Al-Qalam 68:22

Al-Qalam · from ayah 22

68:22

اَنِ اغْدُوْا عَلٰی حَرْثِكُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰرِمِیْنَ ۟اَنِ اغۡدُوۡا عَلٰى حَرۡثِكُمۡ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰرِمِيۡنَ

اگر تم کو کاٹنا ہے تو اپنی کھیتی پر سویرے ہی جا پہنچو

— Fateh Muhammad Jalandhari

[Saying], "Go early to your crop if you would cut the fruit."

— Saheeh International

Juz 29 · Ruku 1 of surah · Ruku 3 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Qalam

All translations of 68:22

کہ اگر پھل توڑنے ہیں تو سویرے سویرے اپنی کھیتی کی طرف نکل چلو

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اگر تم کو کاٹنا ہے تو اپنی کھیتی پر سویرے ہی جا پہنچو

— مولانا فتح محمد جالندہری

کہ اگر تمہیں پھل اتارنے ہیں تو اپنی کھیتی پر سویرے ہی سویرے چل پڑو

— مولانا محمد جوناگڑہی

کہ اگر پھل توڑنے ہیں تو اپنے کھیت کی طرف سویرے چل نکلو۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

کہ تڑکے اپنی کھیتی چلو اگر تمہیں کاٹنی ہے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

کہ اپنی کھیتی پر سویرے سویرے چلے چلو اگر تم پھل توڑنا چاہتے ہو،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

کہ صبح صبح اپنے کھیت پر جا پہنچو، اگر تم پھل توڑنے والے ہو۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

کہ اگر تمہیں پھل توڑنا ہے تو سویرے سویرے اپنی کھیتی کی طرف نکل چلو

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

کہ پھل توڑتے ہیں تو سویرے اپنے کھیت پر پہنچو۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

کہ (اٹھو) چلو اپنی کھیتی کی طرف اگر واقعی تم نے (حسب قرارداد) پھل توڑنا ہے

— مولانا اسحاق مدنی

کہ اپنے کھیت پر سویرے چلو اگر تمہیں پھل توڑنا ہے

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

کہ صبح سویرے چلو اپنے کھیت کی طرف اگر تم پھل توڑنا چاہتے ہو۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اگر تم کو کاٹنا ہے تو اپنی کھیتی پر سویرے ہی جا پہنچو۔

— محترمہ رفعت اعجاز

“Hurry to your orchard if you would gather its fruit.”

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

saying, :Set out early, if you are going to pluck (the fruits) .

— Muhammad Taqi Usmani

saying, :Set out early, if you are going to pluck (the fruits) .

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Saying: "Go to your tilth in the morning, if you would pluck (the fruits)."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Saying: Run unto your field if ye would pluck (the fruit).

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

[Saying], "Go early to your crop if you would cut the fruit."

— Saheeh International

"Go early to your farms, if you want to pluck the fruits".

— Muhammad Sarwar

Saying: Go early to your tilth if you would cut (the produce).

— Muhammad Habib Shakir

Saying: go out betimes to your tilth if ye would reap.

— Abdul Majid Daryabadi

"Go ye to your tilth (betimes) in the morning, if ye would gather the fruits."

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 68:22

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 17–33

سیاہ رات اور کٹی ہوئی کھیتی یہاں ان کافروں کی جو حضور ﷺ کی نبوت کو جھٹلا رہے تھے مثال بیان ہو رہی ہے کہ جس طرح یہ باغ والے تھے کہ اللہ کی نعمت کی ناشکری کی اور اللہ کے عذابوں میں اپنے آپ کو ڈل دیا، یہی حالت ان کافروں کی ہے کہ اللہ کی نعمت یعنی حضور ﷺ کی پیغمبر کی ناشکری یعنی انکار نے انہیں بھی اللہ کی ناراضگی کا مستحق کردیا ہے، تو فرماتا ہے کہ ہم نے انہیں بھی آزما لیا جس طرح ہم نے باغ والوں کو آزمایا تھا جس باغ میں طرح طرح کے پھل میوے وغیرہ تھے، ان لوگوں نے آپس میں قسمیں کھائیں کہ صبح سے پہلے ہی پہلے رات کے وقت پھل اتار لیں گے تاکہ فقیروں مسکینوں اور سائلوں کو پتہ نہ چلے جو وہ آ کھڑے ہوں اور…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 22–24

سورة الْقَلَم 14 کھیتی کا لفظ غالباً اس لیے استعمال کیا گیا ہے کہ باغ میں درختوں کے درمیان کھیت بھی تھے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 21–24

(آیت) فَتَنَادَوْا مُصْبِحِيْنَ یعنی صبح اندھیرے سے آپس میں ایک دوسرے کو آواز دے کر جگانے لگے کہ اگر کھیتی کاٹنا ہے تو سویرے چلو وَهُمْ يَتَخَافَتُوْنَ ، یعنی گھر سے نکلنے کے وقت آپس میں آہستہ بات کرتے تھے کہ کسی فقیر مسکین کو خبر نہ ہوجائے جو ساتھ لگے۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 21–22

یہ لوگ ساری اسکیم بنا کے رات میں سوئے اور صبح اٹھتے ہی تمام شرکاء نے ہانک پکار مچائی کہ پھل توڑنے اور فصل اٹھانی ہے تو سویرے سویرے اپنے کھیتوں پر پہنچو۔ ’حَرْثٌ‘ اگرچہ کھیتی کے معنی میں آتا ہے لیکن اس سے مراد وہ باغ ہی ہے جس کا ذکر اوپر سے آ رہا ہے۔ اس کی وجہ، جیسا کہ ہم اس کے محل میں واضح کر چکے ہیں، یہ ہے کہ عرب میں باغوں ہی کے اندر مختلف چیزوں کی کاشت کے لیے قطعات بھی ہوتے تھے اس وجہ سے ان کو باغ (جنت) بھی کہہ سکتے تھے اور کھیتی (حرث) بھی۔ ’اِنْ کُنْتُمْ صَارِمِیْنَ‘ کے الفاظ شرکاء کو للکارنے اور آمادہ کرنے کے لیے ہیں۔ یعنی یہ کام کرنا ہے تو وقت ضائع نہ کرو۔ فوراً چلو ورنہ نقصان اٹھاؤ گے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 20–22

20۔ 1 یعنی جس طرح کھیتی کٹنے کے بعد خشک ہوجاتی ہے، اس طرح سارا باغ اجڑ گیا، بعض نے ترجمہ یہ کیا ہے، سیاہ رات کی طرح ہوگیا، یعنی جل کر۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 18–24

8: اس کا ایک مطلب تو یہ ہوسکتا ہے کہ انہوں نے یہ ارادہ کیا تھا کہ سارے کا سارا پھل ہم توڑ لیں گے، اور اس کے کسی حصے کا استثناء نہیں کریں گے، یعنی کوئی حصہ غریبوں کے لیے نہیں چھوڑیں گے۔ دوسرے استثناء کرنے کا ایک مطلب ”ان شاء اللہ“ کہنا بھی ہوتا ہے۔ اس صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ جب وہ یہ کہہ رہے تھے کہ ہم صبح ہوتے ہی پھل توڑ لیں گے تو اس وقت انہوں نے ”ان شاء اللہ“ نہیں کہا تھا

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 21–22

فتنادوا ................ صرمین (86 : 22) (86 : 12۔ 22) ” صبح سویرے انہوں نے ایک دوسرے کو پکارا کہ اگر پھل توڑنے ہیں تو سویرے سویرے اپنی کھیتی کی طرف نکل چلو “۔ صبح وہ ایک دوسرے کو اٹھاتے جگاتے ہیں اور رات کے فیصلے کو یاد دلاتے ہیں اور چپکے چپکے یہ عمل ہورہا ہے۔ اس کے بعد سیاق کلام میں ان کے ساتھ ایک مذاق بھی ہوتا ہے۔ ان کے اٹھنے اٹھانے ، چلنے اور باہم گفتگو کی تصویر خوب کھینچی جاتی ہے۔ یہ نہایت دھیمی آواز سے بات کرتے ہیں تاکہ ان کی تدبیر پوری طرح کامیاب ہو ، تاکہ پورا پھل توڑلیں اور مساکین کو پوری طرح محروم کردیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 21–25

5 یعنی یہ یقین کرتے ہوئے کہ اب جا کر سب پیداوار اپنے قبضہ میں کرلیں گے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 22–23

آیت 22{ اَنِ اغْدُوْا عَلٰی حَرْثِکُمْ اِنْ کُنْتُمْ صٰرِمِیْنَ۔ } ”کہ صبح سویرے چلو اپنے کھیت کی طرف اگر تم پھل توڑنا چاہتے ہو۔“ وہ صبح سویرے اپنے طے شدہ پروگرام کے مطابق پھل توڑنے کی تیاریاں کر رہے تھے ‘ جبکہ ان کا باغ رات کو جل کر تباہ ہوچکا تھا۔ اسی طرح انسان اپنی دھن میں مگن طرح طرح کے منصوبے بناتا رہتا ہے مگر اللہ تعالیٰ کے ایک فیصلے کے سامنے اس کے سارے منصوبے دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں۔ کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ انسان کو کوئی جان لیوا مرض لاحق ہوچکا ہوتا ہے ‘ مگر وہ اس سے بیخبر اپنی لمبی لمبی امیدوں کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے رات دن ایک کیے رہتا ہے۔ پھر جب مرض کی تشخیص ہوتی ہے تب بہت…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 18–32

15 باغ والوں کا قصہ :۔ یہ واقعہ آیت نمبر 17 سے آیت نمبر 33 تک پھیلا ہوا ہے۔ جسے ہم تسلسل کے ساتھ اپنے الفاظ میں بیان کریں گے کسی شخص کا ایک باغ تھا جو بھرپور فصل دیتا تھا۔ اس شخص کا زندگی بھر یہ دستور رہا کہ جب بھی پھل کی فصل اٹھاتا تو اس کے تین حصے کرتا۔ ایک حصہ تو خود اپنے گھر کی ضروریات کے لیے رکھ لیتا۔ دوسرا حصہ اپنے قریبی رشتہ داروں اور ہمسایوں میں تقسیم کردیتا اور تیسرا حصہ فقراء و مساکین میں بانٹ دیتا۔ اس کی اس سخاوت کی وجہ سے اس کا باغ سب سے زیادہ فصل دیتا۔ کٹائی کے دن فقراء و مساکین موقع پر پہنچ جاتے اور اپنا اپنا حصہ وصول کرلیتے۔ جب یہ شخص انتقال کر گیا تو اس کے بیٹوں کو خیال آیا کہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 18–25

11۔ یہ کن باغ والوں کا ذکر ہے ؟ بعض نے کہا ہے کہ کوئی باغ حبشہ میں تھا۔ قیل کانوا میں اھل الحبشۃ (ابن کثیر) عن عکرمۃ قال ھم ناس من الحبشۃ (ابن جریر) ایک قول یہ بھی ہے کہ یہ باغ یمن میں تھا۔ عن ابن عباس قال کان بستان بالیمن (معالم) قال سعید بن جبیرکانوا من قریۃ یقال لھا فروان علی ستۃ امیال من صنعاء (ابن کثیر) بہرحال جہاں کہیں بھی ہو ایسا باغ تھا جس کی تلمیح سے اہل عرب خوب واقف تھے۔ اور قصہ کا ماحصل یہ ہے کہ جو اہل غفلت اپنی تدبیروں پر نازاں اور اہل حقوق کی حق تلفی میں لگے رہتے ہیں، وہ آخر خود ہی خسارہ میں رہتے ہیں۔ (آیت) ” ولایستثنون “۔ یعنی انہیں اس درجہ وثوق اپنے صبح کے پروگرام پر تھا کہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 19–25

فطاف علیھا طائف من ربک ادھر تو یہ لوگ یہ مشورہ کر رہے تھے اور ادھر آسمانی بلا نے باغ کو جلا کر خاک سیاہ کردیا، جب صبح تڑکے پھل توڑنے کے لئے جانے لگے تو ایک دوسرے کو آہستہ آہستہ پکارنے لگے، تاکہ فقیر و مسکین لوگ سن نہ لیں اور وہ اس بات پر خوش تھے کہ آج باغ میں آ کر ہم سے کوئی کچھ نہ مانگے گا، اور وہ اپنے آپ کو اپنے اس منصوبہ میں کامیاب سمجھ رہے تھے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ان اغدوا علی حرثکم . یہ تنادوا کی تفسیر ہے یعنی ایک نے دوسرے سے پکار کر کہا کہ تڑکے ہی تڑکے اپنی کھیتی پر چلو۔ عربی میں اغدوا کے بعد الی (طرف) ہونا چاہیے لیکن یہاں علیٰ (پر) لایا گیا یا تو اس وجہ سے کہ اس جگہغدو توجہ کے معنی کو متضمن ہے یا غدو بمعنی استیلاء (کسی پر غلبہ پانا ‘ قادر ہونا) ہے (مطلب یہ ہے کہ اغدوا کے معنی یہاں صرف صبح کو نکل چلنے کے نہیں ہیں بلکہ یا کھیتی پر پہنچنے کے ارادہ سے نکلنے کے ہیں یا کھیتی پر تصرف کرنے کے لیے نکلنے کے ہیں) یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اغدوا (صیغہ امر غداء سے) فعل ناقص ہو اور علٰی حرثکم اس کی خبر ہو (یعنی صبح کو اپنی کھیتی پر پہنچ جاؤ) ۔ ان کنتم صادمین . اگر تم…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 21–22

(21۔ 22) چناچہ صبح صادق کے وقت جب وہ اٹھے تو ایک دوسرے کو پکارنے لگے کہ اپنے کھیت پر سویرے چلو اگر تمہیں مساکین کو خبر ہونے سے پہلے پھل توڑنا ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 21–24

فَتَنَادَوْا مُصْبِحِیْنَ۔۔۔۔۔:”علی حرثکم“ اپنے کھیت پر۔ معلوم ہوا کہ با غ کے ساتھ کھیتی بھی تھی۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 20–22

فاصبحت کالصریم۔ وہ ہوگیا تاریک رات کی طرح (2) حضرت ابن عباس فراء اور دوسرے علماء نے کہا : یعنی وہ باغ جل گیا اور سیاہ رات کی طرح ہوگیا۔ حضرت ابن عباس سے مروی ہے : سیاہ رات کی طرح ہوگیا (3) کہا، حزیمہ کی لغت میں وہ سیاہ راکھ کی طرح ہوگیا۔ ثوری نے کہا، کٹی ہوئی کھیتی کی طرح ہوگیا۔ صریم، مصروم کے معنی میں ہے اس میں جو کچھ تھا اس کو کاٹ دیا گیا۔ حضرت حسن بصری نے کہا : بھلائی اس سے ختم کردی گئی۔ صریم، اسم مفعول کا وزن ہے۔ مورج نے کہا، ایسی ریت جو زیادہ ریت سے الگ ہوگئی۔ یہ کہا اجتا ہے، صریمۃ صرائم ریت کوئی ایسی چیز نہیں اگاتی جس سے نفع حاصل کیا جاسکتا ہو۔ اخفش نے کہا : وہ صبح کی طرح ہوگیا جو رات…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

57۔ عبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ان اغدوا علی حرثکم۔ صبح سویرے اپنی کھیتی پر چلو اور وہ انگور تھے یعنی ان کا باغ انگوروں کا تھا۔

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[اَنِ اغْدُوْا : کہ تم لوگ سویرے پہنچو ][ عَلٰي حَرْثِكُمْ : اپنی کھیتی پر ][ اِنْ كُنْتم صٰرِمِيْنَ : اگر تم لوگ ہو کاٹنے والے ] [صَارِمٌ اسما الفاعل ہے۔ کاٹنے والا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 22 ۔]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 17–32

ایک باغ کے مالکوں کا عبرت ناک واقعہ رسول اللہ ﷺ کے ہجرت فرمانے کے بعد مکہ معظمہ کے مشرکوں پر اللہ تعالیٰ نے قحط بھیج دیا تھا۔ قحط کی وجہ سے بہت تکلیف اٹھائی، اس کے بارے میں فرمایا کہ ہم نے مکہ والوں کو آزمائش میں ڈالا جیسا کہ باغ والوں کو آزمائش میں ڈالا تھا، یہ باغ کہاں تھا باغ والے کون تھے اس کے بارے میں حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ یہ باغ یمن میں شہر صنعاء سے دو فرسخ کے فاصلہ پر تھا اسے نمازی لوگوں نے بویا تھا جو لوگ اس کے وارث چلے آ رہے تھے وہ بڑے سخی تھے جس دن باغ کے پھل کاٹتے تھے مساکین جمع ہوجاتے تھے اسی طرح کھیتی کاٹنے کے دن اور جس دن بھوسہ اور دانہ الگ کرتے تھے مساکین آجاتے تھے، یہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 17–33

عبرتناک انجام غرور وتکبر بردولت دنیا و محرومی از سعادت وآخرت : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” انا بلونھم کما بلون آ اصحب الجنۃ ....... الی ...... لو کانوا یعلمون “۔ (ربط) گزشتہ آیات میں اہل مکہ کے ان مغرور ومتکبر انسانوں کا ذکر تھا جنہوں نے محض اپنے مال و دولت اور اولاد وخاندان کے نشہ میں رسول خدا ﷺ کی توہین کی انکار وکفر کے مرتکب ہوئے تو اب ان آیات میں ایک باغ والوں کا قصہ بیان کرکے بتایا جارہا ہے کہ انسان کو دنیا کے مال ومنال پر بھروسہ کرکے مغرور ومتکبر نہ ہونا چاہئے دنیا کی حقیقت بس اتنی ہی ہے اور غرور کا انجام ایسا ہی ہے جیسے کہ اس باغ کی تباہی اور باغ والوں کی بربادی سے ظاہر ہورہا ہے یہ باغ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 19–25

11:۔ ” فطاف علہا “۔ طائف سے جبریل (علیہ السلام) مراد ہیں جو عذاب الٰہی لے کر آئے تھے۔ یہ فیصلہ کر کے وہ سو گئے، رات کو اللہ نے اس پر ایسا عذاب نازل فرمایا کہ سارا باغ تباہ و برباد ہوگیا اور زمین اس طرح صاف ہوگئی جس طرح وہاں سے سب کچھ کاٹ لیا گیا ہو۔ ” فتنادوا مصبحین “ صبح ہونے کو ہوئی تو سب نے ایک دوسرے کو آوازز دی کہ پھل توڑنا ہے تو جلدی جلدی باغ میں پہنچو۔ چناچہ سب روانہ ہوئے اور آہستہ آہستہ ایک دوسرے سے کہتے جارہے تھے کہ آج کوئی مسکین ہمارے قریب نہ آنے پائے۔ ” وغدوا علی حرد قادرین “ حرد، روکنا اور نہ دینا۔ چناچہ جب وہ وہاں پہنچے تو وہ خوش تھے اور اپنے زعم میں سمجھ رہے تھے کہ وہ اپنے مقصد…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 17–33

گذشتہ سے پیوستہ : گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے ان انعامات کا ذکر فرمایا ، جو پیغمبر ﷺ پر کئے اور توحید الہٰی ، رسالت اور معاد کے مکذبین کے متعلق ارشاد فریاما کہ ان کی کسی بات کو تسلیم نہ کریں کیونکہ ان بےہودہ لوگوں نے نبی جیسے عقل مند ، ذہین اور سب سے بلند اخلاق والی ہستی کو العیافہ باللہ مجنون کا خطاب دیا ۔ یہ مشرکین آپ ﷺ کو مداہنت پر آمادہ کرنا چاہتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کی دس الفاظ کے ساتھ مذمت بیان کی۔ پھر فرمایا کہ یہ اس لیے غرور وتکبر کرتے ہیں کہ ان کو اللہ تعالیٰ نے مالی و اولاد سے نوازا ہے۔ یہ انعامات تو شکر گزاری کا سبب بننا چاہئیں نہ کہ تکذیب و نافرمانی کا ان کے غرور کا…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اَنِ اغْدُوْا عَلٰي حَرْثِكُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰرِمِيْنَ۝ 22 غدا الْغُدْوَةُ والغَدَاةُ من أول النهار، وقوبل في القرآن الغُدُوُّ بالآصال، نحو قوله : بِالْغُدُوِّ وَالْآصالِ [ الأعراف/ 205] ، وقوبل الغَدَاةُ بالعشيّ ، قال : بِالْغَداةِ وَالْعَشِيِ [ الأنعام/ 52] ، غُدُوُّها شَهْرٌ وَرَواحُها شَهْرٌ [ سبأ/ 12] ( غ د و ) الغدوۃ والغداۃ کے معنی دن کا ابتدائی حصہ کے ہیں قرآن میں غدو ( غدوۃ کی جمع ) کے مقابلہ میں اصال استعمال ہوا ہے چناچہ فرمایا : ۔ بِالْغُدُوِّ وَالْآصالِ [ الأعراف/ 205] صبح وشام ( یا د کرتے رہو ) ( غدو ( مصدر ) رواح کے مقابلہ میں ) جیسے فرمایا : ۔ غُدُوُّها شَهْرٌ وَرَواحُها…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 17–33

ترکیب : اذ تعلیلیۃ اوظرفیۃ بنوع تسمح لان الانقسام کان قبل ابتلائہم لیصرمنہا جواب القسم مصبحین حال من الفاعل فی یصرمنہا ولا یستثنون جملۃ مستانفہ لبیان ماوقع منھم وقیل حال فتنادوا معطوف علی اقسموا بینما اعتراض لبیان مانزل بتلک الجنۃ ان اغدوا ان مفسرۃ لان فی التنادی معنی القول او مصدریۃ ای اخرجواغدوۃً ان کنتم الخ جواب الشرط محذوف فاغدوا وھم یتخافتون الجملۃ حال من فاعل فانطلقوا ان لایدخلنہا ان مفسرۃ للتخافت المذکور لمافیہ من معنی القول علی حرد یتعلق بقادرین وقادرین حال وقیل خبر غدوا لا نھا حملت علی اصبحوا۔ تفسیر : اہل مکہ خصوص ولید وغیرہ ثروت و حشمت پر نازاں ہو کر کہتے تھے کہ ہم پر خدا کی نظر…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 21–22

فَـتَـنَادَوْا مُصْبِحِیْنَ ۔ اَنِ اغْدُوْا عَلٰی حَرْثِکُمْ اِنْ کُنْتُمْ صٰرِمِیْنَ ۔ (القلم : 21، 22) ( صبح ان لوگوں نے ایک دوسرے کو پکارا۔ وہ پھل توڑنے ہیں تو سویرے اپنے کھیت پر پہنچو۔ ) صبح اٹھتے ہی سب جانے والوں نے ہانک پکار مچائی کہ اگر پھل توڑنے کا تمہارا پختہ ارادہ ہے تو پھر تاخیر مت کرو، کیونکہ تاخیر کی صورت میں ہوسکتا ہے مساکین کو خبر ہوجائے اور وہ بھی وہاں پہنچ جائیں۔ یہاں باغ کی بجائے ” حرث “ کا لفظ لایا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ باغ کے اندر مختلف چیزوں کی کاشت کے لیے قطعات بھی رکھے گئے تھے۔ اس لیے اسے باغ بھی کہا جاسکتا تھا اور حرث اور کھیتی بھی۔

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 17–33

فہم القرآن ربط کلام : اہل مکہ کی آزمائش۔ نبی معظم ﷺ کی جدوجہد کے سامنے بےبس ہو کر اہل مکہ نے یہ مطالبہ کیا تھا کہ کچھ آپ نرم ہوجائیں اور کچھ ہم نرم ہوجاتے ہیں نبی ﷺ نے اسے مکمل طور پر مسترد کردیا۔ اس کے ردِّ عمل میں انہوں نے مزدور صحابہ کرام ؓ کی مزدوریاں روک لیں اور اپنے غریب رشتہ دار صحابہ کے ساتھ تعاون کرنے سے ہاتھ کھینچ لیا، ان کے سرداروں نے مہم چلائی کہ مسلمانوں کے ساتھ کسی قسم کا تعاون نہ کیا جائے۔ اس پر یہ آیات نازل ہوئیں جس میں انتباہ کرتے ہوئے فرمایا کہ ہم مکہ والوں کو اس طرح آزمائیں گے جس طرح ان سے پہلے باغ والوں کو آزما چکے ہیں۔ واقعہ یوں ہے کہ ایک شخص کا باغ تھا وہ اپنے باغ کی…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

22 : اَنِ اغْدُوْا عَلٰی حَرْثِکُمْ (کہ اپنے کھیت پر سویرے چلو) علی حرثکمؔ کہا الی حرثکم نہیں کہا گیا۔ کیونکہ غداؔ جس میں انہوں نے کھیت کا ٹنا تھا وہ غداعلیہؔ استعمال ہوتا ہے۔ نمبر 2۔ غدا کے لفظ میں اقبال کا معنی ضمنًا پایا جاتا ہے گویا اس طرح ہے فاقبلوا علی حرثکم باکرینتم صبح سویرے اپنی کھیتی کی طرف متوجہ ہو۔ اِنْ کُنْتُمْ صَارِمِیْنَ (اگر تم کو پھل توڑنا ہے) توڑنے کا ارادہ رکھتے ہو۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 17–33

17۔ 33۔ اہل مکہ جب اپنے مال و متاع پر بہت اترائے اور اللہ کی نعمتوں کی ناشکری کی اور اللہ کے رسول سے طرح طرح کی سرکشی انہوں نے شروع کی تو آنحضرت ﷺ نے ان کے حق میں قحط کی بددعا کی جس کا ذکر حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ کی روایت سے صحیح بخاری 1 ؎ و مسلم میں ہے اللہ کے رسول کی بد دعا سے بڑا سخت قحط پڑا یہاں تک کہ اہل مکہ مردار چیزیں کھا کر زندگی بسر کرنے لگے۔ آخر آنحضرت ﷺ سے رفع قحط کی دعا کرنے کی التجا کی اور آپ ﷺ کی دعا سے وہ قحط رفع ہوا اس لئے اوپر کی آیتوں میں ولید بن مغیرہ کا خاص طور پر ذکر فرما کر سب قریش کو قحط کا قصہ یاد دلایا اور فرمایا کہ ان لوگوں کی نافرمانی کے سبب سے ان پر قحط کی آفت اسی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 22–24

(اگر تم کو کاٹنا ہے تو اپنی کھیتی پر سویرے ہی جا پہنچو، پس وہ چل پڑے، باغ کا قصد کر کے (وھم یتخافتوں) اور ان کی حالت یہ تھی کہ وہ آپس میں چپکے چپکے اللہ تعالیٰ کے حق سے ایک دوسرے کو روکتے جارہے تھے اور کہہ رہے تھے (لایدخلنھا الیوم علیکم مسکین) آج تمہارے پاس کوئی فقیر نہ آنے پائے، یعنی لوگوں کے پھیلنے سے پہلے، صبح صبح گھروں سے نکل پڑو اور اس کے ساتھ ساتھ وہ فقراء اور مساکین کو محروم کرنے کے لیے باہم تلقین کرتے جارہے تھے۔

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 13–52

قول باری ہے (عتل بعد ذلک زنیم، جفا کار اور ان سب عیوب کے ساتھ بداصل ہے) پہلے لفظ کے بارے میں ایک قول ہے کہ ہٹے کٹے اور بدخلق نیز سفاک انسان کو عتل کہا جاتا ہے۔ زنیم اس ولدالزنا کو کہا جاتا ہے جو دراصل ایک خاندان کا فرد نہ ہو مگر اس میں شامل ہوگیا ہو۔ ہمیں عبدالباقی بن قانع نے روایت بیان کی، انہیں حسین بن اسحاق التستری نے، انہیں الولیدبن عتبہ نے، انہیں الولید بن مسلم نے، انہیں ابو شیبہ ابراہیم بن عثمان نے عثمان بن عمیر البجلی سے، انہوں شہرین حوشب سے، انہوں نے حضرت شداد بن اوس سے کہ حضور ﷺ نے فرمایا (لا یدخل الجنۃ جو اظ ولا جعظری ولا عتل زنیم) میں نے دریافت کیا کہ جو اظ کسے کہتے ہیں۔ انہوں نے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 22–26

17 باغ والوں کی بدحواسی کے منظر کا ذکر وبیان سو جب وہ وہاں پہنچے تو دیکھا کہ وہاں پر باغ کا نام و نشان بھی نہیں تو انہوں نے کہا کہ ہم تو راستہ بھول گئے۔ اور رات کے اندھیرے میں بھٹک کر کسی اور جگہ پہنچ گئے ہیں کیونہ ان کے باغ کا تو نام و نشان ہی مٹ گیا تھا، والعیاذ باللہ سوگردش آسمانی نے ان کے اس باغ کا حلیہ اس قدر بگاڑ کر رکھ دیا تھا کہ جب ان کی نظر اس پر پڑی، تو اول وہلہ میں وہ اس کو پہچان ہی نہ سکے اور یہاں تک کہ ان کو خیال ہوا کہ ہم بھول کر کسی اور جگہ پہنچ گئے اور رات کے اندھیرے میں راستہ بھٹک کر کسی اور طرف نکل آئے، سو کہاں اس باغ کی وہ آبادی و رونق اور کہاں اس کی یہ اجاڑ اور ویرانی ؟…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 17–35

باغ والوں کے بخل کا واقعہ تشریح :۔ اس قصے سے سبق ملتا ہے کہ صرف دنیا میں کھو جانا اور اللہ کی طرف سے آنکھیں بند کرلینا سراسر غلط راستہ ہے رب العزت کا یہی طریقہ ہے کہ وہ بندوں کو ایسی ہی سزاؤں سے جھنجوڑتا ہے کہ انسان غفلت سے باز آجائے یہ دنیاوی نقصانات تو صرف آنکھیں کھولنے کے لیے کرائے جاتے ہیں نافرمان اور غفلت سے بیدار نہ ہونے والے لوگوں کو آخرت میں بڑا سخت عذاب دیا جائے گا۔ جب کہ فرمانبرداروں کے لیے آرام و آسائش کے بہترین باغات ہیں اور یہی فرق ہے نافرمانوں اور فرمانبرداروں میں کیونکہ اللہ بہترین انصاف کرنے والا ہے۔ اچھے اور برے لوگوں کا حساب ایک جیسا نہیں ہوسکتا۔ حدیث میں نصیحت کی گئی ہے۔…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–33

آیات 1 تا 23۔ اسرار ومعارف۔ قسم ہے قلم کی اور جو کچھ قلم سے لکھاجاتا ہے یعنی آپ ﷺ نے امی ہونے کے باوجود علم کے وہ دریابہائے کہ خود قلم اور اس کی تحریر آپ کے کامل عقل مند اور بےمثال صاحب خرد ہونے پر دال ہے۔ مجنون۔ جب آپ ﷺ نے اعلان نبوت فرما کر ساری انسانیت کو دعوت حق دے دی اور تمام انسانوں کے لیے ایک عقیدہ اور ایک نظام حیات تو مشرکین نے اسے معاذ اللہ پاگل پن قرار دیا کہ دنیا کی عظیم الشان حکومتیں ساری دنیا پہ ایک نظام رائج نہ کرسکیں۔ پھر آپ ﷺ امی ہیں ، اکیلے ہیں یا چند مسلمان جن کی بظاہر کوئی حیثیت نہیں پھر اقوام عالم کے مزاج الگ ، فکر الگ ، رنگ ونسل اپنی اپنی ، غذا الگ زبانیں الگ موسم اور…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 21–25

ف 14 علی حررر “ کے مفسرین نے کئی مطلب بیان کئے ہیں بعض کہتے ہیں کہ ” وہ تیزی اور زور سے چلے “ یا ” وہ غصہ سے چلے “ یا ” وہ اپنے آپ کو نجیلی پر قادر سمجھتے ہوئے چلے “ یا ” حرد “ ان کے باغ کا نام تھا، یعنی وہ اپنے آپ کو اس باغ پر قادر سمجھتے ہوئے چلے۔ “ بہرحال وہ یہ سمجھتے ہوئے صبح سویرے چل دیئے کہ جاتے ہی سارا میوہ اپنے قبضہ میں کرلیں گے اور غریبوں مسکینوں کے لئے کچھ نہ چھوڑیں گے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(68:22) ان اغدوا علی حرثکم : ان مصدریہ۔ اغدوا فعل امر جمع مذکر حاضر۔ غدو (باب نصر) مصدر سے بمعنی تم سویرے چلو۔ اغدوا (فعل امر) فعل ناقص ہے علی حرثکم اس کی خبر ہے۔ یعنی صبح سویرے اپنی کھیتی پر پہنچ جاؤ۔ یہ جملہ جواب شرط ہے اور شرط سے مقدم آیا ہے۔ ان کنتم صارمین۔ جملہ شرط ہے۔ صارمین اسم فاعل جمع مذکر بحالت نصب کاٹنے والے۔ ترجمہ ہوگا :۔ اگر تم اپنی کھیتی کو کاٹنا چاہتے ہو تو صبح سویرے اپنی کھیتی پر پہنچ جاؤ۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–33

لغات القرآن۔ یسطرون۔ وہ لکھتے ہیں۔ ممنون۔ منقطع ہونے والا۔ ختم ہونے والا۔ تبصر۔ تو دیکھے گا۔ المفتون۔ دیوانہ۔ ودوا۔ وہ پسند کرتے ہیں۔ تدھن۔ تو خوشامد کرے۔ تو نمر پرے۔ حلاف۔ بہت قسمیں کھانے والا۔ مھین۔ ذلیل کمینہ۔ ھماز۔ طعنے دینے والا۔ مشائ۔ پھرنے والے۔ نیمیم۔ چغل خور۔ باتیں لگانے والے۔ مناع۔ روکنے والا۔ معتد۔ حد سے بڑھنے والا۔ اثیم۔ گناہ گار۔ عتل۔ اکھڑ۔ اجد۔ زنیم۔ بدنام۔ نسیم۔ ہم داغ دیں گے۔ الخرطوم۔ ناک۔ دم۔ سونڈ۔ تشریح : سورة القلم کا آغاز ” ن “ سے کیا گیا ہے جو حروف مقطعات میں سے ایک حروف ہے۔ اس کے کیا معنی ہیں ؟ اس کی تفصیل اس سے پہلی ابتدائی سورتوں میں آچکی ہے کہ ان حروف کے معنی اور مراد…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 17–33

(ف 4) اہل مکہ جب اپنے مال ومتاع پر بہت اترائے اور اللہ کی نعمتوں کی ناشکری کی، اور نبی ﷺ سے طرح طرح کی سرش کی انہوں نے شروع کی تو نبی ﷺ نے ان کے حق میں دعا فرمائی کہ یارب ، انہیں ایسی قحط سالی میں مبتلا کر جیسی حضرت یوسف کے زمانہ میں ہوئی تھی چناچہ اہل مکہ قحط کی مصیبت میں ایسے مبتلا ہوگئے کہ وہ بھوک کی شدت میں مردار اور ہڈیاں تک کھاگئے اور اس طرح آزمائش میں ڈالے گئے ، آخرنبی ﷺ سے رفع قحط کی دعا کرنے کی التجا کی اورآ پکی دعا سے قحط رفع ہوا۔ اس لیے اوپر کی ایتوں میں ولید بن مغیرہ کا خاص طور پر ذکر فرما کر سب کو قحط کا قصہ یاد دلا اور فرمایا کہ ان لوگوں کی نافرمانی کے سبب سے ان پر قحط کی آفت…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 22–27

[8] اصل میں لفظ '' حرث '' استعمال ہوا ہے جس کے معنی کھیت کے ہیں۔ غالباً اس باغ میں درختوں کے درمیان کھیت بھی ہوں گے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 17–31

ف 1: ان آیات میں اس حقیقت کو واضح فرمایا ہے ۔ کہ جو لوگ اللہ کے مال و دولت کی بنا پر احکام الٰہی کا انکار کردیتے ہیں ۔ ا ہیں یقین رکھنا چاہیے ۔ کہ یہ فراوانی اور آسودگی ہمیشہ نہیں رہے گی ۔ فرمایا کہ مکہ والوں کہ ہم نے عیش وتکلفات سے بہرہ مند کرکے اسی طرح آزمایا ہے ۔ جس طرح کہ بنی اسرائیل کے ایک گروہ کو ہم نے مال و دولت سے نوازا ۔ ان کو ایک نہایت عمدہ باغ مرحمت فرمایا ۔ مگر انہوں نے ازراہ بخل یہ طے کرلیا ۔ کہ ہم اس کا پھل صرف آپس میں بانٹ لیں گے ۔ اس میں کسی غریب کا حصہ نہیں ہوگا ۔ پھر جو کچھ باغ کی آمدنی سے ملے گا ۔ اس کو صرف اپنی ان آسانی کے لئے استعمال کریں گے ۔ اور مستحقین کو کچھ نہیں…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 17–31

ف 4۔ یعنی ان اہل مکہ کو سامان عیش دے رکھا ہے تاکہ دیکھیں کہ نعمتوں کے شکر میں ایمان لاتے ہیں یا ناشکری و بےقدری کر کے کفر کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اگر تم کچھ کاٹنا چاہتے ہو تو سویرے سویرے اپنی کھیتی پر پہنچ جائو 22 ؎ (صرمین) کاٹنے والے صرم سے جس کے معنی کاٹنے کے ہیں۔ اسم فاعل کا صیغہ جمع مذکر صارم کی جمع۔ مطلب یہ ہے کہ انہوں نے صبح ہوتے ہی ایک دوسرے کو بلانا اور ساتھ ملانا شروع کردیا کہ جتنا جلدی کھیتی پر پہنچ سکتے ہو پہنچو۔ اگر تم کو وہاں سے کچھ حاصل کرنا ہے تو بہت ہی جلدی پہنچنا چاہئے کہ ایسا نہ ہو کہ پہلے کی طرح تڑکا ہوتے ہی مانگنے والے اور سوال کرنے والے وہاں پہنچنا شروع ہوجائیں۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 21–24

فَتَنَادَوْا مُصْبِحِينَ (So, they called out each other as the morning broke 68:21). This means that they starting waking up each other in the early morning that they should set out early if they wanted to harvest. وَهُمْ يَتَخَافَتُونَ (...while they were whispering to each other ... 68:23). They were speaking in a low voice, lest a poor man should hear their talk and accompany them.

Read the full tafseer →