فَاَصْبَحَتْ كَالصَّرِیْمِ ۟ۙفَاَصۡبَحَتۡ كَالصَّرِيۡمِۙ
تو وہ ایسا ہوگیا جیسے کٹی ہوئی کھیتی
— Fateh Muhammad Jalandhari
And it became as though reaped.
— Saheeh International
Juz 29 · Ruku 1 of surah · Ruku 3 of juz
فَاَصْبَحَتْ كَالصَّرِیْمِ ۟ۙفَاَصۡبَحَتۡ كَالصَّرِيۡمِۙ
تو وہ ایسا ہوگیا جیسے کٹی ہوئی کھیتی
— Fateh Muhammad Jalandhari
And it became as though reaped.
— Saheeh International
Juz 29 · Ruku 1 of surah · Ruku 3 of juz
Read the whole surah · Surah Al-Qalam
اور اُس کا حال ایسا ہو گیا جیسے کٹی ہوئی فصل ہو
تو وہ ایسا ہوگیا جیسے کٹی ہوئی کھیتی
پس وه باغ ایسا ہو گیا جیسے کٹی ہوئی کھیتی
جس سے وہ باغ صبح کو کٹی ہوئی کھیتی کی طرح ہوگیا۔
تو صبح رہ گیا جیسے پھل ٹوٹا ہوا
سو وہ (لہلہاتا پھلوں سے لدا ہوا باغ) صبح کو کٹی ہوئی کھیتی کی طرح ہوگیا،
تو صبح کو وہ (باغ) کٹی ہوئی کھیتی کی طرح ہوگیا۔
اور باغ یوں ہوگیا جیسے کٹی ہوئی کھیتی ہو
تو وہ کٹی ہوئی فصل کے مانند ہو کر رہ گیا۔
جس سے وہ باغ (ختم ہو کر) ایسا ہوگیا جیسے کٹی ہوئی کھیتی
تو وہ (باغ) ایسا رہ گیا جیسا کٹا ہوا کھیت
تو وہ ایسے ہوگیا جیسے کٹی ہوئی فصل ہو۔
تو وہ ایسا ہوگیا جیسے کٹی ہوئی کھیتی۔
and so by morning the orchard lay as though it had been fully harvested.
Thus, on the next morning, it was like a harvested field.
Thus, on the next morning, it was like a harvested field.
So by the morning, it became like As-Sarim.
And in the morning it was as if plucked.
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
And it became as though reaped.
and the garden was turned into a barren desert.
So it became as black, barren land.
Then in the morning it became as though it had been reaped.
So the (garden) became, by the morning, like a dark and desolate spot, (whose fruit had been gathered).
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 17–33
سیاہ رات اور کٹی ہوئی کھیتی یہاں ان کافروں کی جو حضور ﷺ کی نبوت کو جھٹلا رہے تھے مثال بیان ہو رہی ہے کہ جس طرح یہ باغ والے تھے کہ اللہ کی نعمت کی ناشکری کی اور اللہ کے عذابوں میں اپنے آپ کو ڈل دیا، یہی حالت ان کافروں کی ہے کہ اللہ کی نعمت یعنی حضور ﷺ کی پیغمبر کی ناشکری یعنی انکار نے انہیں بھی اللہ کی ناراضگی کا مستحق کردیا ہے، تو فرماتا ہے کہ ہم نے انہیں بھی آزما لیا جس طرح ہم نے باغ والوں کو آزمایا تھا جس باغ میں طرح طرح کے پھل میوے وغیرہ تھے، ان لوگوں نے آپس میں قسمیں کھائیں کہ صبح سے پہلے ہی پہلے رات کے وقت پھل اتار لیں گے تاکہ فقیروں مسکینوں اور سائلوں کو پتہ نہ چلے جو وہ آ کھڑے ہوں اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–21
سورة الْقَلَم 13 یعنی انہیں اپنی قدرت اور اپنے اختیار پر ایسا بھروسہ تھا کہ قسم کھا کر بےتکلف کہہ دیا کہ ہم ضرور کل اپنے باغ کے پھل توڑیں گے اور یہ کہنے کی کوئی ضرورت وہ محسوس نہیں کرتے تھے کہ اگر اللہ نے چاہا تو ہم یہ کام کریں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
(آیت) فَطَافَ عَلَيْهَا طَاۗىِٕفٌ مِّنْ رَّبِّكَ (پھر پھر گیا اس کی اور باغ پر ایک پھرنے والا آپ کے رب کی طرف سے پھرنے والے سے مراد کوئی بلا اور آفت ہے جس سے کھیتی اور باغ تباہ ہوجائے۔ بعض روایات میں ہے کہ وہ ایک آگ تھی جس نے سب کھڑی کھیتی کو جلا کر خاک سیاہ کردیا وھم تائمون یعنی یہ واقعہ نزول عذاب کا رات کو اس وقت ہوا جبکہ یہ لوگ محو خواب تھے فَاَصْبَحَتْ كَالصَّرِيْمِ صرم کے معنی پھل وغیرہ کاٹنے کے ہیں۔ صریم بمعنے مصروم و مقطوع ہے مطلب یہ ہے کہ آگ نے اس کھیتی کو ایسا بنادیا کہ جیسے کھیتی کاٹ لینے کے بعد صاف زمین رہ جاتی ہے اور صریم کے معنی رات کے بھی آتے ہیں اس معنے کے لحاظ سے مطلب یہ ہوگا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
یعنی مذکورہ فیصلہ بڑے عزم و جزم اور بڑی تاکید و قسم کے ساتھ کر کے وہ رات میں سوئے لیکن ابھی سوئے ہی پڑے تھے کہ ان کے باغ پر کوئی خدائی گردش ایسی آئی جس نے باغ کا ستھراؤ کر دیا اور وہ بالکل کٹی ہوئی فصل کے مانند ہو کر رہ گیا۔ ’طَائِفٌ مِّنۡ رَّبِّکَ‘ میں گردش کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف دو حقیقتوں کی طرف اشارہ کر رہی ہے۔ ایک اس حقیقت کی طرف کہ یہ بالکل بے سان و گمان نمودار ہوئی، دوسری اس کی بے پناہی کی طرف کہ اس نے چشم زدن میں وہ کرشمہ کر دکھایا کہ ہرا بھرا باغ بے نشان ہو کر رہ گیا۔ ’مِّنۡ رَّبِّکَ‘ میں خطاب آنحضرت ﷺ سے تسلی کے لیے ہے۔ ابتدائی آیات میں حضور ﷺ کو خطاب کر کے فرمایا ہے کہ آج تم ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–22
20۔ 1 یعنی جس طرح کھیتی کٹنے کے بعد خشک ہوجاتی ہے، اس طرح سارا باغ اجڑ گیا، بعض نے ترجمہ یہ کیا ہے، سیاہ رات کی طرح ہوگیا، یعنی جل کر۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–24
8: اس کا ایک مطلب تو یہ ہوسکتا ہے کہ انہوں نے یہ ارادہ کیا تھا کہ سارے کا سارا پھل ہم توڑ لیں گے، اور اس کے کسی حصے کا استثناء نہیں کریں گے، یعنی کوئی حصہ غریبوں کے لیے نہیں چھوڑیں گے۔ دوسرے استثناء کرنے کا ایک مطلب ”ان شاء اللہ“ کہنا بھی ہوتا ہے۔ اس صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ جب وہ یہ کہہ رہے تھے کہ ہم صبح ہوتے ہی پھل توڑ لیں گے تو اس وقت انہوں نے ”ان شاء اللہ“ نہیں کہا تھا
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
فطاف ............................ کالصریم (02) (86 : 91۔ 02) ” رات کو وہ سوئے پڑے تھے کہ تمہارے رب کی طرف سے ایک بلا اس باغ میں پھر گئی اور اس کا ایسا حال ہوگیا جیسے کٹی ہوئی فصل ہو “۔ یعنی اس بلانے رات کو اس کے تمام پھل ختم کردیئے۔ لیکن اس باغ کا منظر اب نظروں سے ہٹا لیجئے .... اب ان لوگوں کا منظر سامنے آتا ہے جنہوں نے رات کو تدبیر کی تھی اور حلفیہ فیصلہ کیا تھا۔ یہ لوگ صبح سویرے ایک دوسرے پر آوازیں بھی دے رہے ہیں تاکہ وہ اپنے منصوبے پر عمل کریں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
4 یعنی رات کو بگولا اٹھا آگ لگی یا اور کوئی آفت پڑی، سب کھیت اور باغ صاف ہو رہا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–21
آیت 20{ فَاَصْبَحَتْ کَالصَّرِیْمِ۔ } ”تو وہ ایسے ہوگیا جیسے کٹی ہوئی فصل ہو۔“ یعنی رات کو وہ باغ کسی بگولے کی زد میں آیا اور جل کر راکھ کا ڈھیر بن گیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–32
15 باغ والوں کا قصہ :۔ یہ واقعہ آیت نمبر 17 سے آیت نمبر 33 تک پھیلا ہوا ہے۔ جسے ہم تسلسل کے ساتھ اپنے الفاظ میں بیان کریں گے کسی شخص کا ایک باغ تھا جو بھرپور فصل دیتا تھا۔ اس شخص کا زندگی بھر یہ دستور رہا کہ جب بھی پھل کی فصل اٹھاتا تو اس کے تین حصے کرتا۔ ایک حصہ تو خود اپنے گھر کی ضروریات کے لیے رکھ لیتا۔ دوسرا حصہ اپنے قریبی رشتہ داروں اور ہمسایوں میں تقسیم کردیتا اور تیسرا حصہ فقراء و مساکین میں بانٹ دیتا۔ اس کی اس سخاوت کی وجہ سے اس کا باغ سب سے زیادہ فصل دیتا۔ کٹائی کے دن فقراء و مساکین موقع پر پہنچ جاتے اور اپنا اپنا حصہ وصول کرلیتے۔ جب یہ شخص انتقال کر گیا تو اس کے بیٹوں کو خیال آیا کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–25
11۔ یہ کن باغ والوں کا ذکر ہے ؟ بعض نے کہا ہے کہ کوئی باغ حبشہ میں تھا۔ قیل کانوا میں اھل الحبشۃ (ابن کثیر) عن عکرمۃ قال ھم ناس من الحبشۃ (ابن جریر) ایک قول یہ بھی ہے کہ یہ باغ یمن میں تھا۔ عن ابن عباس قال کان بستان بالیمن (معالم) قال سعید بن جبیرکانوا من قریۃ یقال لھا فروان علی ستۃ امیال من صنعاء (ابن کثیر) بہرحال جہاں کہیں بھی ہو ایسا باغ تھا جس کی تلمیح سے اہل عرب خوب واقف تھے۔ اور قصہ کا ماحصل یہ ہے کہ جو اہل غفلت اپنی تدبیروں پر نازاں اور اہل حقوق کی حق تلفی میں لگے رہتے ہیں، وہ آخر خود ہی خسارہ میں رہتے ہیں۔ (آیت) ” ولایستثنون “۔ یعنی انہیں اس درجہ وثوق اپنے صبح کے پروگرام پر تھا کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–25
فطاف علیھا طائف من ربک ادھر تو یہ لوگ یہ مشورہ کر رہے تھے اور ادھر آسمانی بلا نے باغ کو جلا کر خاک سیاہ کردیا، جب صبح تڑکے پھل توڑنے کے لئے جانے لگے تو ایک دوسرے کو آہستہ آہستہ پکارنے لگے، تاکہ فقیر و مسکین لوگ سن نہ لیں اور وہ اس بات پر خوش تھے کہ آج باغ میں آ کر ہم سے کوئی کچھ نہ مانگے گا، اور وہ اپنے آپ کو اپنے اس منصوبہ میں کامیاب سمجھ رہے تھے۔
Read the full tafseer →فاصبحت کالصریم . اور وہ اجڑی ہوئی کھیتی یا اجڑے ہوئے باغ کی طرح ہوگیا۔ صریم بروزن فصیل بمعنی مفعول وہ باغ جس کے پھل توڑ لیے گئے ہوں ‘ کوئی پھل باقی نہ رہا ہو۔ یا صریم سے مراد ہے رات۔ یعنی وہ باغ سوختہ ہو کر رات کی طرح ہوگیا۔ یا دن مراد ہے یعنی وہ باغ بالکل سوکھ کر دن کی طرح سفید ہوگیا۔ اَصْرمٌ کا معنی ہے قطع ہوجانا ‘ کٹ جانا ‘ رات دن سے اور دن رات سے منقطع ہوتا ہے اس لیے ہر ایک کو صریم کہا جاتا ہے۔ حسن بصری (رح) نے فرمایا : اس باغ سے ہر اچھائی اور خوبی منقطع ہوگئی یعنی اس میں کچھ نہیں رہا۔ ابن عباس ؓ نے فرمایا : بنی خزیمہ کے محاورہ میں صریم سیارہ راکھ کو کہتے ہیں یعنی وہ باغ سیاہ راکھ کی طرح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–20
(17۔ 20) اور ہم نے مکہ والوں کی بدر کے دن قتل و قید اور شکست کے ساتھ اور ترک استغفار کے ساتھ اور بدر میں رسول اکرم کی بددعا کی وجہ سے سات سالہ قحط اور بھوک کی شکایت سے آزمائش کر رکھی ہے جیسا ہم نے باغ والوں یعنی بنی ضروان، بھوک کی شکایت اور ان کے باغوں کو آگ لگا کر آزمائش کی تھی۔ جب انہوں نے قسم کھائی تھی کہ اس باغ کا پھل ضرور صبح سویرے چل کر توڑ ڈالیں گے اور انہوں نے انشاء اللہ بھی نہ کہا۔ سو اس باغ پر رات ہی میں عذاب آپڑا سو وہ باغ جل کر ایسا رہ گیا جیسا کہ تاریک رات۔ شان نزول : اِنَّا بَلَوْنٰهُمْ كَمَا بَلَوْنَآ اَصْحٰبَ الْجَنَّةِ (الخ) ابن ابی حاتم نے ابن جریج سے روایت کیا ہے کہ ابو جہل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
فَطَافَ عَلَیْہَا طَآئِفٌ مِّنْ رَّبِّکَ۔۔۔۔:”طائف“ پھرجانے والا ، چکر لگانے والا۔ مراد اللہ کی طرف سے اچانک عذاب ہے جس کے ایک ہی چکر سے باغ کا نام و نشان مٹ گیا ، یعنی رات باغ کو آگ لگ گئی اور صبح زمین صاف تھی ، جس طرح کھیتی کٹنے کے بعد ہوتی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–22
فاصبحت کالصریم۔ وہ ہوگیا تاریک رات کی طرح (2) حضرت ابن عباس فراء اور دوسرے علماء نے کہا : یعنی وہ باغ جل گیا اور سیاہ رات کی طرح ہوگیا۔ حضرت ابن عباس سے مروی ہے : سیاہ رات کی طرح ہوگیا (3) کہا، حزیمہ کی لغت میں وہ سیاہ راکھ کی طرح ہوگیا۔ ثوری نے کہا، کٹی ہوئی کھیتی کی طرح ہوگیا۔ صریم، مصروم کے معنی میں ہے اس میں جو کچھ تھا اس کو کاٹ دیا گیا۔ حضرت حسن بصری نے کہا : بھلائی اس سے ختم کردی گئی۔ صریم، اسم مفعول کا وزن ہے۔ مورج نے کہا، ایسی ریت جو زیادہ ریت سے الگ ہوگئی۔ یہ کہا اجتا ہے، صریمۃ صرائم ریت کوئی ایسی چیز نہیں اگاتی جس سے نفع حاصل کیا جاسکتا ہو۔ اخفش نے کہا : وہ صبح کی طرح ہوگیا جو رات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–21
55۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ” کالصریم “ سے مراد ہے سیاہ رات کی طرح۔ 56۔ الطستی نے اپنے مسائل میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نافع بن ارزق (رح) نے ان سے اللہ تعالیٰ کے اس قول ” کالصریم “ کے بارے میں پوچھا تو فرمایا ” کالصریم “ سے مراد ہے ختم ہوجانا پھر پوچھا کیا عرب کے لوگ اس معنی کو جانتے ہیں ؟ فرمایا ہاں کیا تو نے شاعر کا قول نہیں سنا۔ غدوت علیہ غدوۃ فوجدتہ قعودا لدیہ بالصریم عواذلہ ترجمہ : میں صبح سویرے اس کی طرف گیا تو میں نے اسے پایا حالانکہ وہ کٹے ہوئے کھیت کے پاس بیٹھا ہوا تھا اور اسے ملامت کرنے والے اس کے پاس تھے
Read the full tafseer →[فَاَصْبَحَتْ : نتیجۃً وہ (باغ) صبح کو ہوگیا ][ كَالصَّرِيْمِ : کاٹے ہوئے کھیت کی مانند ] [ صَرِیْمٌ فَعِیْلٌ کے وزن پر صفت ہے اسم المفعول کے معنی میں۔ کاٹا ہوا۔ پھر اس فصل کے لیے بھی آتا ہے جو کاٹ لی گئی ہو اور اس زمین کے لیے بھی جس کی فصل کاٹ لی گئی ہو۔ زیر مطالعہ آیت۔ 20 ۔]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–32
ایک باغ کے مالکوں کا عبرت ناک واقعہ رسول اللہ ﷺ کے ہجرت فرمانے کے بعد مکہ معظمہ کے مشرکوں پر اللہ تعالیٰ نے قحط بھیج دیا تھا۔ قحط کی وجہ سے بہت تکلیف اٹھائی، اس کے بارے میں فرمایا کہ ہم نے مکہ والوں کو آزمائش میں ڈالا جیسا کہ باغ والوں کو آزمائش میں ڈالا تھا، یہ باغ کہاں تھا باغ والے کون تھے اس کے بارے میں حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ یہ باغ یمن میں شہر صنعاء سے دو فرسخ کے فاصلہ پر تھا اسے نمازی لوگوں نے بویا تھا جو لوگ اس کے وارث چلے آ رہے تھے وہ بڑے سخی تھے جس دن باغ کے پھل کاٹتے تھے مساکین جمع ہوجاتے تھے اسی طرح کھیتی کاٹنے کے دن اور جس دن بھوسہ اور دانہ الگ کرتے تھے مساکین آجاتے تھے، یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–33
عبرتناک انجام غرور وتکبر بردولت دنیا و محرومی از سعادت وآخرت : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” انا بلونھم کما بلون آ اصحب الجنۃ ....... الی ...... لو کانوا یعلمون “۔ (ربط) گزشتہ آیات میں اہل مکہ کے ان مغرور ومتکبر انسانوں کا ذکر تھا جنہوں نے محض اپنے مال و دولت اور اولاد وخاندان کے نشہ میں رسول خدا ﷺ کی توہین کی انکار وکفر کے مرتکب ہوئے تو اب ان آیات میں ایک باغ والوں کا قصہ بیان کرکے بتایا جارہا ہے کہ انسان کو دنیا کے مال ومنال پر بھروسہ کرکے مغرور ومتکبر نہ ہونا چاہئے دنیا کی حقیقت بس اتنی ہی ہے اور غرور کا انجام ایسا ہی ہے جیسے کہ اس باغ کی تباہی اور باغ والوں کی بربادی سے ظاہر ہورہا ہے یہ باغ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–25
11:۔ ” فطاف علہا “۔ طائف سے جبریل (علیہ السلام) مراد ہیں جو عذاب الٰہی لے کر آئے تھے۔ یہ فیصلہ کر کے وہ سو گئے، رات کو اللہ نے اس پر ایسا عذاب نازل فرمایا کہ سارا باغ تباہ و برباد ہوگیا اور زمین اس طرح صاف ہوگئی جس طرح وہاں سے سب کچھ کاٹ لیا گیا ہو۔ ” فتنادوا مصبحین “ صبح ہونے کو ہوئی تو سب نے ایک دوسرے کو آوازز دی کہ پھل توڑنا ہے تو جلدی جلدی باغ میں پہنچو۔ چناچہ سب روانہ ہوئے اور آہستہ آہستہ ایک دوسرے سے کہتے جارہے تھے کہ آج کوئی مسکین ہمارے قریب نہ آنے پائے۔ ” وغدوا علی حرد قادرین “ حرد، روکنا اور نہ دینا۔ چناچہ جب وہ وہاں پہنچے تو وہ خوش تھے اور اپنے زعم میں سمجھ رہے تھے کہ وہ اپنے مقصد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–33
گذشتہ سے پیوستہ : گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے ان انعامات کا ذکر فرمایا ، جو پیغمبر ﷺ پر کئے اور توحید الہٰی ، رسالت اور معاد کے مکذبین کے متعلق ارشاد فریاما کہ ان کی کسی بات کو تسلیم نہ کریں کیونکہ ان بےہودہ لوگوں نے نبی جیسے عقل مند ، ذہین اور سب سے بلند اخلاق والی ہستی کو العیافہ باللہ مجنون کا خطاب دیا ۔ یہ مشرکین آپ ﷺ کو مداہنت پر آمادہ کرنا چاہتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کی دس الفاظ کے ساتھ مذمت بیان کی۔ پھر فرمایا کہ یہ اس لیے غرور وتکبر کرتے ہیں کہ ان کو اللہ تعالیٰ نے مالی و اولاد سے نوازا ہے۔ یہ انعامات تو شکر گزاری کا سبب بننا چاہئیں نہ کہ تکذیب و نافرمانی کا ان کے غرور کا…
Read the full tafseer →فَاَصْبَحَتْ كَالصَّرِيْمِ 20 ۙ صرم الصَّرْمُ : القطیعة، والصَّرِيمَةُ : إحكام الأمر وإبرامه، والصَّرِيمُ : قطعةٌ مُنْصَرِمَةٌ عن الرّمل . قال تعالی: فَأَصْبَحَتْ كَالصَّرِيمِ [ القلم/ 20] ، قيل : أصبحت کالأشجار الصَّرِيمَةِ ، أي : الْمَصْرُومِ حملُهَا، وقیل : کاللّيل، لأنّ اللّيل يقال له : الصَّرِيمُ ، أي : صارت سوداء کاللّيل لاحتراقها، قال : إِذْ أَقْسَمُوا لَيَصْرِمُنَّها مُصْبِحِينَ [ القلم/ 17] ، أي : يجتنونها ويتناولونها، فَتَنادَوْا مُصْبِحِينَ أَنِ اغْدُوا عَلى حَرْثِكُمْ إِنْ كُنْتُمْ صارِمِينَ [ القلم/ 21- 22] . والصَّارِمُ : الماضي، وناقةٌ مَصْرُومَةٌ: كأنها قطع ثديها، فلا يخرج…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–33
ترکیب : اذ تعلیلیۃ اوظرفیۃ بنوع تسمح لان الانقسام کان قبل ابتلائہم لیصرمنہا جواب القسم مصبحین حال من الفاعل فی یصرمنہا ولا یستثنون جملۃ مستانفہ لبیان ماوقع منھم وقیل حال فتنادوا معطوف علی اقسموا بینما اعتراض لبیان مانزل بتلک الجنۃ ان اغدوا ان مفسرۃ لان فی التنادی معنی القول او مصدریۃ ای اخرجواغدوۃً ان کنتم الخ جواب الشرط محذوف فاغدوا وھم یتخافتون الجملۃ حال من فاعل فانطلقوا ان لایدخلنہا ان مفسرۃ للتخافت المذکور لمافیہ من معنی القول علی حرد یتعلق بقادرین وقادرین حال وقیل خبر غدوا لا نھا حملت علی اصبحوا۔ تفسیر : اہل مکہ خصوص ولید وغیرہ ثروت و حشمت پر نازاں ہو کر کہتے تھے کہ ہم پر خدا کی نظر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
فَطَافَ عَلَیْھَا طَـآئِفٌ مِّنْ رَّبِّکَ وَھُمْ نَـآئِمُوْنَ ۔ فَـاَصْبَحَتْ کَالصَّرِیْمِ ۔ (القلم : 19، 20) (پس پھر گئی اس پر ایک (بلا) پھرنے والی تیرے رب کی طرف سے، اس حال میں کہ وہ سو رہے تھے۔ تو وہ کٹی ہوئی فصل کی مانند ہو کر رہ گیا۔ ) باغ کے مالک بڑے عزم و جزم کے ساتھ رات کو فیصلہ کرکے سوئے کہ صبح اٹھ کر فصل کاٹنی ہے لیکن ابھی سوئے ہی پڑے تھے کہ ان کے باغ پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی گردش یا کوئی بلا آئی جس نے باغ کو تباہ کردیا اور وہ بالکل ایسے ہوگیا جسے کٹی ہوئی فصل ہوتی ہے، یعنی یہ تباہی اس خاموشی کے ساتھ آئی کہ انھیں خبر تک نہ ہوئی اور تباہی ایسی مکمل تھی کہ اس نے چشم زدن میں ہرا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–33
فہم القرآن ربط کلام : اہل مکہ کی آزمائش۔ نبی معظم ﷺ کی جدوجہد کے سامنے بےبس ہو کر اہل مکہ نے یہ مطالبہ کیا تھا کہ کچھ آپ نرم ہوجائیں اور کچھ ہم نرم ہوجاتے ہیں نبی ﷺ نے اسے مکمل طور پر مسترد کردیا۔ اس کے ردِّ عمل میں انہوں نے مزدور صحابہ کرام ؓ کی مزدوریاں روک لیں اور اپنے غریب رشتہ دار صحابہ کے ساتھ تعاون کرنے سے ہاتھ کھینچ لیا، ان کے سرداروں نے مہم چلائی کہ مسلمانوں کے ساتھ کسی قسم کا تعاون نہ کیا جائے۔ اس پر یہ آیات نازل ہوئیں جس میں انتباہ کرتے ہوئے فرمایا کہ ہم مکہ والوں کو اس طرح آزمائیں گے جس طرح ان سے پہلے باغ والوں کو آزما چکے ہیں۔ واقعہ یوں ہے کہ ایک شخص کا باغ تھا وہ اپنے باغ کی…
Read the full tafseer →20 : فَاَصْبَحَتْ کَالصَّرِیْمِ (پھر صبح کو وہ باغ ایسا رہ گیا جیسا کٹا ہوا کھیت ) اصبحت یہ صار کے معنی میں ہے صریمؔ : اندھیری رات کی طرح یعنی جل کر سیاہ ہوگیا۔ نمبر 2۔ صبح کی طرح یعنی سفید زمین بن گئی جس میں کوئی درخت نہ تھا۔ ایک قول یہ ہے وہ کٹی ہوئی کھیتی کی طرح ہوگیا گویا وہ کاٹ لیا گیا کیونکہ اس کے پھل تباہ ہوگئے۔
Read the full tafseer →19 ۔” فطاف علیھا طائف “ عذاب۔ ” من ربک “ رات کو اور طائف رات کو ہی ہوتا ہے اور یہ طائف آگ تھی جو آسمان سے اتری اور باغ کو جلا دیا۔ ” وھم نائمون “
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–33
17۔ 33۔ اہل مکہ جب اپنے مال و متاع پر بہت اترائے اور اللہ کی نعمتوں کی ناشکری کی اور اللہ کے رسول سے طرح طرح کی سرکشی انہوں نے شروع کی تو آنحضرت ﷺ نے ان کے حق میں قحط کی بددعا کی جس کا ذکر حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ کی روایت سے صحیح بخاری 1 ؎ و مسلم میں ہے اللہ کے رسول کی بد دعا سے بڑا سخت قحط پڑا یہاں تک کہ اہل مکہ مردار چیزیں کھا کر زندگی بسر کرنے لگے۔ آخر آنحضرت ﷺ سے رفع قحط کی دعا کرنے کی التجا کی اور آپ ﷺ کی دعا سے وہ قحط رفع ہوا اس لئے اوپر کی آیتوں میں ولید بن مغیرہ کا خاص طور پر ذکر فرما کر سب قریش کو قحط کا قصہ یاد دلایا اور فرمایا کہ ان لوگوں کی نافرمانی کے سبب سے ان پر قحط کی آفت اسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–21
(فاصبحت کالصریم) پس وہ ہوگیا جیسے کٹی ہوئی کھیتی، ، یعنی اندھیری رات کی مانند، تمام درخت اور پھل ملیا میٹ ہوگئے مگر انہیں نازل ہونے والی اس مصیبت کے بارے میں کچھ علم نہیں تھا، اس لیے جب صبح ہوئی تو انہوں نے ایک دوسرے کو یہ کہتے ہوئے آواز دی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–52
قول باری ہے (عتل بعد ذلک زنیم، جفا کار اور ان سب عیوب کے ساتھ بداصل ہے) پہلے لفظ کے بارے میں ایک قول ہے کہ ہٹے کٹے اور بدخلق نیز سفاک انسان کو عتل کہا جاتا ہے۔ زنیم اس ولدالزنا کو کہا جاتا ہے جو دراصل ایک خاندان کا فرد نہ ہو مگر اس میں شامل ہوگیا ہو۔ ہمیں عبدالباقی بن قانع نے روایت بیان کی، انہیں حسین بن اسحاق التستری نے، انہیں الولیدبن عتبہ نے، انہیں الولید بن مسلم نے، انہیں ابو شیبہ ابراہیم بن عثمان نے عثمان بن عمیر البجلی سے، انہوں شہرین حوشب سے، انہوں نے حضرت شداد بن اوس سے کہ حضور ﷺ نے فرمایا (لا یدخل الجنۃ جو اظ ولا جعظری ولا عتل زنیم) میں نے دریافت کیا کہ جو اظ کسے کہتے ہیں۔ انہوں نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–21
16 باغ والوں کی روانگی اور باہمی راز داری کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ صبح کو وہ لوگ آپس میں چپکے چپکے باتیں کرتے ہوئے نکل پڑے۔ کہ تاکہ کوئی غریب مسکین سن گن کر ادھر نہ آنکلے (روح، صفوہ، ابن کثیر، معارف وغیرہ) اور اس طرح وہ دوسروں کی محرومی کے لئے تدبیر کر کے دراصل خود اپنی ہی محرومی کا سامان کر رہے تھے اور اپنے پاؤں پر خود اپنے ہاتھوں سے کلاڑا مار رہے تھے، مگر وہ اس سے بیخبر تھے، والعیاذ باللہ، اسی لئے دین حنیف یہ تعلیم دیتا ہے کہ دوسوں کے بھلے اور نفع رسانی کی فکر و کوشش کرو، تاکہ خود تمہارا بھلا ہو جیسا کہ فرمایا گیا خیر الناس انفعھم للناس یعنی سب سے اچھا انسان وہ ہے جو دوسروں کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–35
باغ والوں کے بخل کا واقعہ تشریح :۔ اس قصے سے سبق ملتا ہے کہ صرف دنیا میں کھو جانا اور اللہ کی طرف سے آنکھیں بند کرلینا سراسر غلط راستہ ہے رب العزت کا یہی طریقہ ہے کہ وہ بندوں کو ایسی ہی سزاؤں سے جھنجوڑتا ہے کہ انسان غفلت سے باز آجائے یہ دنیاوی نقصانات تو صرف آنکھیں کھولنے کے لیے کرائے جاتے ہیں نافرمان اور غفلت سے بیدار نہ ہونے والے لوگوں کو آخرت میں بڑا سخت عذاب دیا جائے گا۔ جب کہ فرمانبرداروں کے لیے آرام و آسائش کے بہترین باغات ہیں اور یہی فرق ہے نافرمانوں اور فرمانبرداروں میں کیونکہ اللہ بہترین انصاف کرنے والا ہے۔ اچھے اور برے لوگوں کا حساب ایک جیسا نہیں ہوسکتا۔ حدیث میں نصیحت کی گئی ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–33
آیات 1 تا 23۔ اسرار ومعارف۔ قسم ہے قلم کی اور جو کچھ قلم سے لکھاجاتا ہے یعنی آپ ﷺ نے امی ہونے کے باوجود علم کے وہ دریابہائے کہ خود قلم اور اس کی تحریر آپ کے کامل عقل مند اور بےمثال صاحب خرد ہونے پر دال ہے۔ مجنون۔ جب آپ ﷺ نے اعلان نبوت فرما کر ساری انسانیت کو دعوت حق دے دی اور تمام انسانوں کے لیے ایک عقیدہ اور ایک نظام حیات تو مشرکین نے اسے معاذ اللہ پاگل پن قرار دیا کہ دنیا کی عظیم الشان حکومتیں ساری دنیا پہ ایک نظام رائج نہ کرسکیں۔ پھر آپ ﷺ امی ہیں ، اکیلے ہیں یا چند مسلمان جن کی بظاہر کوئی حیثیت نہیں پھر اقوام عالم کے مزاج الگ ، فکر الگ ، رنگ ونسل اپنی اپنی ، غذا الگ زبانیں الگ موسم اور…
Read the full tafseer →ف 13 ۃ فرار نے ” صریم “ کی تفسیر ” کالی رات “ سے کی ہے۔ یعنی وہ باغ جل کر راکھ ہوگیا۔ (شوکانی)
Read the full tafseer →(68:20) فاصبحت :نتیجہ کی ہے اصبحت ماضی کا صیغہ واحد مؤنث غائب ۔ اصباح (افعال) مصدر ۔ وہ ہوگئی۔ مؤنث کا صیغہ الجنۃ کے لئے آیا ہے۔ یعنی (باغ) ہوگیا ۔ اصبحت ای صارت۔ کالصریم : کاف تشبیہ کا۔ الصریم کٹا ہوا۔ ٹوٹا ہوا۔ صرم سے جس کے معنی کاٹنے کے ہیں۔ بروزن فعیل بمعنی مفعول یعنی مصروم ہے۔ اصل معنی تو صریم کے یہی ہیں ۔ کٹا ہوا۔ ٹوٹا ہوا۔ جدا کیا ہوا۔ چونکہ صبح رات سے کٹی ہوئی ہے اور رات صبح سے کٹی ہوئی ہوتی ہے۔ اس لئے کبھی صریم کا استعمال صبح کے معنی میں ہوتا ہے اور کبھی رات کے معنی میں۔ اسی طرح اس ذرہ ریگ کو صریم کہا جاتا ہے جو تودہ ریگ سے جدا ہوگیا ہو۔ چناچہ الصریم کی تفسیر میں یہ سارے قول بیان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–33
لغات القرآن۔ یسطرون۔ وہ لکھتے ہیں۔ ممنون۔ منقطع ہونے والا۔ ختم ہونے والا۔ تبصر۔ تو دیکھے گا۔ المفتون۔ دیوانہ۔ ودوا۔ وہ پسند کرتے ہیں۔ تدھن۔ تو خوشامد کرے۔ تو نمر پرے۔ حلاف۔ بہت قسمیں کھانے والا۔ مھین۔ ذلیل کمینہ۔ ھماز۔ طعنے دینے والا۔ مشائ۔ پھرنے والے۔ نیمیم۔ چغل خور۔ باتیں لگانے والے۔ مناع۔ روکنے والا۔ معتد۔ حد سے بڑھنے والا۔ اثیم۔ گناہ گار۔ عتل۔ اکھڑ۔ اجد۔ زنیم۔ بدنام۔ نسیم۔ ہم داغ دیں گے۔ الخرطوم۔ ناک۔ دم۔ سونڈ۔ تشریح : سورة القلم کا آغاز ” ن “ سے کیا گیا ہے جو حروف مقطعات میں سے ایک حروف ہے۔ اس کے کیا معنی ہیں ؟ اس کی تفصیل اس سے پہلی ابتدائی سورتوں میں آچکی ہے کہ ان حروف کے معنی اور مراد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–33
(ف 4) اہل مکہ جب اپنے مال ومتاع پر بہت اترائے اور اللہ کی نعمتوں کی ناشکری کی، اور نبی ﷺ سے طرح طرح کی سرش کی انہوں نے شروع کی تو نبی ﷺ نے ان کے حق میں دعا فرمائی کہ یارب ، انہیں ایسی قحط سالی میں مبتلا کر جیسی حضرت یوسف کے زمانہ میں ہوئی تھی چناچہ اہل مکہ قحط کی مصیبت میں ایسے مبتلا ہوگئے کہ وہ بھوک کی شدت میں مردار اور ہڈیاں تک کھاگئے اور اس طرح آزمائش میں ڈالے گئے ، آخرنبی ﷺ سے رفع قحط کی دعا کرنے کی التجا کی اورآ پکی دعا سے قحط رفع ہوا۔ اس لیے اوپر کی ایتوں میں ولید بن مغیرہ کا خاص طور پر ذکر فرما کر سب کو قحط کا قصہ یاد دلا اور فرمایا کہ ان لوگوں کی نافرمانی کے سبب سے ان پر قحط کی آفت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–21
[6] اصل میں لفظ '' خرطوم '' استعمال ہوا ہے۔ جس کے معنی ہاتھی کی سونڈ کے ہیں۔ کیونکہ وہ اپنے آپ کو بڑی ناک والا سمجھتا تھا اس لئے اس کی ناک کو حقارت سے سونڈ کہا گیا ہے۔ [7] داغنے سے مراد اس کی رسوائی اور روسیاہی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–31
ف 1: ان آیات میں اس حقیقت کو واضح فرمایا ہے ۔ کہ جو لوگ اللہ کے مال و دولت کی بنا پر احکام الٰہی کا انکار کردیتے ہیں ۔ ا ہیں یقین رکھنا چاہیے ۔ کہ یہ فراوانی اور آسودگی ہمیشہ نہیں رہے گی ۔ فرمایا کہ مکہ والوں کہ ہم نے عیش وتکلفات سے بہرہ مند کرکے اسی طرح آزمایا ہے ۔ جس طرح کہ بنی اسرائیل کے ایک گروہ کو ہم نے مال و دولت سے نوازا ۔ ان کو ایک نہایت عمدہ باغ مرحمت فرمایا ۔ مگر انہوں نے ازراہ بخل یہ طے کرلیا ۔ کہ ہم اس کا پھل صرف آپس میں بانٹ لیں گے ۔ اس میں کسی غریب کا حصہ نہیں ہوگا ۔ پھر جو کچھ باغ کی آمدنی سے ملے گا ۔ اس کو صرف اپنی ان آسانی کے لئے استعمال کریں گے ۔ اور مستحقین کو کچھ نہیں…
Read the full tafseer →(20) پھر صبح ہوتے ہوتے وہ باغ ایسا ہوگیا جی سے کٹی ہوئی کھیتی۔ یعنی بالکل صاف زمین کہیں کہیں جلی ہوئی کھیتی کا نشان۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں پانچ بھائی تھے ان کا باپ چھوڑ مرا ایک باغ میوہ کا اس کی پیدائش سے سارا گھر آسودہ تھا جس دن میوہ توڑنا ٹھہراتا شہر کے سب فقیر جمع ہو آتے سب کو کچھ کچھ دیتا اسی سے برکت تھی پیچھے بیٹوں نے سمجھا کہ اتنا جو فقیر لے جاویں اپنے ہی کام آوے پھر مشورہ کیا کو سویرے ہی توڑ کر گھر لے آئے فقیر جاویں گے تو وہاں کچھ نہ پائیں گے اور اس پر ایسا یقین کیا کہ انشاء اللہ تعالیٰ بھی نہ کہا رات کو آگ لگی یا دھاڑ پڑی سب صاف ہورہا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–31
ف 4۔ یعنی ان اہل مکہ کو سامان عیش دے رکھا ہے تاکہ دیکھیں کہ نعمتوں کے شکر میں ایمان لاتے ہیں یا ناشکری و بےقدری کر کے کفر کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →ان کا باغ ایسا ہوگیا جیسا کہ کٹا پڑا تھا ، سبزے کا نام و نشان تک نہ رہا 20 ؎ (صریم) کٹا ہوا ، ٹوٹا ہوا۔ صرم سے جس کے معنی کاٹنے کے ہیں۔ بروزن فیل بمعنی مفعول یعنی کعروم سے۔ واضح رہے کہ اصل معنی (کالصریم) کے یہی ہیں کٹا ہوا ، جدا کیا ہوا۔ پھر چونکہ صبح رات سے کٹی ہوئی ہوتی ہے اور رات صبح سے اس لئے (صریم) کا استعمال کبھی صبح کے معنی میں ہوتا ہے اور کبھی رات کے معنی میں۔ اس طرح ذرہ ریگ کو بھی (صریم) کہا جاتا ہے کہ جو تودہ ریگ سے جدا ہوگیا۔ چناچہ (کالصریم) کی تفسیر میں یہ سارے اقوال بیان کئے گئے ہیں کہ وہ باغ سوکھ کر ایسا سپیدہو گیا کہ جس طرح ذرہ ہائے ریگ تو وہ ریگ سے اڑ کر منتشر ہوجاتے ہیں نیز…
Read the full tafseer →فَأَصْبَحَتْ كَالصَّرِيمِ (Thus, on the next morning, it was like a harvested field ….68:20). The word sarim means to harvest or to collect a crop from the fields'. The word sarim in the context of the verse is used in the sense of masrum or maqtu`, meaning 'harvested or cut'. This signifies that the fire burnt the field and stripped it bare. The word sarim also means 'night'. From this point of view, the verse signifies 'the field became burnt up and black like night'. [ Mazhari ].
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–21
13 That is, "They were so sure and confident of their power and authority that they swore they would surely pluck the fruit of their garden next morning, without feeling any need to say, "We shall do so if Allah so willed."
Read the full tafseer →