Explained with ayahs 48–52
مصائب سے نجات دلانے والی دعا ، نظر، فال اور شگون
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے نبی ﷺ اپنی قوم کی ایذاء پر اور ان کے جھٹلانے پر صبر و ضبط کرو عنقریب اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ہونے والا ہے، انجام کار آپ کا اور آپ کے ماتحتوں کا ہی غلبہ ہوگا دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی دیکھو تم مچھلی والے نبی کی طرح نہ ہونا اس سے مراد حضرت یونس بن متی ؑ ہیں جبکہ وہ اپنی قوم پر غضب ناک ہو کر نکل کھڑے ہوئے پھر جو ہوا سو ہوا، یعنی آپ کا جہاز میں سوار ہونا مچھلی کا آپ کو نگل جانا اور سمندر کی تہہ میں بیٹھ جانا اور ان تہ بہ تہ اندھیروں میں اس قدر نیچے آپ کا سمندر کو اللہ تعالیٰ کی پاکیزگی بیان کرتے ہوئے سننا اور خود آپ کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–52
سورة الْقَلَم 35
یہ ایسا ہی ہے جیسے ہم اردو میں کہتے ہیں کہ فلاں شخص نے اسے ایسی نظروں سے دیکھا جیسے اس کو کھا جائے گا۔ کفار مکہ کے اس جذبہ غیظ و غضب کی کیفیت سورة بنی اسرائیل، آیات 73 تا 77 میں بھی بیان ہوئی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–52
وَاِنْ يَّكَادُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَيُزْلِقُوْنَكَ بِاَبْصَارِهِمْ۔ لیزلقونک ازلاق سے مشتق ہے جس کے معنی لغزش دینے اور گرا دینے کے ہیں (راغب) مطلب یہ ہے کہ کفار مکہ آپ کو غضبناک اور ترچھی نگاہوں سے دیکھتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ آپ کو اپنی جگہ اور مقام سے لغزش دیدیں جبکہ وہ اللہ کا کلام سنتے ہیں اور کہنے لگتے ہیں کہ یہ تو مجنون ہے ۘوَمَا هُوَ اِلَّا ذِكْرٌ لِّلْعٰلَمِيْنَ حالانکہ یہ کلام تو تمام جہان والوں کے لئے ذکر و نصیحت اور ان کی صلاح و فلاح کا ضامن ہے ایسے کلام والا کہیں مجنوں کہا جاسکتا ہے۔ کفار کے جس طعنہ کا اس سورة کے شروع میں جواب دیا گیا تھا ختم سورة پر اسی کا ایک دوسرے انداز سے…
Read the full tafseer →یعنی اگر اس بات کو سن کر یہ تمہیں دیوانہ کہتے ہیں تو کہیں، لیکن یہ یاد رکھیں کہ یہ کسی دیوانے کی بڑ نہیں بلکہ دنیا والوں کے لیے یاددہانی ہے۔ اس یاددہانی سے انھوں نے فائدہ نہ اٹھایا تو پچھتائیں گے لیکن یہ پچھتانا بے سود ہو گا۔
Read the full tafseer →52۔ 1 جب واقعہ یہ ہے کہ یہ قرآن جن و انس کی ہدایت و رہنمائی کے لئے آیا ہے تو پھر اس کو لانے والا اور بیان کرنے والا مجنون (دیوانہ) کس طرح ہوسکتا ہے ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–52
16: اس سے مراد وہ میدان ہے جہاں مچھلی حضرت یونس ؑ کو اگل کر چلی گئی تھی۔ مطلب یہ ہے کہ مچھلی کے پیٹ سے نکلنے کے باوجود وہ اتنے کمزور ہوچکے تھے کہ ان کا زندہ رہنا بہت مشکل تھا۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے انہیں سنبھالا، اور وہ دوبارہ تندرست ہوگئے۔
Read the full tafseer →وما ھوا ................ للعلمین (86 : 25) ” حالانکہ یہ تجہان والوں کے لئے ایک نصیحت ہے “۔ صرف مکہ والوں کے لئے نہیں ہے اور پھر یہ جو الزام لگاتے ہیں وہ کس قدر احمقانہ ہے کہ کیا دیوانے عالمی اصلاح کا کوئی پروگرام پیش کرتے ہیں۔ صدق اللہ العظیم !
یہاں مناسب ہے کہ لفظ العالمین پر بات ہوجائے۔ ابھی یہ دعوت مکہ میں ہے ، چند ماننے والے ہیں اور رسول کو خشمگیں نظروں سے دیکھا جارہا ہے۔ اور مشرکین مکہ اس کے خلاف جنگ میں اپنے پورے وسائل استعمال کررہے ہیں۔ اس ابتدائی دور میں ، اس مشکل وقت میں بھی اعلان کردیا جاتا ہے کہ یہ عالمی تحریک ہے۔ جس طرح کہ اس کی حقیقت تھی۔ لہٰذا مدینہ میں جب اس تحریک نے عالمی…
Read the full tafseer →4 یعنی قرآن میں جنون اور باؤلے پن کی بات کون سی ہے جس کو تم جنون کہہ رہے ہو وہ تو تمام عالم کے لیے اعلیٰ ترین پندو نصیحت کا ذخیرہ ہے۔ اسی سے بنی نوع انسان کی اصلاح اور دنیا کی کایا پلٹ ہوگی۔ اور وہ ہی لوگ دیوانے قرار پائیں گے جو اس کلام کے دیوانے نہیں ہیں۔
Read the full tafseer →آیت 52{ وَمَا ہُوَ اِلَّا ذِکْرٌ لِّلْعٰلَمِیْنَ۔ } ”اور نہیں ہے وہ ‘ مگر ایک یاد دہانی تمام جہان والوں کے لیے۔“
یہاں پر ھُوَکی ضمیر قرآن کے لیے بھی ہے اور حضور ﷺ کے لیے بھی۔ قرآن مجید کے ذکر یاد دہانی اور نصیحت ہونے کا تذکرہ تو قرآن میں بہت تکرار کے ساتھ آیا ہے ‘ جبکہ اپنی ذات میں حضور ﷺ بھی قیامت تک کے لوگوں کے لیے یاد دہانی ہیں ‘ بلکہ آپ ﷺ اپنی ذات میں مجسم قرآن ہیں۔ جیسا کہ حضرت عائشہ رض کا فرمان ہے : کَانَ خُلُقُہُ الْقُرْآنُ ”آپ ﷺ کا اخلاق قرآن ہی تو تھا۔“
] بعض مترجمین نے یہاں ”ذِکْر“ کا ترجمہ ”شرف“ بھی کیا ہے۔ یعنی آپ ﷺ سارے جہانوں کے لیے وجہ عزو شرف ہیں۔ مرتب [
Read the full tafseer →29 یعنی جو قرآن تم انہیں پڑھ کر سنا رہے ہو نہ اس میں کوئی دیوانگی کی بات ہے اور نہ آپ میں ہے۔ بلکہ یہ کتاب تو تمام اہل عالم کی ہدایت کے لیے نازل کی جارہی ہے۔ اس سے بنی نوع انسان کی کایا پلٹ اصلاح ہوگی۔ عنقریب یہ کتاب معاشرہ میں انقلاب بپا کردے گی۔ اس وقت سب کو معلوم ہوجائے گا کہ اصل دیوانے کون تھے ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–52
32۔ یہ کافروں اور منکروں کے انتہائی سفاہت وحمق کا بیان ہے کہ اللہ اللہ جو کلام ایک ہی ملک وقوم کے نہیں، ساری دنیا کی ہدایت واصلاح کے دستور العمل کی حیثیت رکھتا ہے اور جس کے قانون اور ضابطے اور ہدایتیں دنیا کی کیا انفرادی اور کیا اجتماعی، کیا اخلاقی اور کیا سیاسی، کیا معاشری اور کیا خانگی، ہر قسم کی صلاح و فلاح کی ضامن تھیں، اسی کو یہ لوگ مجنون کا کلام بتا رہے ہیں۔ ! یہ خود ان کا جنون نہیں تو اور کیا ہے۔ (آیت) ” وما ھو “۔ ضمیر ھو سے مراد پیغمبر (علیہ السلام) کا لایا ہوا کلام یا قرآن ہے۔ (آیت) ” لیزلقونک بابصارھم “۔ زلق بالابصار محاورۂ عرب میں کنایہ شدت عداوت سے ہے، جیسے اردو میں کہتے ہیں کہ تم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–52
وان یکاد الذین کفروا لیزلقونک بابصارھم، لیزلقونک، ازلاق سے مشتق ہے جس کے معنی پھسلانے اور گرا دینے کے ہیں، مطلب یہ کہ کفار مکہ آپ ﷺ کو غضبناک اور ترچھی نگاہوں سے دیکھتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ آپ ﷺ کو اپنی جگہ اور مقام سے لغزش دیدیں یعنی کار رسالت سے روک دیں، چناچہ جب وہ اللہ کا کلام سنتے ہیں تو کہنے لگتے ہیں کہ ” یہ تو مجنون ہے “۔ (معارف)
اس کا ایک مطلب یہ بھی بیان کیا ہے کہ، یعنی اگر تجھے اللہ کی حمایت اور حفاظت حاصل نہ ہوتی تو ان کفار کی حاسدانہ نظروں سے تو نظر بد کا شکار ہوجاتا یعنی ان کی نظر تجھے لگ جاتی امام ابن کثیر نے اس کا یہی مطلب لیا ہے، مزید لکھتے ہیں کہ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ نظر…
Read the full tafseer →وما ھو الا للعالمین . اور قرآن نہیں ہے مگر جہان کے لیے نصیحت۔
یعنی رسول اللہ ﷺ مجنون نہیں ‘ قرآن دیوانوں کا کلام نہیں بلکہ ہمہ گیر نصیحت ہے ‘ جو سب سے زیادہ کامل العقل اور صحیح الفہم ہوگا۔ اسی کی فکر رسائی قرآن تک ہوسکتی ہے۔
میرے شیخ اور امام مولانا یعقوب کرخی نے فرمایا ‘ ہوسکتا ہے کہ ھو کی ضمیر رسول اللہ ﷺ کی طرف راجع ہو یعنی رسول اللہ ﷺ سارے جہان کے لیے پیام ہدایت دینے والے اور ناصح ہیں۔ (ذکرٌ اگرچہ مصدر ہے لیکن بطور مبالغہ بمعنی اسم فاعل ہے جیسے زیدٌ عدلٌ‘ زید انصاف ہے یعنی اتنا انصاف کرنے والا ہے کہ گویا خود انصاف مجسم ہے) حضرت حنظلہ راوی ہیں کہ (راستہ میں) میری ملاقات حضرت ابوبکر ؓ سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–52
(51۔ 52) اور یہ کفار مکہ جب آپ سے قرآن کریم سنتے ہیں تو ایسے معلوم ہوتے ہیں کہ گویا آپ کو اپنی نگاہوں سے پھسلا کر گرادیں گے نیز معاذ اللہ دشمنی میں آپ کے بارے میں کہتے ہیں کہ یہ مجنون ہیں حالانکہ یہ قرآن کریم جن و انس کے لیے نصیحت ہے۔
Read the full tafseer →وما ھو الا ذکر للعلمین : یعنی قرآن کی آیات میں تو وہ نصیحتیں ہیں جن کے اثر سے ایک دو نہیں بلکہ بیشمار جہان راہ راست پر آنے والے ہیں، ایسی نصیحت کے سنانے والے کو جو دیوانہ بتاتا ہے وہ خود دیوانہ ہے۔
Read the full tafseer →وما ھو الا ذکر للعلمین۔
حالانکہ وہ نہیں مگر سارے جہانوں کے لئے وجہ عزو شرف یعنی قرآن نہیں ہے مگر جہانوں کے لئے نصیحت۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے، حضرت محمد ﷺ نہیں ہیں مگر جہانوں کے لئے نصیحت جس سے وہ نصیحت حاصل کرتے ہیں۔ ایک قول یہ کیا یا ہے : اس کا معنی شرف ہے یعنی قرآن شرف ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : وانہ لذکرلک و لقومک (الزخرف : 44) نبی کریم ﷺ بھی جہانوں کے لئے نصیحت ہیں (4) جہان کے لوگ آپ کی اتباع کر کے اور آپ پر ایمان لا کر شرف والے ہوگئے۔
سورۃ الحاقہ
تمام کے قول میں یہ سورت مکی ہے، اس کی اکاون آیات ہیں۔
ابو زاہریہ نے حضرت ابوہریہ سے روایت نقل کی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا :” جس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–52
34۔ ابن المنذر وابن ابی حاتم وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت لیزلقونک بابصارہم۔ آپ کو پھسلادیں اپنی تیز نگاہوں سے۔ یعنی وہ اپنی نگاہوں سے آپ کو پچھاڑدیں گے۔
35۔ عبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت لیزلقونک بابصارہم سے مراد ہے کہ وہ اپنی نگاہوں سے آپ کو گرادیں۔
36۔ عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت لیزلقونک بابصارہم کہ وہ آپ کو اپنی نگاہوں سے گرادینا چاہتے ہیں۔ اللہ کی کتاب اور اس کے ذکر سے عداوت کی وجہ سے۔
37۔ سعید بن منصور وعبد بن حمید وابن المنذر وابن مردویہ نے عطا (رح) سے روایت کیا کہ ابن عباس ؓ یہ پڑھتے تھے آیت ون یکاد الذین کفروا لیزلقونک بابصارہم اور…
Read the full tafseer →[وَمَا هُوَ : حلان کہ نہیں ہے وہ ][ اِلَّا ذِكْرٌ: سوائے ایک ایسی یاددہانی ہے جو ][ لِّلْعٰلَمِيْنَ : تمام جہانوں کے لیے ہے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–52
کافر لوگ چاہتے ہیں کہ آپ کو اپنی نظروں سے پھسلا کر گرا دیں
مشرکین عرب کی دشمنی انتہا کو پہنچ گئی تھی رسول اللہ ﷺ پر ہر طرح کا وار کرنے کو تیار رہتے تھے اور جو بھی موقعہ لگتا تھا اس سے نہیں چوکتے تھے آپ کو تکلیف پہنچانے کی جو طرح طرح کی تدبیریں کرتے تھے انہوں نے آپ کو نظر بد لگوانے کی تدبیر بھی سوچی بعض لوگ جن کی آنکھوں میں فطری طور پر نظر لگانے کی خاصیت ہوتی ہے اس وقت اس طرح کا ایک شخص تھا اسے قریش مکہ نے آمادہ کیا کہ محمد رسول اللہ ﷺ پر ایسی نظر ڈال جس سے آپ مریض ہوجائیں اور آپ کو تکلیف پہنچ جائے۔ صاحب معالم التنزیل اور صاحب روح المعانی نے یہ بات لکھی ہے کہ ان لوگوں نے آپ پر نظر لگوانے کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–52
بشارت اہل ایمان وتقوی بنعماء جنت وتذلیل وتوہین کفار ومشرکین درروز آخرت :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” ان للمتقین عندربھم .......... الی ........ الاذکر للعلمین “۔
(ربط) گذشتہ آیات میں ان منکرین ومکذبین کا ذکر تھا جو دولت کے نشہ میں مست ہو کر اللہ کی نافرمانی پر کمر بستہ ہوئے رسول خدا ﷺ کی توہین وتذلیل کی تو انکی نافرمانی اور غرور کا انجام ہلاکت ایک تاریخی واقعہ کی شکل میں بیان فرمایا گیا اب ان آیات میں اہل تقوی و ایمان کا اعزاز واکرام اور جنت میں حق تعالیٰ شانہ ان کو کیسی کیسی نعمتوں سے نوازے گا بیان فرمایا جارہا ہے پھر اسی کے ساتھ تنبیہ کے طور پر مجرمین ومنکرین کا قیامت کے روز کیسا برا انجام…
Read the full tafseer →26:۔ ” وما ھو “ حالانکہ یہ قرآن تمام دنیا جہان والوں کے لیے نصیحت ہے اور اس میں ان کے تمام ضروری امور کا بیان ہے اور اس کی تعلیمات ان کے لیے فلاح دارین کی ضامن ہیں، تو کیا ایسی عظیم الشان کتاب کے حامل کو اس کی تبلیغ سے روکنا اور اسے دیوانگی کا طعن دینا کہاں کی عقلمندی ہے ؟
سورة القلم کی خصوصیت : مسئلہ توحید کے بیان میں نرمی اور مداہنت سے ممانعت اور توحید کی خاطر تکلیفیں برداشت کرنے اور صبر و تحمل اختیار کرنے کی تلقین۔
سورة القلم ختم ہوئی
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–52
گذشتہ سے پیوستہ (ربط) :
پہلی آیتوں میں توحید و رسالت کے منکرین کا بیان تھا ۔ قیامت میں پیش آنے والے حالات کا ذکر تھا۔ ابتدائی آیات میں کفر کرنے والوں کی بدگوئی کا حال تھا کہ حضور ﷺ کی رسالت سے انکار کرتے تھے اور العیاذباللہ آپ کو دیوانہ اور پاگل قرار دیتے تھے۔ اس کے بعد مشرکین کے اس رویہ کا ذکر تھا۔ کہ وہ چاہتے ہیں کہ آپ ﷺ مداہنت کریں توا س طرح ایک دوسرے سے اتفاق ہو سکے گا مگر اللہ تعالیٰ نے اس سے منع کردیا۔ اس کے بعد بیان ہوا کہ اللہ نے جو مال و دولت دے رکھا ہے۔ وہ محض آزمائش کے لیے ہے۔ باغ والوں کا ھال بیان ہوا ان کو اللہ تعالیٰ نے آزمایا پھر ان کا مال و دولت بلاک کردیا۔ اسی طرح فرمایا کہ…
Read the full tafseer →وَمَا ہُوَاِلَّا ذِكْرٌ لِّلْعٰلَمِيْنَ 52 ۧ
عالَمُ
والعالَمُ : اسم للفلک وما يحويه من الجواهر والأعراض، وهو في الأصل اسم لما يعلم به کالطابع والخاتم لما يطبع به ويختم به، وجعل بناؤه علی هذه الصّيغة لکونه کا لآلة، والعَالَمُ آلة في الدّلالة علی صانعه، ولهذا أحالنا تعالیٰ عليه في معرفة وحدانيّته، فقال : أَوَلَمْ يَنْظُرُوا فِي مَلَكُوتِ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ [ الأعراف/ 185] ، وأمّا جمعه فلأنّ من کلّ نوع من هذه قد يسمّى عالما، فيقال : عالم الإنسان، وعالم الماء، وعالم النّار، وأيضا قد روي : (إنّ لله بضعة عشر ألف عالم) وأمّا جمعه جمع السّلامة فلکون النّاس في جملتهم، والإنسان إذا شارک غيره في…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–52
ترکیب : اذا العامل فیھا معنی قولہ کصاحب الحوت یرید لاتکن کصاحب الحوت حال ندائہ وذلک لانہ فی ذلک الوقت کان مکظومافکانہ قیل لاتکن مکظوماً ۔ وھومکظوم الجملۃ حال من ضمیر نادٰی وعلیھا یدور النھی لاعلی النداء لانہ امرمستحسن۔ تدارک فعل ماض مذکر حمل علی معنی النعمۃ لان تانیث النعمۃ غیرحقیقی موصوف من ربہ صفۃ والمجموع فاعل تدارک والضمیر فی تدار کہ مفعولہ۔ ھذاقراۃ الجمہور وقریٔ بتشدید الدال تدار کہ وھو مضارع ادغمت التاء فی الدال والاصل تتدارک بتائین وقریٔ تدارکۃً بتاء التانیث لنبذ جواب لولا تقدیر الآیۃ لولاھذہ النعمۃ لنبذبالعرا مع وصف المذمومیۃ فلما حصلت ھذہ لنعمۃ لم یوجد النبذ بالعراء مع ھذا الوصف لانہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–52
وَاِنْ یَّکَادُالَّذِیْنَ کَفَرُوْا لَـیُزْلِقُوْنَـکَ بِاَبْصَارِھِمْ لَمَّا سَمِعُوا الذِّکْرَ وَیَقُوْلُوْنَ اِنَّـہٗ لَمَجْنُوْنٌ۔ وَمَا ھُوَ اِلاَّ ذِکْرٌ لِّلْعٰلَمِیْنَ ۔ (القلم : 51، 52)
(اور جب کافر لوگ کلام نصیحت ( قرآن کریم) سنتے ہیں تو اس طرح آپ کو دیکھتے ہیں گویا اپنی نگاہوں کے زور سے آپ کے قدم اکھاڑ دیں گے اور کہتے ہیں کہ یہ ضرور دیوانہ ہے۔ حالانکہ یہ تو سارے جہان والوں کے لیے ایک نصیحت ہے۔ )
لَیـُزْلِقُوْنَکَ … ازلاق سے مشتق ہے جس کے معنی لغزش دینے اور گرا دینے کے ہیں۔ (راغب)
کفار کی طرف سے نفسیاتی حربہ
یہ ایسے ہی ہے جیسے ہم اردو میں کہتے ہیں کہ فلاں شخص نے اسے ایسی نظروں سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–52
فہم القرآن
ربط کلام : اس آیت سے چند آیات پہلے یہ ارشاد ہوا کہ اے پیغمبر ﷺ ! ان لوگوں کو ان کی حالت پر چھوڑ دیں جو ہمارے ارشادات کی تکذیب کرتے ہیں ان کی حالت یہ ہے جب آپ ان کو نصیحت کرتے ہیں تو آپ کو ڈراؤنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں اور آپ کو مجنون کہتے ہیں حالانکہ آپ انہیں قرآن مجید کے ساتھ نصیحت کرتے ہیں جو ان کے لیے نازل کیا گیا ہے۔
نبی (علیہ السلام) کسی پر کسی اعتبار سے بھی بوجھ نہ تھے لیکن اس کے باوجود کفار اور مشرکین آپ کی مخالفت کرتے اور آپ پر الزامات لگاتے تھے۔ حالانکہ نبی کریم ﷺ نبوت سے پہلے بھی کفار میں انتہائی سمجھدار اور محترم جانے جاتے تھے۔ کفار مشکل وقت میں آپ ﷺ سے فیصلے کرواتے اور…
Read the full tafseer →52 : وَمَا ھُوَ اِلَّا ذِکْرٌ (حالانکہ یہ قرآن نصیحت ہے) لِّلْعٰلَمِیْنَ (جہان والوں کیلئے) پھر جو ایسا قرآن پیش کرے وہ مجنون کیسے ہوسکتا ہے۔ ایک قول یہ ہے کہ جب انہوں نے آپ کا تذکرہ سنا۔ اور وہ محمد ﷺ جہان والوں کیلئے ایک عظیم شرف ہیں۔ پس ان کی طرف پھر جنون کی کیونکر نسبت ہوسکتی ہے۔ گویا پہلے ذکرؔ سے مراد حضرت محمد ﷺ اور دوسرے ذکرؔ سے مراد شرف و مرتبہ ہے۔
Read the full tafseer →آیت وان یکادالذین کفروا لیز لقونک کی تفسیر
51 ۔” وان یکاد الذین کفروا لیز لقونک بابصارھم “ کفار نے ارادہ کیا کہ رسول اللہ ﷺ کو نظر کے ذریعے تکلیف پہنچائیں تو آپ (علیہ السلام) کی طرف قریش کی ایک جماعت نے نظر کی اور کہنے لگے ہم نے اس کی مثل نہیں دیکھا اور دلیل میں غالب آنے والا کہا گیا ہے کہ بنواسد کی نگاہ بہت لگتی تھی حتیٰ کہ اونٹنی اور موٹی گائے ان میں سے کسی کے سامنے سے گزرتی تو وہ اس کو دیکھتا، پھر کہتا اے لونڈی تو برتن اور دراہم لے اور ہمارے پاس اس کا کچھ گوشت لے آئے تو وہ ٹھہرتی حتیٰ کہ موت واقع ہوجاتی ، پھر نحر کی جاتی اور کلبی (رح) فرماتے ہیں عرب کا ایک شخص دو یا تین دن کچھ نہ کھاتا پھر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–52
48۔ 52۔ اوپر ذکر تھا کہ قرآن کی آیتوں کو جو لوگ جھٹلاتے ہیں انہیں اللہ نے کچھ دنوں ڈھیل دے رکھی ہے ان آیتوں میں فرمایا اے رسول اللہ کے اس ڈھیل کی مدت میں تم کو صبر اور اللہ کے حکم کا انتظار ضرور ہے ایسا نہ ہو کہ بلا انتظار اللہ کے حکم کے یونس (علیہ السلام) کا سا تم کوئی جلدی کا کام کر بیٹھو۔ یونس (علیہ السلام) کا قصہ سورة یونس انبیاء اور الصافات میں گزر چکا ہے انہوں نے بلا انتظار اللہ کے حکم کے جلدی کا کام کیا وہ یہ تھا کہ جب ان کی قوم یونس پر عذاب کے آنے کا حال معلوم ہوگیا تو وہ بستی کو چھوڑ کر جنگل میں چلے گئے اور ادھر قوم یونس کے رونے گڑگڑانے اور راہ راست پر آجانے سے وہ عذاب ٹل گیا غرض وقت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–52
(فاجتبہ ربہ) ۔ پس اللہ نے ان کو منتخب کرلیا اور ان کو ہر کدورت سے پاک کردیا (فجعلہ من الصالحین) اور ان کو نیکوکاروں میں سے کردیا۔ یعنی وہ لوگ جن کے اعمال واقوال اور نیت واحوال درست ہیں۔ ہمارے نبی کریم حضرت محمد ﷺ نے اللہ کے حکم کی اطاعت کی، پس اپنے رب کے فیصلے پر ایسا صبر کیا کہ کائنات میں کوئی شخص صبر کے اس درجے کو نہیں پاسکتا۔ اللہ نے انجام کار آپ کے لیے متعین کردیا (والعاقبۃ للمتقین۔ الاعراف 128) ۔ اور بہتر انجام متقین کے لیے ہے۔ آپ کے دشمنوں کو اس میں اس چیز کے سوا کچھ حاصل نہ ہوا جو ان کو بری لگتی تھی حتی کہ ان کی بڑی خواہش تھی کہ وہ آپ کو غصے کی نظر سے گھور کر دیکھیں، حسد، کینہ اور غیظ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–52
قول باری ہے (عتل بعد ذلک زنیم، جفا کار اور ان سب عیوب کے ساتھ بداصل ہے) پہلے لفظ کے بارے میں ایک قول ہے کہ ہٹے کٹے اور بدخلق نیز سفاک انسان کو عتل کہا جاتا ہے۔ زنیم اس ولدالزنا کو کہا جاتا ہے جو دراصل ایک خاندان کا فرد نہ ہو مگر اس میں شامل ہوگیا ہو۔
ہمیں عبدالباقی بن قانع نے روایت بیان کی، انہیں حسین بن اسحاق التستری نے، انہیں الولیدبن عتبہ نے، انہیں الولید بن مسلم نے، انہیں ابو شیبہ ابراہیم بن عثمان نے عثمان بن عمیر البجلی سے، انہوں شہرین حوشب سے، انہوں نے حضرت شداد بن اوس سے کہ حضور ﷺ نے فرمایا (لا یدخل الجنۃ جو اظ ولا جعظری ولا عتل زنیم) میں نے دریافت کیا کہ جو اظ کسے کہتے ہیں۔ انہوں نے…
Read the full tafseer →47 قرآن حکیم ایک عظیم الشان نصیحت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ یہ لوگ تو پیغمبر کو مجنون اور دیوانہ کہتے ہیں حالانکہ یہ قرآن ایک عظیم الشان نصیحت اور یاددہانی ہے سب جہانوں کیلئے۔ اور ایسی عظیم الشان نصیحت کہ اس کی دوسری کوئی نظیر و مثال ممکن ہی نہیں ‘ پس اس کے پیش کرنے والے کو مجنون اور دیوانہ کہنا خود پرلے درجے کا جنون اور نری حماقات و دیوانگی ہے ‘ اور اس کتاب حکیم اور ذکر عظیم سے منہ موڑنا ہر خیر سے محرومی اور ابدی و دائمی خسارہ ہے ‘ کیونکہ یہ کتاب حکیم ایسی عظیم الشان نصیحت اور یاددہانی ہے جو انسان کو یاد دلاتی ہے اس کے مقصد حیات اور اس کے مال و انجما سے اور اس کو اس راہ حق و صواب سے آگہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–52
کفار کی خوش فہمیاں، نبی ﷺ کو صبر کی تلقین
تشریح : پچھلی آیات میں مسلمان اور کافر کی سزا و جزا کو علیحدہ علیحدہ کر کے بتا دیا گیا ہے کہ یہ اس غلط فہمی میں مبتلا ہیں کہ کیونکہ ہم یعنی کفار مکہ کے سردار دنیا میں امیر کبیر ہیں تو اس لیے ہیں کہ ہم سے اللہ خوش ہے تو اس نے ہمیں یہ تمام نعمتیں دے رکھی ہیں اس لیے آخرت اگر آئی تو وہاں بھی ہمیں کسی تحریر میں رب العزت نے ان سے اس بات کا وعدہ کر رکھا ہے کہ ان کو تو انعام و اکرام دئیے جائیں گے اور مسلمان کیونکہ یہاں اس دنیا میں کچھ کم حیثیت ہیں اس لیے آخرت میں بھی ان کو کچھ نہیں ملے گا۔ کچھ ہی دیر کی بات ہے بہت جلد سب کچھ سامنے آنے والا ہے (جب ساق کھول دی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–52
آیات 34 تا 52۔
اسرار ومعارف۔
اور جو لوگ عظمت الٰہی کا اقرار کرلیتے ہیں ان کی خاطر تو ان کے پروردگار نے جنت کی نعمتیں سجارکھی ہیں جو لوگ اطاعت گزار اور حکم بجالانے والے ہیں بھلامجرم ان کی برابری کس طرح کرسکتے ہیں کہ تم اے کفار برائی پہ اچھے نتیجے کی امید رکھتے ہو تمہاری یہ رائے قطعی غلط ہے کیا اس کے لیے تمہارے پاس کوئی نقلی دلیل ہے عقلا تو ویسے محال ہے تو کیا کسی آسمانی کتاب میں تمہیں یہ حق دیا گیا ہے کہ اپنے لیے بہتری چن لو یا اللہ نے قیامت تک کوئی قسم کھارکھی ہے کہ تم جو مانگو ملے گا بھلا تمہارے پاس ایسی باتوں کی کیا ضمانعت ہے ؟ یا کوئی اور ہستی ایسی ہے جو اللہ کی شریک ہے اس نے تمہیں وعدہ دے…
Read the full tafseer →ف 8 ” پھر جو شخص ایسا کلام سنائے بھلا بائو لا ہوسکتا ہے۔
Read the full tafseer →(68:52) وما ھو الا ذکر للعالمین : جملہ حالیہ ہے۔ حال یہ ہے کہ یہ قرآن تمام دنیا کے لئے صرف نصیحت ہے۔
ما نافیہ ھو کا اشارہ قرآن مجید کی طرف ہے یہ بھی ہوسکتا ہے کہ مشار الیہ نبی کریم ﷺ کی ذات والا صفات ہو۔ کیونکہ آپ سارے جہان کے لئے پیغام ہدایت دینے والے اور ناصح ہیں۔
اس صورت میں ذکر اگرچہ مصدر ہے لیکن بطور مبالغہ بمعنی اسم فاعل ہے جیسے ذید عدل زید انصاف ہے یعنی اتنا انصاف کرنے والا ہے گویا خود مجسم انصاف ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–52
لغات القرآن۔
یکشف۔ کھول دیا جائے گا۔ ساق۔ پنڈلی۔ یدعون۔ وہ بلائے جائیں گے۔ خاشعۃ۔ جھکنے والی۔ ترھق۔ وہ ڈھانپ لیتی ہے۔ سالمون۔ صحیح سالم۔ ہٹے کٹے۔ ذرنی۔ مجھے چھوڑو۔ نستدرج۔ ہم آہستہ آہستہ لئے جاتے ہیں۔ املی۔ میں نے مہلت دی۔ کیدی۔ میری تدبیر۔ مغرم۔ تاوان۔ مثقلون۔ بوجھ کے نیچے دبے ہوئے۔ صاحب الحوت۔ مچھلی والا (حضرت یونس (علیہ السلام) ) ۔ مکظوم۔ غم میں گھونٹ دیا گیا۔ العرائ۔ چٹیل میدان۔ یزلقون۔ وہ جگہ سے ہٹے ہیں۔ پھسل جاتے ہیں۔
تشریح : جب کفار و مشرکین اور منافقین کے سامنے رسول اللہ ﷺ کلام اللہ کو پیش کرتے تو وہی مکہ کے لوگ جو ان کو صادق و امین کہتے اور ان کی فہم و فراست کے گن گایا کرتے تھے آپ پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–52
نظر لگنے کا ذکر۔
(ف 1) شان نزول : منقول ہے کہ عرب میں بعض لوگ نظر لگانے میں شہرہ آفاق تھے اور ان کی یہ حالت تھی کہ دعوی کرکے نظر لگاتے تھے اور جس چیز کو انہوں نے ایذاپہنچانے کے ارادہ سے دیکھا دیکھتے ہی ہلاک ہوگئی۔ ایسے بہت واقعات ان کے تجربہ میں آچکے تھے کفار نے ان سے کہا کہ رسول کریم کو نظر لگائیں تو ان لوگوں نے حضور کو بڑی تیز نگاہوں سے دیکھا اور کہا کہ ہم نے اب تک نہ ایسا آدمی دیکھا ہے نہ ایسی دلیلیں دیکھیں اور ان کا کسی چیز کو دیکھ کر حیرت کرنا ہی ستم ہوتا تھا لیکن ان کی یہ تمام جدوجہد بھی مثل ان کے اور مکائد کے جو رات دن وہ کرتے رہتے تھے بیکار گئی۔ اور اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب ﷺ کو ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–52
[16] اصل الفاظ ہیں ( وَاِنْ يَّكَادُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَيُزْلِقُوْنَكَ بِاَبْصَارِهِمْ لَمَّا سَمِعُوا الذِّكْرَ وَيَقُوْلُوْنَ اِنَّهٗ لَمَجْنُوْنٌ 51ۘ) 68 ۔ القلم :51) جس کا لفظی ترجمہ ہے وہ اپنی نظروں سے تمہیں پھسلا دیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–52
ف 2: یعنی ان لوگوں کے انکار وکفر پر آپ غمگین ہوکر حضرت یونس (علیہ السلام) کی طرح دبدعا میں اور ترک شفقت میں جلدی نہ کریں ۔ اور پورے صبروسکون کے ساتھ ان کی ان حرکتوں کو برداشت کریں ۔ اللہ نے چاہا ۔ تو آپ کی آواز صدابحر ثابت نہیں ہوگی ۔ حضرت یونس (علیہ السلام) کا قصہ یہ ہے ۔ کہ آپ کی نافرمانی سے رنجیدہ ہو کر اللہ کے عذاب کے طالب ہوئے اور اصلاح سے مایوس ہوکر قوم کو چھوڑ کر ہجرت پر آمادہ ہوگئے ۔ یہ ادا اللہ تعالیٰ کو پسند نہ آئی ۔ اور سزا یہ ملی ۔ کہ دب دریا پار کرنے لگے ۔ تو ایک بڑی مچھلی کا لقمہ بن گئے ۔ اور اگر پھر اللہ کی طرف سے توبہ وانابت کی توفیق مرحمت نہ ہوتی ۔ تو مچھلی کے پیٹ سے نہ…
Read the full tafseer →(52) حالانکہ وہ قرآن نہیں ہے مگر اقوام عالم کے لئے نصیحت ہے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی گھور گھور کر دیکھتے ہیں کہ ڈر کر چھوڑ دے۔
خلاصہ : یہ کہ جب حضور ﷺ کی مجلس میں قرآن سنتے ہیں تو آپ پر تیز اور قہر آلود نگاہیں ڈالتے ہیں اور مقصد یہ ہوتا ہے کہ ہماری خشم آلود نگاہوں سے گھبرا کر قرآن کی تبلیغ چھوڑ دے اور قرآن پڑھنا بند کردے اور اس طرح تیز تیز نگاہوں سے گھورتے ہیں کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ آپ کے دماغ کو بےکار کردیں گے نگاہوں کے ساتھ ساتھ زبان سے بائولا اور دیوانہ کہتے ہیں۔
حضرت حق تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں کہ اس قرآن میں دیوانگی کی بات کیا ہے یہ تو اقوام عالم بلکہ تمام جہان والوں کے لئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–52
ف 5۔ یہ غم مجموعہ تھا کئی غموں کا ایک قوم کے ایمان نہ لانے کا، ایک عذاب کے ٹل جانے کا، ایک بلا اذن صریح حق تعالیٰ کے وہاں سے چلے آنے کا، ایک مچھلی کے پیٹ میں محبوس ہوجانے کا، اور وہ دعا یہ ہے : لا الہ الا انت سبحانک انی کنت من الظلمین، جس سے مقصود استغفار اور طلب نجات عن الحبس ہے، چناچہ اس پر اللہ تعالیٰ کا فضل ہوا، اور مچھلی کے پیٹ سے نجات ہوئی۔
Read the full tafseer →اور حقیقت یہ ہے کہ قرآن کریم تو سارے جہان والوں کے لئے نصیحت ہے
52 ؎ اس آیت کا جہاں سے شروع ہوا وہیں لا کر اس کو ختم کیا جا رہا ہے۔ شروع میں فرمایا تھا کہ یہ لوگ آپ ﷺ کو مجنون کہتے ہیں اور پھر یہ بات بیان کرتے کرتے ان کے اس بیان کی تردید بھی فرما دی اور اس طرح زیر نظر آیت میں فرمایا جا رہا ہے کہ لوگ اس کو کچھ کہیں اور وہ جس طرح اپنے غصہ کا اظہار کرسکتے ہیں کریں اور جس طرح ناک بھوں چڑھانا چاہتے ہیں چڑھائیں لیکن ہماری طرف سے ایک بات کان کھول کر سن لیں کہ وہ خود بھی اور اس پر لایا ہوا کلام بھی تمام جہانوں کے لئے وجہ عزت و شرف ہے ، اسے مجنون کہنے کی وہی جرأت کرسکتا ہے جو خود مجنون ہے۔ کیا کسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–52
وَإِن يَكَادُ الَّذِينَ كَفَرُوا لَيُزْلِقُونَكَ بِأَبْصَارِهِمْ (And indeed the disbelievers seem to trip you up with their glances when they hear the Reminder, and say, "He is a madman indeed 68:51). The verb 'layuzliqunaka' is derived from izlaq which means 'to trip up or to cause someone to fall or make a mistake' [ Raghib ]. The verse says to the Holy Prophet that disbelievers cast angry looks at him that they might frighten him into giving up his mission or intimidate him into yielding to their pressure tactics. When they listen to Divine words, they call him a madman. But far from…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–52
35 "Would trip you up": "Would eat you up with their eyes". For a similar expression of the Makkan disbelievers' rage and fury against the Holy Prophet, see also Bani Isra'il: 73-77.
Read the full tafseer →