Al-Qalam 68:18

Al-Qalam · from ayah 18

68:18

وَلَا یَسْتَثْنُوْنَ ۟وَلَا يَسۡتَثۡنُوۡنَ

اور انشاء الله نہ کہا

— Fateh Muhammad Jalandhari

Without making exception.

— Saheeh International

Juz 29 · Ruku 1 of surah · Ruku 3 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Qalam

All translations of 68:18

اور وہ کوئی استثناء نہیں کر رہے تھے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور انشاء الله نہ کہا

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور انشاءاللہ نہ کہا

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور یہ (کہتے ہوئے) وہ کوئی استثناء نہیں کر رہے تھے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور انشاء اللہ نہ کہا

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور انہوں نے (اِن شاء اللہ کہہ کر یا غریبوں کے حصہ کا) اِستثناء نہ کیا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور وہ کوئی استثنا نہیں کر رہے تھے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور وہ کوئی استثنا نہیں کر رہے تھے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور کچھ بھی نہ چھوڑیں گے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور انہوں نے (اپنے گھمنڈ اور وثوق کے بل بوتے پر) انشاء اللہ بھی نہیں کہا تھا

— مولانا اسحاق مدنی

اور انہوں نے انشاء اللہ بھی نہیں کہا تھا

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور انہوں نے (اس پر) ان شاء اللہ بھی نہ کہا۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور انشاء اللہ نہ کہا۔

— محترمہ رفعت اعجاز

without making any allowance (for the will of Allah).

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

and did not make any exception (by saying insha‘allah ) .

— Muhammad Taqi Usmani

and did not make any exception (by saying insha‘allah ) .

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Without saying: "If Allah wills."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And made no exception (for the Will of Allah);

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Without making exception.

— Saheeh International

without adding ("if God wills").

— Muhammad Sarwar

And were not willing to set aside a portion (for the poor).

— Muhammad Habib Shakir

And they made not the exception.

— Abdul Majid Daryabadi

But made no reservation, ("If it be Allah's Will").

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 68:18

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 17–33

سیاہ رات اور کٹی ہوئی کھیتی یہاں ان کافروں کی جو حضور ﷺ کی نبوت کو جھٹلا رہے تھے مثال بیان ہو رہی ہے کہ جس طرح یہ باغ والے تھے کہ اللہ کی نعمت کی ناشکری کی اور اللہ کے عذابوں میں اپنے آپ کو ڈل دیا، یہی حالت ان کافروں کی ہے کہ اللہ کی نعمت یعنی حضور ﷺ کی پیغمبر کی ناشکری یعنی انکار نے انہیں بھی اللہ کی ناراضگی کا مستحق کردیا ہے، تو فرماتا ہے کہ ہم نے انہیں بھی آزما لیا جس طرح ہم نے باغ والوں کو آزمایا تھا جس باغ میں طرح طرح کے پھل میوے وغیرہ تھے، ان لوگوں نے آپس میں قسمیں کھائیں کہ صبح سے پہلے ہی پہلے رات کے وقت پھل اتار لیں گے تاکہ فقیروں مسکینوں اور سائلوں کو پتہ نہ چلے جو وہ آ کھڑے ہوں اور…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 18–21

سورة الْقَلَم 13 یعنی انہیں اپنی قدرت اور اپنے اختیار پر ایسا بھروسہ تھا کہ قسم کھا کر بےتکلف کہہ دیا کہ ہم ضرور کل اپنے باغ کے پھل توڑیں گے اور یہ کہنے کی کوئی ضرورت وہ محسوس نہیں کرتے تھے کہ اگر اللہ نے چاہا تو ہم یہ کام کریں گے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

وَلَا يَسْتَثْنُوْنَ کے معین استثناء نہ کرنے کے ہیں اور مراد اس استثناء سے انشاء اللہ کہنا ہے اور بعض حضرات مفسرین نے استثناء سے مراد یہ لیا ہے کہ ہم پورا پورا غلہ اور پھل لے آویں گے فقراء کا حصہ مستثنی نہ کریں گے۔ (مظہری)

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

ایک عام غلط فہمی: عام طور پر لوگوں نے اس کا یہ مطلب لیا ہے کہ قسم کھاتے ہوئے انھوں نے ’اِنْ شَآءَ اللّٰہ‘ نہیں کہا۔ ان کو اپنی کامیابی اتنی متیقّن نظر آئی کہ یہ وہم بھی نہ گزرا کہ اس میں کوئی رخنہ بھی پیدا ہو سکتا ہے۔ اس مطلب پر اگرچہ تمام مفسرین کا اتفاق ہے لیکن میرا دل اس پر نہیں جمتا۔ لفظ ’اِسْتِثْنَاءٌ‘ کے اندر اگرچہ اس مفہوم کی گنجائش ہے لیکن جس اسلوب میں یہاں بات فرمائی گئی ہے وہ اس کے لیے کچھ موزوں نہیں ہے۔ اگر یہ بات کہنی تھی تو ’وَلَا یَسْتَثْنُوْنَ‘ کی جگہ ’وَلَمْ یَسْتَثْنُوْا‘ یا اس سے ملتا جلتا کوئی اور اسلوب ہونا تھا۔ خود لفظ ’اِسْتِثْنَاءٌ‘ بھی ’اِنْ شَآءَ اللّٰہ‘ کہنے کے مفہوم…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 18–24

8: اس کا ایک مطلب تو یہ ہوسکتا ہے کہ انہوں نے یہ ارادہ کیا تھا کہ سارے کا سارا پھل ہم توڑ لیں گے، اور اس کے کسی حصے کا استثناء نہیں کریں گے، یعنی کوئی حصہ غریبوں کے لیے نہیں چھوڑیں گے۔ دوسرے استثناء کرنے کا ایک مطلب ”ان شاء اللہ“ کہنا بھی ہوتا ہے۔ اس صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ جب وہ یہ کہہ رہے تھے کہ ہم صبح ہوتے ہی پھل توڑ لیں گے تو اس وقت انہوں نے ”ان شاء اللہ“ نہیں کہا تھا

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 17–18

انا بلونھم ................ یعلمون ہوسکتا ہے کہ یہ قصہ اہل مکہ کے درمیان معروف ہو۔ لیکن یہاں مقصود یہ ہے کہ اس دنیا کے تمام کام دست قدرت میں ہیں۔ اور یہاں کوئی خوشحال ہے یا بدحال ہے ، وہ اللہ کی آزمائش میں ہے۔ اور یہی اس قصے سے یہاں مقصود ومطلوب ہے۔ اس قصے کے کرداروں سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ بہت ہی پسماندہ قسم کے سادہ لوح لوگ ہیں۔ جس طرح دیہات کے سادہ لوح باشندے ہوتے ہیں۔ زیادہ گہرے افکار سے بہرہ ور نہیں ہوتے۔ اور سیدھی سیدھی بات کرتے ہیں۔ اس دور میں جب یہ آیات اتررہی تھیں تو قرآن کے مخاطب اکثر ایسے ہی سادہ لوگ تھے۔ جو اسلام سے دشمنی رکھتے تھے اور اسلام کا انکار کرتے تھے ، لیکن ان کے دماغ زیادہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

3 کئی بھائی جن کے باپ نے ترکہ میں میوے کا ایک باغ چھوڑا تھا، اس میں کھیتی بھی ہوتی ہوگی۔ سارا گھر اس کی پیداوار سے آسودہ تھا، باپ کے زمانہ میں عادت تھی کہ جس دن میوہ توڑا جاتا یا کھیتی کٹتی تو شہر کے سب فقیر محتاج جمع ہوجاتے۔ یہ سب کو تھوڑا بہت دے دیتا اسی سے برکت تھی، اس کے انتقال کے بعد بیٹوں کو خیال ہوا کہ فقیر جو اتنا مال لے جاتے ہیں، وہ اپنے ہی کام آئے تو خوب ہو۔ کیونکہ ہم ایسی تدبیر نہ کریں کہ فقیروں کو کچھ دینا نہ پڑے اور ساری پیداوار گھر میں آجائے۔ پھر آپس میں مشورہ کر کے یہ رائے قرار پائی کہ صبح سویرے ہی توڑ کر گھر لے آئیں۔ فقیر جائیں گے تو وہاں کچھ نہ پائیں گے۔ اور اپنی اس تدبیر پر…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 18–19

آیت 18{ وَلَا یَسْتَثْنُوْنَ۔ } ”اور انہوں نے اس پر ان شاء اللہ بھی نہ کہا۔“ باغ کے پھل پک کر تیار ہوچکے تھے۔ انہوں نے ایک رات پروگرام طے کرلیا کہ وہ صبح سویرے جائیں گے اور سارا پھل اتار لائیں گے۔ گویا وہ اپنے اسباب و وسائل کے گھمنڈ میں مسبب ِحقیقی کو بالکل ہی بھول گئے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 18–32

15 باغ والوں کا قصہ :۔ یہ واقعہ آیت نمبر 17 سے آیت نمبر 33 تک پھیلا ہوا ہے۔ جسے ہم تسلسل کے ساتھ اپنے الفاظ میں بیان کریں گے کسی شخص کا ایک باغ تھا جو بھرپور فصل دیتا تھا۔ اس شخص کا زندگی بھر یہ دستور رہا کہ جب بھی پھل کی فصل اٹھاتا تو اس کے تین حصے کرتا۔ ایک حصہ تو خود اپنے گھر کی ضروریات کے لیے رکھ لیتا۔ دوسرا حصہ اپنے قریبی رشتہ داروں اور ہمسایوں میں تقسیم کردیتا اور تیسرا حصہ فقراء و مساکین میں بانٹ دیتا۔ اس کی اس سخاوت کی وجہ سے اس کا باغ سب سے زیادہ فصل دیتا۔ کٹائی کے دن فقراء و مساکین موقع پر پہنچ جاتے اور اپنا اپنا حصہ وصول کرلیتے۔ جب یہ شخص انتقال کر گیا تو اس کے بیٹوں کو خیال آیا کہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 18–25

11۔ یہ کن باغ والوں کا ذکر ہے ؟ بعض نے کہا ہے کہ کوئی باغ حبشہ میں تھا۔ قیل کانوا میں اھل الحبشۃ (ابن کثیر) عن عکرمۃ قال ھم ناس من الحبشۃ (ابن جریر) ایک قول یہ بھی ہے کہ یہ باغ یمن میں تھا۔ عن ابن عباس قال کان بستان بالیمن (معالم) قال سعید بن جبیرکانوا من قریۃ یقال لھا فروان علی ستۃ امیال من صنعاء (ابن کثیر) بہرحال جہاں کہیں بھی ہو ایسا باغ تھا جس کی تلمیح سے اہل عرب خوب واقف تھے۔ اور قصہ کا ماحصل یہ ہے کہ جو اہل غفلت اپنی تدبیروں پر نازاں اور اہل حقوق کی حق تلفی میں لگے رہتے ہیں، وہ آخر خود ہی خسارہ میں رہتے ہیں۔ (آیت) ” ولایستثنون “۔ یعنی انہیں اس درجہ وثوق اپنے صبح کے پروگرام پر تھا کہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 17–18

باغ والوں کا قصہ : انابلونھم کما بلونا اصحب الجنۃ (الآیہ) یہ باغ حضرت ابن عباس ؓ کے قول کے مطابق یمن میں تھا اور حضرت سعید بن جبیر ؓ کی ایک روایت یہ ہے کہ صنعاء جو یمن کا مشہور شہر ہے اس سے چھ میل کے فاصلہ پر تھا، اور بعض حضرات نے اس کا محل وقوع حبشہ بتایا ہے۔ (اب کثیر) یہ لوگ اہل کتاب تھے اور یہ واقعہ رفع عیسیٰ علیہ والصلوٰۃ والسلام کے کچھ عرصہ بعد کا ہے، (معارف) دو باغ والوں کا اسی قسم کا ایک واقعہ تمثیل کے طور پر سورة کہف رکوع 5 میں بیان ہوا ہے۔ باغ والوں کا واقعہ حضرت ابن عباس ؓ کی روایت سے اس طرح منقول ہے کہ صنعاء یمن سے دو فرسخ کے فاصلہ پر ایک باغ تھا اس مقام کو صروان کہا جاتا تھا، یہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ولا یستثنون . یعنی انہوں نے استثناء نہیں کیا تھا ‘ استثناء کے دو معنی ہیں : ایک تو یہ کہ انہوں نے انشاء اللہ نہیں کہا تھا ‘ انشاء اللہ کہنے کو استثناء قرار دینے کی یہ وجہ ہے کہ استثناء سے بھی بعض بعد والی چیزوں کو پہلے والی چیزوں سے الگ کرلیا جاتا ہے اور انشاء اللہ کہنے سے بھی اخراج ہی مقصود ہوتا ہے یا یہ وجہ ہے کہ اَفْعَلُ اِنْشَآءَ اللہ (اگر خدا نے چاہا تو میں ایسا کروں گا) اور لاَ اَفْعَلُ الاَّ اَنْ شَآءَ اللہ (بغیر مشیت خدا کے میں ایسا نہیں کروں گا) دونوں کا مطلب ایک ہی ہے (اوّل قسم ہے دوسرا استثناء۔ مطلب دونوں کا ایک ہی ہے) اس صورت میں اقسموا کے فاعل سے لا یستثنون حال ہوگا۔ دوسرا معنی…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 17–20

(17۔ 20) اور ہم نے مکہ والوں کی بدر کے دن قتل و قید اور شکست کے ساتھ اور ترک استغفار کے ساتھ اور بدر میں رسول اکرم کی بددعا کی وجہ سے سات سالہ قحط اور بھوک کی شکایت سے آزمائش کر رکھی ہے جیسا ہم نے باغ والوں یعنی بنی ضروان، بھوک کی شکایت اور ان کے باغوں کو آگ لگا کر آزمائش کی تھی۔ جب انہوں نے قسم کھائی تھی کہ اس باغ کا پھل ضرور صبح سویرے چل کر توڑ ڈالیں گے اور انہوں نے انشاء اللہ بھی نہ کہا۔ سو اس باغ پر رات ہی میں عذاب آپڑا سو وہ باغ جل کر ایسا رہ گیا جیسا کہ تاریک رات۔ شان نزول : اِنَّا بَلَوْنٰهُمْ كَمَا بَلَوْنَآ اَصْحٰبَ الْجَنَّةِ (الخ) ابن ابی حاتم نے ابن جریج سے روایت کیا ہے کہ ابو جہل…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَلَا یَسْتَثْنُوْنَ :”الاستثنائ“ کسی چیز کو عام حکم سے علیحدہ کرنا ، ان شاء اللہ کہنا۔ آیت کے دو معنی ہیں ، ایک یہ کہ انہیں اپنے منصوبے کی کامیابی کا اتنا یقین تھا کہ انہوں نے ان شاء اللہ بھی نہیں کہا وہ اللہ کی قدرت و مشیت کو بھی بھول گئے۔ دوسرا یہ کہ انہوں نے سارا پھل اتار دینے کی قسم کھائی۔ عام طور پر پھل چنتے وقت کچھ پھل مساکین کے لیے چھوڑ دیا جاتا ہے، لیکن انہوں نے اس کا استثناء بھی نہیں کیا۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 17–19

اس میں تین مسائل ہیں : باغ والوں کا ابتلا اور ان کا قصہ مسئلہ نمبر 1 انا بلونھم مراد اہل مکہ ہیں۔ ابتلاء سے مراد آزمانا ہے۔ اس کا معنی ہے ہم نے انہیں مال عطا کئے تاکہ وہ شکر بجا لائیں نہ کہ وہ تکبر کریں۔ جب انہوں نے تکبر کیا اور حضرت محمد ﷺ سے دشمن یک تو ہم نے بھوک اور قحط کے ساتھ آزمایا جس طرح مہ نے باغ والوں کو آزمایا تھا جن کی خبر ان کے ہاں معروف و مشہور تھی۔ وہ باغ یمن کے علاقہ میں صنعاء سے چند فرسخ دور تھا۔ ایک قول یہ کیا جاتا ہے : وہ دو فرسخ دور تھا وہ باغ ایک ایسے آدمی کا تھا جو اس میں سے اللہ تعالیٰ کا حق ادا کیا کرتا تھا جب وہ فوت ہوگیا تو باغ بیٹوں کی ملکیت میں آگیا انہوں نے لوگوں…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

49۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے ابو صالح (رح) سے فرمایا کہ آیت ولا تستثنون (اور انہوں نے انشاء اللہ نہیں کہا) یعنی ان کی استثناء سبحان اللہ تھی۔

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَلَا يَسْتَثْنُوْنَ : اور انھوں نے استثناء (ان شاء اللہ) نہیں کہا ] نوٹ۔ 2: لَایَسْتَثْنُوْنَ کے معنی استثناء نہ کرنے کے ہیں اور مراد اس استثناء سے ان شاء اللہ کہنا ہے۔ اور بعض حضرات مفسرین نے استثناء سے مراد یہ لیا ہے کہ ہم پورا پورا غلہ اور پھل لے آئیں گے اور فقراء کا حصہ مستثنیٰ نہیں کریں گے۔ (معارف القرآن)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 17–32

ایک باغ کے مالکوں کا عبرت ناک واقعہ رسول اللہ ﷺ کے ہجرت فرمانے کے بعد مکہ معظمہ کے مشرکوں پر اللہ تعالیٰ نے قحط بھیج دیا تھا۔ قحط کی وجہ سے بہت تکلیف اٹھائی، اس کے بارے میں فرمایا کہ ہم نے مکہ والوں کو آزمائش میں ڈالا جیسا کہ باغ والوں کو آزمائش میں ڈالا تھا، یہ باغ کہاں تھا باغ والے کون تھے اس کے بارے میں حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ یہ باغ یمن میں شہر صنعاء سے دو فرسخ کے فاصلہ پر تھا اسے نمازی لوگوں نے بویا تھا جو لوگ اس کے وارث چلے آ رہے تھے وہ بڑے سخی تھے جس دن باغ کے پھل کاٹتے تھے مساکین جمع ہوجاتے تھے اسی طرح کھیتی کاٹنے کے دن اور جس دن بھوسہ اور دانہ الگ کرتے تھے مساکین آجاتے تھے، یہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 17–33

عبرتناک انجام غرور وتکبر بردولت دنیا و محرومی از سعادت وآخرت : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” انا بلونھم کما بلون آ اصحب الجنۃ ....... الی ...... لو کانوا یعلمون “۔ (ربط) گزشتہ آیات میں اہل مکہ کے ان مغرور ومتکبر انسانوں کا ذکر تھا جنہوں نے محض اپنے مال و دولت اور اولاد وخاندان کے نشہ میں رسول خدا ﷺ کی توہین کی انکار وکفر کے مرتکب ہوئے تو اب ان آیات میں ایک باغ والوں کا قصہ بیان کرکے بتایا جارہا ہے کہ انسان کو دنیا کے مال ومنال پر بھروسہ کرکے مغرور ومتکبر نہ ہونا چاہئے دنیا کی حقیقت بس اتنی ہی ہے اور غرور کا انجام ایسا ہی ہے جیسے کہ اس باغ کی تباہی اور باغ والوں کی بربادی سے ظاہر ہورہا ہے یہ باغ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 17–18

9:۔ ” انا بلوناھم “ یہ تخویف دنیوی کا نمونہ ہے۔ ضمیر منصوب اہل مکہ سے کنایہ ہے۔ ” اصحاب الجنۃ “ سے گذشتہ زمانے کے وہ بھائی مراد ہیں جنہوں نے ایک نہایت عمدہ باغ اپنے باپ سے وراثت میں پایا تھا۔ صنعاء الیمن کے قرب و جوار میں ایک شخص رہتا تھا جس کا ایک بہت اچھا باغ تھا جس میں ہر قسم کے میووں اور پھلوں کے درخت تھے یہ شخص بہت نیک تھا اور صرف خدا ہی کو برکات دہندہ سمجھتا تھا باغ کی پیداوار میں سے دل کھول کر خدا کی راہ میں خرچ کرتا اور مساکین کو کھلاتا تھا۔ مساکین صبح صبح ہی اس کے باغ میں پہنچ جاتے اور پھل توڑ کر ان کو کھلاتا اور ساتھ لے جانے کے لیے بھی دیتا اس کی وفات ہوئی تو اس کے بیٹوں نے سوچا کہ…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 17–33

گذشتہ سے پیوستہ : گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے ان انعامات کا ذکر فرمایا ، جو پیغمبر ﷺ پر کئے اور توحید الہٰی ، رسالت اور معاد کے مکذبین کے متعلق ارشاد فریاما کہ ان کی کسی بات کو تسلیم نہ کریں کیونکہ ان بےہودہ لوگوں نے نبی جیسے عقل مند ، ذہین اور سب سے بلند اخلاق والی ہستی کو العیافہ باللہ مجنون کا خطاب دیا ۔ یہ مشرکین آپ ﷺ کو مداہنت پر آمادہ کرنا چاہتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کی دس الفاظ کے ساتھ مذمت بیان کی۔ پھر فرمایا کہ یہ اس لیے غرور وتکبر کرتے ہیں کہ ان کو اللہ تعالیٰ نے مالی و اولاد سے نوازا ہے۔ یہ انعامات تو شکر گزاری کا سبب بننا چاہئیں نہ کہ تکذیب و نافرمانی کا ان کے غرور کا…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَلَا يَسْتَثْنُوْنَ۝ 18 لا «لَا» يستعمل للعدم المحض . نحو : زيد لا عالم، وذلک يدلّ علی كونه جاهلا، وذلک يكون للنّفي، ويستعمل في الأزمنة الثّلاثة، ومع الاسم والفعل غير أنه إذا نفي به الماضي، فإمّا أن لا يؤتی بعده بالفعل، نحو أن يقال لك : هل خرجت ؟ فتقول : لَا، وتقدیره : لا خرجت . ويكون قلّما يذكر بعده الفعل الماضي إلا إذا فصل بينهما بشیء . نحو : لا رجلا ضربت ولا امرأة، أو يكون عطفا . نحو : لا خرجت ولَا رکبت، أو عند تكريره . نحو : فَلا صَدَّقَ وَلا صَلَّى [ القیامة/ 31] أو عند الدّعاء . نحو قولهم : لا کان، ولا أفلح، ونحو ذلك . فممّا نفي به المستقبل قوله : لا يَعْزُبُ عَنْهُ مِثْقالُ ذَرَّةٍ […

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 17–33

ترکیب : اذ تعلیلیۃ اوظرفیۃ بنوع تسمح لان الانقسام کان قبل ابتلائہم لیصرمنہا جواب القسم مصبحین حال من الفاعل فی یصرمنہا ولا یستثنون جملۃ مستانفہ لبیان ماوقع منھم وقیل حال فتنادوا معطوف علی اقسموا بینما اعتراض لبیان مانزل بتلک الجنۃ ان اغدوا ان مفسرۃ لان فی التنادی معنی القول او مصدریۃ ای اخرجواغدوۃً ان کنتم الخ جواب الشرط محذوف فاغدوا وھم یتخافتون الجملۃ حال من فاعل فانطلقوا ان لایدخلنہا ان مفسرۃ للتخافت المذکور لمافیہ من معنی القول علی حرد یتعلق بقادرین وقادرین حال وقیل خبر غدوا لا نھا حملت علی اصبحوا۔ تفسیر : اہل مکہ خصوص ولید وغیرہ ثروت و حشمت پر نازاں ہو کر کہتے تھے کہ ہم پر خدا کی نظر…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 17–18

اِنَّا بَلَوْنٰـھُمْ کَمَا بَلَوْنَـآ اَصْحٰبَ الْجَنَّۃِ ج اِذْا اَقْسَمُوْا لَیَصْرِمُنَّھَا مُصْبِحِیْنَ ۔ وَلاَ یَسْتَـثْـنُوْنَ ۔ (القلم : 17، 18) (ہم نے ان کو اس طرح امتحان میں ڈالا ہے جس طرح باغ والوں کو امتحان میں ڈالا جبکہ انھوں نے قسم کھائی کہ وہ صبح سویرے ضرور ہی اس کے پھل توڑ لیں گے۔ اور کچھ بھی نہ چھوڑیں گے۔ ) قریش کے سرداروں کے لیے ایک تمثیل قریش کو اپنی تجارت کی وسعت، اس سے حاصل ہونے والی دولت اور طائف میں ان کے پھیلے ہوئے باغات نے اس غلط فہمی میں مبتلا کر رکھا تھا کہ ہماری یہ دولت و ثروت ہمارے برسرحق ہونے کی دلیل ہے۔ اگر ہم غلط راستے پر ہوتے تو اللہ تعالیٰ ہمیں یہ خوشحالیاں…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 17–33

فہم القرآن ربط کلام : اہل مکہ کی آزمائش۔ نبی معظم ﷺ کی جدوجہد کے سامنے بےبس ہو کر اہل مکہ نے یہ مطالبہ کیا تھا کہ کچھ آپ نرم ہوجائیں اور کچھ ہم نرم ہوجاتے ہیں نبی ﷺ نے اسے مکمل طور پر مسترد کردیا۔ اس کے ردِّ عمل میں انہوں نے مزدور صحابہ کرام ؓ کی مزدوریاں روک لیں اور اپنے غریب رشتہ دار صحابہ کے ساتھ تعاون کرنے سے ہاتھ کھینچ لیا، ان کے سرداروں نے مہم چلائی کہ مسلمانوں کے ساتھ کسی قسم کا تعاون نہ کیا جائے۔ اس پر یہ آیات نازل ہوئیں جس میں انتباہ کرتے ہوئے فرمایا کہ ہم مکہ والوں کو اس طرح آزمائیں گے جس طرح ان سے پہلے باغ والوں کو آزما چکے ہیں۔ واقعہ یوں ہے کہ ایک شخص کا باغ تھا وہ اپنے باغ کی…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

18 : وَلَا یَسْتَثْنُوْنَ (اور انہوں نے انشاء اللہ بھی نہ کہا) انشاء اللہ کو عرب کے لوگ استثناء کا نام دیتے ہیں۔ اگرچہ صورۃً تو یہ شرط ہے کیونکہ یہ استثناء کا معنی ادا کرتا ہے۔ لا خرجن انشاء اللہ اور لا اخرج الا ان یشاء اللہ دونوں کا معنی ایک ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

17 ۔” انا بلوناھم “ یعنی ہم نے اہل مکہ کا قحط اور بھوک کے ذریعے امتحان لیا۔ ” کما بلونا “ ہم نے آزمائش۔ ” اصحاب الجنۃ “ ابو صالح نے ابن عباس ؓ سیروایت کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے قول ” انا بلوناھم کما بلونا اصحاب الجنۃ “ کے بارے میں۔ فرماتے ہیں یمن میں ایک باغ تھا جس کو ضروان کہا جاتا تھا صنعاء سے دو فرسخ پہلے اس کو اہل طریق روندتے تھے۔ اس کو اہل صلاۃ کی ایک قوم نے لگایا تھا یہ ایک شخص کا تھا جو مرگیا تو اس کے تین بیٹے وارث بنے اور جب اس کو ٹھنڈی ہوا لگتی اور جو چیز جدا ہوتی جس کو درانتی کاٹتی ہے جس وہ درختوں کے اوپر سے نیچے بچھونوں پر گرتی تو وہ مساکین کے لئے ہوتی اور جب کھیتی کاٹتے اور جس چیز…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 17–33

17۔ 33۔ اہل مکہ جب اپنے مال و متاع پر بہت اترائے اور اللہ کی نعمتوں کی ناشکری کی اور اللہ کے رسول سے طرح طرح کی سرکشی انہوں نے شروع کی تو آنحضرت ﷺ نے ان کے حق میں قحط کی بددعا کی جس کا ذکر حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ کی روایت سے صحیح بخاری 1 ؎ و مسلم میں ہے اللہ کے رسول کی بد دعا سے بڑا سخت قحط پڑا یہاں تک کہ اہل مکہ مردار چیزیں کھا کر زندگی بسر کرنے لگے۔ آخر آنحضرت ﷺ سے رفع قحط کی دعا کرنے کی التجا کی اور آپ ﷺ کی دعا سے وہ قحط رفع ہوا اس لئے اوپر کی آیتوں میں ولید بن مغیرہ کا خاص طور پر ذکر فرما کر سب قریش کو قحط کا قصہ یاد دلایا اور فرمایا کہ ان لوگوں کی نافرمانی کے سبب سے ان پر قحط کی آفت اسی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 17–18

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ہم نے ان جھٹلانے والوں کو بھلائی کے ساتھ آزمایا ہم نے انہیں مہلت دی اور ہم نے ان کی خواہشات نفس کے موافق مال و دولت اور لمبی عمر وغیرہ میں سے جس سے چاہا انہیں نوازا۔ اس کا سبب یہ نہ تھا کہ ہمارے نزدیک ان کی کرامت تھی بلکہ بسا اوقات یہ سب کچھ انہیں استدراج کے طور پر عطا کیا جاتا ہے جس کا انہیں علم تک نہیں ہوتا۔ پس ان کی ان نعمتوں کی وجہ سے دھوکے میں مبتلا ہونا، اس باغ والوں کی فریب کو ردگی کی مانند ہے جو باغ کی ملکیت میں شریک تھے جب درختوں کے پھل لگ گئے اور پھلوں نے رنگ پکڑ لیا اور ان کی برداشت کا وقت آن پہنچا، انہیں یقین تھا کہ باغ کی فصل ان کے ہاتھ میں ہے اور کوئی ایسا…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 13–52

قول باری ہے (عتل بعد ذلک زنیم، جفا کار اور ان سب عیوب کے ساتھ بداصل ہے) پہلے لفظ کے بارے میں ایک قول ہے کہ ہٹے کٹے اور بدخلق نیز سفاک انسان کو عتل کہا جاتا ہے۔ زنیم اس ولدالزنا کو کہا جاتا ہے جو دراصل ایک خاندان کا فرد نہ ہو مگر اس میں شامل ہوگیا ہو۔ ہمیں عبدالباقی بن قانع نے روایت بیان کی، انہیں حسین بن اسحاق التستری نے، انہیں الولیدبن عتبہ نے، انہیں الولید بن مسلم نے، انہیں ابو شیبہ ابراہیم بن عثمان نے عثمان بن عمیر البجلی سے، انہوں شہرین حوشب سے، انہوں نے حضرت شداد بن اوس سے کہ حضور ﷺ نے فرمایا (لا یدخل الجنۃ جو اظ ولا جعظری ولا عتل زنیم) میں نے دریافت کیا کہ جو اظ کسے کہتے ہیں۔ انہوں نے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 17–18

14 انبار و رضا نے کہرو غرور اور ان کی محرومی کے ایک نمونے اور مظہر کے ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جبکہ وہ اپنے زعم اور گھمنڈ کی بناء پر کڑی قسمیں کھا کر کہہ رہے تھے ہم ضرور یا ضرور پھل توڑ کر رہیں گے اپنے باغ کئے اور اس پر وہ اتنے باغ کئے اور اس پر وہ اتنے مست اور مکن کہ پر انشاء اللہ بھی نہیں کہہ رہے تھے۔ سورس سے معلوم ہوا کہ اپنی فکر و تدبیر کے گھمنڈ میں مبتلا ہو کر حضرت حق جل مجدہ کی قدرت و عظمت کو بھول جانا خرابی و فساد کی جڑی بنیاد ہے، جیسا کہ دوسرے مقام پر اس کی تصریح فرمائی گئی کہ اللہ پاک کی گرفت و پکڑ اور اس کے مکر سے نڈر اور بےخوف ہوجانا انہی لوگوں کا شیوہ و طریقہ ہوسکتا ہے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 17–35

باغ والوں کے بخل کا واقعہ تشریح :۔ اس قصے سے سبق ملتا ہے کہ صرف دنیا میں کھو جانا اور اللہ کی طرف سے آنکھیں بند کرلینا سراسر غلط راستہ ہے رب العزت کا یہی طریقہ ہے کہ وہ بندوں کو ایسی ہی سزاؤں سے جھنجوڑتا ہے کہ انسان غفلت سے باز آجائے یہ دنیاوی نقصانات تو صرف آنکھیں کھولنے کے لیے کرائے جاتے ہیں نافرمان اور غفلت سے بیدار نہ ہونے والے لوگوں کو آخرت میں بڑا سخت عذاب دیا جائے گا۔ جب کہ فرمانبرداروں کے لیے آرام و آسائش کے بہترین باغات ہیں اور یہی فرق ہے نافرمانوں اور فرمانبرداروں میں کیونکہ اللہ بہترین انصاف کرنے والا ہے۔ اچھے اور برے لوگوں کا حساب ایک جیسا نہیں ہوسکتا۔ حدیث میں نصیحت کی گئی ہے۔…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–33

آیات 1 تا 23۔ اسرار ومعارف۔ قسم ہے قلم کی اور جو کچھ قلم سے لکھاجاتا ہے یعنی آپ ﷺ نے امی ہونے کے باوجود علم کے وہ دریابہائے کہ خود قلم اور اس کی تحریر آپ کے کامل عقل مند اور بےمثال صاحب خرد ہونے پر دال ہے۔ مجنون۔ جب آپ ﷺ نے اعلان نبوت فرما کر ساری انسانیت کو دعوت حق دے دی اور تمام انسانوں کے لیے ایک عقیدہ اور ایک نظام حیات تو مشرکین نے اسے معاذ اللہ پاگل پن قرار دیا کہ دنیا کی عظیم الشان حکومتیں ساری دنیا پہ ایک نظام رائج نہ کرسکیں۔ پھر آپ ﷺ امی ہیں ، اکیلے ہیں یا چند مسلمان جن کی بظاہر کوئی حیثیت نہیں پھر اقوام عالم کے مزاج الگ ، فکر الگ ، رنگ ونسل اپنی اپنی ، غذا الگ زبانیں الگ موسم اور…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 11 تاکہ فقیر و محتاج اپنا حق مانگنے کے لئے جمع نہ ہو سکیں۔ دوسرا ترجمہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ” غریبوں کے لئے “ کچھ نہ چھوڑیں گے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 18–19

(68:18) ولا تستثنون : مضارع منفی جمع مذکر غائب، استثناء (استفعال) مصدر۔ حکایت حال ماضی (فعل مضارع جو کسی گزشتہ بات کو بیان کرنے کے لئے فعل ماضی کی بجائے استعمال کیا جائے) انہوں نے انشاء اللہ نہیں کیا۔ ثنی مادہ۔ اقسموا کے فاعل سے حال ہے یا یہ علیحدہ علیحدہ مستانفہ ہے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–33

لغات القرآن۔ یسطرون۔ وہ لکھتے ہیں۔ ممنون۔ منقطع ہونے والا۔ ختم ہونے والا۔ تبصر۔ تو دیکھے گا۔ المفتون۔ دیوانہ۔ ودوا۔ وہ پسند کرتے ہیں۔ تدھن۔ تو خوشامد کرے۔ تو نمر پرے۔ حلاف۔ بہت قسمیں کھانے والا۔ مھین۔ ذلیل کمینہ۔ ھماز۔ طعنے دینے والا۔ مشائ۔ پھرنے والے۔ نیمیم۔ چغل خور۔ باتیں لگانے والے۔ مناع۔ روکنے والا۔ معتد۔ حد سے بڑھنے والا۔ اثیم۔ گناہ گار۔ عتل۔ اکھڑ۔ اجد۔ زنیم۔ بدنام۔ نسیم۔ ہم داغ دیں گے۔ الخرطوم۔ ناک۔ دم۔ سونڈ۔ تشریح : سورة القلم کا آغاز ” ن “ سے کیا گیا ہے جو حروف مقطعات میں سے ایک حروف ہے۔ اس کے کیا معنی ہیں ؟ اس کی تفصیل اس سے پہلی ابتدائی سورتوں میں آچکی ہے کہ ان حروف کے معنی اور مراد…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 17–33

(ف 4) اہل مکہ جب اپنے مال ومتاع پر بہت اترائے اور اللہ کی نعمتوں کی ناشکری کی، اور نبی ﷺ سے طرح طرح کی سرش کی انہوں نے شروع کی تو نبی ﷺ نے ان کے حق میں دعا فرمائی کہ یارب ، انہیں ایسی قحط سالی میں مبتلا کر جیسی حضرت یوسف کے زمانہ میں ہوئی تھی چناچہ اہل مکہ قحط کی مصیبت میں ایسے مبتلا ہوگئے کہ وہ بھوک کی شدت میں مردار اور ہڈیاں تک کھاگئے اور اس طرح آزمائش میں ڈالے گئے ، آخرنبی ﷺ سے رفع قحط کی دعا کرنے کی التجا کی اورآ پکی دعا سے قحط رفع ہوا۔ اس لیے اوپر کی ایتوں میں ولید بن مغیرہ کا خاص طور پر ذکر فرما کر سب کو قحط کا قصہ یاد دلا اور فرمایا کہ ان لوگوں کی نافرمانی کے سبب سے ان پر قحط کی آفت…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 16–21

[6] اصل میں لفظ '' خرطوم '' استعمال ہوا ہے۔ جس کے معنی ہاتھی کی سونڈ کے ہیں۔ کیونکہ وہ اپنے آپ کو بڑی ناک والا سمجھتا تھا اس لئے اس کی ناک کو حقارت سے سونڈ کہا گیا ہے۔ [7] داغنے سے مراد اس کی رسوائی اور روسیاہی ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 17–31

ف 1: ان آیات میں اس حقیقت کو واضح فرمایا ہے ۔ کہ جو لوگ اللہ کے مال و دولت کی بنا پر احکام الٰہی کا انکار کردیتے ہیں ۔ ا ہیں یقین رکھنا چاہیے ۔ کہ یہ فراوانی اور آسودگی ہمیشہ نہیں رہے گی ۔ فرمایا کہ مکہ والوں کہ ہم نے عیش وتکلفات سے بہرہ مند کرکے اسی طرح آزمایا ہے ۔ جس طرح کہ بنی اسرائیل کے ایک گروہ کو ہم نے مال و دولت سے نوازا ۔ ان کو ایک نہایت عمدہ باغ مرحمت فرمایا ۔ مگر انہوں نے ازراہ بخل یہ طے کرلیا ۔ کہ ہم اس کا پھل صرف آپس میں بانٹ لیں گے ۔ اس میں کسی غریب کا حصہ نہیں ہوگا ۔ پھر جو کچھ باغ کی آمدنی سے ملے گا ۔ اس کو صرف اپنی ان آسانی کے لئے استعمال کریں گے ۔ اور مستحقین کو کچھ نہیں…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(18) اور انہوں نے اپنے اس کہنے پر انشاء اللہ بھی نہ کہا۔ یہ باغ تو حبشہ میں تھا اور یا یمن میں صنعا سے تقریباً تین کوس کے فاصلہ پر تھا یہ باغ ایک ثقیفی یعنی قبیلہ ثقیف کے رہنے والے شخص کا تھا۔ یہ باغ بہت اچھے پھل لاتا تھا اس میں کھیتی بھی بہت عمدہ ہوتی تھی بہت آمدنی اور بڑے محصول کا باغ تھا اس کا مالک بہت خیرات کرتا تھا باغ کے پھل اور کھیتی کا اکثر حصہ مساکین کو دیا کرتا تھا۔ مساکین اس کے باغ سے بہت فائدہ اٹھاتے تھے اس باغ والے کے تین یا پانچ لڑکے تھے ان میں سے صرف ایک لڑکا باپ کے طریقہ کو پسند کرتا تھا اور باقی دولڑکے باپ کی خیرات اور مساکین کی خدمت کو ناپسند کرتے تھے۔ چنانچہ جب باپ کا…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 17–31

ف 4۔ یعنی ان اہل مکہ کو سامان عیش دے رکھا ہے تاکہ دیکھیں کہ نعمتوں کے شکر میں ایمان لاتے ہیں یا ناشکری و بےقدری کر کے کفر کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اور انہوں نے بات کرتے ہوئے کسی کو بھی اس میں استثناء نہ کیا 18 ؎ ان کا ارادہ اپنے باغ کے پھل چننے اور کھیتی کاٹنے کا تھا اور ظاہر ہے کہ باغوں والے اپنے باغوں کے پھل چنتے اور کھیتیوں والے اپنی کھیتوں کو کاٹتے آئے ہیں ، کاٹ رہے ہیں اور جب تک یہ نظام قائم ہے کاٹتے رہیں گے لیکن ان لوگوں پر افتاد کیوں پڑی ؟ اس لئے کہ انہوں نے ایک ایسی اسکیم سوچی جو ان کو سوچنے کا حق نہیں تھا اور اگر اس طرح سرمنڈاتے ہی اولے نہ پڑتے تو شاید ان کی عقلیں درست نہ ہوتیں۔ اس طرح وہ پہلے مرحلہ ہی پر حقیقت کو سمجھ گئے اگرچہ باغ کا پھل اور کھیتی ان کے ہاتھ سے نکل گئی لیکن حقیقت ان کی سمجھ میں آگئی اور ایسا لگتا ہے کہ وہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

وَلَا يَسْتَثْنُونَ (and did not make any exception (by saying 'insha'Allah' ). [ 68:18] '. The word isthisna' in the original Arabic means 'to make an exception by saying "insha'Allah"'. However, some scholars interpret this word, in this context, to mean that 'they would devour the entire harvest themselves, with no exception for the poor. [ Mazhari ].

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 18–21

13 That is, "They were so sure and confident of their power and authority that they swore they would surely pluck the fruit of their garden next morning, without feeling any need to say, "We shall do so if Allah so willed."

Read the full tafseer →