Al-Qalam 68:19

Al-Qalam · from ayah 19

68:19

فَطَافَ عَلَیْهَا طَآىِٕفٌ مِّنْ رَّبِّكَ وَهُمْ نَآىِٕمُوْنَ ۟فَطَافَ عَلَيۡهَا طَآئِفٌ مِّنۡ رَّبِّكَ وَهُمۡ نَآئِمُوۡنَ

سو وہ ابھی سو ہی رہے تھے کہ تمہارے پروردگار کی طرف سے (راتوں رات) اس پر ایک آفت پھر گئی

— Fateh Muhammad Jalandhari

So there came upon the garden an affliction from your Lord while they were asleep.

— Saheeh International

Juz 29 · Ruku 1 of surah · Ruku 3 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Qalam

All translations of 68:19

رات کو وہ سوئے پڑے تھے کہ تمہارے رب کی طرف سے ایک بلا اس باغ پر پھر گئی

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

سو وہ ابھی سو ہی رہے تھے کہ تمہارے پروردگار کی طرف سے (راتوں رات) اس پر ایک آفت پھر گئی

— مولانا فتح محمد جالندہری

پس اس پر تیرے رب کی جانب سے ایک بلا چاروں طرف گھوم گئی اور یہ سو ہی رہے تھے

— مولانا محمد جوناگڑہی

پھر ہوا یہ کہ جس وقت وہ سو رہے تھے، اس وقت تمہارے پروردگار کی طرف سے ایک بلا اس باغ پر پھیرا لگا گئی۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تو اس پر تیرے رب کی طرف سے ایک پھیری کرنے والا پھیرا کر گیا اور وہ سوتے تھے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

پس آپ کے رب کی جانب سے ایک پھرنے والا (عذاب رات ہی رات میں) اس (باغ) پر پھر گیا اور وہ سوتے ہی رہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

پس اس پر تیرے رب کی طرف سے ایک اچانک عذاب پھر گیا، جب کہ وہ سوئے ہوئے تھے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

پھر آپ کے پروردگار کی طرف سے ایک آفت اس باغ پر پھر گئی جبکہ وہ ابھی سوئے ہوئے تھے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

تو ابھی وہ سوئے پڑے ہی تھے کہ اس پر تیرے رب کی طرف سے گردش کا ایک جھونکا آیا

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

پھر (کیا تھا) رات کو ہی پھیرا لگا لیا تمہارے رب کی طرف سے ایک آفت نے جب کہ یہ لوگ سوئے پڑے تھے

— مولانا اسحاق مدنی

سو اس (باغ) پر آپ کے پروردگار کی طرف سے ایک پھرنے والا (عذاب) پھر گیا اس حال میں کہ وہ سو رہے تھے

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

پس ایک پھرنے والا پھر گیا اس (باغ) پر آپ کے رب کی طرف سے جبکہ وہ ابھی سوئے ہوئے ہی تھے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

سو ابھی سو ہی رہے تھے کہ تمہارے رب کی طرف سے راتوں رات اس پر ایک آفت پھر گئی۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Thereupon a calamity from your Lord passed over it while they were asleep,

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Then, there whirled around it a whirl (of calamity) from your Lord, while they were asleep.

— Muhammad Taqi Usmani

Then, there whirled around it a whirl (of calamity) from your Lord, while they were asleep.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Then there passed over it a Ta'if from your Lord while they were asleep.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Then a visitation from thy Lord came upon it while they slept

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

So there came upon the garden an affliction from your Lord while they were asleep.

— Saheeh International

A visitor from your Lord circled around the garden during the night while they were asleep

— Muhammad Sarwar

Then there encompassed it a visitation from your Lord while they were sleeping.

— Muhammad Habib Shakir

Wherefore an encircling visitation visited it even as they slept on.

— Abdul Majid Daryabadi

Then there came on the (garden) a visitation from thy Lord, (which swept away) all around, while they were asleep.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 68:19

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 17–33

سیاہ رات اور کٹی ہوئی کھیتی یہاں ان کافروں کی جو حضور ﷺ کی نبوت کو جھٹلا رہے تھے مثال بیان ہو رہی ہے کہ جس طرح یہ باغ والے تھے کہ اللہ کی نعمت کی ناشکری کی اور اللہ کے عذابوں میں اپنے آپ کو ڈل دیا، یہی حالت ان کافروں کی ہے کہ اللہ کی نعمت یعنی حضور ﷺ کی پیغمبر کی ناشکری یعنی انکار نے انہیں بھی اللہ کی ناراضگی کا مستحق کردیا ہے، تو فرماتا ہے کہ ہم نے انہیں بھی آزما لیا جس طرح ہم نے باغ والوں کو آزمایا تھا جس باغ میں طرح طرح کے پھل میوے وغیرہ تھے، ان لوگوں نے آپس میں قسمیں کھائیں کہ صبح سے پہلے ہی پہلے رات کے وقت پھل اتار لیں گے تاکہ فقیروں مسکینوں اور سائلوں کو پتہ نہ چلے جو وہ آ کھڑے ہوں اور…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 18–21

سورة الْقَلَم 13 یعنی انہیں اپنی قدرت اور اپنے اختیار پر ایسا بھروسہ تھا کہ قسم کھا کر بےتکلف کہہ دیا کہ ہم ضرور کل اپنے باغ کے پھل توڑیں گے اور یہ کہنے کی کوئی ضرورت وہ محسوس نہیں کرتے تھے کہ اگر اللہ نے چاہا تو ہم یہ کام کریں گے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 19–20

(آیت) فَطَافَ عَلَيْهَا طَاۗىِٕفٌ مِّنْ رَّبِّكَ (پھر پھر گیا اس کی اور باغ پر ایک پھرنے والا آپ کے رب کی طرف سے پھرنے والے سے مراد کوئی بلا اور آفت ہے جس سے کھیتی اور باغ تباہ ہوجائے۔ بعض روایات میں ہے کہ وہ ایک آگ تھی جس نے سب کھڑی کھیتی کو جلا کر خاک سیاہ کردیا وھم تائمون یعنی یہ واقعہ نزول عذاب کا رات کو اس وقت ہوا جبکہ یہ لوگ محو خواب تھے فَاَصْبَحَتْ كَالصَّرِيْمِ صرم کے معنی پھل وغیرہ کاٹنے کے ہیں۔ صریم بمعنے مصروم و مقطوع ہے مطلب یہ ہے کہ آگ نے اس کھیتی کو ایسا بنادیا کہ جیسے کھیتی کاٹ لینے کے بعد صاف زمین رہ جاتی ہے اور صریم کے معنی رات کے بھی آتے ہیں اس معنے کے لحاظ سے مطلب یہ ہوگا…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 19–20

یعنی مذکورہ فیصلہ بڑے عزم و جزم اور بڑی تاکید و قسم کے ساتھ کر کے وہ رات میں سوئے لیکن ابھی سوئے ہی پڑے تھے کہ ان کے باغ پر کوئی خدائی گردش ایسی آئی جس نے باغ کا ستھراؤ کر دیا اور وہ بالکل کٹی ہوئی فصل کے مانند ہو کر رہ گیا۔ ’طَائِفٌ مِّنۡ رَّبِّکَ‘ میں گردش کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف دو حقیقتوں کی طرف اشارہ کر رہی ہے۔ ایک اس حقیقت کی طرف کہ یہ بالکل بے سان و گمان نمودار ہوئی، دوسری اس کی بے پناہی کی طرف کہ اس نے چشم زدن میں وہ کرشمہ کر دکھایا کہ ہرا بھرا باغ بے نشان ہو کر رہ گیا۔ ’مِّنۡ رَّبِّکَ‘ میں خطاب آنحضرت ﷺ سے تسلی کے لیے ہے۔ ابتدائی آیات میں حضور ﷺ کو خطاب کر کے فرمایا ہے کہ آج تم ان…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

19۔ 1 بعض کہتے ہیں، راتوں رات اسے آگ لگ گئی، بعض کہتے ہیں، جبرائیل ؑ نے آکر اسے تہس نہس کردیا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 18–24

8: اس کا ایک مطلب تو یہ ہوسکتا ہے کہ انہوں نے یہ ارادہ کیا تھا کہ سارے کا سارا پھل ہم توڑ لیں گے، اور اس کے کسی حصے کا استثناء نہیں کریں گے، یعنی کوئی حصہ غریبوں کے لیے نہیں چھوڑیں گے۔ دوسرے استثناء کرنے کا ایک مطلب ”ان شاء اللہ“ کہنا بھی ہوتا ہے۔ اس صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ جب وہ یہ کہہ رہے تھے کہ ہم صبح ہوتے ہی پھل توڑ لیں گے تو اس وقت انہوں نے ”ان شاء اللہ“ نہیں کہا تھا

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 19–20

فطاف ............................ کالصریم (02) (86 : 91۔ 02) ” رات کو وہ سوئے پڑے تھے کہ تمہارے رب کی طرف سے ایک بلا اس باغ میں پھر گئی اور اس کا ایسا حال ہوگیا جیسے کٹی ہوئی فصل ہو “۔ یعنی اس بلانے رات کو اس کے تمام پھل ختم کردیئے۔ لیکن اس باغ کا منظر اب نظروں سے ہٹا لیجئے .... اب ان لوگوں کا منظر سامنے آتا ہے جنہوں نے رات کو تدبیر کی تھی اور حلفیہ فیصلہ کیا تھا۔ یہ لوگ صبح سویرے ایک دوسرے پر آوازیں بھی دے رہے ہیں تاکہ وہ اپنے منصوبے پر عمل کریں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 19–20

4 یعنی رات کو بگولا اٹھا آگ لگی یا اور کوئی آفت پڑی، سب کھیت اور باغ صاف ہو رہا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 18–19

آیت 18{ وَلَا یَسْتَثْنُوْنَ۔ } ”اور انہوں نے اس پر ان شاء اللہ بھی نہ کہا۔“ باغ کے پھل پک کر تیار ہوچکے تھے۔ انہوں نے ایک رات پروگرام طے کرلیا کہ وہ صبح سویرے جائیں گے اور سارا پھل اتار لائیں گے۔ گویا وہ اپنے اسباب و وسائل کے گھمنڈ میں مسبب ِحقیقی کو بالکل ہی بھول گئے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 18–32

15 باغ والوں کا قصہ :۔ یہ واقعہ آیت نمبر 17 سے آیت نمبر 33 تک پھیلا ہوا ہے۔ جسے ہم تسلسل کے ساتھ اپنے الفاظ میں بیان کریں گے کسی شخص کا ایک باغ تھا جو بھرپور فصل دیتا تھا۔ اس شخص کا زندگی بھر یہ دستور رہا کہ جب بھی پھل کی فصل اٹھاتا تو اس کے تین حصے کرتا۔ ایک حصہ تو خود اپنے گھر کی ضروریات کے لیے رکھ لیتا۔ دوسرا حصہ اپنے قریبی رشتہ داروں اور ہمسایوں میں تقسیم کردیتا اور تیسرا حصہ فقراء و مساکین میں بانٹ دیتا۔ اس کی اس سخاوت کی وجہ سے اس کا باغ سب سے زیادہ فصل دیتا۔ کٹائی کے دن فقراء و مساکین موقع پر پہنچ جاتے اور اپنا اپنا حصہ وصول کرلیتے۔ جب یہ شخص انتقال کر گیا تو اس کے بیٹوں کو خیال آیا کہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 18–25

11۔ یہ کن باغ والوں کا ذکر ہے ؟ بعض نے کہا ہے کہ کوئی باغ حبشہ میں تھا۔ قیل کانوا میں اھل الحبشۃ (ابن کثیر) عن عکرمۃ قال ھم ناس من الحبشۃ (ابن جریر) ایک قول یہ بھی ہے کہ یہ باغ یمن میں تھا۔ عن ابن عباس قال کان بستان بالیمن (معالم) قال سعید بن جبیرکانوا من قریۃ یقال لھا فروان علی ستۃ امیال من صنعاء (ابن کثیر) بہرحال جہاں کہیں بھی ہو ایسا باغ تھا جس کی تلمیح سے اہل عرب خوب واقف تھے۔ اور قصہ کا ماحصل یہ ہے کہ جو اہل غفلت اپنی تدبیروں پر نازاں اور اہل حقوق کی حق تلفی میں لگے رہتے ہیں، وہ آخر خود ہی خسارہ میں رہتے ہیں۔ (آیت) ” ولایستثنون “۔ یعنی انہیں اس درجہ وثوق اپنے صبح کے پروگرام پر تھا کہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 19–25

فطاف علیھا طائف من ربک ادھر تو یہ لوگ یہ مشورہ کر رہے تھے اور ادھر آسمانی بلا نے باغ کو جلا کر خاک سیاہ کردیا، جب صبح تڑکے پھل توڑنے کے لئے جانے لگے تو ایک دوسرے کو آہستہ آہستہ پکارنے لگے، تاکہ فقیر و مسکین لوگ سن نہ لیں اور وہ اس بات پر خوش تھے کہ آج باغ میں آ کر ہم سے کوئی کچھ نہ مانگے گا، اور وہ اپنے آپ کو اپنے اس منصوبہ میں کامیاب سمجھ رہے تھے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

فطاف علیھا طائف من ربک وھم نائمون یعنی جب وہ سو رہے تھے کہ اللہ کی طرف سے رات کو ایک مصیبت یعنی آگ کا چکر اس باغ پر آیا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 17–20

(17۔ 20) اور ہم نے مکہ والوں کی بدر کے دن قتل و قید اور شکست کے ساتھ اور ترک استغفار کے ساتھ اور بدر میں رسول اکرم کی بددعا کی وجہ سے سات سالہ قحط اور بھوک کی شکایت سے آزمائش کر رکھی ہے جیسا ہم نے باغ والوں یعنی بنی ضروان، بھوک کی شکایت اور ان کے باغوں کو آگ لگا کر آزمائش کی تھی۔ جب انہوں نے قسم کھائی تھی کہ اس باغ کا پھل ضرور صبح سویرے چل کر توڑ ڈالیں گے اور انہوں نے انشاء اللہ بھی نہ کہا۔ سو اس باغ پر رات ہی میں عذاب آپڑا سو وہ باغ جل کر ایسا رہ گیا جیسا کہ تاریک رات۔ شان نزول : اِنَّا بَلَوْنٰهُمْ كَمَا بَلَوْنَآ اَصْحٰبَ الْجَنَّةِ (الخ) ابن ابی حاتم نے ابن جریج سے روایت کیا ہے کہ ابو جہل…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 19–20

فَطَافَ عَلَیْہَا طَآئِفٌ مِّنْ رَّبِّکَ۔۔۔۔:”طائف“ پھرجانے والا ، چکر لگانے والا۔ مراد اللہ کی طرف سے اچانک عذاب ہے جس کے ایک ہی چکر سے باغ کا نام و نشان مٹ گیا ، یعنی رات باغ کو آگ لگ گئی اور صبح زمین صاف تھی ، جس طرح کھیتی کٹنے کے بعد ہوتی ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 17–19

اس میں تین مسائل ہیں : باغ والوں کا ابتلا اور ان کا قصہ مسئلہ نمبر 1 انا بلونھم مراد اہل مکہ ہیں۔ ابتلاء سے مراد آزمانا ہے۔ اس کا معنی ہے ہم نے انہیں مال عطا کئے تاکہ وہ شکر بجا لائیں نہ کہ وہ تکبر کریں۔ جب انہوں نے تکبر کیا اور حضرت محمد ﷺ سے دشمن یک تو ہم نے بھوک اور قحط کے ساتھ آزمایا جس طرح مہ نے باغ والوں کو آزمایا تھا جن کی خبر ان کے ہاں معروف و مشہور تھی۔ وہ باغ یمن کے علاقہ میں صنعاء سے چند فرسخ دور تھا۔ ایک قول یہ کیا جاتا ہے : وہ دو فرسخ دور تھا وہ باغ ایک ایسے آدمی کا تھا جو اس میں سے اللہ تعالیٰ کا حق ادا کیا کرتا تھا جب وہ فوت ہوگیا تو باغ بیٹوں کی ملکیت میں آگیا انہوں نے لوگوں…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

50۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت فطاف علیہا طائف من ربک۔ تیرے رب کی طرف سے رات کو ایک مصیبت یعنی آگ کا چکر اس باغ پر آیا۔ یعنی وہ اللہ کی طرف سے ایک حکم تھا۔ 51۔ ابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے آیت فطاف علیہا طائف من ربک کے بارے میں روایت کیا کہ وہ ایک عذاب تھا۔ جہنم کی وادی میں سے ایک آگ گردن کی طرح نکلی جس نے باغ کو جلا ڈالا۔ 52۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے آیت فطاف علیہا طائف من ربک وہم نائمون۔ کے بارے میں روایت کیا کہ اس پر رات کے وقت اللہ کا حکم آیا آیت فاصبحت کالصریم اور وہ اجڑے ہوئے باغ کی طرح ہوگیا یعنی کالی رات کی طرح۔ 53۔ عبد بن حمید نے فطر بن میمون (رح) سے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[فَطَافَ عَلَيْهَا : تو گھوم گیا اس (باغ) پر ][ طَاۗىِٕفٌ: ایک گھومنے والا (بگولہ)][ مِّنْ رَّبِكَ : آپ کے رب (کی طرف) سے ][ وَ : اس حال میں کہ ][ هُمْ نَاۗىِٕمُوْنَ : وہ لوگ نیند کرنے والے تھے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 17–32

ایک باغ کے مالکوں کا عبرت ناک واقعہ رسول اللہ ﷺ کے ہجرت فرمانے کے بعد مکہ معظمہ کے مشرکوں پر اللہ تعالیٰ نے قحط بھیج دیا تھا۔ قحط کی وجہ سے بہت تکلیف اٹھائی، اس کے بارے میں فرمایا کہ ہم نے مکہ والوں کو آزمائش میں ڈالا جیسا کہ باغ والوں کو آزمائش میں ڈالا تھا، یہ باغ کہاں تھا باغ والے کون تھے اس کے بارے میں حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ یہ باغ یمن میں شہر صنعاء سے دو فرسخ کے فاصلہ پر تھا اسے نمازی لوگوں نے بویا تھا جو لوگ اس کے وارث چلے آ رہے تھے وہ بڑے سخی تھے جس دن باغ کے پھل کاٹتے تھے مساکین جمع ہوجاتے تھے اسی طرح کھیتی کاٹنے کے دن اور جس دن بھوسہ اور دانہ الگ کرتے تھے مساکین آجاتے تھے، یہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 17–33

عبرتناک انجام غرور وتکبر بردولت دنیا و محرومی از سعادت وآخرت : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” انا بلونھم کما بلون آ اصحب الجنۃ ....... الی ...... لو کانوا یعلمون “۔ (ربط) گزشتہ آیات میں اہل مکہ کے ان مغرور ومتکبر انسانوں کا ذکر تھا جنہوں نے محض اپنے مال و دولت اور اولاد وخاندان کے نشہ میں رسول خدا ﷺ کی توہین کی انکار وکفر کے مرتکب ہوئے تو اب ان آیات میں ایک باغ والوں کا قصہ بیان کرکے بتایا جارہا ہے کہ انسان کو دنیا کے مال ومنال پر بھروسہ کرکے مغرور ومتکبر نہ ہونا چاہئے دنیا کی حقیقت بس اتنی ہی ہے اور غرور کا انجام ایسا ہی ہے جیسے کہ اس باغ کی تباہی اور باغ والوں کی بربادی سے ظاہر ہورہا ہے یہ باغ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 19–25

11:۔ ” فطاف علہا “۔ طائف سے جبریل (علیہ السلام) مراد ہیں جو عذاب الٰہی لے کر آئے تھے۔ یہ فیصلہ کر کے وہ سو گئے، رات کو اللہ نے اس پر ایسا عذاب نازل فرمایا کہ سارا باغ تباہ و برباد ہوگیا اور زمین اس طرح صاف ہوگئی جس طرح وہاں سے سب کچھ کاٹ لیا گیا ہو۔ ” فتنادوا مصبحین “ صبح ہونے کو ہوئی تو سب نے ایک دوسرے کو آوازز دی کہ پھل توڑنا ہے تو جلدی جلدی باغ میں پہنچو۔ چناچہ سب روانہ ہوئے اور آہستہ آہستہ ایک دوسرے سے کہتے جارہے تھے کہ آج کوئی مسکین ہمارے قریب نہ آنے پائے۔ ” وغدوا علی حرد قادرین “ حرد، روکنا اور نہ دینا۔ چناچہ جب وہ وہاں پہنچے تو وہ خوش تھے اور اپنے زعم میں سمجھ رہے تھے کہ وہ اپنے مقصد…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 17–33

گذشتہ سے پیوستہ : گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے ان انعامات کا ذکر فرمایا ، جو پیغمبر ﷺ پر کئے اور توحید الہٰی ، رسالت اور معاد کے مکذبین کے متعلق ارشاد فریاما کہ ان کی کسی بات کو تسلیم نہ کریں کیونکہ ان بےہودہ لوگوں نے نبی جیسے عقل مند ، ذہین اور سب سے بلند اخلاق والی ہستی کو العیافہ باللہ مجنون کا خطاب دیا ۔ یہ مشرکین آپ ﷺ کو مداہنت پر آمادہ کرنا چاہتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کی دس الفاظ کے ساتھ مذمت بیان کی۔ پھر فرمایا کہ یہ اس لیے غرور وتکبر کرتے ہیں کہ ان کو اللہ تعالیٰ نے مالی و اولاد سے نوازا ہے۔ یہ انعامات تو شکر گزاری کا سبب بننا چاہئیں نہ کہ تکذیب و نافرمانی کا ان کے غرور کا…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

فَطَافَ عَلَيْہَا طَاۗىِٕفٌ مِّنْ رَّبِّكَ وَہُمْ نَاۗىِٕمُوْنَ۝ 19 طوف الطَّوْفُ : المشيُ حولَ الشیءِ ، ومنه : الطَّائِفُ لمن يدور حول البیوت حافظا . يقال : طَافَ به يَطُوفُ. قال تعالی: يَطُوفُ عَلَيْهِمْ وِلْدانٌ [ الواقعة/ 17] ، قال : فَلا جُناحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِما[ البقرة/ 158] ، ومنه استعیر الطَّائِفُ من الجنّ ، والخیال، والحادثة وغیرها . قال : إِذا مَسَّهُمْ طائِفٌ مِنَ الشَّيْطانِ [ الأعراف/ 201] ، وهو الذي يدور علی الإنسان من الشّيطان يريد اقتناصه، وقد قرئ : طيف «4» وهو خَيالُ الشیء وصورته المترائي له في المنام أو الیقظة . ومنه قيل للخیال : طَيْفٌ. قال تعالی: فَطافَ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 17–33

ترکیب : اذ تعلیلیۃ اوظرفیۃ بنوع تسمح لان الانقسام کان قبل ابتلائہم لیصرمنہا جواب القسم مصبحین حال من الفاعل فی یصرمنہا ولا یستثنون جملۃ مستانفہ لبیان ماوقع منھم وقیل حال فتنادوا معطوف علی اقسموا بینما اعتراض لبیان مانزل بتلک الجنۃ ان اغدوا ان مفسرۃ لان فی التنادی معنی القول او مصدریۃ ای اخرجواغدوۃً ان کنتم الخ جواب الشرط محذوف فاغدوا وھم یتخافتون الجملۃ حال من فاعل فانطلقوا ان لایدخلنہا ان مفسرۃ للتخافت المذکور لمافیہ من معنی القول علی حرد یتعلق بقادرین وقادرین حال وقیل خبر غدوا لا نھا حملت علی اصبحوا۔ تفسیر : اہل مکہ خصوص ولید وغیرہ ثروت و حشمت پر نازاں ہو کر کہتے تھے کہ ہم پر خدا کی نظر…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 19–20

فَطَافَ عَلَیْھَا طَـآئِفٌ مِّنْ رَّبِّکَ وَھُمْ نَـآئِمُوْنَ ۔ فَـاَصْبَحَتْ کَالصَّرِیْمِ ۔ (القلم : 19، 20) (پس پھر گئی اس پر ایک (بلا) پھرنے والی تیرے رب کی طرف سے، اس حال میں کہ وہ سو رہے تھے۔ تو وہ کٹی ہوئی فصل کی مانند ہو کر رہ گیا۔ ) باغ کے مالک بڑے عزم و جزم کے ساتھ رات کو فیصلہ کرکے سوئے کہ صبح اٹھ کر فصل کاٹنی ہے لیکن ابھی سوئے ہی پڑے تھے کہ ان کے باغ پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی گردش یا کوئی بلا آئی جس نے باغ کو تباہ کردیا اور وہ بالکل ایسے ہوگیا جسے کٹی ہوئی فصل ہوتی ہے، یعنی یہ تباہی اس خاموشی کے ساتھ آئی کہ انھیں خبر تک نہ ہوئی اور تباہی ایسی مکمل تھی کہ اس نے چشم زدن میں ہرا…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 17–33

فہم القرآن ربط کلام : اہل مکہ کی آزمائش۔ نبی معظم ﷺ کی جدوجہد کے سامنے بےبس ہو کر اہل مکہ نے یہ مطالبہ کیا تھا کہ کچھ آپ نرم ہوجائیں اور کچھ ہم نرم ہوجاتے ہیں نبی ﷺ نے اسے مکمل طور پر مسترد کردیا۔ اس کے ردِّ عمل میں انہوں نے مزدور صحابہ کرام ؓ کی مزدوریاں روک لیں اور اپنے غریب رشتہ دار صحابہ کے ساتھ تعاون کرنے سے ہاتھ کھینچ لیا، ان کے سرداروں نے مہم چلائی کہ مسلمانوں کے ساتھ کسی قسم کا تعاون نہ کیا جائے۔ اس پر یہ آیات نازل ہوئیں جس میں انتباہ کرتے ہوئے فرمایا کہ ہم مکہ والوں کو اس طرح آزمائیں گے جس طرح ان سے پہلے باغ والوں کو آزما چکے ہیں۔ واقعہ یوں ہے کہ ایک شخص کا باغ تھا وہ اپنے باغ کی…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

19 : فَطَافَ عَلَیْھَاطَآ ئِفٌ مِّنْ رَّبِّکَ (اس باغ پر آپ کے رب کی طرف سے پھرنے والا پھر گیا) اس پر عذاب اترا۔ ایک قول اللہ تعالیٰ نے آگ سے اس کو جلا دیا۔ وَھُمْ نَآپمُوْنَ (اور وہ سو رہے تھے) اپنی نیند کی حالت میں تھے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 17–33

17۔ 33۔ اہل مکہ جب اپنے مال و متاع پر بہت اترائے اور اللہ کی نعمتوں کی ناشکری کی اور اللہ کے رسول سے طرح طرح کی سرکشی انہوں نے شروع کی تو آنحضرت ﷺ نے ان کے حق میں قحط کی بددعا کی جس کا ذکر حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ کی روایت سے صحیح بخاری 1 ؎ و مسلم میں ہے اللہ کے رسول کی بد دعا سے بڑا سخت قحط پڑا یہاں تک کہ اہل مکہ مردار چیزیں کھا کر زندگی بسر کرنے لگے۔ آخر آنحضرت ﷺ سے رفع قحط کی دعا کرنے کی التجا کی اور آپ ﷺ کی دعا سے وہ قحط رفع ہوا اس لئے اوپر کی آیتوں میں ولید بن مغیرہ کا خاص طور پر ذکر فرما کر سب قریش کو قحط کا قصہ یاد دلایا اور فرمایا کہ ان لوگوں کی نافرمانی کے سبب سے ان پر قحط کی آفت اسی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(فطاف علیھا طائف من ربک) ۔ پس تمہارے رب کی طرف سے اس پر ایک آفت پڑگئی، یعنی ایک عذاب جو رات کے وقت اس باغ پر نازل ہوا (وھم نائمون) اور وہ محو خواب تھے۔ پس اس عذاب نے اسے تباہ و برباد کردیا۔

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 13–52

قول باری ہے (عتل بعد ذلک زنیم، جفا کار اور ان سب عیوب کے ساتھ بداصل ہے) پہلے لفظ کے بارے میں ایک قول ہے کہ ہٹے کٹے اور بدخلق نیز سفاک انسان کو عتل کہا جاتا ہے۔ زنیم اس ولدالزنا کو کہا جاتا ہے جو دراصل ایک خاندان کا فرد نہ ہو مگر اس میں شامل ہوگیا ہو۔ ہمیں عبدالباقی بن قانع نے روایت بیان کی، انہیں حسین بن اسحاق التستری نے، انہیں الولیدبن عتبہ نے، انہیں الولید بن مسلم نے، انہیں ابو شیبہ ابراہیم بن عثمان نے عثمان بن عمیر البجلی سے، انہوں شہرین حوشب سے، انہوں نے حضرت شداد بن اوس سے کہ حضور ﷺ نے فرمایا (لا یدخل الجنۃ جو اظ ولا جعظری ولا عتل زنیم) میں نے دریافت کیا کہ جو اظ کسے کہتے ہیں۔ انہوں نے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

15 باغ پر گردش عذاب کے چکر کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ پھر چکر لگا لیا اس باغ پر تمہارے رب کی طرف سے ایک آفت نے جبکہ وہ اور یہ آفت ایک آسمانی آگ کی صورت میں آئی اور اس نے ان کے اس باغ کو جلا کر خاکستر کردیا، ابن جریر کہتے ہیں طائف اسی آفت کو کہا جاتا ہے جو رات کو آتی ہے، دن میں آنے والی مصیبت کو طائف نہیں کہا جاتا، (صفوۃ التفاسیر، محاسن التاویل، وغیرہ) سو یہ لوگ تو اپنے مذکورہ فیصلے پر بڑے عزم و جزم کے ساتھ مطمئن ہو کر رات کو سو گئے کہ صبح اٹھ کر باغ کے پھل کاٹیں گے، لیکن یہ رات کو ابھی سوئے ہی پڑے تھے کہ ان کے باغ پر ایک ایسی گردش آئی کہ اس نے اس کا صفایا کردیا اور اس طرح وہ کٹی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 17–35

باغ والوں کے بخل کا واقعہ تشریح :۔ اس قصے سے سبق ملتا ہے کہ صرف دنیا میں کھو جانا اور اللہ کی طرف سے آنکھیں بند کرلینا سراسر غلط راستہ ہے رب العزت کا یہی طریقہ ہے کہ وہ بندوں کو ایسی ہی سزاؤں سے جھنجوڑتا ہے کہ انسان غفلت سے باز آجائے یہ دنیاوی نقصانات تو صرف آنکھیں کھولنے کے لیے کرائے جاتے ہیں نافرمان اور غفلت سے بیدار نہ ہونے والے لوگوں کو آخرت میں بڑا سخت عذاب دیا جائے گا۔ جب کہ فرمانبرداروں کے لیے آرام و آسائش کے بہترین باغات ہیں اور یہی فرق ہے نافرمانوں اور فرمانبرداروں میں کیونکہ اللہ بہترین انصاف کرنے والا ہے۔ اچھے اور برے لوگوں کا حساب ایک جیسا نہیں ہوسکتا۔ حدیث میں نصیحت کی گئی ہے۔…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–33

آیات 1 تا 23۔ اسرار ومعارف۔ قسم ہے قلم کی اور جو کچھ قلم سے لکھاجاتا ہے یعنی آپ ﷺ نے امی ہونے کے باوجود علم کے وہ دریابہائے کہ خود قلم اور اس کی تحریر آپ کے کامل عقل مند اور بےمثال صاحب خرد ہونے پر دال ہے۔ مجنون۔ جب آپ ﷺ نے اعلان نبوت فرما کر ساری انسانیت کو دعوت حق دے دی اور تمام انسانوں کے لیے ایک عقیدہ اور ایک نظام حیات تو مشرکین نے اسے معاذ اللہ پاگل پن قرار دیا کہ دنیا کی عظیم الشان حکومتیں ساری دنیا پہ ایک نظام رائج نہ کرسکیں۔ پھر آپ ﷺ امی ہیں ، اکیلے ہیں یا چند مسلمان جن کی بظاہر کوئی حیثیت نہیں پھر اقوام عالم کے مزاج الگ ، فکر الگ ، رنگ ونسل اپنی اپنی ، غذا الگ زبانیں الگ موسم اور…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

“12 پھیرا کرنے والی بلا سے مراد آگ کا بگولا ہے جس نے رات کے وقت اس باغ کو جلا ڈالا بعض کہتے ہیں کہ اس سے مراد حضرت جبریل ہیں جنہوں نے باغ کے تمام درختوں کو جڑوں سے اکھاڑ پھینکا (شوکانی) حدیث میں ہے کہ گناہ سے بچو … بعض گناہ ایسے ہیں جن کی بدولت انسان اس رزق سے محروم ہوجاتا ہے جو اس کے لئے تیار کیا گیا ہے پھر آنحضرت نے یہ آیت تلاوت کی اور فرمایا یہ لوگ اپنے گناہ کی بدولت اپنے باغ کی پیداوار سے محروم ہوگئے۔ ( شوکانی)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 18–19

(68:18) ولا تستثنون : مضارع منفی جمع مذکر غائب، استثناء (استفعال) مصدر۔ حکایت حال ماضی (فعل مضارع جو کسی گزشتہ بات کو بیان کرنے کے لئے فعل ماضی کی بجائے استعمال کیا جائے) انہوں نے انشاء اللہ نہیں کیا۔ ثنی مادہ۔ اقسموا کے فاعل سے حال ہے یا یہ علیحدہ علیحدہ مستانفہ ہے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–33

لغات القرآن۔ یسطرون۔ وہ لکھتے ہیں۔ ممنون۔ منقطع ہونے والا۔ ختم ہونے والا۔ تبصر۔ تو دیکھے گا۔ المفتون۔ دیوانہ۔ ودوا۔ وہ پسند کرتے ہیں۔ تدھن۔ تو خوشامد کرے۔ تو نمر پرے۔ حلاف۔ بہت قسمیں کھانے والا۔ مھین۔ ذلیل کمینہ۔ ھماز۔ طعنے دینے والا۔ مشائ۔ پھرنے والے۔ نیمیم۔ چغل خور۔ باتیں لگانے والے۔ مناع۔ روکنے والا۔ معتد۔ حد سے بڑھنے والا۔ اثیم۔ گناہ گار۔ عتل۔ اکھڑ۔ اجد۔ زنیم۔ بدنام۔ نسیم۔ ہم داغ دیں گے۔ الخرطوم۔ ناک۔ دم۔ سونڈ۔ تشریح : سورة القلم کا آغاز ” ن “ سے کیا گیا ہے جو حروف مقطعات میں سے ایک حروف ہے۔ اس کے کیا معنی ہیں ؟ اس کی تفصیل اس سے پہلی ابتدائی سورتوں میں آچکی ہے کہ ان حروف کے معنی اور مراد…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 17–33

(ف 4) اہل مکہ جب اپنے مال ومتاع پر بہت اترائے اور اللہ کی نعمتوں کی ناشکری کی، اور نبی ﷺ سے طرح طرح کی سرش کی انہوں نے شروع کی تو نبی ﷺ نے ان کے حق میں دعا فرمائی کہ یارب ، انہیں ایسی قحط سالی میں مبتلا کر جیسی حضرت یوسف کے زمانہ میں ہوئی تھی چناچہ اہل مکہ قحط کی مصیبت میں ایسے مبتلا ہوگئے کہ وہ بھوک کی شدت میں مردار اور ہڈیاں تک کھاگئے اور اس طرح آزمائش میں ڈالے گئے ، آخرنبی ﷺ سے رفع قحط کی دعا کرنے کی التجا کی اورآ پکی دعا سے قحط رفع ہوا۔ اس لیے اوپر کی ایتوں میں ولید بن مغیرہ کا خاص طور پر ذکر فرما کر سب کو قحط کا قصہ یاد دلا اور فرمایا کہ ان لوگوں کی نافرمانی کے سبب سے ان پر قحط کی آفت…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 16–21

[6] اصل میں لفظ '' خرطوم '' استعمال ہوا ہے۔ جس کے معنی ہاتھی کی سونڈ کے ہیں۔ کیونکہ وہ اپنے آپ کو بڑی ناک والا سمجھتا تھا اس لئے اس کی ناک کو حقارت سے سونڈ کہا گیا ہے۔ [7] داغنے سے مراد اس کی رسوائی اور روسیاہی ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 17–31

ف 1: ان آیات میں اس حقیقت کو واضح فرمایا ہے ۔ کہ جو لوگ اللہ کے مال و دولت کی بنا پر احکام الٰہی کا انکار کردیتے ہیں ۔ ا ہیں یقین رکھنا چاہیے ۔ کہ یہ فراوانی اور آسودگی ہمیشہ نہیں رہے گی ۔ فرمایا کہ مکہ والوں کہ ہم نے عیش وتکلفات سے بہرہ مند کرکے اسی طرح آزمایا ہے ۔ جس طرح کہ بنی اسرائیل کے ایک گروہ کو ہم نے مال و دولت سے نوازا ۔ ان کو ایک نہایت عمدہ باغ مرحمت فرمایا ۔ مگر انہوں نے ازراہ بخل یہ طے کرلیا ۔ کہ ہم اس کا پھل صرف آپس میں بانٹ لیں گے ۔ اس میں کسی غریب کا حصہ نہیں ہوگا ۔ پھر جو کچھ باغ کی آمدنی سے ملے گا ۔ اس کو صرف اپنی ان آسانی کے لئے استعمال کریں گے ۔ اور مستحقین کو کچھ نہیں…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(19) پس وہ پڑے سوتے ہی رہے اور آپ کا پروردگار کی جانب سے ایک چکر لگانے اور گھونے والا اس باغ کا چکر لگا گیا اور اس پر گھوم گیا۔ یعنی حضرت حق تعالیٰ کی طرف سے ایک آگ یا گرم لو کا عذاب آیا اور اس باغ پر پھر گیا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 17–31

ف 4۔ یعنی ان اہل مکہ کو سامان عیش دے رکھا ہے تاکہ دیکھیں کہ نعمتوں کے شکر میں ایمان لاتے ہیں یا ناشکری و بےقدری کر کے کفر کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

تیرے رب کی طرف سے ایک پھرجانے والی چیز ان کے باغ پر پھر گئی 19 ؎ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک پھرنے والی چیز ان کے باغ پر پھر گئی۔ ظاہر ہے کہ وہ آندھی تھی اور ایسی آندھی جس میں بگولے اٹھتے ہیں اور ہوا کا بگولا اتنا سخت ہوتا ہے کہ وہ مکانوں کی چھتوں تک کو اڑا کرلے جاتا ہے اور تین تین چار چار منزل والے مکانوں کو زمین بوس کردیتا ہے۔ اتنے اتنے بڑے درختوں کو وہ جڑوں سے اس طرح اکھاڑ کر پھینک دیتا ہے جیسے گندم کے ایک پودے کو کوئی پکڑ کر زمین سے باہر پھینک دے۔ جس طرح کسی گاجر اور مولی کو اکھاڑا جاتا ہے۔ فرمایا جو کچھ ہوا ان کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کیونکہ جہاں سے وہ اٹھ کر باغ اور کھیتی کی طرف نکل…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

فَطَافَ عَلَيْهَا طَائِفٌ مِّن رَّ‌بِّكَ (Then, there whirled around it a whirl (of calamity) from your Lord, while they were asleep….68:19). The word 'whirl' refers to 'a whirl of calamity' as a result of which Divine punishment overtook the garden in a sudden and swift sweep. Some narratives report that it was a fire which burnt every standing crop, and reduced it to black ashes. وَهُمْ نَائِمُونَ (...while they were asleep.... 68:19). In other words, the devastating disaster overtook the entire garden while its owners were asleep.

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 18–21

13 That is, "They were so sure and confident of their power and authority that they swore they would surely pluck the fruit of their garden next morning, without feeling any need to say, "We shall do so if Allah so willed."

Read the full tafseer →