Al-Qalam 68:17

Al-Qalam · from ayah 17

68:17

اِنَّا بَلَوْنٰهُمْ كَمَا بَلَوْنَاۤ اَصْحٰبَ الْجَنَّةِ ۚ— اِذْ اَقْسَمُوْا لَیَصْرِمُنَّهَا مُصْبِحِیْنَ ۟ۙاِنَّا بَلَوۡنٰهُمۡ كَمَا بَلَوۡنَاۤ اَصۡحٰبَ الۡجَـنَّةِ‌ ۚ اِذۡ اَقۡسَمُوۡا لَيَصۡرِمُنَّهَا مُصۡبِحِيۡنَۙ

ہم نے ان لوگوں کی اسی طرح آزمائش کی ہے جس طرح باغ والوں کی آزمائش کی تھی۔ جب انہوں نے قسمیں کھا کھا کر کہا کہ صبح ہوتے ہوتے ہم اس کا میوہ توڑ لیں گے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Indeed, We have tried them as We tried the companions of the garden, when they swore to cut its fruit in the [early] morning

— Saheeh International

Juz 29 · Ruku 1 of surah · Ruku 3 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Qalam

All translations of 68:17

ہم نے اِن (اہل مکہ) کو اُسی طرح آزمائش میں ڈالا ہے جس طرح ایک باغ کے مالکوں کو آزمائش میں ڈالا تھا، جب اُنہوں نے قسم کھائی کہ صبح سویرے ضرور اپنے باغ کے پھل توڑیں گے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

ہم نے ان لوگوں کی اسی طرح آزمائش کی ہے جس طرح باغ والوں کی آزمائش کی تھی۔ جب انہوں نے قسمیں کھا کھا کر کہا کہ صبح ہوتے ہوتے ہم اس کا میوہ توڑ لیں گے

— مولانا فتح محمد جالندہری

بیشک ہم نے انہیں اسی طرح آزما لیا جس طرح ہم نے باغ والوں کو آزمایا تھا جبکہ انہوں نے قسمیں کھائیں کہ صبح ہوتے ہی اس باغ کے پھل اتار لیں گے

— مولانا محمد جوناگڑہی

ہم نے ان (مکہ والوں) کو اسی طرح آزمائش میں ڈالا ہے جیسے (ایک) باغ والوں کو اس وقت آزمائش میں ڈالا تھا جب انہوں نے قسم کھائی تھی کہ صبح ہوتے ہی ہم اس باغ کا پھل توڑ لیں گے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

بیشک ہم نے انہیں جانچا جیسا اس باغ والوں کو جانچا تھا جب انہوں نے قسم کھائی کہ ضرور صبح ہوتے اس کھیت کو کاٹ لیں گے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

بے شک ہم ان (اہلِ مکہ) کی (اُسی طرح) آزمائش کریں گے جس طرح ہم نے (یمن کے) ان باغ والوں کو آزمایا تھا جب انہوں نے قَسم کھائی تھی کہ ہم صبح سویرے یقیناً اس کے پھل توڑ لیں گے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

یقینا ہم نے انھیں آزمایا ہے، جیسے ہم نے باغ والوں کو آزمایا، جب انھوں نے قسم کھائی کہ صبح ہوتے ہوتے اس کا پھل ضرور ہی توڑ لیں گے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

ہم نے انہیں ایسے ہی آزمایا ہے جیسے باغ والوں کو آزمایا تھا۔ جب انہوں نے قسمیں کھائیں کہ وہ صبح دم ہی باغ کا پھل توڑ لیں گے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

ہم نے ان کو اس طرح امتحان میں ڈالا ہے جس طرح باغ والوں کو امتحان میں ڈالا جب کہ انہوں نے قسم کھائی کہ وہ صبح سویرے ضروری اس کے پھل توڑ لیں گے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

بلاشبہ ہم نے ان لوگوں کو بھی (اسی طرح) آزمائش میں ڈالا ہے جس طرح کہ ہم نے (ان سے پہلے) باغ والوں کو آزمائش میں ڈالا تھا جب کہ انہوں نے باہم قسمیں کھا کر کہا تھا کہ ہم ضرور بالضرور پھل توڑ کر رہیں گے اپنے باغ کے صبح ہوتے (اور پوہ پھٹتے) ہی

— مولانا اسحاق مدنی

ہم نے ان کی آزمائش کو دی ہے۔ جیسا ہم نے باغ والوں کی آزمائش کی تھی جب کہ ان لوگوں نے قسم کھائی تھی کہ ہم اس کا پھل ضرور صبح چل کر توڑ لائیں گے

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

یقینا ہم نے ان (اہل مکہ) کو اسی طرح آزمایا ہے جیسے ہم نے باغ والوں کو آزمایا تھا۔ جبکہ انہوں نے قسم کھائی کہ وہ ضرور اس کا پھل اتار لیں گے صبح سویرے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

ہم نے ان لوگوں کی اس طرح آزمائش کی ہے جس طرح باغ والوں کی آزمائش کی تھی جب انہوں نے قسمیں کھا کھا کر کہا کہ صبح ہوتے ہوتے ہم اس کا میوہ توڑ لیں گے

— محترمہ رفعت اعجاز

We have put them [i.e., the Makkans] to test even as We put to test the owners of the orchard when they vowed that they would gather the fruit of their orchard in the morning,

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

We have tested them as We had tested the Owners of the Garden, when they had sworn an oath that they would pluck its fruits on the next morning,

— Muhammad Taqi Usmani

We have tested them as We had tested the Owners of the Garden, when they had sworn an oath that they would pluck its fruits on the next morning,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Verily, We have tried them as We tried the People of the Garden, when they swore to pluck the fruits in the morning,

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Lo! We have tried them as We tried the owners of the garden when they vowed that they would pluck its fruit next morning,

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Indeed, We have tried them as We tried the companions of the garden, when they swore to cut its fruit in the [early] morning

— Saheeh International

We have tested them in the same way as we tested the dwellers of the garden (in Yemen) when they swore to pluck all the fruits of the garden in the morning,

— Muhammad Sarwar

Surely We will try them as We tried the owners of the garden, when they swore that they would certainly cut off the produce in the morning,

— Muhammad Habib Shakir

Verily We! We have proved them even as We proved the fellows of a garden when they swarethat they would surely reap it in the morning.

— Abdul Majid Daryabadi

Verily We have tried them as We tried the People of the Garden, when they resolved to gather the fruits of the (garden) in the morning.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 68:17

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 17–33

سیاہ رات اور کٹی ہوئی کھیتی یہاں ان کافروں کی جو حضور ﷺ کی نبوت کو جھٹلا رہے تھے مثال بیان ہو رہی ہے کہ جس طرح یہ باغ والے تھے کہ اللہ کی نعمت کی ناشکری کی اور اللہ کے عذابوں میں اپنے آپ کو ڈل دیا، یہی حالت ان کافروں کی ہے کہ اللہ کی نعمت یعنی حضور ﷺ کی پیغمبر کی ناشکری یعنی انکار نے انہیں بھی اللہ کی ناراضگی کا مستحق کردیا ہے، تو فرماتا ہے کہ ہم نے انہیں بھی آزما لیا جس طرح ہم نے باغ والوں کو آزمایا تھا جس باغ میں طرح طرح کے پھل میوے وغیرہ تھے، ان لوگوں نے آپس میں قسمیں کھائیں کہ صبح سے پہلے ہی پہلے رات کے وقت پھل اتار لیں گے تاکہ فقیروں مسکینوں اور سائلوں کو پتہ نہ چلے جو وہ آ کھڑے ہوں اور…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْقَلَم 12 اس مقام پر سورة کہف رکوع 5 بھی پیش نظر رہے جس میں اسی طرح عبرت دلانے کے لیے دو باغ والوں کی مثال پیش کی گئی ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

اِنَّا بَلَوْنٰهُمْ كَمَا بَلَوْنَآ اَصْحٰبَ الْجَنَّةِ (یعنی ہم نے آزمائش میں ڈالا ان (اہل مکہ) کو جس طرح آزمائش میں ڈالا تھا باغ والوں کو) سابقہ آیات میں کفار اہل مکہ کی نبی کریم ﷺ پر طعن وتشنیع کا جواب تھا۔ ان آیات میں حق تعالیٰ نے پچھلے زمانے کا ایک قصہ ذکر کر کے اہل مکہ کو تنبیہ فرمائی اور عذاب سے ڈرایا۔ اہل مکہ کو آزمائش میں ڈالنے سے یہ مراد بھی ہو سکتی کہ جس طرح آئندہ آنے والے قصہ میں باغ والوں کو اللہ تعالیٰ نے اپنی نعمتوں سے سرفراز فرمایا انہوں نے ناشکری کی جس کے نتیجہ میں عذاب آ گیا اور ان کی نعمت سلب ہوگئی، حق تعالیٰ نے اہل مکہ پر اپنا سب سے بڑا انعام تو یہ فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ کو…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

قریش کے لیڈروں کے لیے ایک تمثیل: اوپر قریش کے قائدین کا جو کردار بیان ہوا ہے اس کا کھوکھلا بن واضح کرنے کے لیے یہ ان کے سامنے ایک تمثیل بیان فرمائی ہے جس میں ان کو یہ دکھایا ہے کہ اپنے جس اقتدار پر ان کو یہ ناز و اعتماد ہے کہ پیغمبر ﷺ کے انذار کا مذاق اڑا رہے ہیں اس کی بنیاد بالکل ریت پر ہے۔ اللہ تعالیٰ جب چاہے گا چشم زدن میں اس کو خاک میں ملا دے گا۔ اس وقت وہ اپنی بدبختی پر سر پیٹیں گے اور توبہ و استغفار بھی کریں گے لیکن ان کا سارا نالہ و شیون بالکل بے سود ہو گا۔ ’بَلَوْنَاہُمْ‘ میں ضمیر ’ہُمْ‘ کا مرجع ظاہر ہے کہ وہی لوگ ہوں گے جن کا کردار اوپر زیر بحث آیا ہے۔ یہ اس بات کا، جیسا کہ ہم نے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

17۔ 1 مراد اہل مکہ ہیں یعنی ہم نے ان کو مال و دولت سے نوازا تاکہ وہ اللہ کا شکر کریں نہ کہ کفر وتکبر لیکن انہوں نے کفر و استکبار کیا تو ہم نے انہیں بھوک اور قحط کی آزمائش میں ڈال دیا جس میں وہ نبی کی بددعا کی وجہ سے کچھ عرصہ مبتلا رہے۔ 17۔ 2 باغ والوں کا قصہ عربوں میں مشہور تھا۔ یہ باغ (یمن) سے دو فرسخ کے فاصلے پر تھا اس کا مالک اس کی پیداوار غربا و مساکین پر بھی خرچ کرتا تھا، لیکن اس کے مرنے کے بعد جب اس کی اولاد اس کی وارث بنی تو انہوں نے کہا کہ ہمارے تو اپنے اخراجات بمشکل پورے ہوتے ہیں، ہم اس کی آمدنی میں سے مساکین اور سائلین کو کس طرح دیں ؟ چناچہ اللہ تعالیٰ نے اس باغ کو تباہ کردیا، کہتے…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

7: مکہ مکرمہ کے بعض مال دار کافروں کو یہ زعم تھا کہ اگر اللہ تعالیٰ ہم سے ناراض ہوتا تو ہمیں مال و دولت سے نہ نوازتا، جیسا کہ سورة مومنون : 56 میں اللہ تعالیٰ نے ان کے اس خیال کا ذکر فرمایا ہے۔ یہاں اللہ تعالیٰ یہ فرما رہے ہیں کہ ہم بعض اوقات کسی کو مال و دولت اس آزمانے کے لیے دیتے ہیں، اور اگر وہ اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے کے بجائے ناشکری کرے تو اس پر دنیا ہی میں عذاب آجاتا ہے۔ چنانچہ ان آیات میں اسی طرح کا ایک واقعہ بیان فرمایا گیا ہے جو اہل عرب میں مشہور تھا۔ واقعہ یہ ہے کہ ایک نیک شخص کا بہت بڑا باغ تھا۔ اس نیک آدمی کا معمول یہ تھا کہ وہ اپنے باغ اور کھیت کی پیداوار کا ایک اچھا…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 17–18

انا بلونھم ................ یعلمون ہوسکتا ہے کہ یہ قصہ اہل مکہ کے درمیان معروف ہو۔ لیکن یہاں مقصود یہ ہے کہ اس دنیا کے تمام کام دست قدرت میں ہیں۔ اور یہاں کوئی خوشحال ہے یا بدحال ہے ، وہ اللہ کی آزمائش میں ہے۔ اور یہی اس قصے سے یہاں مقصود ومطلوب ہے۔ اس قصے کے کرداروں سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ بہت ہی پسماندہ قسم کے سادہ لوح لوگ ہیں۔ جس طرح دیہات کے سادہ لوح باشندے ہوتے ہیں۔ زیادہ گہرے افکار سے بہرہ ور نہیں ہوتے۔ اور سیدھی سیدھی بات کرتے ہیں۔ اس دور میں جب یہ آیات اتررہی تھیں تو قرآن کے مخاطب اکثر ایسے ہی سادہ لوگ تھے۔ جو اسلام سے دشمنی رکھتے تھے اور اسلام کا انکار کرتے تھے ، لیکن ان کے دماغ زیادہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

2 یعنی مال و اولاد کی کثرت کوئی مقبولیت کی علامت نہیں، نہ اللہ کے ہاں اس کی کچھ قدروقیمت ہے لہذا کفار مکہ اس چیز پر مغرور نہ ہوں یہ تو اللہ کی طرف سے ان کی آزمائش اور جانچ ہے جیسے پہلے بعض لوگوں کی جانچ کی گئی۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 17{ اِنَّا بَلَوْنٰہُمْ کَمَا بَلَوْنَآ اَصْحٰبَ الْجَنَّۃِج } ”یقینا ہم نے ان اہل مکہ کو اسی طرح آزمایا ہے جیسے ہم نے باغ والوں کو آزمایا تھا۔“ اللہ تعالیٰ لوگوں کو طرح طرح کے امتحانات سے آزماتا رہتا ہے۔ ایک انسان کو اگر دولت کی آزمائش میں ڈالا جاتا ہے ‘ تو کسی دوسرے کو غربت کے امتحان سے دوچار کردیا جاتا ہے۔ سورة الملک کی اس آیت میں تو انسان کی زندگی اور موت کی تخلیق کا مقصد ہی آزمائش بتایا گیا ہے : { الَّذِیْ خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَیٰوۃَ لِیَبْلُوَکُمْ اَیُّکُمْ اَحْسَنُ عَمَلًاط وَہُوَ الْعَزِیْزُ الْغَفُوْرُ۔ } ”اس نے موت اور زندگی کو اس لیے پیدا کیا ہے تاکہ تمہیں آزمائے کہ تم میں سے…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

14 یعنی ان قریش مکہ کو بھی اسی طرح آزمائش میں ڈال رکھا ہے جیسے ہم نے باغ والوں کو آزمائش میں ڈالا تھا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

10۔ (کہ دیکھیں کون ہماری نعمتوں کا شکر ادا کرتا ہے اور کون ناشکری کی راہ اختیار کرتا ہے) (آیت) ” یلونھم “۔ ھم سے مراد مشرکین مکہ ہیں۔ خصوصا ان کا خوش حال وخوش عیش طبقہ۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 17–18

باغ والوں کا قصہ : انابلونھم کما بلونا اصحب الجنۃ (الآیہ) یہ باغ حضرت ابن عباس ؓ کے قول کے مطابق یمن میں تھا اور حضرت سعید بن جبیر ؓ کی ایک روایت یہ ہے کہ صنعاء جو یمن کا مشہور شہر ہے اس سے چھ میل کے فاصلہ پر تھا، اور بعض حضرات نے اس کا محل وقوع حبشہ بتایا ہے۔ (اب کثیر) یہ لوگ اہل کتاب تھے اور یہ واقعہ رفع عیسیٰ علیہ والصلوٰۃ والسلام کے کچھ عرصہ بعد کا ہے، (معارف) دو باغ والوں کا اسی قسم کا ایک واقعہ تمثیل کے طور پر سورة کہف رکوع 5 میں بیان ہوا ہے۔ باغ والوں کا واقعہ حضرت ابن عباس ؓ کی روایت سے اس طرح منقول ہے کہ صنعاء یمن سے دو فرسخ کے فاصلہ پر ایک باغ تھا اس مقام کو صروان کہا جاتا تھا، یہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

انا بلونھم . یعنی قحط اور بھوک سے ہم نے اہل مکہ کی آزمائش کی ‘ جب رسول اللہ ﷺ نے مکہ والوں کے لیے بد دعا کی کہ الٰہی ان پر (زمانہ) یوسف ( علیہ السلام) جیسا قحط ڈال (تو اللہ نے ان کو قحط میں مبتلا کردیا ‘ یہاں تک کہ لوگ ہڈیاں اور مردار کھا گئے۔ ) کما بلونا اصحاب الجنۃ . الجنۃ میں الف لام عہدہ ہے (مراد ہے خاص باغ) یعنی ہم نے اہل مکہ کی ایسی آزمائش کی جیسی ایک مخصوص باغ والوں کی کی تھی۔ ابن ابی حاتم نے بروایت ابن جریج بیان کیا کہ بدر کے دن ابوجہل نے (مسلمانوں کی تعداد کم دیکھ کر) کہا تھا ‘ ان کو پکڑ کر رسیوں میں باندھ لو۔ قتل کسی کو نہ کرنا۔ تو یہ آیت نازل ہوئی کہ ہم نے مکہ والوں کو مسلمانوں پر…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 17–20

(17۔ 20) اور ہم نے مکہ والوں کی بدر کے دن قتل و قید اور شکست کے ساتھ اور ترک استغفار کے ساتھ اور بدر میں رسول اکرم کی بددعا کی وجہ سے سات سالہ قحط اور بھوک کی شکایت سے آزمائش کر رکھی ہے جیسا ہم نے باغ والوں یعنی بنی ضروان، بھوک کی شکایت اور ان کے باغوں کو آگ لگا کر آزمائش کی تھی۔ جب انہوں نے قسم کھائی تھی کہ اس باغ کا پھل ضرور صبح سویرے چل کر توڑ ڈالیں گے اور انہوں نے انشاء اللہ بھی نہ کہا۔ سو اس باغ پر رات ہی میں عذاب آپڑا سو وہ باغ جل کر ایسا رہ گیا جیسا کہ تاریک رات۔ شان نزول : اِنَّا بَلَوْنٰهُمْ كَمَا بَلَوْنَآ اَصْحٰبَ الْجَنَّةِ (الخ) ابن ابی حاتم نے ابن جریج سے روایت کیا ہے کہ ابو جہل…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

1۔ اِنَّا بَلَوْنٰـہُمْ کَمَا بَلَوْنَآ اَصْحٰبَ الْجَنَّۃِ۔۔۔۔: اہل مکہ کو اللہ تعالیٰ نے اپنی بیشمار نعمتوں سے نوازا تھا۔ تمام لوگ حج کے لیے انکے پاس آتے اور اپنی ضروریات کے لیے ان کے گاہک بنتے تھے ، وہ جہاں جاتے اہل حرم ہونے کی وجہ سے انہیں کوئی کچھ نہ کہتا۔ ہر قسم کا میوہ ان کے شہر پہنچ جاتا ، ان کی تجارت خوب چمکی ہوئی تھی اور وہ نہایت مال دار اور مکمل امن کی نعمت سے بہرہ ور تھے۔ ان نعمتوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے ان پر یہ انعام بھی کیا کہ ان میں اپنا آخری رسول ﷺ مبعوث فرمایا ، مگر انہوں نے اس نعمت کی قدر نہ کی بلکہ آپ ﷺ کو جھٹلا دیا ، تو اللہ تعالیٰ نے ان پر بھوک اور خوف کا عذاب مسلط…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 17–19

اس میں تین مسائل ہیں : باغ والوں کا ابتلا اور ان کا قصہ مسئلہ نمبر 1 انا بلونھم مراد اہل مکہ ہیں۔ ابتلاء سے مراد آزمانا ہے۔ اس کا معنی ہے ہم نے انہیں مال عطا کئے تاکہ وہ شکر بجا لائیں نہ کہ وہ تکبر کریں۔ جب انہوں نے تکبر کیا اور حضرت محمد ﷺ سے دشمن یک تو ہم نے بھوک اور قحط کے ساتھ آزمایا جس طرح مہ نے باغ والوں کو آزمایا تھا جن کی خبر ان کے ہاں معروف و مشہور تھی۔ وہ باغ یمن کے علاقہ میں صنعاء سے چند فرسخ دور تھا۔ ایک قول یہ کیا جاتا ہے : وہ دو فرسخ دور تھا وہ باغ ایک ایسے آدمی کا تھا جو اس میں سے اللہ تعالیٰ کا حق ادا کیا کرتا تھا جب وہ فوت ہوگیا تو باغ بیٹوں کی ملکیت میں آگیا انہوں نے لوگوں…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

43۔ عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت انا بلونہم کما بلونا اصحب الجنۃ ہم نے ان کو آزمایا جیسے ہم نے باغ والوں کو آزمایا۔ یہ کچھ لوگ تھے کہ جن کا واقعہ اللہ تعالیٰ نے تم پر بیان فرمایا ہے اور تمہارے لیے ان کے معاملے کو واضح بیان فرمایا۔ 44۔ ابن ابی حاتم نے ابن جریر (رح) سے روایت کیا کہ ابو جہل نے بدر کے دن کہا کہ ان کو پکڑ لو اور ان کو پہاڑوں میں باندھ دو اور تم ان میں سے کسی کو قتل نہ کرو۔ تو یہ آیت نازل ہوئی۔ آیت انا بلونہم کما بلونا اصحب الجنۃ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ان کو ان پر اس طرح قدرت ہے جیسے باغ والوں کو قدرت حاصل تھی باغ پر لیکن ہم ان کو باغ والوں کی طرف آزمایا۔ 45۔…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[اِنَّا بَلَوْنٰهُمْ : بیشک ہم نے آزمائش میں ڈالا ان کو ][ كَمَا بَلَوْنَآ : جیسے ہم نے آزمایا ][ اَصْحٰبَ الْجَنَّةِ ۚ: باغ والوں کو ][ اِذْ اَقْسَمُوْا : جب انھوں نے قسم کھائی ][ لَيَصْرِمُنَّهَا : ہم لازماً کاٹیں گے اس (باغ کی فصل) کو ][ مُصْبِحِيْنَ : صبح کرنے والے ہوتے ہوئے ] ص ر م [ صَرْمًا : (ض) (1) کسی چیز کا ٹوٹنا (لازم) کسی چیز کو کاٹنا (متعدی) ۔ زیر مطالعہ آیت۔ 17 ۔] ترکیب : (آیت۔ 17) بَلَوْنٰھُمْ میں ھُمْ کی ضمیر اہل مکہ کے لیے ہے۔ اَقْسَمُوْا میں شامل ھُمْ کی ضمیر فاعلی اَصْحٰبَ الْجَنَّۃِ کے لیے ہے۔ نوٹ۔ 1: بَلَوْنٰھُمْ میں ضمیر ھُمْ کا مرجع ظاہر ہے کہ وہی لوگ ہوں گے جن کا…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 17–32

ایک باغ کے مالکوں کا عبرت ناک واقعہ رسول اللہ ﷺ کے ہجرت فرمانے کے بعد مکہ معظمہ کے مشرکوں پر اللہ تعالیٰ نے قحط بھیج دیا تھا۔ قحط کی وجہ سے بہت تکلیف اٹھائی، اس کے بارے میں فرمایا کہ ہم نے مکہ والوں کو آزمائش میں ڈالا جیسا کہ باغ والوں کو آزمائش میں ڈالا تھا، یہ باغ کہاں تھا باغ والے کون تھے اس کے بارے میں حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ یہ باغ یمن میں شہر صنعاء سے دو فرسخ کے فاصلہ پر تھا اسے نمازی لوگوں نے بویا تھا جو لوگ اس کے وارث چلے آ رہے تھے وہ بڑے سخی تھے جس دن باغ کے پھل کاٹتے تھے مساکین جمع ہوجاتے تھے اسی طرح کھیتی کاٹنے کے دن اور جس دن بھوسہ اور دانہ الگ کرتے تھے مساکین آجاتے تھے، یہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 17–33

عبرتناک انجام غرور وتکبر بردولت دنیا و محرومی از سعادت وآخرت : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” انا بلونھم کما بلون آ اصحب الجنۃ ....... الی ...... لو کانوا یعلمون “۔ (ربط) گزشتہ آیات میں اہل مکہ کے ان مغرور ومتکبر انسانوں کا ذکر تھا جنہوں نے محض اپنے مال و دولت اور اولاد وخاندان کے نشہ میں رسول خدا ﷺ کی توہین کی انکار وکفر کے مرتکب ہوئے تو اب ان آیات میں ایک باغ والوں کا قصہ بیان کرکے بتایا جارہا ہے کہ انسان کو دنیا کے مال ومنال پر بھروسہ کرکے مغرور ومتکبر نہ ہونا چاہئے دنیا کی حقیقت بس اتنی ہی ہے اور غرور کا انجام ایسا ہی ہے جیسے کہ اس باغ کی تباہی اور باغ والوں کی بربادی سے ظاہر ہورہا ہے یہ باغ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 17–18

9:۔ ” انا بلوناھم “ یہ تخویف دنیوی کا نمونہ ہے۔ ضمیر منصوب اہل مکہ سے کنایہ ہے۔ ” اصحاب الجنۃ “ سے گذشتہ زمانے کے وہ بھائی مراد ہیں جنہوں نے ایک نہایت عمدہ باغ اپنے باپ سے وراثت میں پایا تھا۔ صنعاء الیمن کے قرب و جوار میں ایک شخص رہتا تھا جس کا ایک بہت اچھا باغ تھا جس میں ہر قسم کے میووں اور پھلوں کے درخت تھے یہ شخص بہت نیک تھا اور صرف خدا ہی کو برکات دہندہ سمجھتا تھا باغ کی پیداوار میں سے دل کھول کر خدا کی راہ میں خرچ کرتا اور مساکین کو کھلاتا تھا۔ مساکین صبح صبح ہی اس کے باغ میں پہنچ جاتے اور پھل توڑ کر ان کو کھلاتا اور ساتھ لے جانے کے لیے بھی دیتا اس کی وفات ہوئی تو اس کے بیٹوں نے سوچا کہ…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 17–33

گذشتہ سے پیوستہ : گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے ان انعامات کا ذکر فرمایا ، جو پیغمبر ﷺ پر کئے اور توحید الہٰی ، رسالت اور معاد کے مکذبین کے متعلق ارشاد فریاما کہ ان کی کسی بات کو تسلیم نہ کریں کیونکہ ان بےہودہ لوگوں نے نبی جیسے عقل مند ، ذہین اور سب سے بلند اخلاق والی ہستی کو العیافہ باللہ مجنون کا خطاب دیا ۔ یہ مشرکین آپ ﷺ کو مداہنت پر آمادہ کرنا چاہتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کی دس الفاظ کے ساتھ مذمت بیان کی۔ پھر فرمایا کہ یہ اس لیے غرور وتکبر کرتے ہیں کہ ان کو اللہ تعالیٰ نے مالی و اولاد سے نوازا ہے۔ یہ انعامات تو شکر گزاری کا سبب بننا چاہئیں نہ کہ تکذیب و نافرمانی کا ان کے غرور کا…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اِنَّا بَلَوْنٰہُمْ كَـمَا بَلَوْنَآ اَصْحٰبَ الْجَنَّۃِ۝ 0 ۚ اِذْ اَقْسَمُوْا لَيَصْرِمُنَّہَا مُصْبِحِيْنَ۝ 17 ۙ بلی يقال : بَلِيَ الثوب بِلًى وبَلَاءً ، أي : خلق، ومنه قيل لمن سافر : بلو سفر وبلي سفر، أي : أبلاه السفر، وبَلَوْتُهُ : اختبرته كأني أخلقته من کثرة اختباري له، وقرئ : هُنالِكَ تَبْلُوا كُلُّ نَفْسٍ ما أَسْلَفَتْ [يونس/ 30] ، أي : تعرف حقیقة ما عملت، ولذلک قيل : بلوت فلانا : إذا اختبرته، وسمّي الغم بلاءً من حيث إنه يبلي الجسم، قال تعالی: وَفِي ذلِكُمْ بَلاءٌ مِنْ رَبِّكُمْ عَظِيمٌ [ البقرة/ 49] ( ب ل ی ) بلی الثوب ۔ بلی وبلاء کے معنی کپڑے کا بوسیدہ اور پرانا ہونے کے ہیں اسی سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 17–33

ترکیب : اذ تعلیلیۃ اوظرفیۃ بنوع تسمح لان الانقسام کان قبل ابتلائہم لیصرمنہا جواب القسم مصبحین حال من الفاعل فی یصرمنہا ولا یستثنون جملۃ مستانفہ لبیان ماوقع منھم وقیل حال فتنادوا معطوف علی اقسموا بینما اعتراض لبیان مانزل بتلک الجنۃ ان اغدوا ان مفسرۃ لان فی التنادی معنی القول او مصدریۃ ای اخرجواغدوۃً ان کنتم الخ جواب الشرط محذوف فاغدوا وھم یتخافتون الجملۃ حال من فاعل فانطلقوا ان لایدخلنہا ان مفسرۃ للتخافت المذکور لمافیہ من معنی القول علی حرد یتعلق بقادرین وقادرین حال وقیل خبر غدوا لا نھا حملت علی اصبحوا۔ تفسیر : اہل مکہ خصوص ولید وغیرہ ثروت و حشمت پر نازاں ہو کر کہتے تھے کہ ہم پر خدا کی نظر…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 17–18

اِنَّا بَلَوْنٰـھُمْ کَمَا بَلَوْنَـآ اَصْحٰبَ الْجَنَّۃِ ج اِذْا اَقْسَمُوْا لَیَصْرِمُنَّھَا مُصْبِحِیْنَ ۔ وَلاَ یَسْتَـثْـنُوْنَ ۔ (القلم : 17، 18) (ہم نے ان کو اس طرح امتحان میں ڈالا ہے جس طرح باغ والوں کو امتحان میں ڈالا جبکہ انھوں نے قسم کھائی کہ وہ صبح سویرے ضرور ہی اس کے پھل توڑ لیں گے۔ اور کچھ بھی نہ چھوڑیں گے۔ ) قریش کے سرداروں کے لیے ایک تمثیل قریش کو اپنی تجارت کی وسعت، اس سے حاصل ہونے والی دولت اور طائف میں ان کے پھیلے ہوئے باغات نے اس غلط فہمی میں مبتلا کر رکھا تھا کہ ہماری یہ دولت و ثروت ہمارے برسرحق ہونے کی دلیل ہے۔ اگر ہم غلط راستے پر ہوتے تو اللہ تعالیٰ ہمیں یہ خوشحالیاں…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 17–33

فہم القرآن ربط کلام : اہل مکہ کی آزمائش۔ نبی معظم ﷺ کی جدوجہد کے سامنے بےبس ہو کر اہل مکہ نے یہ مطالبہ کیا تھا کہ کچھ آپ نرم ہوجائیں اور کچھ ہم نرم ہوجاتے ہیں نبی ﷺ نے اسے مکمل طور پر مسترد کردیا۔ اس کے ردِّ عمل میں انہوں نے مزدور صحابہ کرام ؓ کی مزدوریاں روک لیں اور اپنے غریب رشتہ دار صحابہ کے ساتھ تعاون کرنے سے ہاتھ کھینچ لیا، ان کے سرداروں نے مہم چلائی کہ مسلمانوں کے ساتھ کسی قسم کا تعاون نہ کیا جائے۔ اس پر یہ آیات نازل ہوئیں جس میں انتباہ کرتے ہوئے فرمایا کہ ہم مکہ والوں کو اس طرح آزمائیں گے جس طرح ان سے پہلے باغ والوں کو آزما چکے ہیں۔ واقعہ یوں ہے کہ ایک شخص کا باغ تھا وہ اپنے باغ کی…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

17 : اِنَّا بَلَوْنٰھُمْ (ہم نے ان کی آزمائش کر رکھی ہے) ہم نے اہل مکہ کا قحط و بھوک کے ساتھ امتحان لیا۔ یہاں تک کہ مردار اور بوسیدہ ہڈیاں کھانے تک مجبور ہوگئے۔ اور یہ نبی اکرم ﷺ کی اس بددعا کی وجہ سے ہوا۔ اللھم اشددوطأتک علی مضر و اجعلھا سنین کسنی یوسف ] بخاری : 804، مسلم 675[ اے اللہ مضر پر بندھن کو سخت فرما اور یوسف (علیہ السلام) کے زمانہ جیسا قحط ان پر مسلط فرما۔ باغ والوں کی مثال : کَمَا بَلَوْنَآ اَصحٰبَ الْجَنَّۃِ (جیسا ہم نے باغ والوں کی آزمائش کی تھی) وہ نماز پڑھنے والے لوگ تھے۔ ان کے والد کا ایک باغ بستی میں تھا جس کو ذروان کہتے تھے۔ یہ صنعاء یمن سے دو فرسنگ پر واقع تھا۔ وہ اس باغ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

16 ۔ پھر اس کو وعید سناتے ہوئے فرمایا ” سنسمہ علی الخرطوم “ اور خرطوم ناک ہے۔ ابوالعالیہ اور مجاہد رحمہما اللہ فرماتے ہیں یعنی ہم اس کے چہرے کو سیاہ کردیں گے۔ پس ہم اس کے لئے آخرت میں علامت بنادیں گے جس کے ذریعے پہنچانا جائے گا وہ چہرے کا سیاہ ہونا ہے۔ فرائؒ فرماتے ہیں ناک کو علامت کے ساتھ خاص کیا ہے حالانکہ وہ سیاہی پورے چہرے پر چھائی ہوئی ہوگی۔ اس لئے کہ بعض کو کل سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں عنقریب ہم تلوار کے ذریعے اس کا کام تمام کردیں گے اور یہ بدر کے دن کہا گیا۔ اور قتادہ (رح) فرماتے ہیں عنقریب ہم اس کے ساتھ ایسی چیز لاحق کریں گے جو اس سے جدا نہ ہوگی۔ قتیبی (رح) فرماتے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 17–33

17۔ 33۔ اہل مکہ جب اپنے مال و متاع پر بہت اترائے اور اللہ کی نعمتوں کی ناشکری کی اور اللہ کے رسول سے طرح طرح کی سرکشی انہوں نے شروع کی تو آنحضرت ﷺ نے ان کے حق میں قحط کی بددعا کی جس کا ذکر حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ کی روایت سے صحیح بخاری 1 ؎ و مسلم میں ہے اللہ کے رسول کی بد دعا سے بڑا سخت قحط پڑا یہاں تک کہ اہل مکہ مردار چیزیں کھا کر زندگی بسر کرنے لگے۔ آخر آنحضرت ﷺ سے رفع قحط کی دعا کرنے کی التجا کی اور آپ ﷺ کی دعا سے وہ قحط رفع ہوا اس لئے اوپر کی آیتوں میں ولید بن مغیرہ کا خاص طور پر ذکر فرما کر سب قریش کو قحط کا قصہ یاد دلایا اور فرمایا کہ ان لوگوں کی نافرمانی کے سبب سے ان پر قحط کی آفت اسی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 17–18

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ہم نے ان جھٹلانے والوں کو بھلائی کے ساتھ آزمایا ہم نے انہیں مہلت دی اور ہم نے ان کی خواہشات نفس کے موافق مال و دولت اور لمبی عمر وغیرہ میں سے جس سے چاہا انہیں نوازا۔ اس کا سبب یہ نہ تھا کہ ہمارے نزدیک ان کی کرامت تھی بلکہ بسا اوقات یہ سب کچھ انہیں استدراج کے طور پر عطا کیا جاتا ہے جس کا انہیں علم تک نہیں ہوتا۔ پس ان کی ان نعمتوں کی وجہ سے دھوکے میں مبتلا ہونا، اس باغ والوں کی فریب کو ردگی کی مانند ہے جو باغ کی ملکیت میں شریک تھے جب درختوں کے پھل لگ گئے اور پھلوں نے رنگ پکڑ لیا اور ان کی برداشت کا وقت آن پہنچا، انہیں یقین تھا کہ باغ کی فصل ان کے ہاتھ میں ہے اور کوئی ایسا…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 13–52

قول باری ہے (عتل بعد ذلک زنیم، جفا کار اور ان سب عیوب کے ساتھ بداصل ہے) پہلے لفظ کے بارے میں ایک قول ہے کہ ہٹے کٹے اور بدخلق نیز سفاک انسان کو عتل کہا جاتا ہے۔ زنیم اس ولدالزنا کو کہا جاتا ہے جو دراصل ایک خاندان کا فرد نہ ہو مگر اس میں شامل ہوگیا ہو۔ ہمیں عبدالباقی بن قانع نے روایت بیان کی، انہیں حسین بن اسحاق التستری نے، انہیں الولیدبن عتبہ نے، انہیں الولید بن مسلم نے، انہیں ابو شیبہ ابراہیم بن عثمان نے عثمان بن عمیر البجلی سے، انہوں شہرین حوشب سے، انہوں نے حضرت شداد بن اوس سے کہ حضور ﷺ نے فرمایا (لا یدخل الجنۃ جو اظ ولا جعظری ولا عتل زنیم) میں نے دریافت کیا کہ جو اظ کسے کہتے ہیں۔ انہوں نے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 17–18

14 انبار و رضا نے کہرو غرور اور ان کی محرومی کے ایک نمونے اور مظہر کے ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جبکہ وہ اپنے زعم اور گھمنڈ کی بناء پر کڑی قسمیں کھا کر کہہ رہے تھے ہم ضرور یا ضرور پھل توڑ کر رہیں گے اپنے باغ کئے اور اس پر وہ اتنے باغ کئے اور اس پر وہ اتنے مست اور مکن کہ پر انشاء اللہ بھی نہیں کہہ رہے تھے۔ سورس سے معلوم ہوا کہ اپنی فکر و تدبیر کے گھمنڈ میں مبتلا ہو کر حضرت حق جل مجدہ کی قدرت و عظمت کو بھول جانا خرابی و فساد کی جڑی بنیاد ہے، جیسا کہ دوسرے مقام پر اس کی تصریح فرمائی گئی کہ اللہ پاک کی گرفت و پکڑ اور اس کے مکر سے نڈر اور بےخوف ہوجانا انہی لوگوں کا شیوہ و طریقہ ہوسکتا ہے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 17–35

باغ والوں کے بخل کا واقعہ تشریح :۔ اس قصے سے سبق ملتا ہے کہ صرف دنیا میں کھو جانا اور اللہ کی طرف سے آنکھیں بند کرلینا سراسر غلط راستہ ہے رب العزت کا یہی طریقہ ہے کہ وہ بندوں کو ایسی ہی سزاؤں سے جھنجوڑتا ہے کہ انسان غفلت سے باز آجائے یہ دنیاوی نقصانات تو صرف آنکھیں کھولنے کے لیے کرائے جاتے ہیں نافرمان اور غفلت سے بیدار نہ ہونے والے لوگوں کو آخرت میں بڑا سخت عذاب دیا جائے گا۔ جب کہ فرمانبرداروں کے لیے آرام و آسائش کے بہترین باغات ہیں اور یہی فرق ہے نافرمانوں اور فرمانبرداروں میں کیونکہ اللہ بہترین انصاف کرنے والا ہے۔ اچھے اور برے لوگوں کا حساب ایک جیسا نہیں ہوسکتا۔ حدیث میں نصیحت کی گئی ہے۔…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–33

آیات 1 تا 23۔ اسرار ومعارف۔ قسم ہے قلم کی اور جو کچھ قلم سے لکھاجاتا ہے یعنی آپ ﷺ نے امی ہونے کے باوجود علم کے وہ دریابہائے کہ خود قلم اور اس کی تحریر آپ کے کامل عقل مند اور بےمثال صاحب خرد ہونے پر دال ہے۔ مجنون۔ جب آپ ﷺ نے اعلان نبوت فرما کر ساری انسانیت کو دعوت حق دے دی اور تمام انسانوں کے لیے ایک عقیدہ اور ایک نظام حیات تو مشرکین نے اسے معاذ اللہ پاگل پن قرار دیا کہ دنیا کی عظیم الشان حکومتیں ساری دنیا پہ ایک نظام رائج نہ کرسکیں۔ پھر آپ ﷺ امی ہیں ، اکیلے ہیں یا چند مسلمان جن کی بظاہر کوئی حیثیت نہیں پھر اقوام عالم کے مزاج الگ ، فکر الگ ، رنگ ونسل اپنی اپنی ، غذا الگ زبانیں الگ موسم اور…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 9 یعنی باغ والوں کی طرح ہم نے انہیں بھوک اور قمر و سالی میں مبتلا کردیا۔ ان باغ والوں کا قصہ مکہ والوں میں مشہور و معروف تھا کیونکہ یہ باغ یمن کے شہر صنعا سے چند میل کے فاصلہ پر بنو ثفیف کے ایک نیک شخص کا تھا۔ وہ اس کی پیداوار میں سے اللہ کے حکم کے مطابق صدقہ و خیرات کرتا اس کے انتقال کے بعد جب اس کے وارث آئے تو انہوں نے فقیروں کا حق نکالنا بند کردیا۔ اس کا نتیجہ کیا ہوا اس کا ذکر آگے آرہا ہے۔ (شوکانی)10 تاکہ فقیر و محتاج اپنا حق مانگنے کے لئے جمع نہ ہو سکیں۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(68:17) انا بلونھم : بلونا ماضی جمع متکلم ۔ بلاء وبلو (باب نصر) مصدر جس کا معنی آزمانے کے ہیں۔ ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب کا مرجع کفار مکہ ہیں۔ ہم نے ان کو آزمایا ہم ان کو آزما رہے ہیں۔ کفار مکہ کی اس آزمائش کے متعلق مختلف اقوال ہیں :۔ (1) علامہ پانی پتی لکھتے ہیں :۔ انا بلونھم یعنی قحط اور بھوک سے ہم نے اہل مکہ کی آزمائش کی۔ جب رسول اللہ ﷺ نے مکہ والوں کے لئے بددعا کی تھی کہ الٰہی ان پر زمانہ یوسف جیسا قحط ڈال دے تو اللہ نے ان کو قحط میں مبتلا کردیا۔ یہ ان تک کہ لوگ مردار اور ہڈیاں کھا گئے۔ (تفسیر مظہری) (2) صاحب روح المعانی رقمطراز ہیں :۔ انا بلونھم : ای اصبنا اہل مکۃ ببلیۃ وہی القحط بدعوۃ…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–33

لغات القرآن۔ یسطرون۔ وہ لکھتے ہیں۔ ممنون۔ منقطع ہونے والا۔ ختم ہونے والا۔ تبصر۔ تو دیکھے گا۔ المفتون۔ دیوانہ۔ ودوا۔ وہ پسند کرتے ہیں۔ تدھن۔ تو خوشامد کرے۔ تو نمر پرے۔ حلاف۔ بہت قسمیں کھانے والا۔ مھین۔ ذلیل کمینہ۔ ھماز۔ طعنے دینے والا۔ مشائ۔ پھرنے والے۔ نیمیم۔ چغل خور۔ باتیں لگانے والے۔ مناع۔ روکنے والا۔ معتد۔ حد سے بڑھنے والا۔ اثیم۔ گناہ گار۔ عتل۔ اکھڑ۔ اجد۔ زنیم۔ بدنام۔ نسیم۔ ہم داغ دیں گے۔ الخرطوم۔ ناک۔ دم۔ سونڈ۔ تشریح : سورة القلم کا آغاز ” ن “ سے کیا گیا ہے جو حروف مقطعات میں سے ایک حروف ہے۔ اس کے کیا معنی ہیں ؟ اس کی تفصیل اس سے پہلی ابتدائی سورتوں میں آچکی ہے کہ ان حروف کے معنی اور مراد…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 17–33

(ف 4) اہل مکہ جب اپنے مال ومتاع پر بہت اترائے اور اللہ کی نعمتوں کی ناشکری کی، اور نبی ﷺ سے طرح طرح کی سرش کی انہوں نے شروع کی تو نبی ﷺ نے ان کے حق میں دعا فرمائی کہ یارب ، انہیں ایسی قحط سالی میں مبتلا کر جیسی حضرت یوسف کے زمانہ میں ہوئی تھی چناچہ اہل مکہ قحط کی مصیبت میں ایسے مبتلا ہوگئے کہ وہ بھوک کی شدت میں مردار اور ہڈیاں تک کھاگئے اور اس طرح آزمائش میں ڈالے گئے ، آخرنبی ﷺ سے رفع قحط کی دعا کرنے کی التجا کی اورآ پکی دعا سے قحط رفع ہوا۔ اس لیے اوپر کی ایتوں میں ولید بن مغیرہ کا خاص طور پر ذکر فرما کر سب کو قحط کا قصہ یاد دلا اور فرمایا کہ ان لوگوں کی نافرمانی کے سبب سے ان پر قحط کی آفت…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 16–21

[6] اصل میں لفظ '' خرطوم '' استعمال ہوا ہے۔ جس کے معنی ہاتھی کی سونڈ کے ہیں۔ کیونکہ وہ اپنے آپ کو بڑی ناک والا سمجھتا تھا اس لئے اس کی ناک کو حقارت سے سونڈ کہا گیا ہے۔ [7] داغنے سے مراد اس کی رسوائی اور روسیاہی ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 17–31

ف 1: ان آیات میں اس حقیقت کو واضح فرمایا ہے ۔ کہ جو لوگ اللہ کے مال و دولت کی بنا پر احکام الٰہی کا انکار کردیتے ہیں ۔ ا ہیں یقین رکھنا چاہیے ۔ کہ یہ فراوانی اور آسودگی ہمیشہ نہیں رہے گی ۔ فرمایا کہ مکہ والوں کہ ہم نے عیش وتکلفات سے بہرہ مند کرکے اسی طرح آزمایا ہے ۔ جس طرح کہ بنی اسرائیل کے ایک گروہ کو ہم نے مال و دولت سے نوازا ۔ ان کو ایک نہایت عمدہ باغ مرحمت فرمایا ۔ مگر انہوں نے ازراہ بخل یہ طے کرلیا ۔ کہ ہم اس کا پھل صرف آپس میں بانٹ لیں گے ۔ اس میں کسی غریب کا حصہ نہیں ہوگا ۔ پھر جو کچھ باغ کی آمدنی سے ملے گا ۔ اس کو صرف اپنی ان آسانی کے لئے استعمال کریں گے ۔ اور مستحقین کو کچھ نہیں…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(17) ہم نے ان مکہ والوں کو بھی اسی طرح آزمایا جس طرح ہم نے ان باغ والوں کی آزمائش کی تھی جبکہ ان لوگوں نے اس بات پر قسمیں کھائی تھیں کہ ہم صبح ہوتے ہی ضرور اس باغ کے پھل توڑ لیں گے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 17–31

ف 4۔ یعنی ان اہل مکہ کو سامان عیش دے رکھا ہے تاکہ دیکھیں کہ نعمتوں کے شکر میں ایمان لاتے ہیں یا ناشکری و بےقدری کر کے کفر کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

ان لوگوں کو آزمائیں گے جیسا کہ ہم نے باغ والوں کو آزمایا تھا جو صبح گئے تھے 17 ؎ یہ مکہ کے لوگوں کے سامنے اور ان جیسے کردار کے سارے لوگوں کے لئے ایک مثال بیان کی جا رہی ہے جس کا ذکر زیر نظر آیت سے شروع ہو کر آیت 33 تک چلا گیا ہے۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ یہ کفار مکہ کے حالات کے مناسب قرآن کریم نے ایک مثال بیان کی ہے۔ حقیقت میں کوئی واقعہ نہیں تھا اور سعد بن جبیر ؓ فرماتے ہیں کہ یہ واقع ہے جو یمن کی ایک بستی ضروان میں پیش آیا جو کہ صنعا سے چھ میل پر واقع تھی۔ چناچہ مفسرین نے اس واقعہ کی تفصیل اس طرح بیان کی ہے کہ اہل کتاب میں سے ایک شخص بہت مالدار ، صاحب زمین و املاک تھا اور ویسے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

إِنَّا بَلَوْنَاهُمْ كَمَا بَلَوْنَا أَصْحَابَ الْجَنَّةِ (We have tested them as We had tested the Owners of the Garden....68:17). The preceding verses rebutted the criticisms of pagan Arabs levelled against Allah's Messenger and gave reasons why the charges are not only unfounded, but also absurd. The present set of verses mentions a story of the past and the unbelievers of Makkah are threatened with punishment. 'Testing them' could refer to the forthcoming story, in which the owners of a garden were blessed with Divine favours, but they behaved ungratefully. As a result, a punishment came…

Read the full tafseer →