے کہانیاں ہی ہیں۔ ” سنسمہ علی الخرطوم “ ان بد قماشوں کے لیے وعید ہے دنیوی۔ یہ لوگ پیغمبر (علیہ السلام) کے اتباع سے ناک بھوں چڑھاتے اور آپ کی پیروی میں شرم و عار محسوس کرتے۔ اس لیے ہم دنیا ہی میں ان کو ذلیل و رسوا کر کے ان کی بڑائی خاک میں ملا دیں گے اس طرح یہ تذلیل و تحقیر سے کنایہ ہے۔ وقیل المعنی سنلحق بہ عار وسبۃ حتی یکون کمن وسم علی انفہ (قرطبی ج 18 ص 237) ۔ یا یہ وعید اخروی ہے یعنی جس ناک سے وہ پھوں پھوں کرتا ہے اور سمجھتا ہے کہ محمد ﷺ کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–16
گذشتہ سے پیوستہ (ربط) :
جب اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کو نبوت اور رسالت عطا فرمائی اور آپ نے آپ کے ساتھیوں نے وضو کرنا شروع کیا ، نماز پڑھنا شروع کیا تو مکہ کے مشرک سرداروں نے یہ کہنا شروع کردیا کہ العیاذ باللہ یہ لوگ مجنون ہوگئے ہیں۔ پاگلوں کی سی حرکتیں کرتے ہیں۔ ان مشرکین میں ولید بن مغیرہ ، ابوجہل ، اخنس بن شرق وغیرہ زیادہ پیش پیش تھے۔ یہ حضور ﷺ کے بارے میں مجنون کا لافظ استعمال کرتے تھے کہ انکے دماغ ٹھکانے نہیں رہے۔ عجیب و غریب حرکتیں کرتے ہیں۔ شروع سورة میں اللہ تعالیٰ نے اس الزام کا جواب دیا اور ثابت کیا کہ حضور ﷺ اللہ کے فضل و احسان سے دیوانے نہیں ہے۔ بلکہ آپ تو بلند اخلاق پر ہیں۔ اور…
Read the full tafseer →اِذَا تُتْلٰى عَلَيْہِ اٰيٰتُنَا قَالَ اَسَاطِيْرُ الْاَوَّلِيْنَ 15
إذا
إذا يعبّر به عن کلّ زمان مستقبل، وقد يضمّن معنی الشرط فيجزم به، وذلک في الشعر أكثر، و «إذ» يعبر به عن الزمان الماضي، ولا يجازی به إلا إذا ضمّ إليه «ما» نحو :إذ ما أتيت علی الرّسول فقل له
( اذ ا ) اذ ا
۔ ( ظرف زماں ) زمانہ مستقبل پر دلالت کرتا ہے کبھی جب اس میں شرطیت کا مفہوم پایا جاتا ہے تو فعل مضارع کو جزم دیتا ہے اور یہ عام طور پر نظم میں آتا ہے اور اذ ( ظرف ) ماضی کیلئے آتا ہے اور جب ما کے ساتھ مرکب ہو ( اذما) تو معنی شرط کو متضمن ہوتا ہے جیسا کہ شاعر نے کہا ع (11) اذمااتیت علی الرسول فقل لہ جب تو رسول اللہ کے پاس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–16
ترکیب : فیدھنون عطف علی تدھن داخل فی حیزلووھو مبتداء محذوف ای فھم یدھنون و جواب لومحذوف وکذا مفعول ودّوا ای ودوا اوھانک لوتدھن فیدھنون ویمکن ان یکون فیدھنون مع المبتداء المحذوف جواب لووالشرط والجزاء الجملۃ مفعول ودوا وفی بعض المصاحف فید ھنوا بحذف النون علی انہ جواب التمنی المفھوم من ودوا ان کان الخ بالفتح مصدریۃ متعلق بقولہ ولاتطع ای لاتطع من ھذہ مثالبہ لان کان متمولا مستظہرا بالبنین۔ ھذا قول الفراء والزجاج و قریٔ ان بالکسر علی الشرط دجواب الشرط محذوف دل علیہ اذاتتلٰی ای ان کان ذومال یکفراولاتطع ایھا المخاطب کل حلاف شارطایسارہ اذاشرط قال جوابہ۔
تفسیر : اول بار آنحضرت ﷺ کو کفار کی اطاعت سے منع…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
اِذَا تُتْلٰی عَلَیْہِ اٰیٰـتُـنَا قَالَ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ ۔ سَنَسِمُہٗ عَلَی الْخُرْطُوْمِ ۔ (القلم : 15، 16)
(جب ہماری آیات اس کو پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو کہتا ہے، یہ تو اگلوں کے فسانے ہیں۔ ہم عنقریب اس کی سونڈ پر داغیں گے۔ )
مال و زر اور اولاد کی فراوانی نے اس کے مالک کے دل و دماغ میں جو غرور اور تکبر پیدا کیا ہے اس کا نتیجہ یہ ہے کہ جب اسے ان قوموں کی سرگزشتیں سنائی جاتی ہیں جو ان ہی کی طرح مال و دولت کی محبت میں اندھے ہوگئے اور اسی کو زندگی کا ہدف بنا کر حق کی ہر بات سے اعراض کرنے لگے۔ آخر ان پر اللہ تعالیٰ کا عذاب آیا اور وہ قومیں تباہ کردی گئیں۔ تو ان سے سبق لینے کی بجائے ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–16
فہم القرآن
ربط کلام : اہل مکہ قرآن مجید کے دلائل کا جواب نہ پا کر آپ ﷺ کو مجنون کہتے تھے اس موقع پر ان کے اس الزام کا صرف یہ جواب دیا گیا کہ عنقریب وقت آئے گا کہ جب یہ دیکھ لیں گے کہ مجنون کون ہے۔ آپ ﷺ کو حقیقت بتلانے اور تسلی دینے کے لیے ارشاد ہوا کہ آپ کا رب خوب جانتا ہے کہ کون اس کے راستے سے بھٹک گیا اور کون ہدایت یافتہ ہے۔ لہٰذا آپ کو جھوٹے لوگوں کے پیچھے لگنے کی بجائے اپنا کام پوری مستعدی کے ساتھ جاری رکھنا چاہیے اور اس میں کسی قسم کی مداہنت اختیار نہیں کرنی چاہیے۔
مفسرین کا خیال ہے کہ یہ آیات ولید بن مغیرہ، اسود بن یغوث اور اخنس بن شریک میں سے کسی ایک کے بارے میں نازل ہوئیں کیونکہ قرآن…
Read the full tafseer →15 : اِذَا تُتْلٰی عَلَیْہِ اٰیٰتُنَا (جب اس کے سامنے ہماری آیتیں پڑھکر سنائی جاتی ہیں) آیات سے قرآن مجید مراد ہے۔ قَالَ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ (تو وہ کہتا ہے کہ یہ بےسند باتیں ہیں)
نحو : اس میں قال ؔ عمل نہیں کرتا کیونکہ شرط کا مابعد اپنے ماقبل پر عمل نہیں کرتا۔
قراءت ـ : حمزہ، ابوبکر نے أأن پڑھا ہے۔ کیا اس لئے کہ وہ مال و اولاد والا ہے۔ اس نے جھٹلایا اور تکذیب کی ؟ اَنْ شامی، ، یزید، یعقوب، سہل، نے بلا ہمزہ پڑھا ہے۔ گویا لام اس سے پہلے محذوف ہے یعنی اس وجہ سے اس کی بات نہ مان لینا کہ مال والا ہے۔ علماء نے کہا کہ جب ولید نے نبی اکرم ﷺ پر کاذب ہونے کا عیب دھرا اور نام لے کر المجنون کہا…
Read the full tafseer →14 ۔” ان کان ذامال وبنین “ ابوجعفر، ابن عامر، حمزہ، ابوبکر اور یعقوب رحمہم اللہ نے ” ا ان “ استفہام کے ساتھ پڑھا ہے۔ پھر حمزہ اور ابوبکر رحمہما اللہ نے دو ہمزوں کو تخفیف دی ہے بغیر مد کے اور پہلے ہمزہ کو مدد دی ہے ابو جعفر، ابن عامر اور یعقوب رحمہم اللہ نے اور دوسرے کو لین کے ساتھ پڑھا ہے اور دیگر حضرات نے بغیر استفہام کے خبر کی بناء پر پڑھا ہے۔ پس جس نے استفہام کے ساتھ پڑھا ہے اس کا معنی کیا اب ہے مال اور اولاد والا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–16
8۔ 16۔ اوپر ذکر تھا کہ مکہ کے مشرکوں میں سے کوئی شخص اگر آداب دنیا کے برخلاف کچھ کہے تو باقتضا حسن اخلاق اس سے درگزر بہتر ہے ان آیتوں میں اس کی صراحت فرمائی کہ یہ مشرک لوگ تو یہ چاہتے ہیں کہ ان کو شرک پر اڑے رہنے سے کوئی نہ روکے تو وہ بھی مسلمانوں کی ایذا کم کردیں لیکن اللہ تعالیٰ کو اصلاح دین منظور ہے اس لئے دین کی خرابی کی کوئی بات ان میں سے کوئی شخص کہے تو وہ ہرگز نہ سننی جائے اور اس کے سننے میں کسی طرح کی مدارات ان لوگوں کے ساتھ نہ برتی جائے وہ دین کی خرابی کی باتیں ایسی ہی ہیں جیسے ان لوگوں نے ایک یہ بات کہی تھی کہ کچھ دنوں تک مسلمان ہمارے بتوں کی بڑائی مان لیں تو ہم بھی اتنے ہی دنوں تک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–16
(عتل بعد ذالک) یعنی درشت خو، بدخلق اور سخت طبیعت رکھنے والا جو حق کے سامنے سرتسلیم خم نہیں کرتا اس کے ساتھ ساتھ وہ (زنیم) بدذات ہے، یعنی مجہول النسب جس کی کوئی اصل ہے نہ ایسا مادہ کہ جس سے کوئی بھلائی منتج ہوتی ہے بلکہ اس کے اخلاق بدترین اخلاق ہیں۔ اس سے فلاح کی امید نہیں اور اس میں شر کی علامت ہے جس سے وہ پہچانا جاتا ہے۔
ان تمام آیات کریمہ کا حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر اس شخص کی اطاعت سے روکا ہے جو نہایت کثرت سے قسمین کھانے والا، سخت جھوٹا، خسیس النفس، نہایت بداخلاق، خاص طور پر وہ ایسے برے اخلاق کا مالک ہے جو خود پسند، مخلوق اور حق کے مقابلے اور حق کے مقابلے میں تکبر اور استکبار، غیبت،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–52
قول باری ہے (عتل بعد ذلک زنیم، جفا کار اور ان سب عیوب کے ساتھ بداصل ہے) پہلے لفظ کے بارے میں ایک قول ہے کہ ہٹے کٹے اور بدخلق نیز سفاک انسان کو عتل کہا جاتا ہے۔ زنیم اس ولدالزنا کو کہا جاتا ہے جو دراصل ایک خاندان کا فرد نہ ہو مگر اس میں شامل ہوگیا ہو۔
ہمیں عبدالباقی بن قانع نے روایت بیان کی، انہیں حسین بن اسحاق التستری نے، انہیں الولیدبن عتبہ نے، انہیں الولید بن مسلم نے، انہیں ابو شیبہ ابراہیم بن عثمان نے عثمان بن عمیر البجلی سے، انہوں شہرین حوشب سے، انہوں نے حضرت شداد بن اوس سے کہ حضور ﷺ نے فرمایا (لا یدخل الجنۃ جو اظ ولا جعظری ولا عتل زنیم) میں نے دریافت کیا کہ جو اظ کسے کہتے ہیں۔ انہوں نے…
Read the full tafseer →11 تکبر کا نتیجہ و انجام حق کا انکار و محرومی، والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جب ایسے شخص کو ہماری آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو کہتا ہے یہ کہانیاں ہیں پہلے لوگوں کی سو ارشاد فرمایا گیا کہ ہم عنقریب ہی ایک نشان لگا دیں گے اس سونڈ پر جو اس کی تحقیر و تذلیل کا نشان ہوگا، چناچہ کفر و تکذیب اور انکار و استکبار کی عمومی سیاہی کے علاوہ، بدر کے موقع پر اس کافر کی ناک پر تلوار ایک ایسا وار لگا کہ وہ اس کے لئے ہمیشہ کا وسمہ تذلیل و عار بن گیا ( جامع البیان، مدارک، کبیر وغیرہ) اور آخرت کی رو سیاہی تو اس سے کہیں بڑھ کر ہوگی جیسا کہ ارشاد فرمایا گیا " ترھقھا قترۃ " نیز ارشاد فرمایا گیا " یعرف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–16
رسول کریم ﷺ کا خلق عظیم اور کفار کی اطاعت سے بچنے کا حکم
تشریح : جیسا کہ پہلے بھی سورتوں میں مختلف چیزوں کی قسم مختلف چیزوں کے صحیح ثابت کرنے کے لیے کھائی گئی ہے تو یہاں نبی پاک ﷺ کے حسن کردار اور صفات کے بلند پایہ ہونے کے لیے قلم و قرآن کی قسم کھائی گئی ہے۔
آپ ﷺ تو مجسم صفات ہیں قرآن و احادیث میں جگـہ جگہ آپ ﷺ کی جملہ صفات کا ذکر بڑے مستند حوالوں سے کیا گیا ہے۔ کیوں نہ ہو آپ ﷺ دنیا کے بہترین انسان اور پیغمبر ہیں آپ ﷺ رحمت حیا، جودوسخا، وفا، صبر، زہد وتقویٰ حسن سلوک اور حسن تادیب کے لحاظ سے بلکہ ہر لحاظ سے بےمثال ہیں آپ ﷺ کو انسان کامل ہونے کا رتبہ حاصل ہے۔
آپ ﷺ محسن انسانیت اور رحمۃ للعٰلمین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–33
آیات 1 تا 23۔
اسرار ومعارف۔
قسم ہے قلم کی اور جو کچھ قلم سے لکھاجاتا ہے یعنی آپ ﷺ نے امی ہونے کے باوجود علم کے وہ دریابہائے کہ خود قلم اور اس کی تحریر آپ کے کامل عقل مند اور بےمثال صاحب خرد ہونے پر دال ہے۔
مجنون۔
جب آپ ﷺ نے اعلان نبوت فرما کر ساری انسانیت کو دعوت حق دے دی اور تمام انسانوں کے لیے ایک عقیدہ اور ایک نظام حیات تو مشرکین نے اسے معاذ اللہ پاگل پن قرار دیا کہ دنیا کی عظیم الشان حکومتیں ساری دنیا پہ ایک نظام رائج نہ کرسکیں۔ پھر آپ ﷺ امی ہیں ، اکیلے ہیں یا چند مسلمان جن کی بظاہر کوئی حیثیت نہیں پھر اقوام عالم کے مزاج الگ ، فکر الگ ، رنگ ونسل اپنی اپنی ، غذا الگ زبانیں الگ موسم اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–15
ف 7 یعنی ڈھکو پہلے یا من گھڑت قصے جن کا کوئی اعتبار نہیں۔
Read the full tafseer →(68:15) اذا تتلی علیہ ایتنا : جملہ شرط ہے قال اساطیر الاولین جواب شرط ہے تتلی مضارع مجہول واحد مؤنث غائب ۔ تلاوۃ (باب نصر) مصدر۔ وہ پڑھی جاتی ہے اس کی تلاوت کی جاتی ہے۔ یعنی جب اس کو ہماری آیات پڑھ کر سنائی جاتی ہیں (یعنی قرآن مجید کی آیات) ۔ اساطیر الاعلین : مضاف مضاف الیہ۔ اساطیر کہانیاں ۔ من گھڑت لکھی ہوئی باتیں۔ اسطورۃ کی جمع وہ جھوٹی خبر جس کے متعلق اعتقاد ہو کہ وہ جھوٹ گھڑ کر لکھ دی گئی ہے۔ الاولین اول کی جمع۔ بحالت نصب، پہلے لوگ، اگلے لوگ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–33
لغات القرآن۔
یسطرون۔ وہ لکھتے ہیں۔ ممنون۔ منقطع ہونے والا۔ ختم ہونے والا۔ تبصر۔ تو دیکھے گا۔ المفتون۔ دیوانہ۔ ودوا۔ وہ پسند کرتے ہیں۔ تدھن۔ تو خوشامد کرے۔ تو نمر پرے۔ حلاف۔ بہت قسمیں کھانے والا۔ مھین۔ ذلیل کمینہ۔ ھماز۔ طعنے دینے والا۔ مشائ۔ پھرنے والے۔ نیمیم۔ چغل خور۔ باتیں لگانے والے۔ مناع۔ روکنے والا۔ معتد۔ حد سے بڑھنے والا۔ اثیم۔ گناہ گار۔ عتل۔ اکھڑ۔ اجد۔ زنیم۔ بدنام۔ نسیم۔ ہم داغ دیں گے۔ الخرطوم۔ ناک۔ دم۔ سونڈ۔
تشریح : سورة القلم کا آغاز ” ن “ سے کیا گیا ہے جو حروف مقطعات میں سے ایک حروف ہے۔ اس کے کیا معنی ہیں ؟ اس کی تفصیل اس سے پہلی ابتدائی سورتوں میں آچکی ہے کہ ان حروف کے معنی اور مراد…
Read the full tafseer →(ف 2) جب اس کو قرآن کی آیتیں سنائی جاتیں اور امر ونواہی سنتا ہے تو کہتا ہے کہ یہ تو اگلوں کے بنائے ہوئے قصے ہیں جھوٹی باتیں اگلے لوگوں کی چلی آتی ہیں کہ قیامت جنت دوزخ ہوگی حساب کتاب لیاجائے گا اور وغیرہ وغیرہ کچھ بھی نہیں ، اس کا یہ کہنا اس کا نتیجہ ہے کہ ہم نے اس کو مال واولاد دی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–15
[5] یعنی کفار چاہتے ہیں کہ تم بت پرستی کو برا نہ کہو تو یہ بھی تمہارے دین کی اس قدر مخالفت نہ کریں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–16
زنیم کے معنے
1: ان آیات سے غرض یہ ہے ۔ کہ جب یہ واقعہ ہے ۔ کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو ذہن اور فکر کے کملات کے ساتھ حسن اخلاق سے بھی بدرجہ اتم نوازا ہے اور باوجود اس کے مکہ والے نہیں مانتے ۔ اور ذایل وخبائث سے آلودہ ہیں ۔ آپ ان کے خیالات کا قطعاً احترام نہکریں ۔ اور نہ ان کے جذبات کی ربابیت محلوظ رکھیں ۔ ان کی خواہش ہے ۔ کہ کس طرح آپ کو معاذ اللہ مداہنت پر آمادہ کرلیں ۔ اور اس چیز پر راضی کرلیں ۔ کہ آپ ان کے عقائد و افکار کی مدہیت نہ کریں ۔ اور اس ضمن میں کامل رواداری سے کام لیں ۔ مگر ہمارا فیصلہ ہے ۔ کہ آپ ان کے ایک ایک عیب کو کھلے بندوں بیان کردیں ۔ اور ان کو بتادیں ۔ ان اخلاق کے ساتھ یہ…
Read the full tafseer →(15) جب ہماری آیتیں اس پر تلاوت کی جاتی ہیں اور اس کے روبرو ہماری آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو کہتا ہے کہ یہ اگلے لوگوں کی بےسروپا اور بےسند کہانیاں ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–15
ف 2۔ زنیم لغت عرب میں اس شخص کو کہتے ہیں جو اپنے آپ کو کسی دوسری قوم یا خاندان کی طرف منسوب کرے یہ آیت ولید بن مغیرہ مخزومی کے بارے میں نازل ہوئی تھی جس میں دوسرے ذمائم کے علاوہ یہ برائی بھی تھی کہ اپنے آپ کو ایک اور خاندان کی طرف منسوب کرتا تھا۔
Read the full tafseer →جب ایسوں کو ہماری آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو وہ کہتے ہیں کہ یہ تو پہلے لوگوں کی کہانیاں ہیں
15 ؎ نزول قرآن کریم کے وقت ان لوگوں کی اتنی بہتات نہیں تھی جتنی آج ہے۔ تاہم اس وقت بھی ایسے لوگ بہت تھے اور آج تو ان کا شمار ہی بہت مشکل ہے۔ لیکن قرآن کریم نے ان کا ذکر واحد شخصیت کے طور پر کیا ہے اور جب ایک کی عادت و خصائل معلوم ہوجائیں جو ان عادات و خصائل کے حامل ہوں تو سب پر وہ بات خود بخود فٹ ہونے میں زیادہ اچھی اور زیادہ بہتر معلوم ہوتی ہے۔ ویسے بھی اسلام نے انسانیت کا جو احترام کیا ہے اور بتایا ہے وہ کسی دوسرے دین و مذہب میں موجود نہیں۔ ظاہر ہے کہ یہ صفات جو اوپر گنائی گئی ہیں کوئی اچھی نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–15
لَا تُطِعْ كُلَّ حَلَّافٍ مَّهِينٍ ﴿10﴾ هَمَّازٍ مَّشَّاءٍ بِنَمِيمٍ ﴿11﴾ مَّنَّاعٍ لِّلْخَيْرِ مُعْتَدٍ أَثِيمٍ ﴿12﴾ عُتُلٍّ بَعْدَ ذَٰلِكَ زَنِيمٍ ﴿13﴾
(And do not obey any contemptible one who swears much, a slanderer who goes about with calumnies, one who prevents good, [ and who is ] transgressor, sinful, harsh, [ and ] after all that, notorious,.. _68:10-13)
The word zanim refers to 'a person whose legitimate birth from a father is not proved'. The person referred to in this verse was of doubtful birth or his lineage was uncertain.
The preceding verse prohibited any compromise with…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–15
10 This sentence may be connected with the preceding theme as well as with the following sentence. In the first case, it would mean: "Do not yield to the influence of such a person just because he has plenty of wealth and children. " In the second: "He has become proud because he possesses abundance of wealth and children; so when Our Revelations are recited to him, he says, "These are tales of ancient times."
Read the full tafseer →