سَنَسِمُهٗ عَلَی الْخُرْطُوْمِ ۟سَنَسِمُهٗ عَلَى الۡخُـرۡطُوۡمِ
ہم عنقریب اس کی ناک پر داغ لگائیں گے
— Fateh Muhammad Jalandhari
We will brand him upon the snout.
— Saheeh International
Juz 29 · Ruku 1 of surah · Ruku 3 of juz
سَنَسِمُهٗ عَلَی الْخُرْطُوْمِ ۟سَنَسِمُهٗ عَلَى الۡخُـرۡطُوۡمِ
ہم عنقریب اس کی ناک پر داغ لگائیں گے
— Fateh Muhammad Jalandhari
We will brand him upon the snout.
— Saheeh International
Juz 29 · Ruku 1 of surah · Ruku 3 of juz
Read the whole surah · Surah Al-Qalam
عنقریب ہم اس کی سونڈ پر داغ لگائیں گے
ہم عنقریب اس کی ناک پر داغ لگائیں گے
ہم بھی اس کی سونڈ (ناک) پر داغ دیں گے
عنقریب ہم اس کی سونڈ پر داغ لگا دیں گے۔
قریب ہے کہ ہم اس کی سور کی سی تھوتھنی پر داغ دیں گے
اب ہم اس کی سونڈ جیسی ناک پر داغ لگا دیں گے،
جلد ہی ہم اسے تھوتھنی پر داغ لگائیں گے۔
جلد ہی ہم اس کی لمبوتری ناک پر داغ لگائیں گے
ہم عنقریب اس کے ناکڑے پر داغیں گے
ہم عنقریب ہی ایک نشان لگا دیں گے اس کی سونڈ پر
تو ہم عنقریب اس کی ناک پر داغ لگائیں گے۔
ہم عنقریب اس کی سونڈ پر داغ لگائیں گے۔
ہم عنقریب اس کی ناک پر داغ لگائیں گے ’
Soon shall We brand him on his snout.
We will soon brand him on the snout.
We will soon brand him on the snout.
We shall brand him on the snout (nose)!
We shall brand him on the nose.
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
We will brand him upon the snout.
We shall brand him on his nose.
We will brand him on the nose.
Anon We shall brand him on snout.
Soon shall We brand (the beast) on the snout!
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 8–16
زیادہ قسمیں کھانے والے زیادہ جھوٹ بولتے ہیں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ اے نبی ﷺ جو نعمتیں ہم نے تجھے دیں جو صراط مستقیم اور خلق عظیم ہم نے تجھے عطا فرمایا اب تجھے چاہئے کہ ہماری نہ ماننے والوں کی تو نہ مان، ان کی تو عین خوشی ہے کہ آپ ذرا بھی نرم پڑیں تو یہ کھل کھیلیں اور یہ بھی مطلب ہے کہ یہ چاہتے ہیں کہ آپ ان کے معبودان باطل کی طرف کچھ تو رخ کریں حق سے ذرا سا تو ادھر ادھر ہوجائیں، پھر فرماتا ہے کہ زیادہ قسمیں کھانے والے کمینے شخص کی بھی نہ مان چونکہ جھوٹے شخص کو اپنی ذلت اور کذب بیانی کے ظاہر ہوجانے کا ڈر رہتا ہے، اس لئے وہ قسمیں کھا کھا کر دوسرے کو اپنا یقین دلانا چاہتا ہے لگاتار قسموں…
Read the full tafseer →سورة الْقَلَم 11 چونکہ وہ اپنے آپ کو بڑی ناک والا سمجھتا تھا اس لیے اس کی ناک کو سونڈ کہا گیا۔ اور ناک پر داغ لگانے سے مراد تذلیل ہے۔ یعنی ہم دنیا اور آخرت میں اس کو ایسا ذلیل و خوار کریں گے کہ ابد تک یہ عار اس کا پیچھا نہ چھوڑے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–16
وَلَا تُطِعْ كُلَّ حَلَّافٍ مَّهِيْنٍ 10 ۙهَمَّازٍ مَّشَّاۗءٍۢ بِنَمِيْمٍ 11 ۙمَّنَّاعٍ لِّلْخَيْرِ مُعْتَدٍ اَثِيْمٍ 12 ۙعُتُلٍّۢ بَعْدَ ذٰلِكَ زَنِيْم (آپ بات نہ مانیں ہر ایسے شخص کی جو بہت قسمیں کھانے والا ہو ذلیل ہو اور لوگوں پر عیب لگانے والا ہو غیبت کرنے والا ہو چغلخوری کرنے والا ہو، نیک کاموں سے لوگوں کو روکنے والا ظلم وجور میں حد سے بڑھنے والا ہو بکثرت گناہ کرنے والا اور بہت قسمیں کھانے والا کج خلق بخیل ہو اور ان سب صفات رذیلہ کے ساتھ وہ زنیم بھی ہو۔ زنیم کے معنے وہ شخص جس کا نسب کسی باپ سے ثابت نہ ہو۔ جس شخص کے یہ اوصاف بیان کئے گئے ہیں وہ ایسا ہی غیر ثابت النسب تھا۔ پہلی آیت…
Read the full tafseer →استکبار کی سزا: یہ ان مستکبرین کے غرور و استکبار کی سزا بیان ہوئی ہے جو آخرت میں ان کو ملنے والی ہے۔ فرمایا کہ جلد وہ وقت آ رہا ہے جب ہم ان کے ناکڑے پر داغ لگائیں گے۔ ’خرطوم‘ اصل میں سونڈ کو کہتے ہیں۔ یہاں یہ مستکبرین کی ناکوں کے لیے بطریق استعارہ استعمال ہوا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ لوگ آنحضرت ﷺ کی مخالفت درحقیقت اپنی ناک ہی اونچی رکھنے کے لیے کر رہے تھے۔ اگر کسی کے اندر ناک اونچی رکھنے کا ایسا جنون پیدا ہو جائے کہ وہ اس کی خاطر بڑے سے بڑے اور واضح سے واضح حق کو بھی جھٹلانے پر کمربستہ ہو جائے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ اس کی ناک صرف ناک نہیں ہے بلکہ اس نے اس کو بڑھا کر اور پھلا کر سونڈ بنا لیا…
Read the full tafseer →16۔ 1 بعض کے نزدیک اس کا تعلق دنیا سے ہے، مثلًا کہا جاتا ہے کہ جنگ بدر میں ان کافروں کے ناکوں کو تلواروں کا نشانہ بنایا گیا۔ اور بعض کہتے ہیں کہ یہ قیامت والے دن جہنمیوں کی علامت ہوگی کہ ان کے ناکوں کو داغ دیا جائے گا یا اس کا مطلب چہروں کی سیاہی ہے۔ جیسا کہ کافروں کے چہرے اس دن سیاہ ہونگے۔ بعض کہتے ہیں کہ کافروں کا یہ حشر دنیا اور آخرت دونوں جگہ ممکن ہے۔
Read the full tafseer →6: سونڈ سے مراد ناک ہے جسے اہانت کے طور پر سونڈ سے تعبیر کیا گیا ہے، اور مطلب یہ ہے کہ قیامت کے دن ایسے شخص کی ناک کو داغ کر اس پر ایک بدنما نشان لگا دیا جائے گا جس سے اس کی مزید رسوائی ہوگی۔
Read the full tafseer →سنسمہ ............ الخرطوم (86 : 61) ” ہم اس کی اس سونڈ پر داغ لگائیں گے “۔ خرطوم کے معانی میں سے ایک یہ ہے کہ خرطوم خنزیر کی ناک کے کنارے کو کہتے ہیں۔ شاید یہی یہاں مراد ہے اور عربی میں انف عزت کو کہا جاتا ہے ۔ اونچی ناک والا۔ اور غم الانف ناک کا خاک آلود ہونا ذلت کے معنی میں آتا ہے۔ کہا جاتا ہے ورم انفہ ، حمی فنہ ، یعنی غضبناک ہوا اس سے الانطة (عزت نفس) ہے۔ خرطوم پر داغ لگانے کے معنی ہے اسے ذلیل کیا جائے گا۔ ایک تو اس پر داغ لگادیا جائے گا جس طرح غلاموں پر داغ لگائے جاتے تھے اور دوسرے یوں کہ اس کی ناک کو خنزیر کی ناک کی طرح بنایا جائے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ ولید پر یہ آیات بم کی طرح آکر گریں…
Read the full tafseer →1 کہتے ہیں قریش کا ایک سردار ولید بن مغیرہ تھا اس میں یہ سب اوصاف مجتمع تھے اور ناک پر داغ دینے سے مراد اس کی رسوائی اور روسیاہی ہے۔ شاید دنیا میں حسی طور پر بھی کوئی داغ پڑا ہو یا آخرت میں پڑے گا۔
Read the full tafseer →آیت 16{ سَنَسِمُہٗ عَلَی الْخُرْطُوْمِ۔ } ”ہم عنقریب اس کی سونڈ پر داغ لگائیں گے۔“ ممکن ہے اس کی ناک زیادہ لمبی اور نمایاں ہو۔ وہ خود بھی ازراہِ تکبر اپنے آپ کو بڑی ناک والا سمجھتا تھا ‘ جس کے لیے حقارت کے طور پر سونڈ کا لفظ استعمال کیا گیا ہے اور ناک پر داغ لگانے سے مراد تذلیل ہے۔ اب آئندہ آیات میں ایمان بالآخرت کے حوالے سے بہت عمدہ اور عام فہم تمثیل کے طور پر باغ والوں کا واقعہ بیان کیا جا رہا ہے۔
Read the full tafseer →13 ممکن ہے کہ اس کی ناک بڑی اور لمبوتری ہو تاہم عمومی محاورہ یہ ہے کہ جو لوگ صاحب مال اور اولاد ہوں ان کی ناک بھی بڑی ہوتی ہے اور یہ لوگ اپنی ناک کی خاطر کئی ایسے جتن کرتے رہتے ہیں کہ ان کی ناک کو کوئی آنچ نہ پہنچے۔ اس آیت میں بتایا گیا کہ ہم اس شخص کی اس بڑی ناک کو پوری طرح ذلیل کرکے چھوڑیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
9۔ یعنی اس کے کفر خبیثانہ کی پاداش میں اس کے چہرہ اور ناک کو داغدار کردیں گے۔ (آیت) ” الخرطوم “ خرطوم ہاتھی کی سونڈ کو کہتے ہیں۔ انسان کی ناک یا چہرہ کے لئے اس کا استعمال محل ذم وتحقیر پر ہے۔ قال المبرد الخرطوم ھھنا الانف وانما ذکر ھذا اللفظ علی سبیل الا ستخفاف بہ (کبیر) والخرطوم انف الفیل فسمی انفہ خرطوما استقباحالہ (راغب) (آیت) ” سنسمہ “۔ س یعنی ” عنقریب “ کو حشر سے متعلق سمجھا گیا ہے۔ قال ابو العالیۃ و مجاھد اے نسود وجھہ فنجعل لہ علما فی الاخرۃ یعرف بہ (معالم) منھم من قال ھذا الوسم یحصل فی الاخرۃ (کبیر) بعض اقوال اس دنیا سے متعلق بھی ہیں۔ قال ابن عباس سنخطمہ بالسیف وقد فعل ذلک یوم بدر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–16
ولاتطع کل حلاف مھین (الآیۃ) پہلی آیت میں عام کفار کی بات نہ ماننے اور دین کے معاملہ میں ان کی وجہ سے کوئی مداہنت نہ کرنے کا عام حکم تھا، اس آیت میں ایک خاص شریر کافر ولید بن مغیرہ کی صفات رذیلہ بیان کر کے اس سے اعراض کرنے اور اس کی بات نہ ماننے کا خصوصی حکم دیا گیا ہے، اس لئے کہ حق بات میں مداہنت، حکمت تبلیغ کے لئے سخت نقصان دہ ہے، مذکورہ آیت میں جو نو اوصاف رذیلہ بیان کئے گئے ہیں ان کے بارے میں راجح قول تو یہی ہے کہ یہ ولید بن مغیرہ کے اوصاف ہیں اس کے علاوہ بھی کئی اقوال ہیں، کسی نے ان اوصاف کا مصداق اسود بن عبد یغوث کو اور کسی نے اخنس بن شریق کو قرار دیا ہے، تفسیر زاہدی وغیرہ میں ہے کہ ولید…
Read the full tafseer →سنسمہ علی الخرطوم . یہ جملہ مستانفہ (الگ) ہے۔ اس سے تہدید اور تخویف ہے۔ خرطوم ‘ ہاتھی کی سونڈھ اور خنزیر کی تھوتھنی ‘ یہاں مراد ناک ہے اس شخص کو ہاتھی اور سور کے ساتھ تشبیہ دے کر اس کی ناک کو ہاتھ کی سونڈھ یا خنزیر کی تھوتھنی قرار دیا۔ فراء کے نزدیک پورا چہرہ مراد ہے۔ جزء بول کر کُل مراد لے لیا جاتا ہے۔ ابو العالیہ اور مجاہد نے کہا : قیامت کے دن اس کا منہ کالا ہوجائے گا۔ اس علامت سے اس کی شناخت ہوجائے گی۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : (مراد یہ ہے کہ) ہم اس کی ناک میں تلوار کی نکیل ڈالیں گے ‘ چناچہ بدر کے دن ایسا ہی ہوا۔
Read the full tafseer →ہم عنقریب اس کی صورت پر یا یہ کہ اس کی ناک پر داغ لگا دیں گے، یا یہ کہ اس کی صورت کو سیاہ کردیں گے۔
Read the full tafseer →سَنَسِمُہٗ عَلَی الْخُرْطُوْمِ :”الخرطوم“ کا لفظ اصل میں درندوں کی ناک (تھوتھنی) یا ہاتھی کی سونڈ کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ ان بد خصلتوں والے انسان کی ناک کو تحقیر و مذمت کے لیے ”خرطوم“ کہا گیا ہے۔ سرکش آدمی چونکہ اپنی ناک اونچی رکھنے ہی کے لیے حق سے انکار کرتا ہے ، اس لیے قیامت کے دن اسی ناک پر داغ لگایا جائے گا جو اس کیذلت کا نشان ہوگا۔”وسم یسم“ (ض) کا معنی داغ اور نشان لگانا ہے۔
Read the full tafseer →اس میں دو مسئلے ہیں : سنسمہ کا معنی و مفہوم مسئلہ نمبر 1۔ سنسمہ حضرت ابن عباس نے کہا : سنسمہ کا معنی ہے ہم تلوار کے ساتھ اسے نکیل ڈالیں گے (1) ، کہا : جس کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی غزوہ بدر کے دن تلوار کے ساتھ اس کی ناک پر زخم لگایا گیا، وہ مرنے تک اسی طرح رہا۔ قتادہ نے کہا، قیامت کے روز ہم اس کی ناک پر نشان لائیں گے جس کے ساتھ وہ پہچان لیا جائے گا یہ جملہ بولا جاتا ہے : وسبتہ و سماً و سمۃً جب اس میں سمہ اور کا ویہ کے ساتھ اثر چھوڑا، اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : یوم تبیض وجوہ و تسودہ وجوہ (آل عمران : 106) یہ ظاہر علامت ہے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ونحشر المجرمین یومئذزرقاً ۔ (طہ) یہ ایک اور…
Read the full tafseer →39۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے آیت سنسمہ علی الخرطوم کے بارے میں روایت کیا کہ اس کے ناک پر ایک نشان تھا جو اس سے جدا نہیں ہوگا یعنی وہ نشان ختم نہیں ہوگا۔ 40۔ عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے آیت سنسمہ علی الخرطوم کے بارے میں روایت کیا کہ ” سنسمہ “ سے مراد ہے کہ ہم اس کی ناک پر ایسا نشان لگائیں گے کہ کوئی دوسرا اس کی داغ کو مٹا نہیں سکے گا۔
Read the full tafseer →[سَنَسِمُهٗ : ہم داغ دیں گے اس کو ][ عَلَي الْخُرْطُوْمِ : سونڈ (ناک) پر ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–16
آپ کی تکذیب کرنے والوں کی بات نہ مانیے، وہ آپ سے مداہنت کے خواہاں ہیں یہ نو آیات کا ترجمہ ہے ان میں سے پہلی دو آیتوں میں یہ فرمایا کہ آپ تکذیب کرنے والوں کی بات نہ مانیے وہ چاہتے ہیں کہ آپ کچھ نرم پڑجائیں تو وہ بھی آپ کے معاملہ میں نرمی اختیار کرلیں، اہل باطل کا یہ طریقہ رہا ہے کہ خود تو حق کی طرف جھکتے نہیں ان کی پہلی کوشش یہ ہوتی ہے کہ داعیان حق کو دعوت دیں کہ تم اپنی دعوت چھوڑ دو اور ہمارے کفر و گمراہی میں شریک ہوجاؤ، جب اس پر قابو نہیں چلتا تو کہتے ہیں کہ اچھا آپ کچھ نرم پڑجائیں اپنی دعوت اور دعوت کے کاموں میں نرمی اختیار کرلیں ہم بھی اپنی مخالفت میں اور سختی میں کمی کردیں گے رسول اللہ ﷺ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–16
بیان عظمت رسول اکرم ﷺ وتلقین صبر و استقامت : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” ن والقلم وما یسطرون ........ الی .......... سنسمہ علی الخرطوم “۔ (ربط) گزشتہ سورت میں خداوند عالم کی خالقیت کے دلائل ذکر کئے گئے اور یہ کہ اس کی قدرت کائنات کو محیط ہے اس کے احاطہ علم وقدرت سے کوئی مجرم نہیں نکل سکتا تو اب اس سورت میں آنحضرت ﷺ کی رسالت ونبوت کو ثابت فرمایا گیا اور یہ کہ آپ ﷺ کی شان میں گستاخی کرنے والے مجرمین خدا کے عذاب سے ہرگز نہیں بچ سکتے اور جو کچھ وہ آپ ﷺ پر اعتراض کرتے ہیں وہ سب لغو اور بےہودہ باتیں ہیں کوئی صحیح العقل انسان ایسی بےہودہ باتیں تصور بھی نہیں کرسکتا ارشاد فرمایا۔ ن۔ خدا تعالیٰ ہی اس کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
8:۔ ” اذا تتلی علیہ “ یہ شکوی ہے، جب ایسے ذمیم اور بہر بدی موصوف کے سامنے ہماری آیتیں پڑھی جاتی ہیں تو کہہ دیتا ہے کچھ نہیں یہ تو محض گذشتہ لوگوں کے قصے کہانیاں ہی ہیں۔ ” سنسمہ علی الخرطوم “ ان بد قماشوں کے لیے وعید ہے دنیوی۔ یہ لوگ پیغمبر (علیہ السلام) کے اتباع سے ناک بھوں چڑھاتے اور آپ کی پیروی میں شرم و عار محسوس کرتے۔ اس لیے ہم دنیا ہی میں ان کو ذلیل و رسوا کر کے ان کی بڑائی خاک میں ملا دیں گے اس طرح یہ تذلیل و تحقیر سے کنایہ ہے۔ وقیل المعنی سنلحق بہ عار وسبۃ حتی یکون کمن وسم علی انفہ (قرطبی ج 18 ص 237) ۔ یا یہ وعید اخروی ہے یعنی جس ناک سے وہ پھوں پھوں کرتا ہے اور سمجھتا ہے کہ محمد ﷺ کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–16
گذشتہ سے پیوستہ (ربط) : جب اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کو نبوت اور رسالت عطا فرمائی اور آپ نے آپ کے ساتھیوں نے وضو کرنا شروع کیا ، نماز پڑھنا شروع کیا تو مکہ کے مشرک سرداروں نے یہ کہنا شروع کردیا کہ العیاذ باللہ یہ لوگ مجنون ہوگئے ہیں۔ پاگلوں کی سی حرکتیں کرتے ہیں۔ ان مشرکین میں ولید بن مغیرہ ، ابوجہل ، اخنس بن شرق وغیرہ زیادہ پیش پیش تھے۔ یہ حضور ﷺ کے بارے میں مجنون کا لافظ استعمال کرتے تھے کہ انکے دماغ ٹھکانے نہیں رہے۔ عجیب و غریب حرکتیں کرتے ہیں۔ شروع سورة میں اللہ تعالیٰ نے اس الزام کا جواب دیا اور ثابت کیا کہ حضور ﷺ اللہ کے فضل و احسان سے دیوانے نہیں ہے۔ بلکہ آپ تو بلند اخلاق پر ہیں۔ اور…
Read the full tafseer →سَنَسِمُہٗ عَلَي الْخُرْطُوْمِ 16 وسم الوَسْمُ : التأثير، والسِّمَةُ : الأثرُ. يقال : وَسَمْتُ الشیءَ وَسْماً : إذا أثّرت فيه بِسِمَةٍ ، قال تعالی: سِيماهُمْ فِي وُجُوهِهِمْ مِنْ أَثَرِ السُّجُودِ [ الفتح/ 29] ، وقال : تَعْرِفُهُمْ بِسِيماهُمْ [ البقرة/ 273] ، وقوله : إِنَّ فِي ذلِكَ لَآياتٍ لِلْمُتَوَسِّمِينَ [ الحجر/ 75] ، أي : للمعتبرین العارفین المتّعظین، وهذا التَّوَسُّمُ هو الذي سمّاه قوم الزَّكانةَ ، وقوم الفراسة، وقوم الفطنة . قال عليه الصلاة والسلام : «اتّقوا فراسة المؤمن فإنّه ينظر بنور الله» وقال تعالی: سَنَسِمُهُ عَلَى الْخُرْطُومِ [ القلم/ 16] ، أي : نعلّمه بعلامة يعرف بها کقوله…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–16
ترکیب : فیدھنون عطف علی تدھن داخل فی حیزلووھو مبتداء محذوف ای فھم یدھنون و جواب لومحذوف وکذا مفعول ودّوا ای ودوا اوھانک لوتدھن فیدھنون ویمکن ان یکون فیدھنون مع المبتداء المحذوف جواب لووالشرط والجزاء الجملۃ مفعول ودوا وفی بعض المصاحف فید ھنوا بحذف النون علی انہ جواب التمنی المفھوم من ودوا ان کان الخ بالفتح مصدریۃ متعلق بقولہ ولاتطع ای لاتطع من ھذہ مثالبہ لان کان متمولا مستظہرا بالبنین۔ ھذا قول الفراء والزجاج و قریٔ ان بالکسر علی الشرط دجواب الشرط محذوف دل علیہ اذاتتلٰی ای ان کان ذومال یکفراولاتطع ایھا المخاطب کل حلاف شارطایسارہ اذاشرط قال جوابہ۔ تفسیر : اول بار آنحضرت ﷺ کو کفار کی اطاعت سے منع…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
اِذَا تُتْلٰی عَلَیْہِ اٰیٰـتُـنَا قَالَ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ ۔ سَنَسِمُہٗ عَلَی الْخُرْطُوْمِ ۔ (القلم : 15، 16) (جب ہماری آیات اس کو پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو کہتا ہے، یہ تو اگلوں کے فسانے ہیں۔ ہم عنقریب اس کی سونڈ پر داغیں گے۔ ) مال و زر اور اولاد کی فراوانی نے اس کے مالک کے دل و دماغ میں جو غرور اور تکبر پیدا کیا ہے اس کا نتیجہ یہ ہے کہ جب اسے ان قوموں کی سرگزشتیں سنائی جاتی ہیں جو ان ہی کی طرح مال و دولت کی محبت میں اندھے ہوگئے اور اسی کو زندگی کا ہدف بنا کر حق کی ہر بات سے اعراض کرنے لگے۔ آخر ان پر اللہ تعالیٰ کا عذاب آیا اور وہ قومیں تباہ کردی گئیں۔ تو ان سے سبق لینے کی بجائے ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–16
فہم القرآن ربط کلام : اہل مکہ قرآن مجید کے دلائل کا جواب نہ پا کر آپ ﷺ کو مجنون کہتے تھے اس موقع پر ان کے اس الزام کا صرف یہ جواب دیا گیا کہ عنقریب وقت آئے گا کہ جب یہ دیکھ لیں گے کہ مجنون کون ہے۔ آپ ﷺ کو حقیقت بتلانے اور تسلی دینے کے لیے ارشاد ہوا کہ آپ کا رب خوب جانتا ہے کہ کون اس کے راستے سے بھٹک گیا اور کون ہدایت یافتہ ہے۔ لہٰذا آپ کو جھوٹے لوگوں کے پیچھے لگنے کی بجائے اپنا کام پوری مستعدی کے ساتھ جاری رکھنا چاہیے اور اس میں کسی قسم کی مداہنت اختیار نہیں کرنی چاہیے۔ مفسرین کا خیال ہے کہ یہ آیات ولید بن مغیرہ، اسود بن یغوث اور اخنس بن شریک میں سے کسی ایک کے بارے میں نازل ہوئیں کیونکہ قرآن…
Read the full tafseer →خرطوم تذلیل کے لئے فرمایا : 16 : سَنَسِمُہٗ عَلَی الْخُرْطُوْمِ (ہم عنقریب اس کی ناک پر داغ لگائیں گے) نسمؔ داغ دینا۔ الخرطومؔ : ہاتھی کی سونڈھ۔ تذلیل کیلئے اس کی ناک کو خرطوم فرمایا۔ اور علم کے طور پر ذکر کیا تاکہ وہ اسی سے معروف ہو۔ ناک کو خاص طور پر اس لئے ذکر کیا کیونکہ اسپر لگا ہوا نشان بہت بھدا لگتا ہے۔ ایک قول یہ ہے بدر کے دن اس کی ناک میں تلوار سے نکیل ڈالی گئی وہ اس کی خاک پر مستقل نشان چھوڑ گئی۔
Read the full tafseer →15 ۔” اذا تتلیٰ علیہ آیاتنا قال اساطیر الاولین “ یعنی اس نے ان نعمتوں کی جزاء جو اس کی بیٹوں اور مال کی صورت میں دی گئی ہیں ہماری آیات کے انکار کو بنایا ہے اور کہا گیا ہے اس کا معنی کیا اب ہے مال اور ایسی اولاد والا جو اس کی فرمانبرداری کرے اور جس نے اس کو خبر پر پڑھا ہے تو اس کا معنی ہر قسمیں اٹھانے والے جھوٹے کی اطاعت نہ کریں اس لئے کہ وہ مال اور بیٹوں والا ہے ۔ یعنی وہ اپنے مال و بیٹوں کی وجہ سے اللہ کی اطاعت نہیں کرتا۔ ” اذا تتلی علیہ آیاتنا قال اساطیر الاولین “
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–16
8۔ 16۔ اوپر ذکر تھا کہ مکہ کے مشرکوں میں سے کوئی شخص اگر آداب دنیا کے برخلاف کچھ کہے تو باقتضا حسن اخلاق اس سے درگزر بہتر ہے ان آیتوں میں اس کی صراحت فرمائی کہ یہ مشرک لوگ تو یہ چاہتے ہیں کہ ان کو شرک پر اڑے رہنے سے کوئی نہ روکے تو وہ بھی مسلمانوں کی ایذا کم کردیں لیکن اللہ تعالیٰ کو اصلاح دین منظور ہے اس لئے دین کی خرابی کی کوئی بات ان میں سے کوئی شخص کہے تو وہ ہرگز نہ سننی جائے اور اس کے سننے میں کسی طرح کی مدارات ان لوگوں کے ساتھ نہ برتی جائے وہ دین کی خرابی کی باتیں ایسی ہی ہیں جیسے ان لوگوں نے ایک یہ بات کہی تھی کہ کچھ دنوں تک مسلمان ہمارے بتوں کی بڑائی مان لیں تو ہم بھی اتنے ہی دنوں تک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–16
(عتل بعد ذالک) یعنی درشت خو، بدخلق اور سخت طبیعت رکھنے والا جو حق کے سامنے سرتسلیم خم نہیں کرتا اس کے ساتھ ساتھ وہ (زنیم) بدذات ہے، یعنی مجہول النسب جس کی کوئی اصل ہے نہ ایسا مادہ کہ جس سے کوئی بھلائی منتج ہوتی ہے بلکہ اس کے اخلاق بدترین اخلاق ہیں۔ اس سے فلاح کی امید نہیں اور اس میں شر کی علامت ہے جس سے وہ پہچانا جاتا ہے۔ ان تمام آیات کریمہ کا حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر اس شخص کی اطاعت سے روکا ہے جو نہایت کثرت سے قسمین کھانے والا، سخت جھوٹا، خسیس النفس، نہایت بداخلاق، خاص طور پر وہ ایسے برے اخلاق کا مالک ہے جو خود پسند، مخلوق اور حق کے مقابلے اور حق کے مقابلے میں تکبر اور استکبار، غیبت،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–52
قول باری ہے (عتل بعد ذلک زنیم، جفا کار اور ان سب عیوب کے ساتھ بداصل ہے) پہلے لفظ کے بارے میں ایک قول ہے کہ ہٹے کٹے اور بدخلق نیز سفاک انسان کو عتل کہا جاتا ہے۔ زنیم اس ولدالزنا کو کہا جاتا ہے جو دراصل ایک خاندان کا فرد نہ ہو مگر اس میں شامل ہوگیا ہو۔ ہمیں عبدالباقی بن قانع نے روایت بیان کی، انہیں حسین بن اسحاق التستری نے، انہیں الولیدبن عتبہ نے، انہیں الولید بن مسلم نے، انہیں ابو شیبہ ابراہیم بن عثمان نے عثمان بن عمیر البجلی سے، انہوں شہرین حوشب سے، انہوں نے حضرت شداد بن اوس سے کہ حضور ﷺ نے فرمایا (لا یدخل الجنۃ جو اظ ولا جعظری ولا عتل زنیم) میں نے دریافت کیا کہ جو اظ کسے کہتے ہیں۔ انہوں نے…
Read the full tafseer →12 ۔ استکبار کا نتیجہ و انحرم ذلت و خواری والعیاد باللہ ! : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ہم عنقریب ہی نشان لگا دیں گے اس کی سونڈ پر یعنی۔ اس کی ناک پر، اس میں اس کی انتہائی تحقیر و تذلیل ہے کہ اس کی ناک کے لئے خرطوم یعنی سونڈ کا لفظ اسعتمال فرمایا گیا ہے، جو کہ اپنی اصل کے اعتبار سے ہاتھی اور خنزیر کی سونڈ کے لئے بولا جاتا ہے، کیونکہ یہ شخص اپنی اسی جھوٹی ناک کی بڑائی کے گھمنڈ میں کفر و انکار کا مرتکب ہوا تھا اور اس نے کلام الٰہی کے حق میں توہین کا ارتکاب کیا تھا، رہ گئی یہ بات کہ یہ کون شخص تھا ؟ تو اس کے بارے میں حضرات مفسرین کرام نے مختلف نام لئے ہیں، مثلاً اخنس بن شریق، اسود بن عبدیغوث،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–16
رسول کریم ﷺ کا خلق عظیم اور کفار کی اطاعت سے بچنے کا حکم تشریح : جیسا کہ پہلے بھی سورتوں میں مختلف چیزوں کی قسم مختلف چیزوں کے صحیح ثابت کرنے کے لیے کھائی گئی ہے تو یہاں نبی پاک ﷺ کے حسن کردار اور صفات کے بلند پایہ ہونے کے لیے قلم و قرآن کی قسم کھائی گئی ہے۔ آپ ﷺ تو مجسم صفات ہیں قرآن و احادیث میں جگـہ جگہ آپ ﷺ کی جملہ صفات کا ذکر بڑے مستند حوالوں سے کیا گیا ہے۔ کیوں نہ ہو آپ ﷺ دنیا کے بہترین انسان اور پیغمبر ہیں آپ ﷺ رحمت حیا، جودوسخا، وفا، صبر، زہد وتقویٰ حسن سلوک اور حسن تادیب کے لحاظ سے بلکہ ہر لحاظ سے بےمثال ہیں آپ ﷺ کو انسان کامل ہونے کا رتبہ حاصل ہے۔ آپ ﷺ محسن انسانیت اور رحمۃ للعٰلمین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–33
آیات 1 تا 23۔ اسرار ومعارف۔ قسم ہے قلم کی اور جو کچھ قلم سے لکھاجاتا ہے یعنی آپ ﷺ نے امی ہونے کے باوجود علم کے وہ دریابہائے کہ خود قلم اور اس کی تحریر آپ کے کامل عقل مند اور بےمثال صاحب خرد ہونے پر دال ہے۔ مجنون۔ جب آپ ﷺ نے اعلان نبوت فرما کر ساری انسانیت کو دعوت حق دے دی اور تمام انسانوں کے لیے ایک عقیدہ اور ایک نظام حیات تو مشرکین نے اسے معاذ اللہ پاگل پن قرار دیا کہ دنیا کی عظیم الشان حکومتیں ساری دنیا پہ ایک نظام رائج نہ کرسکیں۔ پھر آپ ﷺ امی ہیں ، اکیلے ہیں یا چند مسلمان جن کی بظاہر کوئی حیثیت نہیں پھر اقوام عالم کے مزاج الگ ، فکر الگ ، رنگ ونسل اپنی اپنی ، غذا الگ زبانیں الگ موسم اور…
Read the full tafseer →ف 8 یعنی اسے خوب رسوا اور روسیاہ کریں گے دنیا میں بھی اور قیامت کے روز بھی۔
Read the full tafseer →(68:16) سنسمہ : س مضارع پر داخل ہو کر مستقبل قریب کے معنی میں کردیتا ہے (ملاحظہ ہو 67:29) نسم مضارع واحد متکلم وسم باب ضرب مصدر سے اصل میں نوسم تھا۔ مثال واوی وعد یعد کی طرح وسم یسم ہے مصدر بمعنی داغ لگانا۔ نشان بنانا۔ ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب۔ ہم اس کو داغ لگا دیں گے۔ علی الخرطوم : جار مجرور۔ خرطوم سونڈ۔ تھوتھنی۔ ہاتھی کی سونڈ۔ خنزیر کی تھوتھنی، کو خرطوم کہتے ہیں یہاں مراد ناک ہے۔ نفرت کے اظہار کے لئے خرطوم استعمال ہوا ہے یعنی ہم عنقریب ہی اس کی ناک کو داغ دیں گے۔ کہتے ہیں کہ ولید بن مغیرہ کی ناک بڑی اور بےڈول ہونے کی وجہ سے ہاتھی کی سونڈ جیسی تھی بدر کی لڑائی میں کسی انصاری کی تلوار سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–33
لغات القرآن۔ یسطرون۔ وہ لکھتے ہیں۔ ممنون۔ منقطع ہونے والا۔ ختم ہونے والا۔ تبصر۔ تو دیکھے گا۔ المفتون۔ دیوانہ۔ ودوا۔ وہ پسند کرتے ہیں۔ تدھن۔ تو خوشامد کرے۔ تو نمر پرے۔ حلاف۔ بہت قسمیں کھانے والا۔ مھین۔ ذلیل کمینہ۔ ھماز۔ طعنے دینے والا۔ مشائ۔ پھرنے والے۔ نیمیم۔ چغل خور۔ باتیں لگانے والے۔ مناع۔ روکنے والا۔ معتد۔ حد سے بڑھنے والا۔ اثیم۔ گناہ گار۔ عتل۔ اکھڑ۔ اجد۔ زنیم۔ بدنام۔ نسیم۔ ہم داغ دیں گے۔ الخرطوم۔ ناک۔ دم۔ سونڈ۔ تشریح : سورة القلم کا آغاز ” ن “ سے کیا گیا ہے جو حروف مقطعات میں سے ایک حروف ہے۔ اس کے کیا معنی ہیں ؟ اس کی تفصیل اس سے پہلی ابتدائی سورتوں میں آچکی ہے کہ ان حروف کے معنی اور مراد…
Read the full tafseer →(ف 3) یعنی اس کا چہرہ بگاڑ دیں گے اور اس کی بدباطنی کی علامت اس کے چہرہ پر نمودار کردیں گے تاکہ اس کے لیے سبب عار ہو، آخرت میں تو یہ سب کچھ ہوگا ہی مگر دنیا میں یہ خبر پوری ہوکر رہی اور اس کی ناک دغیلی ہوگئی کہتے ہیں کہ بدر کی لڑائی والے دن ولید بن مغیرہ کی ناک کٹ گئی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–21
[6] اصل میں لفظ '' خرطوم '' استعمال ہوا ہے۔ جس کے معنی ہاتھی کی سونڈ کے ہیں۔ کیونکہ وہ اپنے آپ کو بڑی ناک والا سمجھتا تھا اس لئے اس کی ناک کو حقارت سے سونڈ کہا گیا ہے۔ [7] داغنے سے مراد اس کی رسوائی اور روسیاہی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–16
زنیم کے معنے 1: ان آیات سے غرض یہ ہے ۔ کہ جب یہ واقعہ ہے ۔ کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو ذہن اور فکر کے کملات کے ساتھ حسن اخلاق سے بھی بدرجہ اتم نوازا ہے اور باوجود اس کے مکہ والے نہیں مانتے ۔ اور ذایل وخبائث سے آلودہ ہیں ۔ آپ ان کے خیالات کا قطعاً احترام نہکریں ۔ اور نہ ان کے جذبات کی ربابیت محلوظ رکھیں ۔ ان کی خواہش ہے ۔ کہ کس طرح آپ کو معاذ اللہ مداہنت پر آمادہ کرلیں ۔ اور اس چیز پر راضی کرلیں ۔ کہ آپ ان کے عقائد و افکار کی مدہیت نہ کریں ۔ اور اس ضمن میں کامل رواداری سے کام لیں ۔ مگر ہمارا فیصلہ ہے ۔ کہ آپ ان کے ایک ایک عیب کو کھلے بندوں بیان کردیں ۔ اور ان کو بتادیں ۔ ان اخلاق کے ساتھ یہ…
Read the full tafseer →(16) ہم عنقریب اس کی ناک اور اس کی سونڈھ پر داغ لگادیں گے۔ یعنی اول تو ہر مکذب اس قابل نہیں کہ اس کب بات مان لی جائے اور خاص طور پر ان مکذبین میں سے اگر کوئی شخص ان صفات ذمیمہ کے ساتھ بھی متصف ہو جن کا اوپر ذکر ہوا تو ایسے شخص کا خاص طور پر خیال رکھاجائے اور اس کی اطاعت سے اجتناب کیا جائے جو صفات مذکورہ ہوئیں وہ یہ ہوئیں۔ حلاف بےحد قسمیں کھانے والا اور ہر جائز و ناجائز موقعہ پر خدا کے نام کا استعمال کرنے والا۔ مہین بےقدر اور پست ہمت جو اپنی حرکات شینعہ کی وجہ سے خالق اور مخلوق دونوں کی نظر میں ذلیل و خوار ہے۔ ہماز، طعنہ دینے والا اپنے طعنوں سے لوگوں کی دل آزاری کرتا ہے لوگوں پر اعتراض کرنا…
Read the full tafseer →ف 3۔ یعنی قیامت میں اس کے چہرہ اور ناک پر اس کے کفر کی وجہ سے کوئی علامت ذلت اور پہچان کی لگا دیں گے جس سے خوب رسوا ہو۔
Read the full tafseer →ہم عنقریب اس طرح کے سارے لوگوں کی ناکوں کو داغ دیں گے 16 ؎ فرمایا یہ لوگ اس طرح کی باتیں کیوں بناتے ہیں اور غریبوں کو دیکھ کر کیوں ناک بھوں چڑھانے لگتے ہیں اور اللہ کے بندوں سے یہ لوگ کیوں نفرت کرتے ہیں ؟ اس لئے کہ یہ ان کی ناک کا مسئلہ ہے کہ ان کی ناک دوسرے لوگوں سے بہت اونچی ہے۔ یہ جو کچھ کرتے ہیں محض ناک کی خاطر ہے اور یہ بطور محاورہ و استعارہ ہے کہ جب ان کی ناک اتنی اونچی ہے تو ان کو اچھی طرح سمجھ لینا چاہئے کہ ہمارے دین ، ہمارے رسول اور ہماری کتاب سے جس نے ناک بھوں چڑھایا پھر ہم اس کی ناک کو ضرور داغیں گے کیونکہ اس ہاتھی کی سونڈ والے نے ناک بھوں کیوں چڑھایا اور کس لئے چڑھایا۔ آخر اللہ کے…
Read the full tafseer →سَنَسِمُهُ عَلَى الْخُرْطُومِ (We will soon brand him on the snout...68:16). That is, as, disbelievers, out of pride and false sense of power rejected the Divine Message in this world, Allah will disgrace and humiliate them on the Day of Resurrection so that the earlier and later generations will be able to see it. His nose has been described by way of reproach as khurtum (snout). This refers specifically to the long nose of a pig or a trunk of an elephant.
Read the full tafseer →11 Because he thought he was a man of high prestige, his nose has been called a snout, and "branding him on the snout means disgracing him. That is, "We shall so disgrace him in the world and in the Hereafter that his mark of disgrace will become indelible."
Read the full tafseer →