Explained with ayahs 17–33
سیاہ رات اور کٹی ہوئی کھیتی
یہاں ان کافروں کی جو حضور ﷺ کی نبوت کو جھٹلا رہے تھے مثال بیان ہو رہی ہے کہ جس طرح یہ باغ والے تھے کہ اللہ کی نعمت کی ناشکری کی اور اللہ کے عذابوں میں اپنے آپ کو ڈل دیا، یہی حالت ان کافروں کی ہے کہ اللہ کی نعمت یعنی حضور ﷺ کی پیغمبر کی ناشکری یعنی انکار نے انہیں بھی اللہ کی ناراضگی کا مستحق کردیا ہے، تو فرماتا ہے کہ ہم نے انہیں بھی آزما لیا جس طرح ہم نے باغ والوں کو آزمایا تھا جس باغ میں طرح طرح کے پھل میوے وغیرہ تھے، ان لوگوں نے آپس میں قسمیں کھائیں کہ صبح سے پہلے ہی پہلے رات کے وقت پھل اتار لیں گے تاکہ فقیروں مسکینوں اور سائلوں کو پتہ نہ چلے جو وہ آ کھڑے ہوں اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–24
سورة الْقَلَم 14
کھیتی کا لفظ غالباً اس لیے استعمال کیا گیا ہے کہ باغ میں درختوں کے درمیان کھیت بھی تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–24
(آیت) فَتَنَادَوْا مُصْبِحِيْنَ یعنی صبح اندھیرے سے آپس میں ایک دوسرے کو آواز دے کر جگانے لگے کہ اگر کھیتی کاٹنا ہے تو سویرے چلو وَهُمْ يَتَخَافَتُوْنَ ، یعنی گھر سے نکلنے کے وقت آپس میں آہستہ بات کرتے تھے کہ کسی فقیر مسکین کو خبر نہ ہوجائے جو ساتھ لگے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–24
یعنی گھر سے نکلے تو چپکے چپکے ایک دوسرے کو ہوشیار کرتے ہوئے نکلے کہ خیال رکھنا، آج کے دن کوئی فقیر نہ باغ میں گھسنے پائے۔ یہ ان کی اسی خست کی تعبیر دوسرے الفاظ میں ہے جو اوپر ’وَلَا یَسْتَثْنُوْنَ‘ کے الفاظ سے بیان ہوئی ہے۔
Read the full tafseer →23۔ 1 یعنی باغ کی طرف جانے کے لئے ایک تو صبح صبح نکلے دوسرے آہستہ آہستہ باتیں کرتے ہوئے گئے تاکہ کسی کو ان کے جانے کا علم نہ ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–24
8: اس کا ایک مطلب تو یہ ہوسکتا ہے کہ انہوں نے یہ ارادہ کیا تھا کہ سارے کا سارا پھل ہم توڑ لیں گے، اور اس کے کسی حصے کا استثناء نہیں کریں گے، یعنی کوئی حصہ غریبوں کے لیے نہیں چھوڑیں گے۔ دوسرے استثناء کرنے کا ایک مطلب ”ان شاء اللہ“ کہنا بھی ہوتا ہے۔ اس صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ جب وہ یہ کہہ رہے تھے کہ ہم صبح ہوتے ہی پھل توڑ لیں گے تو اس وقت انہوں نے ”ان شاء اللہ“ نہیں کہا تھا
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–24
فانطلقوا .................... مسکین (42) (86 : 32۔ 42” چناچہ وہ چل پڑے اور آپس میں چپکے چپکے کہتے جاتے تھے کہ آج کوئی مسکین تمہارے پاس باغ میں نہ آنے پائے “۔ اب حالت یہ ہے کہ ہم جو قرآن پڑھ رہے ہیں ہمیں تو معلوم ہے کہ آگے کیا آرہا ہے لیکن ان چاروں کو تہ پتہ نہیں ہے کہ آگے وہ کیا دیکھنے جارہے ہیں۔ ہم نے تو یہ منظر دیکھ لیا ہے کہ رات کو دست قدرت اپنا کام کر گیا ہے۔ باغ میں تو اب کچھ نہیں توڑنے کے لئے۔ باغ یوں ہے کہ گویا کسی نے اس کے تمام پھل توڑ لئے ہیں اور وہاں کچھ بھی باقی نہ ہو۔ اور خفیہ ہاتھ نے یہ کام کردیا۔ اب ہماری سانس رک رہی ہے کہ یہ لوگ کس صورت حال سے دو چار ہونے والے ہیں۔ ان کی تمام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–25
5 یعنی یہ یقین کرتے ہوئے کہ اب جا کر سب پیداوار اپنے قبضہ میں کرلیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
آیت 22{ اَنِ اغْدُوْا عَلٰی حَرْثِکُمْ اِنْ کُنْتُمْ صٰرِمِیْنَ۔ } ”کہ صبح سویرے چلو اپنے کھیت کی طرف اگر تم پھل توڑنا چاہتے ہو۔“
وہ صبح سویرے اپنے طے شدہ پروگرام کے مطابق پھل توڑنے کی تیاریاں کر رہے تھے ‘ جبکہ ان کا باغ رات کو جل کر تباہ ہوچکا تھا۔ اسی طرح انسان اپنی دھن میں مگن طرح طرح کے منصوبے بناتا رہتا ہے مگر اللہ تعالیٰ کے ایک فیصلے کے سامنے اس کے سارے منصوبے دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں۔ کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ انسان کو کوئی جان لیوا مرض لاحق ہوچکا ہوتا ہے ‘ مگر وہ اس سے بیخبر اپنی لمبی لمبی امیدوں کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے رات دن ایک کیے رہتا ہے۔ پھر جب مرض کی تشخیص ہوتی ہے تب بہت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–32
15 باغ والوں کا قصہ :۔ یہ واقعہ آیت نمبر 17 سے آیت نمبر 33 تک پھیلا ہوا ہے۔ جسے ہم تسلسل کے ساتھ اپنے الفاظ میں بیان کریں گے کسی شخص کا ایک باغ تھا جو بھرپور فصل دیتا تھا۔ اس شخص کا زندگی بھر یہ دستور رہا کہ جب بھی پھل کی فصل اٹھاتا تو اس کے تین حصے کرتا۔ ایک حصہ تو خود اپنے گھر کی ضروریات کے لیے رکھ لیتا۔ دوسرا حصہ اپنے قریبی رشتہ داروں اور ہمسایوں میں تقسیم کردیتا اور تیسرا حصہ فقراء و مساکین میں بانٹ دیتا۔ اس کی اس سخاوت کی وجہ سے اس کا باغ سب سے زیادہ فصل دیتا۔ کٹائی کے دن فقراء و مساکین موقع پر پہنچ جاتے اور اپنا اپنا حصہ وصول کرلیتے۔
جب یہ شخص انتقال کر گیا تو اس کے بیٹوں کو خیال آیا کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–25
11۔ یہ کن باغ والوں کا ذکر ہے ؟ بعض نے کہا ہے کہ کوئی باغ حبشہ میں تھا۔ قیل کانوا میں اھل الحبشۃ (ابن کثیر) عن عکرمۃ قال ھم ناس من الحبشۃ (ابن جریر) ایک قول یہ بھی ہے کہ یہ باغ یمن میں تھا۔ عن ابن عباس قال کان بستان بالیمن (معالم) قال سعید بن جبیرکانوا من قریۃ یقال لھا فروان علی ستۃ امیال من صنعاء (ابن کثیر) بہرحال جہاں کہیں بھی ہو ایسا باغ تھا جس کی تلمیح سے اہل عرب خوب واقف تھے۔ اور قصہ کا ماحصل یہ ہے کہ جو اہل غفلت اپنی تدبیروں پر نازاں اور اہل حقوق کی حق تلفی میں لگے رہتے ہیں، وہ آخر خود ہی خسارہ میں رہتے ہیں۔ (آیت) ” ولایستثنون “۔ یعنی انہیں اس درجہ وثوق اپنے صبح کے پروگرام پر تھا کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–25
فطاف علیھا طائف من ربک ادھر تو یہ لوگ یہ مشورہ کر رہے تھے اور ادھر آسمانی بلا نے باغ کو جلا کر خاک سیاہ کردیا، جب صبح تڑکے پھل توڑنے کے لئے جانے لگے تو ایک دوسرے کو آہستہ آہستہ پکارنے لگے، تاکہ فقیر و مسکین لوگ سن نہ لیں اور وہ اس بات پر خوش تھے کہ آج باغ میں آ کر ہم سے کوئی کچھ نہ مانگے گا، اور وہ اپنے آپ کو اپنے اس منصوبہ میں کامیاب سمجھ رہے تھے۔
Read the full tafseer →فانطلقوا وھم یتخافتون . پس وہ چپکے چپکے کہتے ہوئے چلے خَفِیَ خَفَتَ اور خَفِہَ تینوں ہم معنی ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–27
(23۔ 27) چناچہ پھر وہ لوگ باغوں کی طرف آہستہ آہستہ باتیں کرتے چلے کہ آج باغ تک کوئی محتاج نہ آنے پائے اور خود اپنے آپ کو اس کے نہ دینے پر، یا یہ کہ باغ کا پھل توڑنے پر قادر سمجھ کر چلے۔ پھر جب باغ کو جلا ہوا دیکھا تو کہنے لگے کہ ہم راستہ بھول گئے، پھر سوچ کر کہنے لگے کہ پیداوار کی خرابی سے ہم باغ کے نفع ہی سے محروم ہوگئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–24
فَتَنَادَوْا مُصْبِحِیْنَ۔۔۔۔۔:”علی حرثکم“ اپنے کھیت پر۔ معلوم ہوا کہ با غ کے ساتھ کھیتی بھی تھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–25
فانطلقوا وھم یتخافتون۔ یعنی وہ راز داری سے باتیں کر رہے تھے اپنی کلام کو وہ پست رکھ رہے تھے اور راز داری سے کام لے رہے تھے تاکہ کسی کو ان کے بارے میں علم نہ ہو، یہ عطا اورق تادہ کا قول ہے۔ یہ خفت یخفت سے مشتق ہے جب وہ ساکن ہوجائے اور کسی بات کو ظاہر نہ کرے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ اپنے آپ کو لوگوں سے چھپاتے ہیں تاکہ لوگ انہیں دیکھ نہ لیں۔ ان کا باپ فقراء اور مساکین کو خبر دیتا تو وہ کاٹنے کے وقت حاض رہو جاتے۔
وغدوا علی حرد قدرین۔ حرد کا معنی قصد ہے اور اپنے حساب سے وہ قادر تھے۔ وہ گمان کرتے تھے وہ اپنی مراد پر قدرت رکھتے ہیں۔ حضرت ابن عباس اور دوسرے علماء نے یہی معنی کیا ہیخ حرد کا معنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–24
58۔ ابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت وہم یتخافتون۔ اور وہ چپکے چپکے کہتے ہوئے چلے۔ یعنی وہ آپس میں آہستہ آہستہ اور چپکے چپکے باتیں کرنے لگے۔
59۔ عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت وہم یتخافتون سے مراد ہے کہ وہ آپس میں چپکے چپکے باتیں کرنے لگے کہ آج کے دن کوئی مسکین تم پر داخل نہ ہو آیت وغدوا علی حرد قدرین کہ وہ لوگ اپنے باغ کا ارادہ کرتے ہوئے صبح سویرے چل پڑے اپنے دلوں میں یہ سوچتے ہوئے کہ وہ اس پر قدرت رکھتے ہیں۔
Read the full tafseer →[فَانْطَلَقُوْا : تو وہ لوگ چلے ][ وَهُمْ يَتَخَافَتُوْنَ : ار وہ لوگ باہم سرگوشی کرتے تھے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–32
ایک باغ کے مالکوں کا عبرت ناک واقعہ
رسول اللہ ﷺ کے ہجرت فرمانے کے بعد مکہ معظمہ کے مشرکوں پر اللہ تعالیٰ نے قحط بھیج دیا تھا۔ قحط کی وجہ سے بہت تکلیف اٹھائی، اس کے بارے میں فرمایا کہ ہم نے مکہ والوں کو آزمائش میں ڈالا جیسا کہ باغ والوں کو آزمائش میں ڈالا تھا، یہ باغ کہاں تھا باغ والے کون تھے اس کے بارے میں حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ یہ باغ یمن میں شہر صنعاء سے دو فرسخ کے فاصلہ پر تھا اسے نمازی لوگوں نے بویا تھا جو لوگ اس کے وارث چلے آ رہے تھے وہ بڑے سخی تھے جس دن باغ کے پھل کاٹتے تھے مساکین جمع ہوجاتے تھے اسی طرح کھیتی کاٹنے کے دن اور جس دن بھوسہ اور دانہ الگ کرتے تھے مساکین آجاتے تھے، یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–33
عبرتناک انجام غرور وتکبر بردولت دنیا و محرومی از سعادت وآخرت :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” انا بلونھم کما بلون آ اصحب الجنۃ ....... الی ...... لو کانوا یعلمون “۔
(ربط) گزشتہ آیات میں اہل مکہ کے ان مغرور ومتکبر انسانوں کا ذکر تھا جنہوں نے محض اپنے مال و دولت اور اولاد وخاندان کے نشہ میں رسول خدا ﷺ کی توہین کی انکار وکفر کے مرتکب ہوئے تو اب ان آیات میں ایک باغ والوں کا قصہ بیان کرکے بتایا جارہا ہے کہ انسان کو دنیا کے مال ومنال پر بھروسہ کرکے مغرور ومتکبر نہ ہونا چاہئے دنیا کی حقیقت بس اتنی ہی ہے اور غرور کا انجام ایسا ہی ہے جیسے کہ اس باغ کی تباہی اور باغ والوں کی بربادی سے ظاہر ہورہا ہے یہ باغ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–25
11:۔ ” فطاف علہا “۔ طائف سے جبریل (علیہ السلام) مراد ہیں جو عذاب الٰہی لے کر آئے تھے۔ یہ فیصلہ کر کے وہ سو گئے، رات کو اللہ نے اس پر ایسا عذاب نازل فرمایا کہ سارا باغ تباہ و برباد ہوگیا اور زمین اس طرح صاف ہوگئی جس طرح وہاں سے سب کچھ کاٹ لیا گیا ہو۔ ” فتنادوا مصبحین “ صبح ہونے کو ہوئی تو سب نے ایک دوسرے کو آوازز دی کہ پھل توڑنا ہے تو جلدی جلدی باغ میں پہنچو۔ چناچہ سب روانہ ہوئے اور آہستہ آہستہ ایک دوسرے سے کہتے جارہے تھے کہ آج کوئی مسکین ہمارے قریب نہ آنے پائے۔ ” وغدوا علی حرد قادرین “ حرد، روکنا اور نہ دینا۔ چناچہ جب وہ وہاں پہنچے تو وہ خوش تھے اور اپنے زعم میں سمجھ رہے تھے کہ وہ اپنے مقصد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–33
گذشتہ سے پیوستہ :
گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے ان انعامات کا ذکر فرمایا ، جو پیغمبر ﷺ پر کئے اور توحید الہٰی ، رسالت اور معاد کے مکذبین کے متعلق ارشاد فریاما کہ ان کی کسی بات کو تسلیم نہ کریں کیونکہ ان بےہودہ لوگوں نے نبی جیسے عقل مند ، ذہین اور سب سے بلند اخلاق والی ہستی کو العیافہ باللہ مجنون کا خطاب دیا ۔ یہ مشرکین آپ ﷺ کو مداہنت پر آمادہ کرنا چاہتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کی دس الفاظ کے ساتھ مذمت بیان کی۔ پھر فرمایا کہ یہ اس لیے غرور وتکبر کرتے ہیں کہ ان کو اللہ تعالیٰ نے مالی و اولاد سے نوازا ہے۔ یہ انعامات تو شکر گزاری کا سبب بننا چاہئیں نہ کہ تکذیب و نافرمانی کا ان کے غرور کا…
Read the full tafseer →فَانْطَلَقُوْا وَہُمْ يَتَخَافَتُوْنَ 23 ۙ
طلق
أصل الطَّلَاقِ : التّخليةُ من الوثاق، يقال : أَطْلَقْتُ البعیرَ من عقاله، وطَلَّقْتُهُ ، وهو طَالِقٌ وطَلِقٌ بلا قيدٍ ، ومنه استعیر : طَلَّقْتُ المرأةَ ، نحو : خلّيتها فهي طَالِقٌ ، أي : مُخَلَّاةٌ عن حبالة النّكاح . قال تعالی: فَطَلِّقُوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَ [ الطلاق/ 1] ، الطَّلاقُ مَرَّتانِ [ البقرة/ 229] ، وَالْمُطَلَّقاتُ يَتَرَبَّصْنَ بِأَنْفُسِهِنَ [ البقرة/ 228] ، فهذا عامّ في الرّجعيّة وغیر الرّجعيّة، وقوله : وَبُعُولَتُهُنَّ أَحَقُّ بِرَدِّهِنَّ [ البقرة/ 228] ، خاصّ في الرّجعيّة، وقوله : فَإِنْ طَلَّقَها فَلا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ
[…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–33
ترکیب : اذ تعلیلیۃ اوظرفیۃ بنوع تسمح لان الانقسام کان قبل ابتلائہم لیصرمنہا جواب القسم مصبحین حال من الفاعل فی یصرمنہا ولا یستثنون جملۃ مستانفہ لبیان ماوقع منھم وقیل حال فتنادوا معطوف علی اقسموا بینما اعتراض لبیان مانزل بتلک الجنۃ ان اغدوا ان مفسرۃ لان فی التنادی معنی القول او مصدریۃ ای اخرجواغدوۃً ان کنتم الخ جواب الشرط محذوف فاغدوا وھم یتخافتون الجملۃ حال من فاعل فانطلقوا ان لایدخلنہا ان مفسرۃ للتخافت المذکور لمافیہ من معنی القول علی حرد یتعلق بقادرین وقادرین حال وقیل خبر غدوا لا نھا حملت علی اصبحوا۔
تفسیر : اہل مکہ خصوص ولید وغیرہ ثروت و حشمت پر نازاں ہو کر کہتے تھے کہ ہم پر خدا کی نظر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–25
فَانْطَلَقُوْا وَھُمْ یَتَخَافَتُوْنَ ۔ اَنْ لاَّ یَدْخُلَنَّھَا الْیَوْمَ عَلَیْکُمْ مِّسْکِیْنٌ۔ وَّغَدَوْا عَلٰی حَرْدٍ قٰدِرِیْنَ ۔ (القلم : 23 تا 25)
(پس وہ چلے اور آپس میں چپکے چپکے کہہ رہے تھے کہ آج باغ میں کوئی مسکین نہ آنے پائے۔ اور سویرے چلے لپکتے ہوئے عزم و حوصلہ کے ساتھ۔ )
یعنی گھر سے نکلے تو چپکے چپکے ایک دوسرے کو ہوشیار کرتے ہوئے کہہ رہے تھے کہ دیکھنا آج کے دن کوئی فقیر باغ میں گھسنے نہ پائے۔ یعنی یہ ان کے انتہائی بخل کی دلیل تھی جس کا ذکر اشرافِ قریش کی صفاتِ بد میں بھی ہوچکا ہے۔
حرد، کا معنی منع کرنے اور غیظ و غضب دکھانے کے ہیں۔ اس میں تیزگامی اور عزم و حوصلہ کا مفہوم بھی پایا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–33
فہم القرآن
ربط کلام : اہل مکہ کی آزمائش۔
نبی معظم ﷺ کی جدوجہد کے سامنے بےبس ہو کر اہل مکہ نے یہ مطالبہ کیا تھا کہ کچھ آپ نرم ہوجائیں اور کچھ ہم نرم ہوجاتے ہیں نبی ﷺ نے اسے مکمل طور پر مسترد کردیا۔ اس کے ردِّ عمل میں انہوں نے مزدور صحابہ کرام ؓ کی مزدوریاں روک لیں اور اپنے غریب رشتہ دار صحابہ کے ساتھ تعاون کرنے سے ہاتھ کھینچ لیا، ان کے سرداروں نے مہم چلائی کہ مسلمانوں کے ساتھ کسی قسم کا تعاون نہ کیا جائے۔ اس پر یہ آیات نازل ہوئیں جس میں انتباہ کرتے ہوئے فرمایا کہ ہم مکہ والوں کو اس طرح آزمائیں گے جس طرح ان سے پہلے باغ والوں کو آزما چکے ہیں۔ واقعہ یوں ہے کہ ایک شخص کا باغ تھا وہ اپنے باغ کی…
Read the full tafseer →23 : فَانْطَلَقُوْا (پھر وہ چلے) کھیتی کی طرف گئے وَھُمْ یَتَخَافَتُوْنَ (آپس میں چپکے چپکے باتیں کرتے ہوئے) سرگوشی کر رہے تھے تاکہ کسی مسکین کو بھنک نہ پہنچ جائے۔
Read the full tafseer →22 ۔” ان اغدوا علی حرثکم “ یعنی پھل، کھیتیاں اور انگور۔ ” ان کنتم صارفین “ پھلوں کو کاٹنے والے ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–33
17۔ 33۔ اہل مکہ جب اپنے مال و متاع پر بہت اترائے اور اللہ کی نعمتوں کی ناشکری کی اور اللہ کے رسول سے طرح طرح کی سرکشی انہوں نے شروع کی تو آنحضرت ﷺ نے ان کے حق میں قحط کی بددعا کی جس کا ذکر حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ کی روایت سے صحیح بخاری 1 ؎ و مسلم میں ہے اللہ کے رسول کی بد دعا سے بڑا سخت قحط پڑا یہاں تک کہ اہل مکہ مردار چیزیں کھا کر زندگی بسر کرنے لگے۔ آخر آنحضرت ﷺ سے رفع قحط کی دعا کرنے کی التجا کی اور آپ ﷺ کی دعا سے وہ قحط رفع ہوا اس لئے اوپر کی آیتوں میں ولید بن مغیرہ کا خاص طور پر ذکر فرما کر سب قریش کو قحط کا قصہ یاد دلایا اور فرمایا کہ ان لوگوں کی نافرمانی کے سبب سے ان پر قحط کی آفت اسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–24
(اگر تم کو کاٹنا ہے تو اپنی کھیتی پر سویرے ہی جا پہنچو، پس وہ چل پڑے، باغ کا قصد کر کے (وھم یتخافتوں) اور ان کی حالت یہ تھی کہ وہ آپس میں چپکے چپکے اللہ تعالیٰ کے حق سے ایک دوسرے کو روکتے جارہے تھے اور کہہ رہے تھے (لایدخلنھا الیوم علیکم مسکین) آج تمہارے پاس کوئی فقیر نہ آنے پائے، یعنی لوگوں کے پھیلنے سے پہلے، صبح صبح گھروں سے نکل پڑو اور اس کے ساتھ ساتھ وہ فقراء اور مساکین کو محروم کرنے کے لیے باہم تلقین کرتے جارہے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–52
قول باری ہے (عتل بعد ذلک زنیم، جفا کار اور ان سب عیوب کے ساتھ بداصل ہے) پہلے لفظ کے بارے میں ایک قول ہے کہ ہٹے کٹے اور بدخلق نیز سفاک انسان کو عتل کہا جاتا ہے۔ زنیم اس ولدالزنا کو کہا جاتا ہے جو دراصل ایک خاندان کا فرد نہ ہو مگر اس میں شامل ہوگیا ہو۔
ہمیں عبدالباقی بن قانع نے روایت بیان کی، انہیں حسین بن اسحاق التستری نے، انہیں الولیدبن عتبہ نے، انہیں الولید بن مسلم نے، انہیں ابو شیبہ ابراہیم بن عثمان نے عثمان بن عمیر البجلی سے، انہوں شہرین حوشب سے، انہوں نے حضرت شداد بن اوس سے کہ حضور ﷺ نے فرمایا (لا یدخل الجنۃ جو اظ ولا جعظری ولا عتل زنیم) میں نے دریافت کیا کہ جو اظ کسے کہتے ہیں۔ انہوں نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–26
17 باغ والوں کی بدحواسی کے منظر کا ذکر وبیان سو جب وہ وہاں پہنچے تو دیکھا کہ وہاں پر باغ کا نام و نشان بھی نہیں تو انہوں نے کہا کہ ہم تو راستہ بھول گئے۔ اور رات کے اندھیرے میں بھٹک کر کسی اور جگہ پہنچ گئے ہیں کیونہ ان کے باغ کا تو نام و نشان ہی مٹ گیا تھا، والعیاذ باللہ سوگردش آسمانی نے ان کے اس باغ کا حلیہ اس قدر بگاڑ کر رکھ دیا تھا کہ جب ان کی نظر اس پر پڑی، تو اول وہلہ میں وہ اس کو پہچان ہی نہ سکے اور یہاں تک کہ ان کو خیال ہوا کہ ہم بھول کر کسی اور جگہ پہنچ گئے اور رات کے اندھیرے میں راستہ بھٹک کر کسی اور طرف نکل آئے، سو کہاں اس باغ کی وہ آبادی و رونق اور کہاں اس کی یہ اجاڑ اور ویرانی ؟…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–35
باغ والوں کے بخل کا واقعہ
تشریح :۔ اس قصے سے سبق ملتا ہے کہ صرف دنیا میں کھو جانا اور اللہ کی طرف سے آنکھیں بند کرلینا سراسر غلط راستہ ہے رب العزت کا یہی طریقہ ہے کہ وہ بندوں کو ایسی ہی سزاؤں سے جھنجوڑتا ہے کہ انسان غفلت سے باز آجائے یہ دنیاوی نقصانات تو صرف آنکھیں کھولنے کے لیے کرائے جاتے ہیں نافرمان اور غفلت سے بیدار نہ ہونے والے لوگوں کو آخرت میں بڑا سخت عذاب دیا جائے گا۔ جب کہ فرمانبرداروں کے لیے آرام و آسائش کے بہترین باغات ہیں اور یہی فرق ہے نافرمانوں اور فرمانبرداروں میں کیونکہ اللہ بہترین انصاف کرنے والا ہے۔ اچھے اور برے لوگوں کا حساب ایک جیسا نہیں ہوسکتا۔ حدیث میں نصیحت کی گئی ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–33
آیات 1 تا 23۔
اسرار ومعارف۔
قسم ہے قلم کی اور جو کچھ قلم سے لکھاجاتا ہے یعنی آپ ﷺ نے امی ہونے کے باوجود علم کے وہ دریابہائے کہ خود قلم اور اس کی تحریر آپ کے کامل عقل مند اور بےمثال صاحب خرد ہونے پر دال ہے۔
مجنون۔
جب آپ ﷺ نے اعلان نبوت فرما کر ساری انسانیت کو دعوت حق دے دی اور تمام انسانوں کے لیے ایک عقیدہ اور ایک نظام حیات تو مشرکین نے اسے معاذ اللہ پاگل پن قرار دیا کہ دنیا کی عظیم الشان حکومتیں ساری دنیا پہ ایک نظام رائج نہ کرسکیں۔ پھر آپ ﷺ امی ہیں ، اکیلے ہیں یا چند مسلمان جن کی بظاہر کوئی حیثیت نہیں پھر اقوام عالم کے مزاج الگ ، فکر الگ ، رنگ ونسل اپنی اپنی ، غذا الگ زبانیں الگ موسم اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–25
ف 14 علی حررر “ کے مفسرین نے کئی مطلب بیان کئے ہیں بعض کہتے ہیں کہ ” وہ تیزی اور زور سے چلے “ یا ” وہ غصہ سے چلے “ یا ” وہ اپنے آپ کو نجیلی پر قادر سمجھتے ہوئے چلے “ یا ” حرد “ ان کے باغ کا نام تھا، یعنی وہ اپنے آپ کو اس باغ پر قادر سمجھتے ہوئے چلے۔ “ بہرحال وہ یہ سمجھتے ہوئے صبح سویرے چل دیئے کہ جاتے ہی سارا میوہ اپنے قبضہ میں کرلیں گے اور غریبوں مسکینوں کے لئے کچھ نہ چھوڑیں گے۔
Read the full tafseer →(68:23) فانطلقوا :عاطفہ۔ انطلقوا ماضی جمع مذکر غائب ۔ انطلاق (افتعال) مصدر۔ پس وہ چلے۔
وھم یتخافتون۔ جملہ حالیہ ہے یتخافتون : مضارع جمع مذکر غائب۔ تخافت (تفاعل) مصدر۔ خفیہ چپکے چپکے آپس میں بات کہنا۔ پھر وہ باہم چپکے چپکے یہ کہتے ہوئے چلے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–33
لغات القرآن۔
یسطرون۔ وہ لکھتے ہیں۔ ممنون۔ منقطع ہونے والا۔ ختم ہونے والا۔ تبصر۔ تو دیکھے گا۔ المفتون۔ دیوانہ۔ ودوا۔ وہ پسند کرتے ہیں۔ تدھن۔ تو خوشامد کرے۔ تو نمر پرے۔ حلاف۔ بہت قسمیں کھانے والا۔ مھین۔ ذلیل کمینہ۔ ھماز۔ طعنے دینے والا۔ مشائ۔ پھرنے والے۔ نیمیم۔ چغل خور۔ باتیں لگانے والے۔ مناع۔ روکنے والا۔ معتد۔ حد سے بڑھنے والا۔ اثیم۔ گناہ گار۔ عتل۔ اکھڑ۔ اجد۔ زنیم۔ بدنام۔ نسیم۔ ہم داغ دیں گے۔ الخرطوم۔ ناک۔ دم۔ سونڈ۔
تشریح : سورة القلم کا آغاز ” ن “ سے کیا گیا ہے جو حروف مقطعات میں سے ایک حروف ہے۔ اس کے کیا معنی ہیں ؟ اس کی تفصیل اس سے پہلی ابتدائی سورتوں میں آچکی ہے کہ ان حروف کے معنی اور مراد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–33
(ف 4) اہل مکہ جب اپنے مال ومتاع پر بہت اترائے اور اللہ کی نعمتوں کی ناشکری کی، اور نبی ﷺ سے طرح طرح کی سرش کی انہوں نے شروع کی تو نبی ﷺ نے ان کے حق میں دعا فرمائی کہ یارب ، انہیں ایسی قحط سالی میں مبتلا کر جیسی حضرت یوسف کے زمانہ میں ہوئی تھی چناچہ اہل مکہ قحط کی مصیبت میں ایسے مبتلا ہوگئے کہ وہ بھوک کی شدت میں مردار اور ہڈیاں تک کھاگئے اور اس طرح آزمائش میں ڈالے گئے ، آخرنبی ﷺ سے رفع قحط کی دعا کرنے کی التجا کی اورآ پکی دعا سے قحط رفع ہوا۔ اس لیے اوپر کی ایتوں میں ولید بن مغیرہ کا خاص طور پر ذکر فرما کر سب کو قحط کا قصہ یاد دلا اور فرمایا کہ ان لوگوں کی نافرمانی کے سبب سے ان پر قحط کی آفت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–27
[8] اصل میں لفظ '' حرث '' استعمال ہوا ہے جس کے معنی کھیت کے ہیں۔ غالباً اس باغ میں درختوں کے درمیان کھیت بھی ہوں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–31
ف 1: ان آیات میں اس حقیقت کو واضح فرمایا ہے ۔ کہ جو لوگ اللہ کے مال و دولت کی بنا پر احکام الٰہی کا انکار کردیتے ہیں ۔ ا ہیں یقین رکھنا چاہیے ۔ کہ یہ فراوانی اور آسودگی ہمیشہ نہیں رہے گی ۔ فرمایا کہ مکہ والوں کہ ہم نے عیش وتکلفات سے بہرہ مند کرکے اسی طرح آزمایا ہے ۔ جس طرح کہ بنی اسرائیل کے ایک گروہ کو ہم نے مال و دولت سے نوازا ۔ ان کو ایک نہایت عمدہ باغ مرحمت فرمایا ۔ مگر انہوں نے ازراہ بخل یہ طے کرلیا ۔ کہ ہم اس کا پھل صرف آپس میں بانٹ لیں گے ۔ اس میں کسی غریب کا حصہ نہیں ہوگا ۔ پھر جو کچھ باغ کی آمدنی سے ملے گا ۔ اس کو صرف اپنی ان آسانی کے لئے استعمال کریں گے ۔ اور مستحقین کو کچھ نہیں…
Read the full tafseer →(23) پھر وہ آپس میں چپکے چپکے باتیں کرتے ہوئے گھر سے روانہ ہوئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–31
ف 4۔ یعنی ان اہل مکہ کو سامان عیش دے رکھا ہے تاکہ دیکھیں کہ نعمتوں کے شکر میں ایمان لاتے ہیں یا ناشکری و بےقدری کر کے کفر کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →پس وہ چلے اور آپس میں چپکے چپکے کہتے جاتے تھے
23 ؎ (یتخافتون) جمع مذکر غائب مضارع تخافت مصدر چپکے چپکے باتیں کرتے ہوئے۔ چپکے چپکے کہتے ہوئے۔ ان کی اس حالت کا ذکر جب وہ اپنے اپنے گھروں سے نکلے تھے اور آہستہ آہستہ آپس میں باتیں کرتے جاتے تھے تاکہ جلد سفر طے ہوجائے اور وہاں جا کر مزید مشورہ نہ کرنا پڑے بلکہ وہاں تک پہنچتے پہنچتے آپس میں پہلے ہی بات چیت طے ہوجائے جو کچھ اس کو کاٹنے کے بعد کرنا ہے اور جس طرح اس کو اٹھانا ہے اور جہاں رکھنا ہے۔ کھیتی کا نام تو نہیں لیا گیا کہ وہ کس چیز کی کھیتی تھی بہرحال وہ جو کچھ بھی تھا اس کو سنبھالنے کا طریقہ تو ہونا چاہئے تھا اور اس بارے میں وہ آپس میں بطور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–24
فَتَنَادَوْا مُصْبِحِينَ (So, they called out each other as the morning broke 68:21). This means that they starting waking up each other in the early morning that they should set out early if they wanted to harvest.
وَهُمْ يَتَخَافَتُونَ (...while they were whispering to each other ... 68:23). They were speaking in a low voice, lest a poor man should hear their talk and accompany them.
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–24
14 The word tilth probably has been used because in the garden there were fields of crops also in between the trees.
Read the full tafseer →