اَلْحَآقَّةُ ۟ۙاَلۡحَـآقَّةُ
سچ مچ ہونے والی
— Fateh Muhammad Jalandhari
The Inevitable Reality -
— Saheeh International
Juz 29 · Ruku 1 of surah · Ruku 5 of juz
The Reality · Meccan · 52 ayahs · 2 rukus
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْحَآقَّةُ ۟ۙاَلۡحَـآقَّةُ
سچ مچ ہونے والی
— Fateh Muhammad Jalandhari
The Inevitable Reality -
— Saheeh International
Juz 29 · Ruku 1 of surah · Ruku 5 of juz
Read the whole surah · Surah Al-Haaqqa
ہونی شدنی!
سچ مچ ہونے والی
ﺛابت ہونے والی
وہ حقیقت ہو کر رہے گی۔
وہ حق ہونے والی
یقیناً واقع ہونے والی گھڑی،
وہ ہو کر رہنے والی۔
سچ مچ ہو کے رہنے والی
وہ ہو کر رہنے والی
وہ ہونے والی چیز
وہ حق ہوجانے والی !
وہ سچ مچ ہونے والی
The indubitable event!
The Imminent Happening!
The Imminent Happening!
Al-Haqqah!
The Inevitable Reality -
The Inevitable! (Day of Judgment).
The sure calamity!
The Inevitable Calamity!
The Sure Reality!
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 1–12
حاقہ قیامت کا ایک نام ہے اور اس نام کی وجہ یہ ہے کہ وعدے وعید کی عملی تعبیر اور حقیقت کا دن وہی ہے، اسی لئے اس دن کی ہولناکی بیان کرتے ہوئے فرمایا تم اس حاقہ کی صحیح کیفیت سے بیخبر ہو، پھر ان لوگوں کا ذکر فرمایا جن لوگوں نے اسے جھٹلایا اور خمیازہ اٹھایا تھا تو فرمایا ثمودیوں کو دیکھو ایک طرف سے فرشتے کے دہاڑے اور کلیجوں کو پاش پاش کردینے والی آواز آتی ہے تو دوسری جانب سے زمین میں غضبناک بھونچال آتا ہے اور سب تہ وبالا ہوجاتے ہیں، پس بقول حضرت قتادہ (طاغیہ) کے معنی چنگھاڑ کے ہیں، اور مجاہد فرماتے ہیں اسے مراد گناہ ہیں یعنی وہ اپنے گناہوں کے باعث برباد کردیئے گئے، ربیع بن انس اور ابن زید کا قول…
Read the full tafseer →سورة الْحَآقَّة 1 اصل میں لفظ الحاقہ استعمال ہوا ہے جس کے معنی ہیں وہ واقعہ جس کو لازماً پیش آ کر رہنا ہے، جس کا آنا برحق ہے، جس کے آنے میں کسی شک کی گنجائش نہیں۔ قیامت کے لیے یہ لفظ استعمال کرنا اور پھر کلام کا آغاز ہی اس سے کرنا خود بخود یہ ظاہر کرتا ہے کہ مخاطب وہ لوگ ہیں جو اس کے آنے کو جھٹلا رہے تھے۔ ان کو خطاب کر کے فرمایا جا رہا ہے کہ جس چیز کی تم تکذیب کر رہے ہو وہ ہونی شدنی ہے، تمہارے انکار سے اس کا آنا رک نہیں جائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
خلاصہ تفسیر وہ ہونے والی چیز کیسی کچھ ہے وہ ہونے والی چیز اور آپ کو کچھ خبر ہے کہ کیسی کچھ ہے وہ ہونے والی چیز (مقصود اس سے قیامت کی عظمت اور ہولناک ہونیکا بیان ہے یہ استفہامات تہویل کے لئے ہیں) ثمور اور عاد نے اس کھڑکھڑانے والی چیز (یعنی قیامت) کی تکذیب کی سو ثمود تو ایک زور کی آواز سے ہلاک کردیئے گئے اور عاد جو تھے سو وہ ایک تیز و تند ہوا سے ہلاک کئے گئے جس کو اللہ تعالیٰ نے ان پر سات رات اور آٹھ دن متواتر مسلط کردیا تھا سو (اے مخاطب اگر) تو (اس وقت وہاں موجود ہوتا تو) اس قوم کو اس طرح گرا ہوا دیکھتا کہ گویا وہ گری ہوئی کھجوروں کے تنے (پڑے) ہیں (کیونکہ وہ بہت دراز قد تھے) سو کیا تجھ کو ان…
Read the full tafseer →’اَلْحَاقَّۃُ‘ کا مفہوم: ’اَلْحَاقَّۃُ‘ کے معنی ہیں وہ بات جو شُدنی ہو، جس کا وقوع عقلاً و اخلاقاً لازم ہو، جو بالکل اٹل اور قطعی ہو۔ یہ ایک ہی لفظ جملہ کے قائم مقام ہے۔ جن لوگوں نے ’مَا الْحَاقَّۃُ‘ کو اس کی خبر قرار دیا ہے ان کی رائے صحیح نہیں ہے۔ یہ اسلوب بیان اس وقت اختیار کیا جاتا ہے جب مخاطب، خاص طور پر غافل مخاطب کو ہڑبڑا دینا مقصود ہو۔ ایسی صورت میں صرف مبتدا کا ذکر کافی ہوتا ہے، خبر کی ضرورت نہیں ہوتی تاکہ مخاطب کی پوری توجہ مبتدا ہی پر مرکوز ہو جائے۔ اس طرح جملہ میں جو ابہام پیدا ہوتا ہے وہ مخاطب کی توجہ جذب کرنے کا باعث بنتا ہے۔ ’اَلْحَاقَّۃُ‘ قیامت کے ناموں میں سے ہے۔ یہ نام اس کے…
Read the full tafseer →1۔ 1 یہ قیامت کے ناموں میں سے ایک نام ہے۔ اس میں امر الٰہی ثابت ہوگا اور خود یہ بھی بہر صورت وقوع پذیر ہونے والی ہے، اس لئے اسے الْحَاَقَّۃُ سے تعبیر فرمایا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
اس سورت کا موضوع اور محور ہولناک مشاہد قیامت ہیں۔ آغاز بھی قیامت کے ایک نام سے ہے اور نام بھی اس سے اخذ کیا گیا ہے۔ یہ نام قیامت کے واقعات کا اظہار اپنے تلفظ اور مفہوم دونوں سے کرتا ہے۔ الحاقہ اس آفت کو کہا جاتا ہے جس کا آنا ٹھہر گیا ہو۔ وہ حق ہوچکی ہو اور اس کا نزول لازمی ہوگیا ہو اور جس نے ہونا ہو اور اٹل ہو۔ یہ سب مفہوم ایسے ہیں کہ جن کے اندر قطعیت ، جزم ، شدنی کا مفہوم ہے۔ لہٰذا قیامت کے لئے اس لفظ کا استعمال سورت کے موضوع اور مضمون کے ساتھ نہایت ہی مناسب ہے۔ پھر اس لفظ کے تلفظ کے اندر بھی وہ اشارہ موجود ہے ، جو بات اس کے مفہوم میں ہے اور آگے سورت میں جو فضا بیان ہوئی ہے اس کے ساتھ بھی ہم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
6 یعنی وہ قیامت کی گھڑی جس کا آنا ازل سے علم الٰہی میں ثابت اور مقرر ہوچکا ہے جبکہ حق باطل سے بالکل واشگاف طور پر بدون کسی طرح کے اشتباہ و التباس کے جدا ہوجائے گا اور تمام حقائق اپنے پورے کمال و سبوغ کے ساتھ نمایاں ہوں گی۔ اور اس کے وجود میں جھگڑا کرنے والے سب اس وقت مغلوب و مقہور ہو کر رہیں گے۔ جانتے ہو وہ گھڑی کیا چیز ہے ؟ اور کس قسم کے احوال و کیفیات اپنے اندر رکھتی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
آیت 1 { اَلْحَآقَّۃُ۔ } ”وہ حق ہوجانے والی !“ یعنی قیامت جس کا وقوع پذیر ہونا حق ہے ‘ اس کا واقع ہونا ایک مسلمہ ّصداقت اور اٹل حقیقت ہے جس میں قطعاً کوئی شک نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
1۔ سورة کو استفہامی فقروں سے شروع کرنا مخاطب کو سوال کرکے توجہ دلانا عین بلاغت وخطابت کے اسلوب کے مطابق ہے (آیت) ” الحآقۃ “۔ حاقہ کے لفظی معنی اس چیز کے ہیں، جو بہرحال ہو کر رہے الحاقۃ التی یحق وقوعھا (بیضاوی) مراد حشر کا ہولناک دن ہے جس دن جزاء وسزاواقع ہوکر رہے گی، اشارۃ الی القیامۃ لانہ یحق فیہ الجزاء (راغب)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–16
ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، برپا ہونے والی، قیامت، کہ جس میں وہ چیز ثابت ہوگی جس کا انکار کیا گیا ہے، یعنی بعث اور حساب اور جزاء یا ان (مذکورہ) چیزوں کو ظاہر کرنے والی، کیسی کچھ ہے وہ برپا ہونے والی ؟ یہ اس کی عظمت شان کا بیان ہے (ما الحاقۃ) مبتداو خبر ہے اور مبتدا خبر سے مل کر اول حاقہ کی خبر ہے اور آپ ﷺ کو کیا خبر کہ کیسی کچھ ہے وہ برپا ہونے والی چیز ؟ یہ بھی اس کی عظمت شان کی زیادتی کا بیان ہے (ما اولی (یعنی ما ادراک) میں ما مبتداء ہے اور اس کا مابعد (یعنی ادراک) اس کی خبر ہے ثمود اور عاد نے کھڑکھڑا دینے والی قیامت کو جھٹلایا قیامت کو قارعہ اس لئے…
Read the full tafseer →الحاقۃ . یعنی قیامت چونکہ قیامت حق ہے ‘ امر واقع ہے ‘ اس کے وقوع میں کوئی شک نہیں ہے (اس لیے اس کو حاقۃٌ کہا گیا) ۔ یا اس وجہ سے (حاقہ کہا گیا) کہ تمام امور کی حقیقت اس روز معلوم ہوجائے گی یا اس وجہ سے کہ اعمال کا بدلہ اس روز ضرور ملے گا۔ حَقَّ عَلَیْہِ الشَّیْ ءُ ۔ وہ چیز اس پر لازم ہوگئی۔ اللہ نے فرمایا ہے : حقت کلمۃ العذاب۔ عذاب کی بات لازم ہوگئی (مؤخر الذکر دونوں صورتوں میں) قیامت کو الحاقۃ کہنا مجازاً ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
(1۔ 3) ظیع شان قیامت کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ قیامت کس طرح کی ہے اور اے نبی کریم آپ کو کچھ معلوم ہے کہ قیامت کس طرح کی ہے۔ اور قیامت کو حاقہ کہا گیا ہے۔ حاقہ حقائق امور بنا پر کہا گیا ہے کیونکہ اس میں مومن کے لیے اس کے ایمان کی وجہ سے جنت اور کافر کے لیے اس کے کفر کی وجہ سے دوزخ ثابت ہوجائے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
(الحآقۃ ، ماالحاقۃ…:”الحآقۃ“”حق یحق“ (ض ، ن) (ثابت ہونا، واجب ہونا) سے ”فاعلۃ“ کے وزن پر ہے، ہو کر رہنے والی، واجب ہونے والی، جس کا ہونا حق ہے۔ مراد قیامت ہے، کیونکہ وہ ہو کر رہ گی، اس لئے اس کا نام ”الواقعۃ ‘(واقع ہونے والی) بھی ہے۔ (دیکھیے حاقہ : 15) قیامت کا ذکر استفہامیہ فقروں سے شروع کیا گیا ہے، یہ اہل بلاغت کا خاص اسلوب ہے۔ اس سے ایک تو سننے والے کو متوجہ کرنا اور شوق دلانا مقصود ہوتا ہے، دوسرا قیامت کی عظمت اور ہولناکی بیان کرنا مقصود ہے کہ وہ اتنی عظیم الشان ہے کہ نہ تمہاری سمجھ میں پوری طرح آسکتی ہے اور نہ کوئی اور ایسا ہے جو تمہیں معلوم کروا سکے کہ وہ کیا ہے ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
الحآقۃ۔ مالحآقۃ۔ مراد قیامت ہے۔ اسے یہ نام اس لئے دیا کیونکہ اس میں امرو کو واقع کیا جائے گا، یہ طبری کا قول ہے گویا اسے لیل نائم کے باب سے بنایا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اسے حاقہ نام اس لئے دیا کیونکہ یہ بغیر کسی شک و شبہ کے واقع ہوگی۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس کو یہ نام اس لئے دیا گیا کیونکہ اس نے بعض اقوام کے لئے جنت کو ثابت کیا اور کچھ اقوام کے لئے جہنم کو ثابت کیا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اسے یہ نام اس لئے دیا گیا ہے کیونکہ اس میں ہر انسان اپنے عمل کی جزا کا حقدار ہوجائے گا۔ ازہری نے کہا : حافقتہ فحققتہ احقہ میں نے اس پر غلبہ پانے کی کوشش کی تو میں اس پر غالب آگیا۔ قیامت غالب آنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
1۔ ابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ الحاقۃ قیامت کے دن کے ناموں میں سے ہے۔ 2۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن المنذر والحاکم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ الحاقہ سے مراد ہے قیامت کہ ہر عامل کے لیے اس کا عمل ثابت کردے گی۔ آیت وما ادرک ما الحاقہ تجھ کو کیا معلوم کہ قیامت کیسی ہولناک ہے۔ یعنی قیامت کے دن کی تعظیم کے لیے ہے جیسے تم سنتے ہو۔ اور فرمایا آیت کذبت ثمود وعاد بالقارعۃ قوم ثمود اور عاد نے قیامت کو جھٹلایا۔ یعنی قیامت کو۔ 3۔ ابن المنذر ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ آیت الحاقہ سے مراد ہے کہ ہر عامل کے لیے اس کا عمل ثابت کیا جائے گا۔ مومن کے لیے اس کا ایمان اور منافق کے…
Read the full tafseer →[اَلْحَاۗقَّةُ : وہ ثابت ہونے والی ] نوٹ۔ 1: سابقہ سورة القلم سے اس سورة کو گہری مناسبت ہے۔ دونوں کا عمود (یعنی مرکزی موضوع) ایک ہی ہے یعنی اثبات عذاب (دنیا میں آنے والے عذاب) اور قیامت (دنیا کا خاتمہ) ۔ البتہ نہج استدلال دونوں میں الگ الگ ہے۔ قرآن کی عظمت و صداقت جس طرح سابق سورة میں واضح کی گئی ہے اور اس کی تکذیب کے نتائج سے ڈرایا گیا ہے، اسی طرح اس سورة میں بھی یہی مضمون زیر بحث آیا ہے۔ بس یہ فرق ہے کہ سابق سورة میں یہ مضمون تمہید کی حیثیت سے ہے اور اس سورة میں اختتام کے طور پر ہے۔ تذکیر و تعلیم کے پہلو سے ان دونوں اسلوبوں کی اہمیت الگ الگ ہے۔ (تدبیر قرآن) نوٹ۔ 2: کفار مکہ چونکہ قیامت کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
کھڑکھڑانے والی چیز (یعنی قیامت) کو جھٹلانے والوں کی ہلاکت یہاں سے سورة الحاقۃ شروع ہو رہی ہے الحاقۃ حق یحق سے اسم فاعل ہے جس کا ترجمہ ہے واقع ہونے والی چیز یعنی جس کا وجود میں آجانا ضروری ہے وہ ٹل نہیں سکتی، اس سے قیامت مراد ہے قرآن مجید میں اس کے کئی نام آئے ہیں ان میں سے ایک القارعۃ بھی ہے جو اس سورت کی چوتھی آیت میں مذکورہ ہے علماء نحو نے فرمایا ہے الحاقة مبتدا ہے اور ما الحاقة خبر ہے۔ طرز بیان ایسا اختیار فرمایا ہے جس سے قیامت کی اہمیت ظاہر ہوجائے ارشاد فرمایا کہ کیسی چیز ہے وہ ہوجانے والی اور اے مخاطب تجھے کیا خبر ہے کہ وہ ہوجانے والی چیز کیا ہے ؟ یعنی وہ بڑی چیز ہے اس دن کی پیشی کے لیے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–37
ذکر احوال قیامت وبیان انجام مکذبین ومنکرین : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” الحآقۃ ماالحآقۃ ............. الی ........... الا الخاطؤن “۔ (ربط) گذشتہ سورت کا موضوع بیان آنحضرت ﷺ کی رسالت کی عظمت وحقانیت کو ثابت کرتے ہوئے غرور وتکبر اور نافرمانی کی وہ کس طرح ہلاک وتباہ ہوئے۔ ارشاد فرمایا وہ چمٹ جانے والی چیز کیا ہے وہ چمٹ جانے والی چیز اور اے مخاطب تو نے کیا سوچا کیا ہے وہ مسلط وہ جانے والی ؟ کسی کی سوچ اور فکر نہیں اندازہ کرسکتی کہ وہ مسلط ہوجانے والی چیز یعنی قیامت کی گھڑی جس کا وقوع علم الہی ازلی سے طے ہوچکا اس قدر ہیبت ناک اور عظیم ہے اور وہ بیشک واقع ہو کر رہنے والی ہے اور جب واقع ہوگی تو کوئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
2:۔ ” الحاقہ “ وہ آفت جو سچ مچ آنے والی ہے اور اس پر آنے والی ہے جو اس کا مستحق ہے اور جس کے آنے میں کوئی شک نہیں، وہ کیا ہے ؟ اور تجھے کون بتائے وہ کس قدر ہولناک ہے ؟ اس کے بعد تخویف دنیوی کے نمونے ذکر کیے گئے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–12
کوائف سورة : اس سورة کا نام سورة لحاقہ ہے۔ مکی زندگی میں نازل ہوئی ۔ اس کی باون آیات اور دو رکوع ہیں۔ یہ سورة دو سوچھپن کلمات اور ایک ہزار چار سو اسی حروف پر مشتمل ہے۔ سابقہ سورة کے ساتھ : سابقہ سورة میں رسالت کا ذکر تھا۔ اللہ کے بنی اور رسول کو مجنون کہنے والوں کا رد تھا۔ یہ بھی ارشاد ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے جو دنیاوی نعمتیں عطا کی ہوئی ہیں۔ یہ محض امتحان کے لیے ہیں کسی کی مقبولیت کی نشانی نہیں ہے۔ اس کے ساتھ باغ والوں کی مثال بیان فرمائی کہ اللہ نے ان کا بھی امتحان لیا تھا۔ اس کے علاوہ منکرین قیامت کا رد فرمایا۔ اور انکے ساتھ آخرت میں پیش آنے والے حالات کا ذکر فرمایا آخر میں پھر رسالت کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
اَلْحَاۗقَّۃُ 1 ۙ مَا الْحَاۗقَّۃُ 2 ۚ وَمَآ اَدْرٰىكَ مَا الْحَاۗقَّۃُ 3 ۭ احقاق ( حاقة) فإحقاق الحقّ علی ضربین . أحدهما : بإظهار الأدلّة والآیات، كما قال تعالی: وَأُولئِكُمْ جَعَلْنا لَكُمْ عَلَيْهِمْ سُلْطاناً مُبِيناً [ النساء/ 91] ، أي : حجة قوية . والثاني : بإکمال الشریعة وبثّها في الکافّة، کقوله تعالی: وَاللَّهُ مُتِمُّ نُورِهِ وَلَوْ كَرِهَ الْكافِرُونَ [ الصف/ 8] ، هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدى وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ [ التوبة/ 33] ، وقوله : الْحَاقَّةُ مَا الْحَاقَّةُ [ الحاقة/ 1] ، إشارة إلى القیامة، كما فسّره بقوله : يَوْمَ يَقُومُ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
ترکیب : الحاقۃ الساعۃ والحالۃ التی بحق فیھا الامور مبتداء ما الحاقۃ خبرھا واصلہ ماھی فوضع الظاہر موضع المضمر للتھویل وما مبتداء ادراک خبرہ ما الحاقۃ الجملۃ فی محل النصب لکونھا مفعولاثانیا لادراک واماثمود مبتداء فاھلکو الخ خبرہ طاغیۃ مصدر کالعافیۃ قیل الصحیۃ التی جاوزت الحد وھی صحیۃ جبرئیل وقیل الرجفۃ ای لزلزتہ صرصر الشدید الصوت لھاصرصرۃ عاتیۃ من العتوفقیل عتت الریح علی الخزان فلم یکن لھم علیھا سبیل وقیل عتت علی عادفما قدروا واعلیٰ ردھا بحیلۃ من استنادبنباء اواستنا دالی جبل وقیل لیس من العتوبمعنی العصیاں بل بمعنی بلوغ الشیء وانتہا بہ کما فی قولہ تعالیٰ (وقدبلغت من الکبر عتیا) عاتیۃ ای بالفۃ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
اَلَحَـآقَّـۃُ ۔ مَا اَلْحَـآقَّـۃُ ۔ وَمَـآ اَدْرَکَ مَا الْحَـآقَّـۃُ ۔ (الحآقۃ : 1 تا 3) (وہ ثابت ہوچکنے والی۔ کیا ہے وہ ثابت ہوچکنے والی۔ کیا جانو کہ کیا ہے وہ ثابت ہوچکنے والی۔ ) اَلَحَـآقَّـۃُ کا مفہوم اَلَحَـآقَّـۃُ … اس چیز کو کہتے ہیں جو خود حق اور ثابت ہو اور اسے بھی کہتے ہیں جو دوسری چیزوں کو حق ثابت کرنے والی ہو، ایسی چیز کو بھی کہتے ہیں جس کا وقوع عقلاً و اخلاقاً لازم ہو، جو بالکل اٹل اور قطعی ہو، یہ ایک ہی لفظ جملہ کے قائم مقام ہے، یہ ایسا مبتداء ہے جسے خبر کی حاجت نہیں کیونکہ اس سے مقصود یہ ہوتا ہے کہ مخاطب کی توجہ مبتداء پر مرکوز رکھی جائے۔ یہ قیامت کے ناموں میں سے ایک نام ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
فہم القرآن ربط سورت : سورة القلم کے آخر میں قیامت کے بارے میں ارشاد فرمایا ہے کہ اس دن منکرین کے لیے ذلّت اور رسوائی ہوگی۔ سورة الحاقہ کی ابتدا میں قوم ثمود، قوم عاد اور آل فرعون کی ذلّت کا ذکر کرنے کے بعد قیامت کی ہولناکیوں کا قدرے تفصیل کے ساتھ ذکر کیا گیا ہے۔ اس میں یہ بتلایا گیا ہے کہ جس طرح یہ لوگ دنیا میں ذلیل ہوئے اس سے بڑھ کر آخرت میں ذلیل ہوں گے۔ ” اَلْحَاقَّۃُ “ ہر صورت واقع ہونے والی ہے، واقع ہونے والی کیا ہے ؟ آپ نہیں جانتے کہ واقعہ ہونے والی کیا ہے ؟ ” اَلْحَاقَّۃُ “ کا لفظ حق سے نکلا ہے۔ اس سے مراد قیامت ہے جس کا معنٰی ہے کہ اس کا واقع ہونا ہر قسم کے شک و شبہ سے بالا ہے۔ اس لیے…
Read the full tafseer →1 : اَلْحَآقَّۃُ قیامت جس کا وقوع لازمی ہے جس کی آمد ثابت شدہ ہے وہ کہ جس کی آمد میں کوئی شک نہیں۔ الحاقہؔ یہ حَقَّ یَحِقُّ سے ہے بمعنی لازم ہونا۔
Read the full tafseer →سورة الحاقہ مکی ہے اور اس کی باون 52 آیات ہیں
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–12
1۔ 12۔ قیامت کی جس سزا و جزا کا ذکر قرآن و حدیث میں ہے قیامت کے دن وہ سزا و جزا سب کی آنکھوں کے سامنے آجائے گی اور پھر اس کا کوئی منکر باقی نہ رہے گا سب اس کا حق ہونا مان لیں گے اس لئے قیامت کا نام حاقہ ہے جس کے معنی حق ثابت ہونے والی۔ حضرت نوح سے لے کر حضرت موسیٰ تک جتنی قوموں نے قیامت کی سزا و جزا اور اللہ کے رسولوں کو جھٹلایا تھا اور اس جرم میں طرح طرح کے عذابوں سے وہ قومیں ہلاک ہوئی تھیں ان سب کا ذکر ان آیتوں میں فرمایا ہے تاکہ یہ قصے اس بات کی ایک یادگار اور نصیحت ہوجائیں کہ اب بھی جو لوگ ان لوگوں کے سے کام کریں گے قیامت کو قیامت کے عذاب کو اللہ کے رسول کو جھٹلائیں گے اللہ کے حکم کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
(الحاقہ) یہ قیامت کے ناموں میں سے ہے، کیونکہ یہ ثابت اور واجب ہے اور مخلوق پر نازل ہوگی، اس میں تمام امور کے حقائق اور سینوں کے بھید ظاہر ہوں گے، اللہ نے اپنے اس فرمان (الحاقہ۔ ما الحاقہ۔ وما ادراک ما الحاقہ) کے تکرار کے ذریعے سے اس کی عظمت شان اور تفخیم بیان فرمائی ہے۔ اس کی شان بہت عظیم ہے، پھر اللہ تعالیٰ نے اس کے احوال کے نمونے کا ذکر فرمایا جو دنیا میں موجود ہے جس کا مشاہدہ کیا جاسکتا ہے۔ یہ وہ سخت عقوبتیں ہیں جو اللہ تعالیٰ نے سرکش قوموں پر نازل فرمائیں، چناچہ فرمایا (کذبت ثمود) ۔ ثمود ایک مشہور قبیلہ ہے جو حجر کے علاقے میں آباد تھے، اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف اپنے رسول حضرت صالح کو مبعوث…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
3 قیامت کی ہولناکی کی تاکید مزید کا اظہار وبیان : سو قیامت کی ہولناکی کی تاکید مزید کے طور پر استفہام مکرر کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا اور تم کیا جانو کہ کیا ہے وہ ہو کر رہنے والی ؟ : کہ تم نے اس کو دیکھا نہیں اس لئے اس کی کنہہ اور حقیقت کو پوری طرح پالینا تمہارے حیطہ بس و امکان سے باہر ہے، (روح، قرطبی، مدارک، محاسن، کبیر وغیرہ) سو اس لفظ کے اس طح کے اعادہ و تکرار سے اس کے ہول و خوف اور اس کی دہشت و بےپناہی کو اور واضح اور موکد فرما دیا گیا ہے، سو کون جان سکتا ہے اور کون بتاسکتا ہے کہ وہ ہونی شدنی کتنی عظیم اور کس قدر ہولناک حقیقت ہے، سو جب وہ ظہور میں آئے گی تو اس وقت کیا گزرے گی ان لوگوں پر جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–12
قیامت کی خوفناک خبر کے منکرین کا انجام تشریح :۔ جیسا کہ ترجمہ سے مطلب واضح ہو رہا ہے کہ قیامت کا آنا بالکل ضروری لازم ہے اور وہ بڑا ہی سخت پریشان کن اور تباہ کن واقعہ ہوگا۔ تو اس بات پر ثمود عاد قوم نوح (علیہ السلام) قوم لوط اور قوم فرعون نے یقین نہ کیا اپنے پیغمبروں کو جھٹلایا اور برے کاموں میں غرق ہو کر موت اور آخرت کو قیامت کو بالکل بھلا دیا تو اللہ تعالیٰ نے ان پر ایسے شدید عذاب بھیجے کہ وہ بالکل نیست و نابود ہوگئے تو ان کی تباہی کو دیکھو ” پڑھو اور سنو تو تمہیں یقین آجائے گا کہ قیامت کیسی ہوگی اور قیامت کے منکرین کا کیا حال دنیا میں ہوا اور کیا حال آخرت میں ہوگا۔ اصل میں مسلمان کے یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–37
سورة الحاقہ۔ آیات 1 تا 37۔ اسرار ومعارف۔ دنیا کا عذاب آخرت کا پرتو ہے۔ کیاخبر بھی ہے کہ وہ ہونے والی چیز یعنی قیامت کس قدر ہولناک ہے اور اس میں کفار کے ساتھ کیا سلوک ہوگاجب کہ انکار وکفر کے سبب ثمود اور عاد جیسی مضبوط اور طاقتور قوموں پر دنیا میں ایسے سخت عذاب آئے۔ ثمود پر ایسی ہولناک آواز مسلط کی گئی جس نے انہیں تباہ کردیا اور عاد پر تند ہوا جو سات راتیں اور آٹھ دن مسلسل چلتی رہی اور سخت ٹھنڈی بھی تھی اس نے انہیں پٹک پٹک کر ہلاک کردیا پس ان کی لاشیں بکھری پڑی تھی جیسے کھجوروں کے تناور تنے گرے پڑے ہوتے ہیں اور ان میں کوئی بھی باقی نہ بچا۔ دنیاکا عذاب دراصل آخرت کے عذاب کا پر توہوتا ہے اگر وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
ف 10 مراد قیامت ہے اسے ” حق ہونیوالی “ اس لئے فرمایا گیا کہ اس کا اور اس میں جزا و سزا کا واقع ہونا حقیقت ہے۔
Read the full tafseer →(69:1) الحاقۃ : حق ہونے والی، ثابت ہونے والی۔ حق باب ضرب، نصر۔ مصدر سے اسم فاعل کا صیغہ واحد مؤنث یہاں روز قیامت مراد ہے۔ قیامت کو الحاقۃ اس لئے کہتے ہیں کہ اس کا واقع ہونا ایک مسلمہ حقیقت اور اٹل صداقت ہے۔ مبتدا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
لغات القرآن۔ الحاقۃ۔ سچ مچ ہونے والی۔ یقینی۔ القارعۃ۔ کوٹنے والی۔ اھلکوا۔ ہلاک کئے گئے۔ الطاغیۃ۔ زلزلہ۔ صرصر۔ زبردست آندھی۔ عاتیۃ۔ قابو سے باہر۔ سبع لیال۔ سات رات۔ ثمینۃ آیام۔ آٹھ دن۔ حسوما۔ متواتر۔ مسلسل۔ صرعی۔ اوندھے پڑے ہوئے۔ اعجاز نخل ۔ تنے کھجور کے۔ خاویۃ۔ کھوکھلے۔ تشریح : قرآن کریم میں قیامت کے بتہ سے نام آئے ہیں ” حاقہ “ بھی قیامت کے ناموں میں سے ایک نام ہے۔ قیامت کفار کے لئے ایک ہولناک دن بھی ہے اس لئے اس کی طرف پوری توجہ دلانے کے لئے سوالیہ انداز اختیار فرمایا۔ حاقہ ایک ایسی سچائی ہے جس کا آنا اور واقع ہونا یقینی ہے۔ قیامت کے دن پر یقین رکھنے والا ذہنی پستی، اخلاقی بگاڑ اور گناہوں کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–12
(ف 1) قیامت کی جس سزا وجزا کا ذکر قرآن مجید وحدیث شریف میں ہے قیامت کے دن وہ سزا وجزا سب کی آنکھوں کے سامنے آجائے گا اور پھر اس کا کوئی منکر باقی نہ رہے گا سب اس کا حق ہونامان لیویں گے اسی لیے قیامت کا نام ھاقہ ہے جس کے معنی حق ثابت ہونے والی ، حضرت نوح سے لے کر حضرت موسیٰ تک جتنی قوموں نے قیامت کی سزا اور جزا اللہ کے رسولوں کو جھٹلایا تھا اور اس جرم میں طرح طرح کے عذابوں سے وہ قومیں ہلاک ہوئی تھیں ان سب کا ذکر ان آیتوں میں فرمایا ہے کہ یہ قصے اس بات کی ایک یادگار اور نصیحت ہوجائیں کہ اب بھی جو لوگ ان لوگوں کے سے کام کریں گے قیامت کو قیامت کے عذاب کو اللہ کے رسول کو جھٹلائیں گے اور اللہ کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
[1] یعنی قیامت جس کا وقوع یقینی اور قطعی ہے۔
Read the full tafseer →(1) روز قیامت۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
ف 1۔ اس سورة میں مجازات کی تحقیق اور اس کا وقت اور واقعات مذکور ہیں، اور ختم پر حقانیت قرآن کا بیان ہے۔
Read the full tafseer →وہ ہو کر رہنے والی ہے (الحاقۃ) 1 ؎ (الحاقۃ) کا اصل مادہ ح ق ق ہی ہے اور (الحاقۃ) کے معنی ہی حق ہونے والی ، ثابت ہونے والی حق سے جس کے معنی حق اور ثابت ہونے کے ہیں۔ اسم فاعل کا صیغہ واحد مؤنث اور مراد اس سے روز قیامت ہے۔ دنیا میں ہرچیز کا جب شروع ہے تو آخر بھی ہے اور کوئی چیز ابھی آپ بیان نہیں کرسکتے کہ اس کا شروع ہو اور آخر نہ ہو۔ ایک ذات واحد مانی گئی ہے لیکن اس کا نہ شروع ہے اور نہ آخر اور وہ خالق ہے لیکن مخلوق نہیں۔ اس لئے اس ذات خداوندی کے سوا دنیا میں جو کچھ ہے مخلوق بھی ہے اور اس کا شروع بھی ہے اور اگر شروع ہے تو آخر لازم ہے کیونکہ شروع سے آخر دونوں آپس میں لازم و ملزوم ہیں۔ اس کائنات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
Commentary This Surah is almost wholly devoted to the subject of inevitability of the Resurrection, its horrors, the punishment of unbelievers and the reward of believers. The Day of Judgment is variously referred to in the Qur'an, and in this Surah we encounter the following three names: الْحَاقَّةُ Al-Haqqah 'Imminent Happening', الْقَارِعَةِ Al-Qari'ah 'Shocking Event' and الْوَاقِعَةُ -waqi` ah 'Happening'. The word الْحَاقَّةُ Al-haqqah means an 'established fact, or inevitable event, reality or truth'. The word Al-haqqah also means 'Something that provide evidence that something is…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
1 The word al-Haaqqah as used in the Text means an event which has inevitably to take place and the occurrence of which in the future is so certain as to admit of no doubt or suspicion. To use this word for Resurrection and to begin the discourse with it by itself shows that the people were denying its occurrence. They are being told: "That which you are denying is inevitable: your denial will not prevent its occurrence. "
Read the full tafseer →