69. Surah Al-Haaqqa

الحاقةThe Reality · 52 ayahsتفسیرِ ماجدی

Ayahs 69:1–3

اَلْحَآقَّةُۙ Open ayah 69:1 in the Quran reader

وہ ہونے والی چیز

مَا الْحَآقَّةُۚ Open ayah 69:2 in the Quran reader

کیسی کچھ ہے وہ ہونے والی چیز،

وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا الْحَآقَّةُؕ Open ayah 69:3 in the Quran reader

اور آپ کو کیا خبر کہ کیسی کچھ ہے وہ ہونے والی چیز ! ،1۔

1۔ سورة کو استفہامی فقروں سے شروع کرنا مخاطب کو سوال کرکے توجہ دلانا عین بلاغت وخطابت کے اسلوب کے مطابق ہے (آیت) ” الحآقۃ “۔ حاقہ کے لفظی معنی اس چیز کے ہیں، جو بہرحال ہو کر رہے الحاقۃ التی یحق وقوعھا (بیضاوی) مراد حشر کا ہولناک دن ہے جس دن جزاء وسزاواقع ہوکر رہے گی، اشارۃ الی القیامۃ لانہ یحق فیہ الجزاء (راغب)
Ayahs 69:4–6

كَذَّبَتْ ثَمُوْدُ وَ عَادٌۢ بِالْقَارِعَةِ Open ayah 69:4 in the Quran reader

ثمود اور عاد نے تکذیب کی اس کھڑکھڑادینے والے واقعہ کی ،

فَاَمَّا ثَمُوْدُ فَاُهْلِكُوْا بِالطَّاغِیَةِ Open ayah 69:5 in the Quran reader

سو ثمود تو ایک زور کی آواز سے ہلاک کردئے گئے،

وَ اَمَّا عَادٌ فَاُهْلِكُوْا بِرِیْحٍ صَرْصَرٍ عَاتِیَةٍۙ Open ayah 69:6 in the Quran reader

اور رہے عاد سو وہ ایک تیز وتند ہوا سے ہلاک کئے گئے،2۔

2۔ یہ قوم ثمود قوم عاد جو شمالی ومغربی عرب اور جنوبی ومشرقی عرب کی اپنے اپنے زمانہ میں مہذب ترین ومتمدن ترین قومیں رہی ہیں۔ ان کا اصلی جرم انکار آخرت تھا۔ جو حق تعالیٰ کے ضابطۂ تعزیرات میں انکار توحید کے بعد شدید ترین جرم ہے، اور ان دونوں کا اسی بنیادی جرم کی پاداش میں دنیا میں یہ حشر ہوا کہ ان کا نام ونشان تک مٹا کر رکھ دیا گیا۔ آج کی آخرت فراموش ” روشن خیال “ ومہذب “ قوموں کا جن کے صیحفہ تہذیب و روشن خیالی کی پہلی ہی سطر آخرت فراموشی ہے، حشر کیا ان سے کچھ مختلف ہونا ہے ؟ (آیت) ” القارعۃ “۔ قرع اس آواز کو کہتے ہیں جو کسی سخت چیز پر ضرب لگنے سے پیدا ہوتی ہے اور قارعۃ سخت قسم کی کھڑکھڑاہت ہے۔ الفرع ضرب شیء علی شیء (راغب) القارعۃ ھی التی تفرع الناس بالافزاع والامھال (کبیر) مراد قیامت کا دن ہے۔ اجمعوا علی ان الحاقۃ ھی القیامۃ (کبیر) (آیت) ” ثمود وعاد “۔ ان قوموں پر اور ان کی تباہی و بربادی پر مفصل حاشیے سورة الاعراف وغیرہ میں گزر چکے۔
Ayahs 69:7–8

سَخَّرَهَا عَلَیْهِمْ سَبْعَ لَیَالٍ وَّ ثَمٰنِیَةَ اَیَّامٍ١ۙ حُسُوْمًا١ۙ فَتَرَى الْقَوْمَ فِیْهَا صَرْعٰى١ۙ كَاَنَّهُمْ اَعْجَازُ نَخْلٍ خَاوِیَةٍۚ Open ayah 69:7 in the Quran reader

اللہ نے) اسے ان پر مسلط کردیا تھا سات راتوں اور آٹھ دنوں تک لگاتار تو تو وہاں اس قوم کو یوں گرا ہوا دیکھتا ہے کہ گویا وہ گری ہوئی کھجور کے تنے پڑے ہیں،

فَهَلْ تَرٰى لَهُمْ مِّنْۢ بَاقِیَةٍ Open ayah 69:8 in the Quran reader

سو کیا تجھ کو ان میں سے کوئی بچا ہوا نظر آتا ہے،3۔

3۔ یہ منظر ہلاکت وتباہی کے بعد اس قوم کی مردہ لاشوں کا دکھایا ہے۔ (آیت) ” کانھم ..... خاویۃ، کٹے ہوئے درختوں کے تنہ کے ساتھ یہ تشبیہ قوم عاد کی جسمانی تنومندی اور قد آوری کے لحاظ سے نہایت موزوں اور برمحل ہے۔
Ayah 69:9

وَ جَآءَ فِرْعَوْنُ وَ مَنْ قَبْلَهٗ وَ الْمُؤْتَفِكٰتُ بِالْخَاطِئَةِۚ Open ayah 69:9 in the Quran reader

اور فرعون اور اس کے قبل والوں نے اور الٹی ہوئی بستیوں والوں نے (بڑے بڑے) قصور کئے تھے،4۔

4۔ (اور سب سے بڑھ کر انکار آخرت) فرعون کا ذکر بار بار آچکا ہے۔ (آیت) ” المؤتفکت “۔ یہ الٹی ہوئی بستیاں قوم لوط کی تھیں، حضرت لوط (علیہ السلام) اور ان کی قوم پر حاشیے کئی بار گزر چکے۔
Ayahs 69:10–12

فَعَصَوْا رَسُوْلَ رَبِّهِمْ فَاَخَذَهُمْ اَخْذَةً رَّابِیَةً Open ayah 69:10 in the Quran reader

تو انہوں نے اپنے پروردگار کے رسول کی نافرمانی کی سو (اللہ نے) ان کو بہت سخت پکڑا ،

اِنَّا لَمَّا طَغَا الْمَآءُ حَمَلْنٰكُمْ فِی الْجَارِیَةِۙ Open ayah 69:11 in the Quran reader

ہم ہی نے جب کہ پانی میں طغیانی ہوئی تمہیں کشتی میں سوار کیا ،

لِنَجْعَلَهَا لَكُمْ تَذْكِرَةً وَّ تَعِیَهَاۤ اُذُنٌ وَّاعِیَةٌ Open ayah 69:12 in the Quran reader

تاکہ اس (واقعہ) کو ہم تمہارے لئے یادگار بنادیں اور یاد رکھنے والے کان اس کو یاد رکھیں،5۔

5۔ یعنی سننے والوں کو چاہیے کہ عبرت کے کانوں سے اس واقعہ کو سنیں اور اسے یاد رکھ کر موجبات عقوبت سے بچیں۔ (آیت) ” انا ... الجاریۃ “۔ اشارۃ واقعہ طوفان نوح کی جانب ہے۔ (آیت) ” جعلنکم “۔ ضمیر جمع مخاطب سے مراد موجودہ نسل مخاطبین کے اسلاف ہیں۔ (آیت) ” لنجعلھا “۔ ضمیر ھا اس واقعہ غرقابی کی طرف راجع ہے جو مخاطبین کو خوب اچھی طرح معلوم تھا، گویہاں مذکور نہ ہو ایسے موقع پر محض ضمیر سے کام لینا عربی اسلوب بیان کے عین مطابق ہے۔ قال الزجاج انہ عائد لای الواقعۃ التیھی معلومۃ وان کانت ھھنا غیر مذکورۃ (کبیر) الضمیر للفعلۃ وھی نجاۃ ال مومنین واغراق الکفرۃ (کشاف)
Ayahs 69:13–17

فَاِذَا نُفِخَ فِی الصُّوْرِ نَفْخَةٌ وَّاحِدَةٌۙ Open ayah 69:13 in the Quran reader

غرض جب صور یکبارگی پھونک دیا جائے گا ،

وَّ حُمِلَتِ الْاَرْضُ وَ الْجِبَالُ فَدُكَّتَا دَكَّةً وَّاحِدَةًۙ Open ayah 69:14 in the Quran reader

اور زمین اور پہاڑ اٹھالئے جائیں گے یہ دونوں ایک دفعہ میں ریزہ ریزہ کردیئے جائیں گے،

فَیَوْمَئِذٍ وَّقَعَتِ الْوَاقِعَةُۙ Open ayah 69:15 in the Quran reader

تو اس روز وہ ہونے والی چیز ہو پڑے گی ،

وَ انْشَقَّتِ السَّمَآءُ فَهِیَ یَوْمَئِذٍ وَّاهِیَةٌۙ Open ayah 69:16 in the Quran reader

اور آسمان پھٹ جائے گا اور وہ اس روز (بالکل) بودا ہوگا ،

وَّ الْمَلَكُ عَلٰۤى اَرْجَآئِهَا١ؕ وَ یَحْمِلُ عَرْشَ رَبِّكَ فَوْقَهُمْ یَوْمَئِذٍ ثَمٰنِیَةٌؕ Open ayah 69:17 in the Quran reader

اور فرشتے اسکے کنارے پر ہوں گے،6۔ اور آپ کے پروردگار کے عرش کو اپنے اوپر اس روز آٹھ (فرشتے) اٹھائے ہوں گے،7۔

6۔ (جس وقت آسمان پھٹنا شروع ہوگا) ذکر ان فرشتوں کا ہے جو آسمان میں پھیلے ہوئے ہیں۔ (آیت) ” وحملت الارض واجبال “۔ یعنی اپنے اپنے مقام وحیز سے یہ چیزیں ہٹادی جائیں گی، ذکر قیامت کے نفخہ اول کا چل رہا ہے۔ (آیت) ” والملک “۔ ملک۔ یہاں بطور اسم جنس آیا ہے۔ سورة مفرد ومعنی جمع۔ للجنس بمعنی الجمع (مدارک) لم یردبہ ملکا واحد بل ارادالجنس والجمع (کبیر) 7۔ (جیسا کہ اس وقت چار اٹھائے ہوئے ہیں) عرش الہی کی کیفیت یا ماہیت اور اس کی تفصیلات سب علم و شعور انسانی کی موجودہ سطح سے بالاتر ہیں اس لئے بجز اجمالی بیان سن لینے اور اس کی اجمالی تصدیق کردینے کے بندوں کے لئے کوئی چارہ نہیں۔ البتہ محققین نے لکھا ہے کہ عرش الہی کو اس وقت جو چار فرشتے اٹھائے ہوئے ہیں، یہ محض سطوت وجبروت شہنشاہی کے اظہار کے لئے ہے ورنہ عرش تو ثقل مادی سرے سے رکھتا ہی نہیں۔ البتہ نورانیت وہیبت الہی کا بار رکھتا ہے۔ سو آخرت میں شان جبروتی کا ظہور کامل ہوگا اس لیے چار حامل اور بڑھ جائیں گے یہ کہنا کہ فرشتوں کا حامل عرش ہونا حق تعالیٰ کی شان قیومیت کے منافی ہے محض اپنی سطحیت کا اظہار کرنا ہے۔ اگر قیومیت کے یہ معنی لے لئے جائیں تو ایک اسی مسئلہ پر کیا موقوف ہے، ملائکہ کو واسطہ بنا کر ان سے کام لیتے رہنے کا سارا نظام ہی باطل ہوا جاتا ہے۔ (آیت) ” یومئذ “۔ سے مراد مجموعی وقت قیامت ہے اس کے نصف اول (جب نفخہ اولی ہوگا) کا بیان پہلے ہوچکا، اب ذکر نصف ثانی کا ہورہا ہے۔ جب نفخہ ثانی ہوگا۔
Ayahs 69:18–20

یَوْمَئِذٍ تُعْرَضُوْنَ لَا تَخْفٰى مِنْكُمْ خَافِیَةٌ Open ayah 69:18 in the Quran reader

جس روز تم پیش کئے جاؤ گے تمہاری کوئی بات پوشیدہ نہ رہے گی ،

فَاَمَّا مَنْ اُوْتِیَ كِتٰبَهٗ بِیَمِیْنِهٖ١ۙ فَیَقُوْلُ هَآؤُمُ اقْرَءُوْا كِتٰبِیَهْۚ Open ayah 69:19 in the Quran reader

تو جس شخص کا نامہ اعمال اس کے داہنے ہاتھ میں دیا جائے گا تو وہ کہے گا لو میرا نامہ اعمال پڑھ لو،

اِنِّیْ ظَنَنْتُ اَنِّیْ مُلٰقٍ حِسَابِیَهْۚ Open ayah 69:20 in the Quran reader

میں تو جانے ہوئے تھا کہ مجھے ضرور میرا حساب پیش آنے والا ہے،8۔

8۔ یعنی میں تو خود دنیا میں ایمان وتصدیق رکھتا تھا اور یوم آخرت اور وقوع جزاء کا شروع ہی سے معتقد تھا۔ (آیت) ” لا .... خافیۃ “۔ یعنی اے انسانو ! حق تعالیٰ سے اس وقت تمہارا کوئی سا بھی راز چھپا ہوا نہ ہوگا۔ (آیت) ” فاما ..... بیمینہ “۔ نامہ اعمال کا داہنے ہاتھ میں ملنا جتنی ہونے کی علامت ہوگا۔ (آیت) ” فیقول “۔ وہ جنتی خوش ہو کر اپنے آس پاس والوں سے کہے گا۔ (آیت) ” ھآؤم “۔ ھا کے معنی ” لو “ کے آئے ہیں اور ھآؤم کا استعمال موقع جمع پر ہوتا ہے۔ ھاؤ صوت یصوت فیفھم بہ معنی خذ (کبیر) ویقال للاثنین ھاؤما وللجمع ھاؤموا وھاؤم (کبیر) ھا کلمۃ فی معنی الاخذ وھو نقیض ھات اے اعط ویقال ھاؤم ھاؤما وھاؤموا (راغب) (آیت) ” فیقول ..... کتبیہ “۔ یہ جنتی نامہ اعمال کو داہنے ہاتھ میں پاکر فرط مسرت میں پکار اٹھے گا جیسا آج دنیا میں بھی انتہائی مسرت کے جوش میں انسان دوسروں کو بھی پکار پکار کر اپنی مسرت میں شریک کرتا ہے، دل ذلک علی انہ بلغ الغایۃ فی السرور (کبیر)
Ayahs 69:21–24

فَهُوَ فِیْ عِیْشَةٍ رَّاضِیَةٍۙ Open ayah 69:21 in the Quran reader

تو وہ شخص خوب مزے کے عیش میں ہوگا،

فِیْ جَنَّةٍ عَالِیَةٍۙ Open ayah 69:22 in the Quran reader

بہشت بریں میں ہوگا ،

قُطُوْفُهَا دَانِیَةٌ Open ayah 69:23 in the Quran reader

جس کے میوے جھکے ہوئے ہوں گے ،

كُلُوْا وَ اشْرَبُوْا هَنِیْٓئًۢا بِمَاۤ اَسْلَفْتُمْ فِی الْاَیَّامِ الْخَالِیَةِ Open ayah 69:24 in the Quran reader

کھاؤ اور پیو مزے کے ساتھ ان اعمال کے بدلے میں جو تم گزشہ ایام میں کرچکے ہو،9۔

9۔ (یعنی دنیا میں) (آیت) ” قطوفھا .... دانیۃ “۔ یعنی جنت میں میوہ دار درختوں کے لذیذ پھل اور خوشے اہل جنت پر جھکے ہوئے ہر حال میں ان سے ایسے قریب ہوں گے کہ وہ بیٹھے لیٹے، کھڑے، جس وضع وحالت میں بھی چاہیں گے انہیں پاسکیں گے۔ (آیت) ” فی عیشۃ راضیۃ “۔ جنت کی زندگی ہر قسم کے فکر وترود، مرض ومصیبت، زوال وموت عیب ونقص سے قطعا خالی ہوگی، اس ساری کیفیت کو ایک مختصر لفظ (آیت) ” عیشۃ راضیۃ “۔ تعبیر فرمایا دیا گیا ہے۔ (آیت) ” بما اسلفتم “۔ اس سے یہ ظاہر ہوگیا کہ اعمال طاعت موجبات اجر وصلہ ہوتے ہیں، اور اہل جنت کو جو صلہ ملے گا اس کے وہ مستحق ہوں گے، یدل علی انھم انما استحقوا ذلک الثواب بسبب عملھم وذلک یدل علی ان العمل موجب للثواب (کبیر)
Ayahs 69:25–27

وَ اَمَّا مَنْ اُوْتِیَ كِتٰبَهٗ بِشِمَالِهٖ١ۙ۬ فَیَقُوْلُ یٰلَیْتَنِیْ لَمْ اُوْتَ كِتٰبِیَهْۚ Open ayah 69:25 in the Quran reader

اور رہا وہ جس کا نامہ اعمال اس کے بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا، تو وہ کہے گا کیا اچھا ہوتا جو مجھے میرا نامہ اعمال ہی نہ ملتا ،

وَ لَمْ اَدْرِ مَا حِسَابِیَهْۚ Open ayah 69:26 in the Quran reader

اور مجھے خبر ہی نہ ہوتی کہ میرا حساب کیا ہے،

یٰلَیْتَهَا كَانَتِ الْقَاضِیَةَۚ Open ayah 69:27 in the Quran reader

کاش موت ہی خاتمہ کرچکی ہوتی،10۔

10۔ (ہمیشہ ہمیش کیلئے اور آج اس جزاء وسزا کی نوبت ہی نہ آتی) یہ کلمات اہل دوزخ کی زبان پر انتہائی حسرت ویاس کی حالت میں آئیں گے۔ (آیت) ” واما من ..... بشمالہ “۔ نامہ اعمال کا بائیں ہاتھ میں ملنا دوزخی ہونے کی علامت ہوگا۔ (آیت) ” یلیتھا “۔ ضمیرھا موت کی جانب ہے۔ اگرچہ لفظ موت مذکور نہیں۔ شدت ظہور کے باعث ضرورت بھی اس کے ذکر کی نہ تھی۔ الضمیر یعود الی الموۂ الاولی وھی وان لم تکن مذکورۃ الاانھا لظھورھا کانت کالمذکور (کبیر)
Ayahs 69:28–29

مَاۤ اَغْنٰى عَنِّیْ مَالِیَهْۚ Open ayah 69:28 in the Quran reader

میرا مال میرے کچھ بھی کام نہ آیا

هَلَكَ عَنِّیْ سُلْطٰنِیَهْۚ Open ayah 69:29 in the Quran reader

میرا جاہ (بھی) مجھ سے گیا گزرا ہوا،11۔

11۔ یعنی دنیا کا مال وجاہ لینے میں پڑا ہوا میں مست وغافل اور آخرت کی طرف سے بھولا ہوا رہتا تھا۔ ان کی بےحقیقتی آج عیاں ہورہی ہے۔ دنیا میں غفلت پیدا کرنے والی چیزیں یہی دو ہوتی ہیں۔ ایک مال دوسرے جاہ، اس لئے صراحت سے ذکر انہیں دونوں کا کیا گیا۔
Ayahs 69:30–32

خُذُوْهُ فَغُلُّوْهُۙ Open ayah 69:30 in the Quran reader

پکڑو اس کو اور طوق پہناؤ اس کو ،

ثُمَّ الْجَحِیْمَ صَلُّوْهُۙ Open ayah 69:31 in the Quran reader

پھر اس کو دوزخ میں داخل کرو ،

ثُمَّ فِیْ سِلْسِلَةٍ ذَرْعُهَا سَبْعُوْنَ ذِرَاعًا فَاسْلُكُوْهُؕ Open ayah 69:32 in the Quran reader

پھر ایک ایسی زنجیر میں اسے جکڑو جس کی پیمائش ستر گز ہے،12۔

12۔ دوزخی ابھی حسرت ومذامت میں مبتلا ہوں گے، اور پھر بھی ضرور نہیں کہ اس سے کوئی متعین پیمائش ہی مقصود ہو، بلکہ ہوسکتا ہے کہ زنجیر کا محض طویل ہونا مقصود ہو۔ لیس الغرض التقدیر بھذا المقدار بل الوصف بالطول کماقال ان تستغفرلھم سبعین مرۃ یرید مرات کثیرۃ (کبیر) یجوز ان یراد المبالغۃ فی طولھا وان لم یبلغ ھذا العدد (بحر)
Ayahs 69:33–34

اِنَّهٗ كَانَ لَا یُؤْمِنُ بِاللّٰهِ الْعَظِیْمِۙ Open ayah 69:33 in the Quran reader

اس کا نہ ایمان ہی خدائے بزرگ پر تھا ،

وَ لَا یَحُضُّ عَلٰى طَعَامِ الْمِسْكِیْنِؕ Open ayah 69:34 in the Quran reader

اور نہ یہ غریب آدمی کے کھلانے کی ترغیب دیتا تھا،13۔

13۔ (مرتبہ واجبہ میں) (آیت) ” انہ ..... العظیم “۔ یعنی یہ حق تعالیٰ کی ذات وصفات پر اس طرح ایمان نہ لایا، جس طرح کی تعلیم حضرات انبیاء ومرسلین دے گئے تھے۔ (آیت) ” ولا .... المسکین “۔ یعنی یہ خود تو غریبوں، مسکینوں، کی خدمت کیا کرتا، دوسروں تک کو اس کی صلاح وترغیب نہیں دیتا تھا۔ خلاصہ یہ کہ اللہ کے حق اور بندوں کے حق دونوں کو بھولا ہوا تھا۔
Ayahs 69:35–37

فَلَیْسَ لَهُ الْیَوْمَ هٰهُنَا حَمِیْمٌۙ Open ayah 69:35 in the Quran reader

سو آج اس کا نہ کوئی دوست ہے اور نہ اسے کوئی کھانا نصیب ہے،

وَّ لَا طَعَامٌ اِلَّا مِنْ غِسْلِیْنٍۙ Open ayah 69:36 in the Quran reader

بجز زخموں کے دھوؤن کے، جسے کوئی بھی نہ کھائے گا ،

لَّا یَاْكُلُهٗۤ اِلَّا الْخَاطِئُوْنَ۠ Open ayah 69:37 in the Quran reader

بجز سخت گنہگاروں کے،14۔

14۔ یعنی ان کافروں مجرموں کو دوزخ میں غذائیں بھی ملیں گی، تو اتنی نفرت انگیز اور گندی کہ کوئی اور انسان تو ادھر رخ بھی نہیں کرسکتا ! (آیت) ” الخاطؤن “۔ مراد خطا پیشہ یعنی منکرین وکافرین ہیں۔ الکافرون (مدارک۔ معالم) وھم المشرکون (کبیر)
Ayahs 69:38–40

فَلَاۤ اُقْسِمُ بِمَا تُبْصِرُوْنَۙ Open ayah 69:38 in the Quran reader

پھر میں قسم کھاتا ہوں ان چیزوں کی جنہیں تو دیکھتے ہو،

وَ مَا لَا تُبْصِرُوْنَۙ Open ayah 69:39 in the Quran reader

اور جنہیں تم نہیں دیکھتے ،

اِنَّهٗ لَقَوْلُ رَسُوْلٍ كَرِیْمٍۚۙ Open ayah 69:40 in the Quran reader

یہ (قرآن) کلام (الہی) ہے ایک معزز فرشتہ کا (لایا ہوا) ،15۔

15۔ یعنی موجودات مرئی وغیر مرئی سب اس پر شاہد ہیں کہ قرآن جس پر آیا وہ حق تعالیٰ کا معزز قاصد ہے۔ قسم کے متعلق بار بار بیان ہوچکا ہے کہ عربی اسلوب بیان میں اس سے مقصود محض تاکید کلام ہوتی ہے۔ (آیت) ” بما ...... لا تبصرون “۔ قرآن مجید کو دنیا میں لانے والا ایک غیر مرئی مخلوق یعنی فرشتہ تھا، اور دنیا کے سامنے اس کا پیش کرنے والا ایک مرائی مخلوق یعنی پیغمبر۔ اس لئے حقانیت قرآن کے سلسلہ سیاق میں موجودات کی ان دو قسموں کی طرف توجہ دلانا بہت پر معنی ہے۔ (آیت) ” رسول کریم “۔ رسول کا استعمال اس سیاق میں فرشتہ جبرئیل کے لئے ہے۔ والاکثرون ھناک علی ان المراد بہ جبریل (علیہ السلام) (کبیر) قال ابن السائب ومقاتل وابن قتیبۃ ھو جبریل (علیہ السلام) (بحر) قرآن کا انتساب حضرت جبرئیل (علیہ السلام) کی جانب بھی صحیح ہے کہ وہی آسمان سے اس کے لانے والے تھے، اور رسول اللہ ﷺ کی جانب بھی صحیح کہ وہی ہم سب کو سنانے والے تھے۔ نعوذ باللہ اگر اسے فرشتہ ہی کا مستقل کلام قرار دے لیا جائے، تو اس کا وصف اسمی رسول ہی باطل ٹھہرا جاتا ہے، یکفی فی سوق الاضافۃ ادنی سبب فھو کلام جبرئیل (علیہ السلام) بمعنی انہ ھو الذی انزلہ من السموات الی الارض وھو کلام محمد بمعنی انہ ھو الذی اظھرہ للخلق ودعا الناس الی الایمان بہ (کبیر)