فَتَنَادَوْا مُصْبِحِیْنَ ۟ۙفَتَـنَادَوۡا مُصۡبِحِيۡنَۙ
جب صبح ہوئی تو وہ لوگ ایک دوسرے کو پکارنے لگے
— Fateh Muhammad Jalandhari
And they called one another at morning,
— Saheeh International
Juz 29 · Ruku 1 of surah · Ruku 3 of juz
فَتَنَادَوْا مُصْبِحِیْنَ ۟ۙفَتَـنَادَوۡا مُصۡبِحِيۡنَۙ
جب صبح ہوئی تو وہ لوگ ایک دوسرے کو پکارنے لگے
— Fateh Muhammad Jalandhari
And they called one another at morning,
— Saheeh International
Juz 29 · Ruku 1 of surah · Ruku 3 of juz
Read the whole surah · Surah Al-Qalam
صبح اُن لوگوں نے ایک دوسرے کو پکارا
جب صبح ہوئی تو وہ لوگ ایک دوسرے کو پکارنے لگے
اب صبح ہوتے ہی انہوں نے ایک دوسرے کو آوازیں دیں
پھر صبح ہوتے ہی انہوں نے ایک دوسرے کو آواز دی۔
پھر انہوں نے صبح ہوتے ایک دوسرے کو پکارا،
پھر صبح ہوتے ہی وہ ایک دوسرے کو پکارنے لگے،
پھر انھوں نے صبح ہوتے ہی ایک دوسرے کو آواز دی۔
وہ صبح دم ہی ایک دوسرے کو پکارنے لگے
صبح کو انہوں نے پکارا
ادھر صبح ہونے پر یہ ایک دوسرے کو پکارنے لگے
پھر وہ ایک دوسرے کو پکارنے لگے
اب صبح ہی صبح انہوں نے ایک دوسرے کو پکارا۔
صبح ہوئی تو وہ لوگ ایک دوسرے کو پکارنے لگے
At daybreak they called out to one another:
So, they called out each other as the morning broke,
So, they called out each other as the morning broke,
Then they called out (one to another as soon) as the morning broke.
And they cried out one unto another in the morning,
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
And they called one another at morning,
In the morning they called out to one another,
And they called out to each other in the morning,
Then they cried out Unto each other in the morning,
As the morning broke, they called out, one to another,-
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 17–33
سیاہ رات اور کٹی ہوئی کھیتی یہاں ان کافروں کی جو حضور ﷺ کی نبوت کو جھٹلا رہے تھے مثال بیان ہو رہی ہے کہ جس طرح یہ باغ والے تھے کہ اللہ کی نعمت کی ناشکری کی اور اللہ کے عذابوں میں اپنے آپ کو ڈل دیا، یہی حالت ان کافروں کی ہے کہ اللہ کی نعمت یعنی حضور ﷺ کی پیغمبر کی ناشکری یعنی انکار نے انہیں بھی اللہ کی ناراضگی کا مستحق کردیا ہے، تو فرماتا ہے کہ ہم نے انہیں بھی آزما لیا جس طرح ہم نے باغ والوں کو آزمایا تھا جس باغ میں طرح طرح کے پھل میوے وغیرہ تھے، ان لوگوں نے آپس میں قسمیں کھائیں کہ صبح سے پہلے ہی پہلے رات کے وقت پھل اتار لیں گے تاکہ فقیروں مسکینوں اور سائلوں کو پتہ نہ چلے جو وہ آ کھڑے ہوں اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–21
سورة الْقَلَم 13 یعنی انہیں اپنی قدرت اور اپنے اختیار پر ایسا بھروسہ تھا کہ قسم کھا کر بےتکلف کہہ دیا کہ ہم ضرور کل اپنے باغ کے پھل توڑیں گے اور یہ کہنے کی کوئی ضرورت وہ محسوس نہیں کرتے تھے کہ اگر اللہ نے چاہا تو ہم یہ کام کریں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–24
(آیت) فَتَنَادَوْا مُصْبِحِيْنَ یعنی صبح اندھیرے سے آپس میں ایک دوسرے کو آواز دے کر جگانے لگے کہ اگر کھیتی کاٹنا ہے تو سویرے چلو وَهُمْ يَتَخَافَتُوْنَ ، یعنی گھر سے نکلنے کے وقت آپس میں آہستہ بات کرتے تھے کہ کسی فقیر مسکین کو خبر نہ ہوجائے جو ساتھ لگے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–22
یہ لوگ ساری اسکیم بنا کے رات میں سوئے اور صبح اٹھتے ہی تمام شرکاء نے ہانک پکار مچائی کہ پھل توڑنے اور فصل اٹھانی ہے تو سویرے سویرے اپنے کھیتوں پر پہنچو۔ ’حَرْثٌ‘ اگرچہ کھیتی کے معنی میں آتا ہے لیکن اس سے مراد وہ باغ ہی ہے جس کا ذکر اوپر سے آ رہا ہے۔ اس کی وجہ، جیسا کہ ہم اس کے محل میں واضح کر چکے ہیں، یہ ہے کہ عرب میں باغوں ہی کے اندر مختلف چیزوں کی کاشت کے لیے قطعات بھی ہوتے تھے اس وجہ سے ان کو باغ (جنت) بھی کہہ سکتے تھے اور کھیتی (حرث) بھی۔ ’اِنْ کُنْتُمْ صَارِمِیْنَ‘ کے الفاظ شرکاء کو للکارنے اور آمادہ کرنے کے لیے ہیں۔ یعنی یہ کام کرنا ہے تو وقت ضائع نہ کرو۔ فوراً چلو ورنہ نقصان اٹھاؤ گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–22
20۔ 1 یعنی جس طرح کھیتی کٹنے کے بعد خشک ہوجاتی ہے، اس طرح سارا باغ اجڑ گیا، بعض نے ترجمہ یہ کیا ہے، سیاہ رات کی طرح ہوگیا، یعنی جل کر۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–24
8: اس کا ایک مطلب تو یہ ہوسکتا ہے کہ انہوں نے یہ ارادہ کیا تھا کہ سارے کا سارا پھل ہم توڑ لیں گے، اور اس کے کسی حصے کا استثناء نہیں کریں گے، یعنی کوئی حصہ غریبوں کے لیے نہیں چھوڑیں گے۔ دوسرے استثناء کرنے کا ایک مطلب ”ان شاء اللہ“ کہنا بھی ہوتا ہے۔ اس صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ جب وہ یہ کہہ رہے تھے کہ ہم صبح ہوتے ہی پھل توڑ لیں گے تو اس وقت انہوں نے ”ان شاء اللہ“ نہیں کہا تھا
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–22
فتنادوا ................ صرمین (86 : 22) (86 : 12۔ 22) ” صبح سویرے انہوں نے ایک دوسرے کو پکارا کہ اگر پھل توڑنے ہیں تو سویرے سویرے اپنی کھیتی کی طرف نکل چلو “۔ صبح وہ ایک دوسرے کو اٹھاتے جگاتے ہیں اور رات کے فیصلے کو یاد دلاتے ہیں اور چپکے چپکے یہ عمل ہورہا ہے۔ اس کے بعد سیاق کلام میں ان کے ساتھ ایک مذاق بھی ہوتا ہے۔ ان کے اٹھنے اٹھانے ، چلنے اور باہم گفتگو کی تصویر خوب کھینچی جاتی ہے۔ یہ نہایت دھیمی آواز سے بات کرتے ہیں تاکہ ان کی تدبیر پوری طرح کامیاب ہو ، تاکہ پورا پھل توڑلیں اور مساکین کو پوری طرح محروم کردیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–25
5 یعنی یہ یقین کرتے ہوئے کہ اب جا کر سب پیداوار اپنے قبضہ میں کرلیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–21
آیت 20{ فَاَصْبَحَتْ کَالصَّرِیْمِ۔ } ”تو وہ ایسے ہوگیا جیسے کٹی ہوئی فصل ہو۔“ یعنی رات کو وہ باغ کسی بگولے کی زد میں آیا اور جل کر راکھ کا ڈھیر بن گیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–32
15 باغ والوں کا قصہ :۔ یہ واقعہ آیت نمبر 17 سے آیت نمبر 33 تک پھیلا ہوا ہے۔ جسے ہم تسلسل کے ساتھ اپنے الفاظ میں بیان کریں گے کسی شخص کا ایک باغ تھا جو بھرپور فصل دیتا تھا۔ اس شخص کا زندگی بھر یہ دستور رہا کہ جب بھی پھل کی فصل اٹھاتا تو اس کے تین حصے کرتا۔ ایک حصہ تو خود اپنے گھر کی ضروریات کے لیے رکھ لیتا۔ دوسرا حصہ اپنے قریبی رشتہ داروں اور ہمسایوں میں تقسیم کردیتا اور تیسرا حصہ فقراء و مساکین میں بانٹ دیتا۔ اس کی اس سخاوت کی وجہ سے اس کا باغ سب سے زیادہ فصل دیتا۔ کٹائی کے دن فقراء و مساکین موقع پر پہنچ جاتے اور اپنا اپنا حصہ وصول کرلیتے۔ جب یہ شخص انتقال کر گیا تو اس کے بیٹوں کو خیال آیا کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–25
11۔ یہ کن باغ والوں کا ذکر ہے ؟ بعض نے کہا ہے کہ کوئی باغ حبشہ میں تھا۔ قیل کانوا میں اھل الحبشۃ (ابن کثیر) عن عکرمۃ قال ھم ناس من الحبشۃ (ابن جریر) ایک قول یہ بھی ہے کہ یہ باغ یمن میں تھا۔ عن ابن عباس قال کان بستان بالیمن (معالم) قال سعید بن جبیرکانوا من قریۃ یقال لھا فروان علی ستۃ امیال من صنعاء (ابن کثیر) بہرحال جہاں کہیں بھی ہو ایسا باغ تھا جس کی تلمیح سے اہل عرب خوب واقف تھے۔ اور قصہ کا ماحصل یہ ہے کہ جو اہل غفلت اپنی تدبیروں پر نازاں اور اہل حقوق کی حق تلفی میں لگے رہتے ہیں، وہ آخر خود ہی خسارہ میں رہتے ہیں۔ (آیت) ” ولایستثنون “۔ یعنی انہیں اس درجہ وثوق اپنے صبح کے پروگرام پر تھا کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–25
فطاف علیھا طائف من ربک ادھر تو یہ لوگ یہ مشورہ کر رہے تھے اور ادھر آسمانی بلا نے باغ کو جلا کر خاک سیاہ کردیا، جب صبح تڑکے پھل توڑنے کے لئے جانے لگے تو ایک دوسرے کو آہستہ آہستہ پکارنے لگے، تاکہ فقیر و مسکین لوگ سن نہ لیں اور وہ اس بات پر خوش تھے کہ آج باغ میں آ کر ہم سے کوئی کچھ نہ مانگے گا، اور وہ اپنے آپ کو اپنے اس منصوبہ میں کامیاب سمجھ رہے تھے۔
Read the full tafseer →فتنادوا مصبحین . صبح ہوتے ہی انہوں نے باہم آوازیں دیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–22
(21۔ 22) چناچہ صبح صادق کے وقت جب وہ اٹھے تو ایک دوسرے کو پکارنے لگے کہ اپنے کھیت پر سویرے چلو اگر تمہیں مساکین کو خبر ہونے سے پہلے پھل توڑنا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–24
فَتَنَادَوْا مُصْبِحِیْنَ۔۔۔۔۔:”علی حرثکم“ اپنے کھیت پر۔ معلوم ہوا کہ با غ کے ساتھ کھیتی بھی تھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–22
فاصبحت کالصریم۔ وہ ہوگیا تاریک رات کی طرح (2) حضرت ابن عباس فراء اور دوسرے علماء نے کہا : یعنی وہ باغ جل گیا اور سیاہ رات کی طرح ہوگیا۔ حضرت ابن عباس سے مروی ہے : سیاہ رات کی طرح ہوگیا (3) کہا، حزیمہ کی لغت میں وہ سیاہ راکھ کی طرح ہوگیا۔ ثوری نے کہا، کٹی ہوئی کھیتی کی طرح ہوگیا۔ صریم، مصروم کے معنی میں ہے اس میں جو کچھ تھا اس کو کاٹ دیا گیا۔ حضرت حسن بصری نے کہا : بھلائی اس سے ختم کردی گئی۔ صریم، اسم مفعول کا وزن ہے۔ مورج نے کہا، ایسی ریت جو زیادہ ریت سے الگ ہوگئی۔ یہ کہا اجتا ہے، صریمۃ صرائم ریت کوئی ایسی چیز نہیں اگاتی جس سے نفع حاصل کیا جاسکتا ہو۔ اخفش نے کہا : وہ صبح کی طرح ہوگیا جو رات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–21
55۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ” کالصریم “ سے مراد ہے سیاہ رات کی طرح۔ 56۔ الطستی نے اپنے مسائل میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نافع بن ارزق (رح) نے ان سے اللہ تعالیٰ کے اس قول ” کالصریم “ کے بارے میں پوچھا تو فرمایا ” کالصریم “ سے مراد ہے ختم ہوجانا پھر پوچھا کیا عرب کے لوگ اس معنی کو جانتے ہیں ؟ فرمایا ہاں کیا تو نے شاعر کا قول نہیں سنا۔ غدوت علیہ غدوۃ فوجدتہ قعودا لدیہ بالصریم عواذلہ ترجمہ : میں صبح سویرے اس کی طرف گیا تو میں نے اسے پایا حالانکہ وہ کٹے ہوئے کھیت کے پاس بیٹھا ہوا تھا اور اسے ملامت کرنے والے اس کے پاس تھے
Read the full tafseer →[فَتَنَادَوْا : تو انھوں نے ایک دوسرے کو پکارا ][ مُصْبِحِيْنَ؛صبح سویرے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–32
ایک باغ کے مالکوں کا عبرت ناک واقعہ رسول اللہ ﷺ کے ہجرت فرمانے کے بعد مکہ معظمہ کے مشرکوں پر اللہ تعالیٰ نے قحط بھیج دیا تھا۔ قحط کی وجہ سے بہت تکلیف اٹھائی، اس کے بارے میں فرمایا کہ ہم نے مکہ والوں کو آزمائش میں ڈالا جیسا کہ باغ والوں کو آزمائش میں ڈالا تھا، یہ باغ کہاں تھا باغ والے کون تھے اس کے بارے میں حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ یہ باغ یمن میں شہر صنعاء سے دو فرسخ کے فاصلہ پر تھا اسے نمازی لوگوں نے بویا تھا جو لوگ اس کے وارث چلے آ رہے تھے وہ بڑے سخی تھے جس دن باغ کے پھل کاٹتے تھے مساکین جمع ہوجاتے تھے اسی طرح کھیتی کاٹنے کے دن اور جس دن بھوسہ اور دانہ الگ کرتے تھے مساکین آجاتے تھے، یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–33
عبرتناک انجام غرور وتکبر بردولت دنیا و محرومی از سعادت وآخرت : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” انا بلونھم کما بلون آ اصحب الجنۃ ....... الی ...... لو کانوا یعلمون “۔ (ربط) گزشتہ آیات میں اہل مکہ کے ان مغرور ومتکبر انسانوں کا ذکر تھا جنہوں نے محض اپنے مال و دولت اور اولاد وخاندان کے نشہ میں رسول خدا ﷺ کی توہین کی انکار وکفر کے مرتکب ہوئے تو اب ان آیات میں ایک باغ والوں کا قصہ بیان کرکے بتایا جارہا ہے کہ انسان کو دنیا کے مال ومنال پر بھروسہ کرکے مغرور ومتکبر نہ ہونا چاہئے دنیا کی حقیقت بس اتنی ہی ہے اور غرور کا انجام ایسا ہی ہے جیسے کہ اس باغ کی تباہی اور باغ والوں کی بربادی سے ظاہر ہورہا ہے یہ باغ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–25
11:۔ ” فطاف علہا “۔ طائف سے جبریل (علیہ السلام) مراد ہیں جو عذاب الٰہی لے کر آئے تھے۔ یہ فیصلہ کر کے وہ سو گئے، رات کو اللہ نے اس پر ایسا عذاب نازل فرمایا کہ سارا باغ تباہ و برباد ہوگیا اور زمین اس طرح صاف ہوگئی جس طرح وہاں سے سب کچھ کاٹ لیا گیا ہو۔ ” فتنادوا مصبحین “ صبح ہونے کو ہوئی تو سب نے ایک دوسرے کو آوازز دی کہ پھل توڑنا ہے تو جلدی جلدی باغ میں پہنچو۔ چناچہ سب روانہ ہوئے اور آہستہ آہستہ ایک دوسرے سے کہتے جارہے تھے کہ آج کوئی مسکین ہمارے قریب نہ آنے پائے۔ ” وغدوا علی حرد قادرین “ حرد، روکنا اور نہ دینا۔ چناچہ جب وہ وہاں پہنچے تو وہ خوش تھے اور اپنے زعم میں سمجھ رہے تھے کہ وہ اپنے مقصد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–33
گذشتہ سے پیوستہ : گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے ان انعامات کا ذکر فرمایا ، جو پیغمبر ﷺ پر کئے اور توحید الہٰی ، رسالت اور معاد کے مکذبین کے متعلق ارشاد فریاما کہ ان کی کسی بات کو تسلیم نہ کریں کیونکہ ان بےہودہ لوگوں نے نبی جیسے عقل مند ، ذہین اور سب سے بلند اخلاق والی ہستی کو العیافہ باللہ مجنون کا خطاب دیا ۔ یہ مشرکین آپ ﷺ کو مداہنت پر آمادہ کرنا چاہتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کی دس الفاظ کے ساتھ مذمت بیان کی۔ پھر فرمایا کہ یہ اس لیے غرور وتکبر کرتے ہیں کہ ان کو اللہ تعالیٰ نے مالی و اولاد سے نوازا ہے۔ یہ انعامات تو شکر گزاری کا سبب بننا چاہئیں نہ کہ تکذیب و نافرمانی کا ان کے غرور کا…
Read the full tafseer →فَتَنَادَوْا مُصْبِحِيْنَ 21 ۙ ندا النِّدَاءُ : رفْعُ الصَّوت وظُهُورُهُ ، وقد يقال ذلک للصَّوْت المجرَّد، وإيّاه قَصَدَ بقوله : وَمَثَلُ الَّذِينَ كَفَرُوا كَمَثَلِ الَّذِي يَنْعِقُ بِما لا يَسْمَعُ إِلَّا دُعاءً وَنِداءً [ البقرة/ 171] أي : لا يعرف إلّا الصَّوْت المجرَّد دون المعنی الذي يقتضيه تركيبُ الکلام . ويقال للمرکَّب الذي يُفْهَم منه المعنی ذلك، قال تعالی: وَإِذْ نادی رَبُّكَ مُوسی[ الشعراء/ 10] وقوله : وَإِذا نادَيْتُمْ إِلَى الصَّلاةِ [ المائدة/ 58] ، أي : دَعَوْتُمْ ، وکذلك : إِذا نُودِيَ لِلصَّلاةِ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ [ الجمعة/ 9] ونِدَاءُ الصلاة مخصوصٌ في الشَّرع بالألفاظ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–33
ترکیب : اذ تعلیلیۃ اوظرفیۃ بنوع تسمح لان الانقسام کان قبل ابتلائہم لیصرمنہا جواب القسم مصبحین حال من الفاعل فی یصرمنہا ولا یستثنون جملۃ مستانفہ لبیان ماوقع منھم وقیل حال فتنادوا معطوف علی اقسموا بینما اعتراض لبیان مانزل بتلک الجنۃ ان اغدوا ان مفسرۃ لان فی التنادی معنی القول او مصدریۃ ای اخرجواغدوۃً ان کنتم الخ جواب الشرط محذوف فاغدوا وھم یتخافتون الجملۃ حال من فاعل فانطلقوا ان لایدخلنہا ان مفسرۃ للتخافت المذکور لمافیہ من معنی القول علی حرد یتعلق بقادرین وقادرین حال وقیل خبر غدوا لا نھا حملت علی اصبحوا۔ تفسیر : اہل مکہ خصوص ولید وغیرہ ثروت و حشمت پر نازاں ہو کر کہتے تھے کہ ہم پر خدا کی نظر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–22
فَـتَـنَادَوْا مُصْبِحِیْنَ ۔ اَنِ اغْدُوْا عَلٰی حَرْثِکُمْ اِنْ کُنْتُمْ صٰرِمِیْنَ ۔ (القلم : 21، 22) ( صبح ان لوگوں نے ایک دوسرے کو پکارا۔ وہ پھل توڑنے ہیں تو سویرے اپنے کھیت پر پہنچو۔ ) صبح اٹھتے ہی سب جانے والوں نے ہانک پکار مچائی کہ اگر پھل توڑنے کا تمہارا پختہ ارادہ ہے تو پھر تاخیر مت کرو، کیونکہ تاخیر کی صورت میں ہوسکتا ہے مساکین کو خبر ہوجائے اور وہ بھی وہاں پہنچ جائیں۔ یہاں باغ کی بجائے ” حرث “ کا لفظ لایا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ باغ کے اندر مختلف چیزوں کی کاشت کے لیے قطعات بھی رکھے گئے تھے۔ اس لیے اسے باغ بھی کہا جاسکتا تھا اور حرث اور کھیتی بھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–33
فہم القرآن ربط کلام : اہل مکہ کی آزمائش۔ نبی معظم ﷺ کی جدوجہد کے سامنے بےبس ہو کر اہل مکہ نے یہ مطالبہ کیا تھا کہ کچھ آپ نرم ہوجائیں اور کچھ ہم نرم ہوجاتے ہیں نبی ﷺ نے اسے مکمل طور پر مسترد کردیا۔ اس کے ردِّ عمل میں انہوں نے مزدور صحابہ کرام ؓ کی مزدوریاں روک لیں اور اپنے غریب رشتہ دار صحابہ کے ساتھ تعاون کرنے سے ہاتھ کھینچ لیا، ان کے سرداروں نے مہم چلائی کہ مسلمانوں کے ساتھ کسی قسم کا تعاون نہ کیا جائے۔ اس پر یہ آیات نازل ہوئیں جس میں انتباہ کرتے ہوئے فرمایا کہ ہم مکہ والوں کو اس طرح آزمائیں گے جس طرح ان سے پہلے باغ والوں کو آزما چکے ہیں۔ واقعہ یوں ہے کہ ایک شخص کا باغ تھا وہ اپنے باغ کی…
Read the full tafseer →21 : فَتَنَا دَوْا مُصْبِحِیْنَ (پس صبح کے وقت وہ ایک دوسرے کو پکارنے لگے )
Read the full tafseer →20 ۔” فاصبحت کالصریم “ تاریک سیاہ رات کی طرح اور حسن (رح) فرماتے ہیں یعنی اس سے خیر ختم کردی گئی تھی۔ پس اس میں کچھ نہ تھا اور اخفش (رح) فرماتے ہیں رات سے صبح صریم کی طر ح اور صریم کی اصل مصروم کٹی ہوئی ہے جیسے قتیل اور مقتول اور ہر چیز جو کاٹی گئی ہو وہ صریم ہے۔ پس رات صریم ہے اور صبح صریم ہے اس لئے کہ ان دونوں میں سے ہر ایک اپنے صاحب سے کٹی ہوئی جداء ہے۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں سیاہ راکھ کی طرح خزیمہ کی لغت کے مطابق۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–33
17۔ 33۔ اہل مکہ جب اپنے مال و متاع پر بہت اترائے اور اللہ کی نعمتوں کی ناشکری کی اور اللہ کے رسول سے طرح طرح کی سرکشی انہوں نے شروع کی تو آنحضرت ﷺ نے ان کے حق میں قحط کی بددعا کی جس کا ذکر حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ کی روایت سے صحیح بخاری 1 ؎ و مسلم میں ہے اللہ کے رسول کی بد دعا سے بڑا سخت قحط پڑا یہاں تک کہ اہل مکہ مردار چیزیں کھا کر زندگی بسر کرنے لگے۔ آخر آنحضرت ﷺ سے رفع قحط کی دعا کرنے کی التجا کی اور آپ ﷺ کی دعا سے وہ قحط رفع ہوا اس لئے اوپر کی آیتوں میں ولید بن مغیرہ کا خاص طور پر ذکر فرما کر سب قریش کو قحط کا قصہ یاد دلایا اور فرمایا کہ ان لوگوں کی نافرمانی کے سبب سے ان پر قحط کی آفت اسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–21
(فاصبحت کالصریم) پس وہ ہوگیا جیسے کٹی ہوئی کھیتی، ، یعنی اندھیری رات کی مانند، تمام درخت اور پھل ملیا میٹ ہوگئے مگر انہیں نازل ہونے والی اس مصیبت کے بارے میں کچھ علم نہیں تھا، اس لیے جب صبح ہوئی تو انہوں نے ایک دوسرے کو یہ کہتے ہوئے آواز دی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–52
قول باری ہے (عتل بعد ذلک زنیم، جفا کار اور ان سب عیوب کے ساتھ بداصل ہے) پہلے لفظ کے بارے میں ایک قول ہے کہ ہٹے کٹے اور بدخلق نیز سفاک انسان کو عتل کہا جاتا ہے۔ زنیم اس ولدالزنا کو کہا جاتا ہے جو دراصل ایک خاندان کا فرد نہ ہو مگر اس میں شامل ہوگیا ہو۔ ہمیں عبدالباقی بن قانع نے روایت بیان کی، انہیں حسین بن اسحاق التستری نے، انہیں الولیدبن عتبہ نے، انہیں الولید بن مسلم نے، انہیں ابو شیبہ ابراہیم بن عثمان نے عثمان بن عمیر البجلی سے، انہوں شہرین حوشب سے، انہوں نے حضرت شداد بن اوس سے کہ حضور ﷺ نے فرمایا (لا یدخل الجنۃ جو اظ ولا جعظری ولا عتل زنیم) میں نے دریافت کیا کہ جو اظ کسے کہتے ہیں۔ انہوں نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–21
16 باغ والوں کی روانگی اور باہمی راز داری کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ صبح کو وہ لوگ آپس میں چپکے چپکے باتیں کرتے ہوئے نکل پڑے۔ کہ تاکہ کوئی غریب مسکین سن گن کر ادھر نہ آنکلے (روح، صفوہ، ابن کثیر، معارف وغیرہ) اور اس طرح وہ دوسروں کی محرومی کے لئے تدبیر کر کے دراصل خود اپنی ہی محرومی کا سامان کر رہے تھے اور اپنے پاؤں پر خود اپنے ہاتھوں سے کلاڑا مار رہے تھے، مگر وہ اس سے بیخبر تھے، والعیاذ باللہ، اسی لئے دین حنیف یہ تعلیم دیتا ہے کہ دوسوں کے بھلے اور نفع رسانی کی فکر و کوشش کرو، تاکہ خود تمہارا بھلا ہو جیسا کہ فرمایا گیا خیر الناس انفعھم للناس یعنی سب سے اچھا انسان وہ ہے جو دوسروں کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–35
باغ والوں کے بخل کا واقعہ تشریح :۔ اس قصے سے سبق ملتا ہے کہ صرف دنیا میں کھو جانا اور اللہ کی طرف سے آنکھیں بند کرلینا سراسر غلط راستہ ہے رب العزت کا یہی طریقہ ہے کہ وہ بندوں کو ایسی ہی سزاؤں سے جھنجوڑتا ہے کہ انسان غفلت سے باز آجائے یہ دنیاوی نقصانات تو صرف آنکھیں کھولنے کے لیے کرائے جاتے ہیں نافرمان اور غفلت سے بیدار نہ ہونے والے لوگوں کو آخرت میں بڑا سخت عذاب دیا جائے گا۔ جب کہ فرمانبرداروں کے لیے آرام و آسائش کے بہترین باغات ہیں اور یہی فرق ہے نافرمانوں اور فرمانبرداروں میں کیونکہ اللہ بہترین انصاف کرنے والا ہے۔ اچھے اور برے لوگوں کا حساب ایک جیسا نہیں ہوسکتا۔ حدیث میں نصیحت کی گئی ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–33
آیات 1 تا 23۔ اسرار ومعارف۔ قسم ہے قلم کی اور جو کچھ قلم سے لکھاجاتا ہے یعنی آپ ﷺ نے امی ہونے کے باوجود علم کے وہ دریابہائے کہ خود قلم اور اس کی تحریر آپ کے کامل عقل مند اور بےمثال صاحب خرد ہونے پر دال ہے۔ مجنون۔ جب آپ ﷺ نے اعلان نبوت فرما کر ساری انسانیت کو دعوت حق دے دی اور تمام انسانوں کے لیے ایک عقیدہ اور ایک نظام حیات تو مشرکین نے اسے معاذ اللہ پاگل پن قرار دیا کہ دنیا کی عظیم الشان حکومتیں ساری دنیا پہ ایک نظام رائج نہ کرسکیں۔ پھر آپ ﷺ امی ہیں ، اکیلے ہیں یا چند مسلمان جن کی بظاہر کوئی حیثیت نہیں پھر اقوام عالم کے مزاج الگ ، فکر الگ ، رنگ ونسل اپنی اپنی ، غذا الگ زبانیں الگ موسم اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–25
ف 14 علی حررر “ کے مفسرین نے کئی مطلب بیان کئے ہیں بعض کہتے ہیں کہ ” وہ تیزی اور زور سے چلے “ یا ” وہ غصہ سے چلے “ یا ” وہ اپنے آپ کو نجیلی پر قادر سمجھتے ہوئے چلے “ یا ” حرد “ ان کے باغ کا نام تھا، یعنی وہ اپنے آپ کو اس باغ پر قادر سمجھتے ہوئے چلے۔ “ بہرحال وہ یہ سمجھتے ہوئے صبح سویرے چل دیئے کہ جاتے ہی سارا میوہ اپنے قبضہ میں کرلیں گے اور غریبوں مسکینوں کے لئے کچھ نہ چھوڑیں گے۔
Read the full tafseer →(68:21) فتنادوا :عطف کا ۔ پھر۔ تنادوا ماضی جمع مذکر غائب تنادی (تفاعل) مصدر سے۔ انہوں نے ایک دوسرے کو آواز دی۔ (نداء کی) انہوں نے ایک دوسرے کو پکارا۔ جملہ معطوف ہے جس کا عطف اقسموا پر ہے۔ دونوں جملوں کے درمیان کلام معترضہ ہے ، جو اس باغ پر جو گزری اس کا بیان ہے۔ مصبحین : اصباح (افعال) مصدر سے اسم فاعل کا صیغہ جمع مذکر۔ صبح کرنے والے یعنی انہوں نے صبح کے وقت ایک دوسرے کو پکارا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–33
لغات القرآن۔ یسطرون۔ وہ لکھتے ہیں۔ ممنون۔ منقطع ہونے والا۔ ختم ہونے والا۔ تبصر۔ تو دیکھے گا۔ المفتون۔ دیوانہ۔ ودوا۔ وہ پسند کرتے ہیں۔ تدھن۔ تو خوشامد کرے۔ تو نمر پرے۔ حلاف۔ بہت قسمیں کھانے والا۔ مھین۔ ذلیل کمینہ۔ ھماز۔ طعنے دینے والا۔ مشائ۔ پھرنے والے۔ نیمیم۔ چغل خور۔ باتیں لگانے والے۔ مناع۔ روکنے والا۔ معتد۔ حد سے بڑھنے والا۔ اثیم۔ گناہ گار۔ عتل۔ اکھڑ۔ اجد۔ زنیم۔ بدنام۔ نسیم۔ ہم داغ دیں گے۔ الخرطوم۔ ناک۔ دم۔ سونڈ۔ تشریح : سورة القلم کا آغاز ” ن “ سے کیا گیا ہے جو حروف مقطعات میں سے ایک حروف ہے۔ اس کے کیا معنی ہیں ؟ اس کی تفصیل اس سے پہلی ابتدائی سورتوں میں آچکی ہے کہ ان حروف کے معنی اور مراد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–33
(ف 4) اہل مکہ جب اپنے مال ومتاع پر بہت اترائے اور اللہ کی نعمتوں کی ناشکری کی، اور نبی ﷺ سے طرح طرح کی سرش کی انہوں نے شروع کی تو نبی ﷺ نے ان کے حق میں دعا فرمائی کہ یارب ، انہیں ایسی قحط سالی میں مبتلا کر جیسی حضرت یوسف کے زمانہ میں ہوئی تھی چناچہ اہل مکہ قحط کی مصیبت میں ایسے مبتلا ہوگئے کہ وہ بھوک کی شدت میں مردار اور ہڈیاں تک کھاگئے اور اس طرح آزمائش میں ڈالے گئے ، آخرنبی ﷺ سے رفع قحط کی دعا کرنے کی التجا کی اورآ پکی دعا سے قحط رفع ہوا۔ اس لیے اوپر کی ایتوں میں ولید بن مغیرہ کا خاص طور پر ذکر فرما کر سب کو قحط کا قصہ یاد دلا اور فرمایا کہ ان لوگوں کی نافرمانی کے سبب سے ان پر قحط کی آفت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–21
[6] اصل میں لفظ '' خرطوم '' استعمال ہوا ہے۔ جس کے معنی ہاتھی کی سونڈ کے ہیں۔ کیونکہ وہ اپنے آپ کو بڑی ناک والا سمجھتا تھا اس لئے اس کی ناک کو حقارت سے سونڈ کہا گیا ہے۔ [7] داغنے سے مراد اس کی رسوائی اور روسیاہی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–31
ف 1: ان آیات میں اس حقیقت کو واضح فرمایا ہے ۔ کہ جو لوگ اللہ کے مال و دولت کی بنا پر احکام الٰہی کا انکار کردیتے ہیں ۔ ا ہیں یقین رکھنا چاہیے ۔ کہ یہ فراوانی اور آسودگی ہمیشہ نہیں رہے گی ۔ فرمایا کہ مکہ والوں کہ ہم نے عیش وتکلفات سے بہرہ مند کرکے اسی طرح آزمایا ہے ۔ جس طرح کہ بنی اسرائیل کے ایک گروہ کو ہم نے مال و دولت سے نوازا ۔ ان کو ایک نہایت عمدہ باغ مرحمت فرمایا ۔ مگر انہوں نے ازراہ بخل یہ طے کرلیا ۔ کہ ہم اس کا پھل صرف آپس میں بانٹ لیں گے ۔ اس میں کسی غریب کا حصہ نہیں ہوگا ۔ پھر جو کچھ باغ کی آمدنی سے ملے گا ۔ اس کو صرف اپنی ان آسانی کے لئے استعمال کریں گے ۔ اور مستحقین کو کچھ نہیں…
Read the full tafseer →(21) غرض صبح کرتے باغ والے ایک دوسرے کو پکارنے لگے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–31
ف 4۔ یعنی ان اہل مکہ کو سامان عیش دے رکھا ہے تاکہ دیکھیں کہ نعمتوں کے شکر میں ایمان لاتے ہیں یا ناشکری و بےقدری کر کے کفر کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →پھر وہ صبح ہوتے ہی ایک دوسرے کو پکارنے لگے ، باغ میں جانے کے لئے 21 ؎ (مصبحین) اسم فاعل جمع مذکر منصوب۔ صبح کرنے والے ، صبح کرتے کرتے ، صبح کے وقت میں داخل ہوتے ہوئے۔ گویا جس وقت کو ہم سحری کا وقت یا علی الصبح کے نام سے موسوم کرتے ہیں وہی وقت تھا کہ انہوں نے ایک دوسرے کو اٹھانا اور جگانا شروع کیا تاکہ وہ منہ اندھیرے وہاں پہنچ جائیں۔ کھاتیں اور باغ کاٹنے والے اکثر دن چڑھے اور دھوپ تیز ہونے کے وقت کام شروع کرتے ہیں اور اس وقت کا موسم ان کو بہت اچھا اور بہتر محسوس ہوتا ہے کہ ایک تو سب لوگ جمع ہوجاتے ہیں اور دوسرا دھوپ کی چمک سے شبنم وغیرہ سے جو فصل میں نمی پیدا ہوجاتی ہے وہ ختم ہوجاتی ہے۔ جب کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–24
فَتَنَادَوْا مُصْبِحِينَ (So, they called out each other as the morning broke 68:21). This means that they starting waking up each other in the early morning that they should set out early if they wanted to harvest. وَهُمْ يَتَخَافَتُونَ (...while they were whispering to each other ... 68:23). They were speaking in a low voice, lest a poor man should hear their talk and accompany them.
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–21
13 That is, "They were so sure and confident of their power and authority that they swore they would surely pluck the fruit of their garden next morning, without feeling any need to say, "We shall do so if Allah so willed."
Read the full tafseer →